Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

دسویں قسط
“امی میں نے واپس اس گھر میں جانا ہی نہیں ہے… ہر دوسرے دن مجھے کٹہرے میں بلا کر کھڑا کر لیتے ہیں, جیسے میں کوئی عادی مجرم ہوں, خدا کی قسم زویا اور نمرہ نے اس کچن بننے کے پیچھے مجھے ذلیل کر دیا کہ ہم بھی تو ہیں… سات سال سے یہ ہی کچن استعمال کر رہی ہیں… یہ کوئی انوکھی ہے, یہ کوئی نرالی ہے… اور جب بن گیا تو حق جمانے بھی آ گئیں … ” اس نے گھر آتے ہی ایک طوفان کھڑا کر دیا تھا
موقع محل دیکھتے ہوئے مروان اسے دروازے پر ہی اتار کر چلا گیا تھا
“مروان کچھ نہیں کہتا… ؟؟؟” کوکب نے پوچھا, ساجد مغل الگ پریشان بیٹھےتھے
“توبہ کریں…. منہ سی کر بیٹھا رہتا ہے بس” وہ ستی پڑی تھی
“یقین کریں امی ان دونوں کی باتوں پر آنکھیں بند کر کے اعتبار کرتے ہیں سب اور مجھے کسی کریمینل کی طرح ٹریٹ کیا جاتا ہے… وہ سب ایک طرف اور میں اکیلی… میرا تو شوہر بھی میرے ساتھ نہیں ہوتا” وہ رو ہی پڑی
“اچھا بس کر… رونا بند کر بچے” کوکب کو اس پر ترس آیا تھا
“امی خدا کی قسم میں نے اس گھر میں جا کر ایسی ایسی باتوں پر بھی کمپرومائز کیا ہے کہ جنہیں میں کبھی ضروری بھی نہیں سمجھا کرتی تھی, مروان کو تو گھر پر ٹکنے ہی نہیں دیتیں وہ دونوں… ادھر وہ گھر آیا, ادھر ان کے کام شروع… نوکر بنایا ہوا ہے اسے… ” روحاء کہتی چلی گئی, کوکب بس تاسف سے اسے دیکھتی رہ گئی تھیں
اگلے ہی دن ساجد مغل نے مروان کو کال کر کے گھر آنے کا کہا… وہ بیچارہ گھر والوں کی بھی سن سن کر بیٹھا تھا, سسرال کی بھی سننے چلا آیا
“امی بس ان سے یہ پوچھ لیں کہ یہ بولتے کیوں نہیں ہیں… ؟؟؟ جس زبان سے مجھ سے باتیں کرتے ہیں وہ گھر والوں کے آگے گنگ کیوں ہو جاتی ہے؟؟؟” روحاء اسے دیکھتے ہی پھٹ پڑی
“مروان بیٹے مسئلہ ہے کیا آخر ؟؟؟” ساجد مغل نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
“انکل مسئلہ تو کوئی بھی نہیں ہے… مجھے صبح ہی بتا دیتی کہ کپڑے دھونے ہیں تو میں صبح ہی اس کی واشنگ مشین نیچے اتار جاتا… ” وہ سر جھکاتے ہوۓ بولا
“ابو مسئلہ صرف یہ ہے کہ یہ بندہ میری فیور میں ایک لفظ بھی نہیں بولتا…گھر کی ساری ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے, ہر چھوٹا بڑا کام انہوں نے کرنا ہوتا ہے, زیادہ تر روزانہ کے خرچے بھی یہ ہی اٹھاتے ہیں, دونوں بھابھیوں کے نوکر الگ سے بنے ہوئے ہیں… لیکن اس سب کے باوجود ایک ٹکے آنے کی عزت نہیں ہے ان کی گھر میں, زویا اور نمرہ اتنے ٹہکے سے رہتی ہیں حالانکہ ان کے شوہر دوسرے شہر ہوتے ہیں لیکن میں… مجھے راستے کا پتھر سمجھ لیا ہے سب نے ” روحاء نے کہا
“انکل ایسا نہیں ہے… ” مروان دھیما سا بولا
“ایسا ہی ہے ابو… زویا اور نمرہ کو پتہ ہے کہ مروان اگر روحاء کی سننے لگ گیا تو ان دونوں کا کیا بنے گا… ؟؟؟ تبھی ہر دوسرے دن میری عدالت لگوا دیتی ہیں وہ دونوں… اسقدر بے عزتی کہ حد نہیں…. “وہ رو پڑی تھی
