No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
سردیاں شروع ہو چکی تھیں, روحاء کی پریگنینسی کا پانچواں مہینہ شروع ہو گیا تھا
گھر کا نظام جیسے تیسے ہی چل رہا تھا, بس اتنا ہوا تھا کہ مروان اس کا پہلے سے زیادہ خیال رکھنے لگا تھا, وہ بھی زیادہ تر اوپر ہی رہتی تھی
کچھ دن پہلے اس نے مروان سے سردیوں کے کپڑوں کا کہا تھا, اس نے سر ہلا کر اوکے کر دیا
چار دن بعد روحاء کو پھر سے یاد آیا, مروان ابھی واپس آیا ہی تھا, وہ اسے کھانا دے رہی تھی
“مروان… میں نے آپ سے سردیوں کے کپڑوں کا کہا تھا” وہ بولی
“ہاں مجھے یاد ہے… لا دوں گا” وہ بولا
“ایک ہفتہ ہو گیا ہے… کب لا کر دیں گے” وہ اس کے پاس ہی بیٹھ گئی
“بس کچھ دن صبر کر لو… سیلیری ملتے ہی لا دوں گا” وہ بولا
“کیوں ؟؟؟آپ کے پاس پیسے نہیں ہیں کیا ؟؟؟” روحاء جی بھر کے حیران ہوئی
پیسے تو ہیں لیکن سیلری آ لینے دو, میں تمہیں ذرا اچھی سی شاپنگ کروا دوں گا” روحا کو صاف لگا وہ بات کو موڑنے کی کوشش کر رہا ہے
“مروان میں بیوقوف تو ہوں نہیں… سیلری سے قطع نظر شہر کی ٹاپ اکیڈمی چلاتے ہیں آپ اور آپ کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ آپ مجھے سردیوں کی شاپنگ ہی کروا دیں… ادھر دیکھیں میری طرف…” روحاء نے اس کا چہرہ اپنی طرف موڑا
“کیا چھپا رہے ہیں… ؟؟؟” اس نے پوچھا
“کچھ نہیں یار… “مروان رخ موڑ گیا
“مروان بتائیں مجھے…” روحاء نے پھر پوچھا
“وہ… فرحان بھائی کو کچھ پیسے چاہیے تھے, بس انہیں دے دئیے” اس نے کہا
“کتنے پیسے…؟؟؟” روحا نے پوچھا
“پچاس ہزار…” وہ نظریں چراتے ہوئے بولا تھا
پچاس ہزار… ادھار کر کے دئیے ہیں یا ایسے ہی…؟؟؟” روحاء کی آنکھیں پھیل گئیں
“انہوں نے تو ادھار کہہ کر ہی لیے ہیں لیکن مجھے پتا ہے کونسا لوٹا دیں گے…” مروان نے کہا
“مروان مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتی کہ فوج میں ہونے کے باوجود آپ کے بھائی آپ سے کس خوشی میں پیسے ادھار مانگتے ہیں ؟؟” وہ تڑخ گئی
“روحا وہ دونوں کونسا کسی بہت اونچی پوسٹ پر ہیں… لمیٹڈ سی سیلری ہے دونوں کی جس میں فیملی کو بھی مینیج کرنا ہوتا ہے اور اپنا خرچہ بھی اٹھانا ہوتا ہے” وہ بولا
“تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ساری عمر وہ اپ سے ادھار کے نام پر پیسے لے لے کر اپنی فیملی کو سپورٹ کرتے رہیں گے ” روحاء نے غصے سے کہا
“نہیں… ایسا نہیں ہے یار ” مروان نے کہا
” ایسا ہی ہے مروان مرزا… آپ کے بھائیوں کے پاؤں آپ کے کندھوں پر رکھے ہوئے ہیں اور ان دونوں کے بوجھ کے زیر اثر آپ اپنے کندھے سیدھے ہی نہیں کر پا رہے… میری ایک بات کان کھول کر سن لیں مروان… وہ آپ کے بھائی ہیں اس لیے آپ ان کے سامنے زبان نہیں ہلا پاتے لیکن جس دن مجھے چڑھ گئی نا.. اس دن میں ایسی زبان ہلاؤں گی کہ آپ کو لگ پتا جائے گا” وہ غصے سے کہتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی تھی
…………………………
