Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

ولید کو اندازہ ہو گیا تھا کہ مبرا کے گھر والے اس کی بات نہیں سنیں گے, نا ہی اس کی معافی کا کوئی سین تھا, اور اپنا کفر وہ توڑ نہیں رہا تھا, گردن میں پڑا سریا ٹوٹنے کا نام نہیں لے رہا تھا
شمیم کے کہنے سننے پر بھی وہ دوبارہ ان کے گھر نہیں گیا تھا, ایک بار بھی اس کے منہ سے نہیں نکلا تھا کہ میں نے غلط کیا… اور کس بہن کے بھائی بھلا برداشت کرتے ہیں کہ کوئی ان کی بہن کے کردار پر انگلی اٹھاۓ…؟؟؟
کچھ ہی دنوں بعد وہ اس کے کالج پہنچ گیا, چوکیدار نے وزیٹنگ روم میں بٹھا دیا, مبرا نے اس سے ملنے سے صاف منع کر دیا تھا, اگلے دن وہ پرنسپل آفس پہنچ گیا, پرنسپل کو ابھی معاملے کی سنگینی کا اتنا اندازہ نہیں تھا سو اسے بلوا لیا
وہ ولید کو وہاں بیٹھے دیکھ کر دم بخود رہ گئی
“مبرا آپ کے ہسبینڈ آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں… ” وہ بولی
“میم پلیز… مجھے ان سے کوئی بات نہیں کرنی” وہ بولی
“بات سنو مبرا, میں تم سے بہت شرمندہ ہوں, میں معافی مانگتا ہوں تم سے, آئیندہ ایسا نہیں ہو, گھر واپس آ جاؤ” وہ تحمل سے بولا
“کیوں…. ؟؟؟ دوسری بیوی کہاں گئی تمہاری ؟؟؟” وہ بولی
“مبرا سنو… ” وہ دو قدم آگے کو آیا تھا
“میم یہ وہ شخص ہے جس نے مجھے میری پریگنینسی کے آخری دنوں میں جانوروں کی طرح مارا, میں نے اس کی وجہ سے اپنا بچہ کھو دیا, میرے ہوتے ہوئے اس نے دوسری شادی کر لی… سارے شہر میں اس نے مجھے ذلیل کر دیا کہ میں بدکردار ہوں… ” وہ چیخ پڑی تھی, پرنسپل ششدر رہ گئی
“میں نے کچھ نہیں کہا مبرا… “
“ولید میرا نام مت لینا دوبارہ…. یہاں سے چلے جاؤ نہیں تو میں پولیس بلوا لوں گی” ” وہ چیخ پڑی تھی
ولید بس اسے ایک نظر دیکھتا ہوا باہر نکل گیا
مبرا نے روتے ہوئے پرنسپل کو ساری روداد سنائی تھی
اور اس کے بعد پرنسپل نے سختی سے ولید احمد کا کالج داخلہ ممنوع کر دیا تھا
چند دنوں بعد جب ولید کا مبرا تک جانے کا ہر راستہ مسدود ہو گیا تو اس نے ایک نئی راہ نکالی, پورے شہر میں اسے ذلیل کرنا شروع کر دیا, کالج کے کلرکوں تک اس کی بدکرداری کے قصے پہنچاۓ, مرچ مصالحہ لگا کر شہر میں اس کے افییرز کی داستانیں پھیلانا شروع کر دیں, حسیب خان کے ہر جاننے والے کو کہا کہ ان کی بیٹی اپنے چکر کی وجہ سے گھر چھوڑ کر آئی ہے, خباب, زوہیب اور شعیب کے سبھی دوستوں کو کال کر کر کے خود کو مظلوم ثابت کیا, ہر ہر جگہ اس نے مبرا کے کردار کی دھجیاں اڑائی تھیں
