Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

اٹھارویں قسط
ولید اس رات گھر آیا تو جیسے کمال ہی ہو گیا, وہ آتے ہوئے مبرہ کے لئے پیزا لے کر آیا تھا, وہ اور بات کہ اس پیزے میں سے بس دو لقمے ہی اسے ملے… لیکن نام ہو گیا کہ وہ پیزا مبرہ کے لئے آیا ہے
اور مبرہ بیچاری بس یہ سوچ سوچ کر ہلکان ہو رہی تھی کہ آخر اس مہربانی کی وجہ کیا تھی…؟؟؟
اتنے مہینوں میں ولید نے کبھی اس پر اتنی مہربانی کرنے کا نہیں سوچا تھا
“ولید سب خیر تو ہے نا…؟؟؟” وہ بار بار بس یہی پوچھ رہی تھی
“کیا یار…؟؟؟” آئندہ کچھ نہیں لاؤنگا تمھارے لئے…” وہ تنگ آ گیا
“ولید مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے جیسے بہت جلد آپ کوئی فرمائش داغنے والے ہیں… بڑی سی فرمائش… ” وہ مسلسل اسے کھوج رہی تھی
“چپ چاپ پیزا کھاؤ…” ولید نے مسکراتے ہوئے اسے آنکھ سے اشارہ کیا, مبرا بس نفی میں سر ہلاتے ہوئے اسے دیکھتی چلی گئی تھی
ابھی تین چار دن ہی گزرے تھے جب ان دونوں کی اینیورسری قریب آ گئی, مبرہ کو یاد تو تھا… اس نے ولید کے لئے گفٹ بھی خریدا لیکن اسے قطعا اندازہ نہیں تھا کے ولید کو بھی یاد ہوگا… اور ولید احمد نے اسے نہ صرف ایک انتہائی مہنگے سوٹ سے نوازا, بلکہ اسے ڈنر کروانے بھی لے گیا
مبرہ ولید احمد تو بے ہوش ہونے کے قریب تھی
“ولید…. سچ میں… یہ میرے لیے ؟؟؟” شادی کے ایک سال بعد بھی ولید نے اسے سوٹ تو درکنار… کبھی ایک ٹافی تک سے نہیں نوازا تھا
اور اب گفٹ… پیزا, ڈنر….
“ولید… قربانی کے بکرے کو ذبح کرنے سے پہلے اتنا پروٹوکول دیتے ہیں جتنا آجکل آپ مجھے دے رہے ہیں… ” وہ اندر سے پریشان ہو رہی تھی
“مبرہ… یار میں بھی انسان ہوں, بیوی ہو تممیری, خود ہی تو کہتی ہو کہ مجھے سدھار کر رہو گی, اب سدھر رہا ہوں تو یقین بھی نہیں آ رہا تمہیں ” وہ بولا
“بس کیا کروں… ؟؟؟ ایسے ایسے روپ دیکھ چکی ہوں آپ کے کہ اب یقین مشکل سے ہی آتا ہے” وہ مسکراتے ہوئے بولی تھی
اگلے دن حنا کی کال آئی تو وہ کافی خوش تھی
“شکر خدا کا… تمہیں بھی ہنستے سنا لڑکی” وہ بولی
“بھابھی… میں کہتی تھی نا کہ ولید ایک نا ایک دن سدھر جاۓ گا, وہ سدھر رہا ہے بھابھی, اب تو خیال بھی رکھنے لگا ہے میرا… ” وہ کہتی چکی گئی
“بڑی بات ہے…. شائد بچے کی وجہ سے” حنا نے کہا
“آپ دیکھ لینا… اپنے بچے کے اس دنیا میں آنے کے بعد وہ مزید سدھر جاۓ گا… ” مبرہ بے حد پر امید تھی
اور وہ شائد واقعی بدل رہا تھا, آۓ روز کی گالم حلوچ اور مار پیٹ ذرا کم ہو گئی تھی, بات بھی انسانوں کی طرح کرنے لگا تھا
وہ بھی ایسی ہی ایک رات تھی جب وہ اپنے بیگ سے ایک لفافہ نکالتے ہوئے اس کے پاس آ بیٹھا
