No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
وہ نہا کر نکلی تھی, تولئے سے بالوں کو جھٹکتے ہوۓ وہ شیشے کے سامنے آن کھڑی ہوئی
بغور اس نے اپنا عکس دیکھا تھا
“تم مجھے اچھی ہی نہیں لگتیں… تمہاری شکل ہی مجھے اچھی نہیں لگتی” اس کے کانوں میں ولید کے الفاظ گونجے تھے
سچ ہی تو کہا تھا اس نے… مبرا حسیب خان میں آخر تھا ہی کیا جو وہ اسے اچھی لگتی… ؟؟؟
انتہائی عام سی شکل جو اس سے مار کھا کھا کر بالکل ہی تہس نہس ہو گئی تھی, لاغر سا جسم, استخوان سے بازو اور ٹانگیں, انتہائی عام سے نین نقش جن میں کوئی جاذبیت نہیں تھی, سانولی, کھردری سی جلد… ابھری ہوئی ہڈیاں, کٹے پھٹے ہونٹ, روکھے بے ڈھبے بال… اور چھوٹا سا قد
وہ اتنی خوفناک تھی نہیں جتنی ہو گئی تھی, اس بے بجھے دل سے کنگھا میز پر رکھ دیا
پرسوں اس نے کالج میں جوائننگ دینی تھی, کچھ سوچ کر وہ باہر نکل آئی
“امی… سمیرا ابھی بھی پارلر چلاتی ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“ہاں… اب تو کافی بڑھ گیا ہے اس کا کام… ” عابدہ نے کہا
“مجھے چھوڑ آئیں ذرا… سمیرا کی طرف” اس کے کہتے ہی عابدہ نے حیرانی سے اسے دیکھا اور بے انتہا خوش ہوئیں
سمیرا اس کی کافی پرانی محلے دار لڑکی تھی اور اسے اچھے سے جانتی تھی, وہ بھی مبرا کو دیکھ کر حیران تھی
“بہت کام کرنا پڑے گا تمہارے اوپر… ” وہ ہنستے ہوئے بولی تھی
مبرہ دو گھنٹے بعد وہاں سے واپس آئی, شام میں وہ عابدہ کے ساتھ مارکیٹ چلی گئی, کھل کر اس نے اپنے لیے شاپنگ کی تھی, کپڑے, جوتے, کاسمیٹکس… اور ہر ہر چیز خریدتے ہوئے اس کی آنکھ سے آنسو نکلا تھا
رات کا کھانا سب نے ایک ساتھ ہی کھایا
رات کے نو بج رہے تھے جب وہ اپنے کمرے میں آ گئی
بستر میں گھس کر اس نے سعد مغل کا نمبر ڈائل کیا تھا
…………………
وہ آج اکیڈمی کے سارے معاملات طے کر آیا تھا, اس کے سٹوڈنٹس کمپیوٹر سے مطمئن نہیں تھے, اور وہ کوشش کے باوجود کوئی قابل بندہ نہیں ڈھونڈ پایا تھا, وہاں صرف میتھ اور اکنامکس اچھی تھی
جبکہ مروان کے پاس سبھی کچھ تھا, وہ کمپیوٹر سائنس میں گولڈ میڈلسٹ تھا, اس کے پاس باقی ٹیم بھی پروفیسرز کی تھی سو فی الحال اسی کا ستارہ عروج پر تھا
مہینہ چونکہ ابھی شروع ہی ہوا تھا سو اس نے اپنی جیب سے ٹیچرز کو پیمینٹس کر دی تھیں, سٹوڈنٹس کو بھی اناؤنس کر دیا تھا کہ اکیڈمی اب آفیشلی بند ہونے لگی ہے
بلڈنگ کے سارے معاملات بھی اس نے طے کر دیئے تھے, سارے بل بھی چکا آیا تھا, اور انتہائی سیریس انداز میں ایم فل کے بارے میں سوچنے لگا تھا
کھانے کے بعد وہ اپنے کمرے میں آ گیا, اس کا بیٹا سوا ماہ کا ہو گیا تھا, عفراء اسے فیڈ کروا رہی تھی
“سعد ہیٹر آن کر دیں… ” عفراء نے کہا, وہ ہیٹر آن کرتے ہوئے بستر پر چڑھ آیا
“کر دیا وائنڈ اپ… ؟؟؟” اس نے پوچھا
