Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

“کیسا رہا آپ کا رزلٹ روحاء ؟؟” وہ آج کافی دنوں بعد اکیڈمی آئی تھی, مروان نے اسے آفس میں ہی بلا لیا تھا
“جیسا ہمیشہ ہوتا ہے” وہ پھیکا سا مسکرا دی
“کیا مطلب ؟؟؟”
“مطلب میری بیسٹ فرینڈ نے اس بار بھی ٹاپ کر لیا ہے” وہ بولی
“یعنی وہ آپ سے زیادہ ذہین ہے ؟؟؟” مروان کو لگا شاید اسے حسد آ جاۓ لیکن روحاء مغل میں اگر کچھ نہیں تھا… تو وہ شاید حسد ہی تھا
“سر وہ شروع سے بہت ذہین ہے… She is a topper always” وہ بولی, مروان بس سر ہلاتا رہا
کچھ دیر بعد وہ فارغ ہو گئی تھی, تبھی اس کے آفس کا دروازہ کھلا
“ارے ولید…. آ جا یار” وہ بڑی گرمجوشی سے اس سے ملا, روحاء نے اسے پہچان لیا تھا
“ٹھیک ہے روحاء… آپ جائیں ” مروان کے کہتے ہی وہ باہر نکل آئی لیکن دل میں کھد کھد شروع ہو گئی تھی کہ وہ آخر تھا کون…. ؟؟؟
دس منٹ بعد اس نے اسے مروان کے آفس سے نکلتے دیکھا, اس کے نکلتے ہی وہ دوبارہ اس کے آفس کی طرف چلی گئی
“سر یہ کون تھے… ؟؟؟”
“روحاء یہ ولید احمد ہے… میرا دوست, کل سے یہ انگلش کے لئے آیا کرے گا… فی الحال یہ ڈسٹرکٹ بوائز کالج میں ہوتا ہے” وہ بولا, وہ بس سر ہلاتی چلی گئی تھی
اتفاقاً اگلی صبح ہی وہ ان سے اگلی سیٹ پر بیٹھا تھا, روحاء تو اسے دیکھتے ہی مبرہ کے کان میں گھس گئی, الف سے لیکر ے تک اس نے سارا بائیو ڈیٹا مبرہ کو بتا دیا تھا
………………………..
مروان کی لیکچرشپ سلیکشن ہو گئی تھی, سعد سلیکٹ نہیں ہو سکا تھا, کاشف مرزا بے پناہ خوش تھے, مروان کی جانب سے یہ پہلی خوشی تھی جو انہیں ملی تھی
وہ خود مٹھائی کا ڈبہ لیکر حسیب خان کے گھر آۓ
“بہت بہت مبارک ہو کاشف… ” حسیب خاں بھی سن کر بہت خوش ہوئے
“اب اس مٹھائی کے ساتھ چاۓ بنوا لے حسیب… ” انہوں نے کہا, کچھ ہی دیر میں مبرہ چاۓ لے آئی
“مبارک ہو آپ کو انکل… ” وہ بولی
“شکریہ میرا بیٹا…. ” کاشف مرزا نے کھڑے ہو کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا
کافی دیر تک وہ دونوں خوش گپیوں میں مصروف رہے
“انکل ابھی جانا نہیں ہے… میں کھانا لگانے لگی ہوں” مبرہ چاۓ کے برتن اٹھانے آئی تھی
“نہیں بیٹا… جب تمہارے بی ایس کی مبارک دینے آؤں گا تب کھانا کھا کر جاؤں گا, ابھی نہیں” کاشف مرزا نے کہا
مبرہ کو دیکھ کر ایک بار پھر انہوں نے حسیب خان کو آنکھوں سے اشارہ کر دیا تھا
رات کو سونے لیٹے تو انہوں نے اپنی خواہش کا اظہار فرحت بیگم سے بھی کر دیا
“میں تو کہتی ہوں ایک بار مروان سے پوچھ لیں… ” وہ بولیں
“ہاں پوچھ لوں گا… وقت آنے پر, اور بھلا مروان کو کیا اعتراض ہو گا…؟؟؟ اگر اس نے کسی کو پسند کرنا ہوتا تو یونیورسٹی میں دو سال گزار کر آیا ہے, تبھی کر لیتا” وہ بولے
“پھر بھی مرزا صاحب… لڑکا ہے وہ, سو پسند نا پسند ہوتی ہے” فرحت نے کہا تھا
“ہاں میں بات کروں گا مروان سے, ذرا مبرہ کا بی ایس ہو جاۓ” وہ بالکل مطمئن تھے
