Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

مغرب کے بعد کا وقت تھا جب وہ بینیش کی طرف چلا آیا, وہ ابھی اپنے باپ کے گھر ہی رہ رہی تھی, اس کا باپ اکمل نیازی ایک پرائیوٹ کالج کا پرنسپل تھا
بینیش اس کی سب سے چھوٹی بیٹی تھی, اس کی ساری سٹڈی امریکہ کی ہی تھی, اکمل نیازی کی باقی دونوں بیٹیاں اور دو بیٹے شادی شدہ تھے اور کافی بڑے عہدوں پر فائز تھے
ولید کی بینش سے ملاقات کالج میں ہی ہوئی تھی, وہ وہاں انگلش کے چار لیکچرز لیتا تھا, ولید اس کی طرف کیوں مائل ہوا… ؟؟؟ اس کی کئی وجوہات تھیں
وہ خوبصورت تھی, امیر تھی, مضبوط فیملی بیک گراؤنڈ سے تھی… اور سب سے بڑی بات
وہ خود ولید کی طرف آئی تھی
لیکن ولید نے یہ کبھی نا سوچا کہ آخر بینش کو اس میں کیا نظر آیا تھا ؟؟؟
اکمل نیازی نے ہی ولید سے بینش کی اس کے لئے پسندیدگی کی بات کی تھی, وہ ان دونوں کی شادی کرنا چاہ رہے تھے, اور ولید کو بھلا کیا اعتراض ہوتا ؟؟؟
وہ دل و جان سے راضی تھا, ان دونوں کا نکاح تو اکمل نیازی نے سادگی سے ہی کیا تھا, بقول ان کے… ان کے دونوں بیٹے اس نکاح کے خلاف تھے, ولید کے پاس شکل کے علاوہ اور تھا ہی کیا… ؟؟؟
ان دونوں نے بس مارے باندھے ہی نکاح میں شمولیت کی تھی
اکمل نیازی تو اس کا نکاح لاہور جا کر کرنا چاہ رہے تھے لیکن ولید بضد تھا کہ نکاح یہیں کیا جاۓ تاکہ اس کے گھر والے بھی شریک ہو سکیں, سو انہوں نے نکاح کے بعد ان دونوں کے ولیمے کا فنکشن لاہور میں ہی رکھا تھا جہاں اپنے سبھی دوستوں اور رشتے داروں کو مدعو کیا تھا
انہوں نے سبھی کو یہ ہی بتایا تھا کہ یہ شادی انہوں نے صرف اور صرف بینش کی ضد پر کی ہے, وہ ولید احمد کو پسند کرنے لگی تھی, رخصتی کے بعد بھی بینش نے ولید کے گھر جانے سے انکار کر دیا تھا اور اکمل نیازی نے کھلے دل سے اپنے گھر کو ولید کا گھر ہی کہہ دیا تھا
لیکن اس سارے کھیل میں ولید احمد اور اس کے گھر والے یہ سمجھ ہی نہیں پاۓ تھے کہ بینش کو آخر ولید احمد میں نظر کیا آیا جو اس کے شادی شدہ ہونے کے باوجود اس سے شادی کر لی… اور یہاں آ کر انہیں یہ ہی لگا کہ بینش نیازی بھی شائد مبرا حسیب خان کی طرح دل کے ہاتھوں مجبور ہو گئی ہو گی
اکمل نیازی کا بڑا خوبصورت کوٹھی نما گھر تھا, فی الحال اس گھر میں اکمل نیازی اور بینش ہی رہ رہے تھے, بینش کی والدہ حیات نہیں تھیں, چوکیدار نے اسے دیکھ کر دروازہ کھول دیا
“بینش کہاں ہے ؟؟؟” اس نے اندر آتے ہوئے ملازمہ سے پوچھا
