Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel NovelR50401 Woh Howe Meharban (Episode 38) Last Episode (Part - 1)
Rate this Novel
Woh Howe Meharban (Episode 38) Last Episode (Part - 1)
Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel
داؤد اور زبیر دونوں جیل سے فرار ہوئے قیدی زینش کو تین مختلف گاڑیاں تبدیل کرتے ہوئے بالآخر اپنی منزل پر پہنچے جو کہ ایک فارم ہاؤس تھا
“نخرے مت دکھا خاموشی سے نکل گاڑی سے باہر”
داؤد زینش کا بازو کھینچتا ہوا زبردستی اسے گاڑی سے باہر نکلنے لگا
وہ دونوں زینش کو لے کر ایک بڑے سے ہال نما کمرے میں داخل ہوئے جہاں بہت سارے مرد موجود تھے۔۔۔ داؤد اور زبیر کے ساتھ زینش کو دیکھ کر سارے آدمی ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوگئے مگر روتی ہوئی زینش ان سارے آدمیوں کے بیچ معظم کو دیکھ کر رونا بھول چکی تھی، معظم خود بھی حیرت سے داؤد کے پاس کھڑی ہوئی زینش کو دیکھنے لگا
“یہ کس کو یہاں پر اٹھا کر لے آئے ہو تم دونوں”
معظم داؤد کے قریب آ کر ان دونوں کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“جیل سے فرار ہونے کے بعد پولیس ہمارے پیچھے پڑ گئی تھی اور اسی بلبل کو ڈھال بنا کر ہم دونوں یہاں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں”
معظم کی بات کا زبیر اس کو جواب دینے لگا زینش ابھی بھی اپنے سامنے کھڑے معظم کو امید سے بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی
“ٹھیک ہے اب اسے میرے حوالے کر دو” معظم نے بولنے کے ساتھ ہی داؤد کا ہاتھ زینش کے بازو سے ہٹایا
“اے تو نے کیا پاگل سمجھا ہوا ہے ہم دونوں کو جو اسے تیرے حوالے کردیں”
زبیر معظم کو دیکھتا ہوا بولا اس سے پہلے معظم اسے کوئی سخت جواب دیتا ساجد صوفے سے اٹھ کر ان دونوں کے پاس آتا ہوا بولا
“اس کے ساتھ یہی مسئلہ ہے یار، میں تو خود پریشان ہوں اس سے۔۔۔ نہ یہ خود مزے لیتا ہے نہ دوسرے کو لینے دیتا ہے۔۔۔ زاہد غور سے دیکھ یہ وہی لڑکی ہے جو ماں بننے والی تھی جب ہم یو ایس بی لینے کے گئے تھے اس سالے معظم کے ساتھ اس گھر میں”
ساجد بولتا ہوا ان لوگوں کے پاس آیا اور زینش کو حوس بھری نظروں سے دیکھنے لگا
“اچھی طرح پہچان چکا ہوں یار اسے، اب یہ لڑکی یہاں آگئی ہے تو قاسم سیٹھ خود بھی اسے واپس نہیں جانے دے گا۔۔۔ ظاہری سی بات ہے یہ اس جگہ کو دیکھ چکی ہے، ہم سب کے چہرے دیکھ چکی ہے اب یہ مولوی بھی اگر چاہے تو اس لڑکی کو نہیں بچا سکتا”
زاہد معظم پر طنز کرتا ہوا بولا تبھی معظم زاہد کی طرف مڑکر اسے جھڑک کر بولا
“بکواس بند کرو اپنی، ابھی قاسم سیٹھ یہاں پر نہیں پہنچے ہیں اور جب تک وہ یہاں نہیں پہنچ جاتے تب تک تم سب کو ہمیشہ کی طرح میرے حکم کے تابع چلنا ہوگا۔۔۔ زاہد تم تھوڑی دیر بعد ساجد کے ساتھ اُس ہوٹل میں جاؤ گے جہاں قاسم سیٹھ کے گیسٹ ٹہرے ہیں اور انہیں باعزت طریقے سے یہاں لے کر آؤ گے اور تم دونوں تھوڑی دیر پہلے جیل سے فرار ہوئے ہو تو جا کر اپنا حلیہ درست کرو۔۔۔ تم سب لوگ کان کھول کر میری بات سن لو اس لڑکی کو مجھ سے پہلے کوئی بھی ہاتھ نہیں لگائے گا، اگر کسی نے بھی اس لڑکی کو چھونے کی کوشش کی تو میں اس کا اتنا برا حشر کروں گا کہ آئینے میں خود کا چہرہ دیکھنے سے بھی خوف آنے لگے گا”
