No Download Link
Rate this Novel
Episode 25
اس کی انٹر کے پریکٹیکلز پہ ایکسٹرنل کے طور پر ڈیوٹی لگی تھی, بوائز کالج میں… اور یہ ڈیوٹی سعد نے بہت ریکوئسٹ کر کے لگوائی تھی, وہاں اس کی اکیڈمی کے ڈھیر سارے پرائیویٹ سٹوڈنٹس کا پریکٹیکل تھا جو شائد مبرا کی وجہ سے اچھا ہو جاتا
وہ اس دن بڑا اچھا سا تیار ہوئی تھی, حسیب خان اسے گاڑی میں کمپیوٹر سائنس ڈپارٹمنٹ کے آگے اتار کر چلے گئے
وہاں بہت سارے سٹوڈنٹس اسے جانتے تھے
“میڈم پریکٹیکل آپ نے لینا ہے ؟؟؟” پر اشتیاق چہرے
“جو جتنا شوخا ہوا اس کے اتنے نمبر کاٹوں گی میں… ” وہ مسکراتے ہوئے ڈپارٹمنٹ کے اندر آ گئی
مروان لیب میں ہی تھا… ڈیوٹی اس کی بھی ڈسٹرکٹ کالج میں لگی تھی لیکن موجودہ پریشانی کی وجہ سے اس نے کینسل کروا دی تھی, وہ ایک دن پہلے جاتے ہوۓ سارے کمپیوٹر سسٹمز اوکے کروا کے گیا تھا
“احمر بچوں سے کہو ارینج ہو جائیں.. ٹائم ہونے والا ہے, میڈم آ گئیں ؟؟؟” اس نے لیب اٹینڈینٹ سے پوچھا تھا, بوائز کالج میں اس کے علاوہ اب دو اور لیکچرارز بھی تھے جو اس سے جونیئر تھے, ان میں سے ایک وہیں لیب میں تھا
“میڈم آ گئیں ہیں سر… ” احمر کی بجاۓ ایک سٹوڈنٹ نے کہا تھا اور تبھی مبرہ لیب میں داخل ہوئی تھی
مروان نے آج پہلی بار دیکھا تھا اسے
ایک لمحے کو تو وہ اسے اپنا عکس ہی لگی… نارمل سے قد کی وہ دیکھنے میں اچھی خاصی سوبر سی لڑکی تھی, فیروزی رنگ کے نفیس سے سوٹ میں ملبوس, ساتھ نیوی بلو کنٹراسٹ کی شال لیے, آنکھوں پر چشمہ لگاۓ, پیروں میں نیوی بلو بلاک ہیل والے جوتے پہنے ہوئے تھی, گندمی سی رنگت اور عام سے نین نقش کے ساتھ چہرے پر ہلکا ہلکا میک اپ کئے, لبوں پر ہم رنگ سی لپ اسٹک لگاۓ وہ کافی متاثر کن شخصیت کی حامل لگ رہی تھی, کندھے پر نیوی بلو لیدر بیگ ڈالے وہ بڑی متانت سے لیب میں داخل ہوئی تھی اور مروان کے قریب آ کر اس نے سلام کیا تھا
“مروان مرزا… ” وہ خوشدلی سے بولا
“کیسے ہیں آپ سر… ؟؟؟” مبرا نے پوچھا
“میں ٹھیک ہوں میم… سٹارٹ کروائیں ؟؟؟”
“جی بالکل… ” اس نے اپنی سیٹ سنبھالی تھی
“یہ میرے ساتھی کولیگ ہیں… طاہر فاروق, یہ آپ کو اسسٹ کریں گے” مروان اسے سب کچھ بتاتا چلا گیا تھا
………………..
