Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

آٹھویں قسط
عابدہ, حسیب خان اور شعیب تینوں ولید کو دیکھنے آۓ تھے, دو کنال پر پھیلا واقعی ان کا کوٹھی نما گھر تھا, بلڈنگ بھی بڑی اچھی بنی ہوئی تھی
ولید کے والد چوہدری شمس بس اپنی زمین کی دیکھ بھال کرتے تھے, تین بہنوں اور تین بھائیوں میں وہ دوسرے نمبر پر تھا, بڑی بہن طلاق یافتہ تھی اور ان کے ساتھ ہی رہتی تھی
بظاہر تو وہ لوگ بڑے تپاک سے ملے, چاۓ کے ساتھ کافی لوازمات تھے, گرے کاٹن کی شلوار قمیض میں پانچ فٹ گیارہ انچ ہائیٹ کے ساتھ ولید احمد دیکھنے میں کوئی شہزادہ ہی لگ رہا تھا, وہ کافی دیر شعیب سے بات چیت کرتا رہا
رات کو گھر آ کر کھانے کے بعد بحث چھڑی, حسیب خان نے چھوٹے دونوں بیٹوں اور بہو کو بھی بلا لیا تھا, مبرہ بھی وہیں تھی
“ابو صرف ایک پلس پوائنٹ ہے کہ لڑکا دیکھنے میں بڑا ڈیشنگ اور سوبر سا ہے… اور یہ ہی بات مجھے کھٹک رہی ہے, میں یہ نہیں کہہ رہا کہ مبرہ میں کوئی کمی ہے لیکن… وہ مبرہ سے قد میں بھی لمبا ہے اور نین نقش میں بھی خوبصورت ہے” شعیب کہتا چلا گیا
“ابو رہنے دیں… گاؤں میں نہیں کرنا ہم نے” خباب نے کہا, وہ مبرہ سے ایک سال بڑا تھا
“اور فیملی بھی بہت بڑی ہے ان کی… ایک بیٹی طلاق لیکر بیٹھی ہے, دو ابھی بیاہنے والی ہیں, دو بیٹے بھی بیاہنے والے ہیں… رہنے دیں مبرہ ایویں کھپ جاۓ گی وہاں” زوہیب اس سے دو سال چھوٹا تھا
“ویسے لڑکا تو ٹھیک ٹھاک ہے… ” حسیب خان نے کہا, ایک باپ ہونے کے ناطے وہ بھی چاہتے تھے کہ انہیں قابل رشک س داماد ملے, ان کے دل میں دور کہیں شاید یہ کسک بھی تھی کہ مروان نے مبرہ سے شادی سے انکار صرف اسلیے کیا تھا کیونکہ اسے روحاء سے شادی کرنی تھی
“ابو شکل کا کیا کرنا ہے… ایک تو گاؤں, اوپر سے اتنا بڑا خاندان, نوکری بھی بس ایویں سی ہے اس کی, اپنی مبرہ ماشاءاللہ لیکچرار ہو جاۓ گی تو اس سے بھی اچھا رشتہ مل جاۓ گا…. دیکھ لینا” شعیب نے کہا
“میرا تو اپنا دل نہیں مانتا حسیب… آپ منع کر دیں انہیں” عابدہ بھی راضی نہیں تھیں
“چلو ایک دو دن میں میں انہیں کال کر دوں گا” حسیب خان نے کہا تھا
مبرہ بس دم سادھے کھڑی رہ گئی, دو سالوں کی دعاؤں اور اذیتوں کا بس یہ صلہ تھا
اتنی مشکل سے ولید راضی ہوا تھا تو اس کے اپنے گھر والے راضی نہیں تھے, اس نے ایک نظر سب کو دیکھا, حسیب خان, شعب کی طرف متوجہ ہو گئے تھے, عابدہ, زوہیب سے کچھ کہہ رہی تھیں, حنا باہر جانے لگی تھی
“ابو… ” اس نے ہمت کر ہی لی, حسیب خان سمیت سبھی نے اس کی طرف دیکھا
“میری راۓ جاننا اہم نہیں ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“کیا مطلب ؟؟؟” وہ ٹھٹھک گئے
“ابو… زندگی تو میں نے گزارنی ہے نا…. ؟؟؟” وہ تھوک نگلتے ہوۓ بولی تھی
“مبرہ… صرف شکل و صورت کے سہارے ساری زندگی نہیں گزرے گی؟؟” عابدہ نے کہا
“امی وہ پرفیکٹ ہے… اور پرفیکٹ ہونے کے باوجود مجھ سے شادی کرنے پر رضا مند ہے” وہ دھیرے سے بولی تھی
“یہ ہی تو قباحت ہے مبرہ بچے…. کہ اسے تو ہی نظر کیوں آئی ؟؟” شعیب نے کہا
“ابو… ” اس نے پھر حسیب خان کو پکارا تھا
“مروان نے مجھ سے شادی کرنے سے انکار کر دیا تھا… بھلا کیوں ؟؟؟” اس نے پوچھا, حسیب خان بول نہ سکے
“اگر اسے ایک خوبصورت لڑکی سے شادی کرنے کا حق ہے تو میں ایک خوبصورت شوہر کی خواہش کیوں نہیں کر سکتی ؟؟؟” وہ بس اتنا کہہ کر باہر نکل گئی تھی
……………………….
