No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
اس دن صبح سے ہی اس کی طبعیت مضمحل سی تھی, وقفے وقفے سے درد اٹھ رہا تھا, اس کا چوتھا مہینہ شروع ہو گیا تھا اور وہ صرف ایک بار چیک اپ کے لئے جا سکی تھی
لیڈی ڈاکٹر نے صاف کہہ دیا تھا کہ اس کی پریگنینسی بہت کمزور ہے سو اسے انتہائی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے… لیکن صبح و شام سفر کرتے ہی اس کی ساری احتیاط ختم شد ہو جاتی تھی
“ولید… پلیز مجھے چھوڑ آئیں.. میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے آج… ” اس نے بڑے مان سے ولید کا کندھا ہلایا تھا
“کیا ہوا ہے ؟؟؟” وہ نیند سے چور تھا
“درد ہوۓ جا رہا ہے… ” مبرہ کی آنکھیں بھر آئیں
“تو چھٹی کر لو… “
“تین تو کر لی ہیں اس مہینے… ” وہ بے چارگی سے بولی
“مبرہ یار… میں کہاں وہاں ذلیل ہوتا پھروں گا تمہارے ساتھ… تھوڑی ہمت کر کے چلی جاؤ” وہ خود غرضی سے بولا تھا
“آپ نے کونسا کچھ کرنا ہے گھر رہ کر… ؟؟” مبرہ کا کہنا ہی گناہ ہو گیا
“کیا مطلب ہے اس بات کا ؟؟؟” ولید نے گھور کر اسے دیکھا
“میں شوق سے گھر بیٹھا ہوں… تلاش کر تو رہا ہوں نوکری… جب ملنی ہو گی تو مل جاۓ گی” وہ اس پر برس ہی پڑا, مبرہ چپ چاپ تیار ہونے لگی
“چھوڑ آئیں گے ؟؟؟” جاتے جاتے اس نے پھر بڑی امید سے پوچھا تھا
“یار چلی جاؤ…. جاؤ… نہیں مرتیں تم” وہ اوپر تک کمبل تان گیا
وہ تاسف سے اسے دیکھتے ہوئے باہر نکل آئی تھی, سٹاپ تک وہ رکشے پر آئی, پھر بس پکڑی, آگے بھی رکشہ ہی لیا, جھٹکے کھا کھا کر اس کی بس ہوتی جا رہی تھی
کالج میں بھی سارا دن وہ اپ سیٹ ہی رہی, رہ رہ کر درد اٹھ رہا تھا
واپسی پر بارش شروع ہو گئی, اسے سٹاپ تک جانا دوبھر ہو گیا, رکشہ پانی بھری سڑک چھوڑ کر گلیوں میں سے ہو گیا تھا
اپنے سٹاپ پر آ کر پھر سے رکشہ لینے کی اس کہ ہمت نا ہوئی
ولید کو اس نے خود ہی کال نا کی… بار بار اس کا انکار سن کر وہ بھی تھک گئی تھی, کسی کو بھی نا کہا, بس اللہ کا نام لیکر پیدل ہی چل پڑی, درد بڑھتا جا رہا تھا
کئی جگہ وہ پھسل کر گری…گاؤں کی کچی گلیوں میں حد درجہ پھسلن ہو رہی تھی
گھر پہنچی تو وہ سب لوگ پکوڑوں کی پارٹی اڑا رہے تھے, الماس نے سلنڈر باہر نکال کر اس پر کڑاہی رکھی ہوئی تھی اور سب اس کے ارد گرد کرسیاں ڈال کر بیٹھے تھے
ولید سمیت چھوٹے دونوں بھی گھر ہی تھے
وہ بس ایک نظر ان سب کو دیکھتی ہوئی اندر کی طرف بڑھ گئی, کسی کو سلام کرنے کا بھی دل نا ہوا
“دیکھا ولید… اس کا بس چلے تو پیر کی جوتی بنا لے ہمیں” شمیم نے تاک کر نشانہ مارا تھا
مبرہ کمرے میں آتے ہی جوتوں سمیت بستر پر گر گئی, کپڑے بدلنے کی بھی ہمت نہیں تھی, آنسو بہے چلے جا رہے تھے
“اب کیا پہاڑ ٹوٹ پڑا تم پر ؟؟؟” ولید اندر آتے ہوئے بولا, وہ خاموش پڑی رہی
“تھوڑی تمیز سیکھ لو اور دماغ سیٹ کر لو اپنا… سلام کرنے کا رواج نہیں تھا تمہارے باپ کے گھر…” وہ انتہائی درشت لحجے میں بولا تھا, ہنوز خاموشی
“تم سے بات کر رہا ہوں… ” ولید نے اسے ایکدم اپنی طرف موڑا اور ایک لمحے کو ٹھٹھک گیا
وہ خاموش آنسو بہا رہی تھی, آنکھیں بند تھیں, چہرہ تکلیف کی شدت سے سرخ… سانس بمشکل آ رہی تھی, سارا جسم ہولے ہولے لرز رہا تھا
“کیا ہوا ؟؟؟” اسے ذرا سا ترس آیا تھا, مبرہ کا سر اس نے اپنی گود میں رکھتے ہوئے اس کا چہرہ خشک کیا
“ولید خدا کے لئے مجھ پر ترس کھائیں, کچھ تو خیال کریں میرا, میں کونسا جانور ہوں… آپ کی بیوی ہوں میں ولید… میرے وجود میں سانس لیتا ہوا وجود آپ کا بچہ ہے… ” وہ بلک بلک کر رو پڑی تھی
ولید نے اس کے ساتھ لیٹتے ہوۓ اس کا سر اپنے بازو پر رکھ لیا