معظم وہاں پر موجود ایک ایک آدمی پر نظر ڈالتا ہوا اسے وارن کرتا ہوا بولا
“ٹینشن نہ لے، مل جائے گی پہلے اس کو خوش ہو لینے دے”
زبیر داؤد کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر بولا معظم اس کی بات کو اگنور کرتا ہوا زینش کا ہاتھ پکڑ کر اسے سیڑھیاں چڑھاتا ہوا اوپر کے فلور پر لے گیا
****
“چھوڑ دو مجھے پلیز”
سیڑھیاں چڑھتے ہوئے وہ مسلسل رو رہی تھی معظم نے اسے کمرے میں لاکر کمرے کا دروازہ لاک کیا
زینش معظم کے تھوڑی دیر پہلے بولے گئے جملے پر اور اسکے دروازہ بند کرنے پر معظم کو خوفزدہ نظروں سے دیکھنے لگی۔۔۔ اس کا دوپٹہ معظم کے قدموں میں گر چکا تھا زینش ڈر کر دیوار سے چپک کر کھڑی ہو گئی
“کیسے ہاتھ لگ گئی تم ان دونوں خبیثوں کے، تمہارا شوہر بلال کہاں ہے اس وقت”
معظم زینش کا دوپٹہ اٹھا کر اس کی جانب بڑھتا ہوا آہستہ آواز میں زینش سے پوچھنے لگا تب زینش کو تھوڑی سی ڈھارس ہوئی وہ کانپتا ہوا ہاتھ آگے بڑھا کر معظم سے اپنا دوپٹہ لے کر دوبارہ رونے لگی
“بلال کو گولی مار دی ان لوگوں نے”
زینش روتی ہوئی معظم کو بتانے لگی اس کی آنکھوں میں ابھی تک بلال کا چہرہ گھوم رہا تھا۔۔۔ معظم اس کی بات سن کر تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو گیا پھر آہستہ آواز میں زینش سے پوچھنے لگا
“یہاں سے واپس جانا چاہتی ہوں”
معظم کی بات سن کر زینش رونا بند کر کے خاموشی سے معظم کو دیکھنے لگی۔۔۔ معظم نے چھوٹے سائز کا چاقو پاکٹ سے نکال کر زینش کی طرف بڑھایا
“اسے اپنے پاس کہیں چھپا لو ویسے تو تمہیں اس کے استعمال کی ضرورت نہیں پڑے گی لیکن اگر میرے علاوہ کوئی دوسرا اس کمرے میں آ جاتا ہے تو تم اپنی عزت بچانے کے لئے اسکا استعمال کر لینا۔۔ اب غور سے میری بات سنو چند گھنٹے تمہیں اس کمرے میں خاموشی سے گزارنے ہوگیں۔۔ بار بار تمہارا رونا دھونا چیخنا چلانا باہر موجود تمام آدمیوں کو اس کمرے کی طرف اور تمہاری طرف متوجہ کرسکتا ہے۔۔۔ باہر سے میں اس کمرے میں تالا لگا دو گا اس کی چابی میرے پاس محفوظ رہے گی۔۔۔ یہاں کوئی دوسرا نہیں آ سکتا،، چند گھنٹوں بعد میں تمہیں یہاں سے نکال لوں گا اور بلال کے لیے پریشان مت ہوں میں اس کے بارے میں معلوم کروا لیتا ہوں”
معظم زینش کو ڈرا ہوا دیکھ کر اطمینان دلاتا ہوا بولا اور کمرے سے باہر جانے لگا وہ اپنے اوپر قرض رکھنے کا عادی نہیں تھا ایک بار بلال اسکی بیوی اور بیٹی کی مشکل وقت میں مدد کر چکا تھا آج اس کی باری تھی
“معظم ایم سوری۔۔۔ میں نے اس دن تمہاری وائف کے سامنے جو بھی کچھ کہا،، وہ دو سال پہلے میرے اندر کا دبا ہوا غصہ تھا اس کے لئے مجھے معاف کر دو”
زینش کی بات سن کر معظم اسے کچھ کہے بنا کمرے سے باہر نکل گیا۔۔ اس نے واقعی کمرے کے دروازے پر تالا لگایا اور چابی اپنی پاکٹ میں رکھ لی اور پپو کو کال ملانے لگا
