Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

چھٹی قسط
ان دونوں کی شادی کو بیس دن ہو گئے تھے
مروان نے اس کی باتوں پر زیادہ کان نہیں دھرے تھے, وہ بھلا کیسے اپنی بھابھیوں سے کہہ دیتا کہ اپنے بچوں کے منہ بند کروا لیں یا کیسے اپنی اکلوتی بہن سے کہہ دیتا کہ تم اپنے گلے سے لاؤڈ سپیکر نکلوا دو
اس دن بھی جب روحاء کی بس ہو گئی تو وہ اپنے میکے آ گئی
کوکب کے گلے لگ کر وہ بیچاری لڑکی اسقدر روئی کہ حد نہیں… کوکب انتہائی پریشان
“روحاء کیا ہوا ہے ؟؟؟”
“امی آپ نے کس چڑیا گھر میں بیاہ دیا مجھے, آپ اور ابو دیکھ کر کیا آۓ تھے اس گھر میں” وہ روۓ جا رہی تھی
“اسقدر دھما چوکڑی مچی رہتی ہے وہاں ہر وقت کہ خدا کی پناہ, اسقدر شور شرابا کہ میرا سر پھٹنے والا ہو جاتا ہے, پانچ تو بچے ہیں اس گھر میں… ایمان سے امی بندہ کسی بھی لمحے سکون سے سو نہیں سکتا… اب ایک بھاگتا ہوا آ گیا… اب دوسرا آ گیا… میں کس کس کو روکوں ؟؟؟ دروازہ بند کر دوں تو بھابھیوں کے منہ بن جاتے ہیں کہ دروازہ کیوں بند کیا ؟؟؟ اوپر سے وہ رابعہ ہر وقت اتنا اونچا چیختی ہے کہ توبہ… مردے بھی جاگ جاتے ہوں گے اس کا صور سن کر… امی فقط ایک کمرہ ہے میرے پاس, نا کوئی کچن, نا کوئی ڈرائینگ روم… اور جو قسمت سے ایک ڈرائینگ روم ہے وہ کوڑا والی ٹوکری بنا رہتا ہے, انتہائی بدتمیز اور ڈھیٹ بچے ہیں فرحان اور نعمان بھائی کے… اور وہ ہر وقت کھاتے رہتے ہیں امی… ہر وقت ان کی مائیں کچن میں ہی گھسی رہتی ہیں, مجھے اپنا اور مروان کا ناشتہ بنانا دوبھر ہو جاتا ہے, خدا کی قسم لائن میں کھڑے ہونا پڑتا ہے کچن استعمال کرنے کے لئے… ” وہ پھٹ ہی تو پڑی تھی
“تو تو یہ سب مروان سے کہہ نا… ” کوکب نے اسے پانی کا گلاس پکڑاتے ہوۓ کہا
“کہا ہے… اتنی بار کہا ہے, وہ سنتا ہی نہیں ہے” روحاء روہانسی ہو گئی
“دیکھ روحاء… وہ ان کے گھر کی روٹین ہے اور وہ سب گھر والے اس روٹین کے مطابق سیٹ ہیں, تو وہاں نئی ہے بچے… اتنی جلدی تو سب کچھ ٹھیک نہیں ہو جاۓ گا نا… ” کوکب نے اسے سمجھایا
“امی میں نے اب کچھ دن یہیں رہنا ہے… میرا سر پلپلا ہو گیا ہے اس جنجال پورے میں رہ رہ کر… میں سونے لگی ہوں مجھے اٹھائیے گا مت پلیز… ” وہ اپنا سارا سامان لیکر اوپر اپنے کمرے میں چلی گئی
وہ تو واقعی جنت کا کوئی گوشہ تھا, بستر پر لیٹتے ہی اس نے کمبل تانا اور سو گئی
شام تک سوتی ہی رہی, ساجد مغل اور سعد آۓ تو کوکب نے اس کے آنے کا بتایا
“ہے کہاں وہ ؟؟؟”
“سو رہی ہے… ساجد وہ تو جب سے آئی ہے ایسے سو رہی ہے جیسے وہاں راتوں کو سوتی ہی نا ہو… ” کوکب انتہائی پریشان تھیں
“امی پریشان نا ہوں… ہو جاۓ گی سیٹ آہستہ آہستہ ” سعد نے کہا اور چینج کرنے چلا گیا
