No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
آخری کلاس کے ساتھ ہی چھٹی کی بیل ہو گئی تھی
“روحاء… جلدی آ جا… جلدی” اس نے سرعت سے اپنی کتابیں بیگ میں گھسیڑیں اور فائل اٹھاتے ہوئے کھڑی ہو گئی
“روحاء… ” دروازے سے باہر نکلنے کے بعد بھی اپنے پیچھے روحاء مغل کو نا پا کر اسے شدید جھنجھلاہٹ ہوئی تھی, وہ بھنا کر دوبارہ کلاس کی طرف آئی, روحاء میڈم بڑی فرصت سے کلاس پراکٹر سے باتوں میں مصروف تھیں
“روحاء… وین نکل جاۓ گی” اس نے اسے بازو سے پکڑ کے کھینچا تھا
“ہاں بس آ رہی تھی میں… ” وہ اپنا بیگ اٹھاتے ہوئے بولی اور اس کے پیچھے ہی باہر نکل آئی
مغرب ہونے میں کچھ ہی دیر باقی تھی, مبرہ اور روحاء دونوں ڈسٹرکٹ گریجوایٹ کالج سے بی ایس کمپیوٹر سائنس کر رہی تھیں
بھاگم بھاگ دونوں بس سٹاپ تک پہنچیں, وہی وین جس میں وہ دونوں روزانہ جاتی تھیں تیار کھڑی تھی
“بھائی سیٹ ہے… ؟؟؟” مبرہ نے کنڈکٹر سے پوچھا
“باجی اج تسی لیٹ ہو گئے ؟؟؟ بس پھٹے تے ای جگہ وچی(بچ) اے” وہ بولا
“او بھائی یہ کیا بات ہوئی… ؟؟ تمہیں جب پتہ ہے کہ ہم نے روز جانا ہوتا ہے تو ہماری سیٹ کیوں نہیں رکھی ؟؟؟” روحاء کو تاؤ آ گیا
“باجی مینوں لگا تسی آۓ ہی نئیں اج… ” وہ لڑکا شرمندہ سا ہو گیا
“گڑیا… بیٹے پھٹے پر بیٹھ جاؤ دونوں…. آمنے سامنے ” ڈرائیور بھی اتر آیا تھا
“نہیں… یہ کوئی جگہ ہے بیٹھنے کی… گھٹنے رگڑ کھا کھا کر چھل جائیں گے, اور اس پھٹے پر بھی تم نے چار سواریاں گھسیڑنی ہیں, ٹماٹر کی طرح کچومر نکل جاۓ گا ہمارا… رہنے دو, ہم دوسری وین میں چلے جائیں گے” روحاء غصے سے کہتی ہوئی پیچھے کو ہٹ گئی
“روحاء… یار وقت دیکھ کتنا ہو گیا ہے…. کوئی بات نہیں, تھوڑا سا کمپرومائز کر لیتے ہیں” مبرہ اس کے کان میں گھسی
“نہیں… تو رہنے دے, آٹھ آٹھ مردوں کے بیچ میں بیٹھنے والا کمپرومائز نہیں کرنا ہم نے… ” وہ بولی
“پچھلی وین آدھے گھنٹے بعد جاۓ گی” اسے بھی غصہ آ گیا
“بس میں چلے جائیں گے…. “
“روحاء لیکن…. “
“چپ کر جا… تو نے جانا ہے تو جا چلی جا, میں تو نہیں جا رہی” روحاء نے ایک دم کہہ دیا, ناچار وہ بھی خاموشی سے اس کے برابر آ کھڑی ہوئی
وہ وین پانچ منٹ بعد نکل گئی, بس بھی نا آئی, دوسری وین آدھے گھنٹے بعد چلی, ان دونوں کو گھر آتے آتے اچھا خاصا اندھیرا ہو گیا
“صرف بیس منٹ کا سفر تھا روحاء… ہم وقت پر گھر پہنچ جاتے, لیکن مجال ہے جو تو ذرا سا بھی کمپرومائز کرے تو… ” مبرہ اسے سارا راستہ باتیں سناتی آئی تھی
“مبرہ… میں کبھی اپنے فیصلوں پر نہیں پچھتاتی چاہے وہ غلط ہی کیوں نا ہوں… نا ہی میری زندگی تیری طرح اگر مگر سے بھری ہوئی ہے… بندہ کمپرومائز تب کرے جب آپشن میں اور کچھ بھی نا ہو… ہمارے پاس دوسری وین کا آپشن تھا نا… ؟؟؟” وہ صاف لحجے میں بولی تھی, مبرہ بس اسے دیکھ کر رہ گئی
واقعی وہ شروع سے ایسی ہی تھی… اپنی مرضی کی مالک… بہت کم وہ اپنے فیصلوں سے پیچھے ہٹتی تھی, اسے ہر چیز بالکل ٹھیک ٹھاک چاہئے ہوتی تھی…. عام لڑکیوں کی طرح چھوٹی چھوٹی باتوں پر سمجھوتہ کرنا اس کی سرشت میں نہیں تھا
………………………..