پچھلے ایک ہفتے سے اس کی اور ولید کی بول چال بند تھی, وہ چپ چاپ پچھلے ایک ہفتے سے اس کی ضرورتیں پوری کر رہی تھی, کھانا پکا کر دے رہی تھی, کپڑے دھو کر دے رہی تھی, استری کرکے دے رہی تھی.. لیکن بول نہیں رہی تھی
وہ جتنا بھی بلانے کی کوشش کرتا, بس خاموشی سے اس کی سنے جاتی اور اس گزرے ایک ہفتے میں بھی وہ اس کی مرضی کے بغیر اس پر دو بار حق جما چکا تھا
وہ بھی سردیوں کی ایک ایسی ہی شام تھی, نندیں حسب معمول اوپر اپنے کمرے مووی دیکھنے میں مگن تھیں , دونوں دیور کہیں باہر نکلے ہوئے تھے اور ساس حسب معمول باہر چارپائی ڈال کر بیٹھی تھیں
وہ کچن میں تھی جب اس نے بیرونی دروازہ بجنے کی آواز سنی, دروازہ اس کی ساس نے ہی اٹھ کر کھولا, زوہیب کی شناسا سی آواز پر وہ بھاگ کر کچن سے نکلی تھی, اس کے گھر والے آئے تھے
عابدہ, حسیب خان حنا, زوہیب اور حنا کا چار سالہ بیٹا بھی ساتھ تھا, وہ کھل کے مسکرا بھی نہ سکی, خوش بھی نہ ہو سکی
“ہیپی برتھ ڈے ٹو یو… ہیپی برتھ ڈے ٹو یو…” زوہیب زور سے گاتے ہوئے اس کی طرف آیا اور اسے گلے سے لگا لیا
“دیکھا میں نے کہا تھا نا کے مبرہ کو تو یاد بھی نہیں ہوگا کہ آج اس کا برتھ ڈے ہے” حنا نے مسکراتے ہوئے کیک اس کی طرف بڑھایا تھا
“کیسی ہے میری بیٹی…؟؟؟” حسیب خان نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تو اس کی آنکھیں بھیگ گئیں
“ٹھیک ہوں ابو…” وہ بس پھیکا سا مسکرا دی تھی “باقی سب لوگ کدھر گئے…؟؟؟” انہوں نے پوچھا
“ادھر ہی ہیں سب… ولید تو ابھی تک آئے ہی نہیں, ابو آپ لوگ اندر آجائیں” وہ ان سب لوگوں کو لے کر ڈرائنگ روم میں آ گئی
“آپ لوگ بیٹھیں میں چائے بنا لوں… ” وہ کمرے سے باہر جانے لگی تو حنا نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
“ہم لوگ چائے پینے نہیں آئے .. تمہارا برتھ ڈے سیلیبریٹ کرنے آئے ہیں اور اس سے پہلے کہ اسامہ خود ہی اس کیک پر چھری چلا دے… تم بس ادھر آ جاؤ اور اپنا کیک کاٹو” حنا نے اسے صوفے پر بٹھاتے ہوئے کہا
زوہیب نے جھٹ پٹ کیک والا ڈبہ کھولا اور کیک نکال کر اس کے سامنے رکھ دیا
“شمیم بہن… چھوٹی دونوں کہاں ہیں…؟؟؟ ان کو بھی بلا لیں” عابدہ نے کہا
“میں بلا کر لاتی ہوں…” شمیم خشک سے لہجے میں کہتی ہوئی ڈرائنگ روم سے باہر نکل گئی, کچھ ہی دیر بعد ارم اور انعم مارے باندھے ہی نیچے اتری تھیں , مبرہ کے سسر بھی آ گئے تھے
“خان صاحب یہ سب تو شہری لوگوں کے چونچلے ہوتے ہیں… ہمارے ہاں یہ سب کچھ نہیں چلتا, یہ تو بچوں کے کرنے کے کام ہیں” وہ اپنے ازلی پھاڑ کھانے والے لہجے میں بولے
“چوہدری صاحب یہ چونچلے نہیں ہیں… یہ تو بس مل بیٹھنے کا ایک بہانہ ہے, ہمیں مبرا کی شکل دیکھے دو مہینے سے اوپر ہو گئے تھے سو ہم نے سوچا کہ چلو اس بہانے اس سے مل آتے ہیں” حسیب خان نے سبھاؤ سے کہا
“پھوپھو کیک کاٹیں نا… ” چار سالہ اسامہ کی بس ہوئی پڑی تھی, مبرہ نے ہنستے ہوئے اسے اپنی گود میں بٹھایا اور اس کے ہاتھوں میں چھری پکڑا دی, پھر اس کا ننھا سا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کیک پر چھری چلائی تھی
