Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

نویں قسط
وہ دوپہر کا سالن بنانے کچن میں آئی تو نمرہ پہلے سے چولہے کے پاس کھڑی تھی
“نمرہ بھابھی مجھے سالن بنانا ہے… ” روحاء نے کہا
“روحاء… یار عفان چاول کھانے کی ضد کر رہا تھا, بس اسے چاول بنا دوں…” نمرہ نے کہا
“اور دوسرے پر کیا رکھا ہے… ؟؟” اس نے پوچھا
“یہ کسٹرڈ ہے…. بس ابھی بن جاۓ گا” وہ بولی
“تو آپ نیچے بنا لیں چاول… ” روحاء کو غصہ آ گیا
“نیچے زویا بھابھی کے میکے والے آۓ ہوۓ ہیں, وہ کچن پر قبضہ کر کے کھڑی ہیں ” نمرہ نے کہا
“نمرہ بھابھی میں نے یہ کچن اپنے لئے بنوایا ہے… صرف اسلیے کہ مجھ سے انتظار کی لائن میں کھڑا نہیں ہوا جاتا, پلیز یہ کسٹرڈ بعد میں بنا لینا, اور آئیندہ نیچے ہی پکایا کریں جو بھی پکانا ہو… ” روحاء نے کہہ ہی دیا
“روحاء ذرا تمیز سے, جہیز میں نہیں لائی ہو تم یہ کچن ؟؟؟” نمرہ کو غصہ آ گیا
“جہیز کا ہی سمجھیں, جب یہ نہیں تھا تب بھی تو نیچے مینیج کرتی تھیں نا آپ, تب تو آپ دونوں کو ایک کچن سے کوئی مسئلہ نہیں تھا, مجھے پتہ ہے نیا کچن بننے پر آپ دونوں نے کتنی باتیں کی تھیں… ” روحاء نے کہا اور کسٹرڈ والا پین نیچے اتار دیا
“مجھے سالن بنانا ہے.. مروان نے کھانا کھانا ہے آ کر ” اس نے سالن والا پتیلا اوپر رکھا تھا
“تم سمجھتی کیا ہو خود کو ؟؟؟” نمرہ زور سے بولی
“روحاء مروان مرزا… اوکے ؟؟؟” روحاء نے اسے اور سلگایا تھا
“ہنہ… سب پتہ ہے مجھے تم جیسی لڑکیوں کا, ایسے ہی تو تمہارے ماں باپ نے تمہیں مروان جیسے بونے سے نہیں بیاہ دیا” نمرہ ہر حد ہی پھلانگ گئی, روحاء کا پارہ یکلخت ہی سو پر پہنچا تھا
“میرے ماں باپ چاہے مجھے بونے سے بیاہیں یا عالم چنا سے… تم کون ہوتی ہو بکواس کرنے والی, خبردار جو آئیندہ میرے کچن میں نظر آئیں تو…جاؤ نیچے جا کر پکاؤ” روحاء نے اس کے چاولوں کا پتیلا بھی چولہے سے نیچے اتار دیا
نمرہ تن فن کرتی کچن سے باہر نکل گئی تھی, کچھ ہی دیر بعد وہ فرحت کو ساتھ لیے اوپر آ گئی
“دیکھیں ذرا… دونوں چیزیں نیچے اتار پھینکیں اس نے… بس اتنا ہی کہہ دیا تھا کہ عفان چاولوں کی ضد کر رہا ہے” وہ روۓ جا رہی تھی
“روحاء ایک طرف اسے بنا لینے دیتی چاول…. ” فرحت نے کہا
“پہلے اس سے پوچھیں کہ اس نے مجھے کہا کیا ہے ؟؟؟ روحاء تڑخ کر بولی
“میں نے تو کچھ نہیں کہا ” نمرہ صاف مکر گئی
“پکا تم نے کچھ کہا ؟؟؟” روحاء اس کی طرف کو آئی تھی
“نہیں… میں نے کچھ نہیں کہا” وہ ہٹ دھرمی سے بولی , روحاء نے ایک دم اس کا کسٹرڈ اٹھایا اور سنک میں الٹا دیا, نمرہ ہکا بکا رہ گئی
“یہ کیا کیا ؟؟؟” ہوش آنے پر وہ زور سے چیخی تھی
“میں نے تو کچھ نہیں کیا… ” روحاء صاف کندھے اچکا گئی تھی
“تم نے ہی کیا ہے… دیکھا آنٹی آپ نے ؟؟؟” نمرہ چیخ کر بولی
“میں نے کچھ نہیں کیا… سمجھیں”
نمرہ اسے زور زور سے کوسنے دیتی ہوئی چاولوں کا پتیلا اٹھا کر نیچے چلی گئی, فرحت نے تاسف سے اس کی طرف دیکھا
“میرے کردار پر انگلی اٹھائی ہے اس نے… ” روحاء نے درشت لحجے میں کہا تھا
……………………..