“مجھے سب نے روکا تھا… لیکن میں نے کسی کی نہیں سنی, مجھے سب نے کہا کہ ولید سے شادی مت کرو لیکن میں نے پھر بھی آپ کو چنا… کیونکہ آپ نے کہا تھا کہ آپ اپنی پچھلی تمام غلطیوں پر شرمندہ ہیں, آپ نے کہا تھا کہ ہر انسان ایک اور موقع ڈیزرو کرتا ہے… اور میں نے آپ کو ایک اور موقع دیا…. ولید میں نے آپ پر اعتبار کیا, میں نے سب کے خلاف ہو کر آپ کو چنا, ولید احمد میں نے محبت کی ہے آپ سے… خدارا میری محبت کو یوں رسوا نا کریں, اسے میری غلطی نا بنائیں پلیز…. ” وہ بکھرتی جا رہی تھی, ولید نے مضبوطی سے اس کے گرد حلقہ تنگ کر لیا
“اچھا ایم سوری… آئیندہ کچھ نہیں کہوں گا… سوری” جنوری کا اختتام ہو رہا تھا, باہر پھر سے بارش شروع ہو گئی تھی, کمرے میں ہر طرف خنکی کا راج تھا اور ایسے میں اگر کوئی وجود گرم تھا تو وہ مبرہ حسیب خان تھی
اسے شائد بخار ہو رہا تھا, تکلیف برداشت کرتے کرتے وہ مزید تپ گئی تھی, اوپر سے وہ تین کلو میٹر پیدل چکر آئی تھی, جسم آگ کی طرح تپ رہا تھا اور اس لمحے ولید احمد کو اس کا وہ تپتا ہوا وجود کسی نعمت سے کم نہیں لگا
“میں پیدل آئی ہوں ولید… بارش میں, کیچڑ میں, گرتی پڑتی… کیا کوئی حق نہیں ہے میرا آپ پر, کیا کوئی احساس نہیں ہے میرا آپ کو… سب کچھ تو کرتی ہوں میں, جو آپ کہتے ہیں سب کرتی ہوں, کوئی لمحہ سکون کا نہیں ہے میری زندگی میں… اور آپ ولید… ؟؟؟ آپ کے پاس کیا ہے میرے لئے… ؟؟؟ بس گالیاں, طعنے, نشتر, جلی کٹی باتیں… اور تھپڑ, مکے, ٹھڈے… ” وہ سارا ضبط کھو بیٹھی تھی, اس کا تپتا ہوا وجود باقاعدہ کانپنے لگا تھا
“مبرہ میری جان ایم سوری… ” ولید نے اسے شدتوں سے اپنے بازوؤں میں بھرا تھا, انتہائی جنونیت سے وہ اس کا دوپٹہ کھینچتے ہوۓ اس کے اوپر جھکا تھا
“ولید… بس, میری جان نکل رہی ہے, میں مر جاؤں گی… پلیز نا کریں” وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی
“میں اپنی جان کے سارے درد دور کر دوں گا…. ساری تھکن اتار دوں گا… بس دو منٹ… بس دو منٹ” وہ یکے بعد دیگرے اس کے وجود پر سے کپڑے نوچتا ہوا بے خود ہوا تھا, مبرہ بس نفی میں سر ہلاتی رہ گئی
ولید نے اس کے چہرے اور جسم پر دیوانہ وار اپنی شدتوں کے نشان چھوڑنے شروع کر دیئے, اس کے سارے جذبات کھل کر بے لگام ہو رہے تھے
“ولید… مجھ پر رحم کریں” مبرہ حسیب خان اس لمحے بس اتنا ہی کر سکتی تھی
وہ اسے پوری طرح بے بس کرتے ہوئے اس پر حاوی ہو گیا
“ولید…. ” اس کی چیخیں بیساختہ سی تھیں, ولید نے زور سے اس کے لبوں پر اپنی ہتھیلی سے دباؤ ڈالا تھا, مبرہ کی آنکھیں ابلنے کو تھیں
“ولید میرا بچہ…. ” ولید کی جنونیت کے زیر اثر اس کی سانس ٹوٹنا شروع ہو گئی, باہر بارش زوروں پر جاری تھی, ولید رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا
“ولید… میں مر جاؤں گی” وہ یکدم اوپر کو اٹھی تھی اور ولید کی نظر اس کے عین نیچے سرخ ہوتے بستر پر پڑی
“مبرہ… ” اس نے سانسوں کی یورش میں سرگوشی کی تھی, مبرہ کی آنکھیں بالکل بند ہو چکی تھیں
“ہے…. مبرہ… ؟؟؟” ولید نے اسے یکدم الٹا کیا تھا
پورا بستر سرخ ہوتا جا رہا تھا
…………………………
زویا اور نمرہ دونوں کو بہت اچھی طرح اندازہ ہو گیا تھا کہ مروان کو قابو میں رکھنے کے لئے اسے روحاء سے بدگمان کرنا سب سے ضروری تھا, وہ دونوں جانتی تھی کہ اگر مروان نے ہاتھ کھینچ لیا تو وہ پیسے پیسے پیسے کو محتاج ہو جائیں گی, فرحان اور نعمان بیک وقت فیملیز کا سارا خرچہ خود نہیں اٹھا سکتے تھے, جب کے ساتھ ساتھ اسلام اباد جیسے شہر میں پلاٹ کی قسط بھی ادا کرنی ہو
فی الوقت ان دونوں کے بیوی بچوں کا سارا خرچہ ایک طرح سے مروان ہی جھیل رہا تھا
