Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

کاشف مرزا اور فرحت بیگم دونوں انہیں مبارکباد دینے آۓ تھے, حسیب خان نے بڑا پر تکلف سا کھانا بنوایا تھا, مبرہ بہت خوش تھی
گرے کلر کے خوبصورت سے سوٹ میں ملبوس, سر پر میچنگ کا دوپٹہ اوڑھے, بالوں کو سلیقے سے سمیٹے ہوئے وہ فرحت کو بہت اچھی لگی تھی
کھانا بڑے خوشگوار موڈ میں کھایا گیا
اور کھانے کے بعد کاشف مرزا نے اپنا مدعا حسیب خان کی فیملی کے آگے رکھ دیا
“کاشف… پہلے مروان سے تو پوچھ لیتے” فرحت نے ان کا ذرا سا ہاتھ دبایا تھا
“اس سے بھی پوچھ لیں گے” وہ سرگوشی میں بولے
عابدہ بیگم کو بھلا کیا اعتراض ہوتا, کاشف مرزا کی ساری فیملی حسیب کی دیکھی بھالی تھی, وہ دونوں لنگوٹیا دوست تھے سو چھان بین کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی, مروان کے قد کاٹھ پر تو وہ تب کوئی اعتراض کرتیں اگر ان کی اپنی بیٹی میں سرخاب کے پر لگے ہوتے, پانچ فٹ, تین انچ قد کے ساتھ انہیں مبرہ کے رشتے کی کتنی فکر تھیں یہ بس وہی جانتی تھیں
اب کاشف مرزا کے منہ سے مروان کا نام سن کر انہیں بہت خوشی ہوئی تھی, مبرہ یکدم ہی ٹھٹھک گئی
“مروان کی نوکری بھی ہو گئی ہے بھابھی… ماشاءاللہ گزیٹیڈ آفیسر ہے, مبرہ بھی ماشاءاللہ بہت ذہین ہے, انشاءاللہ آنے والے وقت میں اسے بھی بہت اچھی سی پوسٹ مل جاۓ گی, دونوں ایک دوسرے کے برابر میں کھڑے ہو کر بہت اچھے لگیں گے” کاشف مرزا کہتے چلے گئے
“مجھے بھلا کیا اعتراض ہو سکتا ہے کاشف بھائی, آپ اور حسیب برسوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں, انکار کا تو کوئی جواز ہی نہیں ہے” عابدہ نے کہا, ان کے پیچھے کھڑی مبرہ کے دل پر ایک قیامت آ گئی تھی
ابھی تو محبت کی شروعات ہوئی تھی اور… شروعات میں ہی اختتامیہ بھی ہونے لگا تھا
“ٹھیک ہے پھر حسیب… ہم لوگ ایک دفعہ مروان سے بات کر لیں, پھر کچھ دنوں تک دوبارہ چکر لگاتے ہیں, فرحان اور عروج کو بھی لیکر آؤں گا… ” کاشف مرزا اپنے بڑے بیٹے اور بہو کا نام لیتے ہوئے کھڑے ہو گئے
“اور مبرہ بیٹے… ہم لوگ اگلی بار پھر کھانا کھا کر جائیں گے” انہوں نے مبرہ کی غیر ہوتی حالت سے قطع نظر اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا
……………………..