“اوپر اپنے کمرے میں ہیں.. “
ولید سر ہلاتے ہوئے سیڑھیاں چڑھ گیا, بنا ناک کئے اس نے دھیرے سے اس کے کمرے کا دروازہ کھولا تھا, بینش اپنے بستر پر کروٹ لئے لیٹی کسی سے کال پر مصروف تھی, اس نے بلو جینز کے ساتھ گلابی ہاف سلیوز ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی
ولید دھیرے سے چلتے ہوئے بالکل اس کے پیچھے جا کر لیٹا اور لمحوں میں اس کے ہاتھ سے موبائل کھینچ لیا
“کیا بدتمیزی ہے یہ ؟؟؟” وہ یکدم ہی پلٹتے ہوۓ غرائی تھی
“کس سے بات کر رہی تھیں…. ؟؟؟” ولید نے موبائل والا ہاتھ اونچا کر لیا
“ولید… میرا سیل واپس کرو” بینش کو غصہ آ گیا
“نہیں کرتا… کیا کر لو گی ؟؟”
“میں تمہارے منہ پر تھپڑ مار دوں گی… ” وہ تڑخ کر بولی
کال ہنوز چل رہی تھی
“اچھا… اتنی ہمت ہے تمہارے….” بینش نے اس کی بات بھی پوری نہیں ہونے دی اور رکھ کے اس کے منہ پر تھپڑ مارا, ولید ساکت رہ گیا, کھینچ کر اس نے ولید کے ہاتھوں سے اپنا سیل چھینا تھا
“مجھے اپنی پہلی بیوی کی طرح مت سمجھنا… ” وہ اسے انگلی دکھاتے ہوئے بستر سے اترنے لگی تو ولید نے یکدم ہی اس کے دونوں بازو جکڑتے ہوۓ اسے دوبارہ بستر پر گرایا اور لمحوں میں اس پر جھک آیا, بینش بس اس کی گرفت میں پھڑپھڑا کر رہ گئی تھی
“تم میری پہلی بیوی کی طرح ہی ہو بینش نیازی… سمجھیں, خبردار جو آئیندہ مجھ سے بدتمیزی کی تو… پہلی غلطی سمجھ کر معاف کر رہا ہوں” وہ بولا
“مائی فٹ… ہٹو میرے اوپر سے”وہ تڑخی
“دو مہینے ہو گئے ہیں ہماری شادی کو اور میرے خیال سے تم ذہنی طور پر خود کو کافی وقت دے چکی ہو, چلو اب اچھی بیویوں کی طرح مجھے میرا حق دے دو” ولید اس کے چہرے پر جھکا تھا
“دور ہٹو مجھ سے, تم نے ایگریمینٹ سائن کیا ہے کہ تم میری مرضی کے بنا مجھے نہیں چھو سکتے اور اگر تم نے ایسا کیا تو ہرجانہ ادا کرنا ہو گا” وہ بولی
“اچھا… اور ہرجانہ کیا ہو گا ڈییر وائف… ؟؟؟” ولید مسلسل اس پر حاوی ہونے کی کوششوں میں تھا
“تمہارا گھر… ” اس کے کہتے ہی ولید کے لبوں پر استہزائیہ سی مسکراہٹ ابھر آئی
“مطلب تم کچھ بھی کہو گی اور میں مان لوں گا… ” وہ بولا
“یہ سب تم نے خود سائن کیا ہے ولید احمد… سو مجھ سے دور ہو جاؤ” بینش نے اسے پیچھے کو دھکا دیا تھا
“دھوکہ دیا ہے نا تمہارے باپ نے مجھے ؟؟؟” وہ انتہائی سرد لحجے میں بولا
“دھوکے باز کو دھوکہ دینا کوئی جرم نہیں ولید… تمہارا بھی سارا کچا چٹھا ہے میرے پاس” وہ مسکراتے ہوئے اسے سلگا گئی تھی
………………………..
