Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

“امی اس نے مجھے تھپڑ مارا…. ” رو رو کر روحاء کا برا حال تھا, وہ جس حالت میں میکے واپس آئی تھی, کوکب اور ساجد مغل تو ششدر رہ گئے تھے
رو رو کر سرخ سوجی ہوئی آنکھیں, چہرے اور بازوؤں پر بربریت کے نشان… اور اجڑا ہوا سا حلیہ
“اس نے مجھے تھپڑ مارا… ایک بار نہیں, دو بار نہیں… بار بار… امی اس نے زیادتی کی ہے میرے ساتھ… ” روحاء کی سانس اٹکنے لگی تھی
“تمہیں وہاں جانا ہی نہیں چاہیے تھا, چپ چاپ میرے ساتھ گھر واپس آ جاتیں, پھر ہم لوگ خود ہی دیکھ لیتے…مجھے تو اس کے لحجے سے ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ دماغ سیٹ ہی نہیں ہے اس کا… ” سعد نے اس کے گرد اپنی گرم شال لپیٹ کر اسے خود سے لگایا تھا, روحاء کا وجود تھر تھر کانپ رہا تھا, مرحہ کو عفراء اندر لے گئی تھی
“وہ شخص ساری زندگی میرا نہیں ہو سکے گا… وہ انہی کا ہے, وہ انہی کی سنتا ہے, پوری طرح قابو کیا ہوا ہے انہوں نے اسے…ان کی خاطر مجھ پر ہاتھ اٹھایا اس نے… ” چیخ چیخ کر اس کا برا حال تھا
“اچھا بس کر میری بچی…. چل اٹھ اپنے کمرے میں چل, اتنی سردی ہے اوپر سے” کوکب نے نہ جانے کیسے اپنے آنسو روک کر رکھے ہوۓ تھے
“میں واپس نہیں جاؤں گی ابو…. کسی بھی صورت نہیں جاؤں گی, نہیں رہنا مجھے اس کے ساتھ, کچھ بھی ہو جاۓ, نہیں جانا واپس… امی مجھے اس سے طلاق لینی ہے بس… ” وہ اس بار اٹل تھی
“سعد… وہ شخص اس گھر کی دہلیز سے اندر نہیں آۓ گا… میں اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی پلیز… ” وہ اس کے ساتھ لگ کر بلک بلک کر روئی تھی
“میں بھلا واپس بھیج رہا ہوں تمہیں… ؟؟؟ چپ کرو, وہ دیکھو مرحہ بھی رونے لگ گئی ہے, چلو اسے دیکھو …اٹھو شاباش” سعد نے اس کا سر تھپتھپاتے ہوۓ کہا تھا
………………………..
وہ بے دم ہو کر اپنے باپ کی دہلیز پر آ گری تھی, دروازہ خباب نے کھولا اور اسے یوں بے جان پڑے دیکھ کر ساکت رہ گیا
“مبرا…. ” اس کی آواز سن کر عابدہ اور حسیب خان دوڑے آۓ تھے, وہ اکڑی پڑی تھی, اور ہوش کھوتی جا رہی تھی
“ابو… مجھے ہسپتال….. ہسپتا….. ” لفظ دم توڑنے لگے
“ابو گاڑی نکالیں… ” خباب نے اسے اپنے بازوؤں میں اٹھا لیا تھا
کوئی معجزہ ہی ہوتا اگر وہ اور اس کا بچہ دونوں دونوں ہی بچ جاتے… اور معجزے ہمیشہ نہیں ہوا کرتے
وہ سب آئی سی یو کے باہر کھڑے تھے, نرس نے حسیب خان سے پیپرز سائن کروا لیے تھے
کافی دیر بعد لیڈی ڈاکٹر باہر نکلی
“ایم سوری… آپ نے بہت زیادہ دیر کر دی انہیں لانے میں… بے بی بہت پہلے ہی ایکسپائر ہو چکا تھا” عابدہ نے یکدم اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی سسکی کا گلا گھونٹا تھا
“اور میری بچی ؟؟”