اور مقصد صرف یہ تھا کہ وہ لوگ ڈومیسٹک وائلینس والا کیس واپس لے لیں, کیونکہ جیل اسے صاف نظر آ رہی تھی, مبرا کا خلع بھی بس ہونے ہی والا تھا, ان کے گھر وہ کسی کو لے جا نہیں سکتا تھا, اس کے خلاف دو بار تھانے میں شکایت پہنچ چکی تھی, ہر طرف سے وہ مجبور ہو گیا تھا
اور اب گھٹیا پن پر اتر آیا تھا
وہ بھی ایسا ہی ایک دن تھا جب خباب کے کسی دوست کی اسے کال آئی, ولید اس تک پہنچا تھا اور مبرا کی اچھی ہی کردار کشی کر کے اسے کہا تھا کہ اپنے دوست سے کہو کہ اپنی بہن کو واپس بسائیں, اگلے ہی دن شعیب کو لاہور فون جانے لگے
وہ گھر آیا تو غصے سے اس کا برا حال تھا, مبرا کی ساری کولیگز تک بھی داستان پہنچ چکی تھی
“بہت ہی گھٹیا قسم کے لوگ ہیں بھئی, اب نظر آ رہا ہے اسے کہ جیل کی سزا ہو گی, جرمانہ الگ ہو گا, ابھی تو گاڑی واپس کرے گا سالا… ” خباب نے کہا
“سارے شہر میں بات پھیل گئی ہے” حسیب خان انتہائی پریشان تھے
“ابو ایف آئی آر تو کٹ جاۓ گی لیکن یہاں پولیس کچہریوں کے کام بہت سلو ہوتے ہیں, اگلے ہی دن ضمانت کروا لے گا, مکر جاۓ گا کہ کچھ کہا ہی نہیں… ” شعیب نے کہا
“تاریخ کب ہے ہماری ؟؟”
“دو ہفتے بعد…. “
“ابو… جو کمینے ہوں نا… ان کے ساتھ کمینہ ہی بننا پڑتا ہے, خباب وہ جو تیرا ایک دوست تھا جس کا باپ بڑا نامی گرامی بدمعاش ہوا کرتا تھا… کیا نام تھا اس کا ؟؟؟” شعیب نے پوچھا
“وہ اپنے گاؤں کا پنچائتی ہے اب… ” خباب ہنسا
“اس سے ملتے ہیں… ” وہ بولا
“بھائی پیسہ لگے گا اس میں… “
“لیکن عقل بھی تو ٹھکانے آۓ گی نا… ” شعیب نے کہا
“شعیب… بیٹے نا کر…” حسیب خان نے کہا
“ابو پولیس کے ہاتھ نہیں آنا انہوں نے, وہ جو اس کے ساتھ سونڈی نما بھائی ہے نا اس کا, وہ سیاسی دباؤ ڈال کر اس کی ضمانت کروا لیتا ہے” وہ بولا
“خباب اسے کال کر, اس کے باپ سے ملتے ہیں کل, میں تو کہتا ہوں اس کی تینوں بہنوں کو اٹھوا لیں اور پھر اس خبیث کا منہ کالا کروائیں… ” شعیب نے کہا
“نا شعیب… بیٹیاں سب کی ایک جیسی ہوتی ہیں, بھلا بیٹیوں کا کیا قصور ؟؟؟” حسیب خان نے اسے سختی سے منع کر دیا
شعیب بس انہیں دیکھ کر رہ گیا تھا
……………………..
