No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
سترھویں قسط
خباب کو ایک سیڈ کارپوریشن میں جاب مل گئی تھی, حسیب خان اور عابدہ نے اس کا رشتہ تو پہلے سے ہی دیکھ رکھا تھا بس اس کے نوکری ملنے کے انتظار میں تھے, جیسے ہی اسے نوکری ملی, انہوں نے اس کی منگنی کا فنکشن طے کر دیا
حسیب خان کے بے تحاشا سمجھانے بجھانے پر عابدہ ان کے ساتھ مبرہ کے سسرال جانے پر راضی ہوئی تھیں, مبرا کی تقریباً تبھی سسرالیوں کو خباب کی منگنی پر انوائٹ کیا تھا
“مبرہ…. بچے تو نے تین چار دن پہلے ہی آ جانا ہے اور خبردار جو اس بارے میں کوئی بحث کی تو… تیرے بغیر تیرے سسرال والے بھوکے نہیں مر جائیں گے, تیرے آنے سے پہلے بھی ان کا روٹی پانی چل ہی رہا تھا…” عابدہ نے تلخی سے کہا
” امی آہستہ بولیں.. میں آ جاؤں گی تین چار دن پہلے…” جتنی دیر وہ دونوں اس کے کمرے میں بیٹھے رہے, مبرہ کو یہی دھڑکا لگا رہا کہ کہیں کوئی دروازے سے کان لگائے باتیں ہی نہ سن رہا ہو
کیونکہ یہ اکثر ہی ہوتا تھا… جب بھی اس کے میکے میں سے کوئی آتا تھا تو کسی نہ کسی طرح کمرے میں ہونے والی ساری باتیں اس کے بتانے سے پہلے ہی ولید کے کانوں تک پہنچ جاتی تھیں, بہت عرصے بعد اسے اس بات کا ادراک ہوا کہ کوئی نہ کوئی باہر کھڑا اس کی باتیں سن رہا ہوتا تھا
کچھ دیر بعد وہ لوگ کچھ بھی کھائے پیے بنا چلے گئے, مبرا جانتی تھی کہ اسے کم سے کم ایک دو ہفتے پہلے ولید کی منت سماجت شروع کرنی پڑے گی تب کہیں جا کر وہ اسے میکے جانے کی اجازت دے گا
” ولید میں نے تین چار دن پہلے جانا ہے… ٹھیک ہے نا…؟؟؟” صبح شام وہ کسی ورد کی طرح اس کے کانوں میں یہ بات انڈیل رہی تھی
“تم نے کیا کرنا ہے وہاں جا کر…؟؟؟ تمہاری پیاری بھابھی جان ہے نہ وہاں سب کچھ سنبھالنے کے لئے…” ولید نے کہا
“ولید میرے بھائی کی منگنی ہے…میں نے تین, چار دن پہلے جانا ہے” مبرہ نے کہا
“منگنی سے ایک دن پہلے چلی جانا… بس بات ختم” وہ بولا
اور مبرہ کے حد درجہ اصرار پر بھی منگنی سے تین چار دن پہلے اس کے میکے نہیں چھوڑ کر آیا تھا, ناچار حسیب خان کو ہی اسے کال کرنا پڑی
“داماد جی کچھ تو شرم کر لو… ہماری اکلوتی بیٹی ہے وہ, اب کیا مہمانوں کی طرح اپنے بھائی کی منگنی میں شامل ہوگی…؟؟؟” انہوں نے میٹھے میٹھے لہجے میں اسے کافی باتیں سنائی تھیں
جن کا اثر یہ ہوا کہ اس نے بس دو دن پہلے اسے جانے کی اجازت دے دی تھی
” اپنے بھائی سے کہو تمہیں آ کر لے جائے…” کافی عرصہ ہوا اس نے یہ پینترا پکڑ لیا تھا اور ہر بار کی طرح خباب خود ہی آ کر اسے لے کر گیا تھا
وہ خود منگنی والے دن صبح تقریباً گیارہ بجے بالکل مہمانوں کی طرح آیا
“کتنے بجے جانا ہے لڑکی والوں کی طرف…؟؟؟ مجھے اور بھی بہت کام ہیں” وہ مبرہ کو دیکھتے ہی اس پر برس پڑا تھا
“بس تھوڑی دیر تک نکلتے ہیں… آپ کیا دیں گے اسے…؟؟؟” اس نے پوچھا
“کچھ بھی نہیں… تم دے تو رہی ہو” وہ بولا
“ولید میں اس کی ہونے والی نند ہوں اور اپ نندوئی… آپ کچھ بھی نہیں دیں گے…؟؟؟” وہ جی بھر کر حیران ہوئی تھی
” یار میرے پاس ہے ہی نہیں کچھ… تو کیا دوں. ؟؟؟ ویسے بھی تمہارے بھائی کی منگنی ہے جو تمہارا دل کرے دے دو” وہ کندھے اچکاتے ہوئے بولا
“اچھا… جب آپ کی بہن کی منگنی تھی تب تو یہ اصول مجھ پر لاگو نہیں ہوا تھا…؟؟؟” وہ ذرا غصے سے بولی
