Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

گیارھویں قسط
وہ کالج جانا شروع ہو گئی تھی, صبح تو ولید اسے اپنے ساتھ لے جاتا تھا, لیکن دوپہر کے وقت وہ آفس میں مصروف ہوتا تھا, مبرہ کبھی تو چار بجے تک اس کے انتظار میں رکی رہتی, کبھی بس پکڑ کر آتی, کبھی رکشہ کروا لیتی
نوکری اتنی مشکل نہیں تھی جتنا اس کا آنا جانا مشکل ہو گیا تھا
وہ بھی ایسی ہی ایک رات تھی, ولید گھر آ گیا تھا, وہ چینج کرنے واش روم میں گھسا تو مبرہ اس کے لئے کھانا لینے چلی گئی
کچھ دیر بعد وہ ٹرے لیکر واپس آئی تو ولید ابھی تک واش روم میں ہی تھا, اس نے ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھی تو اس کا سیل بج اٹھا, سعد کی کال تھی
اس نے ریسیو کر لی, رسمی سا حال احوال جاننے کے بعد وہ اصل مدعے پر آیا تھا
“مبرہ دوبارہ جوائن کب کریں گی ؟؟؟” اس نے پوچھا
“سعد دراصل کالج سے واپس آتے آتے بہت دیر ہو جاتی ہے سو… مشکل ہی ہے کہ دوبارہ جوائن کر سکوں” وہ بولی, تبھی ولید واش روم سے نکل آیا
“مبرہ میرا تو کباڑہ نکل جاۓ گا آپ کے بنا… ” سعد کی بیچارگی پر اسے ہنسی آ گئی, ولید نے چونک کر اسے دیکھا
“آپ کسی اور کو مینیج کر لیں… “
“اور کوئی بھلا آپ جیسا intelligent ہو گا ؟؟” سعد نے کہا
“کوشش کریں… کوئی مل ہی جاۓ گا” وہ بولی, ولید بستر پر بیٹھ گیا تھا
“آپ پلیز کوشش کریں واپس آنے کی, کالج سے واپس آ کر شام میں یہاں آ جایا کریں” سعد نے کہا
“اچھا میں دیکھتی ہوں… پھر بتاتی ہوں آپ کو” وہ ولید کی تیوریاں دیکھتے ہوئے کال کاٹ گئی تھی
“یہ لیں… کھانا کھائیں ” اس نے ٹرے اٹھا کر ولید کے سامنے رکھ دی
“کس کا فون تھا ؟؟”اس نے پوچھا
“سعد مغل کا… دوبارہ سے کوچنگ سینٹر جوائن کرنے کا کہہ رہے ہیں” وہ ولید کے پاس ہی بیٹھ گئی
“ہنس کیوں رہی تھیں ؟؟” اس نے درشتگی سے پوچھا تھا
“کیا ؟؟؟” مبرہ سمجھ نا سکی
“اس کی بات پر ہنس کیوں رہی تھیں ؟؟” ولید نے ایک دم اس کا چہرہ دبوچ لیا تھا, مبرہ کی آنکھیں امڈ آئیں
“خبردار جو آئیندہ اس خبیث کا فون سنا تو.. ابھی ڈیلیٹ کرو اس کا نمبر” ولید نے اس کا جبڑا مضبوطی سے بھینچ دیا
“ولید چھوڑیں… ” وہ بلبلا اٹھی تھی
“کیا کہہ رہا تھا ؟؟؟”
“وہ بس… دوبارہ…. جوائن کرنے.. کا… ” مبرہ کی آواز حلق میں پھنس گئی
“کوئی ضرورت نہیں ہے سمجھیں… کالج سے واپس آ کر کچن سنبھالا کرو… ” ولید نے ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا تھا, وہ ایک طرف کو گر سی گئی, ولید قہر بار نظروں سے اسے گھورتا چلا گیا
“مجھ سے برداشت نہیں ہوتا کہ تم میرے علاوہ کسی اور سے بات کرو, یا کسی اور کی بات پر ہنسو… سمجھیں” وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا, مبرہ بمشکل سیدھی ہوئی
“اچھا نہیں کرتی اب اس سے بات… ” وہ اپنا جبڑہ دباتے کرتے ہوئے بولی تھی
“کھانا تو کھا لیں… ” وہ ٹرے دوبارہ اس کے آگے کرتے ہوئے بولی, ولید نے اسے رکھ کے گھورا
“پلیز… ” مبرہ نے لقمہ بنا کر اس کی طرف بڑھا دیا
“دور ہو جاؤ مجھ سے… ” وہ ایک دم کہتے ہوئے آگے کو ہوا اور اس سے پہلے کہ ہاتھ مار کر ٹرے کا ستیاناس کرتا, مبرہ نے یکدم اس کے لبوں پر اپنے لبوں سے قفل لگا دیا, ولید کی انگلیوں نے اس کے پچھلے سر کے بال جکڑ لئے تھے
سرخ شعلہ بنی آنکھوں سے اسے گھورتے ہوۓ ولید نے اسے بستر پر گرایا تھا
“سوری… بس” مبرہ اس سے ڈر سی گئی
“خمیازہ بھگتنا پڑے گا… میرا غصہ بس ایک سوری سے ٹھنڈا نہیں ہو گا” وہ لائیٹ آف کرتے ہوئے ایک بار پھر کسی درندے کا روپ دھار گیا تھا
……………………….