ان دونوں نے باہر کھانے کا پلان بنایا تھا, مروان سات بجے ہی گھر آ گیا, روحاء اس کے کپڑے اسیتری کر رہی تھی
“جلدی کرو بیگم صاحبہ… میں نے دو گھنٹے کے لئے گاڑی ادھار لی ہے کسی سے” وہ اندر آتے ہوئے بولا
“سچ میں… ؟؟؟” روحاء کی آنکھیں چمک گئیں
“ہاں… میں نے سوچا کہ اب اتنی تیاری کے ساتھ تم بائیک پر کیسے بیٹھو گی” وہ مسکراتے ہوئے بولا
“مروان… ہم اپنی گاڑی کب لیں گے ؟؟” روحاء نے آہستہ سے کمرے کا دروازہ بند کیا تھا
“کوشش کر رہا ہوں کہ لیز پر نکلوا لوں… ” وہ بولا
“لیز پر رہنے دیں… سیکینڈ ہینڈ لے لیں” اس نے مروان کا کوٹ اتارا تھا, مروان نے نہائت محبت سے اس کی پیشانی پر اپنے ہونٹ ثبت کئے تھے
“تیار ہو جاؤ جلدی… ” وہ بولا
تقریباً ایک گھنٹے بعد وہ دونوں بالکل تیار تھے, اس سے پہلے کہ وہ کمرے سے باہر نکلتے, دروازہ ایک دم بج اٹھا
“مروان…. جلدی باہر آنا ذرا” نمرہ کی پریشان سی اواز تھی, وہ. جلدی سے باہر نکلا
“مروان… گڑیا بیڈ سے نیچے گر گئی ہے, ماتھے سے خون بہہ رہا ہے, بائیک نکالنا ذرا اس کی پٹی کروا لائیں ” وہ تین سالہ گڑیا کو ہاتھوں میں اٹھاۓ کھڑی تھی, اور وہ بچی مسلسل رو رہی تھی
“بھابھی ابو کہاں ہیں ؟؟؟” اس نے گڑیا کو ان کے ہاتھوں سے اپنی گود میں لیتے ہوئے پوچھا
“وہ باہر نکلے تھے, سیل گھر ہی چھوڑ گئے ہیں” نمرہ کے اوسان خطا ہو رہے تھے
“روحاء.. میں بس دس منٹ میں آیا” وہ. اسے کیتے ,ہوۓ جلدی سے سیڑھیاں اتر گیا, نمرہ اس کے ساتھ ہی گئی تھی
دس منٹ تو کیا لگنے تھے… پورا آدھا گھنٹہ لگا, نمرہ اسے لیکر اپنے کمرے میں چلی گئی, مروان بھاگتا ہوا اوپر آیا تھا
“روحاء… آؤ چلیں” اس نے کمرے میں جھانک کر کہا, روحاء بادل نخواستہ سی اٹھ کھڑی ہوئی
“مروان… کہاں جا رہے ہو ؟؟؟” زویا نیچے تینوں بچے لیکر تیار کھڑی تھی
“بھابھی ڈنر کرنے جا رہے ہیں” وہ بولا
“مروان میں نے اور بچوں نے ذرا امی کی طرف جانا ہے… ہمیں راستے میں چھوڑ دینا پلیز, تم. گاڑی لیکر آۓ ہو نا ؟؟؟” اسے ساری خبریں تھیں
“بھابھی ریسٹورنٹ کدھر… اور آپ کا میکہ کدھر ؟؟؟ میں نے ویسے بھی صرف دو گھنٹے کے لئے گاڑی لی تھی” وہ ایک. نظر روحاء کے ستے ہوۓ چہرے کو دیکھتا ہوا بولا
“میرا بھائی بس دس, پندرہ منٹ لگیں گے” وہ بولی
“بھابھی آدھا گھنٹہ لگتا ہے وہاں جانے میں… ” وہ بولا