“مجھے تیوری دکھائی تو آنکھیں نکال دوں گا…” ولید اس کا بازو دبوچتے ہوئے بولا
اس کی تیز آواز باہر تقریبا سبھی کے کانوں میں پڑی تھی
” ارم کی منگنی پر میں نے اسے منگنی کا جوڑا لے کر دیا تھا, پیسے الگ سے دیے تھے اور وہ پیسے جو آپ کی امی نے آنے بہانے سے مجھ سے نکلوائے, وہ الگ ہیں, اور میری دفعہ آپ کہہ رہے ہیں کہ تمہارے بھائی کی منگنی ہے تم جو چاہے دو.. ” مبرہ نے اپنا لہجہ ذرا سا دھیما کیا تھا
“چلو لاؤ دو پیسے… جتنے دینے ہیں دے دوں گا” وہ بے شرمی سے اس کے آگے ہتھیلی پھیلاتے ہوئے بولا تھا
” ولید… ” مارے صدمے کے اس سے بولا نہ گیا
“آج اگر حماد یا عماد میں سے کسی کی منگنی ہوتی تو بھی آپ ایسے ہی کرتے…؟؟؟” وہ تاسف سے بولی
” میرے ساتھ زیادہ بکواس کرنے کی ضرورت نہیں ہے…” ولید کو غصہ آیا تھا
“ولید یہ کہاں لکھا ہے کہ آپ کی عزت میری بھی عزت ہے لیکن میری عزت آپ کی عزت نہیں ہے…” وہ بولی
” مبرہ اگر مجھے لے کر جانا ہے تو بتا دو… اگر نہیں تو ٹھیک ہے… میں چلا جاتا ہوں” وہ کھڑا ہوتے ہوئے بولا اور باہر کھڑے شعیب کی بس ہوگئی
اس سے پہلے کہ ولید کمرے سے باہر نکلتا, وہ کمرے میں داخل ہوا تھا
“سارا گھر مہمانوں سے بھرا پڑا ہے… کم از کم یہاں تو ہماری عزت کا کچھ خیال کر لو..” اس نے بمشکل اپنے لہجے پر قابو رکھا تھا
“اتنا ہی تمہیں اپنی عزت کا خیال ہے نا تو اس سے کہو کہ اپنی بکواس بند کرے” ولید نے کہا
“ولید مجھے پہلے ہی تجھ پر بہت قہر چڑھا ہوا ہے… یہ نا ہو کہ تو آج میرے دانت کے نیچے آجائے, اس لئے خبردار جو مبرہ کے لئے کسی بھی قسم کی کوئی الٹی سیدھی بات کی تو…” شعیب دو قدم آگے کو آیا تھا
” شعب بھائی پلیز… آپ باہر جائیں, کچھ نہیں ہوا… کوئی بات نہیں ہے” اس نے بمشکل شعیب کا بازو پکڑ کر دروازے کی طرف دھکیلا تھا
“ابو… بھائی کو باہر لے جائیں… پلیز” مبرہ کا رنگ ہلدی کی طرح زرد ہو گیا تھا
” ابو یہ کوئی طریقہ تو نا ہوا… امآدھے گھنٹے سے یہ شخص مسلسل اس پر برسے جارہا ہے.. یہ آخر یہاں آیا ہی کیوں ہے…؟؟؟” شعیب نے حسیب خان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“ابو پلیز … ” مبرہ نے ملتجیانہ سے لہجے میں کہا تھا حسیب خان, شعیب کو آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کرتے ہوئے باہر لے گئے
” ولید میری بات سنیں…” وہ کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوئے ولید کی طرف مڑی
“نہیں… تم میری بات سنو, میں اسی وقت یہاں سے جارہا ہوں..م اگر تم میرے ساتھ نہیں گئیں تو میں یہیں کھڑے کھڑے تمہیں طلاق دے جاؤں گا” ولید نے انگلی اٹھاتے ہوئے کہا تھا
“ولید… آپ کو پتہ بھی ہے آپ کیا کہہ رہے ہیں…؟؟؟” مبرہ کی آنکھیں پھٹ گئیں
” تم میرے ساتھ چل رہی ہو یا نہیں…؟؟؟” اس نے دوبارہ پوچھا
” میرے بھائی کی منگنی ہے آج…” وہ رونے والی ہو گئی
“تم پر طلاق کے تین حرف بھیج کر جاؤں گا یہ یاد رکھنا…” وہ انتہائی کروفر سے بولا تھا
“ولید میری بات تو…”
“طلاق یا پھر میرے سات چلو…” ولید نے اس کا بازو پکڑا
“ولید…” مبرہ نے انتہائی منت بھرے لہجے میں ایک آخری بار اس کی طرف دیکھا
“ٹھیک ہے… میں ولید احمد اپنے پورے ہوش و حواس میں مبرہ حسیب خان کو….”