وہ ایک بار پھر روحاء سے ملنے آیا تھا, اور ایک بار پھر کوکب نے اسے دیکھ کر دروازہ بند کر دیا
وہ باہر ہی کھڑا رہا, بار بار فقیروں کی طرح دروازہ بجاتا رہا, کچھ دیر بعد سعد آیا تو وہ باہر ہی کھڑا تھا
“مروان وہ تجھ سے نہیں ملنا چاہتی… کیوں تماشا بنواتا ہے” اسے غصہ آ گیا
“سعد تمہیں خدا کا واسطہ… رب کا واسطہ, اسے کہو بس ایک بار میری بات سن لے, بس بات سن لے”وہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر رو پڑا تھا
“میں کیوں کہوں اسے ؟؟؟ وہ عاقل ہے, بالغ ہے, اپنا اچھا برا جانتی ہے… میں کیوں کہوں اسے ؟؟؟” وہ کہہ کر اندر چلا گیا, مروان وہیں بائیک سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا
کچھ دیر بعد ساجد مغل کسی کام سے باہر نکلے تو وہ ہنوز وہیں کھڑا تھا
“انکل اسے کہیں میری بات سن لے… ” وہی ترلے منتیں
ساجد مغل نے سنی ان سنی کر دی
کچھ دیر بعد وہ واپس آۓ تو مروان وہیں کھڑا تھا, وہ چپ چاپ اندر چلے گئے
“چلا گیا ؟؟؟” کوکب نے پوچھا
“نہیں باہر کھڑا ہے… ” وہ بولے, کوکب نے کھانا لگا دیا تھا, روحاء بالکل خاموش تھی
سعد نے دس بجے کے قریب دروازہ دوبارہ کھولا تو وہ وہیں کھڑا تھا, اسے غصہ بھی آیا اور ترس بھی
“مروان میں اب پولیس سٹیشن کال کر دوں گا… “وہ بولا
“کر دو… ” وہ جیسے ہار گیا
“سعد یار ہم اتنی خطائیں کرتے ہیں, رب ہمیں ہر خطا کے بعد ایک موقع دیتا ہے, میں مانتا ہوں میں گناہوں کا پتلا ہوں, بھلے ہی معاف نا کرے, بس ایک بار میری بات تو سن لے” وہ رو رہا تھا
“ابو پولیس کو کال کریں… یہ ایسے نہیں مانے گا” وہ. واپس اندر آیا تھا
“رک جاؤ سعد…”روحاء نے انتہائی سرد لحجے میں کہا اور دروازے کی طرف آ گئی
“قسم کھاؤ کہ اس کے بعد یہاں نہیں آؤ گے ” وہ دروازے میں کھڑے ہو کر بولی
“میں قیامت تک یہاں آتا رہوں گا روحاء… میری محبت رہتی ہے یہاں…. میری بچی رہتی ہے یہاں” وہ بولا
“کیا کہنا ہے ؟؟؟”
“روحاء میں بھٹک گیا تھا… مجھے پتہ چل گیا ہے کہ میرا کوئی نہیں ہے, میری خاطر یہاں کوئی نہیں آۓ گا, کسی کو مجھ سے کوئی سروکار نہیں ہے, نا میرے بھائیوں کو, نا میری بھابھیوں کو, نا میری بہن کو… مجھے ان سب نے کہہ دیا ہے کہ ان میں سے کوئی یہاں نہیں آۓ گا… کیونکہ قصور میرا ہے, روحاء خدا کی قسم میری آنکھیں کھل گئی ہیں, خدا کی قسم میں تمہارے بنا کچھ بھی نہیں…. ” وہ دونوں ہاتھ جوڑے کھڑا تھا, نادم تھا, شرمندہ تھا, رو رہا تھا, غلطی مان رہا تھا
روحاء خاموش سی کھڑی اسے دیکھ رہی تھی
“ایک بار واپس آ جاؤ روحاء… میں دنیا کی ہر خوشی تمہیں مہیا کروں گا, خدا کی قسم میں رانی بنا کر رکھوں گا تمہیں… میری یہ جاب, یہ اکیڈمی, یہ پیسہ کس کام کا جب میری بیوی اور بچی ہی میرے پاس نہیں ہے ” وہ بولا