مروان نے پوری طرح اپنی جسمانی خامیوں پر دنیاوی خوبیوں کا ملمع کرنا شروع کر دیا تھا
اس کا قد کسی بھی شہزادی نما لڑکی کی ڈیمانڈ سے چھوٹا تھا, رنگت بھی سانولی سی تھی, اس کی پیدائش بھی ساتویں مہینے میں ہی ہو گئی تھی سو اکثر ہی اس کے ساتھ عارضے لگے رہتے تھے
صحت بھی بس مارے باندھے ہی تھی, دیکھنے میں وہ لڑکیوں سے بھی زیادہ سمارٹ لگتا تھا, اور ڈیل ڈول ایسا تھا کہ کچھ پہنا ہوا بھی اچھا نہیں لگتا تھا
کالج جوائن کرتے ہی اس نے اکیڈمی سیکینڈ ٹائم کر لی, اس کی ذہانت پر کسی کو کوئی شبہ نہیں تھا, وہ ایم فل گولڈ میڈلسٹ تھا
بچے اس سے پڑھ کر بڑی جلدی مطمئین ہو جاتے تھے, دھیرے دھیرے اس نے اپنی اکیڈمی میں کمپیوٹر کے پرائیویٹ کورسز بھی شروع کروا دیئے , وہ چونکہ کالج لیکچرار تھا اسلیے بھی بچے دھڑا دھڑ اس سے پڑھنے کے لئے آتے تھے
محنت کوئی ایک آدھ دن کا کھیل نہیں ہوتی, لکھنے میں شاید صرف چار الفاظ ہوں کہ مروان مرزا نے اپنے بل پر ایک سائنس اکیڈمی نا صرف کھڑی کر لی بلکہ اسے انتہائی کامیاب بھی بنا دیا لیکن حقیقت میں یہ کئی سالوں کا کھیل ہوتا ہے… انتھک محنت
اس دن بھی اس کی اکیڈمی میں ایک چھوٹا سا فنکشن تھا, اس نے خود روحاء کو کال کر کے انوائیٹ کیا تھا
“آپ میری سب سے سینئر بی ایس سٹوڈنٹ ہیں, آئیں گی تو اچھا لگے گا” وہ بولا
“میں ضرور آ جاؤں گی سر… مجھے تو ویسے بھی فنکشنز اٹینڈ کرنا بہت پسند ہے”وہ بولی, مروان بس مسکرا کر رہ گیا
اور وہ واقعی آ گئی تھی
مروان نے پہلی بار اسے اتنی تیاری کے ساتھ دیکھا تھا
وہ بلا شبہ بے حد حسین تھی, اس کی سیاہ ریشمی زلفیں اس نے آج دیکھی تھیں اور دعا کی تھی کہ ان کی چھاؤں ہمیشہ اسی کا مقدر رہے, اس کی جان لیوا مسکراہٹ سے سو بار مر جانے کی خواہش کی تھی
افسوس کہ اس کے پاس صرف دو ہی آنکھیں تھیں
روحاء… آپ پلیز ذرا میرے آفس آئیں گی ؟؟؟ اس نے کچھ دیر بعد روحاء کو ٹیکسٹ کیا تھا, وہ اپنا دوپٹہ سنبھالتی ہوئی اس کے آفس چلی آئی
“جی سر…. ؟؟؟” وہ کھڑی تھی
“روحاء بیٹھ جائیں… “
“آج کے بعد آپ مجھے مروان کہہ سکتی ہیں… آفٹر آل اب میں آپ کا ماسٹر جی نہیں ہوں” وہ بولا
“سر آپ ہمیشہ میرے ماسٹر جی رہیں گے” وہ ہنستے ہوئے بولی تھی
“روحاء مجھے آپ سے ایک پرسنل سی بات کرنی ہے, میں جانتا ہوں کہ مجھے یہ بات آپ کی بجاۓ آپ کے والدین سے کرنی چاہئے اور میں ان سے بھی لازمی کروں گا, بس مجھے آپ کی مرضی جاننی ہے روحاء… ” وہ کہنا شروع ہوا, روحاء ذرا سا ٹھنکی تھی
“میں اگلے مہینے پورے چھبیس سال کا ہو جاؤں گا… میں مانتا ہوں کہ مجھ میں بہت ساری خامیاں ہیں لیکن… ان تمام ظاہری خامیوں سے قطع نظر… ” وہ کہتے ہوئے رکا
“میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں” وہ کہہ گیا تھا, روحاء فوراً سے کچھ بول نہیں سکی تھی
“میرے پاس ایک اچھی جاب ہے روحاء, شہرت ہے, دولت بھی ہے… فیملی بیک گراؤنڈ بھی اچھا ہے… اگر آپ کو کوئی اعتراض نا ہو تو میں اپنے گھر والوں کو آپ کی طرف بھیج دوں گا” وہ بولا
“دیکھیں سر…. میں کسی بھی بارے میں اتنی جلدی کوئی راۓ قائم نہیں کر سکتی, میری راۓ, میرے امی ابو کی راۓ کے ساتھ ہی مکمل ہو گی” وہ دھیرے سے بولی تھی
………………………
اسے سعد کی کال آئی تھی, وہ اسے اپنا کوچنگ سینٹر جوائن کرنے کے لئے کہہ رہا تھا
“آپ روحاء کو کیوں نہیں رکھ لیتے ؟؟” اس نے پوچھا
“وہ نہیں آنا چاہتی… اسے قطعی شوق نہیں ہے میرے کوچنگ سینٹر میں ذلیل ہونے کا” وہ مسکراتے ہوئے بولا
