Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

وہ اپنا اور سعد کا چاۓ کا کپ لیکر کمرے میں آئی تھی, ان کی شادی کو سال ہونے والا تھا, عفراء بھی expected تھی
سعد کا کپ اسے پکڑاتے ہوۓ وہ بیڈ کے دوسری طرف آ گئی, وہ کوئی حساب کتاب کھولے بیٹھا تھا
“کیا سمجھ نہیں آ رہا… ؟؟؟” عفراء نے اس کے کندھے پر سر رکھتے ہوئے پوچھا
“یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ اکیڈمی کا خرچ آمدن سے زیادہ کیوں ہوتا جا رہا ہے…. میرا تو دل کرتا ہے بند کر دوں” وہ تھکے سے لحجے میں بولا
“کیوں ؟؟؟ سٹوڈنٹس نہیں آتے کیا ؟؟؟؟”
“بس میتھس اور اکنامکس پڑھنے آتے ہیں….کمپیوٹر سائنس کے لئے مروان کے پاس چلے جاتے ہیں, اور پھر واپس ہی نہیں آتے” وہ بولا
“آپ کمپیوٹر سائنس کے لئے بھی کوئی رکھ لیں… ” وہ بولی
“ارے… سچ یاد آیا, مبرہ نے آج جوائننگ دینی تھی” عفراء کی بات سنتے ہی اس نے اپنا سیل اٹھایا تھا
اور اس کے لبوں سے نکلتا مبرہ سن کر عفراء چونک سی گئی تھی
یہ نام اس نے اکثر و بیشتر اس گھر کے افراد کے منہ سے سنا تھا, وہ شائد روحاء کی دوست تھی, کوکب بھی اکثر اس کا ذکر کرتی تھیں
لیکن جب جب اس نے سعد کے لبوں سے یہ نام سنا تھا… تب تب اسے اچھا نہیں لگا تھا
وہ دن میں ہزاروں لڑکیوں کا نام لیتا تھا, سٹوڈنٹس کا, کزنز کا, کولیگز کا… عفراء نے کبھی محسوس نہیں کیا… لیکن جب وہ مبرہ کا نام لیتا تو اسے عجیب سا محسوس ہوتا تھا
وہ بڑی اپنائیت سے اس کا نام لیتا تھا, بڑی عزت سے, بڑے احترام سے… یوں جیسے وہ بہت اہم ہستی ہو
اب بھی اس نے جس انداز سے مبرہ کہا…. عفراء بس ساکت سی بیٹھی رہ گئی
اس نے خباب کو کال کی تھی, سلام دعا کے بعد اس نے مدعے کی بات کی
“خباب… مبرہ نے جوائن کر لیا ؟؟؟” اس نے پوچھا
“او یار ہمیں تو خود نہیں پتہ… میں ابھی گھر سے باہر نکلا ہوں” وہ بولا, سعد نے ایک دو باتیں کر کے کال کاٹ دی
“مروان سے پوچھتا ہوں… ” اس نے مروان کو کال کی تھی
“ہاں سعد… ؟؟؟”
“مروان… مبرہ حسیب خان نے جوائن کر لیا ہے ؟؟؟”اس نے پوچھا
“نہیں…. انہوں نے refuse کر دیا ہے” مروان کے کہتے پی وہ حیران رہ گیا
“کیوں… ؟؟؟ اپنے شہر نہیں آ رہیں ؟؟”
“فی الحال تو نہیں…. میں تو خود اسی امید پر تھا کہ چلو بی ایس سٹارٹ ہونے سے پہلے وہ جوائن کر لیں گی” مروان نے کہا
“چلو ٹھیک ہے… ” اس نے بجھے دل کے ساتھ کال کاٹ دی
“حد ہے یار… میں نے سوچا تھا کہ وہ کالج جوائن کرے گی تو ساتھ میں اسے اکیڈمی کے لئے بھی فورس کروں گا لیکن… ” سعد نے کندھے اچکاتے ہوۓ کہا تھا
البتہ عفراء ذرا سی مطمئن نظر آئی تھی
اس نے چاۓ کا کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور اس کے سامنے بکھرا سارا حساب کتاب بند کر دیا
