No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
اس دن بھی مروان اور روحاء کی ایک زور دار جھڑپ ہوئی تھی, مرحہ کی پیدائش کے بعد سے روحاء میں صبر کا مادہ تھوڑا اور کم ہو گیا تھا, دوسری طرف مروان کے گھر والے خصوصاً اس کے بھائی اور بھابھیاں اسے پوری طرح روحاء اور مرحہ کی ذمہ داری بھی نہیں اٹھانے دے رہے تھے
اکثر ہی ان میں جھڑپیں ہونے لگی تھیں
روحاء نے چپ چاپ کھانا لگا دیا, مروان مرحہ کے ساتھ کھیل میں لگا ہوا تھا
“اب کھا لیں کھانا… ٹھنڈا ہو گیا تو پھر آرڈر کر دیں گے کہ دوبارہ گرم کر دو, اتنی دیر میں مرحہ پھر سے رونے کا موڈ بنا لے گی” روحاء نے ذرا سختی سے اسے کہا تھا
“اپنا لحجہ دیکھ لو تم… ” وہ اسے وارن کرتے ہوئے مرحہ کو اٹھا کر ٹیبل کی طرف آ گیا, یکدم ہی کھانا کھاتے ہوئے روحاء کو ابکائی آئی تھی, وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر واش روم کو بھاگی
یہ کل سے اسے تیسری الٹی تھی, باہر نکلی تو چہرہ پسینوں پسین… سارا وجود نڈھال
“ہوا کیا ہے ؟؟؟” مروان نے پریشانی سے پوچھا تھا
“آپ کو جیسے پتہ ہی نہیں ؟؟؟” وہ تڑخ گئی
“اتنی جلدی… ؟؟؟
“مجھے کیا پتہ… ” وہ خود پریشان تھی
“ابھی تو مرحہ سال کی بھی نہیں ہوئی… ” مروان کے کہتے ہی وہ پھٹ پڑی
“تو اس میں میرا قصور ہے ؟؟؟ جب روکوں تو رکتے ہیں آپ ؟؟؟” روحاء کے آنسو نکل آۓ
“اچھا چپ کرو, کل ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں, اللہ خیر کرے گا” اس نے روحاء کا کندھا تھپتھپاتے ہوۓ کہا تھا
اگلے ہی دن وہ اسے ہسپتال لے گیا
سٹاف نرس نے پریگنینسی ٹیسٹ لکھ دیا
اور دس منٹ بعد وہ دونوں اس رپورٹ پر پازیٹیو لکھا دیکھ کر ہی جامد رہ گئے تھے
…………………………
انعم کا رشتہ طے ہو ہی گیا, اور اس کے بعد جھٹ منگنی پٹ بیاہ والا کام ہوا, ارم کی منگنی کو کافی عرصہ گزر گیا تھا سو دونوں کی شادی کی تاریخ طے کر دی گئی
“مبرہ یار مجھے کچھ پیسوں کی ضرورت ہے… یار فرنیچر اور الیکٹرونکس تو لے لیا ہے بس… اب کھانے کا خرچہ رہ گیا ہے… ” ولید نے اس کے آگے دکھڑے رونے شروع کر دییے تھے
“ولید یوں کریں… مجھے چوراہے میں رکھ کر بیچ آئیں ” مبرہ کی بس ہونے لگی تھی
“جب بھی کرنا بکواس ہی کرنا… ” ولید کو غصہ آ گیا
“تو اور کیا کہوں ؟؟؟؟ کہاں سے دوں پیسے ؟؟؟ میری سیلیری میں سے بھی میرے پاس ایک پھوٹی کوڑی. نہیں بچتی ولید… ” وہ بولی
“یار اپنے ابو سے لے دو… ” وہ بولا
“بالکل بھی نہیں… انہوں نے. چھ مہینے تک خباب کی شادی کرنی ہے” وہ بولی
“چھ مہینے تک. لوٹا دیں گے… ” وہ بولا.