“انکل میں سب کچھ کرنے کو تیار ہوں, کچن کے ساتھ ہی میں نے لانڈری بنوا دی یے, واشنگ مشین مستقل وہیں رہے گی, اوپر کا کچن روحاء کے علاوہ اور کوئی استعمال نہیں کرے گا, اس کی چیزوں کو بھی اس کی اجازت کے بنا اور کوئی استعمال نہیں کرے گا… باقی جو آپ کہیں, جو روحاء کہے… میں کرنے کو تیار ہوں” مروان اگلے ہی دن بھاگا چلا آیا تھا
“مروان بیٹے روحاء کسی کی ذمہ داری نہیں ہے… سواۓ تیرے اور کوئی تیری ذمہ داری نہیں ہے… سواۓ تیری بیوی اور ماں باپ کے, میں یہ نہیں کہتا کہ کوئی ذمہ داری نا اٹھاؤ, لیکن تیری اولین ذمہ داری تیری بیوی ہے بیٹے… ” ساجد مغل نے کہا
“جہاں میری بیٹی غلط ہو گی میں اسے غلط کہوں گا… لیکن جہاں تو غلط ہو گا… وہاں تجھے غلط کہوں گا, حالانکہ یہ میری نازوں میں پلی اکلوتی بیٹی ہے لیکن میں نے پھر بھی اسے کبھی بدتمیزی کرنا, یا کسی سے زیادتی کرنا نہیں سکھایا, حالانکہ تیرے ماں باپ بھی اس کی ذمہ داری نہیں ہیں لیکن… یہ پھر بھی ان کی ہر طرح کی خدمت کرنے کو تیار ہے, لیکن صرف ان کی… اور کسی کی نہیں” وہ کہتے چلے گئے
“اسے خوش رکھنا, اس کی ضرورتیں پوری کرنا, اس کا ساتھ دینا فرض ہے تیرا مروان… اور یہ سب میں صرف تجھ سے نہیں کہہ رہا… یہ سب میں اپنے بیٹے سے بھی کہوں گا” وہ بولے
وہ بس سر ہلا کر رہ گیا, اسی شام وہ روحاء کو واپس لے گیا تھا
………………………..