“تمہارے پاس تمہاری فیملی ہے مروان… تمہاری ماں, بہن, بھائی, بھابھیاں اور بھتیجے, جاؤ ان پر خرچ کرو جا کر, میں اور میری بچی میرے باپ پر بوجھ نہیں ہیں… رتی برابر بھی جگہ نہیں ہے میرے دل میں تمہارے لئے… تمہارے محبت کے سارے دعوے جھوٹے پڑ گئے مروان مرزا… سب ختم ہو گیا” وہ انتہائی مضبوط لحجے میں بولی تھی, آنکھیں بہتی جا رہی تھیں
“ایک موقع اور دے دو بس…. ” وہ گھٹنوں کے بل اس کے آگے گر گیا, سر جھکا کر رو دیا
“نہیں دے سکتی… جاؤ اور واپس مت آنا” روحاء نے دروازہ بند کر دیا تھا
………………………
عفراء کی بڑی بہن اقراء واحدی کے کالج کا اینول فنکشن تھا, اس نے تقریباً سبھی کالجز کے سٹاف ممبرز کو انوائیٹ کیا تھا, عفراء بھی سعد کے ساتھ ہی گئی تھی, اینول فنکشن کی تقاریر اور اسناد کے بعد ڈنر رکھا گیا تھا
مبرا کا دل تو نہیں کر رہا تھا لیکن اپنی دونوں ساتھی کولیگز کے اصرار کرنے پر جانے کے لئے تیار ہو گئی, عفراء نے روحاء کو بھی ساتھ چلنے کا کہا تھا لیکن وہ مروان کی وجہ سے نہیں گئی, یقیناً وہ بھی وہاں آیا ہوتا اور کیا پتہ کہ سب کے سامنے ہی اس کے پیروں میں گر جاتا, سعد خود بھی اس کے جانے کے حق میں نہیں تھا, اور روحاء کی ڈلیوری بھی نزدیک تھی سو وہ رک گئی تھی
حفظ ماتقدم کے طور پر خباب خود مبرا کے ساتھ جانے کے لئے تیار ہوا تھا, تیار ہوتے ہوتے اسے کافی دیر ہو گئی سو وہ فنکشن میں بھی کافی لیٹ پہنچی, خباب نے کالج کے آڈیٹوریم کے سامنے گاڑی روکی تھی, مبرا اس سے پہلے ہی نیچے اتر آئی, خباب گاڑی پارک کرنے لگا, وہ آڈیٹوریم کے گلاس ڈور کی طرف آ گئی
سٹیج کے دائیں طرف بنی مہمانوں کی نشستوں پر بیٹھے سعد مغل کی نظر گلاس ڈور کی طرف گئی تھی, اس کے ساتھ والی کرسی پر عفراء بیٹھی تھی, دو کرسیاں چھوڑ کر مروان بیٹھا تھا, اس کے علاوہ بوائز کالج اور اکیڈمیز کے کافی ٹیچرز بیٹھے تھے
مبرا نے زور تو پور لگایا لیکن دروزہ شائد پھنس گیا تھا
بہت عام سے انداز سے سعد اٹھا اور جا کر اس کے لئے دروازہ کھول دیا…. عفراء کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوا تھا
تبھی خباب بھی آ گیا, اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے سعد اسے اس کی نشست تک لے آیا
“تھینک یو… ” وہ دھیرے سے کہتے ہوئے بیٹھ گئی تھی, خباب بھی اس کے ساتھ بیٹھ گیا
مبرا کا لیکچر بھی تھا… جو اس نے ڈلیور کر دیا
کچھ دیر بعد خباب کو اپنے دوست کی کال آئی تھی, وہ ملنے کا کہہ رہا تھا, اس نے شعیب کو کال کر کے ٹائم سیٹ کر لیا اور مبرا کو مطمئن کر کے وہاں سے چلا گیا
