Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

وہ چینج کر کے واش روم سے نکلی تو ولید ابھی تک بستر میں ہی تھا, ظاہر ہے اس نے کونسا بتیس کلو میٹر دور جانا تھا جو اس کی طرح صبح صبح اٹھ کر ہی تیار ہو جاتا, بال باندھ کر اس نے ہلکا سا میک اپ کیا, مدھم سی لپ اسٹک لگائی اور جوتے پہننے لگی,
ولید اسے کل شام ہی واپس لیکر آیا تھا, ایک جھٹکے میں ہی وہ اپنی عمر سے کہیں آگے چلی گئی تھی, ایک نظر دیکھنے میں تو استخوان ہی محسوس ہوتی تھی
چپ چاپ اپنا بیگ اور چادر اٹھا کر وہ باہر نکلنے لگی تھی جب ولید نے اسے پکار لیا
“جانے لگی ہو ؟؟؟”
وہ بس رک کر اسے سوالیہ سا دیکھنے لگی تھی
“رکو… میں چھوڑ آتا ہوں سٹاپ تک” وہ بادل نخواستہ سا اٹھا اور اپنے جوگرز پہننے لگا, مبرہ خاموشی سے باہر نکل گئی تھی, پانچ منٹ بعد وہ جیکیٹ اور گلوز پہن کر باہر آیا تو وہ چادر لیے گیٹ کے پاس کھڑی تھی
“بیٹھو… ” وہ بائیک سٹارٹ کرتے ہوئے بولا
“واپسی پر مجھے کال کر دینا…. میں چھوڑ آؤں گا تمہیں ” وہ سٹاپ پر رکتے ہوۓ بولا تھا
مبرہ بس چپ چاپ سی بس میں چڑھ گئی
واپسی پر بھی بس اس نے ولید کو میسیج ہی کیا تھا, بڑی بات تھی کہ وہ آ گیا تھا
گھر آ کر بھی وہ معمول کے مطابق اپنے کاموں میں لگ گئی, دل کی حالت انتہائی سوگوار سی تھی, وقفے وقفے سے آنکھیں بھر آتی تھیں, رات تک وہ یونہی رم جھم ہوتی آنکھوں کے ساتھ کام نمٹاتی رہی
ولید کو فی الحال ایک پرائیوٹ کالج میں جاب ملی تھی, وہ وہاں انگلش کے چار لیکچرز لیتا تھا, اور پارٹ ٹائم ایک گمنام سے کوچنگ سینٹر میں جاتا تھا
وہ رات کو آیا تو مبرہ نے چپ چاپ اس کے آگے کھانا رکھ دیا
“تم نے کھا لیا ؟؟؟” مبرہ نے بس سر ہلانے پر ہی اکتفا کیا تھا
اس رات کوشش کے باوجود ولید اسے پگھلا نہیں سکا تھا
دن یونہی گزرتے رہے… ارم کی منگنی طے ہو گئی تھی
“مبرہ… پتر ارم کو منگنی کا جوڑا لے دے گی نا ؟؟؟” شمیم کے لحجے کی شیرینی ایسی کہ سامنے والے کو شوگر ہو جاۓ
“میرے پاس صرف دو, تین ہزار ہیں.. اور ابھی پورا مہینہ کالج جانا ہے” وہ بولی
“پتر کسی طرح لے دے… بس اور کچھ نہیں مانگتے تیرے سے ” وہ بولی
مجبوراً اس نے ایک کولیگ سے پیسے پکڑ کر اسے منگنی کا جوڑا لیکر دیا, آنے بہانے سے شمیم نے اس سے دس, بیس ہزار مزید نکلوا لئے تھے
ولید نے البتہ اس بار اس سے کوئی فرمائش نہیں کی تھی, اور اس کی کسر شمیم نے پوری کر دی تھی
ارم کی منگنی پر مبرہ کے گھر والوں میں سے صرف حنا اور حسیب خان ہی آۓ تھے, عابدہ نے اس کے سسرال جانے سے سختی سے انکار کر دیا تھا
شام گئے وہ لوگ فارغ ہوۓ, ارم تو اس دن بالکل ہی مہمان بن گئی تھی, سو اس نے الماس کو ہی ساتھ لگا کر سارا پھیلاوا سمیٹا, حسیب خان بس اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر واپس چلے گئے تھے