حسیب خان نے ولید کے گھر والوں کو ہاں کہہ دی تھی, اگلی بار اس کا پورا خاندان ہی مبرہ کو دیکھنے آیا… سواۓ ولید کے
“آپی ویسے ہائیٹ کتنی ہے آپ کی ؟؟؟” ولید کی چھوٹی بہن نے پوچھا
“5,3 almost… “
وہ بولی
“اچھا اچھا… ولید بھائی کی تو 5,11 ہے” وہ بولی, مبرہ بس مسکرا کر رہ گئی
“آپ کی جوائیننگ کہاں ہوئی ہے ؟؟؟” اگلا سوال
“ابھی کوئی پتہ نہیں… “
“ولید بھائی تو بڑے خوبصورتی پسند ہیں, ہر وقت تیار شیار رہنے والے لڑکیاں پسند ہیں انہیں, وہ خود بھی ہر وقت اٹینشن رہتے ہیں, رات کو پہننے والے کپڑے بھی استری کر کے پہنتے ہیں” وہ ہنستے ہوئے کہتی جا رہی تھی
“مبرہ.. کھانا وغیرہ تو بنانا آتا ہے نا تمہیں, اکثر نوکری والی لڑکیوں کو بس پکا پکایا کھانے کی ہی عادت ہوتی ہے” اس کی بڑی نند نے پوچھا
“مبرہ سب کچھ بنا لیتی ہے…” حنا نے ذرا زور سے کہا تھا
“لو, سالن کا تو مسئلہ ہی نہیں ہوتا, اصل کمال تو روٹی پکانے کا ہے” ولید کی ماں نے کہا
“آنٹی مجھے روٹی بنانی بھی آتی ہے” مبرہ نے کہا
الغرض پورے دو ڈھائی گھنٹے اس کا انٹرویو ہوتا رہا, مبرہ اور حنا نے مل کر بڑا پر تکلف سا کھانا بھی بنایا تھا, کھانے کے بعد چاۓ کا دور چلا, اور جاتے ہوئے وہ لوگ مبرہ کے ہاتھ پر پانچ ہزار رکھ گئے تھے
ان کے جانے کے بعد عابدہ تو عابدہ, حنا بھی پھٹ پڑی
“حد ہو گئی, وہ دونوں چھوٹی ہو کر ایسے مبرہ کا انٹرویو لے رہی تھیں جیسے پتہ نہیں کتنے عرصے کی شادی شدہ ہیں, مبرہ سوچ لے بچے, مجھے تو ایک آنکھ نہیں بھائیں وہ ساری عورتیں… سو نقص تو کھانے میں نکالے ہیں انہوں نے” حنا کو بہت دکھ تھا, وہ ہر قسم کا کھانا بنانے میں ایکسپرٹ تھی اور وہ سب اس کے پکے کھانے میں نقص نکال گئیں تھیں
“بھابھی کوئی بات نہیں… ساس, نندیں ایسی ہی ہوتی ہیں” وہ بولی
چند دن بعد وہ سب گھر والے ولید کے ہاتھ پر پیسے رکھ کر اس کی بات پکی کر آۓ
حسیب خان نے منگنی کا جھنجھٹ ہی نہیں پالا تھا, مبرہ کا جہیز تقریبا آدھا پونا تو پہلے سے ہی تیار تھا, ولید کے گھر والے بھی شادی پر زور دے رہے تھے, سو ایک ماہ بعد اس کی شادی فکس ہو گئی تھی
……………………..
