Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

ساتویں قسط
وہ مروان کے کندھے پر اپنا سر رکھے اس کا موبائل دیکھ رہی تھی, وہ اسے اپنے کالج اور یونیورسٹی کے زمانے کے تصویریں دکھا رہا تھا, اس کے ایک ہاتھ میں موبائل تھا اور دوسرا روحاء کے گرد حصار کئے ہوئے تھا, وقفے وقفے سے وہ اس کے چاند چہرے پر گستاخیاں بھی کیے جا رہا تھا
اچانک اسے ایک تصویر میں ولید احمد نظر آیا, وہ مروان کی اکیڈمی کی تصویر تھی
“ایک منٹ مروان… یہ تو ولید احمد ہے نا ؟؟”
“ہاں… “
“مروان اسے کیوں نکال دیا تھا آپ نے اپنی اکیڈمی سے ؟؟” روحاء ایک دم سے شرلاک ہومز موڈ میں آ گئی
“بس یار… دیکھنے میں ڈیشنگ لگتا ہے نا… لڑکیاں ایویں فدا ہو جاتی ہیں, ایک سٹوڈنٹ سے افییر چل پڑا تھا اس کا, اس کے والدین کو خبر ہو گئی, کافی پھڈا بن گیا تھا, میں نے جواب دے دیا تھا پھر اسے… ” مروان نے بتایا
“مروان یہ کیسا بندہ ہے… ؟؟؟ فلرٹی سا ہے ؟؟” اس نے پوچھا
“ہاں بس ایسا ہی ہے… ٹائم پاس کرتا ہے, دو بار تو منگنی ٹوٹ گئی ہے اس کی ” وہ بولا
“سچی… ؟؟؟” روحاء کی آنکھیں پھیل گئیں
“گاؤں کا رہنے والا ہے روحاء, اپنی فیملی میں یہ ہی بس ذرا زیادہ پڑھا لکھا ہے, باقی تو اجڈ ہی ہیں, میں نے سنا ہے کہ اس نے اپنی پہلی منگیتر پر شادی سے پہلے ہی حق جمانے کی بھی کوشش کی تھی… شاید ؟؟؟” مروان کے کہتے ہی روحاء حق دق رہ گئی
“تم نے کیا اس پر کتاب لکھنی ہے جو اتنی انویسٹی گیشن کر رہی ہو؟؟؟” مروان سیل ایک طرف رکھتے ہوئے اس کی طرف مڑا اور بڑے حق سے اس کے بالوں میں اپنا چہرہ چھپا لیا
“مروان دیکھیں تو ذرا… دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ ایسا ہو گا” روحاء کی سوئی اسی میں اٹک گئی تھی
“دیکھنے کا کیا ہے… مجھے دیکھ کر لگتا ہے کہ میں اتنا رومینٹک ہوں گا” مروان مسکراتے ہوئے پوری طرح اس پر حاوی ہو چکا تھا, ہاتھ بڑھا کر اس نے لائیٹ آف کی تھی
“ہنہ… پتہ ہے مجھے کتنے رومینٹک ہیں آپ… ” روحاء نے ایک ادا سے کہا تھا
“تمہیں پتہ ہی کیا ہے روحاء جان…. ” اس نے پوری طرح روحاء کے وجود کو اپنے وجود سے ڈھانپ لیا تھا
……………………..