” ولید رکیں… میں چلتی ہوں آپ کے ساتھ پلیز… کچھ مت کہنا, پورا گھر مہمانوں سے بھرا ہوا ہے, میرے ماں باپ کی بہت بے عزتی ہو گی… پلیز چپ کر جائیں” اس کے کہتے ہی ولید کے لبوں پر ایک استہزائیہ سے مسکراہٹ بکھر گئی
“میں باہر انتظار کر رہا ہوں…” وہ مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا تھا
…………………………
اور یہ شاید اس کے خام خیالی تھی کہ اس طرح سے اس نے اپنے ماں باپ کی عزت کو بچا لیا تھا, حالانکہ ایسا نہیں تھا
وہ پورے گھر کے سامنے اپنے بھائی کی منگنی کا فنکشن چھوڑ کر ولید کے ساتھ چلی گئی تھی, مارے غصے کے عابدہ کا برا حال تھا, شعیب کا تو بس نہیں چل رہا تھا کی ولید کو گولی مار دیتا
مہمان جانے کے لئے تیار کھڑے تھے, جتنی بےعزتی ہو گئی اتنی کافی تھی, حسیب خان نے بمشکل شعیب کو ٹھنڈا کیا, گاڑیاں آ چکی تھیں… وہ بس جیسے تیسے سب کو لے کر لڑکی والوں کی طرف نکل کھڑے ہوئے تھے
اگلے دن لڑکی والوں نے آنا تھا… مبرہ کے میکے والوں میں سے کسی نے بھی اسے کوئی کال نہیں کی, عابدہ کو اس پر شدید غصہ تھا
” حسیب میں اسے کبھی کال نہیں کروں گی…” انہیں رہ رہ کر اس پر طیش چڑھ رہا تھا
” ابو میں تو کہتا ہوں پولیس لے کر جاتے ہیں اور مبرہ کو زبردستی وہاں سے لے آتے ہیں…” شعیب آتش فشاں بنا پڑا تھا
“شعیب بھائی کوئی فائدہ نہیں ہے… اس لڑکی سے کوئی بعید نہیں کہ وہ پولیس والوں کے سامنے کھڑی ہو کر کہہ دے کہ میرے باپ اور بھائی مجھ پر زبردستی کرنے آئے ہیں” خباب خباب نے کہا
“خدا جانے یہ لڑکی سمجھتی کیوں نہیں… خدا جانے اسے اس جانور میں کیا نظر اتا ہے…؟؟؟ اس بیوقوف کو یہ نہیں پتا اس قسم کے رویے سے ماں باپ کو زیادہ تکلیف ہوتی ہے…” عابدہ رونے لگ گئی تھیں
” امی آپ تو چپ کریں… پلیز ” شعیب نے ماں کو دونوں کندھوں سے تھام لیا
“ہم صرف اس کے لئے دعا ہی کر سکتے ہیں امی کہ اللہ اسے ہدایت دے… بس اور کچھ نہیں کر سکتے” سارا گھر پریشان ہوا پڑا تھا
………………………..