“ہاں… بس ایک دو معاملات رہ گئے ہیں… پرسوں لاہور جاؤں گا ایم فل کے لئے اپلائی کرنے… ” وہ بولا اور اس کے قریب ہو گیا
“یہ ہر وقت ہی پینا پلانا کرتا رہتا ہے… ” اس نے جھک کر احد کا گال چوما تھا, عفراء بس مسکرا کر رہ گئی, اگلی باری عفراء کے گالوں کی آئی تھی
تبھی سعد کا سیل بج اٹھا, سکرین پر چمکتا نام دیکھ کر وہ حیران ہوا تھا
“کیسی ہیں آپ مبرا… ؟؟” اس کے لبوں سے نکلتا نام سن کر عفراء کی ساری مسکراہٹ ہوا ہو گئی
“شکر اللہ کا…. آپ کیسے ہیں ؟؟؟”
“میں بھی ٹھیک ہوں… ” وہ اٹھ کر ٹیرس پر آ گیا
عفراء کا دل گہرائی تک خالی ہوتا چلا گیا تھا
“Can I join again…??? “
مبرا نے پوچھا
“Really…??? “
سعد نے حیرانی سے پوچھا
“جی… “
“بالکل… وہ اکیڈمی آپ کی ہی ہے مبرا…. آپ بالکل دوبارہ جوائن کر سکتی ہیں… ” سعد کے گرتے حوصلوں کا ایک نیا سہارا ملا تھا
“چلیں میں پھر کل سے آؤں گی… انشاءاللہ ” وہ کہہ کر کال کاٹ گئی تھی
سعد دوبارہ کمرے میں آیا تو چہرہ انتہائی خوش تھا
“ایسا لگ رہا ہے جیسے ہفت اکلیم کی دولت مل گئی ہو آپ کو… ” عفراء نے کہا
“مبرا کل سے جوائن کر لے گی… “وہ بولا
“آپ تو وائنڈ اپ کر رہے تھے… ؟؟”
“اگر مبرا حسیب خان جوائن کر لے تو پھر وائنڈ اپ کیسا ؟؟؟”وہ بولا
“اتنا یقین ہے آپ کو اس پر… “عفراء نے چبھتے ہوئے لحجے میں پوچھا تھا
“She is extraordinary… “
سعد نے بڑے یقین سے کہا تھا
……………………..
وہ کہیں باہر تھا جب اسے حماد کی کال آئی, عدالت سے نمائندہ آیا تھا
“کس سلسلے میں ؟؟؟”
“پتہ نہیں بھائی… آپ ذرا جلدی آ جائیں ” حماد نے کہا
وہ اسی وقت گھر پہنچا
“یہاں سائن کریں اور تصویر بنوائیں…. ” وہ بولا
“یہ کیا ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“نوٹس ہے ؟؟؟ عدالت میں طلب کیا ہے آپ کو” نمائندہ سائن کروا کے چلا گیا
ولید نے اندر آ کر سمن پڑھا تھا
بینش نے خلع کے لئے دعویٰ دائر کر دیا تھا
“بڑی ذلیل عورت ہے یہ بھی ؟؟؟” ولید کو یکدم ہی غصہ آیا
“کی ہویا پتر… ؟؟؟”
“امی دھوکہ کیا ہے بینش اور اس کے باپ نے ہمارے ساتھ…” ولید نے انہیں ساری بات بتا دی
“استغفار… پیٹ میں کسی اور کا بچہ لیکر اس نے تجھ سے نکاح کر لیا ؟؟؟”شمیم نے منہ پر ہاتھ رکھا تھا
“اسے بس دنیا کی نظروں میں شادی شدہ بننا تھا…. تاکہ کوئی اسے بدکردار نا کہتا” وہ بولا
“اس نے تجھے نیڑے آنے ہی نہیں دیا… ؟؟؟” چوہدری حمید الگ حیران تھا
“ابو راضی نامہ سائن کروایا تھا اس کے باپ نے… اگر میں نے اس کے ساتھ ذرا سی بھی زبردستی کی تو یہ گھر اس کو مل جاۓ گا” وہ انکشافات کرتا جا رہا تھا
“اور تو اندھا تھا… تو نے کیوں کیے سائن ؟؟؟” شمیم نے اسے گھرکا
“امی میں نے تب پڑھا ہی نہیں کیا لکھا ہے… بس جلدی میں کر دییے, یہ بعد میں فراڈ کیا ہے انہوں نے ” ولید کی ہر چال ہی الٹی ہو رہی تھی