*****
قاسم اور قاسم کے گیسٹ آچکے تھے جن کی موجودگی میں میٹنگ کے دوران چار مختلف جگہ پر بلاسٹ کرنا تہہ پایا گیا،، میپس کی مدد سے اور پہلے سے مونیٹرنگ کی ہوئی ساری لوکیشن داؤد اور زبیر کو سمجھا دی گئی تھی
ڈنر کے بعد قاسم اپنے گیسٹ کو اس فیکٹری میں لے جانے کا ارادہ رکھتا تھا جہاں بم میں شامل خطرناک کیمیکل اور زہریلا مواد تیار کیا جاتا تھا یہ فیکٹری وہی واقع تھی جہاں معظم پرانے محلے میں پپو کے ساتھ رہتا تھا ایک چھوٹی سی جگہ پر عام سی گارمنٹس فیکٹری میں کسی عام بندے کو یہ نہیں معلوم تھا کہ یہاں پر کیا کام ہوتا ہے
یہ ٹائم بمز جنھیں مختلف جگہوں پر فکس کرنے کا پروگرام تشکیل دیا گیا تھا یہ کوئی عام بمز نہیں تھے بلکہ ان میں موجود مختلف قسم کے وائرس موجود تھے جو بلاسٹ کے بعد بہت بڑی بربادی کا سبب بنتے۔۔۔ ان بمز کی تکمیل ہفتے بھر پہلے ہو چکی تھی،، انہیں دوسرے ممالک میں دریافت کروانے سے پہلے اپنے ہی ملک میں چار مختلف جگہوں پر ٹیسٹ کرنے کا پلان بنایا گیا تھا۔۔۔ کیوکہ زبیر اور داؤد ٹرینڈ آدمی تھے اسلیے اس کام کے لیے ان دونوں کو جیل سے باہر نکلوایا گیا تھا
****
“جلدی چلو ٹائم کم ہے میرے پاس، دس منٹ ہیں ٹوٹل تمہیں یہاں سے باہر نکالنا ہے پھر دوسرا کام بھی نبھٹانا ہے”
زینش نیچے فرش پر بیٹھی ہوئی تھی تب معظم جلدی سے کمرے میں آ کر دروازہ بند کرتا ہوا اس سے بولا
“لیکن تم دروازے بند کر چکے ہو ہم باہر کہاں سے جائیں گے”
زینش فرش سے اٹھ کر کھڑی ہوتی ہوئی معظم سے پوچھنے لگی۔۔۔ اس نے معظم کی بیوقوفی جتا کر اپنے طور پر اس سے عقلمندانہ سوال کیا تھا
“شکر ہے میری بیوی تمہاری جتنی عقلمند نہیں ہے۔۔۔ تمہیں اس دروازے سے باہر نکل کر سب کو ٹاٹا بائے بائے کرکے یہاں سے جانا ہے۔۔۔ یہاں آؤ میرے پیچھے”
معظم زینش پر طنز کرتا ہوا بولا اور کمرے میں موجود ایک اور دروازہ کھولنے لگا جہاں بالکنی موجود تھی
یہ بالکنی فارم ہاؤس کے پچھلے حصے پر کھلتی تھی، معظم بالکنی میں آیا تو زینش بھی اس کے پیچھے وہی آ گئی
معظم نے بالکنی میں موجود گرل کی دوسری سمت پر کھڑے ہو کر دیوار میں لگے پائپ کا سہارا لیا اور نیچے چھچجے پر گودا
“میری شکل مت دیکھو زینش میری طرح اس پائپ کو پکڑ کر یہاں جمپ کرو”
معظم چھچھجے پر کھڑا ہوا آہستہ آواز میں زینش سے بولا
“لیکن اگر میں نیچے گر گئی تو”
زینش اپنا خدشہ ظاہر کرتی ہوئی معظم کی طرح خود بھی آہستہ آواز میں بولی
“اگر تم یہاں سے گری تو زیادہ سے زیادہ تمہاری کوئی ہڈی ٹوٹے گی، اتنی کم ہائیٹ سے کوئی مر نہیں سکتا،، تم میرا وقت ضائع کر رہی ہو زینش”
زینش کی بات سن کر معظم چڑتا ہوا بولا۔۔۔ اس نے سندیلا سے شادی کا ایک اچھا فیصلہ کیا تھا اس کی آستانی جی آرام سے اس کی ہر بات سمجھ جایا کرتی تھی۔۔۔۔ آج معظم کو اپنی قسمت پر رشک اور بلال کی قسمت پر افسوس ہونے لگا تھا۔۔۔ بیچارہ بلال
“نہیں میں اس طرح کا کرتب نہیں کر سکتی مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے”
زینش نے گرل کی دوسری سائیڈ پر کھڑی ہو کر پائپ کو پکڑنا چاہا تو وہ لوز ہوکر حل رہا تھا زینش روہنسا ہوکر معظم سے بولی