وہ اتوار کا دن تھا, شعیب اور زوہیب دونوں ہی ویک اینڈ پر آۓ ہوۓ تھے, گیارہ, بارہ بجے تو سب لوگ سو کر اٹھے
“حنا باہر ناشتہ کریں گے سب… ” شعیب نے حنا کو آواز دے کر کہا, مبرا اس کے ساتھ ہی کچن میں کھڑی تھی, وہ سب کچن کے سامنے رکھی ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ گئے, خباب کی شادی ڈسکس ہونے لگی تھی
“امی اسے کہیں اوپر اپنا کمرہ سیٹ کرواۓ… اور ساتھ واش روم اور کچن… پھر شادی کریں گے اس کی” شعیب نے کہا, عابدہ نے حسیب خان کے آگے ان کا ناشتہ لا کر رکھا تھا
“کچن بہت ضروری ہے امی… روحاء کے جھگڑے کچن سے ہی شروع ہوۓ تھے” مبرا ان سب کو پراٹھے لا کر دے رہی تھی
“بھابھی میرا تہوں والا پراٹھا بنانا….” زوہیب نے ہانک لگائی تھی
اسامہ چھ سال کا ہو گیا تھا اور مسلسل زوہیب کو ایک کے بعد ایک کاروائیاں سنا رہا تھا, ارحہ تین سال کی ہو گئی تھی
تبھی بیرونی دروازہ بجا, زوہیب اٹھ کر گیا تھا
دروازے پر شمیم اور چوہدری حمید کھڑے تھے, ان کے بالکل پیچھے اسے ولید کا چہرہ نظر آیا, ساتھ حماد بھی تھا
“ہاں جی… ؟؟؟” زوہیب دروازے میں ہی کھڑا رہا
“کون ہے ؟؟؟” شعیب نے پوچھا
“سابقہ بہنوئی راجہ تھوکے کو چاٹنے آ گئے ہیں… ” زوہیب نے زور سے کہا تھا, مبرا اور حنا کچن کے دروازے میں آ کھڑی ہوئیں, شعیب اور حسیب خان اٹھ کر دروازے تک آۓ تھے
“ہاں جی… فرمائیں ؟؟؟” شعیب نے کہا
“پتر ہم لوگ بات کرنے آۓ ہیں.. ” شمیم نے کہا
“وقت مل گیا تم لوگوں کو بات کرنے کا ؟؟؟ کتے کی طرح سارے شہر میں ٹکے ٹکے کے لوگوں کے آگے پھر کر اب بات نہیں بنی تو یہاں آ گئے… بات کرنے… ہیں نا… ؟؟” شعیب نے کہا
“شعیب پتر… یہ معافی مانگے گا تم سب سے…. ” وہ ولید کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی
“اچھا… اور وہ کس لئے ؟؟؟”
“اندر تو آنے دے, یہ ہاتھ جوڑ کر… ” شمیم آگے کو آئی تو شعیب نے ہاتھ کھڑا کر دیا
“خبردار… جو کسی نے ایک پیر بھی اندر رکھا تو, مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا, سیدھا تھانے فون کروں گا میں” وہ دہاڑا
“ہم بہت شرمندہ ہیں خان صاحب… ” چوہدری حمید کے کہتے ہی شعیب بھڑک گیا
“بھاڑ میں گئی تم لوگوں کی شرمندگی… جب اس حرامزادے نے پریگنینسی کے آخری دنوں میں اپنی بیوی کو جانوروں کی طرح مارا تھا تب کہاں تھے تم دونوں ؟؟؟ خدا کا خوف نہیں ہے تمہیں کہ تمہاری بھی تین بیٹیاں ہیں… شدید سردی اور دھند میں وہ آدھی رات کو درد سے دہری ہوتی ہوئی یہاں آئی تھی.. تب کہاں تھے تم دونوں ؟؟؟ صرف اس بے غیرت اور کتے کی وجہ سے اس نے اپنا بچہ کھو دیا” شعیب چنگھاڑ کر بولا تھا
“پتر گل تو سن… “
“دوبارہ پتر نا کہنا مجھے, پتر تو یہ ہے تمہارا جو انسان کہلانے کے لائق نہیں ہے, مڑ کر پوچھا تک نہیں تم خبیثوں نے کہ مبرا زندہ ہے یا مر گئی… ” وہ بولا
