No Download Link
Rate this Novel
Episode 28
خباب نے اکیڈمی کے گیٹ کے بالکل سامنے گاڑی روکی تھی, وہ مبرا کی وائیٹ کلٹس ہی لیکر آیا تھا
“چاچا جی… مبرا میڈم کو بلا دیں” اس نے چوکیدار کو ہانک لگائی, چوکیدار یکلخت ہی پریشان سا ہو گیا, پھر بھاگ کر اس کے پاس آیا
“تسی لے تے گئے سی… ” وہ بولا
“میں تو اب آیا ہوں… ” خباب ٹھٹھکا
“بابو.. ابھی دو منٹ پہلے گئی ہیں وہ, بالکل اے ہی گڈی سی… تسی آپ آۓ سی… ” چوکیدار سمجھ نہیں پا رہا تھا
چاچا جی میں تو اب آیا ہوں… کس کے ساتھ چلی گئی وہ… ؟؟؟” خباب گاڑی سے اترا اور بھاگتا ہوا اندر آیا, ساتھ ہی اس نے سعد کو کال ملائی تھی
“سعد مبرا کہاں ہے ؟؟؟” سعد کلاس روم میں تھا
“چوکیدار کہہ رہا ہے وہ چلی گئی… اس نے تو میرے ساتھ جانا تھا”وہ انتہائی پریشان تھا
“چاچا جی کون آیا تھا… ؟؟؟”
“سر جی چٹی گڈی سی, بالکل میڈم کی گڈی جیسی, ان. جیسے ہی کپڑے تھے, اور ان جیسا ہی قد… میڈم گاڑی میں بیٹھیں اور چلی گئیں… ” چوکیدار نے کہا
“وہ یقیناً ولید ہو گا… ولید کا قد میرے جتنا ہے, وہ لے گیا ہے اسے…. ” خباب نے سر جھٹکتے ہوۓ حسیب خان کو کال کی تھی
“ابو… اس حرامزادے نے مبرا کو اغواء کر لیا ہے”
………………………
ولید اسے ایک گمنام سے ڈیرے پر لے کر آیا تھا, کھیتوں اور فصلوں کے بیچ وہ دو کمروں کا بوسیدہ سا ڈیرہ تھا, آس پاس آبادی نا ہونے کے برابر تھی, شام کے چھ بج رہے تھے
ولید گاڑی کھڑی کر کے نیچے اترا اور گھوم کر پچھلی سیٹ کی طرف آیا, عماد بھی نیچے اتر آیا تھا, ولید نے مبرا کا بے ہوش وجود اپنے بازوؤں میں اٹھایا اور اندر لے آیا, اس گھر میں بجلی بھی نہیں تھی
“عماد وہ دیا جلا دے یار… ” ولید نے اسے ایک طرف پڑی اس ٹوٹی پھوٹی چارپائی پر لٹا دیا
تبھی اسے حماد کی کال آئی
“بھائی کہاں ہیں آپ… ؟؟؟”
“ڈیرے پر… “
“مل گئیں…؟؟؟”
“ہاں… “
“بھائی جو کرنا ہے جلدی کریں, خباب گھر واپس پہنچ گیا ہے, ان لوگوں نے ایف آئی آر کٹوا دینی ہے”حماد نے کہا
“حماد بس ذرا دھیان رکھیں… پرچہ نا کٹے, مجھے بس مبرا سے بات کرنی ہے, ایک بار اس سے معافی نامے پر سائن کروا لوں پھر خود ہی چھوڑ دوں گا اسے… ” ولید نے کہا
“بھائی پرچہ کٹنے سے پہلے چھوڑ دینا… ورنہ برے پھنس جائیں گے ہم سب…. “
………………………..