رات کے دس بج رہے تھے جب وہ تھکی ہاری کمرے میں آئی, سارا جسم کسی پھوڑے کی طرح دکھ رہا تھا, ولید شائد واش روم میں تھا, وہ جوتے اتارتے ہوئے آئینے کے سامنے کھڑی ہو گئی
تبھی وہ واش روم.م سے نکلا تھا, ٹی شرٹ کے ساتھ ٹراؤزر پہن رکھا تھا, مبرہ بنا اس کی طرف متوجہ ہوۓ کانوں سے ایئر رنگز اتارنے لگی, ولید دھیرے دھیرے چلتا ہوا اس کے عین پیچھے آ کھڑا ہوا
اس نے دونوں ایئر رنگز اتار کر دوپٹے سے بروچ اتارا تھا اور اس سے پہلے کہ دوپٹہ اتار کر ایک طرف رکھتی, ولید نے اس کے شانوں سے دوپٹہ کھینچ دیا, مبرہ نے آئینے میں اس کا عکس دیکھا تھا
وہ دھیما سا مسکرایا اور اس کی کمر کے گرد اپنے دونوں بازوؤں سے حلقہ بنا گیا, پھر اپنا چہرہ اس کے دائیں کندھے پر رکھ دیا
“ایم سوری میری جان…. ” وہ سرگوشی میں بولا تھا, “ٹھیک ہے… ” وہ بے حد عام سے لحجے میں بولی
“اب ناراض ہی رہنا ہے.. ؟؟؟” وہ دھیرے سے اس کے کان کی لو کو اپنے لبوں سے چھوتے ہوئے بولا
“میں آپ سے ناراض نہیں ہوں ولید.. ناراض تو بندہ تب ہو نا جب کسی کو اس ناراضگی کا کوئی احساس ہو… ” وہ بولی
“مبرہ… جان میں بس ہوش گنوا بیٹھا تھا, مجھ سے تمہاری قربت میں آ کر نہیں رکا گیا… میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا کچھ بھی…. ” وہ اپنا حصار تنگ کرتے ہوئے بولا, مبرہ کی آنکھیں گیلی ہو گئیں
“میں نے کتنی بار کہا ولید کہ رک جائیں…. مجھے درد ہو رہا ہے رک جائیں, لیکن آپ نہیں رکے… ولید آپ نے مار دیا اسے…” وہ گھٹ گھٹ کر روئی تھی
آنسو گالوں پر پھسلتے آ رہے تھے
“مبرہ میں نے نہیں مارا… ” وہ بڑی شدت سے اس کی گردن کو چومتے ہوۓ بولا تھا
“ولید… ” وہ اس کی طرف مڑی
“چلیں مان لیا کہ میں خوبصورتی میں, قد کاٹھ میں, رنگ و روپ میں, دلکشی میں, وجاہت میں… کسی بھی طرح آپ کے برابر نہیں ہوں, چلیں یہ بھی مان لیا کہ آپ نے مجھ سے شادی صرف میری جاب اور میری کامیابیوں کی وجہ سے کی ہے, اور یہ بھی مان لیا کہ محبت صرف میں نے کی تھی… آپ نے نہیں… لیکن… ” اس نے ذرا سا وقفہ لیا, ولید اسے ہی دیکھ رہا تھا
“ولید آپ نے نکاح کیا مجھ سے… اپنی مرضی سے, میں بیوی ہوں آپ کی… تو کیا میں بیوی کے طور پر بھی اسقدر ارزاں ہوں آپ کے لئے ؟؟؟” آنسو قطار کی صورت بہہ رہے تھے, ولید نے ایک بازو اس کی کمر کے گرد ڈال کر اسے ڈریسنگ ٹیبل پر بٹھا دیا یوں کہ مبرہ کا چہرہ عین اس کے سامنے آ گیا, بہت بے قراری سے اس نے مبرہ کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھرا تھا
“ولید میں جیسی بھی ہوں… آپ کی ذمہ داری ہوں, آپ کی عزت ہوں… اور آپ مجھے سب کے سامنے دو کوڑی کا کر دیتے ہیں” اس نے بیدردی سے اپنے گالوں کو رگڑا تھا