دھیرے دھیرے اس پر سارے راز آشکارا ہونے لگے, بظاہر دیکھنے میں اس گھر میں چار افراد تھے… چار کماؤ افراد… لیکن حقیقتاً کمانے والا صرف ولید ہی تھا
اس کے سسر مارے باندھے ہی زمین داری کرتے تھے, زمین بھی نا ہونے کے برابر تھی, اسے بھی ٹھیکے پر دے رکھا تھا, وہاں سے بس جو ٹھیکہ آتا اس سے سال بھر کی گندم ہی پوری ہوتی تھی
چھوٹے دونوں انتہائی من موجی قسم کے لڑکے تھے, ایف اے کے بعد دونوں نے تعلیم چھوڑ دی تھی, ان میں سے ایک تو کسی سیاسی پارٹی کے ساتھ جڑا ہوا تھا اور دوسرا کرکٹ کا شوقین تھا, بس ہر لمحہ وہ دونوں اپنے شوق ہی پورے کرتے نظر آتے تھے
ولید اگر کسی کے کہے سنے سے انہیں کسی کام پر رکھوا بھی دیتا تو زیادہ سے زیادہ بھی وہ دونوں بس ایک آدھ مہینہ ہی نکالتے تھے… پھر سے موجیں, بس صبح و شام روٹیاں ہی توڑتے تھے
بڑی نند طلاق یافتہ تھی, وہ اپنے دو بچوں سمیت ولید کی ہی ذمہ داری تھی, ان تینوں کا ہر طرح کا پہننا, اوڑھنا, کھانا, پینا, دوا دارو, سب کچھ وہی کرتا تھا
چھوٹی دونوں ابھی پڑھ رہی تھیں, کالج کی فیسیں, رکشے کا خرچہ, ٹیوشن فیسیں… سب ولید کے سر پر… اور وہ دونوں ایک سے بڑھ کر ایک نکھٹو… مارے باندھے ہی ان سے کوئی کام ہوتا تھا
دھیرے دھیرے اسے ادراک ہوا کہ آخر اتنا سب کچھ ولید اکیلے کیسے مینیج کرتا تھا… ؟؟؟ کبھی اس سے پیسے پکڑ لئے, کبھی اس سے پکڑ لیے, مہینے کا راشن ادھار پر, دودھ ادھار پر, سبزی ادھار پر, بجلی کا بل مشکل سے ادا ہوتا تھا… نہ جانے کتنے لاکھ کا اس کے سر پر ادھار چڑھا ہوا تھا
اوپر سے ان کے اللے تللے, آۓ روز کے نت نئے کپڑے, جوتے, ہر روز کا فروٹ, فاسٹ فوڈز, پارٹیز… اور ان سب میں سر فہرست ولید خود تھا, وہ خود پر خرچ کرنے کے معاملے میں حد سے زیادہ شاہ خرچ تھا, مہنگے سے مہنگا کپڑا, تھری پیس, جوتے, پرفیوم, گھڑیاں… مہینہ کب شروع ہوا, سیلیری کب آئی اور کب ختم ہو گئی… کوئی پتہ نہیں…
دوستیاں پالنے میں بھی وہ تینوں بھائی شیر تھے, آۓ روز کے لنچ, ڈنرز, ناشتے…. پیسہ پانی کی طرح بہتا, خاص طور پر جو دیور سیاسی پارٹی سے جڑا ہوا تھا اس کا تو آیا گیا ہی ختم نہیں ہوتا تھا
آے روز دروازے پر تقاضا کرنے والے کھڑے رہتے, آۓ روز کی گالم گلوچ, مار پیٹ, لڑائی مار کٹائی….
دھیرے دھیرے اس پر ہولناکیاں افشاء ہونے لگیں, ولید کے کہنے پر کچن اس کے حوالے کر دیا گیا, کالج سےواپس آ کر ہنڈیا وہی بناتی تھی, پھر شام میں روٹیاں… صبح کا ناشتہ بھی آہستہ آہستہ اس کے حصے ہی آ گیا
صبح اٹھتے ہی وہ چاۓ بناتی, سالن گرم کرتی, ساس سسر کو ناشتہ دے کر اپنا اور ولید کا ناشتہ بنا کر کالج کی تیاری کرتی, نندیں آرام سے اپنے حساب کتاب سے سو کر اٹھتیں, صفائی کب ہوتی تھی اور کب نہیں کوئی پتہ نہیں… برتن کب دھلے کوئی پتہ نہیں… دوپہر میں واپس آ کر روٹیاں بناتی, سالن بناتی, سنک گندے برتنوں سے بھر جاتا, ظاہر ہے جو صبح کے برتن دھوتی وہ شام کے برتنوں کو کہاں ہاتھ لگاتی, شام کی روٹیاں بنا کر مبرہ ہی وہ گندے برتن دھوتی
پہلے پہل تو کھانے میں سو سو نقص نکلتے, کبھی نمک زیادہ, کبھی مرچ زیادہ…. کبھی چاۓ اچھی نہیں بنی, کبھی روٹی جل گئی… توبہ
بڑی مشکلوں سے روٹین سیٹ ہوتی گئی
عابدہ کا جب فون آتا, اس کے پاس ایک ہی جواب ہوتا
“سب ٹھیک ہے… “
جوائینگ کے بعد وہ صرف ایک بار میکے گئی تھی اور تب بھی ولید اسے دروازے پر ہی اتار آیا تھا
……………………….