“خان صاحب…. ہم لوگ بڑے شرمندہ ہیں… ہم آپ سے معافی مانگنے آۓ ہیں…. ” چوہدری حمید نے حسیب خان کی طرف دیکھا
“کوئی معافی نہیں چوہدری…. اب تم لوگوں کے سر پر جیل کا ڈنڈہ لہرایا ہے تو معافی یاد آ گئی ہے… کوئی معافی نہیں…. سیدھا جیل جاۓ گا اب یہ… ٹٹ پونجیا ہو کر” حسیب خان نے کہا
“بھائی صاحب ہمیں اندر تو… ” شمیم نے پھر کہنا چاہا
“نا کوئی معافی ہے ہمارے پاس…. اور نا ہی کوئی بات کرنی ہے, دفع ہو جاؤ یہاں سے” شعیب نے دروازہ بند کرنا چاہا تو ولید آگے کو آیا تھا
“میں نے نہیں نکالا تھا اسے گھر سے, خود آئی تھی یہ وہاں سے…. ” وہ انتہائی کروفر سے بولا تھا
“حرامزادے, کتے… تیری مار کھا کر بھی یہ وہاں پڑی رہتی تاکہ تو اسے جان سے مار دیتا… ” خباب نے ولید کا گریبان پکڑا تھا
“پتر غصہ نا کر… بات تو کرنے دے” حماد اور چوہدری حمید نے خباب کو مشکل سے روکا
“مبرا کو بلاؤ… میں اس سے معافی مانگ لیتا ہوں”وہ بولا
“معافی مانگنے آیا ہے نا تو… ” عابدہ ایک دم آگے کو آئیں اور خباب اور زوہیب کو پیچھے کو کیا
“معافی چاہئے نا تجھے… ؟؟؟ چل پھر بیٹھ یہاں, بیٹھ اس دروازے پر, مانگنا شروع کر معافی, دروازہ کھلے یا نا کھلے تو معافی مانگ… ناک رگڑ, ایڑھیاں رگڑ, دہائیاں دے, معافیاں مانگ, بیٹھ جا یہاں… ” عابدہ نے اس کا کندھا کھینچ کر اسے دروازے کی چوکھٹ پر بٹھایا تھا
“بیٹھ یہاں گھٹنوں کے بل اور مانگ معافی, رونا شروع کر, شرمندہ ہے نا تو… ؟؟؟ تو پھر بیٹھا رہ یہاں” انہوں نے اسے پیچھے کو دھکا دیتے ہوئے دروازہ بند کیا تھا
“میں بھی دیکھوں کہ کتنا شرمندہ ہے تو ؟؟؟” وہ زور سے دہاڑی تھیں
سارا گھر خاموش کھڑا تھا
اور دو منٹ بعد انہوں نے دروازہ کھولا تو ان میں سے کوئی بھی نہیں تھا
……………………..
رات کے آٹھ بج رہے تھے جب وہ گھر آیا, ٹی وی لاؤنج کے دروازے تک پہنچا تو ٹھٹھک گیا, اندر سبھی بڑے خوش تھے, زویا اور فرحان کی فیملی بڑے مطمئن انداز سے رات کا کھانا کھا رہے تھے, بچوں کے ساتھ ہنس کھیل رہے تھے, فرحان نے چھوٹی بیٹی کو اپنی گود میں بٹھایا ہوا تھا
وہ خاموشی سے اوپر آ گیا, وہاں بھی کچھ ایسا ہی نظارہ تھا, نعمان اور نمرہ اپنے بچوں کے ساتھ خوش باش تھے, ہنسی اور کھلکھلاہٹوں کی آوازیں آ رہی تھیں, مروان کا دل مسوس گیا
وہ الٹے قدموں واپس نیچے اتر آیا, اور سیدھا اپنے گھر آ گیا
روحاء کو گئے پانچ مہینے ہو گئے تھے, سارا گھر تلپھٹ ہوا پڑا تھا, میلے کپڑوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا, وہ اب چار, چار دن ایک ہی سوٹ میں گزار دیتا تھا, کچن سنسان پڑا تھا, چیزوں پر انچ انچ مٹی کی تہہ چڑھ گئی تھی
کسی کو اس سے کوئی سروکار نہیں تھا, سب اپنی اپنی خوشیوں میں مگن تھے, سب اس کا گھر اجاڑ کر خود اپنی زندگی میں خوش تھے