ساجد مغل کے دو ہی بچے تھے… بڑا سعد مغل اور چھوٹی روحاء مغل
وہ خود ایک کمیشن شاپ چلاتے تھے, سعد نے بھی ڈسٹرکٹ بوائز کالج سے ہی میتھس میں بی ایس کیا تھا, تب روحاء فسٹ ائیر میں تھی, ساجد صاحب اسے کاروبار کی طرف لانا چاہتے تھے لیکن اس نے ایم ایس میں ایڈمیشن لے لیا, چھ ماہ پہلے ہی اس کا ایم ایس مکمل ہوا تھا اور اس نے اپنے ہی شہر میں ایک پرائیوٹ کوچنگ سینٹر کھول لیا تھا
“ابو… مجھے کچھ عرصے کے لئے ٹیوشن رکھنی ہے” رات کے کھانے پر روحاء نے مدعا عرض کر دیا
“بی ایس میں ٹیوشن کون پڑھتا ہے ؟؟؟” سعد نے اسے گھورا
“ابو… دو, تین کورسز بہت مشکل ہیں, اگر سی گریڈ آ گیا تو ساری سی جی پی اے خراب ہو جاۓ گی” وہ بولی
“بیچاری کب سے کہہ رہی ہے… سعد رکھوا دے اسے کہیں ٹیوشن… ” کوکب نے کہا
“اچھا میں مروان سے بات کرتا ہوں” وہ بولا
“مروان کون… ؟؟؟؟ وہ سپیس اکیڈمی والے؟؟؟” روحاء نے پوچھا
“ہاں وہی… “
“میں نے نہیں پڑھنا ان سے… ” وہ تڑخ گئی
“اب کیا ہو گیا ؟؟؟” سعد کی تیوری چڑھ گئی
“میں نے انٹر میں پڑھا ہے ان سے… ذرا بھی توجہ سے نہیں پڑھاتے ” وہ بولی
“ابو تب اس کا ایم فل چل رہا تھا… اسی لئے زیادہ چھٹیاں کرتا تھا, گولڈ میڈلسٹ ہے وہ پنجاب یونیورسٹی سے, اتنے ڈھیر سارے سٹوڈنٹس ہیں اس کے پاس انٹر کے… ” سعد نے کہا
“روحاء چل پڑھ کر تو دیکھ… ہو سکتا ہے اب اچھا پڑھانے لگ گیا ہو” ساجد مغل نے کہا, روحاء بس سعد کو دیکھ کر رہ گئی تھی
“میں بس ایک دن جاؤں گی… اگر سمجھ نا آئی تو دوبارہ مجھے کوئی فورس نا کرے” وہ بھی آخر کو روحاء مغل تھی
……………………..
