No Download Link
Rate this Novel
Episode 20
وہ بھی ایسا ہی ایک دن تھا, روحاء اور مروان کی بول چال بالکل بند تھی, اب تو جیسے یہ معمول بن گیا تھا, ان دونوں میں ہی صبر کا مادہ کم ہوتا جا رہا تھا
اب تو مروان بات بے بات بحث کرنے لگا تھا, ادھر روحاء کچھ لانے کا کہتی, ادھر اسے سنانے بیٹھ جاتا
“مروان… مرحہ کے پیمپرز ختم ہو گئے ہیں…. ” روحاء نے اسے ناشتے کی ٹیبل پر بتایا تھا
“روحاء یار ویسے حد ہے تمہاری بھی, تم تو ایسے اجاڑتی ہو پیمپرز جیسے کاغذ کے ٹکڑے ہوں… ” وہ بولا
“ٹھنڈ دیکھی ہے کتنی ہے… ؟؟؟” وہ مسلسل پیشاب کرتی ہے, نا لگاؤں تو سارا بستر گیلا ہو جاتا ہے” وہ بولی
“تمہیں نا دراصل عادت ہو گئی ہے ہر چیز کو فضول میں خرچ کرنے کی, ہاتھ کھل گیا ہے تمہارا, روحاء یار ایک سیلیری ہی تو ہے میری, اس میں بھی آۓ روز تمہاری فرمائشیں…. ” وہ نہ جانے کس بات پر تپا پڑا تھا
“مروان کونسی فرمائشیں کر دی ہیں میں نے آپ سے… ؟؟ اپنے لیے کچھ مانگا ہے تو بتائیں, اب بچی کے اخراجات نہیں ہوں گے کیا ؟؟؟” وہ تڑخ پڑی
“آہستہ بولا کرو… ” مروان نے سے آنکھیں دکھائیں تھیں
“اور آپ بھی اپنا لحجہ بدل لیں تھوڑا, اپنی ذاتی ضروریات انتہائی محدود کر لی ہیں میں نے کیونکہ آپ سو سو باتیں سناتے ہیں مجھے کوئی چیز لا کر دیتے ہوۓ, لیکن مرحہ کے معاملے میں میں کوئی کمپرومائز نہیں کروں گی سمجھے… ابھی ایک اور آ جاۓ گا, پھر کیا کریں گے آپ ؟؟؟ مجھے تو زندہ ہی دفن کر دیں گے” روحاء کو غصہ آ گیا
“میرا دماغ نا کھاؤ… ” وہ کلس کر اٹھ گیا
“اب یاد سے گھر جلدی آ جانا, مرحہ کو چیک اپ کے لئے لیکر جانا ہے, پرسوں سے چھاتی جکڑی ہوئی ہے اس کی” روحاء نے اس کے پیچھے سے ہانک لگائی تھی
وہ سٹھ مارے نکلتا چلا گیا
کالج پہنچا ہی تھا کہ اسے نمرہ کی کال آ گئی
“مروان… کالج ہو ؟؟؟”
“جی بھابھی ؟؟؟”
“آج عفان کا برتھ ڈے ہے… صبح سے تمہیں یاد کر رہا ہے, یہ سن لو اس کی بات ” اس نے موبائل عفان کو پکڑا دیا
“چاچو ہیپی برتھ ڈے تو کہہ دیں…. ” وہ روٹھا ہوا تھا
“اوہو…. مجھے تو یاد ہی نہیں رہا, ہیپی برتھ ڈے عفان میرا بچہ” مروان ہنستے ہوئے بولا
“چاچو اب آپ ذرا جلدی گھر آ جانا, ہم نے مارکیٹ جانا ہے, برتھ ڈے کی چیزیں لینی ہیں اور… کیک بھی آرڈر کرنا ہے” عفان کہتا چلا گیا
“عفان میں ذرا مصروف ہوں بیٹے…”
“کیا یار چاچو… ایسے تو ناکریں ؟؟؟” وہ بچہ فل سکھایا پڑھایا ہوا تھا
“اچھا میں دیکھتا ہوں…. “
کچھ ہی دیر بعد اسے نعمان کی کال آ گئی
“عفان کو کیا کہا تو نے ؟؟؟” وہ ذرا غصے میں تھا
“بھائی میں نے تو کچھ بھی نہیں کہا… “
“مروان یار اگر اس نے مارکیٹ جانے کا کہہ بھی دیا تو پھر کیا ہو گیا ؟؟؟ میں یہاں ہوتا تو بھلا وہ تجھے کیوں کہتا, کب سے روۓ جا رہا ہے وہ” نعمان نے کہا
“بھائی میں نے کونسا منع کیا تھا ؟؟؟”
“وہ بچہ ہے مروان…. حامی بھر لیتا تو کیا تھا, اس کا دل رہ جاتا”
“اچھا بھائی میں لے جاؤں گا اسے مارکیٹ ” مروان نے یہ ہی کہنے میں عافیت جانی
“نمرہ اور باقی بچوں کو بھی لے جانا, رابعہ کو بھی ساتھ ہی لے جانا, انہوں نے گفٹ وغیرہ لینے ہیں, پیسے میں آ کر دے دوں گا” نعمان نے کہا
“اچھا بھائی… ” اس نے دھیرے سے کہتے ہوئے کال کاٹ دی, اسے بھی پتہ ہی تھا کہ. کتنے پیسے ملنے تھے اسے
بارہ بجے کے قریب وہ گھر گیا تھا
“چاچو میں ناراض ہوں آپ سے ؟؟؟” عفان کا منہ پھولا ہوا تھا
“نمرہ بھابھی میں نے آ ہی جانا تھا نا… آپ نعمان بھائی کو کال نا کرتیں… ؟؟؟” اس نے شکوہ ضرور کیا
“میں نے کہاں کی ہے… اس نے خود ہی نعمان کا نمبر ملا لیا کہ میں پاپا سے کہتا ہوں آ کر مجھے مارکیٹ لیکر جائیں ” نمرہ نے عفان کے سر پر ایک چپت لگاتے ہوئے کہا تھا
کچھ ہی دیر میں نمرہ, زویا اور رابعہ تینوں تیار ہو گئیں
“آپ سب نے کیا کرنا ہے وہاں جا کر, گفٹس میں خود ہی خرید لاؤں گا… اوپر سے گاڑی بھی نہیں ہے ” وہ بولا
“میں نے ایک سوٹ لینا ہے… برتھ ڈے پر کیا پہنوں گی ؟؟؟” رابعہ نے کہا
“مروان میں نے بھی بچوں کے کپڑے لینے ہیں… روز روز تو نہیں جایا جاتا نا مارکیٹ ” زویا نے کہا
“مروان کسی سے گاڑی لے لو نا… ” رابعہ نے کہا, وہ ناچار ایک دوست سے گاڑی مانگ کر ان سب کو مارکیٹ لے آیا
دوسری طرف مرحہ کی طبیعت زیادہ بگڑ گئی تھی, اسے تیز بخار کے ساتھ الٹیاں بھی شروع ہو گئیں, شائد اسے ٹھنڈ لگ گئی تھی