وہ کمرے میں آیا اور جوتوں سمیت بستر پر گر گیا, ہر طرف اسے روحاء کی خوشبو محسوس ہو رہی تھی, مرحہ کی کلکاریاں سنائی دے رہی تھیں
“روحاء… میری جان” اس کی آنکھوں سے آنسو نکل کر بستر میں جذب ہو گئے, کافی دیر وہ یونہی بے آواز روتا رہا, پھر اسے نیند نے آ لیا
صبح وہ رابعہ کی طرف گیا تھا
“گھر کی صفائی تو کر دو… اور کپڑتلے دھو دو, ڈھیر لگا پڑا ہے” وہ بولا
“مروان میں کیسے کروں اتنا کام…. میری تو اپنی طبیعت ٹھیک نہیں ہے, تم کسی کام والی سے کروا لو نا… ؟؟”اس نے صاف ہری جھنڈی دکھا دی
واپسی پر وہ کاشف مرزا کی طرف گیا, زویا اور نمرہ دونوں کی منتیں کر لیں لیکن بے سود… ٹال مٹول کرتے کرتے انہوں نے دو ہفتے گزار دییے, شروع شروع میں تو انہوں نے ایک دو دفعہ اس کا گھر صاف کر دیا, کپڑے بھی دھو دیئے لیکن آخر کب تک…. ؟؟؟
“امی میرے کپڑے تو دھلوا دیں… ” وہ فرحت کی طرف چلا آیا
“مروان میں کسے کہوں ؟؟؟ چل میں دھو آتی ہوں” فرحت نے کہا اور اس کے کپڑے دھو کر دیئے, ان سے کپڑے دھلواتے ہوۓ اسے بہت شرم آئی تھی
“امی کوئی کام والی ڈھونڈ دیں… میرا تو گھر کھنڈر بنتا جا رہا ہے” وہ اس رات پھر رویا تھا
روحاء اس کی کوئی بھی کال اٹینڈ نہیں کر رہی تھی, اس کا وکیل بہت ایکسٹینشن لے چکا تھا, اب بس فیصلہ ہی ہونا تھا
دھیرے دھیرے اس ہر حقیقت آشکارا ہونے لگی, زویا اور نمرہ کو اسے کھانا دینا بھی دوبھر لگنے لگا, اس کے کام کرنا انہیں مصیبت لگنے لگا, اس کے کام کو ٹال مٹول ہی کر جاتیں اور رابعہ… اس کے پاس تو صفا چٹ جواب ہوتا تھا
اس دن بھی وہ بنا ناشتہ کیے ہی کالج چلا گیا, دوپہر میں بھی بس کچھ کھانے کو دل نا کیا… رات کو وہ واپس گھر آیا تو ایک بار پھر دروازے میں ہی رک گیا, اندر شائد کسی بچے کی برتھ ڈے ہو رہی تھی, پورے لاؤنج میں ہنسی, مسکراہٹیں, قہقہے… رابعہ بھی آئی ہوئی تھی
اسے کسی نے بتایا ہی نہیں تھا, وہ چپ چاپ اندر آ گیا
“ارے مروان… آؤ یار, آج دیا کا برتھ ڈے ہے… دیا چاچو سے گفٹ لے لو اپنا” فرحان نے ہنستے ہوئے کہا تھا
اور مروان کی بس ہو گئی
“آپ کسی کو بھی میرے معاملے سے کوئی سروکار ہے فرحان بھائی… ؟؟؟” وہ انتہائی سرد لحجے میں بولا تھا
“کیا مطلب ؟؟؟”
“مطلب میری طلاق ہونے والی ہے…. میری بیوی اور بچی مجھ سے جدا ہونے والی ہیں, اور آپ لوگ برتھ ڈے پارٹیز منا رہے ہیں” وہ چیخ پڑا
“مروان اب ہم لوگ کہاں تک ماتم منائیں تمہارے ساتھ, اپنے بچوں کی خوشیاں تو نہیں کھا سکتے نا ” زویا نے کہا
“اور جو میری خوشیاں کھا گئیں ہیں آپ وہ… ؟؟؟” مروان چیخ پڑا
“میں نے تمہاری بیوی سے نہیں کہا کہ تم سے طلاق لے… سمجھے” وہ تڑخی
“فرحان بھائی چلیں اٹھیں, ہمیں روحاء کی طرف جانا ہے, آپ اور زویا بھابھی دونوں میرے ساتھ چلیں” وہ بولا
“مروان میری بات سن ذرا… “
“نہیں سننی مجھے کوئی بات, میری ساتھ چلیں اور چل کر ان سے بات کریں” وہ بولا
