Woh Larki Joh Sabse Alag Hai By Ayesha Zulfiqar Readelle50187 2nd Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
2nd Last Episode
“مجھے اب درد نہیں ہوتا ولید احمد… مجھے اب تم سے ڈر بھی نہیں لگتا, میں نے دو سال یہ سب جھیلا ہے…. عادت ہے مجھے اس سب کی, کتنا مار لو گے…. میرے بھائی آ جائیں گے… اور تمہیں… ” ولید نے اسے پھر مارا تھا اور اسے گھسیٹ کر چارپائی پر ڈالا, پھر اس کے اوپر چڑھ آیا
“کر سائن… ” ولید کے سر پر خون سوار تھا, اس نے ایک ہاتھ سے مبرا کا ہاتھ پکڑا اور اسے پینسل تھمائی
“کر دے سائن… ورنہ وہ حشر کروں گا کہ نسلیں یاد رکھیں گی” وہ وحشی بن گیا تھا
“نسلیں تو تمہاری یاد رکھیں گی مجھے… ولید احمد” مبرا نے اس کے منہ پر تھوکا تھا
اور ولید کا تھپڑ اس کا ہونٹ پھاڑ گیا
جانوروں کی طرح اس نے مبرا کے جسم پر سے کپڑے نوچے تھے
“زندہ تو تو بھی نہیں بچے گی آج حرامزادی… تجھے مار کر جیل جاؤں گا میں… ” ولید نے اس کے دوپٹے سے اس کا منہ باندھ کر اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کے بازو جکڑ کر اس کے سر کے برابر میں کر دیئے
“تیری بوٹیاں ملیں گی تیرے بھائیوں کو آج…. ” وہ اس پر جھکا
تبھی باہر پولیس کا سائرن سنائی دیا تھا, ولید نے ذرا سا گھبرا کر دروازے کی طرف دیکھا, اور مبرا نے زور سے اسے دھکا دیا تھا
وہ اٹھ کر باہر کو بھاگا… مبرا نے اس کی ٹانگ پکڑ لی
“بوٹیاں تیری ہوں گی آج کتے… ” وہ مضبوطی سے اس کی ٹانگ جکڑے ہوئے تھی, ولید نے اسے بالوں سے پکڑ کر جھٹکا لیکن مبرا نے اس کی ٹانگ نہیں چھوڑی
پولیس سائرن قریب آ گیا تھا
“چھوڑ کمینی… کتیہ… ” ولید نے بھرپور زور لگایا, مبرا اس کے ساتھ ہی رگڑ کھاتی ہوئی دروازے تک آ گئی
باہر دوڑتے قدموں کی آواز آئی تھی
“مبرا چھوڑ دے…. ” وہ دہاڑ کر بولا تھا اور ساتھ ہی زور سے اسے وہی ٹانگ ماری, مبرا درد سے دہری ہو گئی تھی…ولید کی ٹانگ اس کے ہاتھوں سے چھوٹ گئی
ولید دروازے کی طرف بھاگا… اور یکلخت دروازہ ٹوٹ کر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا
مبرا نے بے دم ہوتے ہوئے اپنا چہرہ زمین پر گرایا تھا
ایس ڈی پی او نے ولید کو اس کے گھٹنوں پر بٹھاتے ہوۓ اس کے دونوں ہاتھوں کو اس کی پشت پر موڑتے ہوۓ ہتھکڑی لگا دی تھی
………………………
وہ پچھلے دو گھنٹے سے ہسپتال میں تھی… سارا جسم زخموں سے چور ہوا پڑا تھا, پورا گھر آئی سی یو کے باہر کھڑا تھا
صبح کے چار بجے اسے ہوش آ گیا
حالت خطرے سے باہر تھی
……………………..