وہ سب اس کے لئے گفٹس بھی لے کر آئے تھے, حنا کے منع کرنے کے باوجود مبری چائے بنا لائی, ایک بار پھر مبرہ کا کوئی امتحان ہی تھا کہ ان لوگوں کے بیٹھے بیٹھے ولید واپس آ گیا تھا
“کیا حال ہے انکل…؟؟؟” وہ تو سیدھا گزر کر کمرے میں جانے لگا تھا لیکن بس حسیب خان کو دیکھ کر رک گیا
“میں بالکل ٹھیک ہوں… تم سناؤ کیا حال ہے… ؟؟؟” وہ اس سے گلے ملتے ہوئے بولے
” شکر ہے اللہ کا… میں ذرا چینج کر آؤں” بس ایک نظر سامنے پڑے کیک اور تحفوں کے انبار پر ڈالتے ہوئے وہ اندر چلا گیا اور مبرہ کے کئی بار بلانے پر بھی دوبارہ کمرے سے باہر نہیں نکلا
“مبرہ بیٹے سب ٹھیک ہے نا…؟؟؟” عابدہ آخر کو ماں تھیں, انہیں اپنی بیٹی کے چہرے پر وہ آسودگی اور خوشی نظر نہیں آئی تھی جو چار ماہ کی نئی نویلی دلہن کے چہرے پر ہوتی ہے
“جی امی… سب ٹھیک ہے” وہ زبردستی مسکراتے ہوئے بولی
“پچھلی بار بھی جب میں آئی تھی تو تیرے چہرے پر نیل کے نشان تھے, اب بھی تیرے ہاتھوں اور چہرے پر خراشوں کے نشان ہیں.. سچ بتا… ولید مارتا ہے تجھے…؟؟؟” انہوں نے پوچھا
“نہیں امی… ایسا کچھ نہیں ہے” وہ جلدی سے بولی “مبرہ… بیٹے ہمیشہ یاد رکھنا کہ ہم نے تجھے بیاہا ہے, بیچا نہیں ہے… اور اگر میں نے یہ کہا تھا نا کہ پسند کی شادی کے بعد تو شکوے کا اختیار کھو دے گی تو صرف غصے میں کہا تھا… اگر تو نے اپنی مرضی سے شادی کر بھی لی ہے تو اس کا مطلب یہ بالکل نہیں ہے کہ گھر والوں نے تجھے لاوارثوں کی طرح یہاں پھینک دیا ہے… میری بچی تو لاوارث نہیں ہے” وہ اسے سینے سے لگائے کہتی چلی گئیں, مبرہ نے بمشکل اپنے آنسوؤں کو امڈنے سے روکا تھا
کچھ دیر بعد وہ سب واپس چلے گئے
ان کے جاتے ہی اس کی ساس نے وہ طوفان اٹھایا کہ الامان الحفیظ…
” ہمیں تو راستے کا پتھر ہی سمجھ لیا ہے اس کے میکے والوں نے… کوڑے کی طرح اکٹھا کر کر ایک سائیڈ پر لگا دیا ہمیں اور اس نواب زادی نے ہمیں یہ تک بتانے کی زحمت نہیں کی کہ آج اس کے گھر والوں نے آنا ہے…” وہ اونچا اونچا بول رہی تھی
“آنٹی پلیز… مجھے خود نہیں پتا تھا کہ ان لوگوں نے آنا ہے” وزرا تیزی سے بول گئی اور اسے پتہ ہی نہ چلا کہ ولید عین اس کے پیچھے کھڑا ہے
“دیکھا ولید… ایسے زبان جلاتی ہے یہ, جب جب اس کے ماں باپ ہو کر جائیں تب تب ایسے ہی اس کا دماغ عرشوں پر پہنچ جاتا ہے” شمیم کے ڈرامے بازیوں کا کوئی حال نہیں تھا اور ولید تو اس کے گھر والوں کو دیکھ کر ہی سر تا پیر سلگ گیا تھا
“تمہیں میں نے کہا تھا نا کہ مجھے تمہارے گھر والوں میں سے کوئی یہاں نظر نہ آئے…” اس نے وحشیوں کی طرح مبرہ کے بالوں کو جکڑ لیا
“ولید وہ میرے ماں باپ ہیں… وہ ہزار بار یہاں آئیں گے, آپ ہوتے کون ہیں انہیں روکنے والے…” مبرہ کی ایک دم بس ہوگئی اور ولید نے اسے صحن میں ہی لم لیٹ کر لیا تھا
……………………….