روحاء کی مشکلات کافی حد تک کم ہو گئی تھیں, وہ اب زیادہ تر اوپر ہی رہتی تھی, سارا کام اوپر ہی نپٹایا کرتی تھی, ویسے بھی مروان نے اسے زیادہ اترنے چڑھنے سے منع کر دیا تھا
کاشف مرزا نے فرحان اور نعمان دونوں کو بلا کر سمجھایا تھا
“مروان اب اکیلا نہیں ہے… اس کی ایک عدد بیوی ہے جس کا اسے پورا خیال رکھنا ہے, اپنی بیویوں سے کہو کہ اس کی ذمہ داریاں ذرا کم کریں, جب چھٹی پر آتے ہو تو ان کے زیادہ تر کام نمٹا کر جایا کرو… ” وہ کہتے چلے گئے تھے
رابعہ کا منگیتر واپس آ گیا تھا اور اس کے آتے ہی اس کی شادی کی ڈیٹ فکس ہو گئی تھی, گھر میں شادی کے ہنگامے جاگ اٹھے, زیادہ تر کام مروان کے ہی ذمے تھے
اس کی اکیڈمی شہر کی ٹاپ اکیڈمی بن چکی تھی, جب سے مبرہ نے سعد کا کوچنگ سینٹر چھوڑا تھا, اس کے پاس سٹوڈنٹس کی تعداد اور زیادہ ہو گئی تھی, سعد نے جیسے تیسے مبرہ کی کمی کو پورا کرنے کی کوشش تو بہت کی تھی لیکن… مبرہ حسیب خان بس ایک ہی تھی
وہ بھلا اس جیسی دوسری کہاں سے لاتا ؟؟؟
وہ کہتے ہیں نا… کہ شہرت کا نشہ, دولت سے بھی زیادہ سر چڑھ کر بولتا ہے, یہ ہی نشہ مروان کو چڑھتا چلا گیا تھا, اور اس نشے نے اس کے تمام تر ظاہری عیب بڑی کامیابی سے چھپا دییے تھے
وہ اپنے ڈپارٹمنٹ کا ایچ او ڈی تھا… شخصیت میں پہلے سے کہیں زیادہ نکھار آ گیا تھا, صحت بھی پہلے سے اچھی ہو گئی تھی, اب تو روحاء نے اسے تھری پیس بھی پہنانے شروع کر دییے تھے, فرنچ کٹ ڈاڑھی کے ساتھ چشمہ لگاۓ وہ اچھا خاصا ڈیسینٹ لگنے لگا تھا
رابعہ کی شادی کے سارے انتظامات اسی نے سنبھالے تھے, فرحان اور نعمان کو بس ایک ہفتہ پہلے ہی چھٹی ملی, وہ دونوں تو مہمانوں کی طرح آۓ تھے, روحاء نے دل کھول کر اپنی اور مروان کی شاپنگ کی تھی
رابعہ کے ساتھ جانے کا سوال اٹھا تو فرحت نے روحاء اور مروان کو ہی بھیجا
زویا کو رو پتنگے لگ گئے کہ میں بڑی ہوں تو میں نے جانا تھا… نمرہ کا الگ سے منہ پھول گیا
“تم دونوں کے بچے کون سنبھالے گا پیچھے سے… روحاء کو جا لینے دو” فرحت نے کہا, شادی کے بعد پہلی بار روحاء کو کچھ سکون کا احساس ہوا تھا
اور شائد یہ پہلی بار تھا کہ سبھی نے ان کی جوڑی کو سراہا تھا, روحاء تو خیر تھی ہی شہزادی… مروان مرزا بھی کوششیں کرتے کرتے اس شہزادی کے برابر آ ہی گیا تھا
…………………………..