ولید احمد اور اس کے گھر والوں پر پرچہ کٹا تھا, وہ سب حراست میں تھے, بمشکل ان میں سے حماد کی ضمانت ہوئی تھی
گادھی نے انعم اور ارم کو بھی پولیس کے حوالے ہی کر دیا, حماد نے ہی وکیل ارینج کیا تھا
ولید پر کیس چلا اور پہلی پیشی کے بعد اسے سات دن کے ریمانڈ پر بھیج دیا, پولیس نے اس کی ہڈیوں کا سرمہ بنا دیا تھا
ارم اور انعم کی ضمانت حماد نے جلد ہی کروا لی, عماد اور چوہدری حمید مستقل اندر تھے
ولید پر مبرا حسیب خان کے دوران خلع اغواء, جنسی زیادتی کی کوشش اور جسمانی تشدد کا الزام لگا تھا
دو ہفتوں بعد اسے ڈومیسٹک وائلینس والے کیس میں بھاری جرمانہ اور جیل کی سزا ہو گئ, کچھ دنوں بعد مبرا کا سامان بھی واپس آ گیا
اغواء کا کیس مستقل چل رہا تھا
عماد اس کے ساتھ ہی اندر تھا
عدالت نے مبرا کا پچاس لاکھ روپے کا ہرجانہ بھی ادا کرنے کا کہا, سو حماد نے گھر کا سودا کر دیا, سارے جرمانے ادا کئے, وکیل کی فیسیں بھریں, مبرا کا پیسہ ادا کیا اور جسے گاڑی بیچی تھی اسے چوبیس لاکھ الگ سے ادا کیا
ایک ہفتے بعد ہی بینش کا خلع بھی جاری ہو گیا تھا
حماد اپنے گھر والوں کو کراۓ کے مکان میں لے گیا, دو کمروں کا چھوٹا سا مکان… الماس کے دونوں بچے بھی ساتھ تھے
………………………….
اس کی اور عفراء کی کئی دنوں سے سرد جنگ چل رہی تھی, سعد کو زیادہ افسوس اس بات کا تھا کہ عفراء اس کی وفا پر شک کر رہی تھی, بار بار اسے مبرا سے افییر چلانے کا طعنہ دے رہی تھی حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں تھا
اس دن بھی وہ اوپر آیا اور اپنے بیٹے سے کھیلنے لگا, کچھ دیر بعد اسے بھوک لگ گئی تو چپ چاپ کمبل تان کر لیٹ گیا, اکیڈمی اس نے اب تک وائنڈ اپ نہیں کی تھی
“اکیڈمی کب بند کرنی ہے ؟؟؟” عفراء نے پوچھا
“تمہیں اکیڈمی سے کیا مسئلہ ہے ؟؟؟” سعد اس کی طرف مڑا
“میرا سب سے بڑا مسئلہ ہی آپ کی اکیڈمی ہے… اب بتائیں ؟؟” وہ بولی
“عفراء سنو… یار وہ اکیڈمی میرا شوق ہے, میرے اتنے سالوں کی محنت ہے, مجھے اچھا لگتا ہے وہاں پڑھانا… اور پھر ایک اچھا خاصا سائیڈ بزنس بھی تو ہے نا… ” سعد نے اسے سمجھانا چاہا
“آپ کی اکیڈمی صرف مبرا حسیب خان کی وجہ سے چل رہی ہے… وہی چھوڑ دے تو ؟؟؟” عفراء پوائنٹ پر آئی
“تو اصل مسئلہ اکیڈمی نہیں ہے…. مبرا حسیب خان ہے” سعد تڑخ گیا
“سعد… مجھے وہ لڑکی بالکل اچھی نہیں لگتی… یا تو اسے اکیڈمی سے نکالیں… یا پھر اکیڈمی بند کر دیں” عفراء چیخ پڑی اور ساتھ ہی آنسو نکل آۓ, سعد نے تاسف سے اسے دیکھا تھا