“انکل ایم سوری…. مجھے تو پتہ بھی نہیں تھا کہ کیا ہوا ؟؟؟ میں ابھی گھر پہنچا ہی ہوں اور یہ بیگ اٹھا کر باہر نکل آئی” وہ بولا
“مروان یہ تو کوئی تک نا ہوئی کہ ہر مہینے یہ میکے آ کر بیٹھ جاۓ, ہم نے شادی کی ہے اس کی کوئی کھیل تھوڑی کھیلا ہے… ” کوکب کو بھی غصہ آ گیا
“مروان بیٹے عزت سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا… محبت بھی نہیں, اور اگر تو روحاء کو اس گھر میں عزت ہی نہیں دلوا سکتا تو پھر کیا فائدہ ؟؟؟” ساجد مغل نے کہا
“انکل آئیندہ ایسا نہیں ہو گا… میں اسے اوپر کچن کے ساتھ ہی لانڈری بنوا دیتا ہوں” وہ بولا
“نہیں… مجھے گھر ہی الگ لیکر دیں” روحاء نے کہا, مروان نے بیچارگی سے اس کی طرف دیکھا
“الگ گھر لینا انتہائی مشکل ہے روحاء… ” وہ بولا
“تو جب آسان ہو گا تب لے لینا… اور مجھے لے جانا, میں اس جنجال پورے میں تو نہیں جاؤں گی کسی صورت… ” روحاء نے فیصلہ سنا دیا تھا
………………………….
ولید کے کسی دوست نے ان کی دعوت کی تھی, بلایا تو اس بیچارے نے صرف ان دونوں میاں بیوی کو تھا لیکن ایک ایک کر کے ولید کی ماں, باپ, سب سے چھوٹی بہن اور بڑی نند کا بیٹا بھی تیار ہو گیا, اسے اسقدر جم غفیر کے ساتھ جاتے انتہائی شرمندگی ہو رہی تھی
ولید نے کسی دوست سے گاڑی مانگی تھی, دعوت تو خیر جیسی تھی وہ ایک الگ ہی داستان ہے, وہاں سے واپس آتے آتے رات کے گیارہ بج گئے, گاڑی رکتے ہی وہ چپ چاپ نیچے اتری اور کمرے میں چلی آئی
کامدار ریشمی سوٹ کے ساتھ اس نے کندھوں پر شال ڈال رکھی تھی, کمرے میں آتے ہی اس نے شال اتار کر صوفے پر ڈالی اور دوپٹے کی پنیں اتارنے لگی, دفعتاً ولید اندر آیا تھا, مبرہ نے اس کی طرف دیکھا بھی نہیں, بس خاموشی سے دوپٹہ صوفے پر اچھالتے ہوۓ جھک کر سینڈلز کے سٹریپ کھولنے لگی, ولید نے اپنا سیل چارجنگ پر لگاتے ہوئے ایک نظر اسے دیکھا
آج سبھی نے اس کی بہت تعریف کی تھی, سیاہ اور گولڈن امتزاج کے نفیس سے کامدار سوٹ میں اس کی گندمی رنگت نکھر سی گئی تھی, گول ذرا گہرا سا گلا, فٹنگ والی شرٹ, آدھی آستینیں, تنگ سا پاجامہ, بالوں کو رف سا فولڈ کیا ہوا تھا, ہلکا پھلکا میک اپ اور لائیٹ سی جیولری پہنے وہ دیکھنے میں اچھی خاصی. پیاری لگ رہی تھی
ولید کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی, دراصل ایک تو ولید احمد کی وجیہہ شخصیت کے سامنے وہ ذرا ماند پڑ جاتی تھی اور دوسرے وہ اس کے مقابلے میں خود کو کچھ زیادہ ہی انڈر ایسٹیمیٹ کرتی تھی, حالانکہ بظاہر دیکھنے میں وہ اتنی گئی گزری بھی نہیں تھی
ولید دھیرے سے اس کے قریب چلا آیا, وہ جوتے اتار کر جیسے ہی سیدھی ہوئی, ولید کے دونوں بازو اس کی کمر کے گرد حصار بنا گئے, بڑے حق سے اس کے کندھے پر اپنا چہرہ رکھتے ہوئے ولید نے اس کی خوشبو کو اپنی سانسوں میں اتارا تھا