…………………………
اب تو جیسے معمول بن گیا تھا, تقریباً ہر دوسرے, تیسرے دن ہی وہ نظر آ جاتا, کبھی کالج جاتے ہوئے, کبھی کالج سے واپس آتے ہوئے, کبھی بوائز کالج میں… روحاء کی زبانی اسے یہ بھی پتہ چل گیا تھا کہ وہ مروان مرزا کی اکیڈمی میں پڑھاتا تھا
رفتہ رفتہ ایک عجیب سی صورتحال بن گئی, مبرہ کو اس کی عادت سی ہونے لگی, وہ جانے انجانے میں روز ہی اس کا انتظار کرنے لگی, کالج آتے جاتے بس اس کی نظریں متلاشی سی ہوئی رہتیں تھیں
اور جس دن وہ نظر آ جاتا, اس دن وہ ضرورت سے زیادہ ہی کھل جاتی تھی, ایویں مسکراۓ جاتی, بات بات پر ہنس پڑتی, اور اگر اسے دیکھے بنا دو, چار دن گزر جاتے… تو روم روم میں اداسی سی گھلنے لگتی تھی
وہ کہ جس نے کبھی ڈائری نہیں لکھی تھی, رومینٹک فلمیں نہیں دیکھی تھیں, ڈائجسٹ نہیں پڑھے تھے… وہ خشک سی لڑکی دھیرے دھیرے رنگین ہونے لگی تھی, اب وہ اپنے سفید یونیفارم پر ضرورت سے زیادہ توجہ دینے لگی تھی, ہر روز کالج سے آ کر دھوتی, پھر پورا آدھا گھنٹہ لگا کر استری کرتی, روز جوتے پالش کرتی, روحاء سے اس نے بڑا سٹائلش سا سکارف بھی باندھنا سیکھ لیا تھا, سکارف کے ساتھ دوپٹہ اوڑھ لیتی
جس دن وہ نظر آ جاتا, اس دن کی ساری روداد ڈائری پر لکھتی, سفید صفحوں پر بس اس کا نام ہی لکھے جاتی, اس کے نام سے پیارا تو اب کوئی نام ہی نہیں تھا, اس کی صورت سے بڑھ کر تو اب کوئی حسین ہی نہیں تھا, اسے اس کے کپڑوں کے رنگ زبانی یاد ہو گئے تھے
سکائی بلو شرٹ… نیوی بلو پینٹ
وائیٹ شرٹ… بلیک پینٹ
کریم شرٹ…. گرے شرٹ
اور نہ جانے کیا کچھ… اس کے کف لنکس کے ڈیزائن, اس کے جوتوں کا رنگ, اس کا بولنا, ہنسنا, مسکرانا, بات کرنا
بس دن رات یہ ہی ذہن میں گردش کرنے لگا تھا, نوٹس کھولتی تو سب سے پہلے اسی کی تصویر نظر آنے لگتی تھی
اور روحاء… اس کی آٹھ سالوں کی سنگی ساتھی, اسے بھلا کیسے نا پتہ چلتا… ؟؟؟
وہ تاڑ گئی تھی کہ مبرہ کے ساتھ کوئی تو مسئلہ چل رہا تھا, کبھی ضرورت سے زیادہ ہی باتیں کرنے لگتی, کبھی بالکل ہی اوں آں میں جواب دیئے جاتی
“تجھے ہو کیا گیا ہے ؟؟؟” وہ اس سے پوچھ پوچھ کر تھک گئی تھی
اس دن بھی دو کلاسز کے بعد ان کی تیسری کلاس فری تھی, وہ دونوں طاہر گوہر کو اپنی پراگریس چیک کروانے چلی گئیں, وہاں پہنچتے ہی مبرہ کی نظریں کھوجیوں کی طرح ولید کو ڈھونڈنے لگی تھیں, ساری ڈسکشن روحاء نے ہی کی, وہ تو بس ان کے آفس کے بند شیشوں سے باہر دیکھتی رہی
“مبرہ… یار یہاں قریب ہی میں ایک سائکیٹرس کا بورڈ دیکھا تھا میں نے… اب ہم نے وہاں جانا ہے” روحاء نے کہا
“اچھا… ” وہ غائب دماغی سے بولی تھی, روحاء نے یکلخت اسے بازو سے پکڑا
“مبرہ… بھلا میں نے ابھی کیا کہا ہے ؟؟؟” اس بے پوچھا, مبرہ بس پھٹی پھٹی آنکھوں سے سے دیکھے گئی, اسے نہیں پتہ تھا کہ روحاء پچھلے کئی منٹ سے اسے کیا کچھ کہہ رہی تھی