“ابو میں نے کہا تھا نا کہ کمینوں کے ساتھ کمینہ بننا پڑتا ہے, میں کہہ رہا تھا کہ اس کمینے کی بہنوں کو اٹھوا لیتے ہیں, اپنی عزت پر بات آۓ گی تو عقل ٹھکانے آ جاۓ گی لیکن آپ نہیں مانے.. وہ لے گیا ہے اسے اور پتہ نہیں کیا سلوک کرے گا اس کے ساتھ… ” شعیب دہاڑے جا رہا تھا, عابدہ کا رو رو کر برا حال تھا
“شعیب بھائی… اٹھیں تھانے چلتے ہیں… “خباب نے کہا
“گاڑی نکال جلدی…. میں نے عاصم کو کال کی ہے, وہ ڈائریکٹ ایس ڈی پی او سے بات کرے گا… ابو آپ بار کونسل کے صدر سے ملیں” شعیب نے کہا
وہ تینوں اسی وقت چلے گئے, زوہیب بھی واپس آ رہا تھا
حماد کی رسائی ایس ایچ او تک تھی, شعیب کو صاف لگا کہ وہ ایف آئی آر کاٹنے میں دیر کر رہا تھا, حماد نے اپنا سارا سیاسی زور لگا کر اس پر دباؤ ڈالا ہوا تھا ورنہ جیب میں تو ان کے ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں تھی
“کتنے پیسے دییے ہیں انہوں نے تجھے… ؟؟” خباب کو غصہ آ گیا
“تمیز سے بات کرو… ” وہ. بھی بھڑک پڑا
“ایف آئی آر کیوں نہیں کاٹتا پھر… ؟؟؟” خباب اسے اڑ اڑ کر پڑ رہا تھا
“او خود ہی کہیں چلی گئی ہو گی وہ… آ جاۓ گی تھوڑی دیر تک, ایویں پرچہ کیا کٹوانا… ؟؟؟ ویسے بھی خلع تو ہو گیا تم لوگوں گا… اب اسے اغواء کرنے کا تمہارے بہنوئی کو کیا فائدہ ؟؟؟” ایس ایچ او کو کال پر کال آ رہی تھی
“شعیب بھائی یہ ایسے نہیں مانے گا… اس کا دماغ ٹھکانے لگانا…. ” شعیب نے بمشکل اسے روکا
تبھی اسے سعد کی کال آئی تھی
“خباب… عفراء کے ابو ریٹائرڈ آرمی آفیسر ہیں…. میں ان سے بات کرتا ہوں, وہ ڈائریکٹ ڈی ایس پی کو جانتے ہیں… “
……………………..
اسے دھیرے دھیرے ہوش آیا تھا, کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا, بس ایک مدھم سی لو تھی جس میں اسے دروازے کے پاس ایک ہیولے کا گمان ہوا تھا
وہ یکدم اٹھ کر بیٹھ گئی, ولید نے اپنے موبائل کی ٹارچ جلائی تھی
“مبرا نے نفرت سے اس کی طرف دیکھا
“مبرا… چلو اب صلح کر لیتے ہیں”وہ بڑے دوستانہ انداز میں بولا تھا, ایک بازو پر ابھی بھی سفید پٹی بندھی ہوئی تھی
“ایسے صلح نہیں ہوتی…. ” وہ اپنا دوپٹہ کندھوں پر لپیٹتے ہوۓ بولی
“چلو تم بتا دو… پھر کیسے صلح کرو گی ؟؟؟” وہ اس کے پاس آ گیا
“صلح کا وقت گزر گیا ولید احمد… اب تمہارے جیل جانے کا وقت آ گیا ہے ” وہ بولی
“سنو مبرا… مجھے مزید اشتعال مت دلاؤ, اس پر سائن کرو اور میں تمہیں چھوڑ دیتا ہوں”وہ معافی نامہ اس کے سامنے رکھتے ہوئے بولا, مبرا طنز سے مسکرائی تھی
“میں کہا نا ولید احمد… کہ صلح ایسے نہیں ہوتی”
……………………..