“اب ناراض ہی رہنا ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“آپ کو کوئی فرق پڑتا ہے ؟؟؟” وہ بولی, ولید نے اس کا چہرہ اپنی طرف موڑا
اس کے چہرے اور لبوں کے کناروں پر ابھی تک ولید کی پرسوں رات والی حیوانیت کے نشان موجود تھے, اس نے دھیرے سے اپنے لب دوبارہ سے ان نیلے نشانوں پر رکھ دیئے
“اچھا سوری… ” ولید کے کہتے ہی اس کی آنکھیں بھر آئیں
“ولید آپ کو پتہ بھی ہے کہ آپ نے میرے ساتھ شادی کے محض دو ہفتے بعد ہی کیا کیا ہے ؟؟؟” وہ بولی تو آنسو گالوں پر لڑھک آۓ
“Merrital Rape… “
وہ بولی
“کوئی خدا کا خوف کرو مبرہ… میں نے بس اپنی بیوی سے اپنا حق وصول کیا ہے اور بس” وہ بولا, مبرہ بس خاموشی سے رخ موڑ گئی
“مبرہ… میری جان, میری بات سنو” وہ اسے بستر تک لیکر آیا تھا
“مجھے کسی بات پر انکار مت کیا کرو, پورا گھر جانتا ہے کہ مجھے اپنی کسی بھی بات کے جواب میں انکار سننے کی عادت نہیں ہے سمجھیں, میں جب جب تمہارے پاس آؤں, تب تب بانہیں کھول دیا کرو, بس” وہ اسے بستر پر گراتے ہوئے اس کے اوپر جھک آیا تھا, مبرہ بس تاسف سے اسے دیکھتی رہ گئی
وہ اس کا چناؤ تھا… سو شکوے کا کوئی اختیار نہیں تھا
………………………….
اسے جاب سٹیشن choose کرنے کے لئے کال آ گئی تھی, ایک ہفتے بعد اسے لاہور جانا تھا
“ڈسٹرکٹ کالج سلیکٹ کرو گی نا ؟؟؟” وہ اپنے کپڑے نکال رہی تھی جب ولید نے پوچھا, مبرہ نے اچنبھے سے اسے دیکھا
“کیوں ؟؟؟ اپنا شہر سلیکٹ کروں گی” وہ بولی
“اپنے شہر میں کیا ہے ؟؟؟” ولید نے اس کی طرف دیکھا
“کیا مطلب ؟؟؟”
“مطلب یہ کہ ڈسٹرکٹ کالج سلیکٹ کر لینا… بس” ولید اس کے قریب آتے ہوئے بولا
“ولید وہ بتیس کلو میٹر دور ہے, مجھے جب اپنے شہر کے کالج میں ویکینسی مل رہی یے تو میں اتنی دور کیوں جاؤں.. ؟؟؟ روز کا سفر…” وہ بولی
“میں بھی تو جاتا ہوں” وہ بولا
“آپ کی تو مجبوری ہے…. مجھے کونسی سزا ہو گی ؟؟؟” وہ بولی
“دیکھو مبرہ… میں نے بھی تو روز جانا ہوتا ہے نا, ہم دونوں چلے جایا کریں گے” وہ بولا
“اور واپسی ؟؟؟ آپ تو چار بجے آیا کریں گے ” اس نے پوچھا
“واپسی کا بھی ارینج کر لیں گے” وہ اسے کندھوں سے تھام کر بولا
“ولید بہت مشکل ہو جاۓ گی… آپ کی تو مجبوری ہے, مجھے تو نا پھنسائیں پلیز… یہاں سٹوڈنٹس بھی جانتے ہیں مجھے اور سٹاف بھی… ” وہ بولی, ولید کی آنکھوں میں غصہ اتر آیا
“تمہیں ایک دفعہ کی بات سمجھ کیوں نہیں آتی… فضول بحث کیوں کرتی ہو” وہ درشتی سے بولا
“کیونکہ میری پوری زندگی کا سوال ہے… میں لا محدود مدت کے لئے وہاں پھنس جاؤں گی… ولید آگے پریگنینسی ہو جاۓ گی تو ؟؟؟” وہ اس کے قریب آتے ہوئے بولی
“تو میں ہوں نا تمہارے ساتھ ” ولید نے کہا, مبرہ نے ایک لمبی سانس بھری تھی
ولید احمد کا ساتھ صرف اس کے لئے پریشانیاں ہی کھڑی کر رہا تھا
…………………….