رات کے دس بج رہے تھے جب وہ کمرے میں داخل ہوا, ابھی کچھ دیر پہلے ان دونوں کو کاشف مرزا نے بلایا تھا, نمرہ نے ساری بات مرچ مصالحہ لگا کر نعمان کو سنائی تھی اور جواباً کاشف مرزا کو اس کا فون موصول ہو گیا تھا
اچھا ہی رن پڑا, نمرہ نے رو رو کر آسمان سر پر اٹھا لیا, روحاء تو بس اس کے ڈرامے دیکھ دیکھ کر حیران تھی
“روحاء بیٹے بس ایک چاول ہی تو بنانے تھے نمرہ نے ؟؟؟” کاشف مرزا کا لحجہ اسے طیش دلا گیا
“انکل بات چاولوں کی نہیں ہے… اس نے میری ذات پر انگلی اٹھائی ہے, اس نے میرے منہ پر مجھے کہا کہ تمہارے ماں باپ نے ایسے ہی تو تمہیں مروان جیسے بونے سے نہیں بیاہ دیا… ” روحاء پھٹ پڑی
“انکل میں نے ایسا کچھ نہیں کہا, یہ جھوٹ بول رہی ہے, میں بھلا مروان کو ایسے کہہ سکتی ہوں, میں پانچ سال سے آپ لوگوں کے ساتھ رہ رہی ہوں… ” نمرہ صاف مکر گئی تھی
“اچھا… تو میں جھوٹ بول رہی ہوں ؟؟” روحاء اس پر چڑھ دوڑی, اس جیسی کھری لڑکی سے بھلا اس درجہ منافقت کہاں برداشت ہوتی تھی
“روحاء… آواز دھیمی رکھو” فرحت نے اسے ڈانٹا
“مروان آپ کچھ تو کہیں… ” روحاء کو شدت سے اپنا آپ بے مول محسوس ہوا تھا
“وہ کیا بولے… ؟؟؟ وہ کونسا وہاں موجود تھا” فرحت نے کہا
“انکل اس نے میری بہت بے عزتی کی ہے… سارا کسٹرڈ سنک میں الٹا دیا” نمرہ سوں سوں کرتے ہوئے بولی
“ڈرامے باز عورت… تم شکر کرو کے میں نے وہ کسٹڑد تمہارے سر پر نہیں الٹا دیا… آئیندہ اگر میرے کچن میں نظر آئیں تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا” روحاء کو قہر چڑھ گیا تھا, تن فن کرتی ہوئی وہ کمرے سے باہر نکل گئی
“مروان… اسے اپنی زبان میں سمجھا لے, وہ کچن اس کی جاگیر نہیں ہے” فرحت کو اچھا ہی غصہ آ گیا تھا, مروان بس شرمندہ سا نمرہ سے معذرت کرتا ہوا اپنے کمرے میں آ گیا تھا
روحاء کمبل تانے کروٹ لیے لیٹی تھی, وہ بس ایک نظر اسے دیکھ کر واش روم میں گھس گیا, کچھ دیر بعد باہر نکلا اور بستر کی طرف آ گیا, چاۓ کے دونوں کپ ٹھنڈے ہو گئے تھے, وہ خود ہی جا کر گرم کر لایا اور پھر اس کے برابر میں بیٹھتے ہوئے دھیرے سے اسے ہلایا
“روحاء… چاۓ تو پی لو” وہ خاموش پڑی رہی
“روحاء جان… ؟؟؟” اس نے بہت محبت سے پکارا تھا اور پھر اس کے بازو پر ہاتھ رکھا
وہ تڑپ کر سیدھی ہوئی تھی
“ان سب نے مل کر مجھے کٹہرے میں کھڑا کر دیا اور آپ ایک لفظ نہیں بولے مروان… ” وہ چیخ پڑی تھی, آنسو بے دریغ گالوں پر بہہ نکلے تھے
“روحاء میں نے تمہیں تو کچھ نہیں کہا… ” وہ بولا
“یہ ہی تو دکھ ہے مروان کے آپ نے کسی سے کچھ نہیں کہا… آپ کے ماں باپ کو نمرہ کی بات پر اعتبار تھا لیکن میری نہیں… ” وہ بولی
“اچھا سوری یار… ایم سوری” مروان نے اس کے آنسو صاف کرنے چاہے لیکن وہ پیچھے کو ہٹ گئی
“ہاتھ نا لگانا مجھے… خبردار جو مجھے چھواء بھی… افسوس ہے ایسے شوہر پر جو چار لوگوں میں بیوی کا ساتھ بھی نا دے سکے… آپ کم از کم اتنا ہی کہہ دیتے کہ روحاء کی بات بھی سن لیں” وہ روتے ہوئے کروٹ بدل گئی تھی
مروان بس خاموش بیٹھا رہ گیا
……………………..