روحاء نے مروان کو کال کی تو صد شکر کے اس نے اٹھا لی
“ہاں روحاء ؟؟؟”
“مروان جلدی آ جائیں, مرحہ الٹیاں کرنے لگ گئی ہے” وہ بولی
“صبح تو بالکل ٹھیک تھی وہ ” مروان نے کہا
“اب بخار ہو گیا ہے ” وہ بولی
“اچھا میں آتا ہوں… صبر کرو” اس نے کلس کر کال کاٹ دی
“کیا کہہ رہی تھیں بیگم صاحبہ ؟؟” رابعہ نے پوچھا
“کہ رہی ہے مرحہ کو بخار ہو گیا ہے, حالانکہ صبح تو بالکل ٹھیک تھی” وہ گاڑی چلا رہاتھا
“مروان کہیں اسے پتہ تو نہیں چل گیا کہ تم ہمیں مارکیٹ لیکر جا رہے ہوں ؟؟؟” زویا نے کہا
“اسے کیسے پتہ چلے گا بھلا ؟؟؟”
“اسے بتانا بھی مت مروان, بہت غصہ کرے گی تم پر, اس سے نہیں برداشت ہوتا تمہارا ہماری اتنی فیور کرنا, بالکل نا بتانا, اور اگر تم مایینڈ نا کرو تو عفان کے برتھ ڈے پر بھی بس تم ہی آ جانا…. اسے رہنے دو, ایویں بد مزگی کرے گی” زویا کہتی چلی گئی
“ہاں مروان… زویا بھابھی بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں, اسے کہاں برداشت ہوتا ہے تمہارا ہم لوگوں پر خرچ کرنا, سو سو سوال کرے گی کہ یہ کس نے خریدا… یہ کس نے خریدا؟؟؟ اسے بتانا ہی مت, بس کوئی بہانہ بنا کر آ جانا رات کو” رابعہ بھی اس کی ہم خیال تھی
“اور مروان پتہ نہیں مرحہ کو بخار ہوا بھی ہے یا ایویں ہی کہہ رہی ہے, تمہیں ٹیسٹ کرنے کے لیے کہ تم کہاں ہو ؟؟؟ چاہے موبائل میں بچوں کی آوازیں سن لی ہوں” نمرہ نے ایک نیا نقطہ نکالا تھا
مروان بس چپ چاپ سب کی سنتا رہا, اس کا بھی یہ ہی خیال تھا کہ مرحہ صبح تو ٹھیک تھی پھر ایک دم اسے کیسے بخار ہو گیا ؟؟؟ سو وہ سیدھا انہیں مارکیٹ لے آیا
عفان نے اپنی برتھ ڈے کی تھیم لی تھی, غبارے, موم بتیاں اور دیگر لوازمات
رابعہ نے ایک کی بجاۓ دو سوٹ لے لئے, ساتھ ایک جوتا
زویا نے تینوں بچوں کے کپڑے, جوتے, گفٹس
نمرہ نے بھی دونوں بچوں کی شاپنگ کی
سارا بل مروان کی جیب سے… اب بھلا وہ کیسے کہتا کہ بل ادا کریں
“مروان میں گھر جا کر دیتی ہوں تمہیں پیسے ؟؟؟” اس کی شکل دیکھ کر زویا نے بس اتنا کہا تھا
اس نے چپ چاپ بل ادا کر دیا
مرحہ کے پیمپرز بھول ہی گیا تھا
دوسری طرف مرحہ کا بخار تیز ہوتا جا رہا تھا, اتنی سردی میں اب روحاء کیا کیا جتن کرتی… ؟؟؟ پہلے اس نے سوچا کہ سعد کو کال کر کے بلا لے لیکن پھر رک گئی, وہ ضرور پوچھتا کہ مروان کہاں ہے ؟؟؟
اور اسے کچھ پتہ نہیں تھا کہ مروان کہاں ہے ؟؟؟
اس نے پھر اسے کال ملائی جو مروان نے سنی ہی نہیں, وہ مسلسل کرتی رہی, جواباً بس ایک میسیج آ گیا
“تھوڑی دیر تک آتا ہوں… “
روحاء بس کلس کر رہ گئی
نمرہ اور زویا کی باتوں کے زیر اثر وہ کالج کے بعد بھی گھر نا گیا, سیدھا اکیڈمی چلا گیا
تھوڑی دیر بعد نمرہ کی کال آ گئی کہ کیک آرڈر کر دو, اس نے کیک آرڈر کر دیا, ساتھ جو جہان کے لوازمات…. پیزہ, زنگر, پراٹھا رول, کولڈ ڈرنکس
مروان کا سارا بجٹ تہس نہس ہو گیا تھا, اب زبان سے تو نہیں کہہ سکتا تھا بس اندر ہی اندر کڑھے جا رہا تھا, شام کو اسے پھر روحاء کی کال آئی
“مروان مجھے پاگل سمجھا ہے کیا ؟؟” وہ اس پر برس پڑی
“روحاء پاگل تم نے مجھے بنایا ہوا ہے, کیا تکلیف ہے تمہیں ؟؟؟” وہ زور سے چیخا
“مرحہ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے…. ” روحاء بھی چیخ پڑی تھی
“تمہارے سارے ڈرامے مجھے اچھی طرح پتہ ہیں, صبح تو بالکل ٹھیک تھی وہ, اب دن چڑھتے ہی اسے بخار ہو گیا, سارا دن مجھے سکون کا سانس نہیں لینے دیا تم نے, کال پہ کال…. نوکری چھوڑ کر تمہارا ڈرائیور بن جاتا ہوں میں, پیسے بھی چاہیں, عیاشیاں بھی کرنی ہیں اور لوازمات بھی سارے پورے ہوں…. خود لے جاؤ اسے ڈاکٹر کے پاس, ویسے تو سارے شہر کا پتہ ہے تمہیں… ” مروان نے اس کی اچھی ہی بے عزتی کی تھی
“مروان… افسوس ہے آپ پر” وہ بس روتے ہوئے کال کاٹ گئی, مروان سر جھٹک کر اکیڈمی سے گھر چلا آیا, نمرہ اور رابعہ نے ساری ڈیکوریشن کر لی تھی, مروان کچھ دیر بعد جا کر کیک بھی لے آیا, آرڈز بھی آ گیا تھا
“روحاء کو نہیں بلایا ؟؟” فرحت نے پوچھا
“امی رہنے دیں, اس نے کلیس ہی کرنا ہے یہاں آ کر” رابعہ نخوت سے بولی
“مروان اسے پتہ چل گیا تو بہت غصہ کرے گی… جا لیکر آ اسے” فرحت نے کہا
“امی نہیں پتہ چلتا, رہنے دیں اسے, یہاں آ کر اس نے ساری خوشیوں کو ملیا میٹ کر دینا ہے, سب سے پہلے تو اسے یہ اعتراض ہو گا کہ سب کچھ مروان نے کیوں کیا ؟؟” نمرہ جلدی سے بولی