ان دونوں نے بڑی چالاکی اور ہوشیاری سے رابعہ کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا تھا, فرحت بھلے ہی بہت دور اندیش سہی لیکن بیٹی کے معاملے میں وہ ڈنڈی مار جاتی تھیں اور اس فیملی پولیٹکس کی بہت ساری باتیں کاشف مرزا کے کانوں تک پہنچ ہی نہیں پاتی تھیں
وہ بھی ایسا ہی ایک دن تھا… رابعہ نے مروان کو کال کرکے دو تین لارج سائز پیزا اور کولڈرنک آرڈر کی تھی, وہ تینوں نیچے ٹی وی لاؤنج میں بیٹھی پیزے کے مزے اڑا رہی تھیں جب رابعہ نے روحاء کو سیڑھیاں اترتے دیکھا
“زویا بھابھی…. وہ آ گئی…” رابعہ جلدی سے زویا کے کان میں گھسی تھی, ان تینوں نے اسے یوں کر دیا جیسے دیکھا ہی نہ ہو… البتہ وہ تینوں ڈرامہ رچانے کے لیے پوری طرح تیار تھیں
“میں تو کہتی ہوں مروان جیسا بھائی خدا سب کو دے, بس میری ایک کال کرنے کی دیر ہوتی ہے اور مروان منٹوں میں سب کچھ حاضر کر دیتا ہے…اب بھی حالانکہ مجھے بس ایک ہی پیزا کافی تھا لیکن میرے کہنے پر اس نے تین بھجوا دیئے… ” وہ اخری سیڑھی پر تھی جب اسے رابعہ کی آواز سنائی دی
“ہاں تو اور کیا… مروان بڑے کھلے دل کا بندہ ہے اتنی محبت سے اپنے گھر والوں پر خرچ کرتا ہے تبھی تو اللہ نے اسے اتنا دے رکھا ہے…” زویا نے کہا
روحا ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے ان تینوں کے قریب آ گئی
“واہ بھئی… میرے شوہر کی یہ اچھائیاں صرف اس لئے کی جا رہی ہیں کہ میں سن رہی ہوں یا میرے پیٹھ پیچھے بھی ایسے ہی ہوتی ہیں.. ” وہ کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی تھی
“روحاء… خواہ مخواہ ہمارے منہ لگنے کی ضرورت نہیں ہے” زویا نے کہا
“یہ پیزے مروان نے بھجوائے ہیں…؟؟؟” اس نے رابعہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
“ہاں… میں نے کال کی تھی اسے, تمہیں کوئی تکلیف ہے…؟؟؟” رابعہ نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا
“ارے نہیں… مجھے بھلا کیا تکلیف ہوگی, بس میرا بھی دل پیزا کھانے کو کر رہا تھا, اب میرے شوہر کی حق حلال کی کمائی سے آئے ہیں تو میرا بھی تو پورا حق بنتا ہے نا ان پر…” اس نے آگے بڑھ کر میز پر پڑھے دونوں ڈبے اٹھا لیے
“روحاء.. . شرافت سے انہیں واپس رکھ دو” رابعہ کو غصہ آیا تھا
“تم نے کھا لیا نہ پیزا… اب یہ میرے ہیں” وہ ایک سلگتی ہوئی مسکراہٹ رابعہ کی طرف اچھالتی ہوئی دوبارہ سیڑھیاں چڑھ گئی تھی
کچھ ہی دیر بعد کاشف مرزا گھر آ گئے, ان کے آتے ہی رابعہ نے وہ رونا دھونا ڈالا کہ حد نہیں… زویا اور نمرہ دونوں اس کے غم میں برابر کی شریک تھیں, اس سے پہلے بھلے ہی انہوں نے کبھی رابعہ کا ساتھ نہ دیا ہو لیکن آج وہ اس کے ساتھ تھیں
“رابعہ کے منہ میں جاتا نوالہ کھینچ لیا اس نے انکل… ہم دونوں بھی وہی تھیں… منہ پھاڑ کر کہہ دیا کہ میرے شوہر کی کمائی ہے اور اس پر پورا پورا حق میرا ہے ” نمرہ نے کہا, ستم یہ کہ فرحان اور نعمان بھی ویک اینڈ پر گھر آئے ہوئے تھے
شام ہوتے ہوتے اچھا خاصا تماشہ برپا ہوگیا, فرحت نے مروان کے آنے کا بھی انتظار نہیں کیا تھا, انہوں نے اسی وقت روحاء کو نیچے بلوا لیا
“تم آج بتا ہی دو کہ آخر تمہیں میری بیٹی سے کیا تکلیف ہے…؟؟؟” وہ غصے سے بولی
“آنٹی پلیز… میں اس وقت تک کوئی بات نہیں کروں گی جب تک مروان نہیں آ جاتے” روحاء نے کہا
“روحاء… بیٹے آخر مسئلہ کیا ہے…؟؟؟” کاشف مرزا نے بے بسی سے اس کی طرف دیکھا تھا
“انکل مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے… مسئلہ ان تینوں کو ہے اور میرے خیال سے آپ کو ان تینوں سے ہی پوچھنا چاہیے” وہ زور سے بولی
تبھی مروان کی گاڑی کا ہارن سنائی دیا تھا, چند لمحوں بعد وہ اندر داخل ہوا اور لاؤنج میں لگا تماشہ دیکھ کر وہی ٹھٹھک گیا