“چلیں بس کریں اب یہ ماتم… مجھ سے لے لینا جتنا فرق آ رہا ہے” وہ اس کے گلے میں بازو ڈالتے ہوئے بولی تھی
“بس جتنا فرق آیا ہے اتنا ہی… ؟؟؟” سعد نے اس کے گرد حصار تنگ کرتے ہوئے معنی خیز سے انداز میں پوچھا
“اس سے زیادہ کی گنجائش نہیں ہے فی الحال… ” عفراء نے اس کے چہرے سے اپنا چہرہ ٹکایا تھا اور سعد نے مسکراتے ہوئے اس کے لبوں پر دسترس حاصل کر لی تھی
……………………
وہ سبھی نفوس رات کا کھانا کھا رہے تھے
زوہیب کا ایل ایل بی میں ایڈمیشن ہو گیا تھا سو وہ ابھی ایک ہفتے پہلے ہی ملتان چلا گیا تھا
“اور کسی کو روٹی چاہیے ؟؟؟” حنا روٹیاں بنا رہی تھی
“نہیں بس… آ جا کھانا کھا… اگر کسی کو چاہیے ہوئی تو میں بنا دوں گی” عابدہ نے کہا, حنا چولہا بند کرتے ہوئے اپنی کرسی پر آ بیٹھی, اسامہ کا سکول میں ایڈمیشن کروا دیا تھا, اس سے چھوٹی ارحہ ابھی ایک سال کی تھی
“پتہ نہیں مبرہ نے جوائیننگ دے دی یا نہیں… ؟؟” عابدہ کو یاد آیا
“ارے ہاں… پوچھیں تو سہی, پروفیسر صاحبہ اپنے ہوم ٹاؤن تشریف لے آئیں یا نہیں ؟؟؟” شعیب نے ہنستے ہوئے کہا تھا, حسیب خان نے پانی کا گلاس ختم کرتے ہوئے اسے کال ملائی تھی جو حسب عادت اس نے نہیں اٹھائی, پھر خباب کرتا رہا… بے سود
“کچن میں گھسی ہو گی… ” عابدہ نے کہا
“ابو کنفرم ہی کرنا ہے نا… مروان کو کال کر لیں” شعیب نے کہا, حسیب خان نے سر ہلاتے ہوئے مروان کو کال کی تھی
“کیسے ہیں انکل ؟؟؟” اس نے دوسری بیل پر ہی کال اٹھا لی
“شکر ہے مالک کا…. ” چند رسمی سی باتوں کے بعد وہ مدعے پر آ گئے
“مروان… ہماری پروفیسر صاحبہ نے جوائن کر لیا ؟؟؟” انہوں نے مسکراتے ہوئے پوچھا
“نہیں انکل…. “
“کیوں… ؟؟؟” ان کی مسکراہٹ ماند پڑی تھی, عابدہ بھی ٹھٹھک گئیں
“یہ تو مجھے نہیں پتہ انکل لیکن…. میں نے کل کال کی تھی انہیں…. کل لاسٹ ڈیٹ تھی, لیکن انہوں نے کہا کہ وہ جوائن نہیں کر رہیں…اب تو آرڈرز بھی ایکسپائر ہو گئے ہیں… ” مروان بتاتا چلا گیا, حسیب خان نے مردہ دل سے کال کاٹ دی
“کیا ہوا ابو… ؟؟؟”
“اس نے جوائن ہی نہیں کیا…” انہوں نے بم پھوڑا تھا
“کیا مطلب… ؟؟؟ کیوں جوائن نہیں کیا ؟؟؟” شعیب بے یقین سا تھا
“پتہ نہیں… بس نہیں کیا” ان کا دل اتاہ گہرائیوں میں ڈوبتا جا رہا تھا
“ضرور اس کنجر نے منع کر دیا ہو گا…. وہ چاہتا ہی نہیں ہے کہ مبرہ یہاں آۓ” عابدہ تڑخ گئیں
شعیب نے اسی وقت ولید کو کال کی تھی
“شعیب… بیٹے تحمل سے” حسیب خان نے اسے ٹوکا لیکن وہ بھی ولید احمد تھا
اس نے کال ریسیو کر کے فون مبرہ کو پکڑا دیا
“مبرہ… بچے میری بات سن, میں نے کل لاہور جانا ہے, میں خود تیرے آرڈرز ریوائز کروا دیتا ہوں…” وہ بولا
“شعیب بھائی پلیز… میں جہاں ہوں ٹھیک ہوں, آپ کچھ مت کریں… بس مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں” شعیب نے واضح اس کے لحجے کی نمی محسوس کی تھی
………………………….