“امی… رہنے دیں اسے, فضول باتیں کرے گی” مروان خود بھی اسے لانے کے موڈ میں نہیں تھا
دوسری جانب روحاء کی جان پر بن آئی تھی, مرحہ کی طبیعت بہت زیادہ اپ سیٹ ہو رہی تھی, آنسو صاف کرتے ہوئے اس نے اسے کمبل میں لپیٹا اور خود چادر اوڑھ لی
شام کے چھ بج رہے تھے
“سعد کہاں ہو… ؟؟؟” اس نے سعد کو کال کی تھی
“گھر جا رہا ہوں… خیر ہے ؟؟؟”
“سعد مرحہ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے… اسے ڈاکٹر کے پاس لیکر جانا ہے, پلیز ذرا آ جاؤ” وہ بولی تو آنکھوں میں آنسو آ گئے
“کیا ہوا اسے ؟؟؟”
“تیز بخار ہے اور…. الٹیاں کیے جا رہی ہے” وہ بولی
“میں گھر جا کر عفراء کی گاڑی لیکر آتا ہوں, بائیک پر زیادہ ہوا لگے گی اسے, بس دس منٹ ویٹ کرو… ” سعد نے اسے حوصلہ دیتے ہوئے کہا اور گھر پہنچا, وہاں سے گاڑی نکالی اور اس کے گھر آ گیا, عفراء کو گاڑی ملی ہوئی تھی
“مروان کہاں ہے ؟؟؟ اس نے پوچھا
“خدا جانے, صبح سے کال کر کر کے تھک گئی ہوں, الٹا مجھ پر برس پڑا کہ ویسے تو سارا شہر گھومتی ہو تم اسے بھی خود ہی لے جاؤ ڈاکٹر کے پاس” وہ پھر رو پڑی
“ایسا مروان نے کہا ؟؟؟” سعد کو یقین نا آیا
“تو اور کیا ؟؟؟ سعد اسے میری باتوں پر یقین ہی نہیں آتا اب… اسے لگتا ہے میں بس جھوٹ بول رہی ہوں اس سے… ہر وقت” وہ بولی, سعد بس چپ چاپ اس کی سنتا ہوا اسے ایک چائلڈ سپیشلسٹ کے پاس لے آیا تھا
مرحہ کو ٹھنڈ ہی لگی تھی, اس کی چھاتی پر جکڑن تھی, کچھ انجیکشنز اسے وہیں لگے, پھر پانچ دن کا کورس تھا, ٹیسٹ الگ سے ہوۓ
رات کے نو بج رہے تھے جب وہ دونوں مرحہ کو لیکر وہاں سے نکلے, روحاء کو رہ رہ کر مروان پر افسوس ہورہا تھا, اس دوران ایک دفعہ بھی اس کی کال نہیں آئی تھی مطلب وہ گھر ہی نہیں آیا تھا
تو پھر وہ کہاں تھا ؟؟؟
روحاء یہ ہی سوچے جا رہی تھی
“سعد.. مروان کے ابو کے گھر جانا ہے ذرا ” وہ کچھ دیر بعد بولی
“وہاں کیا ہے اب ؟؟؟” سعد نے حیرانی سے پوچھا
“تم چلو تو سہی… بس پانچ منٹ کے لئے ” روحاء نے کہا, سعد نے چپ چاپ گاڑی اس طرف موڑ دی
روحاء نے مروان کو کال کی تھی, مسلسل کرتی رہی, آخر اس نے اٹھا ہی لی
“اب کیا تکلیف ہے ؟؟؟” اس کا پھاڑ کھانے والا لحجہ سعد نے بھی سنا تھا
“کہاں ہیں آپ ؟؟” روحاء نے پوچھا
“تھوڑا مصروف ہوں… آ رہا ہوں آدھے پونے گھنٹے تک” وہ بولا اور کال کاٹ گیا, روحاء نم آنکھوں سے موبائل سکرین دیکھتی رہ گئی, سعد نے کاشف مرزا کے گھر کے سامنے گاڑی روک دی
“سعد جاؤ… تھینک یو” وہ اسے کہتے ہوئے نیچے اتری تھی
“روحاء… میں گھر چھوڑ آتا ہوں تمہیں… یہاں کس سے ملنا ہے اب ؟؟؟” سعد نے نرمی سے کہا تھا
“مجھے مروان کے ابو سے بات کرنی ہے, ڈونٹ وری سعد کچھ نہیں ہوتا, جاؤ, امی پریشان ہو رہی ہوں گی” وہ اس کا بازو تھپتھپاتے ہوۓ دواؤں والا شاپر لیکر آگے بڑھ گئی, بیرونی دروازہ کھلا ہی تھا, وہ مرحہ کو اٹھاۓ اندر آ گئی
سعد نے گاڑی ریورس کر لی تھی
روحاء جیسے ہی لاؤنج میں داخل ہوئی, یکلخت ٹھٹھک گئی, پورے لاؤنج میں ہنسی اور مسکراہٹیں بکھری ہوئی تھیں, ہر طرف غبارے, روشنیاں, سامنے ٹیبل پر کیک… تحائف کا انبار
مروان نے عفان کو گود میں اٹھایا ہوا تھا اور عفان اسے کیک کھلا رہا تھا
سب اسے دیکھ کر ساکت ہوۓ تھے, مروان کو جھٹکا سالگا تھا
“آج ثابت ہو گیا کہ آپ کے لئے کون اہم ہے مروان ؟؟؟” اس کے لحجہ سے صدمہ ٹپک رہا تھا
“چچی دیکھیں…. آج میرا برتھ ڈے ہے… اور مروان چاچو نے یہ سب خرید کر دیا مجھے, اور سب کے لئے گفٹس بھی خریدے… ” عفان مسرت سے کہتا چلا گیا
روحاء نے ایک زخمی سی نظر مروان پر ڈالی تھی
“روحاء میری بات سنو…. ” مروان اس کی طرف آیا تو وہ دو, چار قدم پیچھے لے گئی
“یار عفان کا برتھ ڈے تھا تو…. ” روحاء نے اس کی بات کاٹ دی
“مجھ سے جھوٹ کیوں بولا ؟؟؟” اس کا لحجہ انتہائی سرد تھا
“میری بات سنو… ” وہ ابھی بولا ہی تھا کہ روحاء نے ہاتھ کھڑا کر دیا
“صبح سے تمہاری بچی کو بخار ہے مروان مرزا… صبح سے چھ بار الٹی کی ہے اس نے اور صبح سے سو بار کال کر چکی ہوں میں تمہیں…. کہ آ جاؤ, آ جاؤ… اور تم یہاں برتھ ڈے سیلیبریشنز میں مصروف تھے…”وہ سارے آپ جناب بھول گئی تھی
“روحاء… سنو یار… ” مروان نے مصالحت آمیز انداز سے کہا لیکن روحاء کی بس ہو گئی تھی