“پرامس اب کچھ نہیں کہوں گا… پکا پرامس” وہ یکدم اس کے لبوں پر جھک گیا, بہت نرمی سے اس نے مبرہ کی سانسوں کو لوٹنا شروع کیا تھا, وہ بس اس کی شرٹ مٹھیوں میں جکڑتی ہوئی زار و زار روتی چلی گئی
“شوہر تو اپنی محبت سے بیوی کو حور بنا دیتا ہے ولید… اور آپ نے کیا کیا… آپ نے تو مجھے فقیر بنا دیا” وہ یکدم روتے ہوئے اس کے سینے سے آ لگی تھی
“مبرہ میری جان بس کر دو نا…. ایم سوری ” ولید اسے گود میں اٹھا کر بستر تک لایا تھا
“صرف اس بستر کی حد تک اہم ہوں میں آپ کے لئے…. ” وہ ایک بار پھر سے بکھرنے لگی تھی
اور ولید ایک بار پھر سے ہوش کھونے لگا تھا
“خدا کا واسطہ ہے ولید…. میری محبت کو میرا جرم نا بنائیں, پلیز میری محبت کو میری زندگی کی سب سے بڑکی غلطی نا بنائیں ” وہ کہتی جا رہی تھی اور ولید بس اس کے وجود میں گم ہوتے ہوئے اس کے کانوں میں سرگوشیاں کرتا جا رہا تھا
…………………………
وہ ہسپتال سے ڈسچارج ہو گئی تھی, کوکب اسے اپنے ساتھ ہی لے آئیں, فی الحال انہوں نے اسے نیچے کمرہ سیٹ کر دیا تھا
وہ بھی ایک عام سا ہی دن تھا, اس کی بچی تین دن کی ہو گئی تھی, مروان اس سے ملنے آیا تھا, کل شام کاشف مرزا اور رابعہ بھی ہو کر گئے تھے
“آنٹی روحاء ؟؟؟”
“اندر ہے ” کوکب نے کہا, وہ سر ہلا کر اندر چلا گیا, روحاء اپنی بچی کو اپنے ساتھ لٹاۓ اس کی طرف کروٹ کئے اس سے دنیا جہان کی باتیں کرنے میں مصروف تھی
“روحاء کیسی طبیعت ہے اب ؟؟”مروان کی آواز سن کر وہ چونک گئی, پچھلے تین دن سے اس نے مروان سے کوئی بات بھی نہیں کی تھی, اب بھی وہ چپ چاپ کروٹ لیے پڑی رہی
“روحاء… یار ایسے تو نا کرو” مروان اس کے پاس بیٹھتے ہوئے بولا… ہنوز خاموشی
“روحاء مجھے جو سزا دینی ہے دے لو… لیکن مجھ سے بات تو کرو” وہ روہانسا ہو گیا
“مروان…. یہاں سے چلے جائیں ” وہ سپاٹ لحجےمیں بولی تھی
“کیوں ؟؟”
“کیونکہ مجھے آپ کی شکل دیکھ کر ہی غصہ آنے لگتا ہے… جائیں ” وہ بولی
“روحاء ایم سوری…. ” روحاء نے تڑخ کر س کی بات کاٹ دی
“خدا کے لئے مروان…. بس کر دیں, بس کر دیں یہ سوری سوری کا تماشہ” وہ کلس گئی تھی
“روحاء یار غلطی ہو گئی مجھ سے, مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ تمہاری یوں اچانک طبیعت خراب ہو جاۓ گی” وہ بولا
“میری طبیعت اچانک خراب نہیں ہوئی, ڈاکٹر نے ڈیٹ دے دی تھی مجھے اور میں نے آپ سے کہا تھا کہ مروان ذہنی طور پر تیار رہیں…. لیکن آپ نے جان بوجھ کر گاڑی کسی کو دے دی” وہ دہاڑ کر بولی تھی
“یار مجھے…. فرحان بھائی نے مجبور کر دیا تھا, ان کے کسی افسر کو ضرورت تھی, بس اسی وجہ سے… ” روحاء نے پھر اس کی بات کاٹ دی
“ہاں تو ٹھیک ہے نا… فرحان بھائی اور اس کا افسر ہی اہم ہوۓ نا.. میں چاہے بھاڑ میں جاؤں” وہ بولی
“روحاء میری بات….. “
“کوئی بات نہیں سننی مجھے…. بس بہت ہو گیا” وہ دوبارہ کروٹ بدل گئی تھی
……………………..