روحاء نے اگلے ہی دن اسے سب کچھ من و عن بتا دیا, مبرہ بس ششدر سی اسے سنے جا رہی تھی
“مبرہ یار میں تو کہتی ہوں دل پر جبر کر لے… اتنے پھڈے والے بندے کے ساتھ زندگی کیسے گزارے گی بھلا” وہ بولی
“روحاء… یار میرا دل نہیں مانتا یہ سب” وہ انتہائی پریشان تھی
“روحاء… دیکھ مروان کو بھلا ولید کے بارے میں جھوٹ بول کر کیا حاصل ہونا… پھر بھی اگر تیرا دل نہیں مانتا تو تو ایک بار سعد سے بات کر لے, اس سے پوچھ لے, اب تو ان دونوں کی جاب بھی ایک ساتھ ہو گئی یے, سعد تجھے سب کچھ سچ سچ بتا دے گا, اگر تو کہے تو میں سعد سے بات کر لیتی ہوں” روحاء نے کہا
“نہیں روحاء… میں خود ہی کر لوں گی” وہ دل مسوس کر کال کاٹ گئی تھی
سر درد سے پھٹنے والا ہو گیا تھا
روحاء بالکل ٹھیک کہہ رہی تھی, سعد اسے سب کچھ سچ بتا سکتا تھا… اور کچھ حد تک بتا بھی چکا تھا
یہ اور بات تھی کہ وہ سب کچھ جانتے بوجھتے انکاری ہو رہی تھی
اس دن بھی ایک کلاس لیکر ہی اس کی بس ہو گئی, چاۓ کے کپ کے ساتھ اس نے دو گولیاں کھائی تھیں, ذہن شدید ڈپریشن کا شکار ہو رہا تھا
سعد اس کی شکل دیکھ کر ہی اس کی اندرونی کشمکش کو سمجھ گیا
“کوئی پریشانی ہے ؟؟؟”, مبرہ نے نظر بھر کر اسے دیکھا
“کچھ پوچھنا ہے ؟؟؟” اس نے دوبارہ کہا
“پوچھوں تو سچ سچ بتائیں گے ؟؟؟ وہ بولی
“میں نے آپ سے کبھی جھوٹ نہیں بولا مبرہ… “
“ولید احمد کی پہلی منگنی کس سے ہوئی تھی ؟؟؟” اس نے پوچھا
“اس کی کوئی یونیورسٹی فیلو تھی…. “
“اور کیوں ٹوٹ گئی ؟؟”
“کیونکہ اسے لگا کہ شاید اس کی منگیتر پر اس کا ہر طرح کا حق ہے… جو وہ کسی بھی وقت وصول کر سکتا ہے” سعد کے کہتے ہی وہ ساکت رہ گئی, بول نہ سکی
“مبرہ… ” سعد بے دھیرے سے اسے پکارا
“اقراء سے ملیں آپ ؟؟؟ اس نے پوچھا, مبرہ نے اثبات میں سر ہلا دیا
“دیکھیں مبرہ… میں یہ سب اسلیے نہیں کہہ رہا کہ آپ ولید سے متنفر ہو کر مجھ سے شادی کر لیں, بھلے ہی مجھ سے بھی نا کریں لیکن… خدارا اس سے بھی نا کریں, ولید احمد کوئی گمنام شخصیت نہیں ہے…. اسے یہاں سب جانتے ہیں, اگر میرا یقین نہیں آتا تو کسی اور سے پوچھ لیں… ” وہ کہتا چلا گیا, مبرہ نے اپنا سر ہاتھوں میں گرا لیا
سعد کو اس پر ترس آیا تھا
“مبرہ… ” اس نے نہائت دوستانہ انداز سے اسے پکارا, مبرہ نے نظریں اٹھا کر سے دیکھا, اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھرتی جا رہی تھیں
“قدم واپس لینے میں دقت کیا ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“محبت… ” وہ اپنی آنکھیں رگڑتے ہوۓ کھڑی ہوئی اور باہر نکل گئی
…………………………..