حسیب خان نے ولید احمد کے خلاف ایف آئی آر کٹوا دی تھی, انہوں نے کہا تھا کہ ولید احمد نے ان کی اکلوتی بیٹی کو حمل کے آخری مہینے میں تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اس نے اپنا بچہ کھو دیا, مبرا پر کئے پچھلے سارے جنسی اور جسمانی تشدد بھی لکھواۓ تھے, اور اس کے میڈیکل نے کاروائی کو مزید خطرناک بنا دیا تھا
شعیب جانتا تھا کہ پاکستان میں عام بندے کی شنوائی اتنی جلدی نہیں ہوتی سو اس موقع پر اس کے اور حسیب خان کے ریفرنس کام آۓ تھے, انہوں نے ادھر ادھر سے بے حد دباؤ ڈال کر ایف آئی آر پر جلد از جلد کاروائی کروائی تھی
ساتھ ہی حسیب خان نے مبرا کے خلع کے کاغذات تیار کروا لیے, وہ چونکہ خود وکالت چھوڑ چکے تھے سو انہوں نے مبرا کے لئے اپنے ایک بہت قابل جاننے والے وکیل کو ہائر کیا تھا, کچھ ہی دنوں میں اس نے مبرا کے خلع کا کیس بھی دائر کر دیا… شعیب اب مزید کسی بھی تاخیر کے حق میں نہیں تھا
“مبرا بچے ایک لسٹ بنا… ان ساری چیزوں کی جو انہوں نے تجھ سے چھین لیں, وہ سارے پیسے لکھ جو اب تک تو ان پر لٹا آئی ہے, سارا حساب کتاب لکھ میرا بیٹا… اس کتے سے پائی پائی وصول کریں گے ہم… ” وہ قہر بار ہوا پڑا تھا
……………………..
وہ ابھی کالج سے گھر آیا ہی تھا جب باہر سے شور شرابے کی آوازیں آنے لگیں, شمیم اور ولید کا باپ چوہدری حمید باہر صحن میں بیٹھے تھے, مبرا کو گئے ایک ہفتہ ہو گیا تھا لیکن ان میں سے کسی نے پلٹ کر خبر تک لینے کی زحمت نہیں کی تھی, ولید نے تو خس کم جہاں پاک کہہ کر خدا کا شکر ادا کیا تھا
مین گیٹ بری طرح دھڑدھڑایا گیا تھا
“کون ہے ؟؟؟” حمید اٹھ کر دروازہ کھولنے گیا, الماس اندر تھی, حمید کے دروازہ کھولتے ہی پولیس اندر آئی تھی
“ولید احمد کون ہے ؟؟؟” ایس ایچ او نے کرختگی سے پوچھا تھا
“کی ہویا جی… ؟؟؟”
“اریسٹ کرنا ہے اسے… وارنٹ ہے ہمارے پاس” وہ بولا
“کس چیز دے وارنٹ جی ؟؟؟” حمید کی آنکھیں پھٹ گئیں
“اپنی بیوی کے ساتھ مار پیٹ کر کے گھر سے نکالا ہے اسے… اگلوں نے ایف آئی آر کٹوائی ہے” ایس ایچ او نے کہا
“تلاشی لو اوۓ… ” اس نے مڑ کر سپاہیوں سے کہا تھا
“اوۓ رکو تو… اندر کڑیاں ہیں میری… ” شمیم نے واویلا مچایا تھا
“تھانیدار جی وہ خود ہی گھر چھوڑ کر گئی ہے…. ” حمید کہتا جا رہا تھا
سپاہی کچھ ہی دیر میں اندر سے ولید کو پکڑ لاۓ تھے
“امی…حماد کو فون کرنا, جلدی کرنا” ولید نے جاتے جاتے کہا تھا
آخر کو حماد کا سیاسی حلقہ کس دن کام آنا تھا
……………………….