“عفراء… تمہارے ابو کا کوئی اور نمبر ہے تو دو, یہ تو بند جا رہا ہے” وہ افراتفری میں اوپر آیا تھا, مبرا کے اغواء کی خبر ان سبھی گھر والوں کو بھی پتہ چل گئی تھی
“میرے پاس نہیں ہے…. ” وہ لاپرواہی سے بولی
“کیا مطلب… ؟؟؟ انکل کا بس ایک ہی نمبر ہے ؟؟؟” سعد نے پوچھا
“سعد میرے پاس بھی بس یہ ہی ہے… ” عفراء کو بھلا کہاں جھوٹ بولنا آتا تھا
“عفراء…. جان بوجھ کر نہیں دے رہی ہو نا… یار وہ اغواء کر کے لے گیا ہے مبرا کو, وہ بھی میری اکیڈمی کے دروازے سے… ” سعد پہلی بار اس پر غصہ ہوا تھا
“تو یہ میری غلطی ہے ؟؟؟”
“نہیں…. میری غلطی ہے, میری غلطی ہے کہ میں تمہارے پاس چلا آیا… افسوس ہے عفراء کہ کیسی عورت ہو تم… ؟؟؟” وہ تاسف سے بولتا ہوا واپس نیچے آ گیا
“نہیں ملی ابھی تک…. ؟؟؟” روحاء الگ سے پریشان تھی
“نہیں…. تھانے والے ایف آئی آر ہی نہیں کاٹ رہے… ” سعد نے اقراء کا نمبر ملایا تھا
“اقراء… انکل گھر پر ہیں ؟؟؟”
“جی… سعد بھائی خیریت…. ؟؟؟”
“میں آ رہا ہوں… مبرا کو ولید نے اغواء کر لیا ہے”
…………………………..
کاشف مرزا بھی آ گئے تھے, وہ اور حسیب خان دونوں بار کونسل کے صدر سے ملے, اور انہیں ساتھ لیکر پولیس سٹیشن پہنچے, مبرا کو اغواء ہوئے دو گھنٹے ہو چکے تھے اور ایس ایچ او نے ابھی تک ایف آئی آر نہیں کٹنے دی تھی, حماد مسلسل کسی نا کسی سیاسی بندے سے کال کروائے جا رہا تھا
لاہور میں موجود شعیب کے دو تین دوستوں کے ریفرنس سے شعیب نے ڈائریکٹ ایس ڈی پی او کو کال کروائی تھی, وہ اپنی سیٹ پر موجود تو نہیں تھا لیکن تھوڑی دیر بعد آ گیا
“ایف ائی آر کیوں نہیں کٹی…؟؟؟” اس پر بار ایسوسی ایشن کے صدر کا بھی بہت دباؤ تھا
“سر ہمارے خلع کے کیس کے دوران اس نے ہماری بہن کو اغوا کیا ہے…دو گھنٹے سے یہ ایس ایچ او ٹال مٹول کر رہا ہے, اگر ہماری بہن کے ساتھ اس حرامزادے نے زیادتی کی تو یہ ایس ایچ او تو گیا… ” شعیب نے کہا
“ایف آئی آر کاٹو… جلدی کرو” ایس ڈی پی او نے ایس ایچ او کو اچھا ہی رگڑا
“اس پر دس کیس ایک وقت میں چل رہے ہیں, اوپر سے لڑکی کو اغواء کر لیا ہے, ایف آئی آر کیوں نہیں کاٹی گئی ابھی تک… ؟؟؟” بار ایسوسی ایشن کا صدر الگ سے ایس ایچ او پر برسا تھا
“سر جی ان لوگوں کی طرف سے بھی بڑا دباؤ ہے جی… ” وہ بولا
“وہ سالے لگتے ہیں تیرے… ” خباب چنگھاڑ کر بولا تھا
“سر ہمیں اس کے گھر کے ایک ایک بندے پر شک ہے, اس کی ماں, باپ, بھائی, بہنیں… سب مشکوک ہیں, سب اس کھیل میں شامل ہیں, ایف آئی آر میں سب کا نام آۓ گا, اس کے گھر پر ریڈ کریں اور سب کو یہاں لیکر آئیں.. “
………………….