“میں نے ہمیشہ آپ کا ساتھ دیا ہے, ہمیشہ آپ کی فیملیز کا بوجھ اٹھایا ہے, اب مجھے ضرورت ہے آپ کی, چلیں میرے ساتھ… ” وہ آگے کو آیا
“میں تو کہیں نہیں جاؤں گی” زویا نے ہاتھ کھڑے کر دییے
“کیوں ؟؟؟ مروان اتنے پیسے دے دو, مروان کپڑے لینے ہیں, مروان شاپنگ کرنی ہے, مروان سودا لا دو, اب مروان کو ضرورت ہے تو آپ کیوں نہیں جائیں گی ؟؟؟” وہ چیخ پڑا
“مروان… آواز دھیمی رکھو… ” فرحان کو غصہ آیا تھا
“کیوں… ؟؟؟ مروان نوکر تھا کیا آپ کا ؟؟؟ ” وہ دہاڑا
“آپ سب لوگوں نے مل کر میرا گھر اجاڑا ہے, اور اب آپ لوگ بہت خوش ہیں, آپ میں سے کسی کو میری کوئی فکر نہیں ہے, مجھے بینک سمجھ رکھا تھا آپ سب نے, صرف پیسے سے سروکار تھا آپ سب کو… ” وہ چیخ پڑا تھا
“مروان ایسا نہیں ہے بیٹے… ” فرحت نے کہا
“امی ایسا ہی ہے… ان میں سے کس نے آگے بڑھ کر کہا کہ ہم تمہارے ساتھ چلتے ہیں, امی آپ نے بھی نہیں کہا, آپ نے شروع سے ان تینوں کو اپنے سینے سے لگایا ہے, اور میں کہیں بھی نہیں تھا…. صرف ابو میرے ساتھ ہیں اور کوئی نہیں, کوئی میرے ساتھ نہیں کھڑا, اس رابعہ کی خاطر کیا کچھ نہیں کیا میں نے… ؟؟؟ اس کی خاطر اپنا آپ اجاڑ دیا لیکن یہ صرف ایک بار وہاں گئی… صرف میرے کہنے پر, کتنی بار فرحان بھائی وہاں گئے… ؟؟؟ کتنی بار نعمان بھائی نے سعد سے بات کی ؟؟؟ کتنی بار آپ ان کے گھر گئیں ؟؟؟” وہ دہاڑ کر بولا تھا
“مروان بہت ہو گیا” نعمان کو غصہ آیا تھا
“وہی تو نعمان بھائی… بہت ہو گیا, مجھے سب پتہ چل گیا کہ کون میرے ساتھ کتنا مخلص ہے… ؟؟؟ مجھے صرف یہ بتائیں کہ آپ لوگ وہاں جا رہیں ہیں یا نہیں ؟؟؟” اس نے پوچھا
“میں تو نہیں جاؤں گی… مجھ سے تو نہیں برداشت ہوتیں اس کی باتیں… ” نمرہ صاف کہہ کر اوپر چلی گئی
“زویا بھابھی ؟؟؟” وہ اس کی طرف مڑا
“مروان… میں نے تمہیں نہیں کہا تھا اسے تھپڑ مارو, یہ سب تمہارا اپنا کیا دھرا ہے, میں کیوں اس سے معافی مانگوں ؟؟؟” زویا نے کہا
“آپ فرحان بھائی… ؟؟” وہ بولا
“سنو مروان…. ہم اس معاملے پر بیٹھ کر سوچتے…. “
“آپ جا رہے ہیں یا نہیں ؟؟؟”
“فرحان کہیں نہیں جائیں گے, انکل اور آنٹی گئے تھے نا ان کے گھر…. کتنی ہی بار…. کوئی فائدہ نہیں ہوا, اس لڑکی کا دماغ ہی خراب ہے, وہ نہیں صلح کرنے والی” زویا نے کہا
“وہ لڑکی میری بیوی ہے جسے آپ کی سازشوں سے کھو دیا میں نے ” مروان زور سے بولا
“ہم نے کچھ نہیں کیا مروان…. یہ سارا تیرا اپنا قصور ہے, کیوں مارا اسے ؟؟؟” فرحان الٹا اس پر برس پڑا
“ٹھیک ہے فرحان بھائی… روحاء واپس آۓ یا نا آۓ, لیکن آپ کی سچائی میرے سامنے آ گئی, مروان بس ایک نوکر تھا آپ کے لئے… اور بس, ساری عمر معاف نہیں کروں گا میں آپ سب کو” وہ اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے وہاں سے نکل گیا تھا
……………………..