اس نے تیسری دفعہ مروان کو کال کی تھی… جواب ندارد
اس سے پہلے کہ وہ چوتھی مرتبہ اسے کال ملاتی, مروان کی بائیک گیٹ سے اندر داخل ہوئی, روحاء نے اپنے کمرے کی کھڑکی سے اسے دیکھا تھا
وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا, روحاء ایکدم پھٹ پڑی
“کب سے کال کررہی ہوں… سن لیتے تو کیا تھا ؟؟؟” وہ بولی
“کچھ منگوانا تھا ؟؟؟” اس نے پوچھا
“تو اور کیا ؟؟؟ کچھ کھانے کو منگوانا تھا” وہ بولی
“کیوں ؟؟؟ کھانا نہیں کھایا ؟؟؟”
“کھانا بچا ہی نہیں… دوپہر میں زویا بھابھی کے رشتے دار آ گئے, جو کھانا بنا وہ تبھی ختم ہو گیا, میں نے سوچا روٹی بنا لوں تو انڈے ندارد… انڈے منگواۓ, سالن بنایا, روٹی بنانے لگی تو پتہ چلا کہ آٹا ختم ہے… ” وہ رونے والی ہو گئی
“اب کیا حکم ہے ؟؟؟” وہ پریشان سا کھڑا تھا
“اب آٹا ہی اٹھا لائیں… اور کیا ہو سکتا ہے” وہ بولی, وہ بیچارہ الٹے پاؤں واپس گیا اور آٹا اٹھا کر لایا
چینج کر کے باہر نکلا تو وہ پھر بستر پر بیٹھی تھی
“بنا لی روٹی ؟؟؟”
“کہاں بنا لی… ؟؟؟ وہاں زویا بھابھی گھسی ہوئی ہیں… پیچھے بچوں نے قطار بنائی ہوئی ہے” وہ ستی پڑی تھی, مروان اسے کہہ نا سکا کہ میری تو خود بھوک سے جان نکل رہی ہے
آدھے گھنٹے بعد زویا نکلی تو نمرہ گھس گئی
“بس دودھ ابالنا یے روحاء… بچے رو رہے ہیں… اور چاۓ بنانی ہے” منت بھرا لحجہ, وہ پھر واپس آ گئی
“باہر سے لے آؤں کھانا ؟؟؟” مروان کو پتہ تھا کہ اس کے غصے کا میٹر لمحہ بہ لمحہ بڑھتا جا رہا تھا
“فی الحال بس خاموش ہو جائیں ” روحاء نے انتہائی غصے سے اسے دیکھا تھا, اوپر نیچے سیڑھیاں اترتے چڑھتے اس کی بس ہو چکی تھی
کچھ دیر بعد وہ پھر کچن میں گئی, صد شکر کے توا چولہے پر رکھا ہی گیا
“روحاء… روٹی بنا رہی ہو ؟؟؟” وہ رابعہ تھی
“ہاں… اگر آج کی صدی میں بن جاۓ تو ؟؟؟” وہ بولی
“ایک مجھے میری بھی بنا دو پلیز… ” پہلی روٹی وہ لے گئی, دوسری اور تیسری وہ کاشف مرزا کو دے آئی, چوتھی پر زویا پھر نازل ہو گئی
“روحاء بس ایک روٹی دینا… ” چلو جی
پانچویں پر آٹا ختم… اسے شدید رونا آیا تھا, دوبارہ آٹا گوندھنے کو دل ہی نہیں کیا, اس نے ٹرے بنائی اور مروان کے لئے کھانا لے آئی
“تم نے کھا لیا ؟؟؟”
“بھوک نہیں ہے… ” آنکھوں میں آیا پانی صاف کرتے ہوئے وہ واش روم میں گھس گئی تھی, اچھی طرح رو کر باہر نکلی تو مروان اس کے انتظار میں تھا
“چلو آؤ… باہر کھانا کھا آتے ہیں” وہ اس کا سرخ چہرہ اور سوجی ہوئی آنکھیں دیکھ کر دھیرے سے بولا اور اس کی کلائی تھام کر باہر لے آیا
“امی میرے موٹر سائیکل کی چابی کہاں ہے ؟؟؟” ہک سے چابی ندارد تھی
“وہ سامنے والوں کا احمر لیکر گیا ہے” فرحت نے کہا
“اور فرحان بھائی والا ؟؟؟”
“وہ تو زویا کا بھائی لیکر گیا ہوا ہے” وہ بولیں
“کہیں جانا تھا… ؟؟؟” وہ تاڑ گئیں
“کہیں نہیں جانا تھا” روحاء اس کا ہاتھ چھوڑ کر واپس اوپر چلی گئی
“کیا ہوا ہے ؟؟؟” انہوں نے پوچھا, مروان نے مختصراً سب کہہ سنایا
“وہ دوپہر سے بھوکی ہے… ” وہ بولا
“میں آٹا گوندھ کر روٹی بنا دیتی ہوں… تو جا اوپر” وہ بولیں, مروان اوپر آیا تو وہ کروٹ لئے کمبل تان کر لیٹی تھی
“روحاء… یار اٹھو, کھانا تو کھا لو” مروان نے اس کے بازو پر ہاتھ رکھا جسے اس نے ایک دم جھٹک دیا, وہ تاسف سے اسے دیکھتا رہ گیا
بیس, پچیس منٹ بعد فرحت اسے ٹرے پکڑا گئی تھیں
“روحاء… یار سوری, کھانے سے کیا ناراضگی ؟؟؟” وہ کافی دیر بیٹھا اسے منانے کے جتن کرتا رہا, روحاء ایک جھٹکے سے اٹھی تھی
“مروان… میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں سوچا تھا کہ مجھے کبھی کھانے پینے پر بھی سمجھوتہ کرنا پڑے گا… میری ایک بات کان کھول کر سن لیں… اگلے ہفتے تک مجھے اوپر کچن بنوا کر دیں… ورنہ میں امی کی طرف چلی جاؤں گی” وہ اسے انگلی اٹھا کر کہتی کروٹ لے کر لیٹ گئی تھی
مروان بس بیٹھا رہ گیا تھا
……………………..