“مبرہ… یار یہ ذرا سائن تو کرو” وہ بولا
“کیا ہے یہ… ؟؟؟؟”
“گاڑی نکلوا رہا ہوں… ” وہ بولا
“سچ میں… ؟؟؟” وہ حیران رہ گئی
“ہاں… یار ضرورت پڑتی ہے گاڑی کی” وہ اس کی طرف دیکھ ہی نہیں رہا تھا
“لیکن آپ کے گاڑی نکلوانے کے لئے میرے سائن کیوں ضروری ہیں ؟؟” وہ اچنبھے سے بولی
“مبرہ یار تمہاری سیلیری پر لیز ہو گی نا… ؟؟؟اب میں کونسا تمہاری طرح ستر, اسی ہزار کماتا ہوں” اس نے بم پھوڑا تھا
“دیکھا… میں نے کہا تھا نا کہ آپ مجھے ایسے ہی اتنا پروٹول نہیں دے رہے, ضرور کوئی بات ہے.. ” مبرہ نے تاسف سے اس کی طرف دیکھا
“مبرہ بات کو غلط نا سمجھو, چیز بھی تو تمہاری ہی بنے گی, تمہارے نام پر ہو گی, بس ہر مہینے قسط جایا کرے گی… ” وہ اسے دھیما دھیما سمجھاتا رہا
“ولید میری سیلیری کونسا قارون کا خزانہ ہے… پہلے ہی سو خرچے ہیں, اوپر سے بچہ آنیوالا ہے… مزید خرچے بڑھ جائیں گے… گاڑی ذرا رک کر لے لیتے” وہ بولی
“یار ہو جاۓ گا سب کچھ… سیلیری بڑھے گی نا تمہاری” وہ بولا
مبرہ نے حتی الامکان اس سے بحث کرنے کی کوشش کی لیکن اس لمحے ولید کے سر پر گاڑی سوار تھی, وہ اس کا ہر نقطہ رد کرتا چلا گیا
“ولید ڈاؤن پیمنٹ کیسے کریں گے ؟؟؟”
“اس کا بندوبست کر لیا ہے میں نے… تم سائن کرو بس”
شش و پنج کی سی کیفیت میں اس نے سائن کر دییے تھے
………………………
اس دن وہ کالج سے واپس آئی تو ساس اور تینوں نندیں بیچ صحن میں کپڑے بکھراۓ بیٹھی تھیں
“کہیں جانے لگے ہیں سب ؟؟؟” اس نے اندر آتے ہوئے پوچھا, وہ چاروں اسے دیکھ کر جز بز سی ہو گئیں
“جانا کہاں ہے… میں انہیں کہہ رہی تھی کہ ریشمی کپڑے نکال لو, اب ارم کا ویاہ بھی تو آۓ گا” وہ بولیں
“انعم کا نہیں کرنا ساتھ ؟؟؟”
“کریں گے… رشتہ تو مل جاۓ” شمیم نے نا محسوس سے انداز سے سب کچھ سمیٹ دیا تھا
کچھ دنوں بعد پھر ایسا ہی ہوا, وہ کالج جانے کے لیے نکلی تو ولید اپنے ماں باپ کے کمرے میں گھسا ہوا تھا, وہ جیسے ہی کمرے کے آگے سے گزری تو وہ تینوں چپ سے ہو گئے
وہ بس مبہم سی انہیں دیکھتی باہر چلی گئی
پھر اکثر ہی ایسا ہونے لگا, اسے محسوس ہونے لگا کہ وہ سب اس سے کچھ چھپانے لگے ہیں, اسے دیکھتے ہی خاموش ہو جاتے ہیں
ایک دو بار اس نے ولید سے پوچھا لیکن وہ ٹال گیا
ان دنوں ان. گھر والوں کی بھی فرمائشیں اس سے کم ہو گئی تھیں, اب پہلے کی طرح اس پر نقطہ چینیاں بھی نہیں ہوتی تھیں, اکثر ہی ان سب کا ڈولہ کہیں نا کہیں جانے کے لیے تیار ہوتا تھا
ابھی انعم کا رشتہ ہوا نہیں تھا لیکن وہ سب ایسے شاپنگ کرنے لگے تھے جیسے کل اس کی شادی ہو, اور یہ سب دیکھ دیکھ کر مبرہ کو انجانا سا خوف محسوس ہو رہا تھا
………………………..