“میں نے اتنے عرصے میں کبھی آپ سے کچھ نہیں مانگا سعد… کبھی کوئی ضد نہیں کی, بے جا فرمائش نہیں کی.. اور میں مانتی ہوں کہ اس کی وجہ بھی صرف اور صرف آپ ہیں, آپ نے ہمیشہ وقت سے پہلے میری ضرورتیں پوری کی ہیں, میرے کہے بنا میری فرمائشیں پوری کی ہیں, سعد آپ نے مجھے کبھی کچھ مانگنے کی نوبت ہی نہیں آنے دی لیکن پلیز… یہ دیکھیں, میں ہاتھ جوڑ کر آپ سے التجا کر رہی ہوں کہ اس لڑکی کو اپنی اور میری زندگی سے دور کر دیں…” عفراء نے واقعی دونوں ہاتھ اس کے آگے جوڑ دیئے, انسو بھل بھل بہے چلے آ رہے تھے
“عفراء یار… پلیز” سعد نے ایک دم اس کے دونوں ہاتھ تھام کر اپنے لبوں سے لگاۓ تھے
“میں شادی سے پہلے اسے پسند کرتا ہوں گا لیکن… خدا کی قسم تم سے شادی کے بعد وہ میری زندگی میں کہیں بھی نہیں ہے, جو چاہے قسم اٹھوا لو… وہ بس ایک کولیگ ہے, روحاء کی بیسٹ فرینڈ ہے… وہ بس میرے لئے مبرا حسیب خان ہے…, عفراء میرا اور اس کا کوئی افییر نہیں ہے… خدا کی قسم مجھے تم سے بہت محبت ہے, میرے بیٹے میں جان ہے میری… میں کبھی کبھی تم سے بے وفائی نہیں کروں گا… ” وہ اس کے دونوں ہاتھ اپنے سینے پر رکھتے ہوئے بولا تھا
“سعد میں کیا کروں… وہ مجھے اچھی نہیں لگتی… ” عفراء نے بے بسی سے کہا
“وہ میرے سر پر سوار رہتی ہے… آپ کے لبوں سے نکلتا اس کا نام مجھے زہر کی طرح برا لگتا ہے, میرا دل کرتا ہے آپ کبھی… کبھی اس کا نام نا لیں, ہمارے درمیان کبھی اس کا ذکر نا ہو, مجھے آپ کے قریب اس کا ہونا ہی قبول نہیں ہے سعد… پلیز میری یہ ایک بات مان لیں, اکیڈمی بند کر دیں, یا اسے جواب دے دیں, یا کہیں اور شفٹ ہو جائیں.. یا اسے کہیں کہ کہیں اور چلی جاۓ…. کچھ بھی کریں بس اسے اپنی زندگی سے دور کر دیں… ” اب عفراء نے اس کے دونوں ہاتھ تھام لئے تھے, سعد نے انتہائی محبت سے اسے اپنے گلے سے لگایا تھا اور بہت نرمی سے اس کے آنسو صاف کئے تھے
“ہمارے درمیان کبھی کوئی نہیں آۓ گا عفراء… مبرا حسیب خان بھی نہیں… کبھی نہیں” سعد نے اس سے وعدہ کیا تھا
……………………
اس دن مروان سعد سے ملنے اس کی اکیڈمی چلا آیا, حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اس سب کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہے لیکن پھر بھی… ایک آخری کوشش ہی سہی
اس کی دو مصالحتی پیشیاں ہو چکی تھیں جن میں صلح نہیں ہو پائی تھی, بس اب آخری پیشی رہ گئی تھی
“یہاں کیوں آۓ ہو… ؟؟؟”
“دو منٹ میری بات سن لو… پلیز ” وہ بالکل ہی ہار گیا تھا
“کہو… ” سعد اسے آفس میں لے آیا
“غلطی انسانوں سے ہی ہوتی ہے سعد… میں بھی تو انسان ہی ہوں… ہو گئی غلطی…اور معافی بھی تو انسانوں کو ہی ملتی ہے… اور معاف کرنے والے بھی انسان ہی ہوتے ہیں یار… ” وہ بولا
“روحاء نے تجھے معاف کر دیا ہے… ” سعد نے کہا
“سعد… بس ایک موقع, ایک پہلا اور آخری موقع… ” مروان نے کہا
“مروان…. فیصلہ اس کا اپنا ہے, میں اسے فورس نہیں کر سکتا ” سعد نے کہا