روحاء کو میکے آۓ تین ہفتے ہو چکے تھے, اس دوران مروان دو بار اسے منانے آیا تھا لیکن اس کی ایک ہی رٹ تھی کہ اس گھر میں واپس نہیں جانا… پھر ایک دن فرحت اور کاشف مرزا دونوں آ گئے, مروان بھی ان کے ساتھ تھا
“اب کیا ڈیمانڈ ہے آپ کی بیٹی کی بہن… ؟؟” فرحت کا لحجہ کوکب کو اچھا نہیں لگا تھا
“بہن مجھے بس اتنا بتا دیں کہ اگر کل کلاں کو آپ کی اکلوتی بیٹی کے سسرال والے اسے یوں روز روز بے عزت کریں تو آپ چپ رہیں گی کیا ؟؟؟” کوکب نے کہا
“کیا بے عزت کر دیا اسے ہم نے ؟؟؟” روحاء بھی وہیں تھی
“میں نے اس دن آپ سے کہا کہ نمرہ نے میرے کردار پر انگلی اٹھائی ہے لیکن آپ نے اسے کچھ نہیں کہا… ہر بار زویا اور نمرہ کی شکایت کے جواب میں آپ مجھے اپنے کمرے میں بلا کر کھڑا کر لیتی ہیں اور… پھر مروان کو بھی نہیں بولنے دیتیں” روحاء نے کہا
“روحاء بیٹے اگر نمرہ کچن استعمال کر بھی لے تو کیا مضائقہ ہے ؟؟؟” کاشف مرزا نے کہا
“تو اگر میں نے اس کی واشنگ مشین استعمال کر لی تھی تو کیا ہو گیا تھا انکل ؟؟” وہ پھٹ پڑی
“دراصل غلطی ہماری ہے کاشف صاحب… ہم نے کچھ بھی نہیں دیکھا, نا یہ دیکھا کہ روحاء کے حصے صرف ایک کمرہ آۓ گا, نا یہ دیکھا کہ آپ کے سارے گھر کی ذمہ داری مروان کے کندھوں پر ہے, کچھ نہیں دیکھا… صرف مروان کا خلوص دیکھا, صرف یہ دیکھا کہ اسے روحاء کی کتنی قدر ہے ؟؟؟ اور یہ ہی ہماری غلطی تھی… ” ساجد مغل کہتے چلے گئے
“ایسی بات نہیں ہے ساجد صاحب… ہمیں آج بھی روحاء کی بہت قدر ہے” وہ بولے
“تبھی یہ ہر بار بس خاموشی سے اپنی بیوی پر اٹھتی ہوئی انگلیاں برداشت کر لیتا ہے” کوکب نے غصے سے کہا
پورے دو, ڈھائی گھنٹے بحث ہوتی رہی, مروان کے پاس معذرت کے چند بولوں کے علاوہ کہنے کو کچھ بھی نہیں تھا
“الگ گھر… بس” روحاء کی یہ ہی ضد تھی
“روحاء میں افورڈ نہیں کرسکتا ابھی… ” مروان نے کہا
“تو جب افورڈ کرنے والے ہو جائیں گے تب آ جانا” وہ کہہ کر اٹھ گئی تھی
………………………
آج عابدہ اور شعیب اس سے ملنے آۓ تھے, اس نے واشنگ مشین لگائی ہوئی تھی, کام تو وہ گھر پر بھی کرتی تھی لیکن شادی کے محض ایک ماہ بعد ہی اسے کپڑے دھوتے دیکھ کر عابدہ کا دل کھٹا ہو گیا
“تین تین نندیں ہیں تیری… بس اتنا ہی چاؤ تھا انہیں بھابھی لانے کا” ان سے رہا نا گیا
“امی چپ کریں… کوئی بات نہیں ” مبرہ انہیں اندر لے آئی
“تجھے کیا ہوا ہے ؟؟؟” عابدہ اسے دیکھ کر حیران تھیں
“مجھے کیا ہوا ہے ؟؟؟” وہ بھی اسی حیرانی سے بولی
“شکل دیکھ اپنی… جیسے برسوں کی بیمار ہو, اور یہ نیل کس چیز کے ہیں ؟؟؟” وہ آخر کو ماں تھیں
“امی کچھ نہیں ہے… میں چاۓ لیکر آتی ہوں” وہ اٹھ کھڑی ہوئی, تینوں نندوں میں سے کوئی پاس بھی نا پھٹکی, مبرہ نے خود ہی چاۓ بنائی, کباب فرائی کئے اور ٹرے میں رکھ کر لے آئی
“ولید نہیں آیا ابھی تک ؟؟؟” عابدہ نے پوچھا