“وہ فی الحال بے ہوش ہیں… ذرا حالت سٹیبل ہوتی ہے تو روم میں شفٹ کر دیتے ہیں… میں صرف پیشنٹ کی سیریس صورحال دیکھ کر رک گئی…. ورنہ یہ پولیس کیس تھا… ” وہ کہہ کر چلی گئی, عابدہ کی سسکیاں اور آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے, حسیب خان الگ کھڑے رو رہے تھے
خباب کبھی ماں کو سنبھالتا اور کبھی باپ کو دلاسہ دیتا… وہ خود بھی تو ٹوٹ گیا تھا
صبح تک اسے روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا, کچھ دیر بعد اسے ہوش آ گیا
“انہیں فوری طور پر کچھ کھلائیں… کمزوری بہت زیادہ ہے, پھر ڈرپس وغیرہ لگاتے ہیں… ” ڈاکٹر کہہ کر چلی گئی تھی, زوہیب بھی رات ہی ملتان سے بھاگا آیا تھا
حنا نے اسی کے ہاتھ یخنی بنا کر بھیجی
“امی… میرا بچہ ؟؟؟؟” وہ پوچھ رہی تھی اور عابدہ کے پاس جواب میں صرف سسکیاں تھیں
“تیری جان سے زیادہ اہم اور کچھ نہیں ہے مبرا…. اللہ پھر دے دے گا اولاد, اٹھ میرا بچہ… پتہ نہیں کب سے بھوکی ہے, اٹھ کے کچھ کھا میرا شیر بچہ…. ” حسیب خان نے اسے اپنے سہارے سے ذرا سا اونچا کیا تھا
“ابو…. ایم سوری, ایم سوری…. ” وہ ان کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی, عابدہ دوسری طرف بیٹھی اپنے آنسو پونچھ رہی تھیں
“بس میرا بیٹا…. بس کر”
“مجھے معاف کر دیں ابو…. میں نے بس اپنا گھر بسانا چاہا تھا…. اپنا گھر بچانا چاہا تھا” وہ سنبھل نہیں پا رہی تھی
…………………………..
مروان شرمندگی سے سر جھکاۓ ان کے سامنے کھڑا تھا
کاشف مرزا نے اس کی بہت بے عزتی کی تھی
“میں نے کہا تھا نا مروان…. کہ عورت سے برداشت نہیں ہوتا کہ اس کا شوہر کسی اور کے اشاروں پر ناچے, تو نے اپنے ہاتھوں سے اپنا گھر اجاڑ لیا, جھوٹ کیوں بولا اس سے ؟؟؟” وہ اچھا ہی گرجے تھے
“کیوں اسے تھپڑ مارا…. ؟؟؟ ” وہ انتہائی غصے میں تھے, مروان بول نا سکا
“ادھر دیکھ میری طرف بے غیرت انسان… ” انہوں نے چیخ کر کہا, مروان نے بمشکل ان کی طرف دیکھا
“گھر جا کر کیا کیا تھا اس کے ساتھ… ؟؟” انہوں نے پوچھا
“میں نے… بس سارا غصہ اس….. پر نکال…. ” مروان سے بولا نا گیا
“زیادتی کی تو نے اس کے ساتھ …؟؟؟” وہ آگے کو آۓ تھے
مروان بس سر جھکا گیا
اور ان کا تھپڑ اس کا منہ لال کر گیا
“کاش…. کاش یہ تھپڑ میں تجھے پہلے مار دیتا” وہ تاسف سے بولے تھے
“تیری بیوی تجھے سارا دن کال کر کے کہتی رہی کہ بچی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور تو اسے جھوٹ سمجھتا رہا… مروان اس سے پہلے کتنے جھوٹ بولے تھے اس نے تجھ سے ؟؟؟؟ اور پھر سب کے سامنے اسے تھپڑ مارا…. اس لئے شادی کی تھی اس سے ؟؟؟” کاشف مرزا نے اسے دوسرا تھپڑ مارا تھا
“اور تم دونوں کو شرم نہیں آتی ہر کام کے لیے اسے کہتے ہوۓ, میں نے کہا تھا نا کہ مروان سے اب کوئی کچھ نہیں مانگے گا… اپنے بچوں کی برتھ ڈے پارٹیز بھی افورڈ نہیں کر سکتے تمہارے شوہر تو مت کیا کرو, وہ تمہارا نوکر نہیں ہے” وہ دہاڑ کر بولے تھے