“جب فری ہو جاؤ تو کال کر دینا… ” خباب نے کہا تھا
فنکشن کے بعد ڈنر سرو کر دیا گیا, مبرا اپنی کولیگز کے ساتھ کھڑی تھی جب اسے شک ہوا جیسے ولید اندر آیا ہو, اور اس سے پہلے کہ وہ اپنے شک کو یقین میں بدلتی, ولید اس کے پیچھے سے آیا تھا
“آج بھاگ کر کہاں جاؤ گی مبرا حسیب خان… ” وہ طنزیہ سا مسکرایا تھا
“کیا چاہتے ہو تم… ؟؟؟”
“واپس آ جاؤ… ” وہ بولا
“کیوں… جیل جانے سے ڈر لگ رہا ہے ؟؟؟” مبرا نے کہا
“بڑی خوش فہم ہو تم مبرا ولید احمد… ” وہ زور سے مسکرایا تھا
“میرے نام کے ساتھ جڑا تمہارا نام کب کا ختم ہو چکا… یہاں سے چلے جاؤ… ” وہ مڑنے لگی تھی جب ولید نے اس کا راستہ روک لیا
“مبرا… مجھے جانتی نہیں ہو تم, بہت پچھتاؤ گی مجھ سے پنگا لیکر, بہتری اسی میں ہے کہ واپس آ جاؤ” وہ خونخوار لحجے میں بولا
“تم سے بڑا کمینہ آدمی میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا…شکر مناؤ کہ تمہاری ہڈیاں ابھی تک سلامت ہیں… میرے بھائیوں نے توڑ نہیں دیں ” وہ زور سے بولی اور اس کے قریب ہو گئی
“تمہارا وقت آ گیا ہے ولید احمد… ایک ایک کر کے سب کچھ چھین لوں گی میں تم سے, کیونکہ تمہارے پاس جو ہے وہ سب میرا ہے, سڑک پر آؤ گے تم… اور آخر میں جیل… ” وہ مسکراتے ہوئے بولی تھی
“بکواس بند کرو اور چلو میرے ساتھ… ” وہ غرایا
“تمہارے ساتھ میری جوتی بھی نا جاۓ… ” مبرا نے کہا اور چٹاخ کی آواز کے ساتھ ولید نے اسے تھپڑ مارا تھا, وہ لڑکھڑا کر گری, ماتھا کرسی سے ٹکرایا اور یکلخت ہی خون کی بوندیں ابھر آئیں, دوپٹہ ایک طرف کو ڈھلک گیا, ولید طنزیہ سا مسکرایا تھا
سعد نے قہر بار نظروں سے ولید کو گھورتے ہوۓ اس کی طرف بڑھنا چاہا لیکن عفراء نے یکدم اس کا ہاتھ پکڑ لیا, اس نے اچنبھے سے اس کی طرف دیکھا
“وہ آپ کی کچھ نہیں لگتی… ” عفراء نے کہا
“وہ ایک عورت ہے… ” سعد کو افسوس ہوا تھا
“تو اس عورت کی مدد کوئی اور کر دے گا… ” وہ ہنوز اس کا ہاتھ پکڑے ہوۓ تھی
مبرا نے چاروں طرف دیکھا, سب انہی کو دیکھ رہے تھے, لمحوں کا کھیل تھا, کسی کو پتہ ہی نا چل سکا کہ کیا ہوا… دفعتاً وہ دوبارہ کھڑی ہوئی, اپنا دوپٹہ ٹھیک کیا اور ولید کے قریب آئی… اور اپنی پوری قوت سے اس کے منہ پر تھپڑ مارا
“میں تمہاری کچھ نہیں لگتی…. ” وہ انتہائی سرد لحجے میں بولی تھی, ولید قہر بار نظروں سے اسے دیکھتا ہوا آگے بڑھا اور اس سے پہلے کہ وہ مبرا کے ساتھ پھر سے دست درازی کرتا, مروان اس کے سامنے آیا تھا
“یہاں سے دفع ہو جاؤ… ” مروان کی آنکھوں میں خون اتر آیا
“وہ میری بیوی ہے… ” ولید نے کہا