آج وہ دونوں نسبتاً جلدی کالج سے نکل آئی تھیں لیکن سٹاپ پر پہنچیں تو وین خالی…
“باجی اج تسی اینی چھیتی آ گئے… ” کنڈکٹر کسی صورت راضی نہیں تھا
“تو اب کیا کریں… ؟؟؟ واپس چلے جائیں ؟؟؟” روحاء تڑخ پڑی
“نہیں باجی… ہن واپس کی جانا… بیٹھ جاؤ” اس نے سیٹ کی طرف اشارہ کر دیا, وہ دونوں چپ چاپ اس میں بیٹھ کر اس کے بھرنے کا انتظار کرنے لگیں
“مبرہ تجھے ٹیوشن رکھنی ہے یار ؟؟؟”
“کہاں… ؟؟”
“سپیس اکیڈمی میں… صبح نو سے گیارہ تک” وہ بولی
“روحاء ویسے ضرورت تو نہیں ہے” مبرہ نے کہا
“ہاں تو ٹہری انٹر کی کالج ٹاپر… تین سالوں کی سمیسٹر ٹاپر… تجھے بھلا کیا ضرورت… ؟؟؟ ضرورت تو مجھ جیسی نکمی کو ہے” روحاء نے کہا, مبرہ بس اسے کہنی مار کے ہنس دی تھی
“مبرہ وہ دیکھ… وہ رہا وہ لڑکا” ایک دم اسے ہوش آیا
“کونسا لڑکا… ؟؟؟”
“وہی جو تجھ پر لائن مارتا ہے” روحاء کے کہتے ہی مبرہ کی آنکھیں پھٹ گئیں, اس کے فرشتوں کو بھی خبر نا تھی کہ کوئی اس پر لائن مار رہا تھا
“استغفراللہ… مجھ پر کون لائن مارنے لگا… ؟؟؟”
“وہ لڑکا… میں نے اکثر نوٹ کیا ہے وہ تجھے ہی گھورتا رہتا ہے” وہ بولی
“کوئی شرم کر روحاء… تو بھی میرے ساتھ ہی چپکی ہوتی ہے… کیا خبر تجھے تاڑتا ہو… اور کیا خبر بیچارہ اندھا ہی ہو” مبرہ کلس گئی
“نا یار… اتنا پیارا لڑکا ہے… اندھا تو نا ہی ہو” وہ بڑے اشتیاق سے بولی تھی
“خدا کا خوف کر روحاء… ہر ہفتے تجھے کوئی نا کوئی پیارا لگ جاتا ہے” وہ بولی
“تو پھر کیا ہوا… میری آنکھیں میری مرضی… جسے مرضی دیکھوں, اور مجھے تو جو اچھا لگے گا اس کی تعریف ضرور کروں گی…. چاہے کوئی لڑکا ہی کیوں نا ہو” وہ ہنستے ہوئے بولی تھی
“چپ کر جا.. تیری باتیں سن کر شرم آتی ہے مجھے” روحاء نے اسے کہنی ماری تھی
……………………..
سعد خود اس کے ساتھ سپیس اکیڈمی آیا تھا, وہ اور مروان انٹر تک کلاس فیلوز رہے تھے, پھر بی ایس کے شروع ہوتے ہی دونوں کی راہیں الگ ہو گئیں
سعد نے میتھس کو چن لیا اور مروان لاہور چلا گیا, وہ واقعی اپنے ڈپارٹمنٹ کا گولڈ میڈلسٹ تھا
مروان مرزا… اسے وہ چھوٹی سی اکیڈمی شروع کیے ابھی کچھ عرصہ ہی ہوا تھا
“کیا حال ہے سعد… ؟؟؟” وہ انہیں اکیڈمی کے دروازے پر ہی مل گیا
“تمہاری سٹوڈنٹ کو چھوڑنے آیا تھا… ” سعد نے مسکراتے ہوئے کہا, روحاء اس کے برابر میں کھڑی تھی, مروان نے سر ہلاتے ہوئے اس کی طرف دیکھا
لمبے سے قد کی وہ اچھی خاصی خوبصورت لڑکی تھی, گرے رنگ کی بوتیک سٹائل شرٹ کے ساتھ جینز پہنے, سٹالر نما دوپٹہ سر پر سکارف کی صورت میں اوڑھے, پیروں میں گرے جوگرز پہنے, کندھے پر شولڈر بیگ لٹکاۓ… وہ بڑے اعتماد سے کھڑی تھی
“روحاء کا سیکینڈ لاسٹ سیمیسٹر ہے مروان… اسے کچھ سبجیکٹس میں پرابلم ہے… وہ روحاء تمہیں بتا دے گی” سعد نے کہا
“ٹھیک ہے… روحاء آپ وہ سامنے والے آفس میں چلی جائیں ” مروان نے کہا, روحاء سر ہلا کر آگے بڑھ گئی
“آ جاؤ سعد… چاۓ پیتے ہیں” مروان نے کہا
“نہیں یار… پھر کبھی سہی” سعد نے کہا
“ٹیسٹ دینے جاؤ گے ؟؟؟ جاب کے لئے ؟؟؟” مروان نے پوچھا
“ہاں جانا تو ہے… قسمت تو آزما کر دیکھیں ” سعد دھیرے سے مسکرایا تھا