“دیکھو مبرا…. سیدھی طرح اس پر سائن کر دو, خلع تو ہو گیا ہے نا تمہارا, گاڑی بھی مل گئی ہے واپس, میں سامان بھی واپس کر دوں گا… میں مانتا ہوں غلطی ہو گئی مجھ سے… ایم سوری, بس اس پر سائن کر دو” وہ اس کے پاس بیٹھتے ہوئے بولا
“ولید… تم نے مجھے برباد کیوں کیا ؟؟؟ اگر میں نے تم سے محبت کرنے کی غلطی کر ہی لی تھی تو اسے یکطرفہ رہنے دیتے… شادی کیوں کی مجھ سے… ؟؟؟ جب ایک بار انکار کر دیا تھا تو پلٹ کر کیوں پکارا مجھے ؟؟؟” مبرا نے پوچھا, ولید دھیرے سے مسکرایا
“کیونکہ مجھے تمہاری ضرورت تھی…. ” وہ بولا
“چلو شکر ہے تم نے سچ تو بولا…. ” وہ بڑے دکھ سے مسکرائی تھی
“مبرا… مجھے ہمیشہ سے تمہاری ضرورت تھی اور تم نے ہمیشہ میری ضرورتیں پوری کی ہیں… پلیز… آج بھی کر دو” وہ آگے کو ہوا
“بس ایک سائن ہی تو مانگ رہا ہوں” وہ بولا, مبرا بس اسے دیکھتی رہ گئی
کیا کوئی اتنا خود غرض بھی ہو سکتا ہے ؟؟؟
“ولید… مجھے برباد کر کے تم ذرا سا بھی شرمندہ نہیں ہو ؟؟؟؟” اس نے پوچھا, اپنی کم مائیگی کا شدت سے احساس ہوا تھا
“میں ہوں شرمندہ… ایم سوری” وہ اس کے مزید قریب ہوتے ہوئے بولا
“مبرا… تم چاہو تو ہم پھر سے شروعات کر سکتے ہیں, بس اس پر سائن کر دو, میں اپنی پچھلی ساری غلطیوں کے لئے شرمندہ ہوں, اپنی تمام خطاؤں پر دل سے معافی مانگتا ہوں, پلیز یار… میں کم از کم ایک موقع تو ڈیزرو کرتا ہوں نا.. آخر کو میں شوہر ہوں تمہارا… تم نے محبت کی ہے مجھ سے”وہ ایک بار پھر اسے جھانسے میں لے رہا تھا
“میں اور تم ایک بار پھر سے ایک ہو سکتے ہیں مبرا… “
……………………
سعد خود جا کر عفراء کے ابو سے ملا تھا اور انہوں نے ڈائریکٹ ڈی آئی جی کو کال کی تھی, وہاں سے ڈی ایس پی پر ڈنڈا پڑا اور نیچے تک آیا, سعد نے ببانگ دہل انہیں کہا تھا کہ دو گھنٹے تک ایس ایچ او نے ایف آئی آر نہیں کاٹی
ایس ایچ او کو الگ سے پھینٹا لگا تھا, ایف آئی کٹی اور پولیس نے رات تقریباً نو بجے ولید کے گھر پر ریڈ کی تھی, وہاں بس شمیم, چوہدری حمید اور الماس ہی تھے, پولیس ان تینوں کو پکڑ کر تھانے لے آئی تھی
“کہاں ہے ولید احمد… ؟؟؟” ایس ڈی پی او خود تفتیش کر رہا تھا
“ہمیں نہیں پتہ… ہمارا قصور کیا ہے ؟؟؟”
“اغواء کیا ہے تمہارے بیٹے نے اپنی سابقہ بیوی کو… تین گھنٹے ہو گئے ہیں” ایس ایچ او دہاڑا
پندرہ منٹ بعد جب ان میں سے کوئی بھی نہیں بولا تو شمیم اور الماس کو لیڈی پولیس کے حوالے کر دیا, لیڈی پولیس نے ان دونوں کو اچھا ہی بجایا تھا
“دوسرے دونوں بیٹے کہاں ہیں تمہارے ؟؟؟”
…………………….