زویا اور نمرہ سر جھکاۓ کھڑی تھیں
“تو نے تھپڑ کیوں مارا اسے ؟؟؟” فرحت کو اس بات کا زیادہ غصہ تھا… مروان چپ کھڑا رہا
“اور مجھ سے بھی جھوٹ بولا… میں نے کہا کہ اسے جا کر لے آ تو کیوں نہیں لیکر آیا اسے ؟؟؟” وہ زور سے بولے
“مجھے سب نے منع کر دیا تھا… ” وہ پہلی بار بولا
“ابو میں کیا کرتا… ؟؟؟ ابھی کالج پہنچا ہی ہوں تو نمرہ بھابھی کی کال آ گئی کہ عفان کا برتھ ڈے ہے… حالانکہ میں نے مارکیٹ لے جانے سے منع نہیں کیا لیکن انہوں نے نعمان بھائی کو فون کر دیا… وہ الگ سے مجھے اتنا بولے, اوپر سے آۓ روز کی شاپنگ…. ابو رابعہ کے کپڑے, بچوں کے کپڑے, زویا اور نمرہ بھابھی کے کپڑے, جوتے, برتھ ڈے کا سامان… مجھے غصہ بھی نا آۓ… ” وہ یکدم ہی پھٹ پڑا
“تو ان کا غصہ اس پر کیوں نکالا ؟؟؟ تیرے منہ میں زبان نہیں ہے کیا ؟؟؟ انکار نہیں کر سکتا ” وہ بولے
“ابو کیسے کروں انکار… اور کسے کروں انکار ؟؟؟ رابعہ کو… ؟؟؟ میرے سر ہو کر اس نے گاڑی بکوا دی… اب خود تو اپنے شوہر کے ساتھ خوش ہے لیکن میں… ” وہ رابعہ کو دیکھتے ہوۓ بولا
“اس نے کہا تھا تجھے گاڑی بیچنے کا ؟؟؟” کاشف مرزا کو یہ بھی نہیں پتہ تھا, رابعہ سر نا اٹھا سکی
“ابو خدا کا واسطہ… ایک بار چلیں میرے ساتھ… “لیکن کاشف مرزا نے اس کی بات کاٹ دی
“میں اور فرحت کہیں نہیں جائیں گے… بہت ہو گیا, مروان تو چھوٹا سا بچہ تھا کہ تجھے سمجھانا پڑتا کہ گھر کیسے بچاتے ہیں ؟؟؟ سب کے سامنے تو نے اسے تھپڑ مارا ہے… زیادتی کی ہے اس کے ساتھ… میں کہیں نہیں جاؤں گا” انہوں نے ہاتھ کھڑے کر دیئے تھے
…………………………
اسے ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا تھا, ابھی تک کسی نے اس سے کچھ نہیں پوچھا تھا, شعیب بھی آ گیا تھا
اور مبرہ اس کے ساتھ لگ کر اسقدر روئی تھی کہ حد نہیں… اور وہ باپ جیسا شفیق بڑا بھائی اس کے ساتھ مل کر رویا تھا
عصر کا وقت تھا جب اسے گھر واپس لے آۓ… حنا تو اسے دیکھ کر حیران تھی
وہ کیا ہوا کرتی تھی اور کیا بن گئی تھی… ؟؟؟
عابدہ نے اسے نیچے اپنے کمرے کے ساتھ والا کمرہ سیٹ کروا دیا تھا
مغرب کے بعد عابدہ اس کے لئے پھر سے یخنی بنا لائیں
“امی مجھے الٹی آتی ہے اسے پیتے ہوئے… ” نقاہت سے اس کا برا حال تھا
“مبرا بچے تھوڑی سی پی لے… جان کیسے آۓ گی پھر ؟؟؟” عابدہ نے اسے زبردستی دو, چار چمچ پلاۓ تھے
حسیب خان ایک طرف کرسی پر بیٹھے تھے, شعیب نے اسے اپنے حصار میں لیا ہوا تھا, خباب اس کی پائنتی کی طرف عابدہ کے ساتھ بیٹھا تھا, حنا اور زوہیب دیوار کے ساتھ کھڑے تھے
“ہوا کیا تھا ؟؟؟” شعیب نے بہت محبت سے پوچھا اور یکدم ہی اس شام کا سارا منظر اس کی آنکھوں میں گھوم گیا