اس نے فی الحال ایک مہینے کی میڈیکل لیو اپلائی کر دی تھی, ڈلیوری کے بعد سے وہ بے حد کمزور ہو گئی تھی, اور چونکہ معاملہ ابھی بہت گرم تھا سو حسیَ خان خود بھی یہ ہی چاہ رہے تھے کہ وہ فی الحال گھر پر ہی رہے
اس دن بھی اسے ایک ساتھ کولیگ کا میسیج آیا, آنلائن ٹرانسفرز پھر سے اوپن ہو گئے تھے, مبرا نے شام تک ادھر ادھر کالز کر کے پتہ کیا لیکن فی الحال اس کے اپنے شہر میں کوئی بھی ویکینسی نہیں تھی
بوائز کالج کی سیٹ بھی فل ہو چکی تھی
شعیب ویک اینڈ پر گھر آیا تو مبرا نے اسے بتایا
“گرلز کالج میں بھی سیٹ نہیں ہے ؟؟؟”
“نہیں… ” وہ بولی
“شعیب بھائی پرنسپل کہہ رہی تھیں کہ اگر ہم کوشش کر لیں تو کوئی سیٹ کنورٹ کروا سکتے ہیں… انہیں کوئی آبجیکشن نہیں ہو گا” مبرا نے کہا
“مبرا بچے اپنی فائل ریڈی کر… ساتھ مجھے ویکینسز کا بھی سرٹیفیکیٹ دے, میں اس ہفتے خود سیکیٹریٹ جاؤں گا” شعیب نے کہا
“مبرا نے کچھ ہی دنوں میں اسے سارے ڈاکیومینٹس تیار کر دیئے, اس کا پروبیشن بھی مکمل ہو چکا تھا, شعیب اسی ہفتے اس کی فائل لیکر لاہور چلا گیا تھا
کام مشکل تو تھا کیونکہ فی الوقت اس کے لئے کسی اور سیٹ کو کنورٹ کروانا تھا لیکن شعیب چونکہ کافی عرصے سے ڈیفینس ڈپارٹمنٹ میں کام کر رہا تھا سو اس کی لاہور میں کافی جان پہچان تھی, اور اس موقع پر جان پہچان ہی کام آنی تھی
کئی لوگوں کی سفارش ڈلوا کر اس نے مبرا کی فائل جمع تو کروا دی تھی
………………………
سعد نے روحاء کے لئے ایک وکیل ہائر کر لیا تھا اور اس کا سارا کیس اس سے ڈسکس کیا تھا, روحاء کی پریگنینسی کو ابھی صرف تین ماہ ہوۓ تھے, سارے کاغذات تیار کر کے سعد نے اس کا خلع دائر کر دیا تھا
یہ تو طے تھا کہ اس کا خلع ڈلیوری کے بعد ہی مؤثر ہونا تھا, فی الحال تو بس کیس پر ہی پیش رفت ہونی تھی
سعد جانتا تھا کہ مروان اسے آسانی سے طلاق نہیں دے گا, وہ صلح صفائی کی ہر ممکن کوشش کرے گا, اوپر سے کاشف مرزا کی عدالتوں میں کافی جان پہچان تھی سو کیس کافی لمبا چلنے والا تھا
…………………………
ولید نے پوری رات سلاخوں کے پیچھے گزاری تھی, فی الحال اس پر کوئی جسمانی تشدد نہیں کیا گیا تھا, حمید نے فوراً حماد کو کال کر دی تھی
اور اس نے ادھر ادھر ہاتھ پیر مار کر صبح تک ولید کی ضمانت کروا لی, اس کے لئے وکیل بھی حماد نے ہی کیا تھا, دن کے گیارہ بج رہے تھے جب حماد اسے ساتھ لیکر گھر پہنچا, ولید کے غصے کا کوئی حال نہیں تھا
“حرامزادی خود کو سمجھتی کیا ہے… ؟؟؟ میرے سامنے کھڑی ہو گی اب… اتنی جرأت ہے بھلا اس میں… ابھی دیکھا ہی نہیں ہے انہوں نے ولید احمد کو… ناکوں چنے چبواؤں گا دیکھ لینا” وہ دہاڑے جا رہا تھا
“پتر اس پر کسی بھاری اور قیمتی چیز کا الزام ڈال… کیس میں لکھوا کے پیسہ اور زیور لیکر گئی ہے ادھر سے سارا” شمیم نے کہا
“امی تو دیکھتی جا…. کہ اس کمینی کا حشر کیا کرتا ہوں میں…بینیش کے ابو کا تو کوئی فون نہیں آیا ؟؟؟” اس نے پوچھا
“آیا تھا تیرے موبائل پر… بینیش کا بھی آیا تھا, میں نے ٹال مٹول کر دی” الماس نے کہا
“امی انہیں بالکل اس معاملے کی بھنک نہ لگے… بس یہ ہی کہنا ہے کہ مبرا اپنی مرضی سے گھر چھوڑ گئی ہے” ولید نے کہا تھا
…………………….