“لو مروان بھی آ گیا… ” اسے دیکھتے ہی رابعہ نے ایک بار پھر رونا شروع کر دیا تھا
“اب میری بیٹی کے منہ سے نوالے بھی چھیننے لگ گئی ہے تمہاری بیوی…” فرحت تیزی سے بولیں
“میں نے کسی کے منہ سے کوئی نوالہ نہیں چھینا…” روحا چیخ کر بولی تھی
“روحاء پلیز… تم اوپر جاؤ” مروان نے اسے اس کی حالت کے پیش نظر مصالحت سے کہا تھا
“میں کہیں نہیں جا رہی مروان… میں سب کچھ دیکھتے بھالتے اندھی اور بہری بن کر اس گھر میں نہیں رہ سکتی, ان تینوں نے میرے خلاف ایک محاذ کھڑا کر لیا ہے…. اٹھتے بیٹھتے کسی نہ کسی بات پر یہ تینوں مجھے کچوکے لگائے جاتی ہیں… میں کوئی روبوٹ تھوڑی ہوں کہ ہر بات پر آنکھیں اور کان بند کر لوں…” روحاء کی بس ہوگئی
“آخر ہوا کیا ہے…؟؟؟” مروان نے آگے کو آتے ہوئے پوچھا تھا, رابعہ نے روتے ہوئے سارا قصہ مزید مصالحہ لگا کر اس کے گوشت گزار کر دیا, روحا تو بس دم بخود کھڑی اس کی زبان کے جوہر دیکھ رہی تھی
ساری روداد سننے کے بعد مروان نے بڑے تاسف سے روحاء کی طرف دیکھا
“روحاء… میں نے تمہیں کہا تھا نا کہ جب میں تمہاری ساری ضرورتیں پوری کرتا ہوں تو تمہیں گھر والوں سے الجھنے کی کیا ضرورت ہے…؟؟؟” وہ بولا
“مروان میں الجھتی ہوں گھر والوں سے یا گھر والے الجھتے ہیں مجھ سے..؟؟؟” روحاء زور سے بولی تھی
“آہستہ بولو….” سارے دن کا تھکا ہارا وہ گھر آ کر بھی کٹہرے میں کھڑا ہو گیا تھا… اسے بھی غصہ آ گیا
“مروان… اگر روحاء بھابھی کو اچھا نہیں لگتا تو آج اور ابھی سے تجھے کوئی ضرورت نہیں ہے ہمارے بیوی بچوں پر خرچ کرنے کی… جتنا ہم سے ہوا ہم خود مینیج کر لیں گے, آج کے بعد زویا یا نمرہ میں سے کوئی بھی تجھ سے کچھ نہیں مانگے گی اور رابعہ… تمہیں بھی کوئی ضرورت نہیں ہے مروان سے کچھ بھی کہنے کی… تمہیں جو چاہیے ہو ابو سے یا ہم سے کہا کرو” فرحان نے کہنا شروع کیا ہی تھا کہ روحاء نے نے اس کی بات کاٹ دی
“کیوں فرحان بھائی.. . اب آپ کے پلاٹ کی قسطیں ادا ہو گئی ہوں گی نا اس لیے آپ کو اپنے بیوی بچوں پر خرچ کرنے کا یاد آ گیا ہے…” وہ بولی
“روحاء… زبان سنبھال کر بات کرو” فرحت اونچی آواز میں بولی تھیں
“آنٹی میری بات چاہے آپ کو بری ہی کیوں نہ لگے.. لیکن یہ حقیقت ہے کہ آپ نے اپنے چاروں بچوں میں سب سے زیادہ تخصیص مروان کے ساتھ کی ہوئی ہے, آپ کو سارا پتہ تھا نا… اسلام آباد والے پلاٹ کے بارے میں بھی, اور اس بارے میں بھی کہ ان دونوں کی فیملیز کا سارا خرچہ مروان اٹھا رہا ہے… لیکن آپ پھر بھی خاموش رہیں کیونکہ اپ کے بڑے دونوں بیٹے آپ کو زیادہ پیارے ہیں…” روحاء نے گلا پھاڑ کر کہا تھا
“روحاء… دفع ہو جاؤ اوپر ” مروان اس کا بازو پکڑ کر سیڑھیوں کی طرف دھکیلا
“میں کہیں نہیں جا رہی… آج پہلے اس بات کا فیصلہ ہوگا کہ نمرہ اور زویا کی باتوں میں ایسا کیا ہے جو میری باتوں میں نہیں ہے…؟؟” روحاء اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے بولی تھی
“روحا…” مروان نے اسے انتہائی درشت لہجے میں تنبیہہ کی تھی
“اور شاید اس بات کا جواب بھی مجھے پتا ہے… اور وہ یہ کہ میں ان دونوں کی طرح منافق نہیں ہوں…. مجھے دوغلا پن کرنا نہیں اتا.. مجھے تمہاری اکلوتی بہن کی طرح مگر مچھ کے آنسو بہانے نہیں اتے…میری ماں نے مجھے ہر دوسرے بندے کے آگے سر جھکانا نہیں سکھایا….” وہ اونچی آواز میں کہتی چلی گئی تھی
اور زندگی میں پہلی بار مروان کا ہاتھ فضا میں بلند ہو گیا تھا جو نہ جانے کیسے روحاء کے گال تک آ کر رک گیا
“میں آخری بار کہہ رہا ہوں اوپر چلی جاؤ….” وہ اس سے زیادہ سخت لہجے میں نہیں بول سکتا تھا
“مروان جیسے اٹھا لیا… جیسے مار دیا” وہ انتہائی بے یقین لہجے میں کہتی ہوئی سیڑھیاں چڑھتی چلی گئی تھی
……………….