“وہ تجھ سے خلع لے چکی ہیں سو… دوبارہ ان کے ساتھ بدتمیزی کی تو منہ توڑ دوں گا تیرا…” وہ بولا
“گارڈز, اس شخص کو دھکے مار کے یہاں سے نکالو… “اقراء واحدی نے اپنے دونوں گارڈز کو بلایا تھا
“اس جانور کو اندر کس نے آنے دیا… ؟؟” اس کا غصے سے برا حال تھا, گارڈز اسے دونوں طرف سے جکڑتے ہوۓ باہر لے گئے
“آپ ٹھیک ہیں مبرا… ؟؟” مروان اس کی طرف مڑا تھا
“میں ٹھیک ہوں… ” وہ دھیرے سے بولی
“مبرا ایم سوری, وہ پتہ نہیں کیسے یہاں آ گیا, میں ڈاکٹر کو بلواتی ہوں آپ کو بینڈیج کی ضرورت ہے…” اقراء نے اس سے معذرت کی تھی
“نہیں اٹس اوکے اقراء… میں بس گھر جا رہی ہوں” مبرا نے خباب کا نمبر ملایا تھا
…………………………
“اس کے لئے دروازہ کیوں کھولا ؟؟؟” گھر آتے ہی عفراء اس پر برس پڑی تھی, شادی کے بعد سے لیکر اب تک سعد نے پہلی بار اس کا اتنا اونچا لحجہ سنا تھا, حالانکہ وہ بہت دھیمے مزاج کی لڑکی تھی
اس کی اور سعد کی جوڑی مثالی گردانی جاتی تھی, کبھی ان دونوں میں لڑائی جھگڑا نہیں ہوا تھا, سعد اس کی ضرورتوں کا پورا خیال رکھتا تھا اور وہ سعد کی… آج پہلی بار وہ اتنا اونچا بولی تھی
“کیا مطلب ؟؟؟”
“مطلب یہ کہ وہاں سب تھے سعد… آپ کے علاوہ اور بھی لوگ تھے وہاں, آپ کی اکیڈمی کے بہت سے کولیگز تھے, اس کا بھائی اس کے پیچھے ہی آ رہا تھا… پھر آپ کیوں اٹھے ؟؟؟” وہ دبا دبا سا غرائی
“عفراء میں تو بس…. “
“سعد مغل… آپ کے اٹھ کر اس کے لئے دروازہ کھولنے کا کیا جواز ہے آپ کے پاس ؟؟؟” عفراء نے پوچھا
“وہ میری کولیگ ہے… میرے ساتھ کام کرتی ہے, میری بہن کی بیسٹ فرینڈ ہے…. اگر میں نے اس کے لئے دروازہ کھول دیا تو کیا ہو گیا ؟؟” اسے بھی غصہ آ گیا
“نہیں سعد… آپ نے اسلیے اس کے لئے دروازہ نہیں کھولا کہ وہ آپ کی کولیگ ہے… یا آپ کی بہن کی دوست ہے… وجہ کچھ اور ہے” وہ بولی
“اور وہ کیا ہے ؟؟؟” سعد نے اس کی طرف دیکھا, عفراء بڑا زخمی سا مسکرائی تھی
“یاد ہے ایک بار میں نے آپ سے کہا تھا کہ شوہر افییر چلاۓ اور بیوی کو پتہ نا چلے… ایسا ہو ہی نہیں سکتا…. ” وہ دو قدم آگے کو آئی
“افییر تو آپ نے بھی چلایا ہے سعد… بھلے ہی مبرا حسیب خان سے نا سہی, اس کے نام سے ہی سہی, اس کی باتوں سے ہی سہی, اس کی یادوں سے ہی سہی” وہ کہہ ہی گئی
“عفراء یہ سراسر بکواس ہے…. ” سعد کو غصہ آیا تھا
“تم میری وفا پر شک کر رہی ہو, میں نے شادی سے لیکر اب تک اپنی محبت میں کوئی کمی رکھی ہے تو بتاؤ… ؟؟؟” اسے دکھ ہوا تھا
“سعد بہت ساری چیزیں صرف محسوس کی جا سکتی ہیں… لفظوں سے بتائی نہیں جا سکتیں, مبرا حسیب خان کا نام لیتے ہوئے آپ کے لحجے کی یاسیت میں بیان نہیں کر سکتی, اس کا نام سن کر آپ کی آنکھوں میں پیدا ہونے والی چمک… میں بیان نہیں کر سکتی سعد مغل… “وہ اس کے قریب ہوئی تھی, آنکھوں میں آنسو سے چمکے تھے