“مبرہ… میری جان کیا ہوا ہے ؟؟؟” روحاء کے کہتے ہی اس کی آنکھیں بھر آئیں
“مبرہ….. ” وہ دم بخود رہ گئی
“روحاء.. میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے… سر میں درد ہے” وہ بولی
“چل گھر چلیں… ” حالانکہ ابھی ایک کلاس رہتی تھی لیکن روحاء خاموشی سے اس کے ساتھ سٹاپ تک آ گئی
“مبرہ… یار کوئی ایشو ہے تو ڈسکس کر لے, ہم آٹھ سالوں سے دوست ہیں یار.. ” وہ راستے میں بھی اس سے پوچھتی آئی, لیکن مبرہ بس اسے ٹال گئی
گھر آتے ہی وہ اپنے کمرے میں بند ہو گئی تھی, دل خوامخواہ ہی بھر بھر کر آ رہا تھا, سینے پر بھی عجیب سا کھچاؤ محسوس ہو رہا تھا, رات تک ٹینشن سے اس کے اچھے خاصے مسلز کھنچ گئے
“مبرہ بیٹے کیا ہوا ؟؟” عابدہ بیگم اسے کھانے کا کہنے آئیں تو وہ تکئے میں منہ دیئے رو رہی تھی
“امی… میرا سارا جسم دکھ رہا ہے” وہ بولی, عابدہ نے اسی وقت اسے اس کے چھوٹے بھائی کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس بھیج دیا
سبھی گھروالوں نے اس کی طبیعت خرابی کو سفر اور پڑھائی کی وجہ ہی سمجھا… ظاہر ہے وہ دھان پان سی لڑکی اپنے اعصابوں کو کتنا مضبوط رکھتی ؟؟؟
اگلے دن اس نے چھٹی کر لی, روحاء کی کئی بار کال آئی لیکن بس اس نے طبیعت خراب کا ایک میسیج کر دیا
دل بڑا اداس اداس سا تھا
وہ رات بھی جیسے تیسے گزر گئی
شائد آپ سب کو لگے کہ یہ ایک فینٹیسی ہے… کسی کو دیکھ کر اس پر دل آ جانا… لیکن یہ ایک ایسا نقطہ ہے جہاں سے کبھی نا ختم ہونے والی کہانیوں کا ایک سلسلہ شروع ہوتا ہے, اس نقطے سے معاشرے کا اسی فیصد بگاڑ شروع ہوتا ہے, اس نقطے سے ہمارے معاشرے کی لڑکیاں کئی حصوں میں بٹ جاتی ہیں
یہ وہ نقطہ ہے جسے سو کالڈ محبت کا نام دیا جاتا ہے… دل لگی, ٹائم پاس, کرش… کچھ بھی
کبھی کبھار یہ ایک بار ہوتا ہے, کبھی دو بار… اور کبھی بار بار
یہ وہ نقطہ ہے جو تقریباً ننانوے فیصد لڑکے لڑکیوں کی زندگی میں آتا ہے… چاہے جس بھی موڑ پر آۓ, چاہے جس بھی عمر میں آۓ, چاہے جس بھی نہج پر آۓ
شدت سے آۓ, یا ہلکا پھلکا آۓ, تھوڑے عرصے کے لئے آۓ, یا لمبے عرصے کے لئے آۓ
سادہ الفاظ میں ہم اسے دل کا ایک عارضہ کہہ سکتے ہیں… اور یہ عارضہ پندرہ سے چالیس سال کی عمر کے درمیان کبھی بھی لاحق ہو سکتا ہے, علامات صاف ظاہر ہیں… ہر پل اداسی, مایوسی, غائب دماغی, چڑچڑا پن, تنہائی پسندی, ٹینشن, ڈپریشن
اور علاج… صرف ایک… دیدار یار
یہ وہ نقطہ ہے جہاں کچھ تو سنبھل جاتے ہیں, اور کچھ بہک جاتے ہیں, لا تعداد نوجوان لڑکیاں اس جذبے کی خاطر تباہ ہو جاتی ہیں, گھر سے بھاگ جاتی ہیں, کورٹ میرج کر لیتی ہیں, خود کشی کر لیتی ہیں اور بہت کم بامراد ہو پاتی ہیں
لیکن جو بھی کہیں… محبت نام کا یہ جذبہ چاہے چھوٹا ہو یا بڑا, سطحی ہو یا گہرا, سچا ہو یا جھوٹا, لڑکی کا ہو یا لڑکے کا… یہ دنیا کا خوبصورت ترین جذبہ ہے
……………………..