بجلی کا بل تیس ہزار آیا تھا, وہ دونوں رات کا کھانا کھا رہے تھے جب رابعہ اسے بل پکڑانے آئی
“امی کہہ رہی ہیں صبح جمع کروا دینا یاد سے… ” وہ بولی
“تیس ہزار…اتنا بل ؟؟؟” مروان کی آنکھیں پھیل گئیں
“یہ سارا مروان نے دینا ہے… ؟؟؟” روحاء اس سے زیادہ حیران تھی
“تو اور کس نے دینا ہے ؟؟؟” رابعہ منہ بنا کر بولی
“اس گھر میں صرف مروان ہی تو نہیں رہتے… تمہارے بڑے دو بھائیوں کی فیملیز بھی رہتی ہیں” روحاء نے کہا
“روحاء جانے دو…. ” مروان نے کہا
“کیوں جانے دوں … یہ کیا طریقہ ہے بھلا, بل اٹھا کر اوپر بھیج دیا جیسے مروان مرزا کا ذاتی بینک ہو, یہ بل واپس لیکر جاؤ اور اپنی دونوں بھابھیوں سے کہو کہ بل میں حصہ ڈالیں…. ” روحاء نے بل رابعہ کو واپس کیا تھا
“روحاء میں کروا دوں گا نا…. ” مروان کو جھگڑے کا الارم بجنا محسوس ہوا تھا
“نہیں… یہ بل آپ تینوں بھائی مل کر دیں گے, مروان آپ نے سب کا ٹھیکہ لے رکھا ہے کیا ؟؟؟؟” روحاء کو غصہ آ گیا, رابعہ چپ چاپ بل لیکر نیچے چلی گئی تھی
“اب دیکھنا ابو مجھے بلا لیں گے…. ” مروان ڈر رہا تھا
“میں خود بات کر لوں گی ان سے… ” روحاء نے کہا
اور مروان کے اندازے کے عین مطابق کچھ ہی دیر بعد اسے کاشف مرزا کا بلاوا آ گیا
روحاء اس کے ساتھ ہی نیچے آئی تھی
“بل واپس کیوں کیا ؟؟؟” انہوں نے پوچھا
“ابو… پچھلے مہینے بھی سارا میں نے ہی دیا تھا” وہ منمنایا
“مروان ایک بجلی کا بل ہی تو بس تمہارے ذمے ہے… باقی تو دونوں اپنا خرچہ خود اٹھاتے…. ” روحاء نے ان کی بات کاٹ دی
“انکل پلیز ذرا بتائیں گے کونسا خرچہ ؟؟؟” وہ بولی
“فرحان اور نعمان ہر مہینے کا راشن, سبزی, دال, سرف… بچوں کی فیسیں, یہ سب کر کے جاتے ہیں…. ” کاشف مرزا کے کہتے ہی روحاء کی ہنسی نکل گئی
“آپ ذرا زویا اور نمرہ کو بلائیں…. اور ان سے پوچھیں کہ انہیں پچھلے کئی مہینوں سے راشن کون ڈلوا کر دے رہا ہے ؟؟؟” وہ زور سے بولی, کاشف مرزا نے بے یقینی سے مروان کی طرف دیکھا
“ابو بس ایک آدھ بار ہی فرحان بھائی ڈلوا کر گئے تھے, اس کے بعد سے تو میں ہی ڈلوا رہا ہوں, نمرہ بھابھی کو بھی سودا میں ہی لا کر دیتا ہوں, دو, تین مہینوں سے سبزی اور دودھ کا بل بھی میں نے ہی دیا ہے… بلکہ….. ” وہ کہتے کہتے رکا
“اس مہینے کی بچوں کی فیسیں اور رکشے کا خرچہ بھی مروان نے ہی دیا ہے” روحاء نے کہا, کاشف مرزا کو یقین نا آیا, اسی وقت زویا کو بلایا
“فرحان راشن وغیرہ کیوں نہیں ڈلوا کر جاتا… ؟؟؟” انہیں غصہ آیا تھا
“انکل… انہوں نے…. مروان کو کہا تھا”
“مروان نے ٹھیکہ لے رکھا ہے اس کا… ؟؟؟” وہ بولے
“سارا خرچہ یہ اٹھا رہا ہے تم لوگوں کا… تو وہ کیا کر رہا ہے چار, پانچ مہینوں سے… ؟؟” ان کی سمجھ سے بالاتر تھا
“انکل… مجھے کیا پتہ… میں تو…. ” زویا سے بولا نا گیا