اس کا خلع کا نوٹس کاشف مرزا کے گھر گیا تھا, وہ وصول بھی انہوں نے ہی کیا, عدالتی نمائندے نے تصدیق کرنی تھی سو انہوں نے مروان کو کال کر کے بلوایا
نمائندہ سائن کروا کر چلا گیا تھا
“ابو میں اسے طلاق نہیں دوں گا… کسی صورت نہیں, وہ میری بیوی ہے, میری بچی کی ماں ہے, میں نہیں چھوڑوں گا اسے, ابو پلیز کچھ کریں” مروان کے پیروں پر آگ لگ گئی تھی
کاشف مرزا بس چپ چاپ کھڑے تھے
“ابو ابھی تو خلع ہو ہی نہیں سکتا, وہ امید سے ہے” مروان نے زور سے کہا اور ان کے پاس آیا
“ابو ایک بار پھر ان کے گھر چلتے ہیں, پلیز, کسی کو ساتھ لے جاتے ہیں, میں اس کے ابو کے پیروں میں گرنے کے لئے تیار ہوں پلیز… ” مروان کا برا حال ہو رہا تھا
بہر حال اس نوٹس کا جواب تو دینا تھا, سو انہوں نے بھی وکیل کر لیا, اپنے جواب میں مروان نے صاف صاف لکھوا دیا تھا کہ وہ اپنی بیوی کو بخوشی بسانے کے لئے تیار ہے اور وہ اسے قطعی طلاق نہیں دینا چاہتا…
دو دن بعد کاشف مرزا اور فرحت دوبارہ ساجد مغل کے گھر پہنچے, اس بار دروازہ کوکب نے کھولا تھا, روحاء اپنے کمرے میں تھی
انہوں نے خاموشی سے انہیں ڈرائینگ روم میں بٹھایا اور ساجد مغل کو کال کر دی, سعد آفس گیا ہوا تھا سو وہ تو نہیں آ سکتا تھا
“انکل خدا کے لئے مجھے معاف کر دیں, میری آخری غلطی سمجھ کر معاف کر دیں, میں تڑپ گیا ہوں اپنی بیوی اور بچی کے لئے پلیز… انکل ایم سوری” وہ اٹھ کر ساجد مغل کے پیروں میں گر گیا تھا, تبھی روحاء اندر آ گئی
“میں نے تم سے کہا تھا کہ دوبارہ اس گھر میں نا آنا… ” وہ سخت لحجے میں بولی
“روحاء سنو.. پلیز یہ میرے جڑے ہاتھ دیکھو, بس ایک بار معاف کر دو, بس ایک بار… ” وہ آنسوؤں کے ساتھ اس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو گیا
“مروان میں راضی نہیں تھی تم سے شادی کرنے کے لئے, لیکن مجھے سب نے کہا کہ مروان مرزا کی شکل پر نا جاؤ, اس کی سیرت دیکھو کہ کتنی اچھی ہے… یہ تھی تمہاری سیرت مروان… ؟؟؟؟ کہ تم نے اپنے پورے گھر والوں کے سامنے مجھے تھپڑ مار دیا… ” وہ زور سے بولی
“بتاؤ اپنے باپ کو کہ گھر لے جا کر کیا کیا تم نے میرے ساتھ, میرا منہ دبوچا, مجھے تھپڑ مارے, میرے ساتھ زیادتی کی… ” وہ چیخ پڑی
“روحاء ایم سوری میں… “