دن یونہی گزرتے چلے گئے, ولید نے شروع شروع میں تو اس کی ڈیوٹی نبھائی لیکن پھر اسی ڈگر پر آ گیا, دھیرے دھیرے مبرہ پھر سے رکشے پر آ گئی اور سردیوں کے بعد گرمیاں مشکل ترین ہونے لگیں, عابدہ کا جب بھی فون آتا, وہ یہ ہی کہتی کہ ولید اس کی ڈیوٹی نبھا رہا ہے
حتی الامکان اس نے ولید کے گھناؤنے چہرے کو اپنے گھر والوں سے چھپانے کی کوشش کی تھی, جہاں تک ممکن ہوا اسے سدھارنے کی کوشش کی تھی, اس کے بس ایک بار کہنے پر ہی وہ اس کے آگے سر جھکا جاتی تھی, چاہے وہ خود محتاج ہو جاۓ, لیکن کبھی کسی گھر والے کو ناں نہیں کی تھی
لیکن وہ کہتے ہیں نا… کہ عادتیں بدلی جا سکتی ہیں, فطرتیں نہیں, سرشت کبھی نہیں بدلتی
اور یہ ولید احمد کی سرشت تھی… اسے صرف اپنی ذات سے پیار تھا, اسے بس بیوی کے روپ میں ایک کمانے والی نوکرانی چاہئے جو اسے مل گئی تھی, وہ نا صرف اس کا سارا گھر سنبھال رہی تھی بلکہ سارے خرچے بھی اٹھا رہی تھی
دھیرے دھیرے وہ دوبارہ اپنی روش پر واپس آ گیا, وہی ہر بات میں طنز, طعنے, جلی کٹی باتیں, بات بے بات غصہ, تھپڑ, مکے… جسمانی تشدد اور زیادتی
اور وہ جھیل رہی تھی… نہ جانے کس امید پر ؟؟؟
بس چپ چاپ زندگی کو گھسیٹے جا رہی تھی
بھلا کیوں ؟؟؟
صرف اسلیے کہ لوگ کیا کہیں گے ؟؟ اس کے ماں باپ کیا کہیں گے ؟؟؟ گھر والے کیا کہیں گے ؟؟؟ رشتے دار کیا کہیں گے ؟؟؟ اس کی کولیگز کیا کہیں گی ؟؟ معاشرہ کیا کہے گا ؟؟؟
کہ اس نے اپنی مرضی سے شادی کی اور پھر اسے نبھا بھی نہیں سکی… ؟؟؟ ہر ایک کو غلط کہہ کر, ہر ایک کو رد کر کے, گھر والوں کے خلاف جا کر اپنی پسند سے شادی کی اور پھر اسے سرخرو بھی نا کرسکی
وہ ڈر گئی… سب سے… اس جملے سے کہ” سب نے منع کیا تھا نا… ؟؟”
اور مبرہ کی تو چلیں پسند کی شادی تھی, ہماری سوسائٹی میں ارینج میرج کے بعد بھی ہزاروں لاکھوں لڑکیاں مبرہ حسیب خان بن جاتی ہیں, وہ ایک پڑھا لکھا گنوار شوہر اور ایک اجڈ سسرال صرف اسلیے جھیلتی ہیں کہ کل کلاں کو لوگ کیا کہیں گے ؟؟؟
رشتے دار کیا کہیں گے کہ اپنا اذدواجی رشتہ قائم نہیں کر پائی, ماں باپ کیا سوچیں گے جب بیاہی ہوئی بیٹی در پر واہس آۓ گی… ؟؟؟ بھابھیاں منہ بھر بھر کر باتیں کریں گی, بھائی برداشت کریں گے یا نہیں… ؟؟؟ چھوٹی بہنوں کا کیا بنے گا؟؟؟ معاشرہ کیسی کیسی باتیں کرے گا ؟؟؟ انگلیاں اٹھیں گی… الزام تراشی ہو گی, سسرال والے سارے شہر میں ذلیل کریں گے… اور سب سے بڑھ کر… بچوں کا کیا بنے گا ؟؟؟
کیونکہ ہمارے معاشرے کا ایک سب سے بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ شوہر چاہے جلاد کا دوسرا روپ ہی کیوں نا ہو… اسے ساری زندگی صرف اسلیے برداشت کرنا پڑتا ہے کہ وہ ایک باپ بھی ہوتا ہے
