No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
وہ چاۓ کا کپ پکڑے اپنا لیکچر دیکھ رہی تھی جب وہ اس کے سامنے والی کرسی پر آ کر بیٹھ گیا, مبرہ نے بس ایک نظر اسے دیکھا تھا
“کیسی ہیں میڈم ؟؟؟”
“شکر الحمد للہ… ” وہ بولی اور کن اکھیوں سے اسے دیکھا
گرے لائیننگ والی پینٹ کے ساتھ وائٹ شرٹ پہنے, ساتھ گرے لائننگ والا کوٹ, بلیک شوز اور ہمیشہ کی طرح انتہائی وجیہہ سا چہرہ…
وہ بالکل پرفیکٹ تھا
“سٹوڈنٹس بہت تعریف کرتے ہیں آپ کی مس مبرہ… ” وہ بولا” مبرہ بس مسکرا دی تھی
“ایم ایس بھی کریں گی ؟؟؟” اس نے پوچھا
“جی… میں نے اپلائی کیا ہے ایم ایس کے لئے ” وہ بولی اور پھر اسے دیکھا… وہ اپنے موبائل میں مگن ہو گیا تھا
ایک بات پوچھ سکتی ہوں آپ سے مسٹر ولید ؟؟؟” اس نے ہمت کرنے کی ٹھان ہی لی تھی
“جی جی… پوچھیں” وہ بولا
“آپ کے کیا لائف پلانز ہیں ؟؟”
“فی الحال تو کسی اچھی سی جاب کی تلاش ہے… چار سال سے پرائیوٹ کالجز میں ذلیل ہو رہا ہوں, ایم فل بھی کرنا ہے… ” وہ. مسکراتے ہوئے بولا
“اور شادی ؟؟؟” اس نے تھوک نگلتے ہوۓ پوچھا, ولید ہنستا چلا گیا
“آجکل شادی نوکری کے ساتھ مشروط ہو گئی ہے میڈم… No job… No marriage ” وہ بولا
“جاب مل جاۓ گی تب تو کریں گے نا…. ” مبرہ نے کہا
“ہاں جی ضرور… ” وہ بولا
“مجھ سے کریں گے ؟؟؟” وہ کہہ ہی گئی, ولید یکدم خاموش ہوا تھا
پہلی بار اس نے بڑی فرصت سے اپنے سامنے بیٹھی اس لڑکی کو دیکھا جو بڑی عام سی تھی… عام سا سوٹ پہنے, دوپٹہ اوڑھے, بنا میک اپ کے اس کے سامنے بیٹھی تھی…. فی الحال اس کے پاس کچھ بھی نہیں تھا… نا کوئی برائیٹ فیوچر, نا کوئی پوسٹ, نا کوئی مرتبہ…
“دیکھیں مبرہ… ہو سکتا ہے میری باتوں سے آپ کا دل ٹوٹ جاۓ لیکن یہ اس دنیا کا تلخ ترین سچ ہے کہ مرد چاہے خود جیسا بھی ہو لیکن بیوی کے روپ میں اپنی زندگی میں آنے والی لڑکی کے لئے وہ دو چوائسز رکھتا ہے… یا تو وہ بہت خوبصورت اور امیر ہو, یا پھر وہ بہت کامیاب اور مشہور ہو…
And i am really sorry to say… You are not anything “
وہ سچ ہی تو کہہ رہا تھا, مبرہ نے سر جھکا لیا
“اگر کامیاب ہو جاؤں تو ؟؟؟ مشہور ہو جاؤں تو… ؟؟” اس نے پوچھا
“تو ہو سکتا ہے مجھے پہلے والا آپشن چاہئے ہو… ” ولید نے کہا, مبرہ بول نہیں سکی تھی
“مبرہ میں گاؤں سے تعلق رکھتا ہوں, اپنی فیملی میں بس میں ہی اس مقام تک پہنچا ہوں, میرے تین بھائیوں میں سے کوئی بھی اتنا نہیں پڑھا…
And i know i am charming, handsome and have a good personality
تو مجھے لائف میں بھی کچھ ایسا ہی چاہئے ” وہ کھڑا ہو گیا
“ایم سوری اگر آپ کا دل دکھا ہو تو… ” وہ معذرت کرتے ہوئے بولا تھا
………………………….