“بکواس بند کرو اپنی… بہت ہو گئے تمہارے یہ معافی والے تماشے, مجھے بس اتنا بتا دو مروان مرزا کہ میرا قصور کیا تھا ؟؟؟”وہ رو پڑی تھی
“روحاء بیٹے ہم بہت شرمندہ ہیں… سواۓ ایک معافی کے ہمارے پاس اور کچھ نہیں ” کاشف مرزا نے کہا
“کوئی ایک بندہ بھی ہے تمہارے گھر میں جو مجھے فیور کرتا ہو, جسے میں دل سے قبول ہوں, تمہاری ماں کو میں اچھی نہیں لگتی کہ میں اس کی بیٹی کے منہ سے نوالے چھینتی ہوں, تمہاری بہن کو میری شکل سے نفرت ہے کہ میں تمہیں اس پر خرچ نہیں کرنے دیتی, تمہاری بھابھیوں کو ویسے مجھ سے پرخاش ہے, بھائیوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتی میں…. اور رہ گئے تم… تو تمہارے نزدیک بھی کیا مقام ہے میرا مروان مرزا… کوئی اپنی رکھیل سے بھی ایسا سلوک نہیں کرتا جیسا تم نے میرے ساتھ کیا ہے” وہ برس پڑی تھی
مروان سر جھکاۓ کھڑا تھا
“انکل اس نے میرے باپ کے سامنے کہا تھا کہ بس میری شکل و صورت پر کمپرومائز کر لیں… اس کے علاوہ روحاء کو اور کسی چیز کے لئے کمپرومائز نہیں کرنا پڑے گا… لیکن پوچھیں اس سے…. کہ مجھے پیمپرز کے ایک پیک کے لئے بھی کمپرومائز کرنا پڑتا ہے, فیڈرز کے نپلز تک منگوانے ہوں تو یہ مجھے کوسنے کھڑا ہو جاتا ہے, اس کے پاس سب پر خرچ کرنے کے لیے پیسے ہیں سواۓ میرے… اور اپنی بچی کے” وہ کھل کر اپنی بھڑاس نکال رہی تھی
“فرحت بہن…. مجھے صرف اتنا بتا دیں کہ رات کے اندھیرے میں اگر آپ کی اکلوتی بیٹی شدید سردی میں محض ایک شلوار قمیض میں ملبوس, فقط ایک شال لپیٹے, خالی ہاتھ اپنی بچی اٹھاۓ, چہرے اور جسم پر درندگی کے نشان لئے, شوہر کے تھپڑ کھا کر واپس آتی تو آپ اس حیوان کو معاف کر دیتیں ؟؟؟” کوکب نے پہلی بار فرحت کو مخاطب کیا تھا
وہ بول نہیں سکیں… بس چپ چاپ مروان کو دیکھتی رہ گئیں
“میری ایک بات کان کھول کر سن لو مروان مرزا, میں نے جتنے سمجھوتے کرنے تھے کر لیے, جتنا صبر کرنا تھا کر لیا, مجھے کبھی میرے باپ نے سختی سے انگلی تک نہیں دکھائی اور تم نے مجھے بنا کسی وجہ کے تھپڑ مارا… اگر میرے لئے تم دنیا کے آخری انسان بھی ہو گے تب بھی میں تمہاری طرف واپس نہیں آؤں گی… آئیندہ یہاں نظر نا آؤ مجھے ورنہ تم پر اگلا کیس harrassment کا دائر کر دوں گی” وہ غراتے ہوۓ کمرے سے باہر نکل گئی تھی
……………………….