“ولید اپ چاہے مجھے مار مار کر زندہ گاڑھ دیں لیکن میں ابو سے پیسے نہیں مانگوں گی” وہ ببانگ دہل بولی تھی
“کسی سے ادھار لے دو “وہ دھیرے سے اس کے قریب ہوا
“کیا مطلب ؟؟؟ میں کس سے لیکر دوں ؟؟؟”
“کسی. کولیگ سے لے دو” ولید اس کے سر پر سوار تھا
“ولید… ایم سوری” وہ کروٹ بدل گئی تھی
لیکن ولید نے اس کا جینا حرام کر دیا
“لے دو یار… پکا میں دو ماہ کے اندر اندر واپس کر دوں گا, یار مدد کر دو, کھانا کہاں سے کروں ؟؟؟” وہ منتوں پر اتر آیا تھا
ناچار مبرہ نے اسے اپنی کولیگ سے پانچ لاکھ ادھار لیکر اسے دیئے
ولید نے سبھی کو شادی کے کپڑے بنا کر دییے.. ادھار
اور جب مبرہ کی باری آئی تو وہی رونا دھونا….. کہ کہاں سے لیکر دوں ؟؟؟ یار تم تو کماتی ہو خود بنا لو
وہ بیچاری ویسے ہی ساتواں مہینہ گزار رہی تھی, پہنا ہوا کونسا اچھا لگنا تھا, سو اس نے اپنے شادی والے کپڑے ہی پہن لئے تھے
گھر مہمانوں سے بھر گیا تھا, ارم اور انعم تو شہزادیاں بن گئی تھیں, رہ گئی ایک اکیلی الماس اور مبرہ…. الماس کو بھی زیادہ تر اپنے بچوں کی پڑی رہتی تھی
اس دن بھی حسیب خان اور عابدہ آۓ تو وہ اس حالت میں کچن میں کھڑی تھی
“مبرہ… بچے تو میرے ساتھ چل, اس حالت میں کیسے کام کرے گی اتنا… ؟؟؟” وہ بولیں
“امی سو سو باتیں کریں گے سب کہ شادی کے موقع پر میکے جا کر بیٹھ گئی, اللہ مالک ہے” اس نے بڑی مشکل سے عابدہ کو مطمئن کیا تھا
خیر شادی کا دن بھی گزر ہی گیا, صبح و شام کچن میں کھڑے ہو ہو کر اس کی بس ہو گئی تھی, شادی میں بھی وہ بس مضمحل سی ہی رہی, ڈھیروں ڈھیر ادھار سر چڑھا کر ارم اور انعم کو رخصت کیا تھا
……………………….
وہ دونوں ایک دوسرے پر اچھا ہی برسے تھے, دونوں ایک دوسرے کے سر قصور ڈال رہے تھے, مرحہ ابھی صرف سات ماہ کی تھی, روحاء کا رو رو کر برا حال تھا
“مروان میں دو بچے کیسے پالوں گی… ؟؟؟” آخر جب وہ مروان پر برس کر تھک گئی تو روتی ہوئی اس کے سینے سے آ لگی
“تم نے پالنے ہیں بھلا… ؟؟؟ اللہ ہے نا… ؟؟؟” مروان کو اس کی رو رو کر سرخ سوجی ہوئی آنکھوں پر ترس آیا تھا, بہت محبت سے اس نے روحاء کا چہرہ صاف کیا تھا اور اسے اپنی بانہوں میں بھر لیا
“امی بہت ڈانٹیں گی مجھے… ” وہ ڈر رہی تھی
“تو مجھے کونسا میری امی گولڈ میڈل پہنا دیں گی…” اس نے مسکراتے ہوئے کہا تھا, روحاء نے شکوہ کناں نظروں سے اس کی طرف دیکھا
وہ مرحہ کی پیدائش کے بعد تھوڑی سی کمزور ہو گئی تھی, جبکہ سیاہ آنکھیں کے کٹورے ابھی تک اتنے ہی گہرے تھے, نین نقش کی قیامت خیزی ویسے ہی قائم دائم تھی
اس لمحے وہ دونوں اپنی اپنی بھڑاس نکال چکے تھے, اب رہ گئی تھی تو صرف پشیمانی… جس کا ماتم دونوں نے مل کر منانا تھا
روحاء کے دونوں بازو مضبوطی سے مروان کی کمر کے گرد بندھے ہوئے تھے جبکہ مروان نے بھی اس کے گرد حصار بنا کر اسے خود میں سمو رکھا تھا, مرحہ اندر بیڈ پر سو رہی تھی
“سب آپ کی وجہ سے ہوا ہے ؟؟؟” روحاء نے اسے گھورتے ہوۓ کہا تھا, مروان نے اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں بھر لیا
“تمہارا کوئی حصہ نہیں ہے اس سب میں ؟؟” وہ پورے حق سے اس کے لبوں پر جھکا تھا
روحاء بھی پچھلے کئی دنوں سے کلس کلس کر شائد ہار گئی تھی, اوپر سے آج کی رپورٹ…. اس نے ذرا سی بھی مزاحمت نہیں کی, اپنا آپ لمحوں میں اس کے حوالے کر دیا, اس کی آنکھوں سے نکلتے آنسوؤں کا نمکین ذائقہ مروان کے منہ میں تحلیل ہوا تھا, بے خودی میں اس کے وجود پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے اس نے روحاء کو اوپر اٹھایا تھا, پھر دیوانہ وار چومتے ہوۓ اندر لے آیا, والہانہ انداز سے وہ دونوں بستر پر گرے تھے
“مروان… ایسے ہی ہوا ہے یہ سب ؟؟؟” روحاء کی سرگوشیاں ٹوٹنے لگی تھیں
“اب تو ہو گیا…. اب کیا کر سکتے ہیں” وہ اپنی شرٹ اور بنیان اتارتے ہوئے لائیٹ آف کر گیا تھا
اب خدا جانے یہ پہلی بچی کی پیدائش کے محض سات ماہ بعد ہی دوسرے بچے کی نوید ملنے کی خوشی تھی… یا غم غلط ہو رہا تھا…؟؟؟
بحر حال ہو پھر وہی رہا تھا جس پر وہ دونوں دس منٹ پہلے جھگڑ رہے تھے
………………………..