“امی وہ ذرا بھی پیارا نہیں ہے….” روحاء کو مروان کے رشتے میں بس یہ ہی ایک اعتراض تھا
“جو پیارے ہیں ان کے کرتوت بھی تو دیکھ نا پھر… کس قسم کے نکلتے ہیں” کوکب نے کہا
“امی مروان کا رشتہ بہت مناسب ہے, اتنی اچھی جاب ہے اس کی, اتنی کامیاب اکیڈمی چلا رہا ہے وہ, اور پھر اس کی فیملی بھی اچھی ہے, دو بھائی فوج میں ہیں اس کے… ” سعد کہتا چلا گیا
“اتنا چھوٹا سا قد ہے اس کا… ” روحاء کا دوسرا اعتراض
“تو نے کھجوریں اتروانی ہیں اس سے… ؟؟؟” کوکب کو غصہ آ گیا
“میرے ساتھ کھڑا ہوا چھوٹا لگا کرے گا مجھ سے… ” وہ تڑخی
“روحاء یار بکواس نا کر, اتنا بھی بونا نہیں ہے وہ” سعد تلملا گیا
“امی میں بتا رہی ہوں میں نے اپنی شادی پر پنسل ہیل ضرور پہننی ہے” روحاء نے دہائی دی تھی
“چپ کر جا… دفع ہو جا اپنے کمرے میں” کوکب کو تاؤ آ گیا تھا, وہ تن فن کرتی اوپر چلی گئی
سعد اس رشتے سے سو فیصد مطمئن تھا
چند دن بعد وہ تینوں کاشف مرزا کے گھر پہنچ گئے, مروان کے لئے اسے کسی بھی قسم کی چھان بین کروانے کی ضرورت نہیں تھی, وہ اس کا دیکھا بھالا تھا, ہر قسم کے نشے, پانی سے بالکل پاک تھا
مروان کو پہلی نظر دیکھ کر کوکب کا پورا دل ہی ڈوب گیا تھا, وہ کہیں سے بھی روحاء کا جوڑ نہیں تھا
وہاں بیٹھے بیٹھے ان کا دل اچاٹ ہو گیا
گھر واپس آ کر بھی وہ چپ چپ ہی تھیں
“امی کیا ہو گیا ؟؟؟” شام تک روحاء تنگ آ گئی
آخر کار وہ کھانے کی میز پر پھٹ پڑی
“ساجد صاحب آپ انہیں انکار کر دیں… روحاء کا کہیں اور سبب بن جاۓ گا” وہ بولیں
“امی میری بات سنیں, روحاء کے لئے مروان سے بہتر رشتہ کوئی نہیں ہے, اتنی اچھی جاب ہے, اتنی کامیاب اکیڈمی چلاتا ہے وہ… فیملی بھی اچھی ہے” سعد کہتا چلا گیا
“سعد… اب تو میری بات سن, ساری زندگی یہ لڑکی مجھے کوسے گی کہ میرا جوڑ نہیں دیکھا… سارے رشتے داروں کی زبانیں کھل جائیں گی کہ شہزادی جیسی لڑکی کہاں دے دی… ؟؟؟ میں نے خاندان والوں کے نہ جانے کتنے بے جوڑ رشتے انکار کئے ہیں ” کوکب کہتی چلی گئی
“لیکن امی…. ” ساجد مغل نے اس کی بات کاٹ دی
“سعد تیری ماں ٹھیک کہہ رہی ہے بیٹا, تیری ساری باتیں درست ہوں گی لیکن… وہ لڑکا روحاء کا جوڑ نہیں ہے یار, یہ تو بانس کی طرح لگے گی اس کے ساتھ کھڑی ہو کر” ساجد مغل نے کہا, سعد بس ایک لمبی سانس بھر کر رہ گیا
“ابو… آپ بس انہیں منع کر دیں” روحاء کی جان پر بنی ہوئی تھی
……………………….