“اوۓ ہوۓ کتنا بڑا دھوکہ کیا ہے انہوں نے… تبھی تو تیری پہلی بیوی بھی آسانی سے ہضم کر لی اس نے… کیونکہ اس نے تو بس تین, چار ماہ بعد جان چھڑوا ہی لینی تھی… ” الماس نے کہا
“بھائی جب تک اس کی ڈلیوری نہیں ہو جاتی خلع تو ہو گا ہی نہیں… ؟؟؟” حماد نے کہا
“کیس تو دائر ہو گیا نا… ؟؟؟”
“تو ڈلیوری کے بعد ڈی این اے ٹیسٹ کروا کر ثابت کر دیں گے کہ بچہ آپ کا نہیں ہے… اور پھر فراڈ کا کیس بھی کریں گے ان پر… ” حماد نے کہا
“وہ تو بعد کی بات ہے نا حماد… فی الحال تو نا میں مبرا کو کچھ کہنے والا اور نا بینش کو… کیس کے دوران تو کوئی پنگا لینا بھی خطرناک ہی ہوتا ہے…اور اس اکمل نیازی کو بھی نہیں چھیڑ سکتے ابھی… سمجھو اس کی طرف سے آتا پیسہ بھی بند… ” ولید اب پریشان ہوا تھا
……………………..
حسیب خان نے مبرا کے خلع کے ساتھ ہی اس کے جہیز کے سامان, گاڑی اور زیور کا کیس بھی دائر کر دیا تھا, ان کے وکیل نے ولید احمد پر پچاس لاکھ روپے کا دعویٰ دائر کیا تھا جو اس نے وقتاً فوقتاً مبرا سے وصول کئے تھے
اس کا سمن بھی ولید کو دو ہفتے بعد مل گیا, اس کی پہلی پیشی پر بھی وہ حاضر نا ہوا, خلع والے کیس کی تاریخ آئی تو وہ پھر نہیں آیا, اس کے وکیل نے ایک ایکسٹینشن لے لی تھی
ابھی کچھ ہی دن گزرے تھے جب ولید کی جانب سے ایک پر اثر سیاسی بندہ اپنی بیوی کے ساتھ حسیب خان کے گھر پہنچا
لب لباب صلح صفائی تھی
اس بندے نے کوئی ڈیڑھ, دو گھنٹے بیٹھ کر تقریر کی اور اس تقریر کا مقصد سراسر یہ تھا کہ عورت کا طلاق لینا قبیح ترین فعل ہے
“جناب آپ کو پتہ بھی ہے کہ اس نے ہماری بچی کے ساتھ کیا کیا ہے ؟؟؟” حسیب خان نے پوچھا
“لڑائی جھگڑا ہر گھر میں ہو جاتا ہے وکیل صاحب… “
“بات لڑائی جھگڑے تک رہے تو پھر بھی ٹھیک ہے باجوہ صاحب… اس درندے نے ہماری بچی کے ساتھ ڈیڑھ, دو سال جو ظلم و ستم کیا ہے… وہ بتایا ہے اس نے آپ کو…؟؟؟” حسیب خان نے کہا
“وکیل صاحب… وہ اپنے چھوٹے بھائی اور باپ کے ساتھ میرے پاس آیا تھا اور اس نے کہا کہ چھوٹے موٹے لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے آپ کی بیٹی گھر چھوڑ کر آ گئی ہے, اور آتے ہوئے ان کا کافی قیمتی سامان یعنی زیور وغیرہ بھی لے الائی ہے… وہ صلح کرنا چاہ رہا ہے وکیل صاحب… اور اگر بچی کا گھر بستا ہے تو اس میں کیا برائی ہے…؟؟؟” باجوہ نے کہا
“اس کی تو ساری سن لی نا آپ نے باجوہ صاحب…
اب آپ ہماری سنیں… میں بتاتا ہوں آپ کو کہ میری بچی کن حالوں اس گھر سے واپس آئی ہے…؟؟؟؟” حسیب خان نے انہیں شروع سے لے کے آخر تک سارا کچھ سنا دیا اور یہ سب سننے کے بعد باجوہ کے پاس کہنے کو ایک لفظ بھی نہیں تھا اور اس کی بیوی کانوں کو ہاتھ لگا رہی تھی
“ویسے بڑے کوئی گندے لوگوں سے پالا پڑ گیا آپ کا وکیل صاحب…” وہ جاتے ہوئے بس اتنا ہی بولا تھا
اور اس کے بعد تو جیسے سلسلہ ہی چل نکلا… ولید اور اس کے بھائیوں نے مبرا اور اس کے گھر والوں کو زچ کرنے کا یہ ایک نیا طریقہ ڈھونڈ لیا تھا