رات کے کھانے کے دوران وہ نیچے اتری تھی
“امی… بھوک لگ رہی ہے شدید…. ” باپ کو سلام کرنا بھی یاد نہیں تھا
“روحاء… باپ سے تو مل لے” کوکب نے اسے گھورا
“ہیں… ابو آ گئے… ابو, ابو جی” اس نے فوراً ساجد مغل کو دیکھا اور ابو جی کا نعرہ مارتی ہوئی ان کے گلے لگ گئی, ایک بار پھر رونا شروع
“روحاء پتر…. کیا ہوا ؟؟؟” وہ تو ہول کر رہ گئے
“ابو مجھ سے نہیں رہا جاتا وہاں… وہ سب پتہ نہیں کیسے رہ لیتے ہیں ؟؟؟ کسی پل سکون نہیں ہے وہاں… ؟؟؟” وہ دونوں ہکا بکا کھڑے اس کا ماتم دیکھ رہے تھے, سعد اس کے رونے کی آواز سن کر بھاگا آیا
“اسے کیا ہوا ؟؟؟” وہ ساجد مغل کو چھوڑ کر اس سے آ لگی
“بس تمہیں یہ ہی پتہ تھا کہ مروان ایسا… مروان ویسا… مروان کا گھر کیسا, گھر والے کیسے…؟؟؟ یہ نہیں پتہ تھا” وہ بولی
“روحاء… یہاں بیٹھو” سعد نے اسے کرسی پر بٹھایا اور خود اس کے ساتھ بیٹھ گیا
“رونا بند کر میرا بیٹا… آنسو نا نکلیں اب…. ” سعد نے اس کے آنسو خشک کیے تھے
“اب بتاؤ مسئلہ کیا ہے… ؟؟؟” اس نے پوچھا
“وہاں…. ہر دم شور ہے… مسلسل شور” وہ تڑخی
“کتنے لوگ ہیں ٹوٹل… ؟؟؟”
ایک… دو, تین…. ” وہ گننا شروع ہوئی
“مجھے ملا کر ٹوٹل چودہ”
“تو جہاں چودہ لوگ ہوں گے وہاں خاموشی کیسے ہو گی ؟؟؟” سعد نے پوچھا, وہ روہانسی سی ہو گئی
“دیکھ روحاء… تو زیادہ تر اپنے کمرے میں رہا کر… دروازہ بند کر لیا کر, بھابھیوں کے منہ بنتے ہیں تو بننے دے, تجھے کیا پڑی ہے سب کو خوش کرنے کی, وہ سسرال ہے روحاء…. اور سسرال کسی میدان جنگ سے کم نہیں ہوتا” کوکب نے کہا
“امی… وہاں کچن کا بھی مسئلہ ہے” وہ پھر بولی
“تو بیٹا مروان سے کہہ نا… ” ساجد مغل نے کہا
“ابو اتنی بار کہا ہے… بس ہاں کہہ دیتا ہے, ایکشن کچھ بھی نہیں لیتا” وہ بولی
“دیکھو روحاء… ابھی صرف بہس دن ہوۓ ہیں تمہاری شادی کو, اور بیس دن بعد ہی اگر ہم لوگ اسے کہیں کہ روحاء کے لئے نیا کچن بناؤ تو مناسب نہیں لگتا بیٹے… تم خود کہو اسے, بار بار کہو, من پسند بیوی ہو اس کی… اتنی سی بات تو منوا ہی سکتی ہو” سعد بے ماحول کو ہلکا پھلکا کیا تھا, روحاء نے ایک نظر اسے دیکھتے ہوئے اپنے آنسو صاف کئے
“امی میں نے دو, تین ہفتے رہنا ہے اب… ” اس کی اچھی بھڑاس نکل گئی تھی
“اچھا رہ لینا… کھانا کھا لے اب” کوکب نے کہا, وہ یکدم ہی کھانے پر ٹوٹ پڑی تھی, کوکب بس تاسف سے کھڑی اسے دیکھتی رہ گئیں
………………………
روحاء نے کال کر کر کے اسے ملنے آنے کا کہا تھا
“بے وفا لڑکی… اگر ایک دن اکیڈمی سے چھٹی کر لے گی تو کیا ہو جاۓ گا ؟؟؟” وہ بولی
“تیرا بھائی میری ایک دن کی سیلیری کاٹ لے گا” مبرہ نے ہنستے ہوئے کہا
“تو مجھ سے لے لیں ایک دن کی سیلیری… آ جا اب” روحاء بھری پڑی تھی, ناچار وہ اس کی طرف چلی آئی