وہ اور کاشف مرزا ایک ہی چیمبر میں بیٹھتے تھے, اس دن بھی چاۓ والا چاۓ کے دو کپ رکھ کر گیا تو حسیب خان نے ان سے بات کرنے کے لئے ہمت جمع کی
“کاشف یار… تجھ بڑا شرمندہ ہوں میں” انہوں نے کھنکار کر کہا تھا, کاشف مرزا ٹھٹھک گئے
“کیا ہوا حسیب ؟؟؟”
“یار… غلطی میری بھی ہے… مجھے تجھے ہاں کرنے سے پہلے ایک بار مبرہ سے پوچھ لینا چاہئے تھا” وہ انتہائی شرمندہ تھے
“کاشف یار… مبرہ راضی نہیں ہے” وہ دھیما سا بولے تھے
اور کاشف مرزا کی وہ حالت تھی جیسے کسی مارتے کو چھڑوا لیا گیا ہو
“حسیب یار نا کر… اتنا شرمندہ نا ہو یار, اس سے زیادہ شرمندہ تو مجھے ہونا چاہئے, مروان بھی عاضی نہیں ہے” وہ ایک دم بولے, حسیب خان ششدر سے انہیں دیکھتے رہ گئے
“غلطی میری ہی ہے… میں نے فرحان اور عمران کی دفعہ دونوں سے پہلے پوچھا, لیکن مروان کی دفعہ سوچا کہ اسے بھلا کون پسند کرے گی ؟؟؟ اس کے لئے تو مبرہ کا رشتہ کسی نعمت کی طرح لگا لیکن… میں یہ بھول گیا کہ وہ بھی تو جیتا جاگتا انسان ہے… اس کی بھی پسند ناپسند ہو سکتی ہے” کاشف مرزا کہتے چلے گئے
“بالکل ایسا ہی ہے کاشف… مجھے بھی مبرہ سے پوچھنا چاہئے تھا” وہ بولے
“چل چھوڑ حسیب… اچھا ہے بات کلئیر ہو گئی, زندگی کونسا ہماری ہے… زندگی تو بچوں کی ہے نا… ” کاشف مرزا نے کہا
“وہ ساجد مغل ہے نا… کمیشن شاپ والا, وہ جس کے بیٹے کی اکیڈمی میں روحاء پڑھاتی ہے… اس کی سسٹر سے شادی کرنا چاہ رہا ہے مروان… ” انہوں نے کہا
“اچھا اچھا… سعد مغل کی بہن سے”
“ہاں ہاں… وہی, روحاء مغل سے, میں اور فرحت دیکھ کر آۓ ہیں بچی کو… ماشاءاللہ خوبصورت ہے, وہ بھی دیکھ گئے ہیں مروان کو… اب دیکھو کیا کہتے ہیں… ” وہ کہتے چلے گئے
“مجھ میں ہمت ہی نہیں تھی حسیب تجھ سے بات کرنے کی, روز سوچ کر چپ ہو جاتا تھا… شکر ہے آج میرا دل ہلکا ہو گیا” کاشف مرزا نے کہا
“خدا خیر کرے گا کاشف… ” حسیب خان خود بھی مطمئن ہو گئے تھے
……………………….