کاشف مرزا بھی وہیں تھے اور گھر والوں کے دباؤ ڈالنے پر مروان نے انہیں کہہ دیا تھا کہ روحاء کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ورنہ وہ بضد تھے کہ روحاء کو لیکر آؤ
اور اب اسے اپنے سامنے اسے دیکھ کر وہ بھی خشمگیں نظروں سے مروان کو دیکھ رہے تھے
“جھوٹ کیوں بولا ؟؟” وہ چیخ کر بولی
“روحاء کیا ہوا بچے ؟؟؟” کاشف مرزا آگے کو آۓ تھے
” انکل آپ مجھ سے نہیں… اپنے بیٹے سے پوچھیں کہ کیا ہوا ہے…؟؟” روحاء کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے تھے
“صبح سے میری بچی کو بخار ہے اور میں صبح سے کوئی سو مرتبہ اس آدمی کی منت کر چکی ہوں کہ آ کر اسے ڈاکٹر کے پاس لے جاؤ اور اس نے منہ پھاڑ کر مجھے کہہ دیا کہ تمہیں بھی تو سارے شہر کا پتہ ہے… تم خود لے جاؤ” روحاء نے چیخ کر کہا تھا, کاشف مرزا نے تاسف سے مروان کی طرف دیکھا
“سب پتہ ہے مجھے مروان… یہ سارا کھیل کس کا رچایا ہوا ہے…؟؟؟ یہی کہا گیا ہے نہ تمہیں کہ روحاء تو بکواس کرتی ہے… ہر پل جھوٹ بولتی ہے تم سے, اپنی انگلیوں پر نچا رکھا ہے اس نے تمہیں… تم ڈرائیو کر رہے تھے جب میں نے تمہیں کال کی تھی… مروان تم ان سب کو مارکیٹ چھوڑ کر بھی گھر آ سکتے تھے… ہمیں ڈاکٹر کے پاس کتنا ٹائم لگتا…؟؟؟” تم بھلے ہی میری بلا سے دس برتھ ڈے پارٹیز اٹینڈ کرتے… لیکن ایک بات میری بات مان کر میری بچی کو ڈاکٹر کے پاس لے جاتے…” وہ روتے ہوئے کہتی چلی گئی
“روحاء میری بات سنو…” مروان آگے کو آیا تھا
“نہیں تم میری بات سنو…” وہ اپنی پوری قوت سے چیخی
“تم سارے مرد ایک جیسے ہوتے ہو… تمہیں سب کی فکر ہے مروان… تمہاری یہ بھابھیاں جو چوبیس گھنٹے تمہارا دماغ بھرتی رہتی ہیں یہ تمہارے لئے زیادہ اہم ہیں, میں تمہیں انگلیوں پر کیا نچاؤں گی…؟؟؟ تمہاری بھابھیوں نے تمہیں کٹھ پتلی بنایا ہوا ہے… اور تم مست ہو کر ان کے اشاروں پر ناچ رہے ہو….” روحاء کی آواز پورے لاؤنج میں گونج رہی تھی
“روحاء میں آخری بار کہوں گا کہ آواز نیچی کر لو…” مروان کا سارا ضبط اور برداشت جواب دے گیا
“کیوں کروں میں آواز نیچی…؟؟؟ جرم تم نے کیا ہے مروان مرزا.. میں نے نہیں کیا” اس نے مروان کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھ کر کہا تھا
“گھر چلو…” مروان نے اس کا بازو پکڑا جو اس نے زور سے جھٹک دیا
“گھر تو میں جاؤں گی… لیکن تمہارے گھر نہیں جاؤں گی…” وہ زور سے بولی
“تمہاری بھابیاں ہیں نا تمہارا خیال رکھنے کے لئے… تم پر جان نچھاور کرنے کے لئے تو اب ساری عمر انہی کے چرنوں میں بیٹھے رہنا… ” وہ گلا پھاڑ کر بولی تھی, آنسو روانی سے بہتے جا رہے تھے
“روحاء… بس بہت ہو گیا ؟؟؟” مروان کی بس ہو گئی, اس پر لگے سارے الزامات سچ تھے لیکن وہ اپنی مردانگی کو کیسے جھکا دیتا
“وہی تو مروان… بہت ہو گیا, تم جیسے مردوں کو شادی کرنی ہی نہیں چاہیے, تمہیں چاہیے کہ بیوی کے نام پر بس ایک لونڈی خرید لیا کرو کیونکہ بیوی صرف اور صرف تمہیں اپنے نفس کی تسکین کے لئے چاہیے ہوتی ہے اور بس… بعد میں گئی بھاڑ…” اور چٹاخ کی آواز سے مروان کا تھپڑ اس کا گال رنگ گیا تھا
“مروان… ” کاشف مرزا نے سختی سے اسے تنبیہی انداز میں گھرکا
“چلو گھر… ” مروان نے سختی سے روحاء کا بازو دبوچ کر کہا ور باہر نکل گیا
“مروان… خبردار جو اسے کچھ الٹا سیدھا کہا تو… ” پیچھے ہی کاشف مرزا نے ہانک لگائی تھی, وہ بس روحاء کو گھسیٹتے ہوئے باہر نکل گیا تھا
“مجھے نہیں جانا تمہارے ساتھ….” روحاء نے تڑخ کر اس سے اپنا بازو چھڑوانا چاہا
“روحاء میرا دماغ مزید خراب نا کرنا, میں نے تھپڑوں سے منہ لال کر دینا ہے اب آواز نکلی تو… ” اس نے شعلہ بار نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بائیک سٹارٹ کی تھی
“چپ چاپ بیٹھ جاؤ… ” مروان کا انتہائی سرد تھا, روحاء بیٹھ ہی گئی
ہوا کی رفتار سے بائیک دوڑاتا ہوا وہ اسے گھر لیکر آیا تھا, روحاء جلدی سے اتر کر اندر آئی اور سوئی ہوئی مرحہ کو بستر پر لٹا دیا, پھر اس پر کمبل دے کر خاموشی سے باہر نکل آئی, مروان بائیک کھڑی کر کے اندر آیا تھا
“کیوں آئی تھیں وہاں ؟؟” مروان نے سلگتے ہوئے لحجے میں پوچھا
“میری مرضی… جہاں مرضی جاؤں, تم نے تو کہہ دیا تھا نا کہ سارے شہر کا پتہ ہے مجھے, سارا شہر گھومتی ہوں میں…. پھر تمہاری بلا سے میں جہاں مرضی جاؤں دھوکے باز انسان… ” روحاء کا گلا پھٹ گیا تھا
اور مروان کا دوسرا تھپڑ اس کا گال رنگ گیا