وہ اس دن اکیڈمی میں کلاس لیکر نکلی تو اسے ولید نظر آیا, ایک لمحے کو تو اس کا دل سہم گیا تھا, اس سے پہلے کہ وہ واپس کلاس میں جاتی, ولید نے اسے دیکھ لیا
“رکو… مجھے تم سے بات کرنی ہے” ولید اس کی طرف آیا تھا, مبرہ کا کلیجہ اس کے حلق میں آ گیا
“کہہ رہا ہوں نا کہ غلطی ہو گئی مجھ سے… ” ولید نے اس کا بازو پکڑنا چاہا لیکن وہ پیچھے کو ہو گئی
“حسن, سعد مغل کو بلاؤ, جلدی ” اس نے ایک سٹوڈنٹ سے کہا تھا
“کیا ہوا میم… ؟؟؟” وہ سٹوڈنٹ اس کا زردی مائل چہرہ اور کانپتی ہوئی انگلیاں دیکھ کر ٹھٹھک گیا
“سعد مغل کو بلاؤ جلدی…. “وہ اپنی آواز کی لڑکھڑاہٹ پر قابو نہیں پا سکی تھی
“اچھا…. تو اب سعد مغل بچاۓ گا تمہیں… چلو بلاؤ اسے, میں بھی دیکھو کہ وہ کیسے تمہیں بچاۓ گا” ولید نے دوبارہ اس کا بازو دبوچ لیا تھا
“چھوڑو مجھے… ” مبرا نے چیخ کر کہا اور ساتھ ہی اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آۓ
“چھوڑ دے میڈم کا بازو… ” اس کے پاس کھڑے سٹوڈنٹ نے زور سے ولید کو دھکا دیا تھا اور آن کی آن میں اس نے کلاس روم سے چھ, سات اور لڑکوں کو بلا لیا
“اس نے میڈم کا بازو دبوچا ہے… ” وہ زور سے بولا اور وہ سب بری طرح ولید پر پل پڑے
تبھی سعد بھاگتا ہوا وہاں آیا تھا
“حسن… چھوڑو یار, بس کرو” اس نے بمشکل ولید کو ان کے چنگل سے نکالا, انہوں نے ولید کو اچھا ہی سجا دیا تھا, مبرا ایک طرف کھڑی تھر تھر کانپ رہی تھی, دوپٹہ سر سے اتر کر کندھے پر جھول گیا تھا, آنسو گالوں پر بہے آ رہے تھے
“کیوں آۓ ہو یہاں ؟؟؟” سعد نے پوچھا
“میں اپنی بیوی سے ملنے آیا تھا… ” وہ منہ سے خون تھوکتے ہوۓ بولا
“میری ایک بات کان کھول کر سن لو ولید… سارا شہر جانتا ہے کہ مبرا حسیب خان نے تم پر خلع کا دعویٰ کیا ہوا ہے اور اگر آئیندہ غلطی سے بھی تم مجھے یہاں نظر آۓ تو میں سیدھا پولیس سٹیشن کال کر دوں گا… ” سعد نے اسے وارن کرتے ہوئے کہا تھا
ولید مبرا کو قہر بار نظروں سے دیکھتے ہوئے واپس چلا گیا
“مبرا آپ ٹھیک ہیں ؟؟” وہ اس کی طرف مڑا, اس نے بس اثبات میں سر ہلا دیا تھا
“آئیں… ایم سوری مجھے اندازہ نہیں تھا کہ وہ یہاں آ جاۓ گا” سعد اسے آفس میں لے آیا, مبرا نے اپنی شال درست کی تھی, سعد نے اسے پانی کا گلاس بھر کر دیا
“آپ اتنی کمزور تو نہیں ہوا کرتی تھیں مبرا… ” وہ دھیرے سے بولا
“اب ہو گئی ہوں… یہ شخص میرے لئے کسی nightmare کی طرح ہو گیا ہے, بہت خوف آتا ہے مجھے اس سے…. اتنا کہ میری نفرت اس خوف پر حاوی نہیں ہو پاتی” وہ بولی
“تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ کی اس سے نفرت ابھی کم ہے… ایسے تو وہ ساری عمر آپ کے حواسوں پر سوار رہے گا مبرا… ؟؟؟” اس نے کہا
“اس نے مجھے زندہ دفن کیا ہے سعد… ہر روز وہ مجھے جیسے قبر میں اتار دیتا تھا, وہ عزرائیل کا دوسرا روپ ہے میرے لئے… مجھے کیوں نا اس سے خوف آۓ” وہ رو پڑی تھی
“برائی کسی سے ڈرنے میں نہیں ہے مبرا… اس ڈر کو خود پر حاوی کر لینے میں ہے, جب اس نے آپ کا بازو دبوچا تو پلٹ کر اس کے منہ پر تھپڑ کیوں نہیں مارا… ؟؟؟ آپ اکیلی نہیں ہیں مبرا… ہم سب آپ کے ساتھ ہیں, یہ پوری اکیڈمی آپ کے ساتھ ہے… ” وہ کہتا چلا گیا تھا
………………….
جاری ہے