اور یہ سب حقیقت ہے… ہماری مڈل کلاس فیملیز کے ماں باپ جو نہ جانے کتنی مشکلوں سے بیٹیوں کو بیاہتے ہیں… وہ بیٹیاں کوئی بھی انتہائی قدم اٹھانے سے پہلےسو دفعہ سوچتی ہیں, کمانے والیاں پھر بھی تھوڑی ہمت کر جاتی ہیں, جو نہیں کماتی ان کے لئے وہ جہنم ہمیشہ کے لئے لکھ دیا جاتا ہے, بس اسی آس پر وہ ساری عمر گزار دیتی ہیں کہ شوہر کبھی تو ان کا ساتھ بھی دے گا نا… ؟؟؟ اولاد کبھی تو جوان ہو گی نا…. ؟؟؟ ساس سسر کبھی تو اسے انسان سمجھیں گے نا… ؟؟؟
مبرہ کا بھی یہ ہی حال تھا, اسے بھی یہ ہی امید تھی کہ شاید ایک دن سب ٹھیک ہو جاۓ, شاید ایک دن وہ ان سب گھر والوں کے دلوں میں جگہ بنا سکے, شاید ایک دن ولید اسکا ہو جاۓ, اور اس شاید پر وہ اپنی زندگی ہارتی جا رہی تھی, ہر آنیوالا دن پہلے سے زیادہ مشکل ہوتا تھا
ولید اسے دھنکنے میں ایک منٹ نہیں لگاتا تھا, ساس ہمہ وقت اسے مبرہ کے خلاف بھرے رکھتی تھیں, سسر تو جب بھی بات کرتا, کوئی نا کوئی طنز کا تیر چلا کر ہی کرتا تھا
اور یہ ہی فرق تھا اس میں اور روحاء میں… اور یہ فرق ہی میرے اس ناول کی اصل تھیم بھی ہے
جب ہم چناؤ کا اختیار اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں تو پھر شکوے کا اختیار کھو دیتے ہیں
مبرہ کا یہ ہی حال تھا… وہ شکوے کا اختیار کھو چکی تھی, ولید احمد سراسر اس کا ذاتی چناؤ تھا
جبکہ روحاء…. وہ مروان مرزا کا چناؤ تھی, اس کی شادی اس کے ماں باپ نے اپنی مرضی سے کی تھی, سو وہ ڈنکے کی چوٹ پر ان سے سب کچھ کہتی تھی, ببانگ دہل شکوہ کرتی تھی, پورے حق سے میکے آ کر بیٹھتی تھی, ماں باپ ہمہ وقت اس کے ساتھ تھے, اس کے برابر کھڑے ہو کر وہ مروان کو سرزنش کرتے تھے
اور یہ سبھی حقوق مبرہ حسیب خان کھو چکی تھی…حالانکہ اس کے گھر والے اس کے ساتھ تھے لیکن پھر بھی… اس شخص کے ساتھ رہنا اس کی اپنی چوائس تھی
اور یہاں ایک بات… یہ صرف ہمارے کہنے کی بات ہوتی ہے کہ ایسا نہیں ہوتا, کوئی اتنا ظالم کیسے ہو سکتا ہے, کوئی اتنا ظلم برداشت کیسے کر سکتا ہے… ؟؟ تو حقیقت یہ ہے کہ ایسا ہر تیسری لڑکی کے ساتھ ہوتا ہے, مبرہ کی تو چلیں لو میرج سہی, ارینج میریج میں بھی ایسا ہوتا ہے, شوہروں کا کفر ہی نہیں ٹوٹتا, سسرال جہنم بن جاتا ہے, میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی ہیں مبرہ جیسی لا تعداد لڑکیاں… جو بس مجبوریوں میں جکڑی جاتی ہیں
وہ کما نہیں سکتیں, اوپر سے بچے ہو جاتے ہیں, غریب میکہ, ناتواں باپ, بیمار ماں, ان بیاہی بہنیں
سوچنے کو بڑا کچھ ہوتا ہے…
لیکن…. مبرہ کو جسٹیفائی نہیں کیا جا سکتا… محبت میں اندھا ہو جانا معاف کیا جا سکتا ہے لیکن اس محبت کی خاطر جانور بن جانا کسی طور قابل معافی نہیں ہے, ایک پڑھی لکھی با شعور لڑکی جس کے گھر والے بھی اس کے ساتھ ہوں اسے پہلی گالی اور پہلے تھپڑ پر ہی سٹینڈ لے لینا چاہئے تھا… اس نے جو ظلم سہا, جان بوجھ کر سہا, ولید جیسے شوہر کو شہہ دی, جو کسی جانور سے کم نہیں تھا