“ہمیں چھوڑ کر ریسٹورنٹ چلے جانا… پھر واپسی میں ہمیں لے لینا” زویا اس کے ساتھ جانے پر بضد تھی
“اچھا چلیں… بیٹھیں.. ” وہ مجبور ہو گیا
“مروان آپ انہیں چھوڑ آئیں, میں کہیں نہیں جا رہی” روحاء کی بس ہو گئی تھی, وہ درشت سے لحجے میں کہتی ہوئی اوپر چلی گئی
“روحاء… یار بات تو سنو” وہ اس کے پیچھے ہی اوپر آیا تھا
“میری جان بس پندرہ منٹ لگیں گے… انہیں چھوڑنے میں” وہ بولا
“مروان… مجھے اس وقت شدید غصہ آ رہا ہے, پلیز جائیں اور جا کر اسے اس کے میکے چھوڑ آئیں, میں کہیں نہیں جا رہی” وہ ایک ایک کر کے سب کچھ اتارے جا رہی تھی
“روحاء… یار ایسے تو نا کرو” مروان نے اسے دونوں بازوؤں سے پکڑ لیا
“مروان… ہمیشہ میرے ساتھ ایسے ہی ہوتا ہے, جب ہم دونوں کہیں جانے کا پلان بناتے ہیں, یا تو آپ کی بھابھیاں بیچ میں ٹپک پڑتی ہیں یا ان کے بچے… جائیں اسے چھوڑ آئیں, وہ راضی ہو جاۓ, میری خیر ہے” وہ بھل بھل کرتے آنسوؤں کے بیچ کہتی ہوئی زور سے اس کے دونوں ہاتھ جھٹک کر واش روم میں گھس گئی تھی
“مروان… چھوڑ آؤ گے ؟؟” نیچے سے زویا کی آواز آئی تھی, وہ ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے نیچے چلا گیا
……………………..
ولید کے رشتے کو آۓ دو ہفتے ہو چکے تھے, اس کے سبھی گھر والے بس چپ چپ سے تھے, سواۓ خود مبرہ کے کوئی بھی اس رشتے کے لئے راضی نہیں تھا, اسے بس ایک دفعہ ولید کا فون آیا تھا
“آپ کے گھر والے راضی نہیں ہیں نا ؟؟؟” وہ پوچھ رہا تھا
“ہو جائیں گے… دھیرے دھیرے, بس تھوڑا سا ویٹ کر لیں” وہ بولی تھی
اس دن بھی وہ کلاس لیکر آفس میں آ گئی, ذہن منتشر سا تھا, سعد کب اس کے پاس آ بیٹھا اسے پتہ ہی نہ چلا
“پریشان لگ رہی ہیں ؟؟؟” اس نے پوچھا
“ہیں… کیا ؟؟” وہ یکدم ہڑبڑا کر بولی
“آپ کے فادر کی کال آئی تھی… ” سعد نے کہا
“ولید احمد کے بارے میں پوچھ رہے تھے… ” سعد نے اس کی طرف دیکھا
“آپ نے کیا کہا پھر ؟؟؟” وہ سیدھی ہو کر بیٹھ گئی
“میں جھوٹ نہیں بولتا… ” وہ بولا, مبرہ بس اسے دیکھتی رہ گئی
“مبرہ… آپ کے ساتھ کون ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“کوئی بھی نہیں… ” وہ ہار سی گئی
“پھر اکیلی کیسے لڑیں گی؟؟” اس نے پھر پوچھا
“آپ مدد کر دیں پلیز… تھوڑی سی” وہ التجاییہ سے لحجے میں بولی تھی
“کیسی مدد ؟؟؟” سعد نے ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے اسے دیکھا