اس کے انٹرویو کی ڈیٹ اناؤنس ہو گئی تھی, تیاری تو کیا کرنی تھی ذہن ہی پریشان ہوا پڑا تھا, ہر وقت اس کے ذہن میں ولید اور اس سے جڑی باتیں ہی گھومتی رہتی تھیں
سعد کو دیکھ دیکھ کر اسے الگ سے گلٹ محسوس ہوتا تھا, روحاء کی بھی ایک لمبی کال آئی تھی جس میں وہ بس اسے ولید کو بھول جانے کا ہی کہتی رہی تھی
انٹرویو سے دو دن پہلے وہ لاہور آ گئی, اس کا چھوٹا بھائی بھی اس کے ساتھ آیا تھا, لاہور وہ دونوں حسیب خان کے ایک دوست کے گھر رکے تھے
اس رات بھی وہ کتاب کھولے بیٹھی تھی جب اسے ولید کی کال آئی, تا دیر وہ بیٹھی سکرین کو دیکھتی رہی… دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا
آخر کار ریسیو کر ہی لی
“کیسی ہیں آپ مبرہ خان ؟؟؟” اس کا وہی ازلی سحر انگیز لحجہ
“ٹھیک ہوں سر… “
“میں نے سوچا آپ کو انٹرویو کے لیے گڈ لک کہہ دوں” وہ بولا
“تو کہہ دیں… ” وہ بولی
“Good Luck…”
وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا
“تھینک یو…. ” اس کا دل بھر آیا
“میں جانتا ہوں مبرہ کہ اس وقت آپ بہت مصروف ہیں, صبح آپ کا انٹرویو ہے سو مجھے آپ کو بالکل بھی تنگ نہیں کرنا چاہئے لیکن… میں بس یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں کوئی فرشتہ صفت انسان نہیں ہوں… میں مانتا ہوں کہ مجھ سے ماضی میں بہت ساری غلطیاں ہوئی ہیں لیکن… میں آیندہ آنے والے وقت میں ان غلطیوں کو سدھارنا چاہتا ہوں… اگر آپ میرا ساتھ دیں تو ؟؟؟” اس کی بات پر مبرہ کا زور سے دل دھڑکا تھا
“میرے ساتھ مطلب ؟؟؟” اس نے پوچھا
“ایک بار آپ نے مجھ سے پوچھا تھا… اور میں نے انکار کر دیا تھا, آج میں آپ سے پوچھ رہا ہوں… کہ آپ میری تمام تر گزشتہ غلطیوں کے باوجود مجھ سے شادی کریں گی ؟؟؟” اس نے پوچھا, مبرہ بس دم بخود سی بیٹھی رہ گئی, دل کا یہ عالم تھا کہ جیسے سینہ پھاڑ کر باہر نکل آۓ گا, انگلیاں بھی کپکپانے لگی تھیں
وہ اپنی تمام تر سابقہ غلطیاں تسلیم کر رہا تھا, خود کو غلط مان رہا تھا, اور اس کی جانب ہاتھ بڑھا رہا تھا
“میں جانتا ہوں مبرہ کہ میری ریپوٹیشن بہت اچھی نہیں ہے, ظاہر ہے آپ نے بھی سعد سے میرے بارے میں پوچھا ہی ہو گا اور اگر آپ ہاں کرتی ہیں تو آپ کے گھر والے بھی میرے بارے میں ضرور چھان بین کریں گے لیکن… میں تسلیم کرتا ہوں کہ میں اپنی تمام تر سابقہ کوتاہیوں پر دل سے شرمندہ ہوں, میں ستائس سال کا ہو گیا ہوں مبرہ… اور میرے خیال سے اب مجھے کسی ایک کا انتخاب کر لینا چاہئے ” وہ کہتا چلا گیا, مبرہ بالکل خاموش تھی
“ہیلو… مبرہ… کہاں گئیں ؟؟؟” اس نے پوچھا