“مبرہ… یار کیا ہوا ہے تجھے ؟؟؟” روحاء نے اسے گھیر ہی لیا تھا, آج بھی وہ چپ چپ سی تھی, کلاسز سے فری ہو کر وہ دونوں باہر گراؤنڈ میں آ گئیں
“کچھ نہیں یار… ” وہ اسے کیا بتاتی
“ادھر دیکھ… بتا مجھے” روحاء نے اسے اپنی طرف موڑا, ایک بار پھر مبرہ کی آنکھیں پانیوں سے بھر گئیں
“مجھے… وہ… اچھا لگتا ہے روحاء… مجھے اسے دیکھنا اچھا لگتا ہے” مبرہ نے اٹک اٹک کر کہا تھا
“کون… ؟؟؟” وہ حیرانی کی ساتویں منزل پر تھی
“وہ جو مروان مرزا کی اکیڈمی میں پڑھاتا ہے… انگلش والا, ولید…” اس کے کہتے ہی روحاء نے زور سے اپنے منہ پر ہاتھ رکھا تھا, بے یقین نظروں سے وہ مبرہ کو دیکھتی رہ گئی
“ہر وقت بس اسی کا خیال آۓ جاتا ہے, اسی کی تصویر ذہن میں ابھرتی رہتی ہے, میری آنکھیں بس ہر وقت اسی کو تلاشتی رہتی ہیں… روحاء یار آج چوتھا دن ہے اسے دیکھے, میرا کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے” وہ رو ہی پڑی
“مبرہ…. ” وہ بس اسے تکے جا رہی تھی
“میں کیا کروں ؟؟؟” وہ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا کے رو پڑی, روحاء بس خاموش سی بیٹھی تھی
کیا کہتی ؟؟؟ کیا اس کا کہا کوئی بھی لفظ اس کے سامنے بیٹھی اس پاگل لڑکی کے آنسوؤں کا مداوا کر سکتا تھا ؟؟؟
………………………
تقریباً شام پانج بجے کا وقت تھا, مروان اپنی آخری کلاس لیکر نکلا تھا, سورج بس غروب ہونے کے دہانے پر تھا, لیکچرشپ ملنے کی وجہ سے اس نے اکیڈمی شام میں کر لی تھی, وہ تیزی سے چلتا ہوا اپنے آفس کی طرف آیا اور دروازے میں ہی رک گیا
نظر کچھ دور کھڑی روحاء مغل پر جا پڑی, وہ کسی سے باتوں میں مشغول تھی, مروان نے چھ ماہ میں آج پہلی بار اسے نظر بھر کر دیکھا تھا… چوری چھپے تو ہزاروں بار دیکھ چکا تھا
وہ جامنی رنگ کا بڑا سٹائلش سا سوٹ پہنے ہوئے تھی, چہرہ بنا کسی میک اپ کے بھی بہت حسین لگ رہا تھا, حسب عادت سکارف سر سے لپیٹا ہوا تھا, سپید پیر سنیکرز میں مقید تھے, وہ کسی بات پر مسکرا رہی تھی
مروان بس دیکھتا چلا گیا
وہ بائیس سالہ شہزادی کسی بھی لڑکے کا خواب ہو سکتی تھی
She is a perfect dream
اور مروان کی آنکھوں نے وہ خواب اسی لمحے چن لیا
حالانکہ وہ جانتا تھا کہ وہ ستارہ اس کی پہنچ سے بہت دور تھا… پھر بھی دونوں آنکھوں سے اس ستارے کو تکتا چلا گیا
اسے اپنی خامیوں کا بہت اچھی طرح اندازہ تھا, وہ کسی بھی لڑکی کی فرسٹ چوائس تو کبھی نہیں ہو سکتا تھا, اور اسے یقیناً اپنی ان خامیوں پر کسی خوبصورتی کا ملمع کرنا تھا… وقت بہت کم تھا
شہزادی کے دعویدار تو ہزاروں کی تعداد میں تھے… اسے فاتح بننا تھا