اسے روحاء کی کال آئی تھی… سعد کی ڈیٹ فکس ہو گئی تھی اور وہ اسے شادی میں بلا رہی تھی
“روحاء میں نہیں آ سکوں گی یار… ” مبرہ جانتی تھی کہ ولید مر کر بھی نہیں مانے گا
“کیوں… ؟؟؟ کونسے ہل جوتنے لگی ہوئی ہے تو وہاں ؟؟؟” روحاء کو حسب معمول اس پر غصہ آیا
“روحاء ولید کو اچھا نہیں لگتا… ” وہ کہہ ہی گئی, روحاء کو کسی طرح مطمئن بھی تو کرنا تھا
“کیا اچھا نہیں لگتا ؟؟؟”
“بس یہ ہی… فنکشنز وغیرہ ” وہ بولی
“واہ بھئی واہ… خود تو ولید احمد ہر فنکشن کی جان بنا ہوتا ہے, مروان بتا رہے تھے کہ مجال ہے جو کوئی شادی, کوئی منگنی, یا کوئی بھی اور فنکشن وہ اٹینڈ نا کرے… ” روحاء جل ہی تو گئی, مبرہ چپ رہ گئی
یہ سچ بھی تھا, چار بجے گھر آنے کے بعد ولید کا یہ آۓ روز کا وطیرہ تھا, کبھی کسی دوست کا ولیمہ, کبھی کسی کی منگنی, کبھی کسی کی پارٹی… نت نئے کپڑے, جوتے, اور کیا کچھ
“مبرہ… ؟؟؟” روحاء اس کی خاموشی کو بھانپ گئی
“ہاں… ” اس کی آواز ہی خالی سی تھی
“مبرہ تو خوش تو ہے نا ؟؟؟” اس نے پوچھا
“ہاں… میں خوش ہوں” وہ بولی تو آواز میں نمی سی گھل گئی
“مبرہ… تو رو رہی ہے ؟؟؟”
“نہیں تو… “
“جھوٹ بول رہی ہے نا ؟؟؟” روحاء پریشان ہو گئی تھی
“روحاء.. میں پھر کال کروں گی تجھے” مبرہ کال کاٹ گئی تھی
………………………
وہ اس دن ہنڈیا بنانے لگی تو سلنڈر ختم….
“آنٹی سلنڈر ختم ہو گیا ہے… ” اس نے ساس کو بتایا
“تو میں کیا کروں ؟؟” وہ تڑخ گئی
“منگوا کر دیں… ہانڈی نہیں بنانی ” وہ بولی
“میرے پاس تو ایک پیسہ بھی نہیں ہے… “
“پہلے کون بھرواتا ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“ولید ہی بھرواتا ہے” ساس نے کہا, اس نے ولید کو کال کی, وہ نہ جانے کس بات پر بھرا بیٹھا تھا
اس پر اچھا ہی برسا, مبرہ نے چپ چاپ کال کاٹ دی
“آنٹی کیسے بناؤں اب سالن ؟؟؟” وہ پریشان کھڑی تھی
“وہ پڑا ہے چولہا… اور بالن(لکڑیاں), جا کر وہاں بنا لے” وہ رکھائی سے بولیں, مبرہ کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے, اس نے بھلا کہاں کبھی لکڑیاں جلائی تھیں
“ارم… آگ جلانی آتی ہے تمہیں ؟؟؟”
“بھابھی توبہ کریں… “
“انعم تمہیں آتی ہے ؟؟؟”
“نہیں بھابھی… ” وہ دونوں موووی دیکھنے میں مگن تھیں, وہ بیچاری چپ چاپ پلٹ آئی, کچھ دیر لکڑیوں سے زور آزمائی کرتی رہی لیکن بے سود…دھوئیں سے آنکھیں سرخ ہو گئیں اور بھل بھل پانی بہنے لگا
ناچار وہ واپس اندر آ گئی
“عماد… سلنڈر تو بھروا دو, سالن بنانا ہے” وہ آنکھیں صاف کرتے ہوئے دیور کے کمرے تک آئی تھی
“بھابھی 3500 کا ہے… “وہ بولا, مبرہ نے چپ چاپ اسے پیسے لا دیئے