………………………
وہ بھی عام سا ہی ایک دن تھا… سیکینڈ لاسٹ سیمیسٹر کی ڈیٹ شیٹ آ چکی تھی اور روحاء پوری طرح اپنے گریڈز بچانے کے درپے تھی
اسے مروان سے ٹیوشن لیتے ہوئے دو ہفتے گزر چکے تھے, حسب عادت کنڈکٹر ان دونوں کی دو سیٹیں رکھ کر کھڑا تھا, بس ایک ہی سیٹ باقی رہ گئی تھی
“کیسی جا رہی ہے تیری اکیڈمی ؟؟؟” وہ دونوں اپنی باتوں میں مگن تھیں
“ویری گڈ… مروان سر کافی اچھا پڑھاتے ہیں مبرہ” وہ بولی
“اور پتہ ہے زیادہ اچھی بات کیا ہے… وہ بس اپنے کام سے کام رکھتے ہیں, باقی میل ٹیچرز کی طرح زیادہ فری ہونے کی کوشش نہیں کرتے…اور زیادہ فنی بھی نہیں ہیں… سیریس رہتے ہیں.. ” روحاء نے کہا
“میں نے تو سنا تھا کہ لڑکیاں پڑھتی ہی نہیں ہیں ان سے… ” مبرہ نے کہا
“ہاں ایسا ہی ہے…. دراصل اتنے زیادہ پرسنیلٹڈ نہیں ہیں وہ, نارمل سا قد ہے… کبھی کبھی تو مجھے اپنے سے بھی چھوٹا ہی لگتا ہے… ” روحاء کہتے ہوۓ زور سے ہنسی تھی
“شرم کر تیرے ماسٹر جی ہیں… ” مبرہ نے کہا
“تو یار میں نے کونسا پوسٹرز لگوا دییے ہیں ان کے… پوچھوں گی کسی دن کہ سر آپ کی ہائیٹ کتنی ہے ؟؟؟” وہ باز نہیں آئی تھی
تبھی کنڈکٹر نے مبرہ کے سامنے والی سیٹ پر ایک مسافر کو بٹھا دیا
“او بھائی یہ کیا… ؟؟؟” روحاء تڑخ گئی, وہ بیچارہ بیٹھتے بیٹھتے نیچے اتر گیا
“کی ہویا باجی… ؟؟؟”
“مردانہ سواری کیوں بٹھا رہے ہو یہاں… ؟؟؟”
“باجی جان دیو.. ایک ہی سیٹ رہ گئ ہے… بس نکلتے ہیں” وہ بولا
“کسی لیڈی سواری کو بٹھاؤ یہاں… سمجھے” روحاء کو غصہ آ گیا
“روحاء… اٹس اوکے, بس کر جا, پندرہ منٹ سے بیٹھے ہیں ہم یہاں” مبرہ نے اس کے کان میں سرگوشی کی تھی
“لیکن یار… “
“چپ… میرے سامنے بیٹھ رہا ہے نا… تیرے سامنے تو نہیں, چپ کر جا… گھر جانا ہے یا نہیں” عام طور پر مبرہ کو جلدی غصہ آتا تو نہیں تھا لیکن…. جب آ جاتا تھا تو وہ روحاء مغل کو بھی خاموش کروا دیتی تھی, اب بھی وہ بس مبرہ کو گھور کر رہ گئی
“اب میرے لئے کیا حکم ہے ؟؟؟ بیٹھ جاؤں ؟؟؟” وہ تئیس چوبیس سال کا اچھا خاصا خوش شکل لڑکا تھا
“بیٹھ جائیں ” مبرہ کے کہتے ہی وہ اس کے سامنے والی سیٹ پر بیٹھ گیا
سارا راستہ روحاء اسے قہر بار نظروں سے گھورتی آئی تھی
“روحاء… اسے گھورنا بند کر دے, وہ بھی بار بار ہمیں ہی دیکھ رہا ہے” مبرہ نے اسے زور سے کہنی ماری تھی
“او بھائی صاحب… یہ اپنے لکڑی جیسے گھٹنے ذرا کلوز کر لو… ” روحاء اور اس کی زبان… توبہ
“اب کلوز کر کے کیا پیٹ سے جوڑ لوں ؟؟؟” وہ بھی بول ہی پڑا
“تمیز کے ساتھ… اوکے ؟؟؟” روحاء تڑخ کر بولی تھی
“خدا کا واسطہ ہے تجھے… چپ ہو جا” مبرہ نے اسے آنکھیں دکھائی تھیں, وہ مارے باندھے ہی خاموش ہوئی
کچھ دیر بعد مبرہ نے ایک نظر سے دیکھا
سکائی بلو شرٹ کے ساتھ نیوی بلو پینٹ پہنے, آستینیں کہنیوں تک موڑے, گلے میں کارڈ لٹکاۓ, وہ پوری طرح اپنے موبائل میں گم تھا, ہلکی ہلکی بڑھی ہوئی شیو کے ساتھ اس کا چہرہ کافی وجہیہ لگ رہا تھا, قد بھی ٹھیک ٹھاک ہی تھا, مبرہ کے یوں مسلسل دیکھنے پر اس نے نظریں اٹھائیں… وہ گڑبڑا کر شیشے کی طرف منہ موڑ گئی تھی
……………………….