اس دن روحاء اور مروان ڈنر کرنے آۓ تھے, اس کی بچی سات ماہ کی ہو گئی تھی, وہ اسے بھی تیار شیار کر کے ساتھ ہی لے آئی تھی
پچھلے ایک دو مہینوں سے ان دونوں کے بیچ بھی تناؤ کی سی کیفیت ہی چل رہی تھی, روحاء الگ گھر لے کر بھی مطمئن نہیں تھی, وہ آخر کو ایک عورت تھی
مروان کے طور اطوار سے ہی سمجھ جاتی تھی کہ وہ روز اس کے خلاف بھڑکایا جاتا تھا, مروان لب و لہجہ ہی اس کے ساتھ تبدیل ہونے لگا تھا, اب وہ اس کی باتیں سن کر جھلا جاتا تھا, چیخ اٹھتا تھا, اکثر ہی بد مزگی ہونے لگی تھی
روحاء کی برداشت تو پہلے ہی کم تھی, مروان کے مسلسل بدلتے رویے سے مزید کم ہونے لگی, وہ گلا پھاڑ کر چیخ پڑتی تھی, اور لڑائی ہو جاتی تھی
اب بھی یک دوسرے کو منا کر ہی وہ گھر سے نکلے تھے, مروان نے آرڈر دے کر مرحہ کے ساتھ کھیلنا شروع کر دیا
تبھی روحاء کو ولید احمد نظر آیا تھا, وہ ان سے ایک دو ٹیبلز چھوڑ کر بیٹھا ہوا تھا, ولید کا چہرہ عین اس کے سامنے تھا جب کے اس کے سامنے والی سیٹ پر ایک لڑکی بیٹھی ہوئی تھی, کھلے ہوئے بالوں کی لبرل سا ڈریس پہنے وہ لڑکی ظاہر ہی مبرہ تو نہیں ہو سکتی تھی لیکن روحاء کے دماغ میں اس لمحے صرف یہ تھا کہ ولید مبرہ کے علاوہ اور بھلا کس کے ساتھ یہاں آ سکتا ہے ؟؟؟
“مروان…. وہ دیکھیں مبرہ اور ولید… میں مل کر آتی ہوں اسے… ” اور اس سے پہلے کہ مروان اسے روکتا, روحاء اپنی کرسی سے کھڑی ہو گئی
لیکن اس سے پہلے کہ وہ ولید کی ٹیبل تک پہنچتی, وہ لڑکی ویٹر کو بلانے کے لئے مڑی تھی
روحاء یکدم ہی ٹھٹھک گئی
وہ مبرہ نہیں تھی… وہ تو کوئی اور ہی تھی
وہ اسی لمحے پلٹ آئی
“اب آ بھی گئیں ؟؟؟” مروان نے اسے گھورا
“مروان… وہ مبرہ نہیں ہے… ” روحاء کے لحجے میں صدمہ ہی صدمہ تھا
“مطلب… ؟؟” وہ بھی ٹھٹھکا
“وہ کوئی اور ہے… ولید کسے ساتھ لایا ہے ڈنر کے لئے ؟؟؟” اسے ہول ہونے لگے تھے, مروان نے بھی پر سوچ انداز سے ولید کی ٹیبل کی طرف دیکھا تھا
………………………
روحاء کوکب اور ساجد مغل سے ملنے آئی تھی
مروان بس کچھ دیر ہی بیٹھا تھا
“میں شام کو لے جاؤں گا” وہ اسے مبہم سا اشارہ کرتے ہوئے واپس چلا گیا تھا
دوپہر تک عفراء اور سعد بھی واپس آ گئے, کوکب نے اس کے لئے کھانا بنایا تھا
“لڑکی کچھ شرم کر لو, روز روز یہاں آ کر بوڑھی ماں سے کھانے بنوا بنوا کر کھاتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آتی…؟؟؟” سعد نے اسے گلے سے لگایا تھا
“تم بھی تو روز کھاتے ہو… بوڑھی ماں کے ہاتھ کا کھانا, تمہیں شرم آتی ہے ؟؟؟” روحاء نے اسے لتاڑا تھا