ہر دوسرے دن ان کے ڈرائنگ روم میں کوئی نہ کوئی سیاسی کارکن یا تھوڑا بہت اثر و رسوخ کر رکھنے والا کوئی نہ کوئی بندہ آ کر بیٹھا ہوتا اور وہ سارا ماجرا ایک بار پھر سے انہیں سنانا پڑتا
وہ ہر کسی کو یہی کہتا پھر رہا تھا کہ میں صلح کرنا چاہتا ہوں, میں اپنی بیوی کو بسانا چاہتا ہوں, اس کا مدعا یہ تھا کہ اس کی بیوی کو صلح صفائی کے ساتھ اس کے سنگ واپس رخصت کروایا جائے… حسیب خان نے اپنی دہلیز پر آنے والے ہر شخص کو صفا چٹ انکار کر دیا تھا, وہ بھی کھل کر انہیں ساری بات بتاتے تھے کہ ولید کی حقیقت کیا ہے
آخر خباب کی بس ہو گئی, روز روز ایک ہی تماشہ… آۓ دن اس کے پاس بندے پہنچے ہوتے, گھر الگ سے سراۓ بن گیا, شعیب کو کالز کر کر کے پریشان کر رکھا تھا, مبرا کو الگ سے روز نت نئے نمبروں سے کالز کرتا رہتا تھا
سو شعیب نے ڈائریکٹ اس پر حراساں کرنے کا پرچہ کٹوا دیا, اس نے صاف لکھوایا کہ مبرا کے خلع کے کیس کے دوران ولید احمد ان سب گھر والوں کو نا صرف لوگ بھیج بھیج کر حراساں کرتا ہے بلکہ دھمکیاں بھی بھجواتا ہے, اور مبرا کو بھی پریشان کرتا ہے
شعیب کی سٹیٹمنٹ بہت سخت اور خطرناک تھی, حسیب خان بارکونسل کے صدر کو خود ملے اور اس درخواست پر بھرپور زور ڈلوایا, ایس ڈی پی او نے ایف آئی آر کاٹنے سے پہلے ایک بار پھر دونوں پارٹیوں کو بلایا تھا
وہ بھی اس سارے قصے کو کافی حد تک جان گیا تھا, عدالتوں میں بھی اس کیس کی کافی چرچا تھی اور اس دن والی مار پیٹ بھی سبھی کو یاد تھی, اب ایک بار پھر ولید احمد کو اپنے سامنے دیکھ کر وہ کافی غصے میں تھا
“کیوں بھئی… وارن کیا تھا نا کہ جب تک کیس چل رہا ہے تب تک کوئی شکائت نا ملے… ” وہ بولا
“سر میں نے کچھ نہیں کیا… ” وہ تڑخ کر بولا
“سر پچھلے تین ہفتوں سے یہ ہمیں پریشان کر رہا ہے, میرے والد صاحب کو سیاسی لوگوں کے ہاتھ دھمکیاں بھجواتا ہے, میری سسٹر کو کالز اور میسیجز کر کے حراساں کرتا ہے…. ” شعیب بھڑک گیا تھا, خباب اور حسیب خان بھی وہیں تھے
“سر میں نے ایسا کچھ نہیں کیا…. میں تو بس صلح صفائی… ” شعیب نے اس کی بات کاٹ دی
“کیسی صلح صفائی… ؟؟؟ صلح ہی کرنی ہوتی تو ہم لوگ عدالت میں نا آتے…. ” وہ بولا
“ولید احمد…. یہ ساری درخواستیں تمہارے خلاف ہیں, ایف آئی آر کٹ جاۓ گی, ایک تو پہلے ہی کٹی ہوئی ہے” ایس ڈی پی او نے کہا
“سر میں بس… ” اب کے خود ایس ڈی پی او نے اس کی بات کاٹی تھی
“یہ آخری وارننگ ہے ولید احمد…. اب اگر دوبارہ ان کی طرف سے کوئی درخواست آئی تو میں ایف آئی آر کٹوا دوں گا… “وہ بولا
“سر اگر اب کوئی بندہ ہمارے گھر کے دروازے پر آیا… یا ہماری بہن کو اس کی طرف سے کوئی بھی کال موصول ہوئی تو سیدھا سیدھا ایف آئی آر کٹے گی, سلاخوں کے پیچھے جاۓ گا یہ ” شعیب نے کہا تھا
…………………….