وہ دونوں ایک دوسرے کے دیرینہ دوست تھے… بلکہ لنگوٹیا کہیں تو زیادہ ٹھیک ہو گا, پچھلے پچیس سالوں سے وہ دونوں ایک ساتھ وکالت کر رہے تھے, دونوں نے ایک ساتھ ایمرسن کالج سے ایل ایل بی کیا تھا, دونوں ایک دوسرے کی شادیوں میں بھی پیش پیش رہے تھے, وہ اور بات تھی کہ ان کی بیویاں ایک دوسرے سے اتنی زیادہ گھل مل نہیں سکی تھیں لیکن ان دونوں کی آپس کی یاری ہمیشہ سے ہمیشہ تک تھی
اس دن بھی وہ دونوں ایک ساتھ چاۓ کا دور چلاۓ بیٹھے تھے جب بات چلتے چلتے بچوں کے رشتوں پر آن رکی
“مروان کا ٹیسٹ ہو گیا ؟؟؟” ایڈووکیٹ حسیب خان نے پوچھا
“ہاں یار… اب انٹرویو دینے جاۓ گا” ایڈووکیٹ مرزا کاشف مروان کے والد محترم تھے
“اللہ پاک کامیاب کرے… ” حسیب خان نے کہا
“مروان کی بڑی فکر رہتی ہے مجھے کاشف… شروع سے ہی وہ لڑکا بڑی ریزرو سی طبیعت کا رہا ہے, بس اپنے خول میں بند رہنا… اوپر سے قد کاٹھ اور ڈیل ڈول بھی بس گزارے لائق ہی ہے… ” کاشف مرزا نے کہا
“کاشف یار تم لوگوں نے خوامخواہ ہی اسے احساس کمتری کا شکار کیا ہوا ہے, اب ہر لڑکے کا قد تو چھ فٹ سے نکلتا ہوا نہیں ہوتا… اچھا بھلا قد ہے مروان کا… نوکری ملتے ہی دیکھنا صحت بھی اچھی ہو جاۓ گی” حسیب خان نے کہا
“خدا کرے ایسا ہی ہو…” کاشف مرزا زیادہ پر امید نہیں تھے
ان کے چار بچوں میں مروان سب سے چھوٹا تھا, بڑے دونوں بیٹے اچھا قد کاٹھ نکال گئے تھے, دونوں کی فوج میں سلیکشن ہو گئی, ان دونوں سے چھوٹی ایک بیٹی تھی جس کی منگنی ہو چکی تھی اور سب سے چھوٹا مروان تھا… بظاہر اس لڑکے میں کوئی کمی نہیں تھی, وہ اپنے دونوں بڑے بھائیوں سے زیادہ ذہین تھا, لیکن بس اپنی جسامت کی وجہ سے وہ فوج میں سلیکٹ نہیں ہو سکا تھا
وہ پنچاب یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں گولڈ میڈلسٹ تھا, پانچ فٹ, پانچ انچ قد کے ساتھ وہ دیکھنے میں اچھا خاصا تھا لیکن…. المیہ یہ کہ وہ کاشف مرزا کے باقی تینوں بچوں کی طرح نہیں تھا
“تیرا تو پھر بیٹا ہے نا کاشف…. مجھے خدا نے بیٹی دے کر آزمایا ہے, تین بیٹوں کے بعد مبرہ میری اکلوتی بیٹی ہے… مروان والے سارے مسائل اس کے ساتھ بھی ہیں لیکن… میں نے ہمیشہ اسے یہ ہی کہا کہ وہ بالکل پرفیکٹ ہے… ” حسیب خان نے کہا
“حالانکہ تلخ ترین حقیقت یہ ہی ہے کہ وہ پرفیکٹ نہیں ہے… مروان تو پھر لڑکا ہے… کسی نا کسی طرح گزارہ کر لے گا لیکن مبرہ ایک لڑکی ہے کاشف… اور آنیوالے وقت میں مجھے اس کے رشتے کے لیے کتنا خوار ہونا پڑے گا یہ مجھے ہی پتہ ہے” حسیب خان نے کہا
“حسیب… تجھے مبرہ کے لئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے یار… وہ میری بیٹی ہے… اور اگر تو مروان کی ہر کمی کو نظر انداز کر سکے تو وہ تا عمر میری بیٹی ہی رہے گی” کاشف مرزا نے ببانگ دہل کہا تھا
“مروان کی مرضی نا ہوئی تو ؟؟؟”
“کیوں نہیں ہو گی… ؟؟؟ اس کی شادی مبرہ سے ہی ہو گی” کاشف مرزا نے ان کی ساری پریشانی لمحوں میں ختم کر دی تھی
…………………………….