زوہیب بھی واپس آ گیا تھا, اور جہاں تک ممکن ہوا اس نے بھی پورا زور لگایا تھا, پولیس ہر طرف ولید کو ڈھونڈ رہی تھی, آدھے گھنٹے بعد انہوں نے حماد کو بھی ڈھونڈ نکالا
اور اسے اچھا ہی بجایا… پتہ اسے بھی کچھ نہیں تھا
آخر خباب کی بس ہو گئی
“زوہیب میرے ساتھ چل… ” وہ کسی کو بھی بتاۓ بنا اسے لیکر اشرف گادھی کے پاس چلا گیا
“اس حرامزادے نے مبرا کو اغواء کر لیا ہے… ” وہ کچھ دیر بعد اس کے سامنے تھے
“پولیس کیا کر رہی ہے ؟؟؟”
“ابھی تو ڈھونڈ ہی رہی ہے… چھوٹا بھی اس کے ساتھ ہی ہے” خباب نے کہا
“اب… ؟؟؟”
“اس کی چھوٹی بہنوں کو اٹھوانا ہے… ” خباب نے کہا
“پیسہ…؟؟؟”
“جتنا تم کہو… ؟؟؟ خباب نے کہا تھا
“آدھا گھنٹہ دے دو… “
……………………
رات کے گیارہ بج رہے تھے…. حسیب خان اور شعیب ہنوز تھانے میں ہی تھے, کاشف مرزا بھی ان کے ساتھ تھے
مبرا کی کوئی خبر نہیں تھی, پولیس ولید کو ہر طرف ڈھونڈ رہی تھی, عماد کو بھی اچھا ہی رگڑا لگا تھا, چوہدری حمید بھی سلاخوں کے پیچھے تھا
شعیب مسلسل ادھر ادھر کالز کر رہا تھا, سعد نے بھی عفراء کے ابو سے کئی بار کال کروائی تھی, ڈی ایس پی نے مسلسل ایس ڈی پی او کو ٹانگا ہوا تھا
اگر صبح ہو جاتی تو شاید میڈیا بھی آ جاتا, مبرا کالج لیکچرار تھی, سٹوڈنٹس سڑکوں پر نکل آتے
اشرف گادھی نے آدھے گھنٹے بعد ارم اور انعم دونوں کو اٹھوا لیا, ان کے ہاتھ پیر باندھ کر منہ میں کپڑا ٹھونس دیا تھا, دونوں کو اس کھڈے نما کمرے میں بند کر دیا تھا
ولید کے سارے پرانے نمبر بند تھے, اس کی لوکیشن ٹریس نہیں ہو پا رہی تھی, عماد کا نمبر بھی بند تھا
………………….
“کر دو سائن… ” ولید نے اس کا ہاتھ پکڑا تھا
“پہلے معافی مانگو… ” اس نے ہاتھ چھڑوا لیا
“ایم سوری… ” وہ بولا
“ایسے نہیں… سب کے سامنے “مبرا نے کہا
“مطلب… ؟؟؟”
“مطلب بدکردار سب کے سامنے کہا ہے نا…. مارا بھی سب کے سامنے ہے, کیچڑ بھی سب کے سامنے اچھالی ہے… تو معافی بھی سب کے سامنے مانگنی ہے…” وہ بولی
“مبرا… میں ہاتھ جوڑ لیتا ہوں… یہ دیکھو, ایم سوری” وہ اس کے پاس نیچے فرش پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا, ہاتھ بھی جوڑ لیے
“سب کے سامنے… ” وہ اٹل تھی
“مبرا… یار ایم سوری… پلیز” ولید نے اس کے دونوں پیر اپنے ہاتھوں میں مقید کیے تھے
“میں وعدہ کرتی ہوں ولید کے تمہیں معاف کر دوں گی…. لیکن میرے آگے ہاتھ سب کے سامنے جوڑو, میرے پیر سب کے سامنے پکڑو… ” اس نے پیر اوپر کر لیے
ولید کا سارا صبر جواب دے گیا
“نہیں کرو گی… ؟؟؟” وہ کھڑا ہو گیا
“نہیں… ” مبرا کے کہتے ہی ولید کا تھپڑ اس کے چودہ طبق روشن کر گیا تھا
تبھی اس کا سیل بجا, عماد کی کال تھی
“ہاں عماد… “
“بھائی… پولیس نے گھر پہ چھاپہ مار کر امی ابو اور الماس کو گرفتار کر لیا ہے…. امی اور الماس کو مارا بھی ہے اور… حماد بھی پکڑا گیا ہے… انہوں نے ارم اور انعم کو بھی اٹھوا لیا ہے… بس اب میرا نمبر ہے… بھائی یہ نمبر بھی آف کر دیں… جلدی”
……………………..