لمحوں میں اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئی تھیں
“اس نے دوسری شادی کر لی…. ” آنسو بھل بھل کر کے بہہ نکلے تھے, سارا گھر ششدر رہ گیا
“شعیب بھائی میں مانتی ہوں غلطی میری تھی… میں نے کسی کی نہیں سنی, مجھے سب نے سمجھایا تھا کہ… وہ اچھا انسان نہیں ہے لیکن… ” وہ ذرا سا رکی
“اس نے مجھے کہا کہ میں نے ماضی میں بہت غلطیاں کی ہیں لیکن اب میں سدھر گیا ہوں… میں اپنی پچھلی ساری خطاؤں پر شرمندہ ہوں, اس نے مجھ سے بس ایک موقع مانگا تھا شعیب بھائی اور… میں مانتی ہوں کہ اسے ایک موقع دینا ہی میری سب سے بڑی غلطی تھی, میں مانتی ہوں کہ میں نے ضد کی, میں اڑ گئی تھی, میں نے چناؤ کا اختیار اپنے ہاتھ میں لیا… اور میں مانتی ہوں کہ مجھے اس کے بعد شکوہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں تھا, شعیب بھائی مجھ پر کسی نے ظلم نہیں کیا… میں نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا, خود اپنے لیے گڑھا کھودا… ” وہ روتی جا رہی تھی
“امی اس نے کہا کہ اسے میں کبھی بھی اچھی نہیں لگی, اسے میری شکل ہی اچھی نہیں لگتی, مجھ میں آخر تھا ہی کیا ؟؟؟ اس نے صاف کہہ دیا کہ اسے بس ایک کمانے والی نوکرانی چاہئے تھی جو اسے بیوی کے روپ میں مل گئی… امی میں نے صبح سے لیکر شام تک اس کے گھر جانوروں کی طرح کام کیا ہے, کما کر بھی دیا, پکا کر بھی دیا, کپڑے دھوۓ, استری کر کے دیئے, ہر ضرورت پوری کی, شادی کی رات ہی اس نے باقی کا حق مہر معاف کروا لیا… اور میں نے کر دیا کیونکہ میرے لئے ولید زیادہ اہم تھا, شادی کے ایک ہفتے بعد ہی مجھ سے اپنا والا زیور واپس لے لیا, وہ بس ایک دکھاوا تھا… اور میں نے واپس کر دیا کیونکہ میرے لئے ولید زیادہ اہم تھا, شادی کے بعد سے میرا ATM کارڈ اسی کی جیب میں رہا اور میں نے سوچا کہ کوئی بات نہیں… ولید اور میں کونسا الگ ہیں, مجھے بتاۓ بغیر اس نے میرے زیور پر لون لیا اور مجھے بتاۓ بنا اسے بیچ دیا, امی اس نے سرکاری نوکری محض سفر کی وجہ سے چھوڑ دی اور مجھے جان بوجھ کر اتنی دور پھینک دیا, مجھ سے زبردستی گاڑی لیز کروائی, میں نے پتہ نہیں کہاں کہاں سے اسے ادھار لے لے کر دیا… اور پھر وہی گاڑی مجھے بنا بتاۓ بیچ دی, ابو میں نے سارے گھر کا خرچہ اٹھایا, اس کی بہنوں کو کیا کچھ نہیں دیا…. اس کے ماں باپ کو میں ہی کپڑے بنا کر دیتی تھی, اس نے ہمیشہ میری سیلیری پر عیش کی… میں پائی پائی کو ترس جاتی تھی امی… کالج میں گاؤن پہننا شروع کر دیا کہ کپڑے نہیں تھے, ایک کینوس شوز میں گرمی, سردی گزار دی, خدا کی قسم امی میں نے اپنے بیگ کو دس دفعہ سیا ہے… ” وہ بلک بلک کر رو رہی تھی اور ہر آنکھ پر نم تھی, یہ سارے انکشافات ان کے لئے بالکل نئے تھے