مبرا کا ڈومیسٹک وائلینس والا کیس بھی ساتھ ساتھ ہی چل رہا تھا, اس کے وکیل نے عدالت میں اس رات کا میڈیکل اور مبرا کی ساری رہورٹس جمع کروا دی تھیں, ولید کی جانب سے بھی کچھ کچھ پیش رفت ہوئی تھی
اس دن اسی کیس کی پیشی تھی, مبرا, حسیب خان کے ساتھ آئی تھی, شعیب اور خباب بھی اس کے ساتھ تھے, ولید بھی سارا جتھا لیکر آیا تھا
ساری صورتحال جج کے سامنے تھی, مبرا کے وکیل نے شروع دن سے لیکر اس رات تک کا سارا ماجرا ایک بار پھر جج کو کہہ سنایا, ولید کی ہر زیادتی اور ہر ظلم واضح تھا, ثبوت کے طور پر مبرا کی ساری پچھلی میڈیکل رپورٹس بھی تھیں, وہ دو بار اس کی وجہ سے اپنا بچہ کھو چکی تھی
ولید کے وکیل نے سیدھا سیدھا اس پر بدکرداری کا الزام لگایا تھا, ایسے کیسز میں شوہر نامی اس جانور کے پاس بس یہ ہی ایک ہتھکنڈا رہ جاتا ہے
یہاں میں مبرا اور روحاء کے کیسز کی ساری پیشیاں بھی تفصیل سے بیان کر سکتی تھی لیکن ناول زیادہ طویل ہو جاتا, اور وہ ساری باتیں ہم جانتے ہیں, سو میں زیادہ گہرائی میں نہیں جا رہی
الغرض خوب ہی بحث ہوئی اور جج نے ولید کے وکیل کو مزید کوئی بھی ثبوت پیش کرنے کے لئے اگلی تاریخ دے دی تھی
“ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے ولید صاحب…. کوئی ایسا ثبوت نہیں ہے جسے عدالت میں پیش کیا جا سکے… آپ اپنی بیوی کے افییرز کو بھی ثابت نہیں کر سکتے, اس کی ڈی این اے رپورٹس ساتھ لگی ہوئی ہیں اور ہم کسی بھی طرح یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ وہ کوئی بے حد قیمتی چیز لیکر گئی ہے…. آپ لوگوں کی. ساری ویلتھ سٹیٹمنٹ ان کے پاس ہے, زیور کی ساری رسیدیں انہوں نے نکلوا لی ہیں… بہت جلد گاڑی بھی ان کی ہو جاۓ گی… ” اس کے وکیل نے صاف صاف کہہ دیا تھا
“اب کیا ہو گا وکیل صاحب… ؟؟؟”حماد نے پوچھا
“جرمانہ… اور سزا” وہ بولا
“ہور کوئی راستہ نہیں ہے ؟؟؟” چوہدری حمید نے پوچھا
“آپ کوشش کر کے ان سے معافی مانگ لیں…. وہ خود یہ کیس واپس لے لیں تو آپ بچ سکتے ہیں” وکیل نے کہا تھا
گھر آ کر وہ یکدم ہی پھٹ پڑا تھا
“اس کمینی کو جانے ہی نہیں دینا تھا… ” وہ دہاڑ کر بولا تھا
“اوپر سے اس بینیش حرامزادی نے خلع دائر کر دیا ہے, اب اگلی پیشی پر مبرا کا وکیل اس کا حوالہ بھی دے گا.. بس کام ختم” وہ بولا
“بھائی اگر سزا ہو گئی تو آپ بھی ختم…” حماد نے کہا
“پتر… چل کے معافی مانگ لیتے ہیں, جان سے بڑھ کر کیا ہے ؟؟؟” شمیم نے کہا
“اای بڑی بے عزتی ہونی ہے… بہت زیادہ, میرا جی نہیں کرتا ان کی شکل دیکھنے کو بھی… میں تو نہیں مانگوں گا معافی ” ولید نے صاف کہہ دیا تھا
لیکن یہ آخری حل تھا
ورنہ… جیل
……………………..