“بس ابو سے کہہ دیں کہ… وہ اچھا ہے, اس کی فیملی بھی اچھی ہے” مبرہ اس سے نظریں چراتے ہوئے بولی
“اور اگر کل کو وہ اچھا نا نکلا تو آپ کے فادر میرا گریبان نہیں پکڑیں گے کیا ؟؟؟” وہ بولا
“سعد… اس کا ماضی ضرور داغدار ہو گا, لیکن… ہو سکتا ہے اس کا مستقبل بہت شفاف ہو, ہو سکتا ہے وہ اقراء کے لئے بہتر نہیں تھا لیکن… میرے لئے بہترین ہو, اگر ایک شخص کہتا ہے کہ وہ اپنی سابقہ غلطیوں پر شرمندہ یے تو… کیا اس پر یقین کرنا اتنا ہی مشکل ہے… ؟؟؟ ہم کہتے ہیں نا کہ زندگی میں ہر شخص ایک دوسرا موقع ضرور ڈیزرو کرتا ہے تو… ولید احمد کیوں نہیں ؟؟؟” اس کی آنکھوں میں قطرے ابھر آۓ تھے
“میں نے فقیروں کی طرح اس سے بھیک مانگی ہے… بار بار اس کے لبوں سے انکار سنا ہے, نہ جانے اس کی خاطر کتنے ہی آنسو بہاۓ ہیں… سعد میرا خدا گواہ ہے کہ شاید میں اپنی ذات کے لئے اتنی محنت کبھی نہیں کرتی جتنی اس کی خاطر کی ہے , اس نے ایک بار مجھے کہا تھا کہ وہ یا تو کسی خوبصورت اور امیر کو چنے گا… یا کسی کامیاب اور مشہور کو… اور میں نے بڑی محنت سے خود کو دوسری کیٹیگری میں کھڑا کیا ہے… ” آنسو پلکوں کی باڑ پھاند گئے تھے, سعد بس خاموشی سے سے سنتا رہا
“سعد میں پرفیکٹ نہیں ہوں لیکن…. مجھے اس پرفیکٹ انسان سے شادی کرنی ہے, مجھے اس کے پہلو میں کھڑے ہونا ہے, میں نے بڑی محنت سے کمایا ہے اسے… پلیز” وہ کہتی چلی گئی, سعد بس اس کے آنسو دیکھتا رہ گیا
“مجھے بہت محبت ہے اس سے… ” وہ تئیس سالہ امپرفیکٹ لڑکی دل کے ہاتھوں کس قدر مجبور تھی… ؟؟؟ یہ صرف سعد مغل ہی جان سکتا تھا
“مبرہ… میری ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا, جب ہم چناؤ کا اختیار اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں تو پھر شکوے کا اختیار کھو دیتے ہیں” سعد نے دھیرے سے کہا تھا
……………………
وہ کہتے ہیں نا… کہ شادی کے بعد میکہ جنت کا ایک گوشہ ہی محسوس ہوتا ہے, بالکل سچ کہتے ہیں, سسرال صحیح معنوں میں ایک کرکٹ سٹیڈیم کی طرح ہوتا ہے, دور کھڑے ہو کر کریز پر کھڑے بیٹسمین کو ہزار ہا مشورے دینا کوئی بڑی بات نہیں لیکن… اصل پتہ تب چلتا ہے جب بلا خود کے ہاتھ میں آتا ہے
اور وہ بلا ہاتھ میں پکڑے کریز پر کھڑا بیٹسمین بالکل اس لڑکی سے مشابہہ ہوتا ہے جو نئی نئی بیاہ کر سسرال میں آئی ہو