وہ اپنا ماں بننے کا پہلا شرف کھو بیٹھی تھی, لیڈی ڈاکٹر نے اس کی ڈی این سی ریکیمنڈ کی تھی, ایک تو اس کی پریگنینسی شروع سے ہی بہت کمزور تھی اوپر سے اسے کسی بھی قسم کا ریسٹ مہیا نہیں ہوا تھا ہسپتال میں پہنچنے سے پہلے ہی اس کا مس کیرج ہو گیا تھا
“اس کے باپ کو بھی اطلاع کر دے…” ہسپتال میں اس کے پاس صرف ولید اور شمیم ہی تھے
“امی وہ سارا میرا ہی قصور نکال دے گا…” ولید نے سر جھٹکتے ہوئے کہا
“ولید… ادھر دیکھ میری طرف… تو نے کچھ کیا ہے نا اس کے ساتھ…؟؟؟” انہوں نے پوچھا
“امی… میں نے کچھ نہیں کیا” وہ جھلا کر بولا تھا
“پھر ایک دم بیٹھے بٹھائے اس قدر بلیڈنگ کیسے ہوگئی…؟؟؟$ وہ بولیں
“امی اس کی طبیعت صبح سے ہی ٹھیک نہیں تھی, میں نے اسے کہا بھی تھا کہ چھٹی کر لے لیکن وہ میرے سر چڑھ کر کالج چلی گئی” وہ زور سے بولا تھا, شمیم بس تاسف سے اسے دیکھ کر رہ گئی
“مجھے دے فون ملا کر… کم از کم اس کے ماں باپ کو تو اطلاع کردیں” انہوں نے کہا, ولید نے چپ چاپ حسیب خان کا نمبر ملا کر موبائل انہیں پکڑا دیا, بڑی سرسری سے الفاظ میں اس نے حسیب خان کو مبرہ کے مس کیریج کی خبر دی تھی
ان پر تو جیسے ایک پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا, عابدہ کو تو چند ثانیے ان کی بات کا یقین ہی نہ آیا, وہ دونوں اسی وقت موٹر سائیکل پر, ہسپتال پہنچے تھے, راستے میں ہی حسیب خان نے خباب کو بھی کال کر دی تھی
شعیب لاہور اپنی ڈیوٹی پر ہوتا تھا اور زوہیب ملتان چلا گیا تھا سو فی الوقت خباب ہی میسر تھا
“کہاں ہے میری بچی…؟؟؟” عابدہ بھاگتی ہوئی شمیم کی طرف آئی تھیں, ولید انہیں دیکھ کر نظریں ادھر ادھر کر گیا
“ابھی تو اندر ہی ہے… نرس کہہ رہی تھی کہ پانچ منٹ تک وارڈ میں شفٹ کر دیں گے” شمیم نے کہا
“ہوا کیا تھا…؟؟؟” انہوں نے پوچھا
“بہن ہونا کیا ہے..؟؟؟ آج کل کی لڑکیاں دھیان تھوڑی رکھتی ہیں, دھڑا دھڑ گرم چیزیں کھاتی تھی اور دوائیں وغیرہ بھی وقت پر نہیں لیتی تھی… بس اسی وجہ سے حمل ضائع ہو گیا” شمیم نے سارا ملبہ مبرہ کے سر ہی دھر دیا تھا
پانچ منٹ بعد اسے وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا, خباب بھی آ گیا تھا, عابدہ تو بس مبرہ کے بے جان وجود کو دیکھ کر ساکت رہ گئیں, اس میں آنکھ تک کھولنے کی ہمت نہیں تھی
“امی…” بڑی مشکلوں سے اس کے لبوں سے نکلا تھا
“ہاں میری بچی…” عابدہ نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے اس کے بالوں میں انگلیاں چلائی تھیں
“امی میرا بچہ نہیں بچا نا…؟؟؟” وہ بولی تو آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے
“خدا کا شکر ادا کر مبرہ کہ تیری جان بچ گئی… اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں, پھر نواز دے گا, رونا بن کر میرا بچہ… بس کر دے…” وہ اسکا سر اپنی گود میں رکھتے ہوئے اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگی تھیں
“مبرہ تو تو میرا شیر بیٹا ہے نا… ؟؟؟ میں کیا کہتا ہوں بھلا کہ میرے تین نہیں چار بیٹے ہیں.. حوصلہ کر میرا بچہ, کوئی بات نہیں… اللہ پھر تیری سن لے گا” حسیب خان نے اس کا ہاتھ تھپتھپاتے ہوئے کہا تھا
“میری ایک بات کان کھول کر سن لو ولید… اگر اس سب میں تمہارا ذرا سا بھی ہاتھ نکلا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ” ولید کے انتہائی کروفرانہ تاثرات دیکھ دیکھ کر خباب کی بس ہوگئی تھی
“میں نے کچھ نہیں کیا.. ” وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے وہاں سے چلا گیا
چار گھنٹے بعد اسے ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا
” امی.. . میں نے آپ کے ساتھ جانا ہے” وہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی
” ہاں میرا بچہ.. میں اپنے ساتھ ہی لے کر جاؤں گی تجھے” عابدہ نے کہا او شمیم کو یہ فکر پڑ گئی تھی کہ کہیں مبرہ کے منہ سے سچ نا نکل جائے
………………………….