“میں انٹرویو دے آؤں… پھر آپ اپنے پیرنٹس کو بھیج دیجئے گا” خوشی سے اچھلتے ہوۓ دل کو بمشکل قابو کرتے ہوئے اس نے دھیرے سے کہا تھا
“اوکے مبرہ… گڈ لگ ” وہ کہتے ہوئے کال کاٹ گیا تھا
پچھلے کئی دنوں کا پریشان ذہن یکدم. ہی ہلکا پھلکا ہو گیا, سارے اندیشے, سارے وسوسے لمحوں میں دور ہو گئے
وہ اپنی تمام تر غلطیوں کو تسلیم کر رہا تھا
یہ بھی مان رہا تھا کہ اس کی ریپوٹیشن اچھی نہیں ہے… اور اسے پروپوز بھی کر رہا تھا
وہ بیٹھے بیٹھے مسکرانے لگی, دل اسے سوچ کر ہی ہواؤں میں اڑنے لگا تھا
اگلے دن وہ انتہائی زبردست انٹرویو دے کر آئی تھی
……………………….
روحاء ایک بار پھر میکے آ گئی تھی, اس کے الٹی میٹم کے باوجود مروان نے اسے کچن نہیں بنوا کر دیا تھا سو وہ چپ چاپ سعد کے ساتھ واپس آ گئی تھی
“جب تک کچن نہیں بن جاتا… میں واپس نہیں آؤں گی” وہ صاف لفظوں میں مروان کو کہہ آئی تھی
کوکب انتہائی پریشان تھیں, اس کی شادی کو ابھی دو ماہ بھی نہیں ہوۓ تھے
“روحاء یہ کیا طریقہ ہے… ہر چوتھے دن تو میکے آ کر بیٹھ جاتی ہے” وہ بولیں
“امی میں نے آپ لوگوں سے کہا تھا نا کہ اسے کہیں مجھے کچن بنوا کر دے اوپر… آپ نے کہا ہم ابھی اسے کہتے اچھے نہیں لگتے, تو خود اس سے کہہ… بس اب میں اپنے طریقے سے کہہ آئی ہوں” وہ بولی
“لیکن روحاء… ” روحاء نے ان کی بات کاٹ دی
“امی وہاں تو میرا کھانا پینا حرام ہوا پڑا ہے, نا وقت پر کھانا, نا چاۓ, نا کچھ اور… ویسے تو بڑے ویل آف بنتے ہیں, کہنے کو مروان مرزا مہینے کا ڈیڑھ لاکھ تک کما لیتا ہے, ایک کچن نہیں بنوا کر دے سکتے” وہ ببانگ دہل بولی تھی
اور وہ اپنی جگہ پر بالکل درست تھی, دراصل ہمارے ہاں جوائنٹ فیملی سسٹم کا یہ ہی تو مسئلہ ہے کہ جب پہلے بیٹے کی شادی کرتے ہیں تو ایک ہی بار گھر کو سیٹ کر لیتے ہیں, کمرے, کچن, ڈرائینگ روم.. سب کچھ
پہلی بہو جب بیاہ کر آتی ہے تو اسے تو وہ گھر جنت کی طرح لگتا ہے, زویا کے ساتھ یہ ہی ہوا, اسے آتے ہی نیچے کا سارا پورشن مل گیا تھا, رابعہ, نعمان اور مروان کے کمرے اوپر تھے, پورا کچن اس کی دسترس میں تھا, سو وہ بڑے آرام سے ایڈجسٹ ہو گئی
نمرہ کی دفعہ بھی اس کے میکے والوں کو نظر آ رہا تھا کہ اوپر والا پورشن اسی کا ہو گا, کچن کا کیا ہے… وہ تو نیچے آ کر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے سو اسے بھی کوئی خاص دقت نہیں ہوئی
ہاں البتہ روحاء کی باری آتے آتے اس گھر میں پانچ عدد بچے بھی اضافہ کر چکے تھے, زویا نچلے پورشن کی حکمران بن چکی تھی, نمرہ کا سیکینڈ پورشن پر راج تھا, روحاء بیچاری کیسے ایڈجسٹ کرتی.. ؟؟؟