“سعد میں شرمندہ ہوں… بہت شرمندہ, کاش کے میں وقت کو بدل سکتا, کاش کہ میں گزرا وقت واپس لا سکتا…. کاش کہ میں سب کچھ پہلے جیسا کر سکتا… ” مروان انتہائی بے بسی سے بولا تھا
مروان… میں مانتا ہوں کہ غلطیاں روحاء نے بھی کی ہوں گی, وہ بھی انسان ہے, فرشتہ نہیں ہے, وہ بھی پوری طرح بے قصور نہیں ہو گی, اس میں صبر کا مادہ عام لڑکیوں سے ذرا کم ہے, وہ زیادہ لمبے عرصے تک کمپرومائز بھی نہیں کر سکتی, تھوڑی ضدی بھی ہے, میں مانتا ہوں شادی کے شروع دنوں میں تو نے اس کا بہت ساتھ دیا ہے لیکن…. مروان اس نے بھی تو تیرا ساتھ دیا ہے, اس نے کب تجھے کہا کہ اپنے ماں باپ پر خرچ نا کر, اس نے کب تیرے ماں باپ کی خدمت کرنے سے انکار کیا, اس نے کب تیرا گھر سنبھالنے سے انکار کیا… ؟؟؟ اس نے کب تیری ضرورتیں پوری نہیں کیں… ؟؟؟ سب سے پہلے کچن کا اس نے تجھے ہی کہا تھا… اور کتنی بار کہا تھا… تو نے کان نہیں دھرا تو وہ میکے واپس آئی… یہ ہی تو المیہ ہے مروان کے ہم بس نئی آنے والی لڑکی کو ایک نیا کمرہ دے کر اپنی ذمہ داری سے فارغ ہو جاتے ہیں, وہ سسرال میں آ کر نت نئے رشتوں کو بھی مینیج کرے, سسرالیوں کی پولیٹکس کو بھی فیس کرے اور اپنے سارے مسائل بھی خود ہی حل کرے… میری بات کا برا نا منانا لیکن اس سب میں شائد کہیں قصور تیری والدہ اور والد کا بھی ہے… فرحان کی شادی کی تو اسے نچلا سارا پورشن دے دیا, نعمان کی شادی کی تو اسے اوپر پورا پورشن بنا کر دیا… لیکن تیری شادی کی تو بس ایک کمرہ… کہ کچن بھی ہے, واش روم بھی ہے, لانڈری بھی ہے, ڈرائینگ روم بھی ہے… میں تو چلو اکلوتا تھا, عفراء بیاہ کر آئی تو سارا گھر اسی کا تھا… تو تو اکیلا نہیں تھا نا.. ” سعد کہتا چلا گیا
“میں مانتا ہوں سسرال میں رہ کر رشتوں کو فیس کرنا پڑتا ہے, سب کچھ مینیج کرنا پڑتا ہے لیکن… یہ سب تب کیا جاۓ جب الگ گھر لینا ممکن نا ہو… تو تو افورڈ کر سکتا تھا نا مروان الگ گھر… ماشاءاللہ جاب تھی تیری, سائیڈ بزنس بھی تھا, اچھا کما لیتا تھا, ماں, باپ کے ساتھ رہنا تیری کوئی بہت بڑی مجبوری نہیں تھی… اور یار یہاں تیرے والدین کو سوچنا چاہیے تھا کہ جب تیسری بہو ایڈحسٹ نہیں ہو پا رہی تو اسے الگ کر دیں…. لیکن نہیں… روحاء میکے آ کر بیٹھی ہے تو گھر الگ ہوا ہے… ” وہ شائد سچ کہہ رہا تھا
“رشتوں میں انصاف رکھنا پڑتا ہے مروان… مانا کہ روحاء نے اس طرح سمجھوتے نہیں کئے جیسے ہماری مڈل کلاس کی اکثر لڑکیاں کرتی ہیں لیکن… جب شوہر ایک چیز افورڈ کر سکتا ہو تو ضروری ہے کہ گھسٹ گھسٹ کر سمجھوتہ ہی کیا جاۓ… ؟؟؟ مانا کہ وہ سسرالی رشتوں کی نزاکتوں کو نہیں سمجھ پائی تو کیا یہ سب سمجھنا ضروری تھا ؟؟؟ تو چپ چاپ اسے لیکر خود ہی الگ ہو جاتا… اور یہاں قصور تیرا ہے مروان… تو کبھی خود سے کوئی فیصلہ نہیں لے ہی سکا…. ” وہ ذرا سا رکا