عفراء نے کوکب کے ساتھ مل کر کھانا لگایا
دراصل ساس اور بہو کا مسئلہ کھڑا ہو ہی نا اگر وہ دونوں ایک دوسرے کے مسائل سمجھ جائیں, اگر بہو نوکری کرتی ہے تو ساس اس کی عدم موجودگی میں سربراہ بنی رہے اور جب بہو آ جاۓ تو وہ ساس کو کچھ عرصہ کے لئے آرام دے دے
صبح کا ناشتہ کوکب اور عفراء مل کر بناتی تھیں, کوکب اپنا اوربساجد مغل کا بنا لیتیں, عفراء اپنا اور سعد کا بنا لیتی, دوپہر کا کھانا کوکب بناتی تھیں, رات کا سارا کام عفراء کے ذمے تھا, صفائی اور برتنوں کے لئے روحاء کی شادی کے بعد سے ہی سعد نے ایک کام والی ارینج کی ہوئی تھی
“امی… ایک بات بتاؤں آپ کو, پرسوں میں نے مبرہ کے میاں کو دیکھا… ایک ہوٹل میں, میں اور مروان ڈنر کرنے گئے تھے” روحاء کو اچانک ہی یاد آیا, عفراء کا منہ میں جاتا نوالہ یکدم ہی سست ہوا تھا
“مجھے لگا مبرہ کو لیکر آیا ہے ساتھ لیکن…. وہ تو کوئی اور ہی تھی, بڑی ماڈرن سی… بڑی فرینک تھی اس کے ساتھ” روحاء نے کہا
“سعد تمہیں تو پتہ ہو گا نا… ؟؟؟” وہ سعد کی طرف مڑی
“ہاں ایک, دو بار دیکھا ہے میں نے بھی… ” وہ سرسری سا بولا
“مطلب وہ افییر چلا رہا ہے… ؟؟؟” روحاء چونک گئی
“کہہ سکتے ہیں…. ڈھکا چھپا افییر ” سعد نے کہا
“کون ہے وہ لڑکی ؟؟؟”
“پتہ نہیں…. ” وہ کندھے اچکا گیا
“اسے بتا دوں ؟؟؟” روحاء نے دھیرے سے کہا
“رہنے دو, تمہیں کنفرم ہے کیا ؟؟؟؟” سعد نے اسے گھرکا
“ویسے…. شوہر افییر چلاۓ اور بیوی کو پتہ نا چلے, ایسا ممکن تو نہیں ہوتا, شائد اسے پتہ ہی ہو” عفراء نے ہولے سے کہا تھا
“اچھا…. تمہیں بھی پتہ چل گیا میرے افییر کا ؟؟؟” سعد ایک دم بڑے سیریس انداز میں اس کی طرف مڑا
“پہلے دن سے… ” وہ دو بدو بولی تھی
“سعد… فضول نا بولا کر” کوکب نے اسے گھرکا تو وہ عفراء کی طرف دیکھ کر ہنستا چلا گیا, جبکہ اس کا چہرہ بالکل سپاٹ تھا
“دیکھ روحاء… بیشک وہ تیری بیسٹ فرینڈ ہے لیکن ابھی کونسا تجھے بھی پکا پتہ ہے کہ وہ کون ہے ؟؟؟ رہنے دے اسے بتانے کو” کوکب نے سبھاؤ سے کہا تھا
روحاء چپ کر گئی
لیکن اس کا دل مطمئن نہیں تھا
سو کچھ دنوں بعد اس نے مبرہ کو کال کر ہی لی
“اب کیسا رویہ ہے ولید کا ؟؟؟” روحاء کے پوچھتے ہی وہ تو یوں شروع ہوئی کہ روحاء خاموش رہ گئی, مبرہ کی ہر بات” اللہ کا شکر ہے” سے شروع ہو” اللہ کا شکر ہے” پر ختم ہو رہی تھی
وہ بس سنتی چلی گئی اور پھر کچھ دیر بعد کال کاٹ دی, بقول مبرہ کے ولید سدھر رہا تھا, بہتر ہو رہا تھا… تو پھر بھلا وہ خوامخواہ اس کے دل میں شک کا کیڑا کیوں ڈالتی ؟؟؟
اس نے مبرہ کو کچھ نا بتایا تھا
………………………..