“بس آنے والے ہوں گے” وہ بولی, تبھی اس کی ساس آ گئی, باتوں ہی باتوں میں مبرہ کے لاہور جانے کی بات چھڑ گئی
“پرسوں جا رہے ہیں یہ دونوں, ولید اور مبرہ اکٹھے ہی چلے جایا کریں گے…. ” شمیم کے کہتے ہی شعیب ٹھٹھک گیا
“کیا مطلب… یہاں ویکینسی نہیں ہے کیا ؟؟؟” وہ بولا
“پتہ نہیں بھائی شاید… نہیں ہے” مبرہ بوکھلا سی گئی, شعیب نے اسی وقت سیل نکالا اور دو, چار منٹ میں ہی فون کھڑکا کر کنفرم کر لیا, حالانکہ مبرہ اس سے پہلے ہی کنفرمڈ تھی
“سیٹ تو ہے یہاں… پھر کیوں اتنی دور جانا ہے ؟؟؟” وہ بولا
“دور کہاں پتر… ولید بھی تو روز جاتا ہے” شمیم نے کہا
“آنٹی ولید کی مجبوری ہے… ایف بی آر کا آفس یہاں نہیں ہے, مبرہ کو کونسی مصیبت ہے جو اپنا شہر چھوڑ کر بتیس کلو میٹر دور نوکری کرے, چلیں ولید کو بھی آ لینے دیں, میں بات کرتا ہوں اس سے” شعیب کو ذرا غصہ آیا تھا, مبرہ بس کانپ کر رہ گئ
اس کی انتھک دعاؤں کے باوجود ان لوگوں کے بیٹھے بیٹھے ہی ولید آ گیا, شعیب کو دیکھتے ہی اس کی تیوری چڑھ گئی تھی
“مبرہ میرے کپڑے نکال دو… ” وہ بس خشک سے لحجے میں انہیں سلام کرتا ہوا آگے بڑھ گیا, مبرہ اس کے پیچھے ہی اندر چلی آئی
“یہ کیوں آیا ہے یہاں ؟؟؟؟”
“ملنے آۓ ہیں… “
“یہ ہر دوسرے دن ہی چل پڑتا ہے منہ اٹھا کر… اسے پتہ نہیں کہ یہاں پیر رکھتے ہی یہ کتا بن جاتا ہے” وہ بولا
“ولید… وہ میرے بڑے بھائی ہیں” مبرہ کو اچھا نہیں لگا
“بہن کے گھر بھائی کتا ہی ہوتا ہے مبرہ ڈارلنگ… ” ولید ہنستے ہوئے بولا تھا, کچھ ہی دیر بعد شعیب جانے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا, جاتے جاتے اس نے ولید کو بلایا تھا
“ولید یار کوئی ضرورت نہیں ہے مبرہ کو اپنے ساتھ خوار کرنے کی, تو تو مرد ہے, روز سفر کر لیتا ہے, وہ لڑکی ہے یار… آگے آگے اور مشکل ہو جاۓ گی” وہ اسے سبھاؤ سے سمجھانے لگا, ولید بس ہاں ہوں ہی کر رہا تھا
ان دونوں کے گھر سے نکلتے ہی وہ مبرہ کی طرف مڑا
“کیا ضرورت تھی اسے اپنی چوائس بتانے کی… جب ہم نے فیصلہ لے لیا تھا تو” وہ چنگھاڑتے ہوۓ بولا
“توبہ توبہ… اس کا بھائی تو سنتے ہی آسمان سے جا لگا ولید, ایسے تیوریاں دکھائیں اس نے کہ حد نہیں, کہتا آ لینے دو ولید کو, میں اس کی عقل ٹھکانے لگاتا ہوں… ” شمیم نے موقع پر چوکہ مارا تھا
“ولید شعیب بھائی نے ایسا کچھ نہیں کہا… ” مبرہ زور سے بولی
“تو میری ماں جھوٹ بول رہی ہے… ؟؟؟” ولید نے یکدم اسے بالوں سے پکڑ لیا, پورا گھر تماشائی بنا ہوا تھا
“ولید میرے بال چھوڑیں… ” وہ درد سے بلبلا اٹھی
“میری ایک بات کان کھول کر سن لو, آئندہ تمہارے ان حرامزادے بھائیوں میں سے کوئی مجھے یہاں نظر آیا تو گولی مار دوں گا سمجھی… بڑا آیا مجھے سمجھانے والا, ڈسٹرکٹ کالج سلیکٹ کرنا ہے بس.. “وہ اسے ایک جھٹکے سے چھوڑتے ہوئے بولا تھا, مبرہ بس کم مائیگی کے احساس سے وہیں بیٹھی رہ گئی تھی
Choice was of herself…. So…???