“مروان تیری ذمہ داری صرف تیرے ماں باپ تھے… تیرے شادی شدہ فیملیز ولے بھائی بہن تیری ذمہ داری نہیں تھے, میاں بیوی کے رشتے میں سب سے بڑی دراڑ تب آتی یے جب شوہر بیوی سے جھوٹ بولتا ہے…اور تو نے الگ گھر لیتے ہی اس سے جھوٹ بولنا شروع کر دیا, وہ بھی بچی کے بعد مزید چڑچڑی ہو گئی… لیکن… مروان اس نے کب تجھ سے بدتمیزی کی ؟؟؟ کب تجھے اپنے بھائیوں سے ملنے سے روکا, کب تجھے ماں باپ پر خرچ کرنے سے روکا… وہ اگر تیرے اوپر چیخی تو کیوں ؟؟؟؟ تیرے جھوٹ کی وجہ سے, وہ اگر تجھ سے لڑی تو کیوں ؟؟؟؟ تیری ہٹ دھرمی کی وجہ سے ؟؟؟ ” وہ کہتا چلا گیا
“مروان میرے امی ابو تیرے رشتے پر راضی نہیں تھے… کیونکہ انہیں پتہ تھا کہ روحاء سب کچھ صبر سے جھیلنے والی لڑکی نہیں ہے, وہ.ل اس کے لئے کوئی انڈیپینڈنٹ سنگل بندہ چاہ رہے تھے تاکہ سے تھوڑی کم struggle کرنی پڑے… لیکن میں تیرے حق میں تھا… میں نے انہیں کہا کہ مروان روحاء کے لئے بہترین چوائس ہے…” سعد پھر ذرا سا رکا
“اب شائد تجھے میری بات بری بھی لگے لیکن… روحاء میں کوئی کمی نہیں تھی مروان, اسے تجھ سے بہت بہتر بھی مل جاتا لیکن اس لڑکی نے میرے کہنے پر تجھے چن لیا, اس نے تیری ہر خامی کو نظر انداز کر دیا… تیری بھابھی اور والدہ سے اس کی پہلی لڑائی صرف اس وجہ سے ہوئی کہ تیرے قد پر بات آئی اور اسے برداشت نہیں ہوا… مروان اس نے اتنے سالوں میں کبھی تجھے تیری کسی خامی کا طعنہ دیا ہو تو بتا ؟؟؟ میں مانتا ہوں تو نے اسے کبھی کوئی کمی نہیں ہونے دے لیکن بدلے میں اس نے تیری عزت میں کوئی کمی رہنے دی ہو تو بتا ؟؟؟ مروان ہماری مڈل کلاس سوسائٹی کی ہزاروں, لاکھوں لڑکیاں کمپرومائز کرتی ہیں, سسرال میں رہ کر بہت کچھ برداشت کرتی ہے, کبھی شوہر ساتھ دیتا ہے تو کبھی نہیں, آخری حد تک اپنا گھر بسانے کی کوشش کرتی ہیں… اور کرنا بھی چاہئے, وہ کہتے ہیں نا کہ کمپرومائز کرنا عورت کی فطرت میں ہوتا ہے لیکن… وہ بھی تو ہیں جن کی نیچر اتنی کمپرومائزنگ نہیں ہوتی… لیکن گزارہ وہ بھی کرتی ہیں… جیسے تیسے گھر وہ بھی بساتی ہیں, لیکن اگر شوہر سب کچھ افورڈ کر سکتا ہو تو کمپرومائز کی کوئی تک نہیں بنتی… اور المیہ یہ ہے کہ تیرے جیسے شوہر افورڈ کرنے کے باوجود بیوی کو سسرال میں رولے رکھتے ہیں, مروان یار بزدل اور شکی شوہر کے ساتھ گزارہ کرنا سب سے مشکل کام ہوتا ہے… ” وہ کہتا جا رہا تھا
“اور ان سب باتوں سے قطع نظر… میاں بیوی کے ہر جھگڑے سے قطع نظر… تو نے مجرم ہوتے ہوئے بھی سارا غصہ اس پر اتارا, مروان یار مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتی کہ آخر ہاتھ اٹھانے کی تک کیا بنتی ہے ؟؟؟ زبان کس لئے رکھی گئی ہے منہ میں ؟؟؟ ” اسے غصہ آیا تھا, مروان چپ چاپ سر جھکاۓ بیٹھا تھا