“ابو سے بات کر لینے دیں…. ” مبرہ کا یہ فضول سا جواز اس نے خود ہی ختم کر دیا, وہ اس رات بذات خود اس کے گھر چلا آیا, حسیب خان اسے اچھی طرح جانتے تھے, وہ مبرہ کے منجھلے بھائی کا کلاس فیلو بھی رہا تھا
“انکل میں آپ سے ایک اجازت لینے آیا تھا” وہ بولا, چاۓ مبرہ ہی لیکر آئی تھی
“میں چاہتا ہوں کہ مبرہ میرا کوچنگ سینٹر جوائن کر کرے” اس نے مدعا عرض کہا, انہوں نے مبرہ کی طرف دیکھا
“مجھے تو کوئی اعتراض نہیں اگر… مبرہ چاہے تو؟؟” وہ بولے, سعد نے مبرہ کی طرف دیکھا
“میرے پاس کوئی تجربہ نہیں ہے… ” وہ بولی
“کوئی مسئلہ نہیں… دھیرے دھیرے آ جاۓ گا” سعد نے کہا
“سعد بیٹا یہ سارا دن گھر پر فارغ ہی ہوتی ہے, ہانڈی روٹی اس کی ماں نے اسے بی ایس کے دوران ہی سکھا دی تھی, بس ایک اپنا کمرہ ہی صاف کرنا ہوتا ہے اس نے, یا پھر اپنے کپڑے استری کر لیتی ہے… یا پھر کسی آۓ گئے کے لئے چاۓ بنا دیتی ہے…. ” حسیب خان ہنستے ہوئے کہتے چلے گئے , مبرہ کو ڈھیروں خفت نے آ گھیرا
“ٹھیک ہے پھر مبرہ… کل سے انشاءاللہ شام تین بجے سے” سعد نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
………………………
وہ اس دن روحاء سے ملنے آئی تھی, مروان کے گھر والوں کی تلوار ہمہ وقت اس کے سر پر لٹک رہی تھی, کاشف مرزا کسی بھی وقت مروان کا رشتہ لیکر آ سکتے تھے
وہ مسلسل ٹینشن کی حالت میں تھی, بی ایس ختم ہونے کے بعد روحاء سے بات چیت بھی مسلسل نہیں ہو رہی تھی سو اس دن وہ اس کے گھر چلی آئی
روحاء بڑی گرمجوشی سے ملی, خود اس کے لئے چاۓ بنا کر لائی
“روحاء… یار میں نے تجھ سے ایک بات کرنی تھی” وہ بولی
“او یار میں نے بھی تیرے سے ایک بات کرنی ہے… ” روحاء نے بھاگ کے دروازہ بند کیا تھا
“کیا ہوا ؟؟” مبرہ ٹھٹھک گئی
“مبرہ… وہ مروان مرزا ہے نا…. اس نے مجھے پروپوز کیا ہے” روحاء نے اس کے سر پر دھماکہ کیا تھا, مبرہ بس ساکت سی اسے دیکھتی رہ گئی
“اس نے خود تجھ سے کہا ؟؟؟”
“ہاں… اکیڈمی میں, اپنے آفس میں بلا کر” روحاء نے کہا
“کہہ رہا تھا کہ پیرنٹس کو بھی بھیجے گا” وہ بولی, مبرہ ششدر سی رہ گئی
اگر مروان روحاء میں انٹرسٹڈ تھا تو… کاشف مرزا نے اس کے اور مبرہ کے رشتے کی بات کیوں کی ؟؟؟ کیا ابھی انہیں مروان کی پسند کے بارے میں کچھ پتہ نہیں تھا… ؟؟؟
“مبرہ… ” روحاء نے اس کا بازو ہلایا
“ہاں… “
“تو کیا کہہ رہی تھی ؟؟؟” اس نے پوچھا
“میرے لئے ایک رشتہ آیا ہے روحاء… امی اور ابو دونوں راضی ہیں, کچھ دنوں تک وہ سب گھر والے آئیں گے” مبرہ نے اسے مروان کے بارے میں بتانا مناسب نہیں سمجھا
“اوہو… پھر اب ؟؟؟” وہ بولی
“روحاء میں کیا کروں یار… میں نہیں بھول پا رہی اسے” مبرہ بے بس سی ہو گئی
“دیکھ مبرہ…. فی الحال تیرے سامنے دو ٹاسک ہیں, ولید تک رسائی اور اس تک رسائی تک گھر والوں کو روکے رکھنا… پہلے کیا کرنا ہے ؟؟؟” روحاء نے پوچھا
“گھر والوں کو روکنا ہے ” وہ فوراً بولی
“تو بس پھر اپنی امی سے بات کر… انہیں انکار کر دے” روحاء نے کہا
“کیسے کروں… ؟؟؟ وہ ابو کے جگری دوست ہیں یار, پچیس سالوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں” مبرہ انتہائی پریشان تھی
“ایک چیز تو قربان کرنی پڑے گی نا مبرہ… محبت یا مان… ؟؟؟” وہ بولی, مبرہ خاموش رہ گئی
“ایک بار اس رشتے سے انکار کر… پھر آگے کا دیکھتے ہیں” روحاء نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا
……………………..