اس دن اس نے کالج سے چھٹی کر لی, ایک تو جسم میں بہت درد تھا اور دوسرے سر بھی بھاری بھاری سا ہو رہا تھا, وہ اپنے کمرے میں تھی جب اس نے باہر سے چیخنے چلانے کی آوازیں سنیں, وہ ایک دم گھبرا کر باہر نکلی
صحن میں ایک معرکہ کار زار گرم تھا ارم اور انعم ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوئی پڑی تھیں اور اس کی بڑی نند جلتی پر تیل کا کام کر رہی تھی
“کیا ہوا ہے..؟؟؟” اس نے پوچھا
“ہونا کیا ہے…؟؟؟” ذرا جو ان میں سے کسی کو کام کرنا پڑ جائے تو موت پڑ جاتی ہے” اس کی بڑی نند نے کہا, اس کا نام الماس تھا
“اب کونسا کام رہ گیا تھا کرنے والا…؟؟؟” اس نے پھر پوچھا, کیونکہ ابھی کچھ دیر پہلے وہ سارا کچن سمیٹ کر اور برتن دھو کر اپنے کمرے میں گئی تھی
“میں نے ذرا سا صحن کی صفائی کا کہہ دیا تھا… چار دن سے جھاڑو نہیں لگا” شمیم نے کہا
اس اتنے بڑے گھر کی صفائی بھی ایک مسئلہ ہی تھی, مبرا اپنا کمرہ خود صاف کرتی تھی اور اپنا واش روم بھی خود ہی دھوتی تھی, ارم اور انعم مارے باندھے اپنا اور بھائیوں کا کمرہ صاف کر دیتی تھیں , الماس اپنا کمرہ خود صاف کر لیتی تھی, اصل مصیبت تب آتی تھی جب صحن صاف کرنا پڑتا تھا
اس نے اور الماس نے بمشکل ان دونوں کو الگ الگ کیا “مجھے کسی نے آئندہ صحن میں جھاڑو لگانے کا کہا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا” ارم پیر پٹختی ہوئی اندر چلی گئی
“آنٹی اپ کوئی کام والی دیکھ لیں… صفائی وغیرہ کے لئے” اس نے دھیرے سے کہا
“کام والی کونسا مفت آ جائے گی” شمیم نے تڑخ کر کہا
“میں دے دیا کروں گی اسے پیسے… یہ روز روز کی لڑائی تو ختم ہو” وہ بولی اور شمیم جیسے بس یہی سننے کے لئے بیتاب تھی
شام ہوتے ہوتے اس نے ایک کام والی مہیا کر بھی لی, مہینے کا ایک نیا خرچہ تیار ہو گیا تھا
شام کو ولید گھر آیا تو اس نے چپ چاپ کھانے کی ٹرے اس کے سامنے رکھ دی, وہ چپ چاپ کھانا کھانے لگا, یکدم ہی مبرہ کا دل متلایا تھا, منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے وہ واش روم کی طرف بھاگی
پچھلے تین دنوں میں یہ اس کی چوتھی الٹی تھی کچھ دیر بعد میں واش روم سے نکلی تو چہرہ نڈھال سا تھا
“کیا ہوا ہے…؟؟؟” ولید نے لٹھ مار لہجے میں پوچھا
“اگر اپ تھوڑا سا ٹائم نکالیں تو ہم ڈاکٹر کے پاس ہو آتے ہیں…” وہ ماتھے پر سے پسینہ صاف کرتے ہوئے بولی
“ہوا کیا ہے… ؟؟؟” ولید نے پھر پوچھا, وہ جوابا بس ذو معنی سا اسے دیکھ کر رہ گئی, اسے یقین تو نہیں تھا لیکن پھر بھی کھانا کھا کر ولید جانے کے لیے تیار ہو گیا