“اگر وہ صبح سے کہہ رہی تھی کہ مرحہ کو بخار ہے تو جھوٹ کیوں لگا تجھے ؟؟؟ اگر وقت نہیں تھا تو منع کر دیتا…. کہ میں نہیں آ سکتا, سعد سے کہو لے جاۓ, اس میں کوئی مضائقہ تو نہیں تھا… لیکن تو نے جھوٹ بولا… مروان یار تیرے بھائیوں کے بچوں کی برتھ ڈے پارٹیز سیلیبریٹ کرنا تیری ذمہ داری نہیں تھی… ” سعد کی آواز اونچی ہو گئی
“میں جانتا ہوں… میری اہمیت صرف پیسے کی حد تک تھی, کسی کو مجھ سے کوئی سروکار نہیں ہے… فرحان اور نعمان میں سے کوئی میرے لیے تمہارے گھر نہیں آیا, میری وہ بہن جس کی وجہ سے میرا گھر اجڑ گیا اسے رتی برابر شرمندگی نہیں ہے… میں تسلیم کرتا ہوں سعد کہ میں بزدل تھا… لیکن” اس نے سعد کی طرف دیکھا
“آئیندہ کے لئے صرف ایک موقع…. صرف ایک اور موقع” وہ ملتجیانہ سے لحجے میں بولا
سعد نے ایک لمبی سانس بھری تھی
“سعد… پلیز بس اسے اتنا کہہ دینا کہ میں نے اس سے محبت کی ہے… اس محبت کی خاطر معاف کر دے” مروان کے آنسو نکل آۓ تھے
…………………….
پھر کیا سوچا تو نے ؟؟؟” مبرا آج روحاء سے ملنے آئی تھی, اس رات والے واقعے کو کافی دن گزر چکے تھے, وہ اب کافی بہتر تھی سو روحاء سے ملنے چلی آئی
روحاء حسب معمول اپنے کمرے میں تھی, عفراء ابھی تک آئی نہیں تھی, اس کا بیٹا پیچھے سے کوکب ہی سنبھالتی تھیں
“کیا سوچوں میں ؟؟؟” روحاء جیسے ڈھے سی گئی
“اب سارے جہان میں روتا پھرتا ہے, معافیاں مانگتا پھرتا ہے… سر عام ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو جاتا ہے جیسے میرے سینے میں پتھر رکھا ہو, کیا باور کرواتا ہے اب مجھے یوں فقیر بن کر… کہ اسے میری بہت پرواہ ہے… ” وہ یکدم ہی پھٹ پڑی تھی, مبرا اس کے پاس بیٹھ گئی
روحاء… شوہروں کو کبھی وقت پر عقل نہیں آتی… کبھی بھی نہیں, انہیں ہمیشہ تب عقل آتی ہے جب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے…” مبرا نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا
“اور تو شائد ان خوش قسمت ترین بیویوں میں سے ایک ہے جس کے شوہر کو وقت سے پہلے عقل آ گئی ہے… “وہ بولی
“مبرا میرا دل کٹ گیا اس دن عدالت میں اسے دیکھ کر… مجنوں ہی بن گیا ہے, پہننے اوڑھنے کا بھی نہیں پتہ چل رہا… بات بات پر رو پڑتا ہے, اب کہاں گئے اس کے بھائی, اس کی بہن, اس کی ماں… اب جاۓ ان کے پاس, کہے انہیں کہ میری دوسری شادی کر دو اور روحاء سے اچھی کوئی اور لا دو… “وہ روتے ہوئے بولی
“کوئی کسی کا نہیں ہوتا روحاء… سب نے ہری جھنڈی دکھا دی ہے اسے… کوئی نہیں ہے اس کے ساتھ” مبرا نے کہا