“انہوں نے انکار کر دیا ہے…. اب بتا… ؟؟؟” مروان خاموش سا کاشف مرزا کے سامنے بیٹھا تھا, وہ تاسف سے اسے دیکھ رہے تھے
“مروان تو بچہ تو نہیں ہے یار… پیتل پر سونے کا پانی چڑھا کر بھی وہ پیتل ہی رہتا ہے بیٹے” انہیں دکھ بھی ہوا تھا
“دولت سے, شہرت سے, مرتبے سے… اوقات نہیں بدل جاتی مروان مرزا…” وہ دھیرے سے بولے تھے
“چلیں بس کریں… ” اس کا جھکا ہوا سر دیکھ کر فرحت کے کلیجے پر ہاتھ پڑا تھا
ایک لڑکی ریجیکٹ ہونے کے بعد جس اذیت سے گزرتی ہے اس کا اندازہ تو شاید یم سب کر سکیں… لیکن سوچیں… ایک لڑکے کی ریجیکشن… شکل و صورت پر, قد کاٹھ پر, جسامت پر… سوچیں ؟؟؟؟”
وہ بس خاموشی سے کھڑا ہوا اور کمرے سے باہر نکل گیا
سو بار اس نے روحاء کو کال کرنے کی کوشش کی لیکن وہ شاید اس کا نمبر بلاک کر چکی تھی
اگلا پورا دن بھی اس کا دل مسوستا ہی رہا, آخر کار جب حد ہو گئی تو مغرب کے بعد وہ خود ساجد مغل کے گھر چلا آیا, سعد گھر پر ہی تھا, وہ اسے ڈرائینگ روم میں لے آیا
“سعد, مجھے تمہارے ابو سے بات کرنی ہے” وہ بولا, سعد سمجھ گیا تھا, وہ ساجد اور کوکب دونوں کو بلا لایا
“انکل… آنٹی… میں بہت خوش رکھوں گا آپ کی بیٹی کو… پلیز” وہ آ تو گیا تھا لیکن اب الفاظ ڈگمگا رہے تھے, حلق میں تھوک پھنس رہا تھا, کلیجہ منہ کو آ رہا تھا
“دیکھو بیٹا… یہ جو والدین ہوتے ہیں نا… یہ خود چاہے اپنی زندگی میں ہزاروں سمجھوتے کر چکے ہوں لیکن… جب اولاد کی باری آتی ہے تو اس کے لئے سمجھوتہ نام کا یہ لفظ ان کی ڈکشنری سے بالکل ہی نکل جاتا ہے” ساجد مغل نے کہا
“میں جانتا ہوں انکل کہ آپ کس سمجھوتے کی بات کر رہے ہیں… لیکن میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اس ایک سمجھوتے کے علاوہ آپ کی بیٹی کو کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا پڑے گا… میری شکل و صورت سے قطع نظر, میرے قد کاٹھ سے قطع نظر… اگر کوئی ایشو ہے تو بتائیں, میں اسے خود دور کروں گا” وہ کہتا چلا گیا
روحاء دروازے سے باہر کان لگاۓ کھڑی تھی, ساجد مغل نے بے بسی سے کوکب کی طرف دیکھا, وہ بھلا اسے کیا کہتے ؟؟؟
“دیکھو بیٹا… ہماری ایک ہی بیٹی ہے, اور ہم چاہتے ہیں کہ… اس کا جوڑ تو اچھا بنے” کوکب اس سے زیادہ صاف الفاظ استعمال نہیں کر سکتی تھیں, مروان خاموش بیٹھا رہ گیا
پھر تھوڑی دیر بعد چلا گیا, چاۓ بھی یونہی چھوڑ گیا
اس کے جاتے ہی سعد بھڑک گیا تھا
“آپ دونوں کا کوئی حال نہیں ہے ویسے… دنیاوی خوبصورتی کو لیکر بیٹھے ہوئے ہیں… کیا مطلب ہے کہ اس کے ساتھ روحاء کا جوڑ نہیں بنتا… امی آخر اسے ہے کیا… ؟؟؟ بس ایک قد ہی ذرا سا چھوٹا ہے نا, آپ اس کی اس ایک خامی کو اس کی ہزاروں خوبیوں پر قربان نہیں کر سکتیں… ؟؟؟” وہ بولا
“سعد لوگ کیا کہیں گے ؟؟؟” وہ بولیں
“امی دفع کریں لوگوں کو… بیچارہ فقیروں کی طرح منت کر کے گیا ہے… اور کیا کرے ؟؟؟” وہ تڑخ گیا
“ابو… کیا گارنٹی ہے اس بات کی کہ روحاء کے لئے ڈھونڈا ہوا کوئی ہیرو بعد میں ولن نہیں نکلے گا…. میں نے خود دیکھے ہیں ذرا ذرا سی شکل و صورت کے لڑکوں کے ہزار ہا افییرز… کیا کریں گے پھر ہم ؟؟؟ اتنی اچھی پوسٹ ہے اس کی, اتنا کامیاب ہے, اتنی شہرت ہے, اچھا کماتا ہے… اور پتہ نہیں کیا چاہئے ؟؟؟” وہ بھرا پڑا تھا, روحاء ایک طرف خاموش کھڑی تھی
“وہ کھڑی ہے روحاء… پوچھ لے اس سے” کوکب نے کہا
“کیا تکلیف ہے تمہیں ؟؟؟”
” کوئی تکلیف نہیں ہے… آپ اسے صاف کہہ دیں کہ روحاء نہیں مانتی… بس” وہ کہہ کر اوپر چلی گئی تھی
…………………….