“ولید… اب تو گاڑی ہے نا ہمارے پاس… اب تو مجھے آپ چھوڑ آیا کریں… ” اس صبح مبرہ نے اسے کہا تھا
“میرے پاس کہاں وقت ہوتا ہے ؟؟؟
“ولید گاڑی کیوں ہوتی ہے بھلا ؟؟؟ مشکل وقت کے لئے ہوتی ہے نا… ؟؟؟ اس سے زیادہ مشکل وقت ہو گا بھلا ؟؟؟” وہ بولی
“تمہارے ابو کو کیا مسئلہ ہے اب ؟؟؟” اسے غصہ آ گیا
“ابو کوئی ڈرائیور ہیں میرے جو ساری عمر میری ڈیوٹی نبھائیں گے, اب گاڑی ہے ہمارے پاس, شعیب بھائی کو ضرورت ہے گاڑی کی ” وہ بولی
ابھی کل ہی عابدہ نے اسے کال کر کے کہا تھا کہ اب ولید اسے چھوڑ کر آیا کرے, گاڑی کس کام کے لیے ہے ؟؟؟؟
“مبرہ میں تمہارے ابو کی طرح فارغ نہیں ہوں, میری بھی نوکری ہے… ” وہ بولا
“صبح کو ذرا جلدی چھوڑ دیا کریں… اور سیکینڈ ٹائم میں تھوڑا ویٹ کر لیا کروں گی” وہ بولی
“پیٹرول پتہ یے کتنا لگے گا ؟؟؟”
“ولید آپ نے کونسا اپنی جیب سے دینا ہے… اب بھی تو لگ ہی رہا ہے” وہ بولی
“مبرہ… بس کرو, یہ جو تھوڑا سا وقت ہے اپنے ابو کے ساتھ ہی چلی جایا کرو, مجھ سے نہیں روزانہ اتنا سفر ہوتا… تھکاوٹ ہو جاتی ہے, اوپر سے میری جاب… ” وہ اونچی آواز میں بولا
“ٹھیک ہے پھر… میں نے ابو سے گاڑی چلانا سیکھ لینی ہے… بلکہ اتنے عرصے میں آدھی سے زیادہ تو مجھے آ ہی گئی ہے, پھر میں خود ہی ڈرائیو کر لیا کروں گی” وہ زور سے بولی تھی
“پہلے سیکھو تو سہی, تمہیں تو سٹیرنگ پکڑنا بھی نا آۓ, نا کہ گاڑی چلانا” ولید خوب ہی ہنسا تھا
……………………….