اس سے پہلے کہ کاشف مرزا فرحان کو کال ملاتے, نمرہ بول پڑی
“انکل فرحان بھائی اور نعمان نے ایک پلاٹ لیا ہے اسلام آباد میں… اس کی قسطیں دینی ہوتی ہیں… ” اس کے کہتے ہی روحاء کے سر پر لگی اور تلوؤں پر بھی نہیں بجھی
“واہ بھئی واہ… میں بھی کہوں کہ فوج میں بھرتی ہو کر بھی اپنی فیملیز کو یہاں کیوں چھوڑا ہوا ہے, کیونکہ یہاں مروان جو ہے… ان کے بیوی بچوں کا پالنے کے لئے, انکو عیاشیاں کروانے کے لیے, حد ہے ویسے بے شرمی کی…. بجلی کے بل سے لیکر راشن تک مروان کرے, سکول کی فیسیں مروان بھرے, سارے لوازمات مروان پورے کرے, دوا دارو مروان کرے… اور خود پلاٹ خریدے جا رہے ہیں” وہ ہتھے سے ہی اکھڑ گئی تھی
“روحاء آہستہ بولو…. ” فرحت کو اس کا یوں بولنا اچھا نہیں لگا
“میں تو اور اونچا بولوں گی…. نوکر ہی بنا دیا ہے مروان کو تو سب نے, پچھلے چھ ماہ سے میں نے نہ جانے اپنی کتنی ضرورتیں محدود کی ہیں کہ گاڑی لینی ہے اور بڑے بھائیوں نے سارا ملبہ مروان پر دھر رکھا ہے… ” وہ بولی
“روحاء…. بس کرو” مروان نے اسے ٹوکا
“مروان قصور سارا آپ کا ہے… اور منہ میں گھنگھیاں دے لیں, ہر بات پر جی, ہر بات پر جی… حد ہو گئی” وہ چیخ کر بولی تھی
“سنو… اتنا گلا پھاڑنے کی ضرورت نہیں ہے…مروان بیٹا ہے اس گھر کا, اگر خرچے اٹھا بھی لیے تو کیا ہو گیا ؟؟؟” رابعہ نے کہا
“کیوں مروان نے پیدا کیا ہے تم سب کو جو تم سب کے خرچے اٹھاۓ… ” روحاء تنک کر بولی تھی
“روحاء… ” مروان زور سے بولتے ہوۓ اس کی طرف مڑا اور اسے بازو سے جکڑا
“جاؤ اوپر…. ” وہ شائد پہلی بار اس پر اتنا اونچا چلایا تھا
“مروان…. ” روحاء بے یقین سی تھی
“میں نے کہا….. اوپر جاؤ” وہ بولا, روحاء اسے قہر بار نظروں سے گھورتے ہوۓ اوپر چلی گئی تھی
…………………….
زوہیب ایک پرائیوٹ بینک میں انٹرویو دینے گیا تھا, وہاں اس نے ولید کو دیکھا, وہ نہ جانے کس کام سے آیا تھا, لیکن زوہیب کو دیکھ کر ادھر ادھر ہو گیا
زوہیب نے گھر آتے ہی حسیب خان کو بتایا, شعیب بھی ویک اینڈ پر گھر آیا ہوا تھا
“ابو مجھے پکا یقین ہے کہ وہ وہاں انٹرویو دینے ہی آیا تھا… ” زوہیب نے کہا
“لیکن اس کی تو سرکاری نوکری ہے… ” حسیب خان کشمکش میں پڑ گئے
“ابو… وہ پچھلے کئی دنوں سے جاب پر نہیں جا رہا, مبرہ اکیلی ہی جاتی ہے, بڑی مشکلوں سے اس نے سرسری سا حنا بھابھی کو بتایا تھا کہ ولید نے چھٹی لی ہوئی ہے” زوہیب نے کہا
“ابو یہ پتہ لگانا کونسا مشکل ہے… خباب, سعد کو تو کال کر ذرا… ابھی پتہ جاۓ گا” شعیب نے کہا, خباب نے فی الوقت اس کے سینٹر کو جوائن کیا ہوا تھا
اس نے اسی وقت سعد کو کال ملا لی
سلام دعا کے بعد وہ مدعے پر آیا تھا
“سعد ایک بات پوچھنی تھی یار… “
“ہاں بولو… ؟؟؟”
“ولید نے کوئی چھٹی وغیرہ اپلائی کی ہوئی ہے کیا ؟؟؟” اس نے پوچھا
“اس نے تو مستقل چھٹی ہی اپلائی کر دی ہے” سعد نے کہا