مروان نے نئے گھر کی تلاش شروع کر دی تھی, اگر وہ پلاٹ لے کر تعمیر شروع کرواتا تو اس میں کافی زیادہ وقت لگ جاتا, اسی لئے کاشف مرزا نے بھی اسے یہی مشورہ دیا تھا کہ وہ کوئی اچھا بنا ہوا چھوٹا موٹا گھر دیکھ لے
اور وہ پوری طرح اس کام میں سرگرم تھا, روحاء سے وہ کئی بار معافی مانگ چکا تھا لیکن روحاء کے پاس اس کی ہر معافی کا بس ایک ہی جواب تھا
“الگ گھر لے کر دیں…”
دوسری طرف نمرہ اور زویا کے پیروں میں خارش ہونے لگی تھی , ابھی تو صرف پلاٹ کی پیمنٹ ادا ہوئی تھی, ابھی تو اس پلاٹ پر گھر تعمیر کرنا تھا, فرحان اور زویا نعمان اور نمرہ ان چاروں کا یہی پلان تھا کہ فرحان اور نعمان اس پلاٹ پر گھر تعمیر کروائیں گے اور اتنے عرصے وہ مروان سے کہہ کر جیسے تیسے گھر کا نظام چلواتے رہیں گے
لیکن یہاں تو گیم ہی الٹی ہو گئی تھی, اگر مروان روحاء کو لے کر الگ ہو جاتا تو ان دونوں کا خرچہ کون اٹھاتا..؟؟؟” پھر تو اسلام اباد جیسے شہر میں رہنے کا خواب بس ایک خواب ہی رہ جاتا
سو دونوں نے مروان کے الگ ہوجانے پر سو رخنے ڈالنے کی کوششیں کیں, ہمہ وقت وہ دونوں رابعہ اور فرحت کے کان بھرتی رہتی تھیں
” تم دیکھ لینا رابعہ… ایک دفعہ روحاء مروان کو لے کر الگ ہو گئی, پھر تو اس کی شکل بھی نہیں نظر آیا کرے گی تمہیں… تم دیکھ لینا وہ اسے یہاں آنے ہی نہیں دیا کرے گی” صبح شام وہ رابعہ کے کانوں میں یہی زہر انڈیلتی تھیں
“آنٹی جی مروان تو گیا آپ کے ہاتھ سے… اب نہیں روحاء اسے یہاں اآنے دیتی” فرحت کے سامنے بھی ڈرامے جاری رہتے
“مروان تو اب مہمان بن گیا ہے… پتہ نہیں ہمارا کیا بنے گا..م چلو ہمارا بھی رب وارث ہے” ان دونوں کے ڈرامے مروان کے سامنے بھی جاری رہتے تھے
لیکن اس بار وہ روحاء کو پگھلا نہیں سکا تھا, اسے ساجد مغل کے گھر بیٹھے ڈھائی ماہ ہونے کو آئے تھے اور اس ڈھائی ماہ میں الگ گھر کا مطالبہ جوں کا توں تھا
…………………………
مبرہ ایک بار پھر امید سے تھی
اس نے تو گھر والوں کو نہیں بتایا لیکن حنا کی چھوٹی بہن نے اسے اور اس کی ساس کو ایک پرائیویٹ ہاسپٹل میں دیکھ لیا تھا, اس نے جھٹ سے حنا کو کال کردی اور حنا نے اگلے ہی لمحے مبرہ کو کال کھڑکا دی تھی
عابدہ نے اس کے وہ لتے لیے کہ حد نہیں
“اب تو ماں سے ناراض ہو کر بیٹھی ہے نا.. سارے رشتے داروں کے سامنے ہمیں دو کوڑی کا کرکے چلی گئی اور منہ بھی خود ہی بنایا ہوا ہے… کال کر کے بتا نہیں سکتی تھی.. ہم دشمن ہے تیرے” وہ کہتی چلی گئیں کبھی انہیں غصہ آ جاتا اور کبھی رونے لگتیں
” امی ایسے تو نہ کریں… میں نے تو بس اس لیے کال نہیں کی کہ آپ مجھ سے بات کریں گی یا نہیں…؟؟؟” وہ دھیمے سے لہجے میں بولی تھی
“مبرہ… میں ماں ہوں, تو چاہے مجھے قتل ہی کیوں نہ کر دے, پھر بھی میری بیٹی ہی رہے گی” وہ بولیں, مبرہ بس چپ کر گئی
انہوں نے اسے سو دعائیں دیتے ہوئے کال کاٹی تھی کچھ ہی دنوں بعد حسیب خان کو پھر سے کسی کی زبانی اس کے رکشے میں دھکے کھانے کے بارے میں پتا چلا
انہوں نے مزید چھان بین کروائی تو پتہ چلا کہ ولید ڈیوٹی دینے سے کب کا آزاد ہو چکا تھا اور اب بھی وہ صبح شام رکشوں پر ہی دھکے کھاتی تھی