کوکب بھلے ہی بہت دور اندیش سہی لیکن یہ انہوں نے بھی نہیں سوچا کہ ان کی بیٹی کو کچن کا مسئلہ کھڑا ہو سکتا ہے….اور وہ مسئلہ کھڑا ہو گیا تھا
“روحاء… یار میں بنوا دیتا ہوں کچن… ناراض ہونے کی کیا بات ہے ؟؟؟” مروان کو اب صورتحال کی سنگینی کا اندازہ ہوا تھا
“مروان مجھے دو مہینے ہو گئے ہیں آپ کو کہتے کہ مجھے اوپر کچن بنوا دیں… میں پاگل ہوں جو بس بکواس کرے جا رہی ہوں” وہ انتہائی غصے میں تھی
ناچار وہ اسی رات کاشف مرزا کے سامنے پیش ہو گیا
“ابو میں اوپر کچن بنوانے لگا ہوں… روحاء کو مسئلہ ہوتا ہے” وہ بولا
“مروان زویا اور نمرہ بھی تو ہیں… دونوں اسی کچن کے ساتھ مینیج کرتی ہیں” ساس, سسر چاہے جتنے بھی اچھے کیوں نا ہوں.. ایک بار کیوں کا سوال ضرور کرتے ہیں
“ابو وہ ناراض ہو کر چلی گئی ہے, کافی عرصے سے وہ اوپر کچن بنوانے کا کہہ رہی ہے, نیچے والا کچن اکثر ہی مصروف ہوتا ہے” وہ بولا
“بنوا لے… ” وہ کندھے اچکا کر بولے تھے, اگلے ہی دن کوکب اور ساجد مغل روحاء کی سسرال پہنچ گئے, مروان گھر پر ہی تھا
“مرزا صاحب آخر مسئلہ کیا ہے… وہ بچی جب جب سسرال سے میکے واپس آئی ہے, روتی ہوئی ہی آئی ہے, میں نے اسے تئیس سالوں میں اتنا نہیں رونے دیا جتنا وہ ان دو مہینوں میں روئی ہے” ساجد مغل کی اکلوتی لاڈلی بیٹی تھی وہ
“پریشان نا ہوں ساجد صاحب… مستری سے بات ہو گئی ہے, ایک, دو ہفتوں میں اوپر کچن بن جاۓ گا” کاشف مرزا نے کہا
“مرزا صاحب بات بس اتنی سی ہے کہ اگر اوپر کچن بنواۓ بنا چارہ نہیں تھا تو کیا وہ تبھی بننا تھا جب روحاء میکے آ کر بیٹھ جاتی ؟؟؟” ساجد مغل نے کہا
“ساجد بھائی روحاء نے ہم سے تو ایک بار بھی نہیں کہا…” فرحت ذرا تیزی سے بولیں
“لیکن اس نے اپنے شوہر سے کئی بار کہا ہے بہن… شادی کے محض دو ماہ بعد ہی وہ اپنے مسائل ساس سسر سے کہے گی یا شوہر سے کہے گی ؟؟؟” ساجد مغل نے کہا
“مروان نے بھی مجھے پرسوں بتایا ہے…. ” کاشف مرزا نے کہا, اب سب نے رخ موڑ کر مروان کی طرف دیکھا تھا
“کب سے کہہ رہی ہے وہ تمہیں کچن کا ؟؟؟” ساجد مغل نے پوچھا
“کافی عرصے سے کہہ رہی ہے… “
“تو اس کی بات پر کان دھرنا منع تھا تمہیں ؟؟؟” انہیں غصہ آ گیا, مروان خاموش رہ گیا
“اسے بیاہ کر لاۓ ہو تم… تمہاری ذمہ داری ہے وہ, اگر وہ تمہیں اپنا کوئی مسئلہ بتاتی ہے تو اسے حل کرنے کی کوشش کیا کرو, نظر انداز نہیں… ” انہوں نے کہا
“انکل سوری… میں جلد ہی سیٹ کروا دوں گا کچن” وہ شرمندہ تھا… بہت شرمندہ
“مروان میں نے اسے تمہاری بار بار کی خواہش پر تمہیں دیا ہے… بس اتنا یاد رکھنا کہ وہ بوجھ نہیں تھی ہم پر… ” ساجد مغل نے ذرا سی سختی سے کہا تھا
……………………….