اور اس کے بعد تو بس سلسلہ ہی چل نکلا تھا, مہینے کے آخر پر دودھ کے بل پر اسقدر جھگڑا ہوا کہ خدا کی پناہ… مجبوراً وہ پیسے بھی مبرہ نے ہی دیئے, دھیرے دھیرے ہر چھوٹا موٹا خرچہ اسی کے پلے پڑنے لگا
“ولید…. ہمیں کچھ سیونگ بھی کرنی چاہئے, آگے کو فیملی بڑھ جاۓ گی” وہ اٹھتے بیٹھتے پریشان ہوتی تھی
“کر لیں گے سیونگ بھی… ساری عمر پڑی ہے ابھی, تم ذرا دس ہزار دو بجلی کا بل دینا ہے, میرے پاس نہیں ہیں… ” چلو جی بات ختم
اور پھر یہ وطیرہ ہی بن گیا, وہ ساس یا دیوروں میں سے کسی کو بھی کوئی کام کہتی تو فٹ سے پہلے پیسے کا سوال ہو جاتا, گھر میں کوئی مہمان آ جاۓ, مبرہ پیسے دے دو, کوئی چیز ختم ہو جاۓ, مبرہ منگوا دو, سسر تک اس سے پیسے مانگنے لگا تھا
اور اس بیچاری کی حالت یہ ہو جاتی کہ مہینے کے آکر میں وہ خود پائی پائی کو ترس جاتی تھی
“بھابھی پانچ سو دینا… فیشل کروانا ہے”
“بھابھی ہزار روپے دینا… میرے کچھ مہمان آۓ ہیں”
“بھابھی ایک سوٹ ہی لے دو مجھے… “
“مبرہ مینوں وی ایک سوٹ لے دے… ” ساس
“مبرہ مینوں جوتی لے کے دے اس مہینے…. ” سسر
“مبرہ میرے انس کو سائکل لیکر دینی ہے تو نے… وڈی مامی ہے تو اس کی” بڑی نند
الغرض.. سبھی نے اسے بینک سمجھ لیا تھا
………………………..
اس دن روحاء نے ڈاکٹر کے پاس جانا تھا, مروان کو اس نے صبح ہی جلدی آنے کا کہہ دیا تھا, ایک بجے کی اپائنٹمنٹ تھی
وہ انتظار کرتی رہی… مروان دو بجے بھی نا آیا, اس نے کال کی تو نمبر بند
وہ شام چار بجے گھر آیا
“کہاں تھے آپ ؟؟؟ میں نے کہا بھی تھا کہ ڈاکٹر کے پاس جانا ہے” وہ پھٹ پڑی
“روحاء یار نعمان بھائی کی کال آئی تھی, ان کا کوئی بینک کا کام تھا, بس وہیں دیر ہو گئی” وہ شرمندہ سا بولا
“کل چلیں گے… لازمی” وہ خود بھی تھک گیا تھا
اگلے دن وہ پھر نا آیا
“مروان کہاں ہیں آپ ؟؟؟”
“بس آ رہا ہوں… امی نے راشن کا فون کر دیا تھا” وہ بولا, روحاء کلس کر رہ گئی, ابھی وہ گھر آیا ہی تھا کہ زویا نے روک لیا
“مروان بچوں والا رکشہ خراب ہو گیا ہے… بھاگ کے انہیں تو سکول سے لے آؤ” ناچار وہ اسی وقت بھاگا اور بچوں کو لیکر آیا, تب تک دو بج گئے
“چلو روحاء… ” وہ افراتفری میں بھاگتا ہوا اوپر آیا تھا
“پہلے اپنی بھابھیوں سے پوچھ لیں کہ اور کچھ تو نہیں کروانا آپ سے… ؟؟؟” وہ تڑخ گئی
“اچھا یار غصہ نا کرو… چلو آؤ” وہ باہر نکلتے ہوئے بولا, روحاء بس اسے گھورتے ہوۓ باہر نکل آئی
“مروان یہ سامان تو لے آنا آتے ہوئے… ” نمرہ نے اسے ایک لسٹ تھمائی تھی
“ہم لوگ ڈاکٹر کے پاس جا رہے ہیں…. شاپنگ کرنے نہیں جا رہے” روحاء نے بھڑک کر کہتے ہوئے وہ لسٹ نمرہ کے آگے پھینک دی
“چلیں جلدی… ” وہ مروان کا ہاتھ پکڑ کر باہر نکل آئی تھی
…………………….