میکے کے پڑھاۓ ہوۓ سارے سبق, ماں کے سکھاۓ سارے گر, باپ کی ساری نصیحتیں, سہیلیوں کے سارے مشورے… سٹیڈیم کی باؤنڈری سے باہر ہی رہ جاتے ہیں, اس لمحے کریز پر کھڑے ہو کر صرف اور صرف اپنا کھیل کھیلنا پڑتا ہے, آس پاس کھڑے سبھی سسرالی رشتوں میں خود ہی اپنی بال کے لئے راستہ بنانا پڑتا ہے…. اور جانتے ہیں اس سٹیڈیم میں آپ کے ساتھ کون ہوتا ہے ؟؟؟
وہ واحد ساتھی بیٹسمین جو کریز کے دوسری جانب کھڑا ہوتا ہے… آپ کا شوہر
اس کا کام صرف آپ کے ساتھ دوڑنا ہے, ہر ہر شارٹ پر آپ کا ساتھ دینا ہے اور جب وہ کریز پر آ جاۓ تو اسے آپ کو کور دینا ہوتا ہے
روحاء کا بھی یہ ہی حال تھا, وہ اپنے سسرال میں بلا ہاتھ میں پکڑے کریز پر کھڑی تھی, ایک طرف ساس, سسر, ایک طرف جیٹھ, جیٹھانیاں, ایک طرف نندیں… اور وہ بیچاری اپنے ساتھی کے ساتھ ایک اکیلی…
وہاں آ کر اسے اصل حقیقتیں آشکارا ہوئی تھیں, نچلے پورے گھر پر زویا کا ہولڈ تھا, ڈرائینگ روم تک اس کے حساب کتاب سے سیٹ ہوتا تھا, صبح سے لیکر شام تک اس کے تینوں بچے نیچے ادھم مچاۓ رکھتے تھے
اوپر نمرہ کا راج تھا, سواۓ ایک کچن کے اس نے سب کچھ اوپر سیٹ کر رکھا تھا
روحاء ان دونوں کی محتاج ہو کر رہ گئی تھی, کپڑے دھونا ایک مصیبت… کس کی واشنگ مشین مانگے ؟؟؟ اگر اپنی لگاۓ تو کہاں لگاۓ ؟؟؟
کپڑے استری کرنا ایک مصیبت… استری سٹینڈ اس نے زبردستی اوپر ایک کونے میں سیٹ کروایا, کھانا پکانا ایک مصیبت… وہ مصیبت اوپر کچن بننے سے ختم ہوئی, فریج استعمال کرنا ایک مصیبت… کوئی چیز رکھ لو, صبح ندارد
اوون استعمال کرنا ایک مصیبت… آۓ روز خراب, اس نے اپنے کچن میں اپنا رکھ لیا, سسرالیوں کی مداخلت ایک الگ مصیبت… سونے جاگنے کے اوقات بدل گئے, کھانے پینے کے اوقات بدل گئے, ہر کام پر سوال, ہر فعل پر مداخلت, بچوں کی الگ مصیبت… کہاں تک روکا جاۓ ؟؟؟
اور سب سے بڑا مسئلہ جو اس نے شادی کے بعد فیس کیا وہ یہ کہ مروان اس گھر کا واحد کام کرنے والا مرد تھا, کاشف مرزا ستاون سال کے ہو گئے تھے سو کتنا بھاگ دوڑ کرتے ؟؟؟ چھ ماہ پہلے انہوں نے وکالت بھی چھوڑ دی تھی, فرحان اور نعمان دونوں اپنی ڈیوٹی پر ہوتے تھے سو ان کی فیملیز کی بھی ساری ذمہ داری مروان کی تھی اور اس چکر میں وہ بعض اوقات روحاء کو بھی اگنور کر دیتا تھا