“ایک اور بکواس کی تو کھال کھینچ دوں گا… ہر وقت کا لڑائی جھگڑا… ہر وقت کا کلیس, زندگی برباد کر دی میری” وہ زور سے چیخا
“میری بھی زندگی جھنڈ کر دی تم نے مروان مرزا… کہیں کا نہیں چھوڑا مجھے, آۓ روز کی ذلالت… تم جیسے گھٹیا انسان کو بیوی پر ہاتھ اٹھاتے ہوئے شرم نہیں آتی… ایک تو چوری, اوپر سے سینہ زوری” روحاء نے گلا پھاڑ کر کہا تھا اور مروان کی ساری مردانگی کھل کر سامنے آ گئی
“زبان بند کر لو اپنی… سمجھیں, پتہ نہیں کونسا وقت تھا جو تم سے شادی کر لی” مروان نے اسے بالوں سے جکڑ کر جھٹکا دیا تھا اور پھر گھسیٹتے ہوئے بیڈ روم کے ساتھ والے کمرے میں لے گیا
“چھوڑ دو مجھے, تم جیسے بزدل انسان کو شادی کرنی ہی نہیں چاہیے تھی, تم جیسے مرد بیوی رکھنا ڈیزرو ہی نہیں کرتے ہو, ہر وقت جھوٹ, ہر وقت جھوٹ… زندگی اجیرن کر دی میری” روحاء مسلسل بول رہی تھی, مروان نے اسے چارپائی پر لا کر پھینکا تھا
“تمہاری زبان بند کرواتا ہوں میں… پورے گھر والوں کے سامنے میری عزت دو کوڑی کی کر دی تم نے ذلیل عورت… ” اس نے کھینچ کر اپنی شرٹ اتاری تھی
“مروان مجھے ہاتھ نا لگانا… ہاتھ نا لگانا مجھے… “روحاء نے چیخنا چاہا لیکن اس کا گلا ہی بیٹھ گیا تھا
“بکواس بند کر لو…. ” مروان نے وحشیوں کی طرح اس کے جسم پر سے قمیض نوچی تھی
“مروان… بیوی ہوں میں تمہاری… ” بے بسی کی انتہا پر اس کی آنکھوں سے آنسو نکلے تھے
“دو کوڑی کا کر دیا تم نے مجھے, ذلیل کر دیا سب کے سامنے” مروان پر جانور سوار ہو گیا تھا, روحاء کی ہر مزاحمت بیکار ہی گئی, مروان اس پر بری طرح حاوی ہوتا چلا گیا
“مروان… خدا کے لئے ” روحاء کی سسکیوں کا اس پر کوئی اثر نہیں تھا
وہ بس اسے زیر کر کے, اس کی سسکیوں کا گلا گھونٹ کر اپنے طور فاتح بن چکا تھا
………………………
اسے کالج میں کچھ کام تھا سو اس نے صبح ہی ولید کو بتا دیا تھا کہ اسے واپسی پر تھوڑی دیر ہو جائے گی, کام ختم کرتے کرتے اسے شام کے چار بج گئے
حسیب خان اس کی خاطر ابھی تک وہیں رکے ہوئے تھے, وہ فارغ ہوئی تو انہیں کال کر دی, آدھے, پونے گھنٹے بعد وہ اسے گھر کے سامنے اتار کر چلے گئے
اپنا بیگ کندھوں پر ڈالے وہ انتہائی مضمحل سے انداز سے اندر داخل ہوئی تھی
اور گیٹ کے بالکل سامنے روش پر کھڑی بلیک کورولا دیکھ کر ٹھٹھک گئی, شاید کوئی آیا ہوا تھا, اندر سے خوش گپیوں کی آوازیں بھی آ رہی تھیں
وہ دھیرے دھیرے چلتی ہوئی اندر آ گئی, اس سے پہلے کہ وہ مین دروازے سے ٹی وی لاؤنج میں داخل ہوتی, ولید کسی لڑکی کے ساتھ مسکراتے ہوئے باہر نکلا تھا
اس کے بالکل پیچھے شمیم اور اس کا سسر تھے اور سب سے پیچھے الماس… اسے اپنے سامنے دیکھ کر ایک لمحے کو تو ولید ٹھٹھک گیا
مبرہ کوئی یکدم ہی کسی انہونی کا احساس ہوا تھا, اس کی نظریں ولید کے ہاتھوں میں مقید اس لڑکی کے ہاتھوں پر جم گئیں, انتہائی بے یقین نظروں سے اس نے ولید کی طرف دیکھا
“یہ کون ہے…؟؟؟” یہ وہ جانتی تھی یا اس کا رب کہ اس نے کتنی مشکل سے یہ سوال کیا تھا
“یہ مبرہ ہے…؟؟؟”اس لڑکی نے دھیرے سے مسکراتے ہوئے ولید سے پوچھا, جس کے چہرے کا رنگ یکسر بدل گیا تھا
“ہاں… ” صرف ایک حرفی جواب
“ایک سوال میں نے بھی کیا ہے ولید…؟؟؟” مبرہ کا لہجہ سخت ہو گیا
“مبرہ تم اندر جاؤ… میں تمہیں بعد میں بتاتا ہوں” ولید نے اسے آنکھوں سے اشارہ کیا تھا لیکن وہ اپنی جگہ پر جمی کھڑی رہی
“میں نے پوچھا… یہ کون ہے…؟؟؟” اس نے ولید کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا
“میں بینش ہوں… ولید کی وائف, ایکچوئلی سیکنڈ وائف…” اس لڑکی نے ولید کے ہاتھوں پر اپنی گرفت تھوڑی اور مضبوط کی تھی
“ولید…” مبرہ حسیب خان کے لبوں سے نکلنے والی سرگوشی اس قدر ماتم کناں تھی کے ولید اسے سن بھی نہیں سکا تھا, بس اس کے ہلتے ہوئے لب ہی نظر آئے تھے
“Don’t you tell her about us…??? “
بینش نے ولید کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
“I told her, she is habitual of creating the drama you know… The Drama Queen”
ولید نے انتہائی تنبیہی نظروں سے مبرہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو نہ جانے اپنے پیروں پر کھڑی بھی کیسے تھی…
“چلو تمہیں چھوڑ آؤں ؟؟؟” ولید نے کہا
“No thanks dear… I can drive… “
بینیش نے اسے آنکھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا
“Sure…???