رابعہ کو اس کے شوہر کی کال آئی تھی, پہلے پہل تو وہ آنے بہانے سے اس سے پیسے مانگتا رہا, پھر اصل مدعے پر آ گیا, اس کی جاب ختم ہو چکی تھی اور اب کھانے تک کے. پیسے نہیں تھے
بھائیوں نے پیسے بھیجنے سے منع کر دیا تھا, شروع شروع میں تو وہ مروان اور کاشف مرزا سے پیسے لیکر اسے بھیجتی رہی, لیکن کب تک… اب وہ واپس آنے کو کہہ رہا تھا
“مجھے بیس لاکھ کر دو رابعہ… میں نے مستقل ہی آ جانا ہے” وہ بولا
“بیس لاکھ… ؟؟؟” رابعہ کی آنکھیں پھٹ گئیں
“یار لوگوں سے پیسے لے لے کر کھانا کھایا ہے, اور کرایہ ادا کیا ہے, قرض چڑھ گیا ہے اتنا… اور پھر واپس بھی تو آنا ہے, تم بس کسی طرح بیس لاکھ کر دو, پلیز…. ” اس نے کال کر کر کے اسے مجبور کر دیا
ناچار اس نے فرحت سے کہا تھا, فرحت نے کاشف مرزا سے بات کی تو وہ بھی پریشان ہو گئے
انہوں نے رابعہ کے سسرال بات کی تو انہوں نے ہاتھ کھڑے کر دییے, اس کے بھائی پہلے ہی اسے بہت پیسے بھجوا چکے تھے, بات کھلی تو پتہ چلا کہ وہ وہاں کوئی مستقل کام نہیں کرتا تھا, بس گزارہ ہی تھا
کاشف مرزا نے کہہ سن کے سات, آٹھ لاکھ تو منیج کر لیا لیکن اس میں کیا ہونا تھا ؟؟؟
فرحان اور نعمان نے ہاتھ کھڑے کر دیئے کہ ہم کہاں سے لائیں… ؟؟؟
اور رابعہ کو مروان نظر آ گیا تھا, دن. رات اس کی. منتیں, التجائیں, رونا دھونا….
“میں کہاں سے کروں بارہ لاکھ ؟؟؟”وہ پریشان تھا
فرحت اس سے زیادہ پریشان تھیں
“مروان… میرے بھائی تو اگر گاڑی بیچ دے تو ؟؟؟” رابعہ نے نیا نقطہ نکالا تھا
“میرا دماغ خراب نہیں ہوا ابھی سمجھیں..” . مروان کو اس کی بات سن کر غصہ آیا
“امی دیکھ لیں… کہنے کو تین تین بھائی ہیں میرے اور مجھے ضرورت پڑی ہے تو کوئی میری مدد کرنے کو تیار نہیں ہے…” وہ سر پر ہاتھ رکھ کر رونا شروع ہو گئی
” امی میں کیسے گاڑی بیچ دوں…؟؟؟ اتنی ضرورت پڑتی ہے مجھے اس کی” مروان نے پریشانی سے فرحت کی طرف دیکھا تھا
“مروان صرف بارہ لاکھ ہی رہ گئے ہیں… تیرے ابو نے ادھر ادھر سے پتا کیا تو ہے لیکن اتنی بڑی رقم کوئی یکمشت نہیں دے رہا… ان کے پاس جتنی سیونگ پڑی تھی انہوں نے ساری اسے دے دی ہے” فرحت نے رابعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
“مروان میری بات سن… روحاء کی وجہ سے گاڑی نہیں بیچ رہا نا تو… اسے نہ بتا فی الحال, کسی کو دے کر اس سے پیسے پکڑ لے, کچھ کچھ عرصے بعد واپس لے لینا…” رابعہ کہتی چلی گئی
“ایسا ناممکن ہے …” وہ اسے گھور کر کہتے ہوئے واپس آ گیا تھا
لیکن رابعہ ٹلنے والی تھوڑی تھی, اس نے صبح شام مروان کو کال کرکے اس کا دماغ چاٹنا شروع کر دیا, فرحت کے آگے الگ سے رونا روتی رہتی, کاشف مرزا کو کہیں سے دو لاکھ مزید ملے تھے, انہوں نے فی الحال دس لاکھ رابعہ کے شوہر کو بھجوا دیے تھے