اس کے سارے شکوک و شبہات بالکل درست تھے, اس کی پریگنینسی رپورٹ پازیٹو تھی, ولید گھر آتے ہوئے مٹھائی کا ڈبہ لے کر آیا, وہ سبھی گھر والے بے انتہا خوش تھے
مبرا بس بجھے دل کے ساتھ اپنے کمرے میں چلی آئی, رات کا نہ جانے کون سا پہر تھا جب ولید اس کے برابر میں آکر لیٹا اور اسے بڑے حق سے اپنی طرف موڑ لیا
“ایم سوری….” اس نے ہلکی سی سرگوشی کی تھی “کب تک کے لئے…؟؟؟” مبرہ نے دھیرے سے پوچھا
“ہمیشہ تک کے لئے…” وہ اس کی پیشانی پر ہونٹ ثبت کرتے ہوئے بولا تھا
……………………………
اس دن رابعہ ملنے کے لئے آئی تھی, ساتھ اس کا شوہر بھی ایا تھا, وہ کچھ دن بعد واپس جا رہا تھا, کچھ دیر بعد نمرہ کا بیٹا بھاگتا ہوا اس کے کمرے میں آیا
“چاچو آپ کو دادی بلا رہی ہیں…” وہ کہہ کر واپس بھاگ گیا
اتوار کا دن تھا سو مروان ابھی تک بستر میں گھسا ہوا تھا, کمبل ایک طرف ہٹاتے ہوئے وہ بستر سے اتر آیا “روحا لء میرے کپڑے نکال دو.. ” روحاء سے کہتا ہوا وہ نیچے چلا گیا, روحاء نے اس کے کپڑے نکال کر واش روم میں لٹکائے اور پھر اس کا ناشتہ بنانے لگی
کچھ دیر بعد وہ دوبارہ اوپر آیا تھا
“مروان ناشتہ کرلیں…” وہ ٹرے اٹھا کر کمرے میں آ گئی, مروان نے عجلت میں ناشتہ کیا اور واش روم میں گھس گیا
“کہیں جا رہے ہیں آپ…؟؟؟” روحاء نے پوچھا
“ایک دوست سے ملنے جانا ہے” وہ بالوں میں کنگا چلاتے ہوئے بولا
“لنچ میں کیا بناؤں…؟؟؟” روحاء نے پوچھا
“جو دل چاہے بنا لینا..” وہ جوتے پہنتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا
دو ڈھائی گھنٹے بعد اس کی واپسی ہوئی تھی, زویا نے رابعہ اور اس کے شوہر کے لئے دوپہر کا بڑا پرتکلف سا کھانا بنایا تھا, ظاہر ہے اس کھانے کے تمام تر لوازمات مروان نے ہی لا کر دیے تھے, روحاء بس تھوڑی دیر کے لئے نیچے آئی اور کچھ دیر رابعہ کے پاس بیٹھ کر دوبارہ اوپر چلی گئی
کچھ دیر بعد وہ دونوں میاں بیوی واپس چلے گئے
دو دن بعد اس نے نمرہ اور زویا کو آپس میں باتیں کرتے ہوئے سنا کہ اس دن رابعہ کو ساری شاپنگ مروان نے کروائی تھی… فرحت کے کہنے پر
روحاء کے دکھ کا کوئی حال نہیں تھا
“مروان اب آپ جھوٹ بولا کریں گے مجھ سے ؟؟” وہ اس رات رو ہی پڑی
“روحاء مجھے لگا تمہیں دکھ ہو گا, تم. کہو گی کہ مجھے تو شاپنگ کروائی نہیں اور بہن کو کپڑے لے دیئے ” وہ بولا
“اب پیسے کہاں سے آۓ آپ کے پاس ؟؟؟” اس نے پوچھا
“ایک دوست سے پکڑ لیے تھے… ” وہ بولا اور روحاء کے آنسو صاف کئے
“مروان میری بات لکھ لیں آپ… ان بہن بھائیوں کی خاطر آپ اپنا گھر اجاڑ لیں گے… دیکھ لینا” وہ بس روتے ہوئے اٹھ گئی تھی
……………………..