“چلو جی… اب اس بیچاری کو بلا لیا, ہمارا دماغ کم خراب کر رہی ہے جو اب اس کا چاٹنے کو بلا لیا ہے” کوکب نے اسے دیکھتے ہی روحاء کو لتاڑا
“بچپن کی دوست ہے میری… اگر میں اس کا ذرا سا دماغ چاٹ بھی لوں گی تو کیا ہے… ویسے بھی دماغ بہت ہے اس کے پاس” روحاء ہنستے ہوئے اس کے گلے لگی تھی
“مبرہ اس لڑکی کو کچھ سمجھا… سسرال میکے کی طرح جنت تو نہیں ہوتا نا… ” کوکب نے کہا
“چل آ میرے ساتھ… تجھے بتاؤں سسرال کیا ہوتا ہے” روحاء اسے اوپر لے آئی
خدا گواہ ہے پورے دو, تین گھنٹے اس لڑکی نے اپنے سسرال میں گزارے بیس دنوں کا رونا رویا… ہر ہر دن کی روداد اسے زبانی یاد تھی, بیچ بیچ میں کہیں کہیں آنکھیں بھی بھر کر آ رہی تھیں, مبرہ تو بس حق دق اسے دیکھے جا رہی تھی
“روحاء… ایسا لگ رہا ہے جیسے تو نے وہاں بیس دن نہیں, بیس سال گزارے ہیں” وہ ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے بولی
“وہاں گزارا ایک ایک پل ایک ایک سال کے برابر ہے… قسم سے” وہ ساری بھڑاس نکال چکی تھی
“جہاں تک مجھے بات سمجھ آئی ہے تیرا بیسک مسئلہ وہاں کا شور شرابا ہے… تو اپنا کمرہ بند رکھا کر بس, اپنے کام سے کم رکھا کر, ضرورت ہی نہیں ہے ستی ساوتری بننے کی” مبرہ نے کہا
“ہاں… امی بھی یہ ہی کہہ رہی تھیں” روحاء کچھ سکون میں آئی تھی
“تیرا کیا بنا ؟؟؟” اس نے کچھ دیر بعد پوچھا
“میدان تو صاف ہے روحاء… اس کی پچھلی منگنی ٹوٹ گئی ہے… اور اب وہ سنگل ہے, فی الحال وہ ایک پرائیویٹ سیکٹر میں کام کر رہا ہے, پارٹ ٹائم ایک ٹیوشن سینٹر جاتا ہے, اب مسئلہ یہ ہے کہ میں امی ابو سے کیسے بات کروں ؟؟؟” وہ بولی
“بھابھی سے کر لے… ؟؟؟”
“نہیں یار… وہ مجھے اپنے بھائی کے لئے سوچ کر بیٹھی ہیں… بس انہیں میری جاب کا انتظار ہے” مبرہ نے کہا
“اپنی امی سے ڈائریکٹ کہہ دے”
“کیسے کہوں ؟؟؟ وہ کہیں گی میں تو پہلے ہی کہتی تھی کہ اس کا کسی سے چکر ہے” وہ بولی
“چکر تو ہے تیرا…. ” روحاء اسے کہنی مارتے ہوئے ہنسی تھی
“بکواس نا کر زیادہ… ” مبرہ نے اسے گھورا
“اچھا محبت کرنے کی ہمت ہے تیرے اندر… لیکن ماں باپ کو اپنی پسند بتانے کی ہمت نہیں ہے” روحاء نے کہا
“روحاء ایک مسئلہ اور بھی ہے… ولید کونسا راضی ہو گیا ہے ” وہ بولی
“دیکھ… اگر تو کہے… تو میں ولید سے بات کروں ؟؟؟” روحاء نے پوچھا
“تو کیا بات کرے گی اس سے ؟؟؟”
“کچھ تو کروں گی… ” وہ بولی, مبرہ سوچ میں پڑ گئی
“یا پھر مروان سے کہوں کہ اس… ” مبرہ نے یکدم اس کی بات کاٹ دی
“روحاء… خبردار… بالکل بھی مروان سے نہیں کہنا, کبھی بھی نہیں” مبرہ نے اس کا بازو جھنجھوڑ دیا تھا
“اچھا… میرا بازو تو چھوڑ… ” وہ بلبلا اٹھی تھی
……………………….