“لیکن اتنا سب کچھ کرنے کے باوجود میں اس کے لئے پیر کی جوتی ہی رہی, شعیب بھائی وہ مجھے جانوروں کی طرح مارتا تھا… ” اس نے شعیب کے سینے میں منہ چھپاتے ہوئے کہا
“اس نے تجھے مارا ؟؟؟” شعیب دنگ تھا
“تھپڑ, مکے, ٹھڈے, بیلٹیں, تاریں, رسیاں… کوئی گھر میں رکھے جانوروں کو بھی ایسے نہیں مارتا جیسے اس نے مجھے مارا… اس کی وجہ سے میں نے دو بار اپنا بچہ کھو دیا…. اور” اسے ہچکی بندھ گئی تھی
عابدہ میں تو جیسے جان ہی نہیں بچی تھی, حسیب خان دم بخود اسے دیکھ رہے تھے, خباب اور زوہیب آنسوؤں سے رو رہے تھے, شعیب کی ساری شرٹ اس کے آنسوؤں نے گیلی کر دی تھی
“اس نے مجھ سے زیادتی کی شعیب بھائی… بار بار… ہزار بار…. اس نے پوری پوری رات میرے ساتھ زیادتی کی ہے” وہ روۓ جا رہی تھی
“…. اور میں نے یہ سب برداشت کیا… میں شائد ساری عمر یہ سب برداشت کر لیتی صرف اسلیے کہ وہ میرا چناؤ تھا, وہ میری پسند تھا, اسے میں نے چنا تھا, میں شائد کبھی آپ کی دہلیز پر نا آتی اگر…. وہ صرف میرا بن کر رہتا… میں نے اسے بس اتنا کہا تھا ابو کہ میں نے اس کا ہر ظلم اور ہر زیادتی صرف اسلیے برداشت نہیں کی تھی کہ ایک دن وہ مجھے پیر سے اتار کر کسی اور کو پہن لے” وہ بولی
“مبرا… بچے تو بتاتی تو سہی… ؟؟؟” عابدہ ڈھے سی گئیں
“کیسے بتاتی… ؟؟؟ آپ آگے سے یہ نا کہتیں کہ… تجھے منع کیا تھا نا… ؟؟؟ امی سب یہ ہی کہتے کہ تجھے منع کیا تھا نا…؟؟؟” وہ پھر روئی تھی, شعیب نے اسے اپنے مضبوط بازوؤں کے حصار میں لے لیا
“بس میرا بیٹا…. بس کر دے” وہ بولا
“امی وہ کچھ بھی کر لیتا…. دوسری شادی تو نا کرتا… ؟؟؟ اسے آخر کمی کیا تھی ؟؟؟” اسے بے انتہا دکھ تھا
“مبرا… ہم آج بھی تیرے ساتھ ہیں بیٹے… ہم ہمیشہ تیرے ساتھ ہیں” حسیب خان نے اپنے انسو صاف کرتے ہوئے کہا تھا
“شعیب بھائی میں نے اسی رات مبرا کا میڈیکل بھی کروا لیا تھا… مجھے حقیقت بات نہیں پتہ تھی ورنہ اس حرامزادے کے خلاف اسی رات ایف آئی آر کٹوا دیتا… ” خباب نے کہا
“خباب ابھی بھی دیر نہیں ہوئی… گاڑی نکال, ابو آئیں ذرا تھانے چلتے ہیں, اس خبیث کے دن تو پورے ہو گئے بس” شعیب نے کہا اور مبرا کی طرف مڑا
“مبرا… بچے ابھی بھی فیصلہ تیرے ہاتھ میں ہے… جیسے تو کہے گی ویسے ہی ہو گا, اگر اس سے خلع لیکر اسے چپ چاپ معاف کرنا ہے تو بھی ہم تیرے ساتھ ہیں اور… اگر بدلہ لینا ہے تو بھی ” شعیب نے کہا تھا, سب اسے ہی دیکھ رہے تھے
“اسے میری زندگی برباد کرنے کا کوئی حق نہیں تھا…. کبھی بھی نہیں… بھلے ہی وہ میرا چناؤ تھا, بھلے ہی میں نے اس سے محبت کی تھی, بھلے ہی میں نے سب کچھ اپنی مرضی سے برداشت کیا لیکن…. پھر بھی… میں اس کی بیوی تھی… ” اس نے پہلی بار اتنے مضبوط لحجے میں کہا تھا
………………………..