ساتویں سمیسٹر کا رزلٹ آ چکا تھا
اور رزلٹ ہر بار کی طرح وہی تھا جو پہلے سمیسٹر سے چلا آ رہا تھا, روحاء کی ہر ممکن محنت اور ٹیوشن کے باوحود مبرہ اس سے آگے تھی, اس کا ہر پیپر میں اے گریڈ تھا
“کمینی تو آج مجھے بتا کر گھر جاۓ گی کہ تو کھاتی کیا ہے؟؟” روحاء نے اس کی گردن دبوچ لی تھی
“تو میری گردن چھوڑے گی تو تجھے بتاؤں گی” اس بیچاری کا سانس بھی بند ہو رہا تھا, روحاء نے بڑی مشکلوں سے اسے چھوڑا, مبرہ کا کھانس کھانس کر برا حال تھا
“چل طاہر صاحب سے مل آئیں… ” طاہر گوہر ان کے سپروائزر اپائنٹ ہوۓ تھے, وہ بوائز گریجوایٹ کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر تھے
وہ دونوں اسی وقت پیدل مارچ کرتے ہوئے بوائز کالج پہنچیں, سارا راستہ روحاء اسے مکے اور کہنیاں مارتی آئی تھی
طاہر گوہر انہیں اپنے آفس میں ہی مل گئے تھے, روحاء نے اپنا اور مبرہ کا تعارف کروایا
“کیا CGPA ہے آپ کی؟؟؟” انہوں نے پوچھا, روحاء نے بتا دیا
“کس فیلڈ میں زیادہ انٹرسٹ ہے آپ کا ؟؟” انہوں نے پھر پوچھا, روحاء بتاتی چلی گئی, مبرہ بس خاموش سی اس کے ساتھ کھڑی تھی
اور ہمیشہ ایسے ہی ہوتا تھا… میٹرک سے وہ دونوں ساتھ تھیں اور ہمیشہ روحاء اس پر ڈومینیٹ کر جاتی تھی
ایگزامز کے علاوہ چاہے کوئی بھی فیلڈ ہو, کلاس روم ڈسکشن ہو, کوئی پریزینٹیشن ہو, کوئی پراجیکٹ ہو, کوئی فنکشن ہو, کلاس پارٹیز ہوں… کچھ بھی ہو
مبرہ حسیب خان ہمیشہ کسی نا کسی کونے میں خاموش کھڑی ہی ملتی تھی, یا پھر روحاء سے دو قدم پیچھے.. ہمیشہ اس سے دو قدم پیچھے
دراصل وہ ان لاتعداد لڑکیوں میں سے ایک تھی جن کے پاس ظاہری خوبصورتی نام کا انتہائی خطرناک ہتھیار نہیں ہوتا… وہ ایک عام سی شکل و صورت کی نارمل سی لڑکی تھی, اسے ایک نظر دیکھ کر کوئی بھی نہیں مانتا تھا کہ وہ اپنے بیج کی ٹاپر تھی, وہ تین بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی
یہ بات نہیں تھی کہ وہ پر اعتماد نہیں تھے, اگر روحاء نا بھی ہوتی تب بھی وہ بی ایس ضرور کرتی, لیکن روحاء کے مقابلے میں اسے اپنی تمام تر خامیوں کا احساس تھا
اور اس کے مقابلے میں روحاء ایک شہزادی تھی, بہت خوبصورت… بہت پر اعتماد , سب پر چھا جانے والی, وہ جب بولتی تو پھر کسی کو بولنے نہیں دیتی تھی
اب بھی طاہر گوہر کے آفس میں کھڑی وہ مکمل طور پر نظرانداز ہو چکی تھی
دفعتاً ان کے آفس کا دروازہ کھلا