وہ اس دن کلاس لیکر آئی تو سعد آفس میں ہی تھا, مبرہ اسے بالکل نظرانداز کرتے ہوئے کرسی پر بیٹھ گئی
“مبارک ہو آپ کو ؟؟؟” وہ دھیرے سے بولا
“تھینک یو… “
“انٹرویو کب ہے ؟؟؟” اس نے پھر پوچھا, مبرہ نے بس کندھے اچکا دیئے
“ولید کو بتا دیا ؟؟؟” اب کے مبرہ نے اسے دیکھا
“میرے خیال سے یہ آپ کا مسئلہ نہیں ہے سعد… ” وہ بولی
“آپ کا تو ہے نا… ؟؟؟” وہ بولا, مبرہ کچھ نا بولی, بس اپنا لیکچر دیکھنے لگی
“ایک مشورہ دوں آپ کو… ؟؟؟” کچھ دیر بعد سعد نے کہا, مبرہ نے کتاب پر سے نظر ہٹا کر اسے دیکھا
“ولید احمد کے آگے مزید کسی بھی قسم کی بھیک مانگنے سے پہلے ایک بار اقراء واحدی سے ضرور ملنا” وہ کہہ کر باہر نکل گیا
مبرہ بس خاموش بیٹھی رہ گئی تھی
“اقراء واحدی… ولید احمد کی سابقہ منگیتر… ” وہ اسے اب تک یاد تھی
اگلے ہی دن وہ اس کے کالج پہنچ گئی, اقراء بڑے تپاک سے اس سے ملی تھی, چاۓ بھی آ گئی
“اقراء میں آپ سے ایک پرسنل سا سوال کرنے آئی ہوں ” مبرہ کچھ دیر بعد مدعے پر آ گئی
“جی کہیں… ؟؟؟”
“میں نے سنا ہے کہ آپ کی اور ولید احمد کی منگنی ٹوٹ گئی ہے ؟؟؟” مبرہ نے کہا
“جی… بالکل ٹھیک سنا ہے” اقراء نے کہا
“کس نے توڑی ؟؟؟” اس نے پوچھا
“میں نے… “
“کیوں ؟؟؟”
“کیونکہ اللہ کا مجھ پر بڑا کرم ہوا کہ جو اس کی مکروہ اصلیت مجھے جلد ہی پتہ چل گئی” وہ بولی تو لحجے میں نفرت سی تھی
“مکروہ اصلیت… ؟؟؟” وہ سمجھ نہ سکی
“آپ کیوں پوچھ رہی ہیں ؟؟؟”
“کیونکہ میں اس سے شادی کرنا چاہتی ہوں ” وہ بولی
“اوہ… تو آپ بھی اس کی look پر فدا ہو گئیں مبرہ… ” اقراء زور سے ہنسی تھی
“آپ بھی مطلب ؟؟؟؟”
“مطلب یہ کہ اس کی وجاہت اور دلکشی کے تیروں سے گھائل ہونے والی آپ نا تو پہلی لڑکی ہیں اور میرے خیال سے نا ہی آخری ہوں گی… میرا بھی دل آ گیا تھا اس پر… بڑی مشکلوں سے اپنے ڈیڈ پر دباؤ ڈال کر میں نے اس سے منگنی کروائی تھی لیکن… ولید احمد صرف ایک کاسٹیوم ہے مبرہ… اس کے اندر کے گھٹیا پن کی کوئی انت نہیں ہے” اقراء کہتی چلی گئی, مبرہ کو یقین نہیں آیا تھا
“مبرہ… نا میں آپ کو جانتی ہوں اور نا آپ مجھے… لیکن میرا آپ کو ایک انتہائی دوستانہ مشورہ یہ ہی ہے کہ…. اسے اپنی آنکھوں سے کھرچ دیں” اقراء نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا
مبرہ چپ چاپ وہاں سے واپس آ گئی, دل عجیب سا ہو رہا تھا, دماغ اقراء واحدی کی باتوں پر کان دھرتا تھا لیکن دل… دل نہیں مان رہا تھا
بھلا ولید احمد جیسا دلکش انسان اندر سے مکروہ کیسے ہو سکتا ہے ؟؟؟
وہ ایم اے انگلش تھا… بولتا تو یوں لگتا جیسے کہیں سے انگلش ایکسینٹ سیکھ کر آیا ہو, پہننے اوڑھنے میں ملکہ حاصل تھا اسے, باتوں سے شیرینیاں ٹپکتی تھیں… پھر بھلا وہ اتنا برا کیسے ہو سکتا تھا ؟؟؟