“تم خود تو پھنسو گی مجھے بھی مروا دو گی آج۔۔۔زینش تم ٹائم ویسٹ کر رہی ہو یہاں دیکھو میری طرف، میں تمہیں گرنے نہیں دوں گا مجھ پر بھروسہ کر کے جمپ کرو پلیز”
معظم ہمیشہ کی طرح نرم لہجے میں بولا ویسے بھی روعب اور غصہ صرف مقابل کو اس کی آنکھوں میں دکھتا تھا جسے اس وقت زینش نے دیکھ کر اقرار میں سر ہلایا
اللہ کا نام لے کر اس نے چھلانگ لگائی اور ساتھ ہی اپنی آنکھیں بھی بند کر لیں۔۔۔ زینش کی اٹکی ہوئی سانس بحال ہوئی کیونکہ معظم اسے گرنے سے پہلے گرپ کر چکا تھا وہ آنکھیں کھول کر پرسکون ہو کر سانس لینے لگی۔۔۔ معظم باآسانی وہاں سے نیچے زمین پر گودا اور زینش کو بھی کھودنے کا اشارہ کیا۔۔۔ پہلے کے مقابلے میں اب کی بار ہائیٹ کم تھی اس لئے معظم کے ایک دفعہ بولنے پر زینش نے جمپ لگائی۔۔۔ معظم ایک بار پھر اس کے جمپ لگانے پر زینش کو تھام چکا تھا تاکہ اس کو چوٹ نہ لگے۔۔۔ معظم زینش کو لے کر وہاں سے دوسری طرف سے باہر کے راستے پر لے جانے لگا
“یہاں تو دیوار ہے اب ہم باہر کیسے نکلیں گے”
زینش وہاں موجود بڑی سی دیوار کو دیکھتی ہوئی معظم سے پوچھنے لگی
“اس دیوار کو پھلانگ کر اور ہم نہیں صرف تم۔۔۔ دیوار کی دوسری سائیڈ میرا دوست تمہارا انتظار کر رہا ہے۔۔۔ وہ تمہیں باحفاظت یہاں سے لے جائے گا اور ہاں بلال کی ٹانگ پر گولی لگی تھی لیکن وہ اب بالکل ٹھیک ہے۔۔۔ وہاں پر موجود پولیس اور لوگوں کی مدد سے وہ ہسپتال پہنچا دیا گیا تھا۔۔۔ چلو جلدی کرو مجھے واپس وہاں جانا ہے میری غیر موجودگی ان لوگوں کو شک میں مبتلا کر سکتی ہے”
معظم چاروں طرف اپنی نظر دوڑاتا ہوا جلدی جلدی بول رہا تھا شکر تھا کہ وہاں پر کوئی کیمرہ فکس نہیں تھا۔۔۔
معظم نے وہاں پر موجود ایک لکڑی کا اسٹول دیوار کے پاس رکھا تاکہ زینش اس پر چڑھ کر دیوار کو پھلانگ سکے، مگر زینش کے اس بوسیدہ اسٹول پر چڑھتے ہی اسٹول ٹوٹ گیا۔۔۔۔ زینش زمین پر گری ہوئی شرمندہ نگاہوں سے معظم کو دیکھنے لگی۔۔۔ جو ضبط کرکے اس وقت زینش کو گھور رہا تھا
“تم مجھے واقعی مرواؤ گی یہاں تھوڑی دیر میں پولیس آنے والی ہے جلدی کرو”
معظم نیچے جھک زینش کا بازو پکڑ کر اسے اٹھاتا ہوا نرمی کی بجائے غصے میں بولا۔۔۔ زینش کا رخ دیوار کی جانب کرکے اس کو کمر سے پکڑتا ہوا اونچا کرنے لگا تب بہت مشکلوں سے زینش نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اوپر کرکے دیوار کو بمشکل تھاما۔ ۔۔ دیوار کی دوسری جانب واقعی ایک شخص کھڑا تھا جو کہ زینش کو دیکھ کر چوکنا ہوا۔۔۔ اس نے زینش کی طرف اپنے دونوں ہاتھ بڑھائے تب زینش نے دیوار کی دوسری جانب چھلانگ لگا دی
*****
“بلال”
زینش دوڑ کر ہاسپٹل کے بیڈ پر لیٹے ہوئے بلال کے پاس پہنچی اور اس کے سینے سے لگ کر رونے لگی۔۔۔ زینش وہاں سے نکلتے ہوئے پپو کو پہلے ہی کہہ چکی تھی وہ اپنے گھر کی بجائے اپنے شوہر کے پاس ہاسپٹل جانا چاہتی ہے جہاں وہ ایڈمٹ تھا
“زینش تم یہاں اللہ کا شکر ہے۔۔ تم یہاں کیسے پہنچی کون لایا تمہیں،، تم ٹھیک ہو نہ پلیز مجھے سچ بتاؤ”
بلال زینش کو یوں اچانک اپنے سامنے دیکھ کر بے قراری سے پوچھنے لگا