وہ اس دن اپنے کمرے کی صفائی کر رہی تھی جب اس نے ولید کی الماری بھی کھول لی, اس نے دروازہ کھلتے ہی الٹی کر دی, بے ترتیب ٹھونسے ہوۓ کاغذ باہر گر پڑے, وہ وہیں فرش پر بیٹھ کر ہی انہیں اکٹھا کرنے لگی, ترتیب دینے لگی, دفعتاً اس کے ہاتھ ایک رسید لگی تھی, وہ بینک کی رسید تھی
اسے پڑھتے ہی مبرہ ٹھٹھک گئی, اس رسید کے حساب سے اس کے میکے والے زیور کی لیز مکمل ہو گئی تھی اور وہ بینک نے چھوڑ دیا تھا
“زیور چھوٹ گیا…. وہ بھی دو ماہ پہلے ؟؟؟” وہ حیران پریشان بیٹھی رہ گئی
“ولید نے مجھے کیوں نہیں بتایا ؟؟؟” اس نے سوچا اور پھر سارے کاغذ کھنگال ڈالے
اس کا اندازہ درست تھا, ولید نے اس کا وہ زیور بیچ دیا تھا
سات لاکھ نوے ہزار…. ” رسید اس کے ہاتھ میں تھی, وہ دم بخود بیٹھی رہ گئی
ولید نے اس کا زیور بیچ کر گاڑی کی ڈاؤن پیمنٹ ادا کی تھی
اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں
وہ جو سمجھ رہی تھی سب ٹھیک ہو گیا.. کچھ بھی ٹھیک نہیں تھا, اسے سب سمجھ آ گیا تھا
ولید احمد کبھی نہیں سدھر سکتا تھا
تبھی اسے باہر گاڑی کا ہارن سنائی دیا, ولید کو آج گاڑی مل جانی تھی
“بھابھی… گاڑی آ گئی” اسے انعم نے آواز دی تھی, وہ کھڑی بھی نا ہو سکی, رہ رہ کر رونا آ رہا تھا
بمشکل اپنے وجود کو سنبھالتی وہ باہر نکل آئی, سبھی گاڑی کے گرد جمع تھے
“پروفیسر صاحبہ… تمہاری گاڑی آ گئی ؟؟؟” ولید نے اسے دیکھ کر ہنستے ہوئے کہا تھا
“اس کی ڈاؤن پیمنٹ کہاں سے کی ؟؟؟” اس نے انتہائی سرد آواز میں پوچھا, ولید کی مسکراہٹ یکسر غائب ہو گئی
“مبرہ… مجھ سے بکواس نا کرنا” اس نے انگلی اٹھائی تھی
“میں بکواس ہی تو کرتی ہوں…. ایک سال سے میں بکواس ہی تو کر رہی ہوں, جھوٹ کیوں بولا مجھ سے ؟؟؟” وہ چیخ پڑی اور ولید کا ہاتھ اٹھ گیا