اس دن واپسی پر بھی اس کی طبعیت کچھ ٹھیک نہیں تھی, اس نے کال کر کے ولید کو ساتھ چلنے کا کہا لیکن اس بے انکار کر دیا
“بس سے چلی جاؤ… میں ذرا مصروف ہوں” وہ بولا
“ولید میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے… دل متلاۓ جا رہا ہے, چکر آ رہے ہیں مجھے” وہ بولی
“مبرہ… میں کیا کروں اب… رکشہ کروا لو” وہ کال کاٹ گیا
ناچار وہ سٹاپ پر چلی گئی, رکشہ ندارد… اس نے بس کا انتظار شروع کر دیا, اسے کھڑے کھڑے چکر آ رہے تھے, بس آئی تو اس میں چڑھ گئی, لوکل بس میں سگریٹ اور پیٹرول کی بو سے اس کا اور دل. متلانے لگا
اپنے سٹاپ پر اترتے اترتے اس کی بس ہو چکی تھی, نڈھال ہوتے وجود کے ساتھ وہ وہاں پڑے بینچ پر گر گئ, وہاں سے 512 کو روڈ جاتی تھی
بمشکل اس نے اپنا سیل نکالا اور دیور کو کال کی
“عماد مجھے لے جاؤ… “
“بھابھی میں ذرا مصروف ہوں, حماد کو کال کر لیں”
اس نے دوسرے کو کال ملائی
“بھابھی میں تو میچ کھیلنے آیا ہوا ہوں… آپ رکشہ لیکر چلی جاییں” وہ بولا
اس نے آنکھوں میں آیا پسینہ صاف کرتے ہوئے ایک قریبی دوکاندار کو رکشہ روکنے کا کہا, آدھا گھنٹہ گزر گیا لیکن رکشہ ندارد…
اسے یکدم الٹی آ گئی, اس دوکاندار نے ہی اسے پانی کا گلاس پکڑایا تھا
“ولید میری طبیعت خراب ہو گئی ہے… پلیز کسی سے کہیں مجھے لے جاۓ… ” وہ بولی تو آواز بھرا گئی
“مبرہ رکشہ لے لو.. میں کسے کہوں ؟؟؟” وہ بولا
“آپ نے کہا تھا آپ میرے ساتھ ہیں… ” وہ بلک پڑی تھی
“میں اتنا دور بیٹھا ہوں… کیا کروں ؟؟؟” وہ تڑاک پڑاک کرنے لگا تھا, مبرہ کے ہاتھ سے موبائل چھوٹ گیا, یکدم ہی اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھایا اور وہ دھڑام سے بینچ سے نیچے گر گئی
تبھی وہاں اس کے دو سٹوڈنٹس نے اسے دیکھ لیا
“میم… میم آپ یہاں… ؟؟؟” وہ دونوں بھاگ کر اس کے پاس آۓ تھے, مبرہ بے دم ہو رہی تھی
“زوہیب کو…. کال کرنا… پلیز” ان میں سے ہی ایک نے زوہیب کو کال کی تھی
وہ بوکھلا کر بھاگا آیا
یوں سر عام چوک میں مردوں کے بیچ مبرہ کو گرے دیکھ کر اس کے چودہ طبق روشن ہو گئے تھے, وہ اسے اٹھا کر ہسپتال لیکر بھاگا, کچھ ہی دیر میں عابدہ اور حسیب خان بھی وہاں پینچ گئے
اس کا بی پی بالکل زیرو ہو گیا تھا, وہ پلس لیس حالت میں ہسپتال پہنچی تھی
زوہیب کا مارے غصے کے کوئی حال نہیں تھا
“خود کہاں تھا وہ بے غیرت ؟؟؟” وہ اس کے ہوش میں آتے ہی پھٹ پڑا
“آفس میں… ” مبرہ کی آنکھیں اندر کو اتر گئی تھیں
“کتنا کہا تھا تجھے کہ اتنی دور کا کالج سلیکٹ نا کر, یہاں اپنے شہر میں ہی رہ…. کم از کم بندہ سن گن ہی لے لیتا ہے” عابدہ کو اس پر غصہ بھی آیا اور ترس بھی