گھر آ کر بھی بے سکون ہی رہی, آخر تھک ہار کر اس نے روحاء کو کال ملا لی
“روحاء… یار ایک کام تو کر دے”
“ہاں ہاں… بول”
“یار باتوں باتوں میں ذرا مروان سے پوچھنا کہ ولید کیسا بندہ ہے ؟؟؟ مطلب اس کی ذرا بیک گراؤنڈ ہسٹری تو پوچھ اس سے… میرا نام نہیں لینا بالکل بھی” مبرہ نے کہا
“کچھ ہوا ہے ؟؟؟” روحاء تاڑ گئی
“ابھی تو کچھ نہیں ہوا… تو ذرا جلدی پوچھ لینا ” وہ بولی
“اچھا ٹھیک ہے… اگلے ہفتے میں نے چلے جانا ہے سسرال… پھر پوچھوں گی” روحاء نے کہا, مبرہ خاموشی سے کال کاٹ گئی تھی
………………………….
“روحاء کو میکے آۓ ایک ہفتہ ہو چکا تھا, وہ اپنے دن ایسے گزار رہی تھی جیسے زندگی کے آخری دن گزار رہی ہو, صبح تک لمبی تان کر سوئی رہتی, دن چڑھے اپنی مرضی کا ناشتہ کرتی, پھر سارا دن کوئی مووی, کوئی ڈرامہ, رات کو فاسٹ فوڈ کی پارٹیاں چلتیں, کوکب کے ساتھ جا کر وہ اپنی شاپنگ بھی کر آئی تھی, مروان کا روز فون آتا تھا
وہ بیچارہ اس ایک ہفتے میں مرنے والا ہو گیا تھا
“روحاء میرا کیا قصور ؟؟؟” اس رات بھی وہ اسے کال کر کے رونے کے قریب تھا
“آپ کا قصور یہ ہے کہ آپ میری بات نہیں سنتے” وہ میڈیم پیزا اور کولڈ ڈرنک لئے بستر پر چڑھی بیٹھی تھی
“روحاء میں تمہاری ساری باتیں سنوں گا… پلیز ایسے تو نا کرو, یار مجھے تو رات دو بجے تک نیند ہی نہیں آتی, پھر کلاسز لیتے ہوئے جمائیاں آۓ جاتی ہیں, شادی کے صرف بیس دن بعد کوئی اتنے دنوں کے لیے میکے جاتا ہے کیا ؟؟؟؟” وہ واقعی رو رہا تھا, روحاء کو ہنسی آ گئی جو وہ بڑی مہارت سے دبا گئی
“آ جاؤں لینے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“نہیں… “
“کیوں ؟؟؟؟”
“ابھی میں نے اور رہنا ہے, دو, تین ہفتے” روحاء نے کہا
“روحاء… ” مروان کی آواز صدمے سے پھٹ سی گئی
“مجھے نہیں پتہ… میں بھی آ رہا ہوں, جتنے دن تم وہاں رہو گی میں بھی تمہارے ساتھ ہی رہوں گا” مروان نے کہا
“مروان یہ ٹھیک رہے گا… آپ گھر جوائی بن جائیں نا… ” روحاء نے ایک دم کہا
“اللہ نا کرے… میں کوئی نکما ناکارہ یا معذور ہوں جو گھر جوائی بن جاؤں” وہ برا مان گیا, روحاء بس ہنسے جا رہی تھی
“آ جاؤں لینے ؟؟؟” مروان مرزا کی دہائی پر دہائی تھی
“نہیں… دو ہفتے بعد ” روحاء نے کہا
“روحاء… یار مجھ سے نہیں رہا جاتا… میں نے محبت کی شادی کی ہے تم سے, تھوڑا تو ترس کھا لو” وہ منتوں پر اتر آیا
“اچھا چلیں… ایک ہفتے بعد لے جانا” روحاء کو اس پر ترس آ ہی گیا
“روحاء… ” وہ قریب المرگ ہو گیا
“باۓ مروان… گڈ نائٹ ” روحاء نے ہنستے ہوئے کال کاٹ دی تھی
………………………….