اسے ایک عام سا سپاہی ہونے کے باوجود اس شہزادی کو اپنے پہلو میں کھڑے کرنا تھا
………………………
وہ آج واپسی پر پھر نہیں آیا تھا… مبرہ بس ادھر ادھر ہی دیکھتی رہی
“مبرہ… یار ایک آئیڈیا ہے میرے پاس… ” روحاء کو اس کی کپکپاتی ہوئی انگلیاں دیکھ کر اس پر ترس آنے لگا
“وہ روز اکیڈمی آتا ہے… وہاں دیکھ لے اسے” وہ بولی
“ابو سے کیا کہوں کہ اکیڈمی کیوں جانا ہے ؟؟؟” مبرہ بمشکل اپنے آنسو روکے ہوئے تھی
“کہہ دیں کہ کوئی ٹاپک ڈسکس کرنا ہے” وہ بولی, مبرہ بس چپ سی کر گئی
لیکن اگلی صبح تک وہ روحاء کے مشورے پر عمل درآمد کے لئے بالکل تیار تھی, پراجیکٹ رپورٹ چل رہی تھی سو کالج روزانہ نہیں جایا جاتا تھا, عابدہ بیگم کو بتا کر وہ چھوٹے بھائی کے ساتھ اکیڈمی چلی آئی
“آدھے گھنٹے بعد لے جانا ” وہ بائیک سے اتر کر اندر آ گئی, روحاء اسے ایک کلاس میں مل گئی
“ادھر آ میرے ساتھ… ” وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر ایک طرف بنے گراؤنڈ کے پاس آ گئی
“وہ سامنے کلاس لے رہا ہے… یہاں سے گزرے گا” روحاء نے کہا, مبرہ کے گال تمتمانے لگے تھے
“روحاء میری ٹانگوں سے جان نکل رہی ہے… ” وہ ڈر بھی رہی تھی
“ہمت کر اب… جب اوکھلی میں دیا سر تو موسلوں سے کیا ڈر ؟؟” روحاء نے کہا
“وہ آ گیا… ” روحاء نے ایک دم کہا, مبرہ نے فوراً اس کی طرف دیکھا
گرے پینٹ کے ساتھ گرے شرٹ پہنے, آستینیں کہنیوں تک موڑے, ہاتھ میں مارکر پکڑے وہ کلاس سے نکلا تھا, دو, تین سٹوڈنٹس اس کے پیچھے باہر آئی تھیں, وہ ان سے باتوں میں مصروف ہو گیا
مبرہ بس دیکھے جا رہی تھی… نان سٹاپ
کچھ دیر بعد وہ ان کی طرف آنے لگا
“روحاء… اسے بلانا مت یار… ” مبرہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا لیکن… روحاء ٹھان چکی تھی
“ہیلو جی… ” وہ جیسے ہی پاس سے گزرا, اسے پکار لیا
“ہیلو… ” وہ مسکراتے ہوئے رک گیا
“کیسے ہیں آپ ولید صاحب ؟؟؟”
“فائن… آپ سنائیں مس… ” وہ بولا
“کیا بات ہے کالج چھوڑ دیا ہے کیا ؟؟؟” روحاء نے پوچھا
“نہیں بس ذرا مصروفیت تھی اس لئے نہیں جا سکا… ” وہ بولا
“اوۓ ہوۓ… کہیں آپ کی منگنی ونگنی تو نہیں تھی… ” اف توبہ… روحاء کی زبان
“نہیں نہیں… میری سسٹر کی شادی تھی” وہ کھل کے مسکرایا تھا, مبرہ بس خاموش سی اس کے ساتھ کھڑی تھی
“اوہ اچھا… گڈ ہو گیا” روحاء نے کہا
“چل روحاء… ” مبرہ اس کے کان میں گھسی تھی
“لگتا ہے آپ کی سہیلی بڑی کم گو ہے… ” وہ مبرہ پر چوٹ کر گیا
“ہاں جی یہ اجنبیوں سے زیادہ فری نہیں ہوتی… ” روحاء نے کہا, مبرہ نے اسے ٹہوکا مارا تھا
“اوکے گرلز… گڈ باۓ” وہ مسکراتے ہوئے بولا
“اوکے سر… کل ملتے ہیں” روحاء باز نہیں آئی تھی
……………………..