انہوں نے مروان کو اپنے کمرے میں بلایا تھا, وہاں کاشف مرزا اور فرحت کے علاوہ اس کا بڑا بھائی بھی موجود تھا
“مروان بیٹھ یار… تجھے سے ایک ضروری بات کرنی ہے” کاشف مرزا نے کہا, وہ کرسی پر بیٹھ گیا
“میں اور فرحت اس ہفتے حسیب کی طرف جانا چاہ رہے ہیں… ماشاء اللہ اب تیری نوکری بھی ہو گئی ہے تو میرے خیال سے اب تیری اور مبرہ کی شادی کر…” مروان نے ایک دم انہیں ٹوکا
“مبرہ… ؟؟؟” وہ حیران تھا
“حسیب کی اکلوتی بیٹی ” کاشف مرزا نے کہا
“ابو… پلیز, میں خود آپ سے یہ بات کرنے والا تھا, مجھے مبرہ سے شادی نہیں کرنی… میں کسی اور کو پسند کرتا ہوں ” اس نے بم پھوڑ دیا
اور یہ بم حسیب خان کے گھر ان کی اکلوتی بیٹی بھی پھوڑ چکی تھی
حسیب اور عابدہ دونوں حیرانی سے اسے دروازے میں کھڑا دیکھ رہے تھے
“لیکن آخر مروان کے رشتے سے انکار کی وجہ کیا ہے؟؟؟” حسیب خان نے پوچھا
“ابو… بس مجھے وہ اچھا نہیں لگتا” مبرہ نے کہا
“تو نے کہاں دیکھ لیا اسے… ؟؟؟” عابدہ نے پوچھا
“انٹر کے دوران دیکھا تھا… ایک دو بار, اکیڈمی میں” وہ بولی
“مبرہ… بچے میں جانتا ہوں کہ مروان دیکھنے میں اتنا ہینڈسم اور ڈیشنگ نہیں ہے لیکن… وہ ایک بہت اچھا انسان ہے بیٹے” حسیب خان نے کہا
“ابو… بات اس کے ہنڈسم یا ڈیشنگ ہونے کی نہیں ہے… میں خود کیا ہوں ؟؟؟ کچھ بھی نہیں… لیکن ایک انسان کے لئے میرا دل ہی راضی نہیں ہے تو پھر… ؟؟؟ وہ مجھے اچھا ہی نہیں لگتا تو پھر ؟؟؟” وہ بولی, آنکھیں پانی سے بھر گئی تھیں
“مبرہ… کوئی اور وجہ تو نہیں ہے نا… کسی لڑکے کا چکر تو نہیں ہے ؟؟؟” عابدہ کو غصہ آ گیا, مبرہ کا دل چاہا کہ ہاں کہہ دے لیکن…. عابدہ کے تیور دیکھ کر ڈر سی گئی
“نہیں امی… کوئی نہیں ہے, بس مجھے مروان سے شادی نہیں کرنی” وہ سر جھکا کر بولی تھی
دوسری جانب کاشف مرزا بھی ششدر سے اسے دیکھ رہے تھے
“کون ہے وہ… ؟؟؟”
“میرا ایک دوست ہے سعد مغل… اس کی سسٹر ہے… روحاء مغل” وہ بولا
“آپ پلیز اس کے گھر رشتہ لیکر جائیں ” وہ بولا
“مروان میں حسیب سے بات کر چکا ہوں, اسے یقین دلا چکا ہوں کہ تیرے لئے مبرہ کا ہاتھ ہی مانگوں گا, دو ہفتے پہلے میں اور فرحت ان سے باقاعدہ طور پر بات بھی کر آۓ ہیں” کاشف مرزا کہتے چلے گئے
“کاشف میں نے کہا تھا نا کہ پہلے اس سے بات کر لیں” فرحت نے کہا
“مجھے لگا تھا یہ میرا مان رکھے گا… “وہ بولے