وہ آفس میں تھی جب قدموں کی چاپ کے ساتھ ہی دروازہ کھلا, آگے سعد تھا اور پیچھے ولید… مبرہ بس بے یقین سی اسے دیکھتی رہ گئی تھی
“بیٹھو ولید… سعد عین مبرہ کے سامنے والی کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا, ولید مسکراتے ہوئے بیٹھ گیا
“کیسی ہیں آپ مبرہ ؟؟؟”
“شکر الحمد للہ… ” وہ مختصراً بولی
“ولید کی اور میری ایف بی آر میں جاب ہو گئی ہے مبرہ… کل ہم نے جوائننگ کے لئے جانا ہے” سعد نے بتایا
“مبارک ہو آپ دونوں کو… ” مبرہ نے مسکراتے ہوئے کہا
“کہاں کی مبارک میڈم…. نان گزیٹڈ پوسٹ ہے… مسٹر سعد مغل کا اسسٹنٹ بن گیا ہوں میں” ولید نے کہا
“چلیں کوئی بات نہیں… ایک دن. گزیٹڈ بھی ہو جائیں گے” وہ بولی
“آپ کب جائیں گی انٹرویو کے لیے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“جب وہ بلائیں گے… ” مبرہ نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“ولید جاب کے لئے خوار ہم جیسوں کو ہونا پڑتا ہے جو بمشکل فسٹ ڈویژن میں پاس ہوتے ہیں, مبرہ جیسے اے ٹو زیڈ اے پلس لینے والوں کو تو جاب خود بخود مل جاتی ہے… میں تو انہیں ابھی سے لیکچرار صاحبہ کہنے لگا ہوں” سعد نے کہا
“یہ تو ہے… رب کا کوئی خاص ہی کرم ہے ان پر… ” ولید نے کہا
“یہ خود بھی تو بہت خاص ہیں.. اتنی ذہین… اتنی سمجھدار, اتنی پر اعتماد…. ان کے آنے سے میرا کوچنگ سینٹر کہاں سے کہاں پہنچ گیا ہے… اور میری دل سے دعا ہے کہ جتنی یہ خود خاص ہیں… اتنا ہی خاص انہیں لائف پارٹنر بھی ملے… کوئی ایسا جو ان کی بے حد قدر کرے” سعد کہتا چلا گیا, مبرہ جانے کیوں شرمندہ سی ہو گئی تھی, ولید مسلسل اسے دیکھ رہا تھا
“ان کے مقدر کا ستارہ مروان مرزا سے بھی زیادہ چمکدار ہو گا… دیکھ لینا” سعد جانے انجانے میں مبرہ خان کے لئے ایک راہ ہموار کر گیا تھا
ولید احمد کی نظر پہلی بار مبرہ حسیب خان پر ٹک گئی تھی
……………………….