وہ کچن نمٹا کر کمرے میں آئی تو ولید کہیں جانے کی تیاریوں میں تھا
“کہاں جا رہے ہیں ؟؟؟” اس نے پوچھا
“ایک دوست کا ولیمہ ہے… ” وہ بال بناتے ہوئے بولا, مبرہ نے ایک نظر اسے دیکھا, وہ نیوی بلو تھری پیس ابھی کل ہی خرید کر لایا تھا اور اس میں کوئی شہزادہ ہی لگ رہا تھا
“ایک بات کہوں ؟؟؟”وہ اس کے قریب چلی آئی
“ہاں…”ولید بے خود پر پرفیوم چھڑکا تھا
“روحاء کافی اصرار کر رہی ہے… آج سعد کا بھی ولیمہ ہے, میں چلی جاؤں ؟؟؟” اس نے ولید کے کندھے پر اپنا چہرہ رکھتے ہوئے پوچھا
“کتنا ضروری ہے تمہارا جانا ؟؟؟” اس نے پوچھا
“ولید جب سے شادی ہوئی ہے میں کہیں نہیں گئی…. پلیز وہ میری بیسٹ فرینڈ ہے, جاتے ہوئے مجھے وہاں چھوڑ دینا” اس نے منت کی تھی
“مبرہ… پچھلی ساری یاری دوستیوں پر اب مٹی ڈال دو, زہر لگتی ہیں مجھے یہ اوٹ پٹانگ قسم کی دوستیاں… اور وہ روحاء تو مجھے ویسے بھی اچھی نہیں لگتی” وہ تڑخ گیا
“مجھ سے جڑا کوئی رشتہ اچھا بھی لگتا ہے آپ کو ؟؟؟” وہ بولی
“مبرہ… فضول بحث نا کرو” ولید نے بری طرح اسے جھٹک کر پیچھے کو ہٹایا تھا, پھر اپنا کوٹ اٹھا کر پہننے لگا, مبرہ بس خاموش سی بستر پر لیٹ گئی
وہ اپنا موبائل اور بائیک کی چابیاں اٹھاتے ہوئے باہر نکل گیا تھا
آنسوؤں کو اندر ہی اندر پیتے ہوئے وہ لیٹ گئی, بہت دیر تک تو نیند ہی نا آئی, رہ رہ کر ولید کے روئیے پر افسوس ہوتا رہا
اس کی شادی کو چار ماہ ہونے کو آۓ تھے اور ان چار ماہ میں سواۓ وہ لمحہ جب ولید کو اس کی ضرورت ہوتی تھی… اس کے علاوہ ان دونوں کے بیچ کوئی خوشنما پل نہیں تھا, نا ہی وہ اسے کہیں گھمانے لیکر گیا تھا, نا ہی وہ اسے کسی دعوت پر لیکر جاتا تھا اور اگر کبھی قسمت سے لے بھی جاتا تو اس کا آدھا خاندان ساتھ جاتا تھا
ہر گزرتے لمحے کے ساتھ زندگی اس پر بوجھ بنتی جا رہی تھی, اس کے ماں باپ کا کہا ایک ایک لفظ درست تھا… شکل و صورت کے سہارے زندگی نہیں گزرتی… اور یہ سچ تھا, ولید کا ساتھ صرف اس کے لئے اذیت کا باعث تھا
اچانک اسے روحاء کی کال آنے لگی, ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے اس نے اپنے آنسو پونچھے اور اس کی کال ریسیو کر لی
“دیکھ لے تو اپنے کام مبرہ… آ جاتی تو کیا تھا ؟؟؟” وہ بھڑک ہی پڑی
“روحاء یار ولید کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی بس اسی وجہ سے… ” روحاء نے اس کی بات کاٹ دی
“جھوٹی عورت… ولید خود تو یہاں آیا ہوا ہے” ایک پہاڑ تھا جو مبرہ کے سر پر آن گرا
“سچ بتا… وہ جان بوجھ کر تجھے نہیں لیکر آیا نا ؟؟؟” روحاء نے کہا
“نہیں روحاء.. میں بس… ” وہ رو ہی پڑی تھی
“مبرہ…. یار رو کیوں رہی ہے… ؟؟؟” روحاء ایک دم پریشان ہو گئی, مبرہ نے کال کاٹ کر موبائل ہی آف کر دیا