اس نے کالج سے ایک ہفتے کی چھٹی لے لی تھی, ظاہر ہے ڈی این سی کے فوراً بعد وہ سفر تو نہیں کر سکتی تھی, ایک ہفتے بعد شمیم کے کہنے سننے پر ولید اسے لینے آ گیا تھا
عابدہ تو اس کی شکل دیکھ کر ہی اس پر برس پڑی تھیں
” مبرہ کہیں نہیں جائے گی… جب تک اس کا ٹرانسفر نہیں ہو جاتا… تمہیں موت پڑ جاتی ہے نا اسے اسٹاپ تک چھوڑنے اور لینے کے لئے, تو اس کے بھائی ابھی زندہ ہیں… وہ اسے کالج چھوڑ بھی آیا کرینگے اور لے بھی آیا کرینگے” انہوں نے ببانگ دہل کہہ دیا تھا
“مبرہ کے ٹرانسفر کو تو آپ بھول جائیں آنٹی… یہاں لڑکیوں کے کالج میں سیٹ ہی نہیں ہے” وہ ڈھٹائی سے بولا
“چلو ٹھیک ہے… اگر ایسا ہے تو ایسا ہی سہی… میری بچی سکون سے اپنے گھر بیٹھی ہے اور تم بھی سکون سے اپنے گھر جاؤ” وہ بولیں
” بہن بات کو زیادہ بڑھاوا دینے کی ضرورت نہیں ہے… یہ سب کون سا ہم نے جان بوجھ کر کیا ہے, بس خدا نے ایسے ہی لکھا تھا, ولید شوہر ہے مبرہ کا… اس کے لئے برا تھوڑی چاہے گا” شمیم نے بات بنانی چاہی
” بہن آپ مجھے صرف یہ بتائیں…. کہ اس نے مبرہ کا اچھا کب چاہا ہے…؟؟؟” عابدہ نے کہا
“اب چاہے گا میری بہن.. میں وعدہ کرتی ہوں آپ سے ولید خود اسے اسٹاپ تک چھوڑا کرے گا اور واپسی پر گھر لے کر آیا کری گا” شمیم نے کہا
“مجھے اس دھوکے باز انسان کی کسی بھی بات پر کوئی اعتبار نہیں ہے… مبرہ کہیں نہیں جائے گی” عابدہ نے اٹل لہجے میں کہا تھا
اور انہوں نے سچ میں مبرہ کو اس کے ساتھ نہیں جانے دیا
ایک ڈیڑھ ہفتے بعد مہینہ ختم ہو گیا اور نئے مہینے کے خرچے دوڑتے ہوئے سر پر آگئے, شمیم کے تو ہاتھ پیر پھول گئے تھے, وہ ایک بار پھر ولید کو لے کر ان کی منت سماجت کرنے آگئیں
ولید کو ایک پرائیویٹ کالج میں جاب بھی مل گئی تھی, ایک بار پھر سے وہی رونا دھونا… ترلے منتیں , وعدے وعید… جوکے نہ جانے پورے بھی ہونے تھے یا نہیں
اور ایک بار پھر حسیب خان اور عابدہ اپنی ہی بیٹی سے ہار گئے تھے
وہ ایک بار پھر اس جہنم میں جانے کے لیے تیار تھی
عابدہ اسے بازو سے کھینچتے ہوئے اندر کمرے میں لے آئیں
“مبرہ… تجھے کیا ملے گا وہاں جا کر…؟؟؟” وہ رو پڑی تھیں
” امی آپ کو پتہ ہے کہ میں نے کبھی ہار نہیں مانی, بچپن سے لے کے اب تک میں نے جس بھی کام کا بیڑا اٹھایا…اسے ہمیشہ مکمل کیا ہے, میں نے کبھی کچھ ادھورا نہیں چھوڑا… امی آپ کا کہا, ابو کا کہا, شعیب بھائی کا کہا, ہمیشہ سب کا کہا مانا ہے اور زندگی میں پہلی بار میں نے آپ سب کا کہا رد کر کے ولید سے شادی کی ہے… امی میں نے اسے اپنی مرضی سے چنا ہے, صرف اس لئے کہ اس نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ سدھر جائے گا… صرف اس بات پر یقین کرکے کہ شاید میرے مقدر سے وہ سدھر جائے… شاید میرے مقدر سے وہ انسان بن جائے… اور مجھے اس رشتے کو بیچ میں نہیں چھوڑنا… مجھے اس رشتے کو وہاں تک لے کر جانا ہے جہاں تک لے جانے کی مجھ میں ہمت ہے, مجھے لڑنا ہے ابو… دنیا کیا کہے گی کی اپنی مرضی کی شادی بھی نہیں چلا سکی…؟؟؟” مبرہ روتے ہوئے کہتی چلی گئی
” کوئی کچھ نہیں کہے گا میری بچی… دنیا کو کسی سے کوئی سروکار نہیں ہے…” حسیب خان نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