سٹینڈ لینا چاہئے… اگر آپ اپنے وجود سے جڑی مجبوریوں کو ختم کر سکتے ہیں, انہیں پس پشت ڈال سکتے ہیں, تو سٹینڈ ضرور لیں
دفع ماریں ایسے شخص کو جسے قدر ہی نہیں ہے
رہ گئی روحاء…. تو پوری طرح جسٹیفائی اسے بھی نہیں کر سکتے, مانا کہ اس کی فطرت ہی ایسی تھی… سمجھوتہ نا کرنے والی, لیکن جہاں تک ممکن ہوا اس نے کیا… لیکن جب شوہر بیوی کے اخراجات اچھی طرح پورے کرے تو پھر گھر والوں پر خرچ کرنے سے نہیں روکنا چاہیے, دراصل روحاء کو غصہ زویا اور نمرہ پر تھا, رابعہ بھی ساتھ ہی رگڑی گئی, اور یہاں آ کر مروان سے انصاف نہیں کیا گیا
اور افسوس ہے ان مردوں پر جو انصاف نہیں کر پاتے, ہوتے ہی ایسے لا تعداد شوہر جو گھر والوں کے آگے بیویوں کو ڈیفینڈ نہیں کر پاتے, ساری عمر بہن بھائیوں کو پالتے رہتے ہیں اور آخر میں وہی بہن بھائی ٹھوکر مار کر راستے سے ہٹا دیتے ہیں
یہ ہمارے ہر دوسرے گھر کی کہانی ہے اور ہر دوسری لڑکی کا المیہ ہے, کسی کو شوہر اچھا نہیں ملتا, کسی کو سسرال اچھا نہیں ملتا, کسی کی نندیں تیز ہوتی ہیں, کسی کو جیٹھانیاں دبا لیتی ہیں…. اور یقیناً ایسے کیسز بھی ہیں جہاں بہوئیں اچھی نہیں ہوتیں
شوہر یا تو شکی, یا ظالم, یا نکھٹو, یا کاٹھ کے الو… بس رونا ہی رونا ہے
اور خوش قسمت ہوتی ہیں وہ لڑکیاں جنہیں شوہر اور سسرال دونوں اچھے مل جائیں… اور اب کمنٹس میں مینشن ضرور کریں کہ شوہر اور سسرال دونوں کس کے اچھے ہیں…. یا بس اتنا لکھ دیں کہ خوش قسمت ترین کون کون ہے ؟؟؟؟
………………………….
“امی مجھے اس گھر میں کسی صورت واپس نہیں جانا… مروان الگ گھر لے گا تو ہی میں جاؤں گی” روحاء نے چند دن بعد ساجد مغل کے پوچھنے پر ببانگ دہل سارا واقعہ کہہ سنایا تھا
“امی جب تک وہ ان لوگوں سے الگ نہیں ہو گا… وہ. اس کی جان نہیں چھوڑیں گے, ہر بار مجھے سب کے سامنے ذلیل کرتا ہے, سب کے سامنے بے عزت کرتا ہے… میں تو نہیں جاؤں گی اب وہاں ” اس نے فیصلہ سنا دیا تھا
ساجد مغل نے ایک بار پھر مروان کو بلا لیا, وہ بیچارہ سعد کی شکل دیکھ کر ہی شرمندہ سا ہو گیا
“انکل… مجھے نہیں پتہ تھا کہ روحاء کی طبیعت اچانک سے….. “روحاء نے اس کی بات کاٹ دی
“وہ سب چھوڑیں, مجھے الگ گھر میں رہنا ہے بس… ” وہ بولی
“الگ گھر اتنی جلدی کیسے لوں ؟؟؟” وہ بیچارگی سے بولا
“جب آپ کا پیسہ کھا کھا کر آپ کے بھائیوں کا پیٹ بھر جائے تب لے لینا اور اکر مجھے لے جانا” روحاء نے کہا
“انکل میں وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ کسی کی طرف سے بھی روحاء کو کوئی تکلیف…” لیکن روحاء نے بھڑک کر اس کی بات کاٹ دی