روحاء کو میکے گئے ایک ہفتہ ہو گیا تھا, اور اس نے مروان کو ہر جگہ بلاک کر دیا تھا, وہ کسی بھی نمبر سے کی جانے والی اس کی کال ریسیو کرتے ہی بلاک کر دیتی تھی
اکیلے ساجد مغل کے گھر جانے کی اس کی ہمت ہی نا پڑی, کئی بار اس نے سوچا کہ سعد سے مل کر آۓ لیکن پھر اس کی نظروں کے سامنے روحاء کی وہ ادھڑی ہوئی حالت آ جاتی… اور اس کا سارا حوصلہ جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا
اسے بری طرح اپنے کئے کا پچھتاوا ہو رہا تھا, وہ جانتا تھا کہ روحاء نے اپنے گھر والوں کو سب کچھ بتایا ہو گا, اور ظاہر ہے یہ سب جاننے کے بعد وہ اس کی بات بھی کیوں سنیں گے ؟؟؟
دو دن بعد اس نے پھر کاشف مرزا کی منت سماجت کی تھی, اسے رہ رہ کر اپنی بچی یاد آ رہی تھی اور روحاء… روحاء کے بنا کیسے رہتا وہ ؟؟؟
وہ رو ہی پڑا تھا
“ابو اللہ کا واسطہ… مجھ سے غلطی ہو گئی, میرے سر پر شیطان سوار ہو گیا تھا, پلیز میرے ساتھ چلیں… ابو پلیز “
“میں کس منہ سے جاؤں ان کے گھر…. ؟؟؟ کیا کہوں جا کر ان سے… ؟؟؟” کاشف مرزا زور سے دہاڑے تھے
نعمان اور فرحان بھی آۓ ہوۓ تھے
“اپنے بھائیوں کو ساتھ لیکر جا… جن پر اندھوں کی طرح لٹاتا رہا ہے….” انہیں بے حد غصہ تھا
“ابو ہم سب ان سے معافی مانگ لیں گے…. پلیز آپ ایک بار جائیں تو سہی” فرحان نے کہا
“کاشف جانا تو پڑے گا نا…. ” فرحت نے دھیرے سے کہا
“فرحت گلہ تم سے بھی ہے, وہ بھی تو زویا اور نمرہ جیسی ہی بہو تھی نا تمہاری… پھر وہ اتنی بری کیوں تھی ؟؟؟ کیونکہ وہ کھری تھی… سچی تھی…” کاشف مرزا کی توپ کا رخ فرحت کی طرف ہو گیا
“کاشف میں نے بس اسے رابعہ کی وجہ سے ٹوکا تھا…” وہ بولیں
“مروان ایسا کر… اُس رابعہ کی بچی کو کو ہی ساتھ لیکر جا, تیرا گھر اجاڑ کر اب خود سکون سے بیٹھی ہے” وہ چنگھاڑے
“ابو اللہ کا واسطہ… مجھے مرحہ سے ملنا ہے, میں روحاء کے قدموں میں گر جاؤں گا پلیز میرے ساتھ چلیں… ” وہ رندھیائی ہوئی آواز میں بولا تھا
ناچار کاشف مرزا اور فرحت اسے لیکر ساجد مغل کی طرف آ گئے
مغرب کے بعد کا وقت تھا, دروازہ سعد نے کھولا تھا, وہ سب رات کا کھانا کھا رہے تھے, روحاء کو مروان کی شکل نظر آئی تھی
“امی اسے کہیں یہاں سے چلا جاۓ, یہ اس کے باپ کا گھر نہیں ہے, یہاں سے چلا جاۓ…. ورنہ میں اس کا سر پھاڑ دوں گی” وہ اسے دیکھ کر ہی بپھر گئی تھی