اس مرتبہ عابدہ سے زیادہ غصہ حسیب خان کو آیا تھا, وہ عابدہ کو لے کر ایک شام اس کے سسرال پہنچ گئے, اس نے واشنگ مشین لگائی ہوئی تھی
” یہ کس وقت کے کپڑے دھو رہی ہے.؟؟؟” عابد نے اسے گلے لگاتے ہوئے پوچھا
“امی صبح کالج جانا ہوتا ہے… اسی لئے شام کو لگاتی ہوں”
” تو کل اتوار تھا… کل لگا لیتی..؟؟؟”
” ڈھیروں ڈھیر تو استری کرنے ہوتے ہیں… میں تھک جاتی ہوں پھر ” وہ سر جھکا کر بولی اور انہیں اندر لے آئی
ولید بھی گھر پر ہی تھا, ان دونوں نے اسے بلانے کی زحمت بھی نہیں کی تھی
“مبرہ… بچے میری بات سن, میں نے شعیب سے کہہ دیا ہے, وہ ویکینڈ پر گھر آتا ہے, سو بس سے آجایا کرے گا, میں نے اسے کہا ہے کہ گاڑی گھر پر ہی چھوڑ دے , میں روزانہ خود تجھے کالج چھوڑ کر آیا کروں گا اور وہیں رکا کروں گا اور واپسی پر لے بھی آیا کروں گا… ٹھیک ہے…؟؟؟” وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے
” لیکن ابو… آپ وہاں کیا کیا کریں گے…؟؟؟” مبرہ نے پوچھا
“تجھے اس کے لئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے… کافی دوست ہیں وہاں میرے, کسی نہ کسی کے چیمبر میں بیٹھ جایا کروں گا” وہ بولے
“مبرہ… بچے یہ شروع کے تین چار مہینے ذرا زیادہ مشکل ہوتے ہیں, ایک دفعہ تھوڑا وقت گزر جائے پھر خطرہ ذرا کم ہو جاتا ہے, تین چار مہینے تیرے ابو تجھے چھوڑ بھی آیا کرینگے اور لےبھی آیا کرینگے” عابدہ نے کہا
“پتہ نہیں ولید مانیں گے یا نہیں…؟؟؟” مبرہ نے دھیرے سے کہا تھا
لمبی سانس بھرتے ہوئے حسیب خان نے اس کے ساس اور سسر کو بلا لیا اور ان کے دماغ میں اچھی طرح یہ بات بٹھا دی کہ وہ خود ہی اپنی بیٹی کی ذمہ داری اٹھا لیں گے
ان کے جانے کے بعد ولید گرجا تو بہت تھا لیکن شمیم نے اسے اپنی باتوں سے رام کر لیا تھا
“چپ کر جا… بچہ چاہیے کہ نہیں تجھے…؟؟؟ اگر اس کا باپ اس کی ذمہ داری اٹھا رہا ہے تو تجھے کیا تکلیف ہے… شادی کو سال ہونے کو آیا ہے اور ابھی تک بے اولاد ہی ہے تو… ” شمیم کے پاس اسے رام کرنے کے لئے ہر پتہ موجود تھا
وہ بس اسے گھورتے ہوئے خاموش ہو گیا تھا
…………………………
ولید کا رویہ کچھ تبدیل ہوا تھا… اب وہ پہلے کی طرح اسے ہر بات پر کاٹ کھانے کو نہیں دوڑتا تھا, پیسوں کی ڈیمانڈ بھی ذرا کم ہو گئی تھی
حسیب خان روزانہ صبح اسے کالج چھوڑ دیتے تھے اور واپسی پر ساتھ ہی لیکر آتے تھے
عماد کو ٹرائل دینے کے لئے لاہور بلا لیا گیا تھا, وہ کرکٹ ٹیم میں شامل ہونے کے لئے تگ و دو کر رہا تھا
حماد کے وہی کام تھے… ہمہ وقت کسی نا کسی لیڈر یا سیاست دان کے پیچھے خوار ہونے والا
شمیم نے انعم کا رشتہ دیکھنے کے لئے کوششیں شروع کر دی تھیں, وہ ان دونوں کی شادی ایک ساتھ کرنا چاہتی تھی
وہ بھی ایسا ہی ایک دن تھا, مبرہ کالج سے واپس آئی تو شمیم اور اس کا سسر کہیں جانے کے لئے تیار ہو رہے تھے, ارم نے اس کے لئے بڑا زرق برق لباس نکالا ہوا تھا, سسر بھی سفید لٹھے کا سوٹ پہنے کھڑا تھا
“کہیں جا رہی ہیں آنٹی ؟؟؟”