“کیا مطلب ؟؟؟”
“آپ لوگوں کو نہیں پتہ ؟؟؟”
“کیا نہیں پتہ… ؟؟؟” خباب ٹھٹھک گیا
“اسے تو نوکری چھوڑے ایک مہینہ ہو گیا ہے” سعد نے اس کی سماعتوں پر بم پھوڑا تھا, خباب دم بخود رہ گیا
“مبرہ نے بتایا نہیں… ؟؟؟” سعد اس کی خاموشی کا مطلب سمجھ گیا تھا
“نہیں… اس سے کافی عرصے سے بات نہیں ہوئی” وہ دھیرے سے بولا
“فی الحال کچھ نہیں کر رہا وہ… بس ادھر ادھر ایک دو انٹرویوز دییے ہیں” سعد نے کہا تھا
“تھینک یو سعد” خباب نے جبری سا مسکرا کر کہتے ہوئے کال کاٹ دی
“کیا ہوا ؟؟؟” سب کا مشترکہ سوال تھا, خباب نے من و عن ساری بات دہرا دی
“مجھ سے لکھوا لیں…. مبرہ کو بھی نہیں پتہ ہو گا” شعیب کے غصے کا کوئی حال نہیں تھا
“کال کر اسے… ” عابدہ نے کہا
“رہنے دیں کال کرنے کو… وہ کونسا سچ بولے گی… ہم خود ہو آتے ہیں” شعیب کھڑا ہو گیا
“شعیب تو رہنے دے… ” حسیب خان نے کہا
“ابو میں ضرور جاؤں گا… ” وہ بولا
“میں نے کہا نا… تو رہنے دے, خباب گاڑی نکال” وہ اٹھتے ہوئے بولے تھے, ابھی پچھلے دنوں ہی شعیب نے گاڑی نکلوائی تھی
خباب نے فوراً گاڑی نکالی اور حسیب اور عابدہ کو لیکر دس منٹ میں مبرہ کے سسرال پہنچ گیا, رات کا وقت تھا, وہ حسب معمول کچن میں کھڑی تھی
“یہ کچن تو مجھے لگتا ہے منہ دکھائی میں ملا ہے تجھے… ” عابدہ اسے دیکھ کر کلس گئی تھیں
“امی میں بس چاۓ بنا رہی تھی… “
“ولید کہاں ہے ؟؟؟”
“اندر ہیں… سب خیر ہے امی ؟؟؟” اس کا دل ہولنے لگا تھا
عابدہ اور حسیب خان اس کے کمرے کی طرف آ گئے, ولید کسی سے کال پر مصروف تھا, وہ تینوں ادھر ادھر جگہ بنا کر بیٹھ گئے
“ابو میں چاۓ لیکر…. “
“مبرہ یہاں بیٹھ جا” عابدہ نے درشتگی سے کہا تھا, شمیم اور ولید کا باپ بھی وہیں آ گئے
“یہ اس اچانک چھاپے کا مقصد… ؟؟؟” وہ اٹھ کر ملا بھی نہیں تھا
“کتنا عرصہ ہو گیا نوکری چھوڑے ؟؟” حسیب خان نے ڈائریکٹ نشانہ مارا تھا, ایک لمحے کو تو ولید گڑبڑا گیا, مبرہ نے حیرت سے پھٹتی ہوئی نظروں سے اسے دیکھا تھا
“کیا مطلب ؟؟؟”
“مطلب صاف ظاہر ہے داماد جی… نوکری کیوں چھوڑ دی ؟؟؟” انہوں نے پھر پوچھا
“میری نوکری… میری مرضی” وہ ڈھٹائی سے بولا
“تو جب خود نوکری چھوڑ کر سفر کی مصیبت سے جان چھڑوا لی تھی تو اس بیچاری کو ٹرانسفر کیوں نہیں کروانے دیا ؟؟؟” عابدہ ایک دم تیزی سے بولیں, مبرہ نے بے یقین نظروں سے ولید کی طرف دیکھا
“ولید آپ تو کہہ رہے تھے کہ بس پندرہ دن کی چھٹی ہے… ” وہ صدمے سے پھٹتی ہوئی آواز میں بولی
“انکل… میں جاب رکھوں یا چھوڑ دوں…. یہ سراسر میرا ذاتی مسئلہ ہے, آپ لوگوں کو اس میں دخل اندازی کی ضرورت نہیں ہے” وہ رکھائی سے بولا
“کیوں نہیں ہے… ؟؟؟ ایک مہینے سے تم گھر پر بیٹھے ہو, چھوٹے دونوں بھی کوئی خاص نہیں کماتے, دس, گیارہ افراد کھانے والے ہو, کس کے سر پر چل رہا ہے خرچہ… ؟؟؟ مبرہ کے سر پر نا… ؟؟؟” عابدہ نے کہا