“جانتی ہے روحاء… جس رات ولید نے مجھے اغواء کیا… اس رات معافی مانگ رہا تھا مجھ سے, ہاتھ بھی جوڑے, پیر بھی پکڑ لئے… کہتا معاف کر دو, میں نے کہا ٹھیک ہے… میں کر دوں گی معاف لیکن…. یہ معافی سب کے سامنے مانگو, جیسے مار پیٹ سب کے سامنے کی ہے ویسے ہی ہاتھ بھی سب کے سامنے جوڑو… ” مبرا ذرا سا رکی
“…اور اس نے جواباً مجھے ایک اور تھپڑ مار دیا…جیل چلا گیا لیکن معافی نہیں مانگی… ” مبرا نے کہا
“لیکن وہ شرمندہ ہے روحاء… اس نے اگر تجھے سر عام تھپڑ مارا تو تجھ سے سر عام معافی بھی مانگتا ہے, اس نے اگر گناہ کیا ہے تو اسے تسلیم بھی کرتا ہے, اس سے اگر خطا ہو گئی ہے تو اس کا بہت خمیازہ بھگت چکا… روحاء یار اس نے محبت کی شادی کی تھی تجھ سے… ” مبرا نے کہا
“یہ ہی تو دکھ ہے مجھے کہ اس نے محبت کے نام پر سزا دی ہے مجھے, اس نے محبت کا جھانسہ دے کر ذلیل کر دیا مجھے…. محبت کر کے تھپڑ مارا مجھے… ” روحاء بلک اٹھی تھی, مبرا کے کندھے سے لگ کر روتی چلی گئی
“میں تجھے فورس نہیں کر رہی روحاء… فیصلہ تیرا ہی ہو گا لیکن… وہ سدھر گیا ہے اور ایک بیوی اس سے زیادہ اور کیا چاہے گی کہ اس کا شوہر سدھر جاۓ” مبرا نے کہا
“معاف کر دینا خدا کی صفت ہے روحاء… اور خاص طور پر جب معافی کا طلبگار دو بیٹیوں کا باپ بھی ہو تو…. ” مبرا نے اسے گلے سے لگاتے ہوئے کہا تھا
…………………..
شعیب کو لاہور میں رہائش مل گئی تھی, کچھ سامان اس نے وہاں سے ہی خرید لیا… اور باقی کا شفٹ کروا لیا,اس انہی دنوں خباب کی شادی کی تاریخ بھی طے ہو گئی تھی
ایک ہفتے بعد لسٹ لگی اور مبرا کا پی ایچ ڈی میں ایڈمیشن ہو گیا
اس کے ایڈمیشن کی خبر سعد کو بھی مل گئی تھی لیکن فی الحال وہ بالکل خاموش تھا
…………………..
وہ اس دن کلاس لے رہی تھی جب اسے سٹاف روم سے کال آئی, کوئی اس سے ملنے آئی تھی, وہ کلاس لیکر سٹاف روم کی طرف آ گئی
عفراء واحدی اس کے انتظار میں بیٹھی تھی
“تم یہاں ؟؟؟” مبرا کافی حیران ہوئی
“تم سے ایک بات کرنی ہے… ” عفراء نے کہا, مبرا اسے اپنے آفس میں لے آئی
“خیریت تو ہے ؟؟؟” مبرا نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے پوچھا تھا, عفراء نے ایک نظر اسے دیکھا
مبرا اس رات والے جھٹکے کے بعد کافی کمزور ہو گئی تھی, چہرے پر ابھی بھی درندگی کے مٹے مٹے سے نشان باقی تھے
“خیریت ہی تو نہیں ہے… مبرا حسیب خان” عفراء نے کہا
“کیا ہوا ؟؟”
“تم نے سعد کی اکیڈمی کیوں جوائن کی ہے ؟؟؟” عفراء نے پوچھا
“کیونکہ… مجھے وہاں پڑھانا اچھا لگتا ہے… ” مبرا دھیرے سے مسکرائی
“تو یہاں کالج میں بھی تو پڑھاتی ہی ہو… یہ کافی نہیں ہے کیا ؟؟؟” وہ بولی
“میں شادی سے پہلے بھی وہاں پڑھاتی تھی, شادی کے بعد continue نہیں کر سکی, حالانکہ نے سعد نے دو, تین مرتبہ اصرار کیا لیکن مینیج نہیں ہوا… اب فری ہوں تو جوائن کر لیا” مبرا نے سبھاؤ سے کہا تھا