“میں اب کل سے نہیں آؤں گی… سبھی کلاسز کو ٹیسٹ وغیرہ دے دیئے ہیں ” اس نے کتابیں میز پر رکھتے ہوئے سعد سے کہا, آفس میں بس وہ دونوں ہی تھے
“کب ہے آپ کی شادی ؟؟؟” اس نے پوچھا, مبرہ نے ویڈنگ کارڈ اس کے سامنے رکھ دیا, سعد بس اسے دیکھتا رہ گیا, دل چکنا چور تو کب کا ہو گیا تھا
“دوبارہ جوائن کریں گی ؟؟” اس نے پوچھا
“پتہ نہیں… ” مبرہ نے کندھے اچکا دیئے
“چلیں مجھے نا سہی… لیکن میرے سینٹر کو ہمیشہ آپ کی ضرورت رہے گی مبرہ” سعد نے کہا
“کوشش کروں گی واپس آنے کی… ” وہ کھڑی ہو گئی
“مبرہ…. زندگی میں جب کبھی ضرورت پڑے تو میں حاضر ہوں… ” سعد بھی اس کے ساتھ ہی کھڑا ہو گیا تھا
“چلیں آپ کو گیٹ تک چھوڑ آؤں ” وہ اس کے ساتھ ہی باہر نکل آیا تھا
“روحاء بتا رہی تھی آپ کے لئے کوئی رشتہ آیا ہے… ” مبرہ نے پوچھا
“ہاں… آیا تو ہے” وہ بولا
“سعد اب آپ بھی کر لیں شادی… ” وہ نہ جانے کیوں کہہ گئی
“ہاں اب کر لوں گا…. ” وہ ذو معنی سے لحجے میں بولا تھا, مبرہ نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا
وہ بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا
“سعد آپ کے مقدر میں کوئی مجھ سے بہتر ہی لکھی ہو گی…. میں شاید آپ کے قابل ہی نہیں تھی, اگر ممکن ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا” دھیرے سے کہتے ہوئے وہ دروازہ پار کر گئی تھی
……………………….
وہ ولید احمد کے سنگ رخصت ہو گئی تھی
حسیب خان اسے اپنے سینے سے لگا کر گاڑی تک لیکر آۓ تھے, روحاء اور کوکب بھی اس کی شادی میں آئی تھیں, وہ آنسوؤں کے بیچ رخصت ہو کر ولید احمد کے گھر آ گئی تھی
جیسے ہی گاڑی گاؤں کے اس بنگلہ نما گھر کے آگے رکی, آس پڑوس کی عورتیں اپنی دیواروں اور دروازوں سے جھانکنے لگیں, خباب اور حنا اس کے ساتھ آئے تھے, حنا نے ہی سہارا دے کر اسے گاڑی سے باہر نکالا, ولید کی بہنوں اور کزنز نے اس پر پھول نچھاور کئے تھے
“لے ویکھ تے ذرا… کنے نکے قد دی نو ویاہ کے لیائی اے شمیم (دیکھو تو کتنے چھوٹے قد کی بہو بیاہ کر لائی ہے شمیم)” اندر داخل ہوتے ہی یہ ولید کی کسی رشتے دار عورت کی آواز تھی جو حنا کے کانوں میں بھی پڑی تھی
“افوہ… لہنگا کتنا سستا سا لیا ہے, ویسے تو سنا تھا اپنا کماتی ہے” دوسری آواز
“کماؤ بہو بیاہ کر لائی ہے شمیم… ہاں بھئی اب پورا ٹبر ایک اکیلے ولید کی کمائی پر تو نہیں پل سکتا نا… ” بھانت بھانت کی آوازیں مسلسل اس کے کانوں میں پڑ رہی تھیں, حنا اور خباب دو گھنٹے بعد چلے گئے تھے
وقفے وقفے سے ولید کی سبھی رشتے دار خواتین اس کے پاس آ کر بیٹھتی رہیں