بلال کو 3 گھنٹے پہلے ہوش آ چکا تھا۔۔۔۔ ہوش میں آنے کے بعد اس نے ہسپتال میں چیخنا چلانا اور ہنگامہ شروع کر دیا وہ ڈاکٹرز اور پولیس کی ایک نہیں سن رہا تھا۔۔ وہاں پر موجود پولیس نے اسے یقین دلایا تھا کہ وہ اس کی بیوی کو ان مجرموں سے بازیاب کروا لیں گے لیکن وہ اپنی بیوی کو خود ان مجرموں سے چھڑوانا چاہتا جو اس کی بیوی کو اس کی آنکھوں کے سامنے لے کر چلے گئے تھے۔۔۔ جب بلال نے غصے میں ڈرپ کا اسٹینڈ دور پھینکا تب ڈاکٹر کو اس کو انجکشن دینا پڑا جس سے وہ غنودگی میں چلا گیا تھا۔۔۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی وہ ہوش میں آیا تھا، اس نے خود کو ہسپتال کے پرائیویٹ روم میں پایا وہ اسپتال سے نکلنے کی سوچ ہی رہا تھا کہ زینش اس کے پاس آ گئی
“معظم۔۔۔ معظم نے وہاں تمہیں بچایا”
زینش نے بلال کو پورا قصہ سنایا تو بلال حیرت سے اس سے پوچھنے لگا، جس پر زینش اس نے اقرار میں سر ہلایا
“اس کی وجہ سے آج میری عزت اور جان بچی ہے بلال،، میں جو یہاں آپ کے سامنے موجود ہوں صرف اسی کی وجہ سے آپ مجھے صحیح سلامت دیکھ سکتے ہیں۔۔۔ لیکن آپ کو اس حالت میں دیکھ کر مجھے بہت تکلیف ہو رہی ہے”
گھٹنے سے اوپر اس کے ڈریسنگ ہوئی تھی دائیں ہاتھ پر ڈرپ لگی دیکھ کر زینش روتی ہوئی بولی
“میں بالکل ٹھیک ہوں زینش،، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے معظم کو ذریعہ بنا کر باحفاظت تمہیں میرے پاس بھیج دیا۔۔۔ ورنہ اگر تمہیں کچھ ہوجاتا یا تم واپس نہیں آتی تو نہ جانے میں کیا کر گزرتا”
بلال زینش کو چہرہ تھام کر اس کے آنسو صاف کرنے لگا ایک بار اس نے معظم کی بیوی اور بچی کی جان بچائی تھی آج معظم نے اس کی بیوی کو بچایا۔۔۔ وہ بلال پر ادھار اپنا قرض اتار چکا تھا
زینش بلال کا تکیہ سیٹ کر کے اس کو ریلکس انداز میں لٹاتی ہوئی روم میں موجود ایل ای ڈی آن کرنے لگی
“کیا دیکھنا چاہ رہی ہو تمہاری کوئی ویڈیو فوٹیج یا کلپ اسکرین پر نہیں آئی۔۔۔ دو خطرناک مجرم جیل سے فرار ہو کر بھاگ گئے ہیں اس طرح کی نیوز چلی تھی چند گھنٹے پہلے”
بلال اس کو چینل سرچ کرتا ہوا دیکھ کر وہی بات بتانے لگا جو اسے ہوش میں آنے کے بعد پولیس انسپکٹر سے معلوم ہوئی تھی
“نہیں مجھے اور بھی کچھ کنفیوز کر رہا ہے رکیں آپ کو بتاتی ہوں”
زینش نے بلال سے بولتے ہوئے نیوز چینل لگایا۔۔۔ کیونکہ اس نے معظم کے منہ سے یہ جملہ سنا تھا تھوڑی دیر میں یہاں پولیس آنے والی ہے اور معظم کے دوست نے اسے وہاں سے نکالتے وقت، یہاں اسپتال پہنچانے سے پہلے۔۔۔ زینش کو یہی سمجھایا تھا کہ وہ پولیس سے اپنے بیان میں یہی بولے کہ وہ اس جگہ سے خود اپنے مدد آپ فرار ہوئی ہے
“سب سے بڑی اور اہم خبر آپ کو بتاتے چلیں۔۔۔ تو ناظرین یہ جو منظر آپ اپنی ٹی وی اسکرین پر دیکھ رہے ہیں یہ ٹھٹھہ کے قریب ایک فارم ہاؤس کے اندر کے مناظر ہیں۔۔۔ جہاں پر تھوڑی دیر پہلے پولیس نے ایک کامیاب آپریشن کیا اور کئی ملزم اور جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کرلیا گیا،،، کئی فرار ہونے والے مجرم اور جرائم پیشہ افراد پولیس کی گولیوں کا نشانہ بھی بنے۔۔۔ یہ جو فوٹیج آپ کو دکھائی دے رہی ہے ان فوٹیج سے آپ ان بے ضمیر لوگوں کے خطرناک عزائم کا خوب اندازہ لگا سکتے ہیں۔۔۔ اس فارم ہاؤس سے برآمد ہونے والے بارود سوسائڈ بم جیکٹ اور مختلف ایسے نقشے اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ اس شہر کے امن و سکون کو تباہ و برباد کرنے کے لیے کتنا بڑا لاحہ عمل تیار کیا گیا تھا جو کہ پولیس کے بروقت کیے جانے والے آپریشن سے ناکام بنا دیا گیا۔۔۔ اس منصوبے میں ملوث بہت سے بڑی بڑی شخصیت کے نام منظر عام پر آئے ہیں، وہی جانی مانی ہستیوں کے چہرے بھی بے نقاب ہوئے ہیں۔۔۔ مختلف غیر ملکی شخصیات بھی اس برے عزائم میں اپنا کردار ادا کر رہی تھی۔۔۔ گرفتار ہونے والے افراد کی لسٹ تھوڑی دیر میں منظر عام پر آ جاتی ہے جبکہ اس آپریشن میں جاں بحق ہونے والے جرائم پیشہ افراد کے نام درج ذیل یہ ہیں”
“معظم۔۔۔ او گاڈ یہ کیا”
ہلاک ہونے والوں میں جہاں معظم کے نام اور تصویر دیکھ کر زینش نے ایک دم صدمے سے منہ پر ہاتھ رکھا۔۔ وہی بلال بھی حیرت اور یقینی سے اسکرین پر اس کی تصویر اور نام دیکھ کر اٹھ کر بیٹھ گیا
****
کل رات معظم کے گھر سے جانے کے بعد وہ اتنی گہری نیند سوتی رہی اور اسے خبر تک نہیں ہوئی کہ کل رات اس کی دنیا اجڑ چکی تھی۔۔۔ صبح جب پپو نے اسے معظم کے موت کی خبر سنائی تو سندیلا کو اپنی سماعت پر یقین کرنا مشکل ہوگیا ٹی وی پر بار بار وقفے سے نیوز کو دیکھ کر اس کا دل بیٹھا جا رہا تھا مگر وہ بے یقینی کی سی کیفیت میں تھی بھلا معظم اسے کیسے چھوڑ کر جا سکتا تھا
شام میں جا کر کہیں پپو اسے معظم کی ڈیڈ باڈی کی شناخت کے لیے سرد خانے لے کر گیا تھا جہاں دوسرے لواحقین بھی موجود تھے۔۔۔ اس کی سماعتیں دھوکا کھا سکتی تھی مگر آنکھیں۔۔۔۔ سندیلا معظم کی ڈیڈ باڈی کو دیکھ کر وہی اپنے حواس کھو چکی تھی، نہ اسے اپنا ہوش تھا، نہ ہی پری کا، نہ اسے یہ معلوم تھا کہ پپو اس کے بے ہوش وجود کو کس طرح گھر لے کر آیا تھا وہ اس وقت ویران سی اجڑی ہوئی حالت میں بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔ محلے کی 4 …5 خاتون اس کے پاس سے تھوڑی دیر پہلے گئی تھی،، سندیلا کی دوست سحرش بھی اس کے پاس بمشکل ایک گھنٹہ بیٹھ کر جا چکی تھی۔۔۔ جب پپو نے اسے آکر بتایا کہ معظم کی ڈیڈ باڈی فوری طور پر نہیں مل سکتی کچھ فارملیٹیز پوری کرنے کے بعد ہی تمام گھر والوں کو ان کے پیاروں کی ڈیڈ باڈی حوالے کی جائیں گی تو وہ پپو کو خالی نظروں سے دیکھنے لگی۔۔۔ اب بولنے کے لئے سندیلا کے پاس کچھ نہیں بچا تھا
بار بار بس اسے یہی بات یاد آ رہی تھی اس نے معظم کو آخری بار گھر سے ناراض کرکے بھیجا تھا کاش کہ وہ اس کو زبردستی روک لیتی کہیں نہیں جانے دیتی،، کاش اس کو اسی وقت بتا دیتی کہ وہ اس سے کتنی محبت کرتی ہے۔۔۔۔ وہ جب سے معظم کی ڈیڈ باڈی دیکھ کر آئی تھی تب سے اس کے رونے کا سلسلہ جاری تھا،، آنسو تھے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔۔۔ جانی پہچانی آواز سندیلا کو دوسرے کمرے سے آتی ہوئی سنائی دی کوئی شاید پپو کسی سے مخاطب تھا سندیلا اٹھ کر بیڈ روم سے باہر نکلی
“انیس بھائی”