سعد کے لئے ایک رشتہ آیا تھا, ساجد اور کوکب کو انتہائی معقول لگا, لڑکی بھی دیکھنے میں اچھی خاصی تھی لیکن سعد نے کوکب کی بات بھی پوری نہ ہونے دی…
فٹ انکار
“وجہ تو ہو کوئی ؟؟؟” وہ بولیں
“میرے پاس فی الحال کوئی مستقل نوکری نہیں ہے” وہ بولا
“سعد… ایک سال ہو چلا ہے تجھے کوچنگ سینٹر بناۓ, دو سو سے زیادہ بچے پڑھتے ہیں وہاں, ابھی بھی تجھے مستقل جاب کی کوئی ضرورت ہے ؟؟” ساجد مغل نے کہا
“ابو پلیز… ابھی نہیں, بالکل نہیں” وہ بولا
“سعد پچیس سال کا ہو گیا ہے تو, بیٹے یہ ہی تو عمر ہوتی ہے شادی کی” کوکب نے کہا
“امی کر لوں گا شادی… ساری عمر پڑی ہے ابھی” وہ بولا
“امی مجھے تو کوئی اور ہی چکر لگتا ہے… ” روحاء نے بیچ میں ٹانگ اڑائی تھی
“چکر مطلب ؟؟؟”
” مطلب کوئی لڑکی وڑکی کا چکر… ” وہ آنکھ دباتے ہوۓ بولی
“شٹ اپ… ” سعد نے اسے رکھ کے گھورا
“سعد بیٹے اگر کوئی اور پسند ہے تو بتا دے… ” کوکب بھی روحاء کی باتوں میں آ گئیں
“امی آپ کس کی باتوں میں آ رہی ہیں…. ؟؟؟ کوئی نہیں ہے… جب ہو گی تو بتا دوں گا” وہ کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا
“روحاء کے لئے بھی دو, تین رشتے ہیں سعد… ” وہ بولیں
“امی میرے لئے تو کوئی اچھا سا رشتہ دیکھنا اور پلیز ایک ہی بار دیکھ لینا, میں نے بار بار لڑکوں کی ماؤں کے آگے پیش نہیں ہونا” وہ بولی
“کیوں… تو ہیر کی ڈولی سے اتری ہے, ساری لڑکیاں ایسے ہی کرتی ہیں” کوکب کو غصہ آ گیا
“لیکن میں نہیں کروں گی” وہ ببانگ دہل بولی تھی
……………………..