“میرا زیور کیوں بیچا ؟؟” وہ دوبارہ کھڑی ہوئی تھی
“میری مرضی… اب بتاؤ ؟؟” ولید نے کروفر سے کہا
“مبرہ اگر اس نے بیچ بھی دیا تو گاڑی بھی تو تیری ہی ہے” شمیم نے کہا, مبرہ ساکت رہ گئی
“آنٹی آپ کو بھی پتہ تھا… ؟؟؟” وہ مارے صدمے کے ششدر رہ گئی
“آپ سب کو پتہ تھا…. ہیں نا ؟؟؟ یہ ہی باتیں کرتے تھے نا آپ میری پیٹھ پیچھے” وہ زور سے بولی اور ولید کی طرف آئی
“مجھے میرا زیور واپس چاہئے… ابھی” اس نے انگلی اٹھا کر کہا تھا
“چلو تمہیں دوں تمہارا زیور… ” ولید نے اسے دھکا دیا تھا
“ولید… چھڈ دے, بچے کو کچھ ہو جاۓ گا” پہلی بار شمیم اسے بچانے کو آئی تھی, مبرہ کا ساتواں مہینہ چل رہا تھا
“امی اس کی بکواس بند کروا لے… “
“مجھے کیوں نہیں بتایا ؟؟؟ سائن بھی تو کرواۓ ہی تھے نا… تو یہ بھی بتا دیتے… تیری گاڑی, تیری گاڑی, بھاڑ میں گئی گاڑی, مجھے کیا فائدہ ہو گا اس کا ؟؟ مجھے کالج چھوڑ آیا کریں گے آپ ؟؟؟ بولیں… ؟؟ میرے باپ کی طرح میری ڈیوٹی نبھا لیں گے آپ ؟؟؟”مبرہ خاموش نہیں ہو رہی تھی
“میں نے کہا حرامزادی عورت چپ ہو جا… نہیں تو زبان کاٹ دوں گا” ولید نے شمیم کو ایک طرف دھکا دیتے ہوئے اس کا جبڑا دبوچ کے اس کے منہ میں اپنی انگلیاں گھسیڑیں اور حلق تک لے گیا
“اب کر بکواس… اب چیخ کمینی ” وہ مسلسل اس کے جبڑے کو دبوچے کھڑا تھا
“ولید بس کر… بس کر دے” الماس اور شمیم نے بمشکل اسے چھڑوایا تھا
وہ وہیں گر گئی…. منہ خون سے بھرتا جا رہا تھا
کمرے میں آ کر اس نے سو دفعہ سیل اٹھا کر حسیب خان کا نمبر ملایا…. اور سو دفعہ سیل بند کر دیا
کیا ملا تھا اسے ولید احمد سے محبت کر کے ؟؟؟
ہمارے معاشرے میں نوے فیصد لڑکیوں کو کیا ملتا ہے محبت کر کے ؟؟؟؟
……………………..