ولید نے پوچھا
“Yes Sure… “
وہ بولی تھی, ولید نے بڑے حق سے اس کے کندھوں کے گرد اپنے بازو سے حصار بنایا تھا, پھر اسے اپنے حصار میں لیے ہوئے گاڑی تک آ گیا, خود اس کے لئے فرنٹ ڈور کھولا, بہت محبت سے اس کی پیشانی پر اپنے لب رکھے, بینش مسکراتے ہوئے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی تھی
ولید نے اس کے لئے گیٹ کھولا اور وہ سب گھر والوں کو ہاتھ ہلاتے ہوئے گاڑی نکال لے گئی, ولید دوبارہ سے گیٹ بند کرتے ہوئے مبرہ کی طرف آیا تھا
“اتنی وحشت ناک شکل بنانے کی ضرورت نہیں ہے… میں تمہیں آج کل میں بتانے ہی والا تھا ” وہ مبرہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
“یہ تو میں نے پوچھا ہی نہیں کہ مجھے کیوں نہیں بتایا…؟؟؟” مبرہ دو قدم اس کی طرف آئی تھی
“مجھے صرف اتنا بتا دو کہ میرے ہوتے ہوئے دوسری شادی کیوں کی…؟؟؟”
جانتے ہیں میاں بیوی کے رشتے میں بہت ساری خوبصورت چیزوں میں سے ایک خوبصورت ترین چیز وہ ادب بھی ہے جو بیوی کے لہجے میں اپنے شوہر کے لئے جھلکتا ہے
مانا کہ بہت ساری بیویاں اپنے شوہروں کو تم کہہ کر مخاطب کرتی ہیں لیکن ابھی بھی ہمارے معاشرے میں ایک بڑی تعداد ان بیویوں کی ہے جو شوہر کو آپ کہتی ہیں
اور جانتے ہیں جب یہ رشتہ ڈگمگاتے ہوئے پہلی ٹھوکر کھاتا ہے تو سب سے پہلے بیوی کے لہجے سے وہ ادب غائب ہو جاتا ہے, اب بھی ایسا ہی ہوا تھا
“کہاں پر لکھا ہے کہ میں تمہارے ہوتے ہوئے دوسری شادی نہیں کر سکتا…؟؟” ولید کو کوئی شرمساری نہیں تھی
مبرہ بڑے کرب سے مسکرائی تھی.. دوبارہ پھر سے مسکرائی اور پھر مسکراتی چلی گئی
“میری ایک بات کان کھول کر سن لو ولید احمد… اب اگر تم یہ سمجھ رہے ہو نا کہ میں نے پچھلے ڈیڑھ سال جیسے تمہاری ہر زیادتی, ہر ظلم اور ہر اذیت صبر سے برداشت کر لیں… ویسے ہی تمہاری دوسری شادی بھی برداشت کر لوں گی تو خدا کی قسم یہ تمہاری بہت بڑی بھول ہے.. ” اس نے اپنے کندھے سے لٹکتا ہوا بیگ چارپائی پر پھینکا تھا
اور میں اخری بار کہہ رہا ہوں اپنا لہجہ درست کرلو…” ولید کو غصہ آیا
“آخر کمی کس چیز کی تھی…؟؟؟ بس اتنا سا سوال ہے میرا… کہ میرے ہوتے تمہیں کمی کس چیز کی تھی…؟؟؟ بتاؤ…؟؟؟” کون سی خواہش تھی تمہاری جو میں نے پوری نہیں کی…؟؟؟ کون سا کام تھا تمہارا جو میں نے ادھورا چھوڑ دیا…؟؟؟ کون سی خوشی تھی ایسی جو میں تمہیں دے نہیں سکی…؟؟؟ کون سی ضرورت تھی تمہاری جو مجھ سے پوری نہیں ہوئی…؟؟؟ بتاؤ ولید احمد میرے ہوتے ہوئے دوسری شادی کیوں کی…؟؟؟” اس نے دونوں ہاتھوں سے ولید کا گریبان جکڑ لیا تھا
“ولید اس پر ہاتھ نہ اٹھائیں..” شمیم نے زور سے کہا
“فیر کی ہویا جو دوسرا ویاہ کر لیا… مرد کر ہی لیتے ہوتے ہیں دوسرا بیاہ… تجھے تو اس گھر سے نہیں نکالا نا… نا ہی تجھے طلاق دی ہے” اس کے سسر نے کہا
تھا
“ولید احمد میرے ہوتے ہوئے دوسری شادی کیوں کی…؟؟؟” اس نے زور سے ولید کا گریبان جھٹکا تھا اور ولید کا تھپڑ اس کا گال سرخ کر گیا, وہ لڑکھڑائی تھی
لیکن اس بار لڑکھڑا کر گری نہیں تھی, دوبارہ اس کی طرف آئی تھی اور دوبارہ اس کا گریبان جکڑا تھا
“نہیں ولید احمد.. میں نے تمہارا ہر تھپڑ, ہر گالی, ہر ظلم, ہر زیادتی, آج کے دن کے لیے برداشت نہیں کی تھی…؟؟؟ مجھے صرف ایک زعم تھا کہ تم کچھ بھی ہو سکتے ہو.. لیکن بے وفا نہیں ہو سکتے, تم نے مجھے پیر کی جوتی بنا لیا ولید اور میں بن گئی… کیونکہ مجھے لگا کہ تم اپنے پیر میں میرے علاوہ اور کسی کو نہیں پہنو گے لیکن… میں بھول گئی تھی کہ تمہارے دو پیر ہیں” وہ اپنی پوری قوت سے چلائی تھی
“میں نے کہا… بکواس بند کر لو” ولید نے اسے دوسرا تھپڑ مارا, وہ لڑکھڑا کر نیچے کو گر گئی,
“ولید پتر… بس کر جا, باہر چلا جا… ایسی حالت میں نا مار اسے” شمیم نے آگے آتے ہوئے کہا