“ہاں… وہ انعم کے لئے لڑکا دیکھنے جا رہے ہیں” شمیم جلدی سے بولی تھی
وہ سر ہلاتے ہوئے اندر آ گئی
کمرے میں داخل ہوتے ہی خوشبوؤں کا ایک طوفان اس کی سانسوں سے ٹکرایا تھا
ولید شیشے کے سامنے کھڑا تھا, گرے کلر کے تھری پیس میں ملبوس, جیل سے بال سیٹ کئے, بلیک جوتا پہنے, ہر قسم کا میک اپ کئے وہ کف لنکس لگا رہا تھا
“آپ بھی جا رہے ہیں… ؟؟؟” وہ بیگ صوفے پر اچھالتے ہوۓ بولی
“ہاں… ” وہ مختصراً بولا, مبرہ نے چادر اتارتے ہوئے اس کی طرف دیکھا
وہ بے حد دلکش لگ رہا تھا
مبرہ نے اس کے گرد دونوں بازوؤں سے حصار بنایا
“بڑے پیارے لگ رہے ہیں… نظر ہی نا لگ جاۓ ” وہ مسکراتے ہوئے بولی
“تم ہی نا لگا دینا… ” ولید نے اسے گھورا
“میری نظر نہیں لگتی آپ کو… کبھی بھی” اس نے بہت محبت سے ولید کا گال چوما تھا
“ہٹو یار…. دیر ہو رہی ہے” وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
“نا ہٹوں تو… ؟؟؟” مبرہ نے اس کی گردن میں بازو ڈالے تھے اور دھیرے سے اس کے لبوں کو چھوا
“مجھے ذرا واپس آ لینے دو… پھر تم کہہ رہی ہو گی کہ ہٹیں…. اور میں نہیں ہٹوں گا” وہ شدت سے اس کے لبوں کو بھینچتے ہوۓ اس کے دونوں بازو ہٹا کر باہر نکل گیا
رات گئے وہ تینوں واپس آۓ
مبرہ نے غور نا کیا کہ اس بار وہاں سے واپس آ کر ان تینوں نے کوئی ڈسکشن نہیں کی تھی, انعم نے بھی ہمیشہ کی طرح کرید کرید کر کچھ نہیں پوچھا تھا
رات کو وہ ولید کے پہلو میں آ کر لیٹی تو وہ اس پر جھک آیا
“ولید… دور ہٹ جائیں” وہ اسے مسکراتی نظروں سے دیکھ رہی تھی
“میں ہٹ بھی جاؤں گا… ” وہ اس کا دوپٹہ دور پھینکتے ہوئے بولا
“ہٹ کے رات گزر جاۓ گی آپ کی… ؟؟؟” مبرہ نے اس کے لبوں پر انگلی رکھی تھی اور پھر اس سے لکیر بناتے ہوئے اس کے سینے تک لے آئی
“بس یہ ہی تو زعم ہے تمہیں ؟؟؟” وہ اپنی شرٹ اتارتے ہوئے اس پر جھک گیا تھا
“وہ تو ساری عمر رہے گا… ” مبرہ نے اس کی قربت کے زیر اثر آنکھیں بند کی تھیں
………………………..
مروان نے الگ گھر لے لیا تھا… اس کی بیٹی مرحہ چار ماہ کی ہو چکی تھی
اس دن اس نے روحاء کا سارا سامان شفٹ کیا تھا
“چل کر سیٹ کروا لو… جیسے کروانا ہے” وہ روحاء کو ساتھ لے گیا تھا
اس نے سارا سامان سیٹ کروایا, مروان نے بیڈ روم. میں اے سی بھی لگوا دیا تھا, گرمیوں میں اس کی پھول سی بچی ابل ہی جاتی تھی
سارا سسٹم سیٹ کروا کر وہ اسے لینے آ گیا تھا, فرحت اور کاشف مرزا کو بھی وہ ساتھ لیکر آیا تھا
“چلیں ساجد صاحب… اب تو روحاء بیٹی کی خواہش پوری ہو گئی ہے… اب اسے اس کے گھر بھیج دیں” جاشف مرزا نے کہا, البتہ فرحت خاموش ہی رہیں
“خدا کرے ان دونوں کا گھر سلامت رہے مرزا صاحب… ” ساجد مغل نے زیادہ بحث نا کرنا ہی مناسب سمجھا تھا
مروان اسی شام روحاء اور مرحہ کو اپنے ساتھ لے گیا تھا
“خدا کی قسم میں نے تمہارے بنا چار ماہ جیسے گزارے ہیں… یہ میں جانتا ہوں یا میرا خدا… ” وہ اس رات صحیح معنوں میں روحاء کے لئے جھیلنا مشکل ہو گیا تھا, لمحہ بہ لمحہ اس کی شدتیں زور پکڑتی جا رہی تھیں, روحاء کا وجود ہی اسے کے ہوش اڑا دینے کے لئے کافی تھا
…………………………….