“مبرہ کے آنے سے پہلے بھی ہم سویرے شام روٹی کھاتے تھے میری بہن… ” شمیم کو اچھا نہیں لگا
“بہن مجھے پہلے کا تو کچھ نہیں پتہ لیکن اب آپ کا پورا ٹبر مبرہ کے سر پر ہی چل رہا ہے, اور یہ ظالم انسان اسے جان بوجھ کر یہاں ٹرانسفر نہیں کروانے دیتا, جب میں آؤں میری بچی کچن میں گھسی ہوتی ہے, جب کال کر لو مبرہ مصروف ہوتی ہے, مہینوں گزر جاتے ہیں ہمیں اس کی شکل دیکھے, اس کی آواز سنے, گھن چکر بنا دیا ہے آپ لوگوں نے میری بیٹی کو… ؟؟؟” عابدہ کا سارا ضبط جواب دے گیا تھا
“اتنے ہی ظلم کی چکی میں پس رہی ہے نا آپ کی بیٹی تو لے جائیں اسے… جائیں, جاؤ اپنی ماں کے ساتھ دفع ہو جاؤ” ولید یکدم تن فن کرتا بستر اسے اترا اور مبرہ کو بازو سے جھٹکا دے کر عابدہ کی طرف دھکیلا تھا, خباب کو قہر چڑھ گیا, تیر کی طرح اٹھ کر وہ ولید کی طرف آیا
“خبردار جو میرے سامنے میری بہن کے بارے میں ایک بھی. اور لفظ بکواس کیا تو ؟؟؟” بس ولید کا گریبان پکڑنے کی ہی کسر رہ گئی تھی
“خباب… بیٹھ جاؤ, پیچھے ہٹو” حسیب خان بیچ میں آۓ تھے
“مبرہ… بیٹے تیرا حق مہر کتنا تھا ؟؟؟” انہوں نے پوچھا
“پچاس ہزار…. “
“پانچ ہزار دیا تھا میرے سامنے … باقی کا ادا کر دیا تھا اس نے ؟؟”
“وہ.. نہیں ابو…. وہ میں نے معاف کر دیا تھا انہیں” مبرہ نے اٹکتے ہوۓ کہا
“اور تمہارا زیور کہاں ہے ؟؟؟ جو انہوں نے بڑا پرچار کر کے ڈالا تھا…. سات تولے…؟؟؟”
“ابو…. وہ… واپس لے لیا تھا, دو دن بعد…. ” مبرہ ان سے نظریں نا ملا سکی
“اور میکے والا… ؟؟؟” عابدہ نے غصے سے پوچھا
“امی… ولید کو پیسوں کی ضرورت تھی تو… وہ زیور… لیز پر رکھوا دیا تھا” وہ دھیرے سے بولی, ولید بس تاؤ کھاۓ جا رہا تھا
“شادی کے وقت تیرے بینک میں پانچ لاکھ روپے جمع تھے… وہ کہاں گئے ؟؟؟” اگلا سوال
“ابو… پلیز… ” مبرہ نے التجاییہ سی نظروں سے انہیں دیکھا
“اس وقت کتنے پیسے ہیں تیرے پاس… ؟؟” حسیب خان نے اس کی سنی ان سنی کرتے ہوئے پوچھا تھا, مبرہ کی انکھیں بھر آئیں, اور عابدہ کی بس ہو گئی
یکدم ہی انہوں نے مبرہ کا ہاتھ تھاما تھا
چل اٹھ کھڑی ہو… چل ہمارے ساتھ, بس بہت ہو گیا…” وہ اسے لے کر دروازے کی طرف بڑھی تھیں
“بہن بات تو سنیں… آخر بات کا بتنگڑ بنانے کی کیا ضرورت ہے…؟؟؟” اس نے اگر شوہر کی ضرورت کے پیش نظر اپنے پیسے اسے دے بھی دیے تو کیا ہوگیا..؟؟؟ بیویاں تو پتا نہیں کیا کچھ کر جاتی ہے شوہروں کے لئے…؟؟؟” شمیم جلدی سے اٹھ کر ان کے سامنے آئی تھی
“شوہر بھی بڑا کچھ کرتے ہیں بیویوں کے لئے… وہ بھی پتہ ہے تمہیں بہن کے نہیں…؟؟؟” ان کے غصے کا کوئی حال نہیں تھا