دل جیسے دکھ کی اتاہ گہرائیوں میں گرتا جا رہا تھا, بار بار آنسو بہہ نکلتے, وہ گال رگڑ رگڑ کر بھی تھک گئی
ولید جان بوجھ کر اسے ساتھ نہیں لیکر گیا تھا, وہ اکثر ہی اسے کہیں بھی اپنے ساتھ نہیں لیکر جاتا تھا, اور وہ جانتی تھی کہ وجہ اس کی ڈاؤن پرسنیلٹی تھی
رات بارہ کے قریب وہ گھر آیا, مبرہ کو جاگتے دیکھ کر حیران ہوا تھا
“تم ابھی تک نہیں سوئیں ؟؟؟” اس نے لائیٹ آن کرتے ہوئے پوچھا اور کوٹ اتار دیا
“آپ سعد کے ولیمے میں گئے تھے نا ؟؟؟” مبرہ نے پوچھا, وہ ایک دم اس کی طرف مڑا, مبرہ ستے ہوۓ چہرے کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی
“ہاں گیا تھا… پھر ؟؟؟”
“اگر مجھے بھی لے جاتے تو کیا تھا ؟؟” اس نے کہا
“تم بے وہاں جا کر کرنا کیا تھا ؟؟؟”
“آپ نے وہاں جا کر کیا کیا ؟؟؟” وہ اس کے مقابل آ گئی
“مبرہ.. بکواس بند کر لو” ولید کو غصہ آ گیا
“ولید آج آپ. مجھے بتائیں گے کہ آخر میرا قصور کیا ہے… ؟؟؟ بس اتنا کہ میں نے آپ سے شادی کر لی ہے” اس کا سارا ضبط ہی کھو گیا
“آخر کمی کیا مجھ میں… ؟؟؟ اندھی ہوں میں, یا کانی ہوں, یا ہونٹ کٹے ہوئے ہیں میرے… یا معذور ہوں میں… یا لنگڑاتی ہوں, یا رعشہ ہے مجھے, مبہ سے بلغم گرتی ہے… کیا ہے مجھے جو اپنے ساتھ کھڑا کرتے ہوئے شرم آتی ہے آپ کو ؟؟؟” وہ چیخ پڑی تھی
ولید کے زور دار طمانچے نے اس کا گال سرخ کیا تھا
“زبان. بند کر لو ورنہ کاٹ دوں گا” وہ انگلی اٹھاتے ہوئے بولا
“مجھے کیوں نہیں لیکر گئے ؟؟؟” وہ دوبارہ کھڑی ہو گئی تھی
“میری مرضی… ” ولید نے شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے اسے گھورا
“میں بتاؤں آپ مجھے ساتھ کیوں نہیں لیکر گئے… ؟؟؟ کیونکہ آپ ڈرتے ہیں مجھ سے, میرے مقدر سے, احساس کمتری ہے آپ کو کہ آپ کی بیوی کی پوسٹ آپ سے اچھی ہے…” وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھتے ہوۓ بولی
“چلو شکر ہے تمہیں یہ بات تو سمجھ آ گئی کہ میں نے تم سے شادی کیوں کی تھی ؟؟؟ ذرا ایک نظر دیکھو خود کو… کہاں سے تم ولید احمد کے قابل ہو… ؟؟؟ میرے ساتھ کھڑی ہو کر نوکرانی لگتی ہو تم میری” وہ طنزیہ سا ہنسا
“مجھے جان بوجھ کر نوکرانی بنا دیا ہے آپ نے… جان بوجھ کر مجھے ذلیل کرتے ہیں آپ مجھے, جان بوجھ کر آپ نے مجھے بتیس کلو میٹر دور پھینک دیا… ” وہ زور سے بولی تھی اور ولید کی برداشت ختم ہو گئی
کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوئے اس نے اپنی پینٹ سے بیلٹ کھینچی تھی
“میں نے کہا تھا بکواس بند کر لو… ” اس نے زناٹے سے بیلٹ اسے مارا, مبرہ کی چیخ نکلی تھی
“خبردار جو مجھے مارا… ” وہ چیختے ہوئے بولی اور جواباً ولید کو قہر چڑھ گیا
پے درپے وہ اس کے بدن پر بیلٹ سے نشان ڈالتا چلا گیا تھا
……………………..
جاری ہے