روحاء جیسی لڑکی جس نے کبھی پانی کے ایک گلاس پر کمپرومائز نہیں کیا تھا اسے اب ہر ہر قدم پر کمپرومائز کرنا پڑتا تھا, ہر چوتھے دن اس کی اور مروان کی تو تو میں میں ہو جاتی تھی, مروان میں صبر کا مادہ ذرا زیادہ تھا سو وہ زیادہ تر خاموش ہو جاتا تھا, ہر بار منانے کا کام بھی وہی کرتا تھا
………………………
سعد کے لیے پھر سے ایک رشتہ آیا تھا, سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا, کوکب نے روحاء کو بھی بلوا لیا تھا, وہ لڑکی گورنمنٹ سیکٹر میں جاب کر رہی تھی, روحاء کو بھی وہ پسند آ گئی تھی
سو اس رات کھانے کی میز پر کوکب اور روحاء نے اسے گھیر لیا
“اب اس رشتے میں خامی نکال کر دکھا مجھے…. ” کوکب نے کہا, ساجد مغل بھی وہیں تھے
“امی پلیز… جلدی کس بات کی ہے ؟؟؟” وہ بولا
“سعد… ستائس سال کا ہو گیا ہے, اب تو نوکری بھی مل گئی… اب اور کتنا انتظار کرنا ہے ؟؟؟” کوکب اس پر برس پڑیں
“سعد… نکاح رسول صہ کی محبوب ترین سنت ہے… کیا قباحت ہے اس رشتے میں ؟؟؟” ساجد مغل نے اسے گھرکا
“ابو… مجھے پتہ ہے کیا قباحت ہے ؟؟؟” روحاء نے کہا, سعد نے چونک کر اسے دیکھا, وہ ہلکا ہلکا مسکرا رہی تھی
“کیا ؟؟؟”
“اس کی نظروں میں کوئی اور ہے ؟؟؟” اس نے شوشہ چھوڑا
“تو اس کا نام پتہ بتا دے, میں کونسا قتل کر دوں گی تجھے… ؟؟؟ ” کوکب نے کہا
“امی ایسا کچھ نہیں ہے… روحاء فضول بکواس نا کرو” سعد نے اسے گھرکا
“امی پکا ایسا ہی ہے… اور لڑکی پتہ ہے کون ہے ؟؟؟” روحاء ہنستے ہوئے سعد کو زچ کر رہی تھی
“روحاء… شٹ اپ ہو جا” سعد کو غصہ آ گیا
“کون ہے… بتا مجھے ؟؟؟” کوکب نے زور سے کہا
“بتا دوں ؟؟؟” روحاء سعد کے متوقع غصے کے پیش نظر اٹھ کر کوکب کے پاس آ کھڑی ہوئی تھی, سعد اسے گھورے جا رہا تھا
“مبرہ حسیب خان… ” روحاء کے کہتے ہی کوکب سن رہ گئیں
“مبرہ… ؟؟؟” انہوں نے حیرت سے سعد کی طرف دیکھا “امی ایویں تکے مار رہی ہے یہ…. اس کا رشتہ طے ہو گیا ہے” سعد نے خجل ہوتے ہوئے کہا
“ابھی نہیں ہوا ہے… ” روحاء نے کہا
“امی آپ کس کی باتوں پر کان دھر رہی ہیں… مبرہ سے کرنی ہوتی تو میں خود نا آپ سے کہہ دیتا… اس کا رشتہ پکا ہو گیا ہے” سعد نے کوکب کو مطمئن کرنا چاہا
“بس تو پھر اس رشتے کو ہاں کر دے… سعد بچے یہ ہی شادی کی عمر ہے” کوکب نے کہا
“اچھا بس ایک آدھ ہفتہ اور دے دیں مجھے… پلیز” سعد نے منت کے سے انداز سے کہا تھا
……………………..