وہ سب کھانا کھا رہے تھے جب بیرونی دروازے پر دستک ہوئی, سعد اٹھ کر چلا گیا اور واپس آیا تو مروان اس کے ساتھ تھا, اسے دیکھ کر روحاء کی آنکھیں پھیل گئیں
مروان نے ایک نظر اسے دیکھتے ہوئے ساجد اور کوکب کو سلام کیا تھا
“جیتے رہو… بیٹھو بیٹے” کوکب نے کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
“صحیح وقت پر آۓ ہو مروان… کھانا کھاؤ” ساجد مغل نے کہا
“روحاء… مروان کو کھانا نکال کر دو” انہوں نے روحاء سے کہا جو کینہ توز نظروں سے مروان کو گھور رہی تھی
“نہیں انکل… تھینک یو, کھانا تو میں کھا کر آیا ہوں, ابھی تو بس روحاء کو لینے آیا تھا, چلیں ؟؟؟” وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
“کہاں ؟؟؟
“گھر… “
“گھر نہیں… اسے چڑیا گھر کہیں تو زیادہ ٹھیک رہے گا” روحاء کے کہتے ہی ساجد مغل بے اسے گھورا
“روحاء… ” انداز تنبیہی تھا
“میں نے کہا تو تھا کہ ایک ہفتے بعد جاؤں گی” وہ بولی, مروان نے اسقدر مسکین سی شکل بنا کر اسے دیکھا کہ روحاء نے بمشکل اپنی ہنسی دبائی
“اچھا اب تو میں آ گیا… اب چلو چلتے ہیں” وہ بولا, باقی تینوں نفوس خاموشی سے ان دونوں کی بحث سن رہے تھے
“مروان ابھی مجھے سو کام ہیں کرنے والے… ” روحاء کے کہتے ہی سعد کی ہنسی نکل گئی
“ہاں مروان… ابھی تو اس نے تیسری منزل کھڑی کرنی ہے ہمارے گھر کی” وہ ہنستا چلا گیا, روحاء اسے گھورتی ہوئی کھڑی ہو گئی
“اوپر آئیں ذرا… ایک ضروری بات کرنی ہے آپ سے ” وہ اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں لتاڑتی ہوئی اوپر چلی گئی, مروان بیٹھا رہ گیا
“مروان جا چلا جا یار… نہیں قتل کرتی تجھے” سعد نے ہنستے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا, وہ جھینپ کر اٹھ کھڑا ہوا اور اوپر آ گیا
کمرے کا دروازہ کھول کر حیسے ہی اندر داخل ہوا, روحاء تیر کی طرح اس کی طرف آئی
“میری ایک بات کان کھول کر سن لیں, جب تک میرا کچن والا معاملہ کسی طرف…. ” اور مروان مرزا کی بس ہو گئی
لمحوں میں اس نے روحاء کے لبوں پر حق جما کر اس کی سانسوں پر اپنا تسلط قائم کیا تھا, ایک بازو اس کی کمر کے گرد حمائل کر کے دوسرے سے اس کے سر کی پشت کو تھام لیا تھا, وہ آزاد ہونے کے لئے تڑپی تھی اور یکدم اس کا حصار توڑا تھا, مروان نے مضبوطی سے اس کے دونوں بازو جکڑ کر اسے کمرے کے دروازے کی طرف دھکیل کر اس کے ساتھ لگا دیا تھا, روحاء کی سانسیں ہنوز اس کے لبوں کے قبضے میں تھیں, اس کی دونوں کلائیاں دروازے کے ساتھ لگا کر وہ اسے زیر کر چکا تھا, روحاء کی ہر مزاحمت بیکار ہی گئی
چند لمحوں بعد اس نے خود کو مروان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا
کئی لمحوں بعد اسے آزادی ملی تھی, سانسوں میں کسی طوفان کی سی یورش ہونے لگی تھی, چہرہ تمتماتے ہوۓ سرخ ہو گیا تھا, دونوں کلائیاں ابھی تک مروان کے ہاتھوں کی گرفت میں تھیں
لہو چھلکاتی آنکھوں سے اس نے مروان کی طرف دیکھا جو اس سے بس ایک آدھ انچ کی دوری پر ہی تھا
“بھلے ہی قتل کر دو… لیکن میرے ساتھ چلو, میں سچ میں مر جاؤں گا میری جان” مروان کی سرگوشیوں نے اس کی آنکھوں کا رنگ تبدیل کیا تھا
“میری جان نکلتی ہے روحاء تمہارے بغیر… مجھ سے نہیں رہا جاتا اب اس اکیلے کمرے میں” مروان کا اگلا ہدف اس کی سفیدی مائل گردن تھی جو اس کی شدتوں کے اثر سے جگہ جگہ سے جامنی ہوتی جا رہی تھی
“I Love you…limitless”
مروان کی سرگوشیاں اسے ہرا گئی تھیں… اس نے حیا سے لبریز نظروں سے مروان کی طرف دیکھا, اس کی مخمور آنکھوں میں محبت ٹھاٹھیں مار رہی تھی
“چلیں… ؟؟؟” مروان نے بہت محبت سے اس کے لبوں کو چھوا تھا
“چلیں… ” روحاء نے اتنی ہی محبت سے اس کے لبوں کو چھو لیا تھا
………………………….
جاری ہے