پھر دیور اور سسر آ کر بیٹھ گئے… دنیا جہاں کی بے سروپا باتیں, وہ بس جبری سا مسکراتی رہی, بیٹھے بیٹھے کمر اکڑ گئی تھی, خد اخدا کر کے وہ باہر نکلے, پھر ولید کے ساتھ ہی اس کی اکلوتی پھپھو جان اندر آ گئیں… لمبے لمبے دور پار کے قصے
اسے سچ میں چکر آنے لگے تھے
“ارم… مجھے پلیز ایک کپ چاۓ لا دو, میرا سر چکرانے لگا ہے” اسکی بس ہو گئی تھی, آدھے پونے گھنٹے بعد تو چاۓ آئی
رات کے بارہ بج رہے تھے جب کمرہ خالی ہوا, ولید دروازہ بند کرنے لگا تو وہ کہے بنا رہ نہ سکی
“رک جائیں ابھی… اور کوئی رہ نہ گیا ہو ” ولید دھیمے سے مسکرایا تھا
“امی دروازہ بند کر لوں ؟؟؟” اس نے باآواز بلند پوچھا تھا, مبرہ بس اس کی جرأت پر حیرانی سے اسے دیکھتی رہ گئی, اس کی پریشان شکل دیکھتے ہوئے ولید نے دروازہ بند کیا تھا, پھر شیروانی اتارتے ہوئے اس کے پاس آ بیٹھا
“شیروانی کیوں اتاری… ؟؟ میں نے تو ٹھیک سے دیکھا بھی نہیں تھا ابھی ” وہ مسکراتے ہوئے بولی تھی
“اب تو ساری عمر کے لئے تمہارا ہوں… ساری عمر دیکھتی رہنا” وہ مسکراتے ہوئے اس کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا تھا
“ویسے یہ میک اپ بھی کمال کی چیز ہے… شکل و صورت ہی بدل دیتا ہے… دور سے دیکھ کر تو پہچانی ہی نہیں جا رہی تھیں تم ” وہ بولا, مبرہ کو نہ جانے کیوں یہ اس کا طنز لگا
“اچھی نہیں لگ رہی میں ؟؟؟” اس نے پوچھا
“کچھ اوور سی لگ رہی ہو… جاؤ چینج کر لو, اور منہ ذرا رگڑ کر دھونا…پلیز” وہ اسے ایک آنکھ سے اشارہ کرتے ہوئے بولا تھا
اس کے کہے الفاظ اور تھپڑ میں بھلا کوئی فرق رہ گیا تھا… ؟؟؟
……………………….
اس دن وہ کپڑے دھونے لگی تھی, لانڈری نیچے تھی لیکن جب وہ میلے کپڑوں کی ٹوکری لیکر نیچے پہنچی تو زویا نے اسے کورا جواب دے دیا
“واشنگ مشین خراب ہو گئی ہے… اوپر ہی دھو لو, یا اپنی نکال لو” وہ بولی
“ابھی کل تو آپ نے کپڑے دھوۓ ہیں… تب تو ٹھیک تھی” روحاء نے کہا
“میں کوئی جھوٹ بول رہی ہوں کہ خراب ہو گئی ہے” زویا نے اسے تیور دکھاۓ تھے, وہ منہ بنا کر اوپر آ گئی, اس کی اپنی واشنگ مشین اوپر سٹور روم میں پڑی تھی
اس نے نمرہ کی واشنگ مشین کھینچ کر اس میں پانی ڈالا اور ابھی کپڑے ڈالنے ہی لگی تھی کہ وہ باہر نکل آئی
“وہ کچن بھلے ہی میرے جہیز کا نا سہی… لیکن یہ مشین میرے جہیز کی ہی ہے, خبردار جو اسے ہاتھ لگایا تو… ” اس نے پائپ نکال کر سارا پانی بہا دیا
“جہاں مرضی جا کر دھوؤ… ” وہ بولی, روحاء کو یکدم غصہ چڑھا تھا, وہ بڑی مشکلوں سے اوپر سٹور سے اپنی واشنگ مشین اتار کر نیچے لائی اور عین صحن کے وسط میں لگا لی, کچھ ہی دیر بعد پانی سیڑھیوں کی طرف جانے لگا
“یہ پانی کہاں سے آ رہا ہے ؟؟؟” نیچے سے زویا کی چنگھاڑ آئی تھی
“نمرہ… نمرہ… ” وہ بوکھلا کر باہر نکلی, روحاء عین صحن کے وسط میں پائپ لگا کر کپڑے دھو رہی تھی, پانی بھل بھل کر کے سیڑھیاں اتر رہا تھا