اس نے بھی بالکل انہی راستوں پر قدم رکھ دییے تھے جن پر سے مروان گزر کر گیا تھا, اس نے distance learning میں ایم ایس اپلائی کیا تھا, ساتھ ساتھ کوچنگ سینٹر بھی جاری تھا
اس دوران اس نے کچھ عرصے کے لیے ایک پرائیویٹ سینٹر سے ای کامرس کے کورسز بھی کئے, ہر طرح سے آنلائن ورکنگ کا تجربہ بھی حاصل کرنے لگی
حسیب خان اور عابدہ کی طرف سے وہ ذرا سی پر سکون تھی کہ وہ فی الحال اس کے لئے کوئی رشتہ نہیں دیکھ ریے تھے, مبرہ نے انہیں اپنے ایم ایس تک ٹالا ہوا تھا
ولید نے اپنا کالج بدل لیا تھا… اب وہ کہیں اور لیکچر دینے جانے لگا تھا, کچھ عرصے بعد اس کی سعد سے بھی تو تو میں میں ہو گئی سو اس کا کوچنگ سینٹر بھی چھوڑ دیا
بہر حال مبرہ نے اس کا نمبر سیو کر رکھا تھا اور وہ وقتاً فوقتاً اس کی خبر لے لیا کرتی تھی
وہ بھی ایسا ہی ایک دن تھا
اسے ایک انجان سے نمبر سے کال آئی
“جی کون… ؟؟؟”
“مبرہ حسیب خان… ؟؟؟”
“جی بات کررہی ہوں “
“میں مروان مرزا عرض کر رہا ہوں” وہ ٹھٹھک گئی, پھر اٹھ کر باہر نکل آئی
“جی سر… کیسے ہیں ؟؟”
“شکر اللہ کا… آپ کیسی ہیں ؟؟؟”
“جی میں ٹھیک ہوں”
“مبرہ میں نے آپ کا نمبر سعد سے لیا تھا, کائینڈلی اگر وہ اس بارے میں پوچھے تو کہہ دیجئے گا کہ مجھے ایک پوائنٹ ڈسکس کرنا تھا پلیز… ” وہ بولا
“اوکے لیکن… آپ نے ڈسکس کیا کرنا تھا ؟؟” وہ مدعے پر آ گئی
“ایک ریکوئسٹ کرنی تھی آپ سے… میرے گھر والے آپ کی دوست روحاء مغل کے لئے رشتہ لیکر گئے تھے لیکن… انہوں نے انکار کر دیا ہے” اس نے کہا, مبرہ چپ چاپ سنتی رہی, یہ اسے پتہ تھا, روحاء نے اسے مروان کی ساری کوششوں کے بارے میں بتایا تھا
“اس نے میرا نمبر بھی بلاک کر دیا ہے مبرہ…. پلیز آپ اسے کہیں کہ بس ایک بار میری بات سن لے” وہ بولا, مبرہ بول نہ سکی
“آپ اس کی بیسٹ فرینڈ ہیں, میں پرسنلی آپ سے ملنے آ جاتا لیکن… سعد کو شک ہو جاۓ گا, پلیز میری اتنی سی مدد کر دیں, اسے کہیں ایک بار میری بات سن لے” وہ کہتا چلا گیا
“ٹھیک ہے… میں کہوں گی اسے” مبرہ نے دھیرے سے کہا تھا
اسی رات اس نے ڈنر کے بعد اپنے کمرے میں آ کر روحاء کو کال ملا لی
“روحاء… یار اس کا نمبر کیوں بلاک کیا ؟؟؟” اس نے پوچھا
“وہ مجھے کال ر کے انکار کی وجہ پوچھے گا مبرہ…. میں کیا کہوں گی ؟؟؟” وہ بولی