اس کے کالج میں ایڈمیشن ٹیسٹ شروع ہوئے تو وقت کا دورانیہ تھوڑا بدل گیا, اس دن بھی وہ پیپر لے کر فارغ ہوئی تو تقریباً گیارہ رہے تھے
ولید کے وحشی پن کی وجہ سے اس کا اندر سے سارا جبڑا چھل گیا تھا, اور جگہ جگہ سے زخمی ہو گیا تھا, دو دن سے وہ بس لیکوئیڈ چیزیں ہی پی رہی تھی, کچھ بھی سخت کھاتی تو چیخیں نکل جاتیں, اور خون آنے لگتا, ایک ہفتے کے اندر اندر انفیکشن زیادہ پھیل گیا تھا
اس نے ڈاکٹر کے پاس جانے کا سوچا تھا
سو شاٹ لیو لے کر حسیب خان کو کال کر دی
“ابو…. مجھے ڈاکٹر کے پاس جانا ہے… ” اس نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے دھیرے سے کہا
“بیٹے کیا ہوا ؟؟؟”
“وہ… ابو منہ پک گیا ہے سارا, کچھ کھایا پیا بھی نہیں جاتا… پرسوں سے بس دودھ اور چاۓ پر ہی گزارہ کر رہی ہوں” وہ بمشکل اپنے آنسؤؤں کو دباتے ہوۓ بولی تھی
“مبرہ ولید تجھے ڈاکٹر کے پاس بھی نہیں لےجا سکا…. ؟؟؟” وہ صدمے سے بولے
“مجھے لگا خود ہی ٹھیک ہوبجاۓ گا… گلیسرین لگائی تھی لیکن…. انفیکشن زیادہ ہو گیا ہے” وہ بولی
حسیب خان نے وہیں کسی ڈاکٹر کا پتہ کر کے اسے چیک کروایا تھا, ڈاکٹر نے صاف کہہ دیا تھا کہ حالت انتہائی خراب ہے…. اوپر سے پریگنینسی کا ساتوں مہینہ… کھاۓ بنا کہاں چارہ تھا ؟؟؟
دوائیں وغیرہ لیکر وہ واپس گاڑی تک آ گئے
“مبرہ… ایک بات بتانی ہے مجھے بالکل سچ سچ… ؟؟؟” انہوں نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے پوچھا
“جی ابو…. ؟؟؟”
“ولید مارتا بھی ہے تجھے ؟؟”
“نہیں ابو…. ” وہ ان سے نظریں چرا گئی
“جھوٹ بول رہی ہے نا…. ؟؟؟” وہ آخر کو اس کے باپ تھے, مبرہ کی آنکھیں بھر آئیں , حسیب خان کے کلیجے پر ہاتھ پڑا تھا
“مبرہ… بچے اس رشتے میں کوئی ایک پلس پوائنٹ بتا دے مجھے بس… ” انہوں نے کچھ دیر بعد پوچھا
“شائد یہ کہ ابھی بھی میرے دل کے کسی کونے میں اس کے لئے تھوڑی سی جگہ باقی ہے… ” آنسو اس کے ہاتھوں پر آ گرے تھے
“کیوں ؟؟؟”
“کیونکہ میں نے اس سے محبت کی ہے… ” وہ سیٹ کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے بولی تھی
“مبرہ… بیٹے میں تیرے ساتھ ہوں, اپنا گھر بسانے کے لئے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے, بہت کچھ جھیلنا پڑتا ہے, اپنا آپ مارنا پڑتا ہے لیکن… یہ سب اس وقت کیا جاۓ جب کوئی امید تو ہو ؟؟؟” وہ بولے
“کوئی امید ہے مبرہ ؟؟؟” انہوں نے پوچھا اور مبرہ نے نفی میں سر ہلا دیا تھا
“ابو مجھے بس اتنا پتہ ہے کہ جس دن میں پلٹ آئی… اس کے بعد واپسی نہیں ہو گی” اس نے اپنی آنکھیں خشک کرتے ہوئے کہا تھا
حسیب خان خاموش رہ گئے
تقریباً آدھے گھنٹے بعد انہوں نے اسے گھر کے سامنے اتار دیا
دروازے کو لگا بڑا سا تالا دیکھ کر یکدم ہی وہ حیران ہوئی تھی