“ابو پلیز… میں چھبیس سال کا جیتا جاگتا انسان ہوں, میری پسند نا پسند بھی تو ہو سکتی ہے کہ نہیں ؟؟؟” وہ بولا
یہ ہی حال دوسری طرف تھا, حسیب خان انتہائی پریشان تھے
“مبرہ کاشف میرا برسوں کا دوست ہے… میں اسے کیسے انکار کروں گا ؟؟” وہ بولے
“ابو… آپ انہیں ہاں کہنے سے پہلے ایک بار مجھ سے تو پوچھ لیتے” وہ مدھم سا بولی
“دیکھ مبرہ… یہ اچھا لگنا یا نا لگنا ساری فضول باتیں ہیں, شادی کے بعد شوہر اچھا لگنے لگ ہی جاتا ہے, چاہے جیسا بھی ہو” عابدہ نے کہا
“امی, ابو… میری بات سنیں, میں نے ساری زندگی اپنے لئے امپرفیکٹ کا لفظ سنا ہے, اور میں جانتی ہوں کہ میں امپرفیکٹ ہوں, میرا قد بھی چھوٹا ہے, نیرا رنگ بھی صاف نہیں ہے, نین نقش بھی بہت زیادہ خوبصورت نہیں ہیں… چشمہ بھی لگا ہوا ہے, شاید مجھے پہننے اوڑھنے کا بھی اتنا ڈھنگ نہیں ہے لیکن…. ابو مجھے تھوڑا وقت چاہیے, مجھے خود پر سے اس ٹیگ کو اتارنا ہے, کچھ بننا ہے, کہیں پہنچنا ہے… کسی بلند جگہ پر جہاں سے لوگوں کو میرا یہ چھوٹا قد اور سانولی رنگت نظر نا آۓ, جہاں سے انہیں صرف مبرہ حسیب خان نظر آۓ… ” وہ کہتی چلی گئی, حسیب خان اس کی بات سمجھ گئے تھے
“مجھے ابھی شادی نہیں کرنی ابو… صرف مروان ہی نہیں, کسی سے بھی نہیں کرنی, مجھے ابھی کچھ بننا ہے ابو… ” وہ بولی
“مروان تجھے منع تو نہیں کرے گا یہ سب کرنے سے… ” عابدہ نے کہا
“امی… پلیز, بائیس سال جو نظریں میں نے اپنے وجود کے آر پارمحسوس کی ہیں وہی میں آنے والی پوری زندگی میں اپنے شوہر کے لئے برداشت کروں گی کیا ؟؟؟ امی کیا مجھے حق نہیں ہے کسی بہتر کے لئے خواہش کرنے کا, کسی بہترین کے لئے کوشش کرنے…؟؟؟” وہ بولی تھی
ایسا ہی دوسری طرف تھا
“مروان… یار تو ایک بار مبرہ کو دیکھ تو لے, وہ بھی اچھی ہے بیٹے… ؟؟؟” کاشف مرزا نے کہا
“ابو وہ بہت اچھی ہو گی لیکن… مجھے اس سے شادی نہیں کرنی, میں نے بڑی محنت سے خود کو کسی قابل بنایا ہے ابو, صرف اسلیے کہ لوگ میری خامیوں کو نظرانداز کر کہ میری کامیابیوں کی طرف دیکھیں… چاہے آپ مجھے خوبصورتی کا پرستار کہہ لیں لیکن یہ سچ ہے کہ مجھے ایک پرفیکٹ لڑکی سے شادی کرنی ہے ابو… ” وہ بولا, کاشف مرزا نے ایک لمبی سانس بھری تھی
“سعد مغل کی فیملی بھی اچھی ہے ابو… میں جانتا ہوں اسے” فرحان پہلی بار بولا تھا
“میں حسیب کو کیا کہوں گا ؟؟؟” ان کے لئے سب سے مشکل کام یہ ہی تھا
………………………..