“بس یہ ہی وجہ ہے ؟؟؟”
“عفراء…. ” مبرا نے غور سے اس کی طرف دیکھا
“کیا ہوا ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“تم سعد کی اکیڈمی چھوڑ دو… ” وہ بولی, مبرا بس اسے دیکھتی رہ گئی, یوں جیسے وجہ اس کے چہرے پر کھوج رہی ہو
“ٹھیک ہے… چھوڑ دی” مبرا نے چند لمحوں بعد کہا تھا, عفراء خاموش رہ گئی
“کوشش کرنا آئیندہ اس سے رابطہ نا ہی کرو… ویسے بھی جب تم چھوڑ دو گی تو وہ خود ہی اکیڈمی بند کر دے گا, روحاء نے بتایا تھا کہ تمہارے بڑے بھائی لاہور میں رہتے ہیں… دل کرے تو… ان کے پاس چلی جانا… وہاں ٹرانسفر کروا لینا…. اللہ کرے… تمہیں… وہاں کوئی اچھا سا… تمہارے جیسا…. انسان مل جاۓ” وہ بنا اس سے نظریں ملاۓ, اٹک اٹک کر کہتی ہوئی, آخر میں رو ہی پڑی تھی
پھر تا دیر روتی رہی
مبرا نے ٹشو اٹھا کر اس کی طرف بڑھا دیا
“تو تم مجھے جلا وطنی کا حکم سنانے آئی ہو ” مبرا بڑے کرب سے مسکرائی تھی
“میں صرف ریکوئسٹ کرنے آئی ہوں… ” عفراء نے کہا, مبرا نے ایک لمبی سانس بھری تھی
“عفراء اب تم آ ہی گئی ہو تو سنو… ہاں یہ سچ ہے کہ میں نے سعد مغل کی نظروں میں اپنے لئے بہت بار پسندیدگی دیکھی تھی, ڈھکے چھپے الفاظ میں اس نے اظہار بھی کیا تھا… وہ اپنے پیرینٹس کو میرے گھر بھیجنے کے لئے بھی تیار تھا… اور شائد اس کے پیرینٹس آ جاتے تو ہمارا رشتہ طے ہو بھی جاتا کیونکہ اس میں بہت سارے پلس پوائنٹس تھے, ہماری فیملیز ایک دوسرے کو جانتی تھیں, روحاء میری بیسٹ فرینڈ تھی, میرا اور روحاء کا ایک دوسرے کے گھر آنا جانا بھی تھا, سعد مغل ایک بہت اچھا انسان تھا… مبرا حسیب خان ایک بہت قابل لیکچرار تھی لیکن… یہ سب نہیں ہوا… کیونکہ سعد مغل میری پسند نہیں تھا… ” وہ ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولی تھی
“وہ کبھی بھی میری چوائس نہیں تھا… حالانکہ جسے میں نے چنا, اس نے مجھے جانور بھی نہیں سمجھا… لیکن اس کے ہاتھوں ذلیل ہوتے ہوئے, مار کھاتے ہوئے, اذیتیں سہتے ہوۓ… ایک پل کے لئے بھی میرے دل میں نہیں آیا کہ….. کاش… کاش میں سعد مغل کو چن لیتی” مبرا نے کہا
“کیونکہ میں اس کا مقدر نہیں تھی عفراء… اس کا مقدر تم تھیں… تم اس کی بیوی ہو… اس کے بیٹے کی ماں ہو, اور خدا کی قسم آج ولید احمد کے ہاتھوں اجڑ کر بھی میں نہیں کہتی… کہ کاش میں تب سعد مغل کو چن لیتی… بھلا کیوں ؟؟؟ کیونکہ خدا نے اس کے مقدر میں تمہیں لکھا تھا… مجھے نہیں” وہ بولی
“پھر بھی اگر تمہارا دل مطمئن نہیں ہوتا تو ٹھیک ہے… میں آج ابھی سے اس کی اکیڈمی چھوڑ رہی ہوں… میرا وعدہ ہے تم سے… کہ آئیندہ کم از کم میرا نام تمہارے شوہر کی زبان پر نہیں آۓ گا” مبرا نے مضبوط لحجے میں کہا تھا
………………………..
جاری ہے