“روحاء مجھے معاف کر دو, میں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتا ہوں, ایم سوری, ایم سوی” مروان نے دروازے میں کھڑے کھڑے ہی اس کے آگے ہاتھ جوڑ دیئے
“یہاں سے چلے جاؤ… فوراً, بہت ہو گیا یہ تماشہ” وہ دہاڑ کر بولی تھی
“روحاء, بیٹے جاؤ اوپر, مجھے بات کرنے دو” ساجد مغل نے انہیں ڈرائینگ روم میں بیٹھنے کا کہا تھا
“ابو کوئی بات نہیں کرنی, اسے کہیں شکل گم کرے یہاں سے… بہت جلد اسے خلع کا نوٹس مل جاۓ گا” روحاء نے ساجد مغل کا بازو پکڑا تھا
“عفراء… بیٹے اسے اندر لے جاؤ” ساجد مغل نے ذرا پیچھے کھڑی عفراء سے کہا جو اسے بمشکل اندر لیکر گئی تھی
“میں بس اتنا کہوں گا کہ آپ کی بھی ایک بیٹی ہے مرزا صاحب… ” ساجد مغل نے کہا, کاشف مرزا انتہائی نادم تھے
“قسم لے لیں ساجد صاحب میں نے اس کی یہ تربیت نہیں کی, ہمارے گھر آج تک کسی نے اپنی بیوی پر ہاتھ نہیں اٹھایا ہے لیکن یہ…. ” انہوں نے مروان کی طرف دیکھا
“اس نے میرے سر میں خاک ڈال دی ہے” وہ نظریں جھکا کر بولے
“انکل مجھے معاف کر دیں, مجھ سے گناہ ہو گیا, مجھے غصہ آ گیا تھا, پلیز…. وہ میری بیوی ہے, میری بچی ہے… پلیز انکل… اسے کہیں ایک دفعہ میری بات سن لے… ” وہ ساجد مغل کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوۓ بولا تھا
“ہم بھی انسان ہیں مروان مرزا… ہمیں بھی غصہ آتا ہے, دن بھر کی ٹف روٹین سے ہم بھی اکتا جاتے ہیں… لیکن کیا غصہ آنے پر اسے بیوی پر ہی اتارنا تھا… وہ جس حالت میں یہاں آئی ہے نا… تو خدا کا شکر کر کہ ہم نے تیرے خلاف ایف آئی آر نہیں کٹوائی” سعد پہلی بار بولا تھا, کاشف مرزا تاسف سے مروان کی طرف دیکھ کر رہ گئے
“انکل اس نے اپنی بیوی کے ساتھ وہ سلوک کیا ہے جو بتانے لائق نہیں ہے… اگر ہم اس کا میڈیکل کروا لیتے تو آج یہ سلاخوں کے پیچھے ہوتا” وہ بولا
“سعد خدا کا واسطہ یار… میں شرمندہ ہوں… بہت شرمندہ… بھلے ہی جو چاہے سزا دے دو لیکن معاف کر دو… آج دو ہفتے ہو گئے ہیں مجھے اپنی بچی کی شکل دیکھے, خدا کے لئے مجھے معاف کر دو” اس نے خوب ہی دہائیاں دیں تھیں
“معاف کرنا مرزا صاحب… جب تک میری بیٹی اسے معاف نہیں کرتی تب تک میری طرف سے بھی کوئی معافی نہیں… اور وہ اسے کبھی معاف نا کرنے کا فیصلہ لے چکی ہے” ساجد مغل نے کہا تھا
……………………………
جاری ہے