عماد کا سراغ بھی مل ہی گیا… اس کے بارے میں اشرف گادھی نے ہی پتہ لگوایا تھا, پولیس اسے مارتے ہوئے تھانے لیکر آئی تھی
“ولید کہاں ہے ؟؟؟” وہ مار کھاۓ جا رہا تھا
“سن حرامزادے… تیری ماں اور بڑی بہن اس وقت جیل میں ہیں, اچھی ہی پھینٹی لگی ہے انہیں, دونوں چھوٹی بہنیں بھی یہاں لے آئیں گے سچ اگل دے جلدی… ” ایس ڈی پی او اس پر بھی برس پڑا تھا
اور وہ کونسا عادی مجرم تھا, بائیس سال کا دھان پان سا لڑکا ہی تو تھا
دس منٹ میں ہی اس نے ولید کا پتہ اگل دیا
رات کے ساڑھے گیارہ ہو رہے تھے
“چلو جلدی…. ” ایس ڈی پی او خود ساتھ تھا, پیچھے گاڑی میں حسیب خان اور تینوں بھائی تھے
…………………..
“حرامزادی… ” ولید نے اس پر تھپڑوں کی بارش کی تھی
“کر سائن… جلدی کر” وہ دہاڑا
“نہیں کروں گی… جیل جاؤ گے تم… کتے کی موت مرو گے ولید احمد” مبرا نیچے گر گئی تھی, ولید نے اس کے دوپٹے سے اس کے گلے میں پھندا ڈالا تھا
“کر سائن کمینی عورت…. “
“نہیں… ” ولید نے اس کا گلا دبایا اور جب اس کی سانس اکھڑنے لگی تو ایک طرف دھکا دے دیا
“مجھے اب درد نہیں ہوتا ولید احمد… مجھے اب تم سے ڈر بھی نہیں لگتا, میں نے دو سال یہ سب جھیلا ہے…. عادت ہے مجھے اس سب کی, کتنا مار لو گے…. میرے بھائی آ جائیں گے… اور تمہیں… ” ولید نے اسے پھر مارا تھا اور اسے گھسیٹ کر چارپائی پر ڈالا, پھر اس کے اوپر چڑھ آیا
“کر سائن… ” ولید کے سر پر خون سوار تھا, اس نے ایک ہاتھ سے مبرا کا ہاتھ پکڑا اور اسے پینسل تھمائی
“کر دے سائن… ورنہ وہ حشر کروں گا کہ نسلیں یاد رکھیں گی” وہ وحشی بن گیا تھا
“نسلیں تو تمہاری یاد رکھیں گی مجھے… ولید احمد” مبرا نے اس کے منہ پر تھوکا تھا
اور ولید کا تھپڑ اس کا ہونٹ پھاڑ گیا
جانوروں کی طرح اس نے مبرا کے جسم پر سے کپڑے نوچے تھے
“زندہ تو تو بھی نہیں بچے گی آج حرامزادی… تجھے مار کر جیل جاؤں گا میں… ” ولید نے اس کے دوپٹے سے اس کا منہ باندھ کر اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کے بازو جکڑ کر اس کے سر کے برابر میں کر دیئے
“تیری بوٹیاں ملیں گی آج تیرے بھائیوں کو …. “
………………………
جاری ہے