“عفراء… ایسا نہیں ہے, میری زندگی میں عفراء واحدی کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے… ” سعد نے اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا
“میں جانتی ہوں وہ میری جگی کبھی نہیں لے سکتی سعد لیکن…. مجھے ہمیشہ یہ ہی لگتا ہے کہ میں نے اس کی جگہ لے لی ہے” وہ بولی تو آنسو نکل آۓ, سعد نے اس کی دونوں آنکھوں کو بہت نرمی سے چوما تھا
“عفراء میری جان…. میں بہت محبت کرتا ہوں تم سے, خدا کے لئے, میرے اور تمہارے اس پرسکون رشتے کو شک کی بھینٹ مت چڑھاؤ ” وہ دھیرے سے بولا
“پھر ایک وعدہ کریں مجھ سے… ” وہ بولی
“کہو…. ؟؟؟”
“اکیڈمی وائنڈ اپ کر دیں” اس نے سعد کو ساکت کیا تھا
………………………..
وہ اشرف گادھی نام کا ایک بندہ تھا جو ماضی میں بڑا چھٹا ہوا بدمعاش رہ چکا تھا, دنیا کی نظروں میں وہ اب ادھر چکا تھا سو اپنے گاؤں کا سرپنچ تھا, اس کا بیٹا خباب کا کلاس فیلو رہ چکا تھا
خباب اور شعیب دونوں اس سے ملے, ولید کا گھٹیا پن بڑھتا جا رہا تھا, شعیب نے اس کے خلاف ایف آئی آر تو کٹوا دی تھی لیکن وہ اس سے پہلے ولید کا دماغ ٹھکانے لگانا چاہتا تھا, سو ایک معقول رقم کے بدلے انہوں نے ولید سمیت حماد اور عماد کا بھی بندوبست کروا دیا
گادھی نے ان تینون کو ہی اٹھوا لیا تھا, اور اسقدر مارا تھاکہ حد نہیں, ولید کا تو مار مار کر بازو بھی توڑ دیا, زخموں سے چور ان تینوں کو اس نے دو دن بعد چھوڑا تھا اور اپنی سائیڈ بچانے کے لئے اس پر پچاس ہزار کے فراڈ کا پرچہ بھی کٹوا دیا تھا, گادھی ان کاموں میں ماہر تھا
دو دن بعد وہ تینوں گھر پہنچے تھے, شمیم کے تو کلیجے پر ہاتھ پڑا تھا, تینوں کے تینوں زخموں سے چور اور خون میں لت پت… ولید کی زیادہ بری حالت تھی
“دوبارہ لڑکی کے پاس نا نظر آۓ تو…. ” گادھی نے اسے وارننگ دے دی تھی
چوہدری حمید ان تینوں کو گاؤں والوں کی مدد سے ہسپتال لیکر گیا, ولید کا بازو دو جگہ سے فریکچر ہوا تھا, حماد اور عماد کا بھی برا حال تھا
ایک ہفتے بعد پولیس پھر سے ان کے گھر آن پہنچی, بینک والوں نے مبرا کی ایپلیکیشن پر گاڑی ٹریک کر لی تھی اور پوچھ تاچھ پر ولید کا نام سامنے آیا تھا, عدالت نے اس کے وارنٹ جاری کئے تھے اور پولیس اسے گرفتار کرنے آئی تھی
وہ زخموں سے چور اندر پڑا تھا, پولیس اسے یونہی اٹھا کر لے گئی, شمیم اور الماس کا رو رو کر برا حال تھا, اگلے ہفتے ہی ضروری کاروائی مکمل کروا کر بینک نے گاڑی مبرا کو واپس کر دی تھی
جسے ولید نے گاڑی بیچی تھی اس نے الگ سے چوبیس لاکھ کا کیس دائر کر دیا تھا