“قصور تمہارا نہیں ہے ولید احمد… قصور تمہاری تربیت کا ہے, قصور تمہاری ماں کا ہے جس نے خود تین بیٹیاں پیدا کی ہیں لیکن اسے کسی کی بیٹی کا کوئی احساس نہیں, تمہاری اس ماں نے تمہیں میرا نہیں ہونے دیا اور اس جیسی مائیں کبھی بھی اپنے بیٹوں کو بیویوں کا نہیں ہونے دیتیں…ان جیسی ماؤں کا اپنے بیٹوں کی شادیاں ہی نہیں کرنی چاہیں” وہ ایک بار پھر کھڑی ہوئی تھی
“پاگل عورت… زبان بند کر لے” ولید ایک دم شمیم سے اپنا بازو چھڑواتے ہوئے اس کی طرف آیا اور اسے زور دار تھپڑ مارا, وہ لہرا کر دیوار سے لگی تھی
“ولید بس کر جا…” شمیم نے اسے پھر روکنا چاہا
ولید کو بھلا کہاں عادت تھی اتنی بکواس سننے کی… وہ بھی مبرہ حسیب خان کے منہ سے جسے اس نے کبھی دو کوڑی کا بھی نہیں سمجھا تھا
“تم جاننا چاہتی ہو نا کہ میں نے تمہارے ہوتے ہوئے دوسری شادی کیوں کی….؟؟؟ چلو بتاؤ تمہیں کہ میں نے دوسری شادی کیوں کی…؟؟؟ ولید نے زور سے اس کا بازو جکڑا اور گھسیٹتے ہوئے اندر لے آیا
“ولید پتر رک جا… کوئی بڑا نقصان ہو جائے گا” شمیم اور الماس اس کے پیچھے ہی اندر آئی تھیں لیکن ولید کے سر پر خون سوار تھا
وہ اسے گھسیٹتے ہوئے کمرے میں لے آیا اور دروازہ بند کر دیا
“بس یہی کر سکتے ہو تم..م بس یہی کرنا آتا ہے تمہیں… بس یہی کرنے کی اوقات ہے تمہاری… بس یہی انت ہے تمہاری مردانگی کا… بس اسی قابل ہو تم…” مبرہ چپ نہیں ہو رہی تھی
ولید نے قہر بار نظروں سے اسے گھورتے ہوئے پینٹ سے بیلٹ کھینچی تھی
“جتنا میں خود کو روکتا ہوں کہ تم پر ہاتھ نہ اٹھاؤں… اتنا ہی تمہیں مار کھانے کی عادت ہو گئی ہے, جانتی ہو میں نے دوسری شادی کیوں کی…؟؟؟ کیونکہ مجھے تم اچھی ہی نہیں لگتیں , مجھے تم شروع دن سے اچھی نہیں لگیں مبرہ حسیب خان…” اس نے پے در پے مبرہ کے جسم پر نشان چھوڑے تھے
“تم ہو کیا…؟؟؟ کہاں سے تم میرے برابر کھڑے ہونے کے لائق ہو….؟؟؟ تم لیکچرار بن گئی تو تم نے سوچ لیا کہ تم مجھے پا سکتی ہو… تم صرف میرے پیر کی جوتی بننے کے قابل تھی اور میں نے بنا لیا… اور جوتیاں بات نہیں کرتیں…” وہ رک نہیں رہا تھا, شمیم اور الماس مسلسل دروازہ پیٹ رہی تھیں
“سچ یہ ہے کہ مجھے بس ایک کمانے والی لڑکی کی ضرورت تھی جو آ کر میرا اور میرے گھر والوں کا خرچہ اٹھاتی…اور اگر وہی لڑکی مجھے بیوی کے روپ میں مل رہی تھی تو میں کیوں نہ لیتا…؟؟؟ مجھے تو ڈبل فائدہ ہوا نا… گھر بھی چلتا رہا اور میرے نفس کی تسکین بھی ہوتی رہی…” وہ کہتا جا رہا تھا
اور مبرہ کو تکلیف اس کے بیلٹ سے لگنے والے زخموں کی نہیں تھی… بلکہ اس کے منہ سے نکلنے والے لفظوں کی تھی
اچانک ہی دروازہ کھل گیا, شمیم اور الماس ایک ساتھ اندر آئی تھیں
“ولید بس کر دے…” اس نے بمشکل ولید کے ہاتھ سے بیلٹ کھینچا اور اسے باہر کو دھکیلا
مبرہ کے جسم پر پہنے کپڑے سرخ ہونے لگے تھے
“خبردار جو کوئی میرے پاس آیا.. میں اپنے ہاتھوں سے اپنا گلا گھونٹ لوں گی اگر کسی نے مجھے ہاتھ لگایا…” اس نے انگلی اٹھاتے ہوئے کہا تھا
“امی اس کی زبان بند کرا…” ولید اسے شعلہ بار نظروں سے دیکھتے ہوئے باہر چلا گیا
“مبرہ پتر وہ بتانے ہی والا تھا تجھے…میں نے منع کر دیا کہ ایسی حالت میں تو ایویں پریشان ہوگی, تھوڑی دیر چپ رہ جاتی تو کیا تھا…؟؟؟ دیکھ کیسے مارا ہے اس نے تجھے…؟؟؟” شمیم نے اسے اٹھانا چاہا لیکن اس نے انگلی کھڑی کر دی
“میں نے کہا… دور ہو جاؤ…” مبرہ دہاڑ کر بولی تھی
“امی چل باہر..م چھوڑ دے اسے” الماس اسے لے کر باہر نکل گئی اور کمرے کا دروازہ بند کر گئی
مبرہ کا دل کیا دہاڑیں مار مار کر روئے لیکن… افسوس کہ آنکھوں کے پاس آنسوؤں کا ذخیرہ بھی ختم ہو چکا تھا
اس نے اپنے پھوڑے کی طرح دکھتے ہوئے جسم کو اٹھانا چاہا تو اٹھا نہیں سکی, لڑکھڑا کر دوبارہ بستر پر گر گئی اور دھیرے دھیرے اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا تھا
…………………………….