“روحاء یہ کیا بدتمیزی ہے ؟؟؟” نیچے ٹی وی لاؤنج پانی سے بھیگتا چلا گیا
“تو بتائیں کیا کروں ؟؟؟ گلی میں جا کر لگا لو مشین ؟؟؟ نیچے آپ نے نہیں دھونے دیئے, اوپر نمرہ کو تکلیف ہے… کہاں جاؤں ؟؟؟” میں تو یہیں دھوؤں گی” وہ اپنے کام میں لگی رہی
زویا نے اسے کوسنے دے دے کر ٹی وی لاؤنج سے پانی نکالا, نعمان اور فرحان دونوں چھٹی پر گھر آۓ ہوۓ تھے, دونوں نے شوہروں کے خوب ہی کان بھرے, ایک بار پھر کاشف مرزا تک بات پہنچی
ایک بار پھر روحاء کو بلا لیا گیا
“مجھے بس اتنا بتا دیں کہ میں کپڑے کہاں دھویا کروں ؟؟؟” وہ ایک بار پھر اکیلی تھی, مروان ابھی تک نہیں آیا تھا, زویا اور نمرہ دو بدو ہو کر بول رہی تھیں
وہ خاموشی سے پلٹ گئی
کمرے میں آ کر اپنا بیگ باندھا اور نیچے گیٹ تک لے آئی, مروان کی بائیک جیسے ہی گیٹ پر آ کر رکی, اسی وقت بیگ لیکر باہر نکل گئی
“روحاء… کیا ہوا ؟؟؟” وہ بوکھلا ہی تو گیا تھا
“مجھے امی کی طرف جانا ہے…. بس” روحاء کی آنکھیں قہر ڈھا رہی تھیں
……………………….
وہ اپنے کمرے میں تھی جب اس نے باہر سے شور کی آواز سنی, پہلے پہل تو وہ نظر انداز کرتی رہی لیکن جب شور کے ساتھ گالم گلوچ بھی سنائی دینے لگی تو بوکھلا کر کمرے سے باہر نکل آئی, صحن میں ایک گھمسان کا رن پڑا ہوا تھا
ولید اور اس کے دونوں چھوٹے بھائی جانے کن لوگوں کے ساتھ گتھم گتھا ہوئے پڑے تھے, ولید کے ماں باپ اور محلے کے کچھ افراد انہیں چھڑوانے کی ناکام کوشش کر رہے تھے, ان سب کے منہ سے مغلظات کا ایک طوفان نکل رہا تھا
“آنٹی کیا ہوا ہے ؟؟؟” اس نے پریشانی سے اپنی ساس سے پوچھا
“مبرہ پتر ادھر آ میری بات سن..” شمیم اسے کھینچتی ہوئی اس کے کمرے میں لے گئی
“پتر تیرے پاس جو سلامیوں کے پیسے ہیں نا… وہ تو دے میرا پتر…” شمیم نے کہا
“لیکن آنٹی ہوا کیا ہے..؟؟؟” اس نے پھر پوچھا
” تو ایک دفعہ پیسے تو دے پھر میں بتاتی ہوں تجھے کیا ہوا ہے…؟؟؟” شمیم اس کے سر پر سوار تھی, مبرہ نے مجبوراً سلامیوں کے سارے پیسے نکال کر شمیم کے ہاتھ پر رکھ دیے, وہ بھاگتی ہوئی اس کے کمرے سے باہر نکل گئی
مبرہ بھی اس کے پیچھے ہی باہر آئی تھی
“بھابھی باہر نہ جانا… ولید بھائی نے منع کیا ہے” ارم نے اس کا بازو پکڑ لیا, کچھ دیر بعد ماحول پرسکون ہو گیا تھا
تبھی ولید غصے میں بھرا ہوا کمرے میں آیا
“ولید کیا ہوا ؟؟؟ کون لوگ تھے یہ…؟؟؟” اس کا جیسے پوچھنا ہی گناہ ہو گیا تھا
“میری ایک بات کان کھول کر سن لو تم… آئندہ بھلے ہی اس گھر کے صحن میں خون کی ندیاں بہہ جائیں, تمہاری شکل مجھے دروازے سے باہر نظر نہ آۓ… سمجھیں” ولید نے بے دردی سے اس کا بازو جھنجوڑتے ہوئے کہا تھا, مبرہ کی دونوں آنکھیں بھرتی چلی گئیں, ولید اسے قہر بار نظروں سے گھورتے ہوئے واش روم میں گھس گیا تھا