لیکن وہ مسلسل مزید دس لاکھ کی ڈیمانڈ کر رہا تھا, اخر مروان کو وہی کرنا پڑا جو شاید اسے نہیں کرنا چاہیے تھا, روحا کو اس نے یہ بہانہ لگایا کہ گاڑی کا انجن کچھ مسئلہ کرنے لگ گیا ہے, اگر اسے اسی وقت نہیں بیچا تو آگے چل کر قیمت بہت کم ہو جائے گی
دو تین اور باتیں لگا کر اس نے روہا کو قائل کیا تھا اور کچھ ہی دنوں میں گاڑی بیچ دی
کاشف مرزا نے وہ پیسے بھی رابعہ کے شوہر کو بھجوا دیے, تقریبا چار دن بعد وہ خالی ہاتھ دبئی سے لوٹ آیا تھا اور آتے ہی اس کا ایک نیا مطالبہ شروع ہو گیا “مجھے کوئی کاروبار شروع کروا کر دیں…” اور ایک بار پھر مروان نے گاڑی کے بچے کغچے پیسوں سے اسے کریانہ سٹور کھول کر دیا تھا
اور یہ سب باتیں اس نے روحا سے چھپا کر رکھی تھیں
…………………………
اس نے پورا دل لگا کر گاڑی سیکھنا شروع کردی, اسے حسیب خان کے ساتھ کالج جاتے سات ماہ ہونے کو آۓ تھے اور ان سات ماہ میں اسے تھوڑا بہت اندازہ تو ہو ہی گیا تھا
باقی جو رہ گیا تھا وہ بھی سیکھنے لگی, اس کا پورا ارادہ تھا کہ ڈلیوری کے بعد وہ خود ڈرائیو کر کے کالج چلی جایا کرے گی, کیونکہ اپنی ساس سے اسے قطعاً امید نہیں تھی وہ پیچھے سے اس کے بچے کو سنبھال لیں گی
ارم اور انعم کی شادیاں ہوگئی تھیں اور الماس تو ویسے ہی دونوں ہاتھ کھڑے کر دیتی تھی, سو اس نے ڈلیوری کے بعد کا پورا پلان پہلے سے ہی تیار کر لیا تھا, کالج میں ہی اپنی ایک کولیگ سے بات کرکے اس نے بچے کو سنبھالنے کے لیے ایک بچی کا بندوبست بھی کر لیا
جس نے کالج ٹائم کے دوران مستقل اس کے بچے کے پاس رہنا تھا
“مبرا بچے ویسے کہنا تو نہیں چاہیے لیکن میری ایک بات تو ابھی لکھ لے… ولید کبھی بھی گاڑی تیرے ہاتھوں میں نہیں دے گا” ایک دن واپسی پر حسیب خان نے کہا تھا
“کیوں نہیں دے گا…؟؟؟” میری گاڑی ہے ابو, میں اس کی قسط ادا کرتی ہوں” وہ بولی
“اور بھی بہت کچھ تیرا تھا بیٹے…وہ ہے تیرے پاس ..؟؟” حسیب خان نے پوچھا
مبرہ آگے سے بول نہیں سکی تھی, بس چپ چاپ انہیں دیکھتے ہوئے رخ موڑ گئی, ان کا کہا سولہ آنے سچ تھا
………………………..
وہ بھی ایسا ہی ایک دن تھا, ساجد مغل اپنی کمیشن شاپ پر ہی موجود تھے, ان کا کوئی کسٹمر کسی کام سے ان کے پاس آیا تھا اور اسے گاڑی سے نکلتا دیکھ کر وہ چونک گئے تھے
اس گاڑی کو وہ بہت اچھے سے پہچانتے تھے, وہ گاڑی ان کے اکلوتے داماد کی تھی, وہ گاڑی دیکھ کر تھوڑا کھٹک گئے, کچھ دیر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد انہوں نے اس آدمی سے پوچھ ہی لیا تھا
“باجوہ صاحب… گاڑی آپ کی اپنی ہے…؟؟؟” انہوں نے پوچھا
“جی اللہ کا شکر ہے… ابھی کچھ دن پہلے خریدی ہے” وہ بولا
“اچھا اچھا… ماشااللہ, سیکینڈ ہینڈ ہے نا ؟؟؟” انہوں نے پھر پوچھا
“ہاں جی سیکنڈ ہینڈ تو ہے… لیکن بہت اچھی حالت میں ہے, اسی لئے خرید لی” وہ بولا
“ویسے کس سے خریدی ہے…؟؟؟انہوں نے اسے مزید کریدنا چاہا