اس بار ساجد مغل اور سعد روحاء کو بھی لیکر آۓ تھے, مروان کے ساتھ فرحان بھی آیا ہوا تھا
مروان کے وکیل نے ایک بار پھر ساری رام کہانی جج کو سنا دی
“مدعیہ آئی ہیں ؟؟؟”
“جی سر…. ” روحاء آگے کو ہو گئی
“کیا چاہتی ہیں آپ محترمہ ؟؟؟”
“سر مجھے اس شخص کے ساتھ نہیں رہنا…. مجھے خلع چاہئے ” روحاء کے کہتے ہی مروان تڑپ گیا تھا
“جج صاحب… یہ جو کہے گی میں کرنے کو تیار ہوں, میرا گھر اپنے نام کروا لے, جو ضمانت چاہے لے لے, جو چاہے شرط منوا لے, جو چاہے لکھوا لے, میں ہر شرط پوری کرنے کے لئے تیار ہوں, میں اس سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتا ہوں… ” مروان نے بھری عدالت میں ہاتھ جوڑے تھے
“میں اس کے پیروں میں گر کر اس سے معافی مانگ لوں گا, مجھے بھلے ساری عمر کتا بناۓ رکھے, میں اف بھی نہیں کروں گا…. بس مجھے معاف کر دے, بس ایک موقع دے دے, جج صاحب میری بچی کا کیا بنے گا… ؟؟؟ اپنی بچی کے صدقے مجھے معاف کر دے” مروان کی بس روحاء کے قدموں میں گرنے کی کسر رہ گئی تھی, جج نے پھر سے روحاء کی طرف دیکھا
“یہ ساری بکواس میں کئی بار سن چکی ہوں سر… مجھے اس سے الگ ہونا ہے… ” وہ بولی
“روحاء پلیز… ایک بار معاف کر دو, میں رل جاؤں گا یار, میری بچی باپ کو ترس جاۓ گی پلیز…” مروان رونے والا ہو گیا تھا
“دیکھیں محترمہ… ہو گا وہی جو آپ چاہیں گی لیکن… ایک بار پھر سوچ کیں, طلاق یافتہ کا لیبل معاشرے میں جینے نہیں دیتا, اور آپ ابھی ینگ ہیں, ظاہر ہے آپ کے پیرنٹس آگے آپ کی شادی بھی کریں گے… تو آپ کی بچی کا کیا ہو گا ؟؟؟” جج نے اسے سمجھاتے ہوئے اپنی فارمیلیٹی نبھا کر اگلی تاریخ دے دی تھی
باہر نکلتے ہی مروان اس کے پیروں میں گر گیا تھا
“روحاء… یار میں شرمندہ ہوں, بہت شرمندہ, میں بہت محبت کرتا ہوں تم سے, میں کیسے رہوں گا تمہارے بنا… ؟؟؟ اپنے بچوں کے بنا… ؟؟؟ یار بس ایک بار… بس ایک بار معاف کر دو…” وہ مسلسل رو رہا تھا, سب لوگ اسے دیکھ رہے تھے
“اب یوں ذلیل کرو مجھے تم… بھری عدالت میں” روحاء روتے ہوئے دہاڑی تھی
“سب کچھ برباد کر دیا تم نے مروان… سب کچھ” وہ بولی, فرحان نے بمشکل اسے روحاء کے قدموں سے اٹھایا تھا
……………………….