“وہی جو مجھے کہتی تھی… کہ ماسٹر جی کا قد مجھ سے بھی چھوٹا ہے” مبرہ نے مسکراتے ہوئے کہا
“یار قسم سے, میں نے ایسا کبھی مذاق میں نہیں کہا تھا, پھر پتہ نہیں کیوں میرا کہا مجھی پر الٹا پڑ گیا… یار وہ تو پیچھے ہی پڑ گیا ہے” وہ روہانسی ہو گئی
“روحاء… سن یار, کسی کی فیلینگز کے ساتھ ایسے نہیں کھیلتے, ایک بار اس کی بات تو سن لے” مبرہ نے کہا
“میں نے نہیں سننی… ” وہ بولی
“روحاء اس کی کال آئی ہے مجھے, اتنی بار ریکوئسٹ کی ہے اس نے کہ روحاء سے کہیں ایک بار میری بات سن لے” وہ بولی
“کام دیکھ لے اس کے, پہلے پیرنٹس کو بھیجا, پھر خود آ گیا, پچھلے دو ہفتوں میں جتنے ممکن ہوں اتنے لوگ ہمارے گھر بھیج چکا ہے… اب تجھے کال کر دی” روحاء تڑخ گئی
“ہو سکتا ہے تجھ سے سچا پیار کرتا ہو روحاء… تبھی تو اتنی کوششیں کر رہا ہے, ایک بار سن تو لے کیا کہتا ہے” وہ بولی تھی
روحاء نے مارے باندھے ہی اس کا نمبر ان بلاک کیا تھا
……………………….
“ایک بات پوچھوں آپ سے ؟؟؟” وہ اس دن کلاس لیکر آئی تو سعد آفس میں ہی تھا
“ہزار پوچھیں… ” وہ بولا
“یہ جو ولید احمد ہیں… ان کا گھر کہاں ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“کیوں آپ نے کھیر دینے جانا ہے ؟؟؟” سعد حیرانی سے بولا تھا
“میں سیریس ہوں…”وہ برا مان گئی
“گاؤں میں ہے… 512, یہاں سے دس کلو میٹر ہے تقریباً, بڑا کوٹھی نما گھر ہے ان کا, چار, پانچ کمرے ہیں, سٹیشن نما برآمدہ… دو ایکڑ کا صحن… ولید صاحب کے کمرے میں ایک سنگل بیڈ پڑا ہے, اور ایک کرسی ٹیبل… اور… ” مبرہ کی مسلسل گھورنے پر وہ ہنستا چلا گیا تھا
“سعد مغل… جسٹ شٹ اپ” وہ بولی
“اگر جانا ہے تو میں لے چلوں گا کسی دن ؟؟” وہ بولا
“ایسے نہیں جانا…. مستقل جاؤں گی کسی دن” وہ مسکراتے ہوئے وہاں سے اٹھ گئی تھی
یہ دیکھے بنا کہ سعد مغل کے دل کی دنیا کیسے تہس نہس ہو گئی تھی
………………………
“کیسی ہیں آپ روحاء ؟؟؟” آج اس نے پھر کال کی تھی جو کہ قسمت سے روحاء نے ریسیو کر لی تھی
“ٹھیک ہوں سر… ” وہ بولی
“روحاء مجھے بڑی بڑی باتیں کرنا نہیں آتیں اسلیے سادہ سی عرضی کروں گا… میں جانتا ہوں میں آپ کے قابل نہیں ہوں, اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ لائف میں کمپرومائز کرنے پر بالکل یقین نہیں رکھتیں لیکن… روحاء بس یہ ایک کمپرومائز کر لیں, بس ایک بار میری پرسنیلٹی پر کمپرومائز