وہ اپنا سارا غصہ اور وحشت روحاء کے وجود پر نکال کر اس پر سے ہٹا تھا, روحاء کی دونوں کلائیاں پل میں نیلی ہو گئیں, چہرے اور گردن سمیت پورے جسم پر جگہ جگہ اس کے بھیڑیا بن جانے کے آثار نقش ہو گئے تھے, وہ ایک نظر اس کے ادھڑے ہوۓ وجود کو دیکھتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا
روحاء نے بمشکل کروٹ لی تھی, پورا جسم دکھنے لگا تھا, بے دریغ اس کی آنکھوں سے گرم سیال بہہ نکلا, اپنی پوری قوت جمع کرتے ہوئے وہ اٹھ کھڑی ہوئی
پیر ڈگمگا سے گئے لیکن وہ دیوار کا سہارا لیتی ہوئی باہر نکل آئی, دروازے کے عین وسط سے اس نے اپنی شال اٹھائی تھی
مروان کہیں بھی نہیں تھا, وہ بیڈ روم میں آ گئی, واش روم کا دروازہ بند تھا… وہ یقیناً اندر تھا
اس نے بے دردی سے اپنے آنسو رگڑے اور سوتی ہوئی مرحہ کو اٹھا لیا
بس ایک نظر واش روم کے بند دروازے کو دیکھا اور چپ چاپ واپس پلٹ گئی
اسی خاموشی سے وہ اس گھر کی دہلیز پار گئی تھی
……………………………
نہ جانے کتنی ہی دیر بعد اس کی آنکھ کھلی تھی, پپوٹے بڑے جتن کر کے جدا ہوۓ, بڑی مشکلوں سے اس نے اپنا آپ اٹھایا تھا, جسم اکڑ گیا تھا, خون نکل کر جم. گیا تھا, پسلیوں کی تکلیف الگ سے تھی اور وقفے وقفے سے اٹھتا ہوا درد جو جان لیوا ہوا جا رہا تھا
اپنی پوری قوت لگا کر وہ کھڑی ہو گئی, بیگ سے اپنے کارڈز اور کچھ پیسے نکالے اور دروازے کی طرف بڑھی, وہ دروازہ بند تھا, اس نے اپنی چادر سر پر اوڑھی اور دروازہ کھول کر باہر نکل آئی
سب لوگ شائد شمشم والے کمرے میں تھے, وہ چلتی ہوئی باہر نکل آئی
کچن خالی تھا, ولید کہیں بھی نہیں تھا, سردی کی وجہ سے سبھی کمروں کے دروازے بند تھے, وہ خاموشی سے باہر نکلی اور دروازہ پار کر گئی تھی
……………………………
ایک نے من چاہا شخص چنا تھا
اور دوسری کسی کے لیے من چاہی تھی
ایک نے چناؤ کا اختیار اپنے ہاتھ میں رکھا تھا
اور دوسری نے اپنے ماں باپ کو سونپ دیا تھا
ایک نے محبت کی تھی
اور دوسری کسی کی محبت بن گئی تھی
ایک نے سو کالڈ Love marriage کی تھی
اور دوسری نے مشہور زمانہ Arrange marriage
لیکن اس رات شدید سردی میں اپنے اپنے گھر کی دہلیز پار کرتے ہوئے دونوں میں فرق کیا تھا ؟؟؟
کچھ بھی تو نہیں…
دونوں کی آنکھوں میں آنسو تھے, دونوں کا جسم زخموں سے چور تھا, دونوں کی آنکھیں خون تھیں, دونوں کے ہاتھ خالی تھے, دونوں ہی تہی داماں تھیں
جس نے محبت کی وہ بھی ہار گئی تھی
اور جو محبت بنی وہ بھی ہار گئی تھی
دونوں کا مجرم ایک ہی تھا… شوہر
ایک نے اپنی پسند سے چنا تھا
اور دوسری نے گھر والوں کی پسند سے
لیکن فرق کوئی نہیں تھا
تھپڑ پہلی بار مارا جاۓ… بار بار مارا جاۓ… یا آخری بارمارا جاۓ… تھپڑ, تھپڑ ہی ہوتا ہے
اور بیوی کو تھپڑ مارنے کی اجازت شوہر کو کسی نے نہیں دی…. اللہ نے بھی نہیں
ہاں یہ ضرور کہا کہ اگر خدا کے علاوہ کسی کو سجدہ کرنے کی اجازت ہوتی تو بیوی اپنے شوہر کو سجدہ کرتی… ہاں اسے مجازی خدا ضرور کہا لیکن… اسے ہاتھ اٹھانے کی اجازت پھر بھی نہیں دی
بھلے ہی وہ کیسی بھی ہو… ؟؟؟ تیز ہو, شاطر ہو, بدتمیز ہو, زبان دراز ہو, پھوہڑ ہو… پیار سے سمجھانے کا کہا… نرمی سے راہ راست پر لانے کا کہا, ذرا سی سختی کرنے کا کہا… تھپڑ مارنے کا نہیں کہا
جسمانی اذیت دینے کا نہیں کہا
ذدوکوب کرنے کا نہیں کہا…
ہاں یہ سب کب کہا…. ؟؟؟ جب بیوی بدکردار ہو تب کہا, زناکار ہو تب کہا
ایک نیک, پاکباز اور با وفا بیوی کو جسمانی سزا دینے کا پروردگار نے نہیں کہا
بیوی شوہر کے سکون کا ذریعہ ہوتی ہے, اللہ نے بیویوں کو کھیتی سے تشبیہ دی ہے, کہ تم اپنی کھیتی میں جیسے چاہو آؤ… اور جیسے چاہو جاؤ
لیکن… اللہ نے اس کھیتی کو اپنی وحشت اور مردانگی سے تہس نہس کرنے کا اختیار شوہر کو بالکل نہیں دیا
ایک بیوی اپنے شوہر کی جائز جنسی تسکین کا ذریعہ ہے لیکن وہی بیوی اپنے شوہر کی کسی بھی ناجائز(جنسی, جسمانی, نفسیاتی) تسکین کا ذریعہ نہیں ہے
شوہر کے بلانے پر بنا کسی شرعی عذر کے بیوی کو انکار کرنے کی ممانعت ہے لیکن… شوہر کے بلانے کا انداز کیسا ہے ؟؟؟
شوہر کی پیش رفت پر بنا کسی شرعی عذر کے انکار کرنے کی ممانعت ہے لیکن… وہ پیش رفت کس قسم کی ہے ؟؟؟
خدا کی قسم جب ایک شوہر کسی بھیڑیئے کے روپ میں اپنے غصے اور قہر کی وجہ سے اپنی بیوی کو بے بس اور زیر کرنے کی خاطر اس کی جانب کسی جانور کی طرح پیش رفت کرے اور وہ بیوی اس پیش رفت کی مزاحمت کرے…. تو میرے اللہ کے ہاں وہ مزاحمت یقیناً اس پیش رفت سے زیادہ بھاری ہو گی
……………………………..
جاری ہے