مبرا کو سعد کی اکیڈمی جوائن کئے دو ہفتے ہو گئے تھے, اور سعد اس کے آنے سے بہت خوش تھا
“اب سب ٹھیک ہو جاۓ گا… ” وہ دل سے مطمئن تھا
کالج جوائن کیے بھی اسے دو ہفتے ہی ہو گئے تھے, بڑے اعتماد سے اس نے ایک نئے سفر کا آغاز کیا تھا, خود پر توجہ دینی شروع کی تھی
اپنی ذات بھی پیار اور توجہ کی پوری حقدار ہوتی ہے نا.. ؟؟؟ اور ہماری زیادہ تر شادی شدہ بیٹیاں سب سے پہلے اپنی ذات کو ہی پس پشت ڈالتی ہیں, مبرا نے بھی ایسا ہی کیا تھا
اور اب اسے وہی کھوئی ہوئی مبرا حسیب خان ڈھونڈنی تھی, جو بہت خوبصورت تو نہیں تھی… لیکن بہت ذہین تھی, بہت پر اعتماد تھی, جس نے بی ایس میں گولڈ میڈل لیا تھا, جس نے ڈسٹنکشن کے ساتھ ایم ایس کیا تھا, جس بے فسٹ اٹیمپٹ میں پی پی ایس سی کلئیر تھا, جو ایک گزیٹیڈ آفیسر تھی
وہ. مبرا حسیب خان جو بہت خوب سیرت تھی, جس کی شخصیت اس کے چھوٹے قد سے قطع نظر بھی بہت متاثر کن تھی
پہننے اوڑھنے کا سلیقہ تو اسے پہلے بھی تھا, چہرہ مزید سنجیدہ اور سوبر ہو گیا تھا
دھیرے دھیرے وہ سر اٹھانے لگی تھی, اپنا نام بنانے لگی تھی, کالج میں ہر دل عزیز ہونے لگی تھی, اکیڈمی میں مقبول ہونے لگی تھی
وہ بھی ایسا ہی ایک دن تھا, کسی پراییوٹ کالج کی طرف سے اسے ایک سیمینار کا انویٹیشن آیا تھا, وہ اسے ایک لیکچر دینے کی ڈیمانڈ کر رہے تھے
وہاں اس نے بینیش کو دیکھا… بینش نے بھی اسے دیکھ لیا تھا, وہ خود ہی س کی طرف آ گئی
“What a pleasant surprise….
“مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ مبرا حسیب خان تم ہو گی؟؟؟” وہ مسکراتے ہوئے بولی
“تم یہاں ؟؟؟
“یہ کالج میرے ڈیڈ کا ہے… ” بینش نے کہا مبرا بس سر ہلا کر رہ گئی تھی
“مبرا… یار ایم سوری, مجھے پتہ چلا تھا کہ تم نے خلع کے لئے کیس کیا ہے, میں نے بس اپنے فائدے کے لئے ولید سے شادی کی تھی… اور میں نے بھی اس سے خلع کے لئے ڈیمانڈ کر دی ہے…. بہت جلد میں اس سے الگ ہو جاؤں گی” بینش نے کہا
“واقعی… ؟؟؟” مبرا نے طنز سے اس کے بڑھے ہوئے وجود کی. طرف دیکھ کر کہا تھا
“This baby is not of him… “
وہ کندھے اچکا کر بولی, مبرا ششدر سی کھڑی رہ گئی
بینش نے اسے مختصر اسے سب بتا دیا تھا
“دیکھو… اگر تم میری وجہ. سے اس سے طلاق لے رہی ہو تو… ” مبرا نے مسکراتے ہوئے اس کی بات کاٹ دی
“نہیں ڈییر… بلکہ تھینکس ٹو یو, تمہاری وجہ. سے مجھے وہ فیصلہ لینے میں آسانی ہو گئی جو شائد مجھے بہت پہلے لے لینا چاہئے تھا” مبرا نے اس کا کندھا تھپتھپاتے ہوۓ کہا تھا
…………………..
جاری ہے