اپنے بھائی کو دیکھ کر سندیلا بھاگتی ہوئی اس کے گلے سے لگ گئی اور بے تحاشا ہونے لگی۔۔۔ وہ بالکل توقع نہیں کر رہی تھی کہ اس کا بھائی اس کے پاس آیا تھا
“بس اتنا زیادہ مت رؤ، مت پریشان ہو اس طرح۔۔۔ مجھے شام کو ہی تمہارے شوہر کے بارے میں پتہ چلا تو میں اس وقت تمہارے پاس چلا آیا”
انیس سندیلا کو دلاسہ دیتا ہوا بولا سندیلا کو آج معلوم ہوا اس کا بھائی اس سے اتنا بھی بےخبر یا لا تعلق نہیں تھا
“میں تمہارا دکھ سمجھ سکتا ہوں سندیلا مگر ساری بات وہی آجاتی ہے ہونی کو آخر کون ٹال سکتا ہے۔۔۔ تم برا مت ماننا میری باتوں کا لیکن یہ بھی سچ ہے ایسے لوگ جو جرائم میں ملوث ہوتے ہیں ان کی زندگی موت کا کوئی بھروسا نہیں ہوتا بیشک تمہارا شوہر تمہارے لئے محفوظ سائبان ہوگا مگر یہ دیکھو حقیقت کیا تھی لوگ کیا کہہ رہے ہیں۔۔۔ کتنے لوگوں کی زندگیاں اور گھر اجڑتے اگر ایسے لوگ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتے”
انیس کی باتیں سن کر سندیلا نے ایک نگاہ خاموش کھڑے پپو پر ڈالی وہ پری کو گود میں لیے انیس کو خاموشی سے دیکھ رہا تھا
“آپ کو میرے شوہر کے بارے میں اور گھر کے ایڈریس کے بارے میں کیسے معلوم ہوا”
سندیلا ان سب باتوں کے جواب میں انیس سے پوچھنے لگی
“احتشام آیا تھا میرے پاس آج ہی اس سے تمہارے شوہر کے بارے میں معلوم ہوا ہے اور بھی بہت کچھ اس نے بتایا ہے۔۔۔ خیر یہ ان باتوں کا وقت تو نہیں ہے مگر احتشام واقعی شرمندہ ہے اور تم سے معافی مانگنا چاہتا ہے۔۔۔ فکرمند ہے تمہارے لیے کہ اس وقت تم اکیلی ہو گی”
سندیلا انیس کی باتوں کے جواب میں صوفے پر انیس کے برابر میں بیٹھی ہوئی بس خاموشی سے انیس کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ انیس تھوڑے وقفے کے بعد ایک بار پھر بولا
“دیکھو سندیلا تم سمجھدار ہو اچھے برے کی خود مالک ہوں میں نے جب تمہاری شادی احتشام سے کی تھی تو اس میں میری رضا شامل تھی جو کچھ بھی ہوا بے شک احتشام کی طرف سے غلط ہوا مگر اب وہ اپنے کیے پر پچھتا رہا ہے تمہیں دوبارہ اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہے۔۔۔ میرا مشورہ تو یہی ہے کہ تمہیں اس کو ایک بار دوبارہ موقع دینا چاہیے”
انیس سندیلا کو دیکھتا ہوا اسے سمجھانے والے انداز میں بولا
“کہاں ہے وہ اس وقت”
سندیلا انیس سے احتشام کا پوچھنے لگی اب اسے اپنے بھائی کی یہاں آنے کا مقصد بھی سمجھ میں آ رہا تھا
“باہر کار میں بیٹھا ہے بہت زیادہ شرمندہ ہے میں اسے یہ اپنے ساتھ لے کر آنا چاہ رہا تھا مگر وہ یہی بول رہا ہے سندیلا جب مجھے معاف کردے گی میں تبھی اس کے سامنے آؤں گا”
انیس سندیلا کو احتشام کی بولی ہوئی بات بتانے لگا
“آپ اسے یہاں بلایا کچھ بات کرنی ہے مجھے اس سے”
سندیلا کی بات سن کر انیںس خوش ہو گیا اور اپنی پاکٹ سے موبائل نکال کر احتشام کو کال ملانے لگا۔۔۔ پپو کو وہاں پر اپنا کھڑا رہنا مناسب نہیں لگا تبھی کمرے سے پری کو لے کر جانے لگا
“آپ کہاں جا رہے ہیں شرافت بھائی یہی رہے”
سندیلا پپو کو دیکھ کر بولی احتشام بھی کمرے میں داخل ہو چکا تھا پپو سندیلا کی بات سن کر وہی رک گیا
“کیسی ہو سندیلا”