وہ بھی ایسا ہی ایک دن تھا… حسیب خان مبرہ کو اس کے سسرال اتار کر گھر واپس چلے گئے تھے, انہیں اس کی ڈیوٹی نبھاتے مسلسل چار مہینے ہوگئے تھے, ولید رات کو کافی دیر سے گھر ایا
اب وہ اکثر ہی رات کو دیر سے گھر آنے لگا تھا, مبرہ کے پوچھنے پر اس نے بس اتنا بتایا کہ وہ اسی کالج میں پارٹ ٹائم بی ایس کی کلاسز بھی لینے لگا ہے سو آتے آتے دیر ہو جاتی ہے
” ولید کھانا لے کر آؤں…؟؟؟” اس نے پوچھا
“نہیں رہنے دو… میں کھا کر آیا ہوں” وہ اپنا کوٹ اتارتے ہوئے بولا تھا
“ولید آپ سے ایک بات کہوں… مانیں گے…؟؟؟” اس نے بڑے پرسوچ انداز میں اپنی بات کا اغاز کیا تھا
“ہاں کہو… ویسے تمہاری اکثر باتیں ماننے والی تو نہیں ہوتی ہیں” وہ جوتے اتارتے ہوئے بولا
“ولید ابو کو میری ڈیوٹی دیتے چار مہینے ہوگئے ہیں, اور ویسے بھی اب شعیب بھائی کی ڈیوٹی قصور لگ گئی ہے, میں کہہ رہی تھی کہ اگر میں اور آپ کالج کی ریزیڈینسی میں شفٹ ہو جاتے تو…؟؟؟” اس نے اٹکتے ہوئے اپنی بات مکمل کی تھی
شادی کے بعد گزرنے والے اس تمام عرصے میں جو کہ سسرال میں گزرا تھا وہ اپنا سارا اعتماد بری طرح کھو چکی تھی, بات کرتے ہوئے جھجک جاتی تھی, اپنی بات کو صحیح طریقے سے کہہ نہیں پاتی تھی, اور اس کا سارا کریڈٹ ولید احمد کو جاتا تھا
اول تو اس کی وہ پوری بات سنتا ہی نہیں تھا اور اگر کہیں قسمت سے سن بھی لیتا تو اس کے پاس دو ہی جواب ہوتے تھے
“دوبارہ بکواس نہ کرنا..”
“ایسا ممکن ہی نہیں ہے…”
اور اگر کہیں وہ زیادہ اصرار کرتی تو ہاتھ اٹھانا تو اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا
“کالج ریزیڈینسی…؟؟؟اپنا گھر چھوڑ کر اتنی دور کالج ریزیڈنسی میں شفٹ ہو جاؤں, تمہیں میں پاگل لگتا ہوں” ولید نے اسے گھورتے ہوئے کہا
“ولید ڈاکٹر کہہ رہی تھی کہ پریگنینسی اس بار بھی بہت کمزور ہے… اب کیا ابو ہمیشہ میری ذمہ داری نبھاتے رہیں گے, اور ویسے بھی ریذیڈینسی نئی بنی ہے..م اگر ہم دونوں وہاں شفٹ ہو جائیں تو اس میں مضائقہ تو نہیں ہے” وہ بولی
“مبرہ تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہو گیا… یعنی میں روزانہ وہاں اتنی دور آیا کروں گا” ولید تڑخ پڑا
“آپ ویک اینڈ پر آ جایا کرنا…” اس نے ایک نئی راہ نکالی
“مبرہ… تمہارا باپ اگر تمہاری ذمہ داری نبھا رہا ہے تم پر کوئی احسان نہیں کر رہا, ماں باپ ساری عمر بیٹیوں کا ساتھ دیتے ہیں, جہاں انہوں نے چار مہینے تمہیں چھوڑا وہاں اگے بھی چھوڑ دیا کریں گے…خبردار جو آئیندہ اس قسم کی بکواس دوبارہ کی تو… میں اپنا گھر چھوڑ کر کہیں نہیں جا رہا” وہ اسے بری طرح جھڑکتے ہوئے واش روم میں چلا گیا
کچھ دیر بعد اس کا سیل بجنے لگا, شادی کے بعد سے لے کے اب تک مبرہ کی جرأت نہیں تھی کہ اس کے بچتے ہوئے سیل کو اٹھا کر دیکھ ہی لیتی, وہ اس کے ہاتھوں میں اپنا سر دیکھ کر ہی آگ بگولا ہو جاتا تھا
“ولید آپ کا فون بج رہا ہے…” اونچی اواز میں کہتے ہوئے کمبل تان کر لیٹنے لگی تھی جب اس کی نظر ولید کے موبائل پر پڑی, سکرین پر جگمگاتا ہوا نام اسے کسی لڑکی کا لگا تھا لیکن اس سے پہلے کہ وہ ذرا سا آگے ہو کر نام پڑھتی, ولید واش روم سے نکل آیا
ایک نظر موبائل اسکرین کو دیکھ کر وہ کال ریسیو کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا تھا
………………………..
