Woh Larki Joh Sabse Alag Hai By Ayesha Zulfiqar Readelle50187

Woh Larki Joh Sabse Alag Hai By Ayesha Zulfiqar Readelle50187 Last updated: 27 August 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Woh Larki Joh Sabse Alag Hai

By Ayesha Zulfiqar

وہ کالج جانا شروع ہو گئی تھی, صبح تو ولید اسے اپنے ساتھ لے جاتا تھا, لیکن دوپہر کے وقت وہ آفس میں مصروف ہوتا تھا, مبرہ کبھی تو چار بجے تک اس کے انتظار میں رکی رہتی, کبھی بس پکڑ کر آتی, کبھی رکشہ کروا لیتی نوکری اتنی مشکل نہیں تھی جتنا اس کا آنا جانا مشکل ہو گیا تھا وہ بھی ایسی ہی ایک رات تھی, ولید گھر آ گیا تھا, وہ چینج کرنے واش روم میں گھسا تو مبرہ اس کے لئے کھانا لینے چلی گئی کچھ دیر بعد وہ ٹرے لیکر واپس آئی تو ولید ابھی تک واش روم میں ہی تھا, اس نے ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھی تو اس کا سیل بج اٹھا, سعد کی کال تھی اس نے ریسیو کر لی, رسمی سا حال احوال جاننے کے بعد وہ اصل مدعے پر آیا تھا "مبرہ دوبارہ جوائن کب کریں گی ؟؟؟" اس نے پوچھا "سعد دراصل کالج سے واپس آتے آتے بہت دیر ہو جاتی ہے سو... مشکل ہی ہے کہ دوبارہ جوائن کر سکوں" وہ بولی, تبھی ولید واش روم سے نکل آیا "مبرہ میرا تو کباڑہ نکل جاۓ گا آپ کے بنا... " سعد کی بیچارگی پر اسے ہنسی آ گئی, ولید نے چونک کر اسے دیکھا "آپ کسی اور کو مینیج کر لیں... " "اور کوئی بھلا آپ جیسا intelligent ہو گا ؟؟" سعد نے کہا "کوشش کریں... کوئی مل ہی جاۓ گا" وہ بولی, ولید بستر پر بیٹھ گیا تھا "آپ پلیز کوشش کریں واپس آنے کی, کالج سے واپس آ کر شام میں یہاں آ جایا کریں" سعد نے کہا "اچھا میں دیکھتی ہوں... پھر بتاتی ہوں آپ کو" وہ ولید کی تیوریاں دیکھتے ہوئے کال کاٹ گئی تھی "یہ لیں... کھانا کھائیں " اس نے ٹرے اٹھا کر ولید کے سامنے رکھ دی "کس کا فون تھا ؟؟"اس نے پوچھا "سعد مغل کا... دوبارہ سے کوچنگ سینٹر جوائن کرنے کا کہہ رہے ہیں" وہ ولید کے پاس ہی بیٹھ گئی "ہنس کیوں رہی تھیں ؟؟" اس نے درشتگی سے پوچھا تھا "کیا ؟؟؟" مبرہ سمجھ نا سکی "اس کی بات پر ہنس کیوں رہی تھیں ؟؟" ولید نے ایک دم اس کا چہرہ دبوچ لیا تھا, مبرہ کی آنکھیں امڈ آئیں "خبردار جو آئیندہ اس خبیث کا فون سنا تو.. ابھی ڈیلیٹ کرو اس کا نمبر" ولید نے اس کا جبڑا مضبوطی سے بھینچ دیا "ولید چھوڑیں... " وہ بلبلا اٹھی تھی "کیا کہہ رہا تھا ؟؟؟" "وہ بس... دوبارہ.... جوائن کرنے.. کا... " مبرہ کی آواز حلق میں پھنس گئی "کوئی ضرورت نہیں ہے سمجھیں... کالج سے واپس آ کر کچن سنبھالا کرو... " ولید نے ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا تھا, وہ ایک طرف کو گر سی گئی, ولید قہر بار نظروں سے اسے گھورتا چلا گیا "مجھ سے برداشت نہیں ہوتا کہ تم میرے علاوہ کسی اور سے بات کرو, یا کسی اور کی بات پر ہنسو... سمجھیں" وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا, مبرہ بمشکل سیدھی ہوئی "اچھا نہیں کرتی اب اس سے بات... " وہ اپنا جبڑہ دباتے کرتے ہوئے بولی تھی "کھانا تو کھا لیں... " وہ ٹرے دوبارہ اس کے آگے کرتے ہوئے بولی, ولید نے اسے رکھ کے گھورا "پلیز... " مبرہ نے لقمہ بنا کر اس کی طرف بڑھا دیا "دور ہو جاؤ مجھ سے... " وہ ایک دم کہتے ہوئے آگے کو ہوا اور اس سے پہلے کہ ہاتھ مار کر ٹرے کا ستیاناس کرتا, مبرہ نے یکدم اس کے لبوں پر اپنے لبوں سے قفل لگا دیا, ولید کی انگلیوں نے اس کے پچھلے سر کے بال جکڑ لئے تھے سرخ شعلہ بنی آنکھوں سے اسے گھورتے ہوۓ ولید نے اسے بستر پر گرایا تھا "سوری... بس" مبرہ اس سے ڈر سی گئی "خمیازہ بھگتنا پڑے گا... میرا غصہ بس ایک سوری سے ٹھنڈا نہیں ہو گا" وہ لائیٹ آف کرتے ہوئے ایک بار پھر کسی درندے کا روپ دھار گیا تھا ............................ "انکل میں سب کچھ کرنے کو تیار ہوں, کچن کے ساتھ ہی میں نے لانڈری بنوا دی یے, واشنگ مشین مستقل وہیں رہے گی, اوپر کا کچن روحاء کے علاوہ اور کوئی استعمال نہیں کرے گا, اس کی چیزوں کو بھی اس کی اجازت کے بنا اور کوئی استعمال نہیں کرے گا... باقی جو آپ کہیں, جو روحاء کہے... میں کرنے کو تیار ہوں" مروان اگلے ہی دن بھاگا چلا آیا تھا "مروان بیٹے روحاء کسی کی ذمہ داری نہیں ہے... سواۓ تیرے اور کوئی تیری ذمہ داری نہیں ہے... سواۓ تیری بیوی اور ماں باپ کے, میں یہ نہیں کہتا کہ کوئی ذمہ داری نا اٹھاؤ, لیکن تیری اولین ذمہ داری تیری بیوی ہے بیٹے... " ساجد مغل نے کہا "جہاں میری بیٹی غلط ہو گی میں اسے غلط کہوں گا... لیکن جہاں تو غلط ہو گا... وہاں تجھے غلط کہوں گا, حالانکہ یہ میری نازوں میں پلی اکلوتی بیٹی ہے لیکن میں نے پھر بھی اسے کبھی بدتمیزی کرنا, یا کسی سے زیادتی کرنا نہیں سکھایا, حالانکہ تیرے ماں باپ بھی اس کی ذمہ داری نہیں ہیں لیکن... یہ پھر بھی ان کی ہر طرح کی خدمت کرنے کو تیار ہے, لیکن صرف ان کی... اور کسی کی نہیں" وہ کہتے چلے گئے "اسے خوش رکھنا, اس کی ضرورتیں پوری کرنا, اس کا ساتھ دینا فرض ہے تیرا مروان... اور یہ سب میں صرف تجھ سے نہیں کہہ رہا... یہ سب میں اپنے بیٹے سے بھی کہوں گا" وہ بولے وہ بس سر ہلا کر رہ گیا, اسی شام وہ روحاء کو واپس لے گیا تھا ............................. [https://novelistan.pk/2025/08/27/wo-lrki-jo-sb-se-alag-hai-by-ayesha-zulfiqar-novel20271/}