“ادھر عدالتوں میں ایک بڑے پرانے وکیل ہوتے ہیں کاشف مرزا صاحب… ان کے صاحبزادے سے خریدی ہے” اس کے ساتھ جو دوسرا آدمی آیا تھا اس نے بتایا
“اچھا اچھا… مروان مرزا سے” ساجد مغل نے مزید کنفرم کیا تھا
” ہاں جی… ہاں جی.. مروان مرزا سے, وہ کہہ رہا تھا کہ اسے ارجنٹ کچھ پیسوں کی ضرورت آن پڑی ہے, گاڑی بھی کافی اچھی حالت میں تھی تو میں نے خرید لی” وہ آدمی پھر بولا
کچھ دیر بعد وہ دونوں چلے گئے, ساجد مغل کے دل میں بات رہ گئی تھی, بس یہ سوچ کر رہ گئے کہ اس بارے میں روحاء نے انہیں کیوں کچھ نہیں بتایا…؟؟؟
اور مروان کو ایک دم سے اتنے پیسوں کی ضرورت آخر کیوں آن پڑی تھی…؟؟؟
رات کے کھانے پر انہوں نے اس بات کا سرسری سا ذکر چھیڑ دیا, ان کی بات سن کر سعد اور کوکب دونوں ہی چونک گئے تھے
“مروان نے گاڑی کیوں بیچی…؟؟؟” یہ ان دونوں کا مشترکہ سوال تھا
” پتہ نہیں… وہ کہہ رہا تھا کہ اسے شاید کچھ پیسوں کی ضرورت تھی” ساجد مغل نے کہا
“روحاء نے تو کچھ نہیں بتایا…” کوکب نے کہا
“سعد… اسے کال کر..” . انہوں نے فورا سعد کی طرف دیکھا
“امی رہنے دیں… یہ ان دونوں میاں بیوی کا آپس کا معاملہ ہے, پڑ گئی ہوگی کوئی ضرورت…” سعد نے کہا
” ابھی تو گاڑی کی ضرورت تھی انہیں… چھوٹی سی بچی ہے, سو ڈاکٹر کے پاس لے جانا پڑتا ہے, اوپر سے اتنی سردی میں گاڑی بیچنے کی کوئی تک ہے بھلا…” کوکب کو غصہ آ گیا
انہوں نے سعد کے منع کرنے کے باوجود اسی وقت روحاء کا نمبر ملوایا تھا
“جی امی…” وہ روتی ببلکتی مرحہ کو سنبھال سنبھال کر پاگل ہوئی پڑی تھی
“روحاء بچے اتنی سردی میں گاڑی کیوں بیچی تم لوگوں نے… ؟؟؟ اگر پیسوں کی ضرورت تھی تو ہمیں بتا دیتی” کوکب نے چھٹتے ہی کہا تھا اور روحاء بیچاری کے فرشتوں کو بھی اس بات کا نہیں پتا تھا
” کون سی گاڑی امی…؟؟؟” اس نے پوچھا
“تمہاری گاڑی… مروان نے گاڑی بیچ دی ہے, تجھے نہیں پتہ…؟؟؟” کوکب ٹھٹک گئین
” امی مجھے پتا ہے مروان نے گاڑی بیچ دی ہے… وہ کہہ رہے تھے کہ اس کے انجن میں کوئی مسئلہ ہو گیا ہے, اور بھی ایک دو خرابیاں بن گئی تھیں , اگر تھوڑا آگے جا کر بھیجتے تو زیادہ نقصان ہوتا… پیسوں کی تو کوئی خاص ضرورت تھی” روحاء نے کہا
“جس بندے کو اس نے گاڑی بیچی ہے اس نے تیرے باپ کو کہا ہے کہ ان کو پیسوں کی ارجنٹ ضرورت تھی, گاڑی کی خرابی کا تو نہیں بتایا… بلکہ وہ تو کہہ رہا تھا کہ گاڑی اچھی خاصی بہتر حالت میں تھی اسی لیے خرید لی” اب کے روحاء چونکی تھی
“روحاء بچے… گاڑی بیچ کے جو پیسے ملے ہیں ان کا کیا کرنا تھا…؟؟؟” کوکب نے کچھ دیر بعد پوچھا
“مجھے…. نہیں پتا… مجھے کچھ نہیں پتہ” وہ خالی خالی سے لہجے میں بولی تھی, کوکب نے دھیرے سے کال کاٹ دی
“اب ان دونوں میاں بیوی میں لڑائی ہوگی… میں کہہ بھی رہا تھا کہ اسے کال نہ کریں” سعد نے انہیں ذرا تیز لہجے میں کہا تھا, کوکب اور ساجد مغل بس ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے
دوسری طرف روحاء واقعی پریشان ہوگئی تھی, گاڑی بیچنے کی حد تک تو ٹھیک تھا لیکن مروان کو اتنے پیسوں کی آخر کیا ضرورت تھی…؟؟؟
سوچتے سوچتے یکدم ہی وہ ٹھٹھک گئی, ذہن میں ایک کوندا سا لپکا تھا, سوچتے سوچتے آخر اس نے تانے بانے جوڑ ہی لیے تھے
مروان رات سات بجے گھر آیا اور آتے ہی چینج کرنے واش روم میں گھس گیا, روحاء نے جلدی سے اس کا موبائل اٹھا کر اس میں سے رابعہ کے شوہر کا نمبر نکالا تھا, ابھی کچھ دن پہلے ہی رابعہ اور اس کا شوہر کرائے کے مکان میں شفٹ ہوئے تھے, مروان روحاء کو اس سے ملوانے لے کر گیا تھا
اس کا نمبر روحاء نے اپنے موبائل میں سیو کر لیا, فی الوقت اس نے مروان سے گاڑی کے بارے میں کوئی بات نہ کی, صبح جیسے ہی وہ کالج گیا, روحاء نے رابعہ کے شوہر کا نمبر ملا لیا, تعارف کروانے کے بعد اس نے رسمی سا اس کا حال احوال پوچھا تھا
پھر اصل مدعے پر آ گئی, انتہائی ہوشیاری سے باتوں ہی باتوں میں اعس نے رابعہ کے شوہر سے ساری بات اگلوا لی تھی
” خدا مروان جیسا شوہر ہر کسی کے نصیب میں کرے, اتنا اچھا بندہ ہے, اتنی مدد کی ہے اس نے میری, کھڑے پیر اس نے مجھے بیس لاکھ بھجوا دیے اور یہ دکان بھی کھول کر دی ہے… روحاء باجی میں آپ لوگوں کا بڑا شکر گزار ہوں…” وہ اپنی ہی جون میں کہتا جا رہا تھا
اور روحاء باجی کا پارہ چڑھتا جا رہا تھا, اب بس اس نے مروان کے آنے کا انتظار کرنا تھا, مروان تقریبا دوپہر ایک بجے گھر واپس آیا اور روحاء اس پر چڑھ دوڑی تھی
“گاڑی بیچ کر آپ نے رابعہ کے شوہر کو پیسے بھجوائے… اسے دبئی سے واپس بلایا, اسے کریانہ اسٹور کھول کر دیا… کرائے کا مکان لے کر دیا اور یہ سب مجھے کیوں نہیں بتایا…؟؟؟” وہ گلا پھاڑ کر چیخی تھی
مروان ایک لمحے کو تو ڈگمگا سا گیا
“میری اور آپ کی سبھی لڑائیاں صرف ایک نقطے سے شروع ہو کر اسی نقطے پر ختم ہو جاتی ہیں مروان… میں نے صرف آپ سے اتنا کہا تھا کہ مجھ سے جھوٹ نہ بولا کریں” وہ غصے سے کہتی چلی گئی
مروان پہلے تو بڑے صبر اور تحمل سے اس رام کرنے کی کوشش کرتا رہا اور پھر اس کی بھی بس ہو گئی
وہ ایک دم اپنی پوری قوت سے چیخا تھا
“بکواس بند کر لو…” انتہائی سختی سے اس نے روحاء کا منہ دبوچ لیا
“آواز نہ نکلے اب تمہاری…” اس نے زور سے اسے دیوار کی طرف دھکا دیا تھا
“بس یہی کسر رہ گئی ہے مروان مرزا… بس میرے اوپر تشدد کرنے کی کسر رہ گئی ہے, وہ بھی پوری کر لیں, کہیں آپ کو یہ حسرت نہ رہ جائے کہ اپ نے اپنی بیوی پر اپنی مردانگی کا رعب نہیں جمایا…” وہ تڑخ پڑی تھی
“ساری عمر یہ ہی کرنا… ساری عمر بہن بھائیوں کو پالتے رہنا… نام پھر بھی نہیں ہو گا” وہ چیخی تھی
مروان بس اسے قہر بار نظروں سے گھورتے ہوئے باہر نکل گیا تھا
……………………..