روحاء نے سوچا کہ الگ گھر لے کر وہ اپنے اور مروان کے درمیان اپنے سسرالی رشتہ داروں کے مداخلت کو ذرا کم کر لے گی, اس نے یہی سوچا کہ الگ گھر لینے کے بعد شاید مروان کا احساس ذمہ داری تھوڑا سا بڑھ جائے اور اب تو اس کی ایک بیٹی بھی تھی لیکن یہ صرف اس کی خام خیالی تھی
ہوسکتا ہے بہت سارے لوگ میرے ساتھ متفق نہ ہوں لیکن یہ ایک کڑوی سچائی ہے کہ بیوی کی ضد پر شوہر کا اسے الگ گھر لے کر دینا ہمیشہ ایک آسودہ رشتے کی ضمانت نہیں ہوتا, یہ صرف اس بیوی کی خام خیالی ہی ہوتی ہے اپنے شوہر کو سسرال نام کے چنگل سے بچا لائی ہے حالانکہ ایسا نہیں ہوتا
وہ گھر جسے سسرال کا نام دیا جاتا ہے وہاں اس شوہر کی ماں ہوتی ہے, بہنیں ہوتی ہیں, بھائی ہوتے ہیں, جان سے پیارے بھتیجے بھتیجیاں ہوتے ہیں.. وہ بھلا اس گھر کو کیسے چھوڑ دے…؟؟؟ نہیں چھوڑ پاتا
اور شوہر بھی جب مروان جیسا انسان ہو, جس نے ساری عمر گھر والوں کے سامنے صرف سر ہی جھکایا ہو, جس نے کبھی اپنے ماں باپ یا بہن بھائیوں کو کسی بھی بات سے انکار نہ کیا ہو, جسے بولنا ہی نہ آتا ہو
روحاء کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا, جب تک وہ سسرال میں تھی تب تک کم از کم سب کچھ اس کی نظروں کے سامنے ہوتا تھا لیکن الگ گھر میں شفٹ ہو جانے کے بعد کوئی خیر خبر نہیں ہوتی تھی, مروان کالج سے ساڑھے بارہ کے قریب فارغ ہوتا تھا اور جب تک وہ سسرال میں رہی وہ تقریبا ایک بجے گھر واپس آ کر دو ڈھائی گھنٹے بعد اکیڈمی جایا کرتا تھا
لیکن الگ گھر میں شفٹ ہو جانے کے بعد اصل شامت تو مروان کی آئی
ایک کال اسے روحاء کی آتی تو اگلی ہی کال اسے رابعہ کی آ جاتی…
ایک کال اسے روحا کی آتی تو اگلی ہی کال اسے فرحت کی آ جاتی…
روحاء اسے اپنی طرف کھینچتی تھی اور اس کے گھر والے اسے اپنی طرف کھینچتے تھے, اس کی زندگی پہلے سے سہل تو کیا ہوتی… پہلے سے زیادہ مشکل ہو گئی, اور الگ گھر لینے کے بعد ان دونوں میاں بیوی کی پہلی لڑائی اسی بات پر ہوئی تھی
روحاء نے اسے کال کرکے کالج کے بعد گھر آنے کا بولا تھ, اسے مرحہ کو انجکشن لگوانے لے کر جانا تھا, کچھ ہی دیر بعد اسے فرحت کی کال آ گئی, رابعہ کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی سو اسے ہسپتال لے کر جانا تھا
اس کے ذہن سے روحاء کی کال یکسر محو ہوگئی, وہ فرحت اور رابعہ کو لے کر ہسپتال چلا گیا اور وہاں وقت زیادہ لگنے کی وجہ سے واپس گھر نہ جا سکا, ڈائریکٹ اکیڈمی چلا گیا, شام چھ بجے وہ گھر واپس آیا تھا
” چار مرتبہ کال کی تھی… کہاں تھے آپ…؟؟؟” روحاء نے پوچھا
“یار وہ رابعہ کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی…اسے ہسپتال لے کر گیا تھا” مروان نے سچ بولنا ہی مناسب سمجھا اور سچ بول کر اسے ادراک ہوا کہ اسے یہ سچ نہیں بولنا چاہیے تھا
“روحاء سوری…” وہ اس پر اچھا ہی برسی
“سوری یار میرے ذہن سے نکل گیا…” وہ پشیمان تھا
“مروان میں یہ نہیں کہہ رہی کہ آپ رابعہ کو ہسپتال نہ لے کر جاتے. بس یہ کہہ رہی ہوں کہ اگر آپ کے پاس وقت نہیں تھا تو کم از کم مجھے کوئی تو جواب دیتے.. ہاں یا ناں… مسلسل آپ کو کال کرتی رہی اور آپ نے میری کال ریسیو نہیں کی… مروان اب یہی ہوا کرے گا کیا…؟؟؟” وہ کہتی چلی گئی تھی
اور اس رات مروان نے ایک نئی چیز سیکھی… وہ چیز جو میاں بیوی کے آپس کے رشتے میں دراڑیں ڈالتی چلی جاتی ہے
اور وہ ہے جھوٹ…
ایک شوہر بیوی سے جھوٹ کب بولتا ہے…؟؟؟
اس وقت جب وہ کوئی لڑائی جھگڑا نہیں چاہ رہا ہوتا یا اس وقت جب وہ اپنی بیوی سے کچھ چھپا رہا ہوتا ہے
اب اگے چل کر وجہ جو بھی بنتی لیکن مروان نے اس رات روحاء سے ہمیشہ سچ نہ بولنے کا عہد تو کر ہی لیا تھا
……………………….
جاری ہے