ولید کے ماں باپ اور بڑی بہن آئی تھی… پہلے تو عابدہ کو اندازہ ہی نا ہوا کہ وہ کس سلسلے میں آۓ ہیں, پھر جب اس کی ماں نے اپنا مدعا پیش کیا تو ان کا ماتھا ٹھنکا
“آپ کو مبرہ کے بارے میں کیسے پتہ چلا ؟؟؟” انہوں نے اپنی بہو سے چاۓ بنانے کا کہا تھا
“میرا بیٹا جانتا ہے آپ کی بیٹی کو, وہ بھی اس کے ساتھ اسی اکیڈمی میں پڑھاتا رہا ہے, ہم اسی کے کہنے پر رشتہ لیکر آۓ ہیں ” ولید کی ماں نے کہا, تبھی چاۓ آ گئی
“حنا… مبرہ کو بلا لاؤ” ابدہ نے اسے ساتھ ہی آنکھ سے اشارہ بھی کیا تھا, وہ سر ہلا کر باہر نکل گئی
کچھ دیر بعد مبرہ اندر داخل ہوئی تھی, اس نے سبز رنگ کا نفیس سا لان کا سوٹ پہنا ہوا تھا, میچنگ دوپٹہ سلیقے سے سر پر اوڑھ رکھا تھا, وہ انہیں سلام کرتی ہوئی عابدہ کے ساتھ بیٹھ گئی
“یہ میری اکلوتی بیٹی ہے… مبرہ ” انہوں نے کہا, ولید کی بڑی بہن جھٹ ماں کے کان میں گھس گئی, عابدہ نے کال کر کے حسیب خان کو بھی بلوا لیا تھا
وہ لوگ کچھ دیر بعد چلے گئے اور انہیں آنے کی دعوت دے گئے تھے, ان کے جاتے ہی عابدہ مبرہ کی. طرف مڑیں
“کون ہے یہ ولید احمد ؟؟؟” ان کا انداز شکی سا تھا
“امی اس نے کچھ دیر سعد کے کوچنگ سینٹر میں پڑھایا تھا… اب شاید ان دونوں کی اکٹھی ایف بی آر کے آفس میں جاب ہوئی ہے” مبرہ گڑبڑا گئی
“اسی کی وجہ سے مروان کے رشتے کو انکار کیا تھا نا تو نے ؟؟” انہیں اب تک یاد تھا
“نہیں امی… مروان کونسا مجھ سے شادی کرنا چاہتا تھا” وہ تڑپ گئی
“مبرہ مجھ سے جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں ہے سمجھی, تجھ سے بات کر کے ہی اس نے اپنے گھر والوں کو بھیجا ہے نا ؟؟؟” وہ آخر کو ماں تھیں
“امی… اس نے بس سرسری سا پوچھا تھا” مبرہ پریشان ہو گئی, عابدہ اسے گھور کر چپ ہو گئیں
شام میں انہوں نے اپنے بڑے بیٹے کو بھی کمرے میں بلا لیا
“وہ 512 میں رہتے ہیں شعیب… کہہ رہے ہیں وہاں کوٹھی بنائی ہوئی ہے, وہ لڑکا ایف بی آر ریجنل آفس میں اسسٹنٹ ہے” عابدہ نے اسے بتایا
“امی دفع کریں… اب گاؤں میں بیاہنا ہے مبرہ کو… ” شعیب نے چھٹتے ہی کہا
“وہ لوگ بلا کر گئے ہیں ؟؟؟” عابدہ بھی کشمکش کا شکار تھیں
“دیکھنے میں تو کوئی حرج نہیں ہے شعیب… ” حسیب خان نے کہا
“دیکھ لیں ابو… جیسے آپ کو ٹھیک لگے لیکن پینڈو چاہے جتنا بھی پڑھ لکھ جائیں… وہ پینڈو ہی رہتے ہیں” شعیب نے کہا تھا
…………………….
جاری ہے