وہ اپنی گاڑی خود ڈرائیو کر کے گھر تک آئی تھی
“میری بچی کو اللہ بہت عزت دے گا… بہت نام دے گا انشاءاللہ ” حسیب خان نے نم آنکھوں سے کہا تھا
………………………
روحاء کی ڈلیوری ہو گئی تھی, خدا نے اسے ایک اور بیٹی سے نوازا تھا, اور وہ ہو بہو مروان کا پرتو تھی, کوکب اور سعد اس کے ساتھ ہی ہسپتال میں تھے
مروان کو نہ جانے کیسے پتہ چل گیا, وہ دیوانوں کی طرح ہسپتال بھاگا آیا
روحاء کو روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا, اس کی بچی کوکب نے اٹھائی ہوئی تھی جب مروان اندر داخل ہوا, روحاء نے گردن گھما کرباسے دیکھا تھا
“مروان یہاں سے چلا جا… ” سعد کو یکدم ہی غصہ آیا تھا
“سعد پلیز یار… وہ میرا خون ہے, میری بچی, مجھے میری بچی دیکھنے دے” مروان گڑگڑا کر بولا تھا
“روحاء اسے کہو ایسے نا کرے, مجھے میری
بچی تو دیکھنے دے, پلیز” وہ سعد کا بازو پکڑے فقیر ہی بن گیا تھا, تبھی کاشف مرزا بھی وہاں آ گئے, انہیں ہسپتال سے ان کے ایک جاننے والے نے فون کیا تھا
“سعد… ” روحاء نے مضمحل سی آواز سے اسے پکارا
“آنے دو اسے… ” وہ بولی تو آنسو نکل آۓ, مروان نے دیوانوں کی طرح بچی کو اٹھایا تھا, پھر اسے چومتا چلا گیا
“روحاء تمہیں میری بچیوں کا واسطہ… میری بچیاں رل جائیں گی, یار اللہ کی خاطر مجھے معاف کر دو, رب کی خاطر معاف کر دو روحاء… ” وہ اس کے بستر کے پاس نیچے فرش پر ہی بیٹھ گیا
“مروان نا کر یار…. اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے… ” کاشف مرزا نے اسے کھڑا کیا تھا
“روحاء اللہ بھی معاف کر دیتا ہے, رونے والے کو, گڑگڑانےے والے کو, شرمندہ ہونے والے کو, معافی مانگنے والے کو… اللہ بھی معاف کر دیتا ہے, وہ بھی ایک موقع دے دیتا ہے پلیز مجھے ایک موقع دے دو, میرا کوئی نہیں ہے روحاء سواۓ میری بچیوں کے… سواۓ تمہارے ” وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیا تھا
…………………..
ولید پر ایک کے بعد ایک کیس دائر ہو چکے تھے, جن میں دو تو خلع کے کیس تھے, اگلی پیشی پر مبرا کا خلع پوری طرح شیور تھا, اور شائد ڈومیسٹک وائلینس والے کیس میں ولید کو سزا بھی ہو جاتی, فی الحال وہ گاڑی والے کیس میں اندر تھا, عماد اور حماد پوری طرح اس کی ضمانتوں کی کوششوں میں تھے
باقی اس پر مبرہ کے سامان اور رقم کا کیس تھا, ایک ایف آئی آر اس پر حراساں کرنے کی کٹی ہوئی تھی
اس بار وہ پورے دو ہفتے جیل میں رہا تھا, بڑی ہی مشکلوں سے حماد نے اس کی ضمانت کروائی
اس پر خون سوار تھا… منہ سے گالیوں کا طوفان نکل رہا تھا
“چھوڑوں گا نہیں تجھے حرامزادی…. ” وہ آتش فشاں بنا ہوا تھا
………………………
جاری ہے