رات تک وہ نارمل نہ ہو سکی, اسے بھلا کہاں عادت تھی اتنا کٹھور لحجہ سننے کی…. حالانکہ ان چاروں بہن بھائیوں میں شعیب سب سے زیادہ غصے والا تھا لیکن مبرہ سے اس نے بھی کبھی اتنے غصے سے بات نہیں کی تھی
وقفے وقفے سے اسے رونا آتا رہا, اس کی شادی کو ابھی دو ہی ہفتے ہوئے تھے, رات کے کھانے کے بعد وہ چائے لے کر کمرے میں آ گئی, ولید بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے اپنا موبائل دیکھنے میں مصروف تھا
مبرہ نے خاموشی سے چائے کا کپ اس کے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا اور خود اپنی طرف بستر پر بیٹھ کر چائے پینے لگی, کچھ دیر بعد اس نے خالی کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھا او چپ چاپ کروٹ لے کر لیٹ گئی, ولید نے اس کی خاموشی کا کوئی نوٹس نہیں لیا تھا, کچھ دیر بعد وہ اپنے موبائل پر کوئی مووی دیکھنے لگا, وہ دھیرے دھیرے نیند کی وادیوں میں اتر گئی
رات کا نہ جانے کون سا پہر تھا جب وہ موبائل چارجنگ پر لگا کر اس کی طرف مڑا, اپنے چہرے پر اس کی گرم گرم سانسوں کا لمس محسوس کر کے مبرہ ذرا سی کسمسائی تھی
” یہ تو کوئی طریقہ نہ ہوا مبرہ ولید احمد.. . شادی کے محض دو ہفتے بعد ہی تم کروٹ بدل کر سونے لگی ہو” ولید نے اس کے کانوں میں سرگوشی کی تھی
“مجھے نیند آ رہی تھی…” وہ بولی تو آواز میں نیند کا غلبہ تھا
“چلو اب تو نیند پوری ہوگئی نہ تمہاری…” ولید نے اسے اپنے دونوں بازوؤں میں بھر لیا تھا
“ولید… چھوڑ دیں مجھے” وہ کسمسا کر بولی
“کیا ہوا ہے ؟؟؟” ولید نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھ کر ناگواری سے پوچھا
“آپ مجھے تحمل سے بھی سمجھا سکتے تھے… ” اس کی آنکھیں پھر بھر آئیں
“اوہ… تو تم ناراض ہو ؟؟” وہ طنزیہ سا ہنسا
“You insulted me… Humilated me, teased me”
مبرہ کے کہتے ہی ولید کی تیوری چڑھ گئی تھی
“تو اب کیا کروں…. ؟؟؟ معافی مانگوں تم سے ؟؟؟” اسے غصہ آ گیا
“ولید پلیز… جانے دیں” اس نے پھر کروٹ بدلنی چاہی مگر ولید نے جارحانہ انداز سے اسے اپنی طرف موڑا
“دوبارہ کروٹ نا لینا… سمجھیں” ولید نے مضبوطی سے اس کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنساتے ہوۓ اسے بے بس کیا تھا
“Waleed… I am not consented”
مبرہ نے سرگوشی میں کہا تھا, اسے ولید سے یکدم خوف سا آیا
“But I am… and it is enough”
اس نے لمحوں میں اس کے گلے سے دوپٹہ کھینچتے ہوۓ لائیٹ آف کی تھی
“ولید… ” یہ مبرہ خان کی اس سے آخری التجا تھی, جواباً وہ حیوانی سا مسکراتے ہوئے اس کے چہرے پر جھک گیا تھا
……………………
جاری ہے