…………………
مبرہ کے میکے میں ایک کہرام مچا ہوا تھا
شعیب اور خباب کا غصے سے کوئی حال نہیں تھا, وہ اپنا شہر چھوڑ کر بتیس کلو میٹر دور ڈسٹرکٹ کالج سلیکٹ کر آئی تھی
“امی میں کہتا تھا نا کہ گنوار ہمیشہ گنوار ہی رہتا ہے چاہے جتنا بھی پڑھ لکھ جاۓ, اس کمینے کو پتہ تھا کہ اگر مبرہ یہاں رہی تو اس سے کہیں آگے بڑھ جاۓ گی, دھومیں تو پہلے ہی مچی ہوئی ہیں اس کی, آدھے سے زیادہ شہر جانتا ہے اسے, دھڑا دھڑ بچے پڑھنے آتے تھے اس سے, ای بزنس الگ سے کر رہی تھی, اسے پتہ تھا کہ اپنا شہر سلیکٹ کر کے وہ تو سٹار بن جاۓ گی… ” شعیب بھڑک پڑا تھا
“تو میں کیا کروں شعیب… کتنا تو سمجھایا تھا اسے, اپنی مرضی سے کودی ہے وہ اس گڑھے میں” عابدہ انتہائی پریشان تھیں
“امی اسے کال کریں… ہم ابھی ہو کر آتے ہیں اس کی طرف” شعیب نے کہا
“خباب کال کر اسے… ” خباب نے اس کا نمبر ملا لیا, دوسری, تیسری باری پر اس نے کال ریسیو کی تھی
“مبرہ… بیٹے اتنی دور کی سلیکشن کیوں کر آئی ہے ؟؟؟” خباب تو کال ریسیو ہوتے ہی پھٹ پڑا
دوسری جانب مبرہ کی جان حلق میں امڈ آئی تھی ولید اس کے پاس ہی بیٹھا تھا, مبرہ نے ایک نظر اسے دیکھا, خباب کی آواز باہر تک آئی تھی, نامحسوس سے انداز سے مبرہ نے والیوم کم کیا تھا
“خباب بھائی وہ کالج زیادہ اچھا ہے… وہاں کا رزلٹ بھی بہتر ہوتا ہے اور وہاں… ” خباب نے اس کی بات کاٹ دی
“مبرہ تجھے یہ پتہ نہیں چلتا کہ وہ کتنا دور ہے… شدید گرمی اور سردی میں کیا کیا کرے گی ؟؟” وہ بولا
“میں اور ولید اکٹھے چلے جایا کریں گے… ” مبرہ نے بمشکل آنسوؤں کا گولا حلق میں اتارا, ولید مسلسل اسے گھور رہا تھا
“تجھے ولید نے ہی کہا ہے نا یہ سب کرنے کے لئے… ہے نا ؟؟؟” خباب کی بس ہو گئی, شعیب نے اس کے ہاتھ سے سیل لیا تھا
“مبرہ… بچے میں اور امی آ رہے ہیں تھوڑی دیر تک… اوکے ؟؟؟” وہ بولا
“شعیب بھائی پلیز… میری جاب ہے, میری زندگی ہے… میں کر لوں گی مینیج… آپ رہنے دیں آنے کو, کوئی ضرورت نہیں ہے” مبرہ نے ذرا اونچی آواز میں کہتے ہوئے کال کاٹ دی تھی, ولید کے لبوں پر نا محسوس سی مسکراہٹ بکھر گئی, مبرہ اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی کروٹ بدل کر لیٹ گئی تھی
“مبرہ… میری جان…. ” ولید نے اس کی جانب کروٹ بدلتے ہوئے اسے پکارا, وہ بس چپ چاپ پڑی رہی
“ادھر تو دیکھو… ” ولید نے اس کی کمر کے گرد ہاتھ ڈال کر اسے اپنی طرف موڑا تھا