وہ اس دن کلاس لیکر نکلی تو ٹھٹھک گئی, اسے لگا شاید اس کی آنکھوں کا دھوکہ ہے لیکن وہ… وہ وہی تھا
ولید احمد… وہ سعد کے آفس سے نکل رہا تھا
مبرہ کچھ دیر کھڑی سوچتی رہی پھر اس کے آفس میں چلی آئی, ابھی اس کی اگلی کلاس فری نہیں تھی
“یہ کون تھے جو ابھی آپ کے آفس سے نکلے ہیں ؟؟؟” اس نے پوچھا
“یہ ولید ہے… اسے انگلش کے لئے رکھا ہے” وہ بڑی فرصت سے اس کی طرف مڑا
“لیکن یہ تو مروان مرزا کی اکیڈمی میں پڑھاتے تھے” وہ حیرانی سے بولی
“وہاں سے چھوڑ دیا ہے اس نے…” سعد نے کہا
“کیوں ؟؟؟” وہ کھٹک گئی, سعد نے کندھے اچکا دیئے کہ اسے نہیں پتہ
حالانکہ اسے پتہ تھا… ولید کو خود مروان نے جواب دے دیا تھا
یہ بات اسے دو دن بعد روحاء کی زبانی پتہ چلی, وہ اس سے ملنے کوچنگ سینٹر ہی چلی آئی تھی
“اب تو وارے نیارے ہو گئے ہیں تیرے… اٹھتے بیٹھتے دیدار یار کرتی ہے مبرہ میڈم…. ” وہ اسے مسلسل چھیڑ رہی تھی
“روحاء آہستہ بول…. ” مبرہ جھینپ سی گئی
“اچھا… تجھے پتہ ہے اسے مروان مرزا نے نکال باہر کیا تھا” روحاء اس کے کان میں گھسی
“کیا ؟؟” وہ دنگ رہ گئی
“ہاں… مجھے سعد نے بتایا ہے, اس کا وہاں کسی سٹوڈنٹ سے چکر چل پڑا تھا, سعد بتا رہا تھا کہ ویسے بھی وہ ذرا فلرٹی سا ہے, سعد کے پاس زیادہ تر میل سٹوڈنٹس ہیں نا اسلیے اس نے اسے رکھ لیا ہے ورنہ کبھی نا رکھتا… “روحاء کہتی چلی گئی, مبرہ کو یقین نہیں آیا تھا
“سعد نے مجھے تو نہیں بتایا اس بات کا… ” وہ دھیرے سے بولی تھی
اگلے ہی دن وہ سعد کے سر پر پہنچ گئی, اس کی محبت پر الزام لگا تھا… اب بھلا اسے کہاں چین آنا تھا
“مجھ سے جھوٹ کیوں کہا ؟؟؟”
“کونسا جھوٹ ؟؟؟
“یہ ہی کہ مروان مرزا نے ولید کو خود اپنی اکیڈمی سے نکال دیا ہے” مبرہ نے کہا, سعد مدھم سا مسکرایا تھا
“دیکھیں مبرہ… میرے خیال سے اچھے لوگوں کو بس اچھی باتوں سے ہی سروکار رکھنا چاہیے, میں نے جان بوجھ کر نہیں بتایا آپ کو… آپ کو بھلا ولید احمد کے فلرٹ سے کیا سروکار.. ؟؟؟” سعد نے کہا…اور مبرہ بول نہیں سکی تھی
………………………
اس دن کاشف مرزا اور فرحت دونوں مروان کا رشتہ لیکر روحاء کے گھر چلے آۓ, ان کا مدعا سن کر کوکب تو حیران ہی رہ گئیں, جھٹ پٹ کال کر کے انہوں نے ساجد مغل کو بلایا تھا
“ہم اپنے بیٹے کی خواہش پر یہاں آۓ ہیں ساجد صاحب, مروان آپ کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ہے اور اس کی اس خواہش میں ہم اس کے ساتھ ہیں” کاشف مرزا نے کہا, ساجد مغل اور کوکب بس ایک دوسرے کو دیکھ کررہ گئے تھے
تبھی روحاء چاۓ لے آئی, وہ اپنے عام سے حلیے میں بھی پرفیکٹ ہی تھی
قابل ستائش س قد, متناسب سا سراپا, لمبے بالوں کو بس ربڑ بینڈ لگایا ہوا تھا, دوپٹہ سر پر لیا ہوا تھا, میک اپ سے پاک جھلملاتا ہوا چہرہ اور انتہائی خوبصورت نین نقش…
اب کی بار ایک دوسرے کی طرف دیکھنے کی باری کاشف مرزا اور فرحت کی تھی
“ہم مشورہ کر کے آپ کو بتائیں گے کاشف صاحب… ” ساجد مغل نے بس اتنا ہی کہا تھا
………………………