” ابو سب کہیں گے… میں ہمیشہ اس گھر کے ایک کمرے کے کونے میں نہیں بیٹھی رہوں گی… مجھے باہر نکلنا ہے, سب سے ملنا ہے, سب کو فیس کرنا ہے, سب یہی کہیں گے کہ مبرہ خان اپنی مرضی کی شادی کو نہیں نبھا سکی… ابو یہ کھیل تھوڑی ہے کہ آج کھیلا اور کل کو تنگ آ گئے… میں نے رشتہ جوڑا ہے اس سے, میں نے شادی کی ہے اس سے, شوہر ہے وہ میرا اور میں بہت محبت کرتی ہوں اس سے… اور میں آخری دم تک پوری کوشش کروں گی اسے اپنی محبت سے سدھارنے کی… مجھے کسی کے منہ سے اپنے لیے یہ نہیں سننا کہ وہ مبرہ حسیب خان جو زندگی میں کبھی کسی مقام پر نہیں ہاری وہ اپنی زندگی کے سب سے اہم مرحلے پر ہار گئی… مجھے یہ نہیں سننا کے مبرہ حسیب خان کا اپنے لیے لیا گیا سب سے اہم ترین فیصلہ ہی غلط تھا… مجھے جانے دیں ابو, وہ میرا سسرال ہے اور امی آپ ہی کہتی ہیں نا کہ سسرال میکے کی طرح نہیں ہوتا…. مجھے جانے دیں, مجھے اسے آزما لینے دیں… مجھے دیکھ لینے دیں کہ میرا دل ولید احمد جیسے انسان پر کیوں آ گیا…؟؟؟ مجھ میں ابھی بہت ہمت ہے امی… مجھے ابھی اور لڑ لینے دیں, مجھے اس شخص کی اخیر دیکھ لینے دیں… یہ دیکھ لینے دیں کہ وہ کس دن اپنے ہاتھوں سے میرا گلا گھونٹے گا…” وہ اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی تھی
…………………………
اس کی اور روحا کی کافی دنوں سے سرد جنگ چل رہی تھی, اور مروان نے کئی بار اس کی جانب مصالحت کی پیش رفت کی تھی… لیکن اس بار روحاء نے اس کی کوئی بھی بات سننے سے صاف انکار کر دیا تھا
یہ دوسری بار ہوا تھا کہ مروان نے اسے صرف اور صرف اپنا ساتھ دینے پر اپنے پورے گھر والوں کے سامنے بےعزت کیا تھا, پورے گھر والوں کے سامنے اس پر ہاتھ اٹھایا تھا
کئی بار تو اس کے دل میں آیا کہ سعد کو کال کرے اور چپ چاپ اس کے ساتھ چلی جائے لیکن پھر یہ سوچ کر رک گئی کہ وہ اب صرف اس کا میکہ نہیں تھا, وہ سعد کی بیوی کا سسرال بھی تھا اور اس کے جا کر وہاں بیٹھ جانے سے اسے شکوے شکایات ہو سکتے
تھے
وہ بھی معمول کا ہی ایک دن تھا جب اسے ہلکا ہلکا درد شروع ہوا, پہلے پہل تو وہ اسے گیس پرابلم سمجھی, لیکن جب وہ شدت پکڑتا گیا تو اندازہ ہوا کہ لیبر پین ہی تھا
تقریبا گیارہ بجے کا وقت تھا جب اس نے مروان کو کال کی , مروان نے فوراً ہی اس کی کال رسیو کر لی تھی
“ہاں روحاء…؟؟؟” وہ جلدی سے بولا
“مروان… میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے, مجھے مسلسل درد ہو رہا ہے پلیز مجھے ہسپتال لے جائیں” وہ بیڈ پر بیٹھی لمبے لمبے سانس لے رہی تھی
” میں بس پانچ منٹ میں آ رہا ہوں…” مروان نے اتنا کہہ کر کال کاٹ دی اور واقعی پانچ منٹ بعد وہ گھر آ بھی گیا تھا
“روحاء… میری جان کیا ہوا…؟؟؟” وہ بھاگتا ہوا کمرے میں آیا تھا, اسی لمحے روحا کو شدید قسم کی درد کی لہر اٹھی, وہ بس دروازے کا کونا تھام کر اپنی چیخ کو منہ میں دباتی رہ گئی تھی
“روحاء میں نے ایمبولینس کو کال کی ہے… بس پانچ منٹ تک آ جائے گی” وہ اسکا نڈھال سا وجود دوبارہ سے بستر پر بٹھاتے ہوئے بولا تھا
“ایمبولینس کو کیوں کال کی…؟؟؟ گاڑی کہاں ہے..؟؟؟” روحاء نے اچنبھے سے اس کی طرف دیکھا
“وہ… گاڑی سروس کے لیے دی ہوئی ہے” مروان نے اس سے نظریں چرائی تھیں
” مروان… مجھ سے جھوٹ نہ بولیں , ابھی دو دن پہلے آپ نے گاڑی کی سروس کروائی ہے” روحاء نے اس کا جھوٹ پکڑ لیا
“یار میں کہہ رہا ہوں نا ایمبولنس آتی ہی ہوگی…” وہ اس کے پاس بیٹھتے ہوئے بولا
” مروان… ادھر دیکھیں میری طرف…” روحاء نے اس کا چہرہ اپنی طرف موڑا
“گاڑی کہاں ہے…؟؟؟” اس نے پوچھا
” روحاء… گاڑی بھی یہیں ہے, ہم ایمبولینس میں چلے جائیں گے تو پھر کیا ہے…؟؟؟” وہ بولا
“مروان میں نے وہ گاڑی صرف اور صرف سیر سپاٹوں کے لئے نہیں لی تھی… میں نے وہ گاڑی اسی قسم کے مشکل وقت کے لئے لی تھی, آخری بار پوچھ رہی ہوں کہ گاڑی کہاں ہے…؟؟؟” اس نے غصے سے مروان کو دیکھتے ہوئے پوچھا
“وہ… دراصل… گاڑی…” لیکن روحاء نے اس کی بات کاٹ دی
“اور مجھ سے جھوٹ نہ بولنا…” اس نے انگلی اٹھا کر کہا تھا