“سر جی… چاۓ کے لئے بلا رہے ہیں” کسی نے اندر آتے ہوئے کہا تھا, مبرہ اسے پہچان گئی
وہ وہی تھا… جو اس دن عین اس کے سامنے والی سیٹ پر بیٹھ کر گیا تھا
جو بھی تھا… وہ مبرہ کو بھولا نہیں تھا, اور آج اسے یوں اچانک اپنے سامنے دیکھ کر اسے ایک انجانی سی خوشی ہوئی تھی
“بس آ رہا ہوں… ٹھیک ہے گرلز… کام شروع کریں پھر” طاہر گوہر نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا تھا, مبرہ نے پھر نظر بچا کر اسے دیکھا
آج وہ بلیک پینٹ کے ساتھ وائیٹ شرٹ پہنے ہوئے تھا, آج کفوں پر بٹن بند تھے, گلے میں کارڈ لٹک رہا تھا
“یہ یقیناً یہاں پڑھاتا ہو گا” مبرہ نے دل ہی دل میں سوچا تھا
……………………….
وہ اس دن روحاء کے گھر آئی تھی, اس کے نوٹس روحاء کے پاس رہ گئے تھے جن سے اسے دو دن بعد ہونے والا مڈ ٹرم کا پیپر تیار کرنا تھا
وہ ٹی وی لاؤنج میں آتے ہی ٹھٹھک گئی, سعد نہ جانے کونسے وقت کا کھانا کھا رہا تھا
“اسلام علیکم… “
“وعلیکم السلام… آج تو بڑے بڑے لوگ آۓ ہیں” سعد نے مسکراتے ہوئے کہا
“روحاء کہاں ہے ؟؟؟”
“روحاء… مبرہ آئی ہے” سعد نے اسے آواز دی تھی
“مبارک ہو مبرہ… روحاء نے بتایا کہ آپ نے ایک بار پھر سمیسڑ ٹاپ کیا ہے” وہ بولا
“جی تھینک یو… ” وہ بولی
“بیٹھو… کھانا کھا لو”
“نہیں میں کھا کر آئی ہوں… ویسے آپ کس وقت کا کھانا کھا رہے ہیں؟؟؟” اس نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے پوچھ ہی لیا
“بس میرا لنچ اور ڈنر اکٹھا سا ہی ہو جاتا ہے… جب سے کوچنگ شروع کی ہے بڑی مصروفیت ہو گئی ہے” وہ بولا, مبرہ بس اس کی سنتی رہی
“مبرہ… میں آپ کو ایڈوانس میں بتا رہا ہوں, بی ایس ہوتے ہی میرا کوچنگ سینٹر جوائن کرنا ہے… اوکے ؟؟؟” سعد نے کہا
“لیکن… میرا کوئی تجربہ نہیں ہے”
“وہ خود بخود آ جاۓ گا… ” وہ بولا, تبھی روحا اس کے نوٹس اٹھاۓ آ گئی, مبرہ اس کی طرف متوجہ ہو گئی تھی
سعد نے اب ایک بھر پور نظر اس پر ڈالی, وہ لان کے سوٹ کے ساتھ کا دوپٹہ بڑے سلیقے سے سر پر اوڑھے ہوئے تھی, آنکھوں پر چشمہ لگا ہوا تھا, پیروں میں کینوس شوز پہنے ہوئے تھے
حالانکہ اس میں ایک بار دیکھنے کے بعد بار بار دیکھنے والی کوئی بات نہیں تھی لیکن سعد مغل نے اسے دوبارہ بھی دیکھا… اور تب تک دیکھتا رہا جب تک وہ روحاء کے ساتھ اوپر نہیں چلی گئی
دل ہمیشہ کی طرح پھر سے ذرا سا باغی ہو گیا تھا
…………………………..
جاری ہے