مبرہ کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا
“میں ہوں تمہارے ساتھ… ” وہ اس کا چہرہ خشک کرتے ہوئے بولا تھا
“ولید میں نے اپنے گھر والوں کا خلاف جا کر آپ کو چنا ہے, خدا کی قسم میں بہت محبت کرتی ہوں آپ سے لیکن…. خدارا… میری محبت کو میرے کندھوں کا بوجھ نا بنائیں” وہ بلک بلک کر رو دی تھی, ولید نے اس کا شکستہ سا وجود اپنے مضبوط بازوؤں میں سمیٹ لیا
“آئی لو یو میری جان… ” وہ بس اس کے کانوں میں سرگوشیاں سی گھول رہا تھا
……………………..
روحاء کی پریگنینسی رپورٹ پازیٹو آئی تھی
وہ بس کاغذ کا وہ ٹکڑا ہاتھ میں پکڑے اسے دیکھتی رہ گئی, وہ کوکب کے ساتھ ہسپتال آئی تھی, لیڈی ڈاکٹر نے اسے دوائیں وغیرہ لکھ دیں
گھر آ کر بھی بس وہ اپنے کمرے میں بند ہو گئی تھی, شام کو ساجد مغل اور سعد گھر آۓ تو کوکب نے انہیں بھی بتا دیا, وہ بھی بس سن کر خاموش ہو گئے, رات کے کھانے پر بھی روحاء نیچے نا اتری
ساجد مغل خود اس کے کمرے میں آۓ تھے, وہ کروٹ لیے لیٹی تھی
“روحاء… میرا بیٹا ہمیں صرف اور صرف تیرے چہرے پر خوشی دیکھنی ہے.. اگر جانا چاہتی ہے تو بھی ہم تیرے ساتھ ہیں… اور اگر یہاں رہنا چاہتی ہے تو بھی یہ تیرے باپ کا گھر ہے… ” وہ بولے, روحاء کی آنکھیں بھر آئیں
“ابو وہ اپنے گھر والوں کے آگے بولنے کی ہمت ہی نہیں کرتا… ” وہ بولی
“شائد اب کچھ بدلاؤ آ جاۓ… ” ساجد مغل نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا
“الگ گھر بھی اپنا لے تو پھر ہے نا روحاء… کراۓ کے مکان کا کیا فائدہ ؟؟؟” انہوں نے کہا
“ابو آپ کو شادی سے پہلے ہی یہ شرط رکھنی چاہیے تھی کہ وہ پہلے اپنا الگ گھر بناۓ… ” روحاء نے کہا
“بس بیٹے غلطی ہو گئی… ہم نے یہ ہی سوچا کہ پہلی دو بھی تو رہ رہی ہیں نا… ” وہ بولے
“اسے بتا دیا ؟؟؟” انہوں نے کچھ دیر بعد پوچھا روحاء نے نفی میں سر ہلا دیا
“اسے بتا دے میرا بچہ… پھر جب آۓ تو جو شرطیں منوانا چاہے… منوا کر چلی جا, میں کہوں گا اسے کہ الگ گھر کا بندوبست بھی جلد از جلد کرے” ساجد مغل نے دھیرے سے کہا تھا
روحاء بس خاموشی سے بیٹھی رہ گئی
چند لمحوں بعد اس نے اپنی رپورٹ مروان کو واٹس ایپ کی تھی, تین, چار سیکینڈ بعد ہی مروان کی کال آنے لگی, روحاء بس موبائل آف کرتے ہوئے کروٹ لیکر لیٹ گئی تھی
آنسو بہتے چلے جا رہے تھے
……………………….
جاری ہے