“ابو… ” وہ اپنے کمرے میں تھے مبرہ نے انہیں پکارا, وہ کمرے کے دروازے میں کھڑی تھی
“مبرہ آؤ بیٹا… ” وہ اندر اکیلے ہی تھے, عابدہ کچن میں تھیں
“ابو… آپ نے سعد کو کیوں کال کی تھی ؟؟؟” اس نے انگلیاں چٹخاتے ہوۓ پوچھا
“ولید کے بارے میں پوچھا تھا اس سے, کہ کیسا بندہ ہے ؟؟” وہ بولے
“کیا کہا پھر سعد نے ؟؟؟”
“کہہ رہا تھا کہ فی الوقت تو اچھا ہی ہے…. باقی پتہ کر دے گا” حسیب خان نے کہا, مبرہ خاموش ہو گئی
“مبرہ… ؟؟؟” انہوں نے دھیرے سے اسے بلایا
“جی ابو… ؟؟؟” وہ واپس جانے لگی تھی
“ایک بار پھر سوچ لے بیٹے… شعیب کہہ رہا تھا کہ لڑکا تو سعد بھی بہترین ہے… اس کی فیملی بھی دیکھی بھالی ہے, ساجد سے میں خود بھی بات کر سکتا ہوں… ” انہوں نے کہا
“ابو مجھے سعد سے شادی نہیں کرنی… ” اس کی آنکھیں بھر آئیں
“مبرہ گاؤں کی ہو کر رہ جاۓ گی تو… اتنا بڑا خاندان ہے اس کا, ساری زندگی بس چھوٹے بہن بھائی ہی بیاہتا رہے گا وہ” حسیب خان نے کہا
“ابو… ہو سکتا ہے میرا مقدر اس کے مقدر سے جڑے تو سب کچھ بہترین ہو جاۓ”وہ بولی تو آنسو نکل آۓ, حسیب خان نے بس اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا
ایک دو دن بعد ولید کے ابو کی کال آ گئی, وہ ان کی مرضی پوچھ رہے تھے, حسیب خان نے دوبارہ سے سب کو جمع کر لیا
“وہ لوگ ہماری مرضی پوچھ رہے ہیں ؟؟”
“ابو سب سے پہلے مبرہ کی مرضی پوچھ لیں ” شعیب نے کہا
“مبرہ تو راضی ہے… ” وہ بولے
“مبرہ بھلے ہی راضی ہے… لیکن میں راضی نہیں ہوں, سواۓ ایک شکل کے اس کے پلے اور ہے کیا ؟؟؟” عابدہ نے کہا
“عابدہ گھر بھی اچھا ہے ان کا, نوکری بھی ہے اس کے پاس” حسیب خان کا ووٹ ذرا ذرا سا مبرہ کے حق میں ہو گیا تھا
“ابو میں تو خود راضی نہیں ہوں” شعیب نے کہا
“حنا… مبرہ کو بلا کر لا” عابدہ کے کہتے ہی وہ مبرہ کو بلا لائی
“مبرہ…. بچے وہ لوگ جواب مانگ رہے ہیں ؟؟” شعیب نے کہا, مبرہ نے ایک نظر حسیب خان کی طرف دیکھا
“سب کچھ تیرے سامنے ہے مبرہ, تو شہر کی پڑھی لکھی لڑکی ہے, انشاءاللہ اب برسر روزگار بھی ہو جاۓ گی, آج نا سہی تو کل تیرے لئے اس سے بھی بہترین رشتہ آ جاۓ گا, وہ ایک اکیلا کفیل ہے اس گھر کا, باقی سارے بہن بھائی ابھی چھوٹے ہیں, باپ بھی فی الحال کچھ نہیں کرتا… ساری زندگی شکل و صورت کو دیکھ دیکھ کر نہیں گزرے گی… تو بالغ ہے, عقلمند ہے.. اچھی طرح سوچ کر فیصلہ کر لے…. ” عابدہ کہتی چلی گئیں
“لیکن میری ایک بات یاد رکھنا…. ماں باپ کی مرضی پر سر جھکا کر سسرال جاۓ گی تو گلے کا اختیار تا عمر رہے گا تیرے پاس… اپنی مرضی کرے گی تو پھر ساری عمر شکوہ نہیں کر پاۓ گی” عابدہ نے کہا تھا, مبرہ نے ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے سب کو دیکھا
“ان سے تھوڑا سا وقت مانگ لیں…. اگر میری سلیکشن ہو گئی تو انہیں ہاں کر دیجییےگا… اگر نا ہوئی تو جواب دے دیجئے گا” وہ کہہ کر واپس پلٹ آئی
آٹھ دن بعد اسے سلیکشن کا میسیج آ گیا تھا
……………………..
جاری ہے