“مجھے ڈیڑھ سال ہو گیا ہے اپ کے یہ وعدے وعید سنتے ہوئے… میں نے دیکھ لیا کہ آپ اپنے گھر والوں کے سامنے کیسے میری عزت کی دھجیاں اڑاتے ہیں…؟؟؟ مجھے رتی برابر یقین نہیں ہے آپ کی زبان پر… جائیں یہاں سے, جب الگ گھر لینا افورڈ کرلیں گے تو آ کر مجھے لے جانا” وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی
مروان بس بے بسی سے سر جھکائے بیٹھا رہ گیا
“مروان ایک مرد کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنی بیوی اور ماں باپ بہن بھائیوں میں انصاف بنا کر رکھے…اور یہ انصاف ہی گھر کے سکون کی ضمانت ہوتا ہے” ساجد مغل نے کہا تھا
وہ بس چپ چاپ سر جھکا کر باہر نکل آیا
“مروان… ” سعد اس کے پیچھے ہی باہر آیا تھا
” یار میرے خیال سے تمہیں ابھی روحاء کو تھوڑا وقت دینا چاہیے, وہ کونسا کسی سڑک کنارے بیٹھی ہے… اپنے باپ کے گھر بیٹھی ہے, اسے یہیں رہنے دو….ابھی غصہ یے اسے… دھیرے دھیرے ٹھنڈا ہو جاۓ گا” سعد اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہتا چلا گیا
مروان چپ چاپ پلٹ آیا
روحاء کا انکار اقرار میں نہیں بدلہ تھا, وہ بضد تھی کہ مروان اسے الگ گھر لیکر دے, مروان نے ساری بات کاشف مرزا کے گوش گزار کر دی
“مروان… یار مجھے تو یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ تو اتنے عرصے سے زویا اور نمرہ کا خرچہ اٹھا رہا یے, روحاء بھی شائد اپنی جگہ درست ہے… بیوی سے بھلا کہاں برداشت ہوتا ہے شوہر کا جیٹھانیوں اور اس کے بچوں پر خرچ کرنا, کبھی کبھار کی تو خیر ہے لیکن… دو عدد کماؤ بڑے بھائیوں کی فیملیز کا خرچہ اٹھانا کسی بھی بیوی سے برداشت نہیں ہوتا… میرے اور فرحت کے کہنے سننے پر وہ شاید رابعہ کو تو اگنور کر دے, لیکن زویا اور نمرہ کو وہ بالکل اگنور نہیں کر سکے گی” کاشف مرزا نے کہا
“ابو وہ الگ گھر لینے کا کہہ رہی ہے…” مروان نے کہا کاشف مرزا نے ایک لمبی سانس بھری تھی
” مروان میرا جو کچھ بھی ہے وہ تم چاروں کا ہے… میں نے پہلے سے ہی طے کر رکھا تھا کہ یہ والا گھر نعمان اور فرحان کے نام کر دوں گا اور جو تھوڑی بہت زمین ہے اس پر تمہارا اور رابعہ کا حق ہوگا… بس پھر اس مسئلے کا حل یہی ہے کہ زمین بیچ دی جائے, رابعہ اپنے حصے کا جو بھی کرنا چاہے گی کر لے گی… اور تم اپنے حصے سے گھر لے لو” کاشف مرزا نے کہا
“ابو… بٹوارا تو میری وجہ سے ہوا نا…؟؟؟” اس نے دزدیدہ نگاہوں سے کاشف مرزا کی طرف دیکھا تھا
” بٹوارہ ہونا ہی ہوتا ہے بیٹے… اور شاید کہیں نہ کہیں غلطی ہم جیسے ماں باپ کی بھی ہوتی ہے… ہم بٹوارے سے ڈر جاتے ہیں, حالانکہ اگر یہ بٹوارہ وقت پر ہو جائے تو کئی گھر اجڑنے سے بچ جائیں” کاشف مرزا نے کہا
مروان بس سر جھکائے بیٹھا رہ گیا تھا
اگلے کچھ دنوں میں کاشف مرزا نے زمین کا سودا کر دیا تھا
……………………………..