ولید کو مبرا کی طرف سے خلع کا نوٹس بھی مل گیا تھا, اور ایک بار پھر اس کے غیض و غضب کا کوئی حال نہیں تھا, حق مہر کے طور پر صرف ایک پچاس ہزار روپے لکھوایا تھا جو وہ مبرا سے معاف کروا چکا تھا, بھلے ہی اس کا کوئی ثبوت نہیں تھا لیکن مبرا کی زبان تو تھی
اس کے علاوہ وہ اسے ہر چیز دینے کا پابند تھا
“ولید پتر تگڑا سا کیس کر اس پر, لگ پتہ جاۓ انہیں… ” وہ ابھی ابھی خلع کا نوٹس وصول کر کے بیٹھا تھا, حماد اور عماد بھی وہیں تھے, اس کے وکیل نے بھی جواب دعویٰ دائر کر دیا تھا, دو ہفتے بعد پہلی پیشی تھی
“امی اسے گھر سے نکلنے ہی نہیں دینا تھا… ” وہ بولا
“بس پتر غلطی ہو گئی… وہ پتہ نہیں کب باہر نکل گئی, اندازہ ہی نہیں ہوا کہ اس بار چلی جاۓ گی” شمیم نے کہا
“حرامزادی نے سب کچھ بھائیوں کو بتا دیا ہو گا, چلو, کر لیں جو کر سکتے ہیں, طلاق تو میں بھی نہیں دوں گا… “وہ کہتے کہتے حمید کی طرف مڑا
“ابو ذرا اس گھر کی قیمت تو لگوا…. کہ کتنے میں جاتا ہے ؟؟؟” وہ بولا
“کیوں… ؟؟”
“بعد میں بتاؤں گا… ” ولید کے ذہن میں بینش کی باتیں کل سے گھوم رہی تھیں, دفعتاً اس کا سیل بجا, اکمل نیازی کی کال تھی, وہ اسے گھر آنے کا کہہ رہے تھے
“ولید… پتر اس بینش کو بھی اب ذرا لگامیں ڈال, کوئی بچے کی امید تو بنے…” شمیم نے کہا
“اور کچھ پیسے بھی مانگ اس سے, اگلے مہنے کیا کریں گے ہم…. تیری دس, پندرہ ہزار تنخواہ میں کیا ہو گا…؟؟؟” حمید نے بھی کہا
“بینش کو بھی سیٹ کر لیتا ہوں میں” وہ کچھ دیر بعد اکمل نیازی کے گھر چلا آیا
وہ انتہائی غصے میں تھے
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بیٹی کو ٹارچر کرنے کی ؟؟؟” وہ دہاڑے, بینش خاموشی سے ایک طرف صوفے پر بیٹھی تھی
“آپ نے دھوکہ کیا میرے ساتھ ؟؟؟” وہ ڈرا نہیں تھا
“تو یہ کونسا نئی بات ہے… تم بھی تو آج تک یہ ہی کرتے آۓ ہو” وہ بولے
“بیوی ہے یہ میری…. اور پورا حق ہے اس پر میرا” وہ بولا
“تو پھر لیکر دکھاؤ اپنا حق… تمہیں سڑک پر نا لے آئی تو کہنا” بینش نے کہا
“کیوں کیا ایسا ؟؟؟” ولید بے بس سا ہو گیا
“میری مرضی…. ” بینش کندھے اچکا کر کھڑی ہو گئی
“اور یہ کیا سنا ہے میں نے تمہارے بارے میں…. کہاں گئی تمہاری پہلی بیوی… ” انہوں نے پوچھا
“وہ چلی گئی ہے… ہمیشہ کے لئے, اور اب میرے پاس بینش جو ہے… کیوں بینش ؟؟؟” وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرایا تھا
“بینش تمہارا ایک خواب ہی رہے گی ولید احمد…. “
“مجھے بڑی اچھی طرح خواب کو حقیقت کرنا آتا ہے بینش نیازی… ” وہ بولا
“اگلے مہینے تک پچاس ہزار چاہیں مجھے… ” وہ اکمل نیازی کی طرف مڑا
“کس خوشی میں ؟؟؟”
“آپ کا داماد ہونے کی خوشی میں… ” وہ انہیں آنکھ مارتے ہوئے بولا تھا اور پھر مسکراتا ہوا باہر نکل گیا
“صرف تمہاری وجہ سے برداشت کر رہا ہوں میں اسے ورنہ اس جیسے کتے کو میں ہڈی بھی نا ڈالوں ” اکمل نیازی نے بینش کی طرف دیکھا
“ابو رضا کی صرف چھ مہینے کی سزا رہ گئی ہے… اور چھ مہینے بعد ہی میں فارغ ہو جاؤں گی… بس چھ مہینے صبر کر لیں”
“بینش تو نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا, بات کھل گئی تو سارا شہر تھو تھو کرے گا میرے اوپر” وہ انتہائی پریشان تھے
“اس بے غیرت کو بتا دیا ہے ؟؟؟”
“بتا دوں گی… ” وہ نخوت سے بولی تھی
………………………….
جاری ہے