“شادی کے محض چھ ماہ بعد ہی اس خبیث نے میری بچی کو فقیر بنا دیا… بہن ہم نے اپنے گھر میں کوئی جانور بھی پالا ہو نا تو اس کی بھی ضروریات کا خیال رکھا جاتا ہے… اس کے کھانے پینے کا, اس کی صحت کا… اور اپ لوگوں نے میری بچی کے ساتھ کیا کیا… ؟؟؟شکل دیکھیں اس کی…صحت دیکھیں اس کی…؟؟؟” عابدہ اس پر برس ہی پڑیں
“بہن میری کچھ نہیں ہوا تیری بچی کو… سارا گھر خیال رکھتا ہے اس کا” شمیم نے انہیں ٹھنڈا کرنا چاہا
“بہن… مجھے بس یہ بتا دیں کہ جب اس نے خود نوکری چھوڑ دی تھی تو پھر میری بچی کو ٹرانسفر کیوں نہیں کروانے دیا…؟؟؟ صبح شام پریگنینسی کی حالت میں وہ سفر کرتے ہوئے خوار ہوتی ہے, اس بے غیرت سے تو اتنا نہیں ہوتا کہ اسے صبح اٹھ کر اسٹاپ پر ہی چھوڑ آئے اور واپسی پر گھر لے آئے…” عابدہ نے کہا
“بہن ہم مانتے ہیں ہماری غلطی ہے… ولید نے بس اس لیے آپ سب کو نوکری چھوڑنے کا نہیں بتایا کہ آپ لوگ خواہ مخواہ پریشان ہوں گے, یہ جلد ہی کوئی اور نوکری ڈھونڈ لے گا… دو تین جگہ پر انٹرویوز دیے ہیں اس نے ” شمیم کی آنکھیں دکھانے پر ولید کے باپ نے کھنکار کر کہا تھا
جب کہ مبرہ تو بس یقین سی نظروں سے ولید کو ہی دیکھے جا رہی تھی, کوئی دو, ڈھائی گھنٹے تک بحث ہوتی رہی, ولید ایک فیصد بھی اپنی غلطی ماننے کو تیار نہیں تھا, خباب اور حسیب خان کے سامنے ہنوز اپنی گردن میں سریا ڈالے بیٹھا رہا
“مبرہ… بچے اٹھ چل ہمارے ساتھ…” خباب نے تھک ہار کر کھڑے ہوتے ہوئے کہا تھا
“خباب بھائی پلیز…. آپ پریشان نہ ہوں , مجھے کچھ نہیں ہوگا…اب جب دوبارہ ٹرانسفر کھلیں گے تو کروا لوں گی ٹرانسفر” مبرہ نے صورتحال کو ذرا ریلیکس کرنا چاہا تھا
” امی پلیز میں ٹھیک ہوں… اللہ ولید کی نوکری کا کوئی اور سبب بنا دے گا, آپ پریشان نہ ہوں” وہ آنکھوں ہی انکھوں میں ماں کو تسلیاں دے رہی تھی
” یہ سب کچھ تیری شہہ پر ہوا یے مبرہ… مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتی کہ تجھے آخر احساس کمتری کس چیز کا ہے…؟؟؟ کیوں تو نے ان اجڈ اور گنوار لوگوں کو اپنے سر پر چڑھا لیا ہے, ابھی بھی وقت ہے… اتار کر پھینک دیے انہیں اپنے سر سے ورنہ تجھے زندہ درگور کر دینگے” عابدہ کا دل اسے دیکھ دیکھ کر پھٹ رہا تھا
“امی چلے آئیں… جب اس نے خود ہی کنوئیں میں چھلانگ لگانے کا فیصلہ کر لیا ہے تو پھر بھلا ادسے کون روک سکتا ہے…؟؟؟” خباب عابدہ کا ہاتھ پکڑ کر باہر نکل گیا
حسیب خان نے تاسف سے مبرہ کی طرف دیکھا تھا
“میں نے ہمیشہ یہی کہا ہے کہ میری بیٹی پرفیکٹ ہے..م میرا خدا گواہ ہے میں نے یہ کبھی نہیں کہا کہ میری بیٹی میں کوئی کمی ہےمممم یہ سبق تو میں نے تجھے کبھی پڑھایا ہی نہیں مبرہ لیکن… تو نے ناجانے کہاں سے یہ سبق سیکھ لیا ہے” وہ انتہائی دکھ سے کہتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئے تھے
اور ان کے جانے کے بعد مبرہ کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ایک الگ ہی داستان تھی
…………………….