“روحاء سیکینڈ نوٹس بھی نکال لیں… ” مروان نے اسے ایک کورس کروا دیا تھا
“سر وہ کل کر لیں گے, مجھے ذرا جلدی جانا ہے آج, سعد آنے والا ہو گا” وہ بولی
“خیریت ؟؟؟”
“ہاں جی… کچھ گیسٹ نے آنا ہے” وہ بولی, مروان ٹھٹھک گیا
“خاص گیسٹ تو نہیں ہیں… ؟؟”
“خاص ہی ہیں بس… ” وہ بولی
“سعد کے لئے…. ؟؟؟” اس نے تکا لگایا
“نہیں سر… مجھے دیکھنے آ رہے ہیں, میری امی کو جلدی لگی پڑی ہے” وہ نوٹس بیگ میں گھسیڑتے ہوۓ بولی, مروان ساکت سا بیٹھا رہ گیا
ایسے جیسے اس کے دل پر ہاتھ پڑا ہو
وہ روحاء مغل تھی… بھلا یہ ممکن تھا کہ کوئی اسے دیکھ کر انکار کر دیتا… ؟؟؟
اور اگر ہاں ہو گئی تو ؟؟؟ اس سے آگے کا سوچنا ہی روح فرسا تھا اس کے لئے
“میں جاؤں سر… ؟؟؟” وہ کھڑی ہو گئی
“جی… ” وہ بس اتنا ہی کہہ سکا تھا
اگلے دو, تین دن اس نے بڑے مشکل گزارے, روحاء اکیڈمی بھی نہیں آئی
چار دن بعد جب وہ آئی تو وہ پوچھے بنا رہ نہیں سکا
“ہو گیا پھر آپ کا رشتہ ؟؟؟”
“دفع ماریں سر… بھاڑ میں گیا رشتہ, اتنے عجیب و غریب لوگ… نا بولنے کا پتہ, نا پہننے کی تمیز… ابو نے انکار کر دیا ہے” وہ کہتی چلی گئی
مروان نے سکھ کا سانس لیا تھا
…………………….
وہ دن بھی آ ہی گیا جب ان دونوں کا بی ایس مکمل ہو گیا, مبرہ نے اپنی پوزیشن برقرار رکھی تھی, وہ اپنے بیج کی ٹاپر تھی, روحاء کی سی جی پی اے بھی کافی اچھی تھی
وہ پورا دو کلو مٹھائی کا ڈبہ لیکر اکیڈمی گئی تھی
“ہو گئیں پاس آپ ؟؟” اس نے مصنوعی حیرانی سے پوچھا, حالانکہ روحاء کا بے انتہا دمکتا ہوا چہرہ وہ نظرانداز نہیں کر پا رہا تھا
“صرف پاس… ؟؟؟ 3.88 CGPA ہے میری” وہ تڑخ کر بولی تھی
“چلیں شکر ہے… میری عزت بچ گئی” مروان نے کہا
“سر آپ مجھے ہمیشہ انڈر ایسٹیمیٹ کرتے ہیں لیکن… I am a vey good student , وہ اور بات ہے کہ میں ٹاپ نہیں کر سکی” وہ بولی
“ٹاپ کس نے کیا ؟؟؟”
“میری فرینڈ نے… مبرہ حسیب خان, وہ بہت ذہین اور انٹلیکچوئل ہے” روحاء تعریف کھل کر کرتی تھی, مروان بس دھیما دھیما سا مسکراتا رہا
“اب آپ مٹھائی تو کھا لیں… ” وہ بولی
“آپ ایسا کریں, یہ ڈبہ یہیں چھوڑ جائیں, میں چار, پانچ دن لگا کر تھوڑی تھوڑی کر کے کھا لوں گا” وہ بولا تھا, روحاء بس اس کی بات سن کر ہنستی چلی گئی تھی, مروان بہت دیر تک اس کے چہرے سے نظریں نا ہٹا سکا
“اب تو بی ایس بھی ہو گیا, اب تو آپ کے والدین کو آپ کی شادی کی زیادہ فکر پڑ جاۓ گی” وہ دھیرے سے بولا
“تو اور کیا سر… ماؤں کو تو بیٹی پیدا ہوتے ہی یہ فکر پڑ جاتی ہے… میری امی نے تو بی ایس کے لاسٹ سمیسٹر سے ہی میرے لئے رشتے دیکھنے شروع کر دیئے تھے” وہ کہتی چلی گئی
“اچھا…. کہیں بات بنی پھر.. ؟؟؟” وہ اگلواۓ جا رہا تھا
“نہیں سر… فی الحال تو نہیں, میری امی کو میری طبیعت کا بڑی اچھی طرح اندازہ ہے, انہیں پتہ ہے میں لائف میں کبھی بھی, کہیں بھی… کمپرومائز نہیں کر سکتی اسلیے وہ بڑا پرفیکٹ رشتہ تلاش کریں گی میرے لئے ” روحاء کہتی جا رہی تھی
مروان بس خاموش رہ گیا
وہ پرفیکٹ نہیں تھا… ذرا سا بھی نہیں
……………………
جاری ہے