اس نے مبرہ کو کال کی تھی
مرحہ کو نہلا کر سلا دیا تھا, اس نے اب لمبی نیند سونا تھا, اسے سلا کر وہ خود باہر نکل آئی
عفراء اپنے اور سعد کے کپڑے دھو رہی تھی, وہ اپنے ایریا کی اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر تھی
روحاء نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے مبرہ کو کال ملا لی جو صد شکر کے اس نے ریسیو کر لی
“واہ بھئی… بڑی خوش قسمتی ہے میری کہ پروفیسر صاحبہ نے میری کال اٹینڈ کر لی” روحاء ہنستے ہوئے بولی
“میں ہنڈیا بنا رہی ہوں شام کی… ساتھ ساتھ تمہاری کال سن رہی ہوں” وہ بولی
“کیسا چل رہا ہے سب کچھ…. ؟؟؟”
“ذرا ذرابسا بہتر ہوا تو ہے…. ” وہ بولی
“مار پیٹ کم ہوئی کہ نہیں…؟؟؟” اس نے پوچھا, صرف روحاء کو ہی اس نے ولید کے ظلم و ستم کے بارے میں بتایا تھا
“ہاں… جب سے پریگنینسی ہوئی ہے تب سے ہاتھ تو نہیں اٹھایا…” وہ بولی
“چلو… اللہ ہدایت دے” روحاء نے کہا, کافی دیر وہا مبرہ سے باتیں کرتی رہی, روحاء نے بھی ساری روداد سنائی, مبرہ نے بھی تھوڑی بھڑاس نکال دی
“چل ٹھیک ہے پھر… ” روحاء نے کال کاٹتے ہوئے کہا تھا, مرحہ اٹھ گئی تھی, وہ اسے اٹھا کر باہر ہی لے آئی, عفراء بھی فارغ ہو گئی تھی
“تمہاری کوئی بیسٹ فرینڈ ہے یہ ؟؟؟” اس نے پوچھا
“ہاں… میٹرک سے ہم دونوں ساتھ ہیں… بی ایس بھی ایک ساتھ کیا تھا” وہ بولی
“کیا نام ہے ؟؟؟” عفراء نے سرسری سا پوچھا
“مبرہ حسیب خان… وہ کمپیوٹر سائنس کی لیکچرار ہے” روحاء نے کہا
“شادی سے پہلے تو ایک دوسرے کے گھروں میں بھی آنا جانا ہو گا تم دونوں کا ؟؟” اس نے پھر پوچھا تھا, روحاء اس کے لحجے کی لگاوٹ محسوس نہیں کر سکی تھی
“ہاں… کبھی وہ آ جاتی تھی… کبھی میں چلی جاتی تھی”
“میرا خیال ہے اسی نے سعد کی اکیڈمی میں پڑھایا تھا نا… ؟؟؟” اب کے وہ اصل مدعے پر آئی تھی
“ہاں یار…. دو, تین سال پڑھایا ہے… مبرہ بہت ذہین ہے, اور بہت کامیاب… اتنے زیادہ سٹوڈنٹس ہو گئے تھے تب سعد کی اکیڈمی میں… پھر اس کی شادی ہو گئی تو اس نے چھوڑ دیا… ” روحاء کہتی چلی گئی
“خوش نہیں ہے اپنے گھر… ؟؟؟”
“کیا بتاؤں اب تمہیں… پسند سے شادی کی تھی اس نے, گھر والے اتنے راضی نہیں تھے… لیکن وہ تو بالکل ہی جانور نکلا, اتنی مار پیٹ کرتا ہے کہ حد نہیں, ایک مس کیریج بھی ہو گیا ہے بیچاری کا, حالانکہ شادی سے پہلے ہی مروان اور سعد دونوں نے مجھے بتایا تھا کہ ولید اچھا انسان نہیں ہے لیکن… ” عفراء نے چونک کر اس کی طرف دیکھا
“کیا نام ہے اس کا… ؟؟؟”
“ولید احمد… ” وہ بولی
“وہ کہیں انگلش تو نہیں پڑھاتا… بڑا پرسنیلٹیڈ سا ہے, بڑا چرب زبان سا” عفراء نے کہا
“ہاں ہاں… وہی ہے, آجکل بھی کسی پراییوٹ کالج میں کلاسز لے رہا ہے… تمہیں پتہ ہے اس کا ؟؟؟” روحاء نے پوچھا
“اس نے کچھ عرصہ میرے پاپا کے کالج میں بھی پڑھایا ہے, اقراء آپی کو بھی پھنسا لیا تھا اس نے, منگنی بھی ہو گئی تھی ان کی لیکن… ہمیں جلد ہی اس کی اصلیت کا پتہ چل گیا تھا” عفراء کہتی چلی گئی
“اچھا… عفراء یار اس کی اصلیت تو مبرہ کو بھی پتہ چل گئی تھی لیکن… بس دل کے ہاتھوں ہار گئی” روحاء نے کہا
“دل کے ہاتھوں تو پتہ نہیں کون کون ہارا ہوا ہے” عفراء کی سرگوشی وہ سمجھ نہیں سکی تھی
……………………….
جاری ہے