“امی بس… اچانک ہی طبیعت اپ سیٹ ہو گئی تھی… ” وہ منمناتے ہوۓ بولی تھی
زوہیب اسے سیدھا گھر ہی لے آیا, ولید نے کال کر کے پوچھا تک نہیں کہ وہ گھر پہنچ گئی یا نہیں… مبرہ دواؤں کے زیر اثر بستر پر لیٹتے ہی سو گئی تھی
شام چھ بجے اسے ولید کی کال آئی جو اس کی بجاۓ حسیب خان نے سنی
“مبرہ کہاں ہو ؟؟؟”
“تم کہاں ہو داماد جی ؟؟؟؟” انہوں نے پوچھا
“انکل میں تو ابھی واپس آیا ہوں… مبرہ آپ کی چرف ہے ؟؟؟” وہ بولا
“اسے چوراہے سے اٹھا کر لایا ہے زوہیب… بے ہوشی کی حالت میں… ” وہ سرد لحجے میں بولے
“اب کیسی ہے وہ ؟؟؟” ولید نے کچھ دیر بعد پوچھا تھا
“ابھی تو سو رہی ہے…. تم چکر لگانا… بات کرنی ہے تم سے ” انہوں نے وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا
………………………
روحاء نے مروان پر گاڑی لینے کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا تھا, اور وہ اس معاملے میں حق بجانب بھی تھی, مروان جس حساب کتاب سے کماتا تھا, اس کے لئے گاڑی لینا کوئی بہت زیادہ مشکل بات نہیں تھی
اور وہ جان گئی تھی کہ مروان خود سے کبھی بھی اپنے گھر والوں کے آگے سٹینڈ نہیں لے گا, سو اسے ہی کچھ کرنا پڑے گا
اس دن بھی مروان دوپہر میں گھر آیا تو زویا نے آواز دے لی
“مروان ہیٹر خراب ہو گیا ہے… وہ تو ٹھیک کروا دو” وہ بولی
“بھابھی ابھی پرسوں تو اس میں راڈ ڈلوایا تھا” وہ بولا
“بچوں نے خراب کر دیا ہے دوبارہ… ” وہ بولی, اس سے پہلے کہ مروان کچھ کہتا, روحاء نیچے اتر آئی
“بات سنیں زویا بھابھی… ہم نے دو مہینے تک گاڑی لینی ہے… پرسوں فرحان بھائی آئیں گے تو ان سے کہیے گا ہیٹر ٹھیک کروا دیں, ویسے بھی دسمبر میں ہیٹر چلانے والی ٹھنڈ نہیں پڑتی… ” وہ بولی اور مروان کا ہاتھ پکڑ کر اوپر لے گئی
زویا بس کھڑی رہ گئی تھی
چند دن بعد ایسا ہی جواب اس نے نمرہ کو بھی دیا تھا
دو ہفتے بعد رابعہ بھی آ گئی, اس کا شوہر لا متناہی مدت کے لئے باہر چلا گیا تھا
“مروان…. مجھے پانچ ہزار دے کر جانا” اس صبح وہ اوپر آئی تھی
“وہ کیا کرنے ہیں ؟؟”
“سوٹ لینا ہے… “
“ابھی چند دن پہلے تو تمہیں شاپنگ کرائی تھی… ” وہ سر پیٹ گیا
“وہ… میرے سسرال میں شادی ہے”
“تو شادی والے کپڑے پہن لو, وہ کونسا پرانے ہو گئے ہیں, ابھی تو میں نے بھی سردیوں کے کپڑے نہیں لئے… ویسے بھی ہم نے گاڑی کے لئے سیونگ سٹارٹ کی ہوئی ہے… ” روحاء بے س کا منہ بند کروایا تھا
وہ بس اسے گھورتی ہوئی چلی گئی
اور اس سب کے دوران روحاء کو اندازہ نا ہوا کہ وہ کس کس کو دشمن بنا رہی ہے
………………………
جاری ہے