“کہاں چلے گئے سارے گھر والے…؟؟؟” حسیب خان نے اچنبھے سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
“پتہ نہیں ابو… مجھے تو کسی نے نہیں بتایا کہ کہیں جانا تھا”اس نے پرسوچ انداز میں کہتے ہوئے اپنا موبائل نکالا اور ولید کو کال ملا لی لیکن اس نے چوتھی بار بھی نہیں اٹھائی
کچھ سوچ کر اس نے اپنے سسر کا نمبر ملا لیا
“انکل آپ سب لوگ کہاں ہیں…؟؟؟؟” اس نے کال ریسیو ہوتے ہی پوچھا تھا
“تو کیوں پوچھ رہی ہے…؟؟؟” اس کے سسر کا وہی لٹھ مار لہجہ
“انکل میں دروازے پر کھڑی ہوں… گھر کو تالا لگا ہوا ہے”
“تو آج جلدی آ گئی…؟؟؟” اس نے واضح اپنے سسر کے لہجے میں پریشانی محسوس کی تھی
” ہاں جی انکل… شارٹ لیو لے کر آئی ہوں… چابی کس کے پاس ہے…؟؟؟” اس نے پوچھا
“چابی سامنے والوں کو پکڑا کر گئے ہیں… وہاں سے لے لے”
“انکل آپ سب لوگ کہاں ہیں…؟؟؟” اس نے دوبارہ پوچھا تھا
“ہم بس آ رہے ہیں تھوڑی دیر تک… ایک فوتگی پر جانا تھا” اس کے سسر نے سرسری سا کہتے ہوئے کال کاٹ دی
مبرہ نے سامنے والوں کا دروازہ کھٹکھٹا کر ان سے چابی لی تھی
” آنٹی یہ سب کہاں گئے ہیں…؟؟؟” اس نے پوچھا
“پتہ نہیں پتر… بڑا تیار شیار ہو کر گئے ہیں کہیں…” اس کی بات سن کر وہ ذرا سا ٹھٹکی تھی
“فوتگی پر تیار ہو کر گئے ہیں…؟؟؟” وہ بس سوچتی رہ گئی تھی
“مبرہ ویسے حد ہے یار.. جب سب نے جانا تھا تو تجھے بتا کر تو جاتے, تو بھی تو گھر کا ایک فرد ہے, اور دونوں لڑکیوں کو بھی ساتھ لے گئے… ” حسیب خان کہتے چلے گئے
“ابو کوئی بات نہیں…. آپ جائیں ” وہ اندر داخل ہوتے ہوئے بولی
“مبرہ بچے اسامہ کو سکول سے لینا ہے ورنہ میں رک جاتی جاتا… ” وہ بولے
“ابو آپ جائیں… کوئی بات نہیں… اور پلیز امی کو کچھ نا بتانا پلیز… ” اس نے انہیں مطمئن کر کے دروازہ بند کیا تھا
وہ سب لوگ تین, چار گھنٹے بعد آۓ, مبرہ تو ان کو دیکھ کر حیران تھی, وہ سب ایسے تھے جیسے کسی شادی سے واپس آ رہے ہوں
“انکل تو کہہ رہے تھے فوتگی پر گئے ہیں آپ لوگ ؟؟؟” اس نے پوچھا
“فوتگی وی سی… نال ویاہ وی سی پتر… تجھے اس لئے نہیں بتایا کہ تو کیسے جاۓ گی بھلا” شمیم نے سرسری سا کہا تھا
“ولید کہاں ہیں ؟؟؟”اس نے پوچھا
“پتہ نہیں… وہ تو ہمیں گھر چھوڑ کر کہیں چلا گیا ہے” ارم نے کہا
ولید رات تک واپس نا آیا, وہ کال کر کر کے تھک گئی, بارہ بجے کے قریب اسے ولید کی کال آئی تھی
“مبرہ مجھے کچھ دوستوں کے ساتھ لاہور جانا پڑ گیا ہے, وہاں کچھ کام تھا انہیں تو کہتے تیرے پاس گاڑی ہے ہمیں لے چل لاہور, اس بہانے آؤٹنگ بھی ہو جاۓ گی, میں دو دن تک آ جاؤں گا” وہ بولا
“ولید آپ مجھے تو بتا دیتے… ؟؟؟” وہ رونے والی ہو گئی
“بتا تو دیا اب… “
“میں اکیلی رہوں گی… ؟؟؟؟” وہ بول نہ سکی
“پورا گھر ہے تمہارے ساتھ… بچی ہو کیا تم…؟؟؟ دو دن تک آ جاؤں گا” وہ درشتگی سے کہتے ہوئے کال کاٹ گیا تھا
………………………..