“گاڑی ایک دوست نے مانگی تھی… دو دن پہلے اسے دی ہے” وہ بولا
“کون سا دوست…؟؟؟”
“اب تمہیں کیا بتاؤں کون سا دوست…؟؟؟”
” مجھے اس دوست کا نام بتائیں… میں ابھی اسے کال کرکے کہتی ہوں کہ گاڑی واپس کر کے جائے, مجھے اسی گاڑی میں ہسپتال جانا ہے” روحاء کو پھر سے درد اٹھا تھا, وہ بس بستر کی چادر مٹھی میں دباتی دہری ہوتی چلی گئی, تبھی باہر ایمبولینس کا سارن سنائی دیا
“روحاء یار اٹھو… ایمبولینس آ گئی ہے” مروان نے اسے دونوں کندھوں سے تھام کر اٹھانا چاہا لیکن اس نے مروان کے دونوں ہاتھ بری طرح جھٹک دیے
“میں نے پوچھا… گاڑی کس کو دی…؟؟؟؟” وہ اپنے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کرتے ہوئے بولی تھی
“روحاء ضد کرنے کا وقت نہیں ہے.. تمہاری اس فصول سی ضد کی خاطر ہم دونوں اس بچے کو کھو دیں گے” مروان ذرا غصے سے آگے بڑھا تھا
“مروان خبردار جو آپ میرے پاس بھی ْآئے تو… مجھے ابھی اسی وقت بتائیں کہ گاڑی کس کو دی ہے…؟؟؟” وہ چیخ کر بولی تھی
“وہ… فرحان بھائی کے… کسی جاننے والے کو دی ہے…” مروان نے سچ بولنا ہی مناسب سمجھا, روحاء کے ہونٹوں پر ایک طنزیہ سے مسکراہٹ ابھر آئی, مروان اس کی نظروں کی تاب نہیں لا سکا تھا
“روحا… میری جان میرا جو گریبان کھینچنا ہے بعد میں کھینچ لینا… اس وقت ہسپتال چلو” وہ دوبارہ اس کی طرف بڑھا, روحاء اس سے دو چار قدم پیچھے ہو گئی
“مروان بھلے ہی میں اس کمرے میں آج مر جاؤں, لیکن ایمبولینس میں ہسپتال نہیں جاؤں گی” کپکپاتے ہوئے لبوں سے بمشکل کہتے ہوئے اس نے اپنا سیل اٹھایا تھا, اور ساجد مغل کو کال کی
“ابو… آپ کہاں ہیں…؟؟؟” مارے درد کے اس سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا
“میں شاپ پر ہوں… کیا ہوا…؟؟؟” وہ اس کی آواز سن کر ہی بوکھلا گئے
” ابو پلیز… ابھی اور اسی وقت آ جائیں , مجھے ہسپتال جانا ہے پلیز…” وہ بے دم سی ہو کر بستر پر گر گئی تھی
” روحاء…. بچے میں ابھی آ رہا ہوں, پانچ منٹ” روحاء نے زور سے اپنا موبائل دور پھینکا تھا
“روحاء… یہ مجھے نیچا دکھانے کا وقت نہیں ہے پلیز…” مروان نے ایک بار پھر اس کی منت کرنی چاہی
“مروان اگر اس وقت آپ میرے لئے کچھ کر سکتے ہیں نا… تو پلیز مجھ سے دور چلے جائیں” اسے شدید غصہ آ رہا تھا, مروان نے بے بسی سے اس کی طرف دیکھا, ایک بار پھر اپنے درد کو برداشت کرتی بستر پر اوندھی دوہری ہوتی چلی گئی
“روحاء… پلیز یار” مروان صحیح معنوں میں رونے کے قریب ہو گیا, اسے اپنی بیوی اور بچہ دونوں ہاتھوں سے نکلتے نظر آ رہے تھے لیکن روحاء پر اس کے آنسوؤں کا کوئی اثر نہیں تھا
پانچ منٹ بعد ہی اسے نیچے گاڑی کا ہارن سنائی دیا اور چند لمحوں بعد ہی ساجد مغل اور کوکب بھاگتے ہوئے اس کے کمرے میں آئے
” روحاء… بچے کیا ہوا…؟؟؟” کوکب کے تو ہاتھ پاؤں ہی پھول گئے تھے
” امی… مجھے ہسپتال لے چلیں” روحا کی سانسیں ٹوٹنے لگی تھیں, ساجد مغل نے اسے اپنے دونوں بازوؤں میں اٹھایا اور سیڑھیوں کی طرف بھاگے, یہ مروان سے پوچھ تاچھ کرنے کا وقت بالکل نہیں تھا مروان بھی ان کے ساتھ ہی فرحت کو لے کر ہسپتال پہنچا تھا
روحاء کی ڈلیوری شاید نارمل ہی ہوتی لیکن زیادہ وقت ہو جانے کی وجہ سے اس کی نارمل ڈلیوری میں پیچیدگیاں ہو گئی تھیں
“مائنر آپریشن کرنا پڑے گا…” لیڈی ڈاکٹر نے لیبر روم سے باہر آتے ہوئے کہا اور کچھ ہی دیر بعد اسے آپریشن تھیٹر میں شفٹ کر دیا گیا
اس نے اپنے ہی جیسی ایک خوبصورت سی بچی کو جنم دیا تھا جسے اپنے بازوؤں میں لیتے ہوئے مروان کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں
……………………
جاری ہے