کر لیں… خدا کی قسم اس کے بعد میں خود اس لفظ کو آپ کی ڈکشنری سے نکال دوں گا, روحاء بس یہ ہی ایک پوائنٹ ہے جہاں آ کر میں بے بس ہوں, کاش کہ میں اپنا قد پانچ فٹ, دس, گیارہ انچ کر سکتا, کاش کہ میں اپنی رنگت میں سفیدیاں گھول سکتا, کاش کے میری بھی ہیروز جیسی باڈی ہوتی, وجہیہ سا چہرہ ہوتا… لیکن ان سب کاش کے بعد بھی بس ایک کاش ہی ہے… اور کچھ نہیں ہے…. ” وہ کہتا جا رہا تھا
“مروان سر… آپ کو کوئی اور مل جاۓ گی, مجھ سے زیادہ اچھی…. انشاءاللہ ” وہ اور کیا کہتی
“یہ ہی تو مسئلہ ہے روحاء مغل… کہ آپ زیادہ اچھا اور کوئی ہے ہی نہیں… ” وہ بے بسی سے بولا تھا
“دیکھیں سر… مجھے بھی سادہ سی ہی باتیں آتی ہیں… آپ کو میں اچھی لگی… لیکن مجھے آپ نہیں اچھے لگے… بس” وہ بولی تھی, چند ثانیے خاموشی چھائی رہی
“روحاء.. آئی لو یو” وہ دھیرے سے بولا تھا
روحاء بس ساکت سی بیٹھی رہ گئی
………………………..
اسے ولید احمد کی منگنی کی خبر ملی تھی
تا دیر وہ بس خاموش سی کرسی پر بیٹھی رہ گئی, یقین ہی نہیں آ رہا تھا…
اور ستم یہ کہ اسے خبر سنانے والا سعد مغل تھا جو اس کے عین سامنے بیٹھا بڑے غور سے اس کے تاثرات نوٹ کر رہا تھا
وہ جبری سا بھی نا مسکرا سکی, بس دھیرے سے اٹھ کر آفس سے نکل گئی
اگلی دو کلاسز لینا اسے پہاڑ جیسا عذاب لگ رہا تھا
“میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے میں گھر جا رہی ہوں” اس نے بس سعد کو ایک ٹیکسٹ میسیج کیا تھا
“میں چھوڑ آؤں ؟؟؟” جواباً وہ خود ہی اس کے پاس چلا آیا
“نہیں… زوہیب کو کال کر دی ہے, وہ آ رہا ہے” وہ بولی
“کیا ہوا طبیعت کو اچانک… ؟؟” سعد نے پوچھا, وہ بس نفی میں سر ہلا گئی
“یہ ضروری تو نہیں ہے کہ جسے آپ choose کریں…. وہ بھی بدلے میں آپ کو ہی choose کرے… ہر انسان کی اپنی priorities ہوتی ہیں مبرہ…” سعد نے کہا
“میں نے بس اس سے وقت ہی تو مانگا تھا” وہ بمشکل بولی تھی
“ایک مشورہ دوں آپ کو… ایک مخلص دوست بن کر… وہ شخص صرف ایک سراب ہے جو اول تو حاصل ہو گا نہیں اور اگر ہو بھی گیا تو ساری عمر آپ کے لئے لاحاصل ہی رہے گا” وہ بولا تھا
مبرہ بس چپ چاپ گیٹ سے باہر نکل گئی
رات کو اس نے کوئی دس دفعہ ولید کو کال کی جو اس نے اٹینڈ نہیں کی تھی
بس ایک میسیج سینڈ کر دیا
“I choose someone like me… “
……………………………
جاری ہے