مروان نے گاڑی لے لی تھی
رات آٹھ بجے کا وقت تھا جب وہ گاڑی لیکر گھر میں داخل ہوا, فی الحال سیکینڈ ہینڈ ہی لی تھی, زویا اور نمرہ کے بچوں نے اس کے گرد جمگھٹا ڈال دیا, رابعہ اور فرحت بھی باہر نکل آئی تھیں
روحاء نے اپنے کمرے کی کھڑکی سے اسے دیکھا لیکن نیچے نا اتری, وہ مروان سے بالکل بات نہیں کر رہی تھی
بچوں نے سر کرنے کی رٹ ڈال دی تھی, وہ انہیں ٹالتا ہوا کچھ دیر بعد وہ اوپر چلا آیا, روحاء دھلے ہوئے کپڑے تہہ لگا رہی تھی
“اتنے دنوں سے گاڑی گاڑی کر رہی تھیں… اب دیکھی بھی نہیں ” مروان موبائل اور چابیاں میز پر رکھتا ہوا اس کی طرف آیا, روحاء چپ چاپ کپڑے تہہ لگاتی رہی
“روحاء… میری جان اب ناراض ہی رہنا ہے” مروان نے بہت محبت سے اسکے گرد حصار بنایا تھا, پھر اپنا چہرہ اس کے کندھے پر رکھ دیا, روحاء کا ساتواں مہینہ ختم ہونے والا تھا
“روحاء…. ایم. سوری یار… ” وہ ہولے ہولے اس کی گردن کع چومتا چلا گیا
“مروان میں آپ کی خاطر بولی تھی…صرف اور صرف آپ کی خاطر” روحاء کی آواز بھر آئی
“اچھا میں سوری کر رہا ہوں نا… پلیز معاف کر دو, میں نے تمہیں تو کبھی کوئی کمی نہیں ہونے دی نا…. ” وہ اسے پوری طرح اپنے حصار میں لے چکا تھا
“مجھے دکھ ہوتا ہے مروان…. جب یہ سب جونک بن کر آپ کا خون نچوڑتے ہیں” وہ بولی, مروان نے ایک ہاتھ سے اس کا چہرہ اپنی طرف موڑا
“ایم سوری…. ” بہت نرمی سے اس نے روحاء کے لبوں کو اپنی دسترس میں لیا تھا
“چلو کہیں گھوم کر آتے ہیں… میں اپنی جان کو ڈنر کروا کر لاتا ہوں” وہ بہت محبت سے اس کا چہرہ چومتے ہوۓ بولا تھا
“صرف میں اور آپ… اور کوئی نہیں” روحاء نے شکوہ کناں نظروں سے اسے دیکھا
“ہاں… بس میں اور تم…. واپسی پر انکل اور آنٹی سے مل کر آئیں گے” مروان نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا تھا
وہ اس کے ساتھ سہج سہج کر چلتی نیچے اتر آئی
“چاچو… ہم نے بھی جانا ہے” زویا کے تینوں بچے بھاگتے ہوئے آ گئے
“چاچو میں بھی… ” اوپر سے نمرہ والا بھی دوڑا آ گیا
“اوۓ… کوئی بچہ نہیں جاۓ گا, تم لوگوں کو کل سیر کرواؤں گا” مروان نے گاڑی ان لاک کرتے ہوئے کہا
“چاچو… مجھے نہیں پتہ… ماما” ان دونوں نے ایک دم گلا پھاڑ کر رونا شروع کر دیا
“کیا ہوا ؟؟؟” زویا بھاگ کر باہر نکلی تھی
“بھابھی انہیں کل. لے جاؤں گا ” وہ بولا, روحاء چپ چاپ ایکطرف کھڑی تھی, زویا کے بیٹے کی دیکھا دیکھی نمرہ کے بیٹے نے بھی اچھا ہی گلا پھاڑا تھا
“مروان… بس اسے لے جاؤ” زویا نے کہا
“بھابھی پھر عفان بھی ضد کرے گا… ” وہ مجبور ہوا کھڑا تھا
“مروان میں بھی چلوں ؟؟؟رابعہ اندر سے بھاگی آئی
“یہاں تو بچے لیجانا دوبھر ہو رہا ہے اسے…. اور تم آ جاؤ” زویا کلس گئی
“مروان میں, عفان اور حسن چلتے ہیں بس… ” رابعہ فل ٹائم تیار تھی
“مروان… انہیں گھما لائیں, میں نہیں جا رہی” روحاء بوجھل دل. کے ساتھ کہتے ہوئے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی تھی
“روحاء سنو تو… ” مروان بس اسے پکارتا ہی رہ گیا
“مروان چلو بھی… ہر وقت اس کے ناز نا اٹھاۓ جایا کرو, چلو حسن, عفان… آ جاؤ” رابعہ بھاگ کر گاڑی میں گھس گئی تھی
مروان بس اسے گھورتا ہوا گاڑی نکال لے گیا
روحاء کمبل تان کر گھٹ گھٹ کر رو دی تھی
……………………
جاری ہے