خباب نے ولید کو اپنی کمپنی میں دیکھا تھا, وہ چونک سا گیا, اور پھر ادھر ادھر ہو گیا, وہ وہاں اس کے ایک ساتھی کولیگ سے ملنے آیا تھا, جب وہ چلا گیا تو اس کی کرسی کی طرف آ گیا
“یہ کون تھا…؟؟؟” اس نے سرسری سے پوچھا
“یہ میرا ایک جاننے والا ہے… اس سے گاڑی کے سلسلے میں بات چل رہی ہے” اس کے کہتے ہی خباب چونک گیا
“گاڑی…؟؟؟؟ تو خرید رہا ہے…؟؟؟ ” اس نے پوچھا
“ہاں یار… بچے بڑے ہوگئے ہیں, اسکول چھوڑنا ہوتا ہے, اوپر سے سردی اتنی زیادہ ہے تو میں نے سوچا کہ گاڑی لے لوں” وہ بولا
“اس کے پاس نئی گاڑی ہے…؟؟؟”
” ہاں یار… ابھی کچھ دن پہلے بینک سے نکلوائی ہے”
وہ بولا
“یہ قسطیں خود ہی بھرتا رہے گا, میں نے بس اسے پیمنٹ کر دی ہے” وہ پھر بولا
“کتنی پیمنٹ تھی…؟؟؟”
“چوبیس لاکھ…” خباب ٹھٹھک کر رہ گیا
یقینا یہ بات مبرہ کو نہیں پتہ تھی
“تو کب دے رہا ہے تجھے گاڑی…؟؟؟”
“وہ گاڑی کی چابی دینے ہی آیا تھا.. یہ دیکھ…؟؟؟” اس نے مسکراتے ہوئے چابی خباب کی آنکھوں کے سامنے لہرائی تھی
اور خباب بس اسے دیکھتا رہ گیا, اسے آفس میں رکنا دوبھر ہو گیا تھا, گھر آتے ہی وہ کسی آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑا
“اس بے غیرت نے گاڑی بھی بیچ دی ہے…” وہ یہی کہے جا رہا تھا, حسیب خان ابھی واپس نہیں ائے تھے
ان کے آتے ہی وہ ان پر چڑھ دوڑا
“ابھی مبرہ کی طرف چلیں… ابو حد ہو گئی ہے ذلالت کی, جب بیچ ہی دینی تھی تو خریدی کیوں تھی اس نے گاڑی… ؟؟ اب ساری عمر قسطیں مبرہ ادا کرے گی اور اس خبیث نے ان پیسوں سے اپنی بہنوں کی شادیاں کی ہیں…” خباب کے غصے کا کوئی عالم نہیں تھا
حسیب خان, عابدہ اور خباب مبرہ کے سسرال پہنچ گئے, حالانکہ حسیب خان جانتے تھے کہ اس سب کا کوئی فائدہ نہیں ہونے والا…. بس ایک زبردست فساد مچے گا اور بات ختم ہو جائے گی
اور ایسا ہی ہوا… مبرہ کو اس سارے کھیل کا نہیں پتہ تھا
“میرا بس چلے تو تمہارے خلاف تھانے میں رپورٹ درج کرا دوں ذلیل انسان… جتنا تم لوگوں نے ہمیں ذلیل کیا ہے نا… خدا کرے تمہاری دونوں بیٹیاں اتنا ہی ذلیل ہوں, جھولی اٹھا کر بددعا ہے میری…” عابدہ نے اپنا سارا ضبط ہی کھو دیا, وہ اندر داخل ہوتے ہی ولید پر چڑھ دوڑی تھیں
” امی کیا ہوا ہے…؟؟؟” مبرہ بھاگ کر ان کی طرف آئی
” تیری گاڑی بیچ دی ہے اس خبیث نے…” انہوں نے چیخ کر کہا
“سالے گاڑی کیوں بیچی…؟؟؟ خباب نے ولید کا گریبان پکڑ لیا جو حسیب خان نے بمشکل چھڑوایا تھا
“ولید… گاڑی کیوں بیچ دی ؟؟؟” مبرہ نے صدمے سے پھٹتی ہوئی آواز میں پوچھا
“مجھے پیسوں کی ضرورت تھی… سو بیچ دی, بس بات ختم” اس کے کہتے ہی خباب دوبارہ اس کی طرف بڑھا تھا, مبرہ اپنی جگہ پر جامد رہ گئی
“خدا کرے تو غارت ہو جائے ولید… تو کسی ٹرک کے نیچے آ کر مر جائے, خدا کرے تو کل کا مرتا آج ہی مر جائے اور میری بچی کی جان چھوٹ جائے…” عابدہ نے اسے جھولی اٹھا کر بددعا دی تھی
” بہن بس کریں… تمہارے بھی تین بیٹے ہیں” شمیم آگے کو آئی
“یہی تو میں کہہ رہی ہوں بہن… کہ تمہاری بھی تین بیٹیاں ہیں, ایک نے تو بھگت لیا نا… خدا کرے باقی دونوں بھی بھگتیں, پھر تمہیں پتہ لگے کہ بیٹیوں کے دکھ کیا ہوتے ہیں…؟؟؟” عابدہ روتے ہوئے کہہ رہی تھیں
خوب ہی فساد مچا… خوب ہی گالم گلوچ ہوئی…. خوب ہی بددعائیں دی گئیں
لیکن اس سب کا نتیجہ صفر تھا
حسیب خان کے گھر کا ہر فرد اس کے ساتھ تھا… صرف اس کے سٹینڈ لینے کی دیر تھی
اور جو چیز اسے سٹینڈ لینے سے روک رہی تھی وہی شائد تابوت میں آخری کیل ثابت ہوتی
ان لوگوں کے نکلتے ہی ولید نے اس کا بال پکڑ لئے تھے
………………………
جاری ہے