احتشام وہاں صوفے پر نہیں بیٹھا تھا وہ کھڑے کھڑے سندیلا سے پوچھنے لگا سندیلا صوفے سے اٹھ کر چلتی ہوئی اس کے سامنے آئی
“ایک بیوی جس کے شوہر کو مرے ہوئے 24 گھنٹے بھی نہیں گزرے وہ کیسی ہو سکتی ہے،، ایسا شوہر جس نے چند دنوں میں ہی اپنی بیوی کے دل میں زندگی بھر کے لیے گھر کر لیا ہو اسے اپنا گرویدہ بنا لیا ہو،، وہ عورت اپنے شوہر کے دنیا سے جانے کے بعد کیسی ہو سکتی ہے۔۔۔ ایسا شوہر جس نے ہر لمحہ ہر پل اپنی باتوں سے، اپنے انداز سے،، اپنے ہر عمل سے صرف یہی ثابت کیا ہو کہ اس کی بیوی کی حیثیت، مقام،، اس کا مرتبہ اس کے شوہر کے دل میں کتنا بلند ہے،، وہ عورت اپنے اس شوہر کے مرنے کے بعد کیسی ہو سکتی ہے۔۔۔ مانتی ہوں میرا شوہر اچھے کاموں میں ملوث نہیں تھا باقی ساری دنیا کے لئے وہ کتنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے مگر میرے لئے وہ کل کائنات تھا میری زندگی تھا۔۔۔ اگر آج وہ اس دنیا میں نہیں ہے تو مرنے کے بعد بھی میرے دل میں وہ مقام پا گیا ہے جو شاید زندہ ہوتے ہوئے بھی بہت سے شوہر اپنی بیوی کے دل میں نہیں پا سکتے۔۔۔ اپنی باقی تمام زندگی میں اس کے نام پر گزار دوں گی۔۔۔ معظم کی زندگی میں ہی نہیں اس کے جانے کے بعد بھی اس سے وفا نبھا ؤ گی سنا تم نے اور تمہیں تو شرم سے ڈوب مرنا چاہئے دوبارہ ایسی بات سوچتے ہوئے بھی کہ میں تمہاری زندگی میں دوبارہ شامل ہونا چاہوں گی اس سے تو بہتر یہ ہے کہ میں خودکشی کرکے حرام موت کو گلے لگا لو۔۔۔ جو آدمی اپنی سگی بیٹی کو، اپنی بیٹی کی ماں کو دو آدمیوں کے بیچ چھوڑ کر آنکھیں پھیر کر وہاں سے جا سکتا ہے تو کوئی بہت ہی زیادہ گری ہوئی عورت ہو گی جو ایسے مرد کو دوبارہ منہ لگانا پسند کرے گی۔۔۔ آئندہ زندگی میں کبھی بھی میرے سامنے آنے کی یا پھر مجھ سے مخاطب ہونے کی ضرورت نہیں ہے گھن آتی ہے مجھے تمہاری اس ناپاک وجود سے اور انیس بھائی آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ یہاں تشریف لائے اور تعزیت کے دو بول آپ نے میرے شوہر کے لیے بولے”
سندیلا انیس اور احتشام کو دیکھ کر بولی پپو کی گود سے پری کو لے کر وہ اپنے بیڈروم میں چلی گئی
*****
“جی ضرار صاحب میں آپ کی بات بالکل سمجھ گیا ہوں۔۔۔ یہاں کوئی مسئلے والی بات نہیں ہے حالات بالکل ٹھیک ہیں آپ مکمل اطمینان رکھیے”
پپو نے کال ڈسکنکٹ کر کے موبائل کو میز پر رکھا اور صوفے پر سوئی ہوئی پری پر نظر ڈالی
وہ صبح سے یہی معظم کے گھر پر موجود تھا پری کو مسلسل اُسی نے سنبھالا ہوا تھا مگر وہ جانتا تھا اس معصوم بچی کی نظریں دروازے پر ہر آنے والے شخص میں صرف ایک ہی شخص کا چہرہ تلاش کر رہی تھی،، جو آج سارا دن اسے دیکھنے کو نہیں ملا تھا اپنے باپ کا چہرہ
پپو نے پری کو جلد سلا دیا تھا اور اب وہ چاہتا تھا کہ سندیلا بھی جلدی سو جائے اس لئے اٹھ کر کچن میں چلا آیا فرج سے جوس کا پیکٹ نکال کر اُسے گلاس میں انڈیلنے لگا۔۔۔ پپو نے جوس کے گلاس میں سکون کی دو گولیوں سے زائد ڈالی تھی تاکہ سندیلا بالکل گہری نیند میں چلی جائے
“بھابھی جی آپ کے لیے جوس لایا ہوں، آپ کھانے سے انکار کر چکی ہیں۔۔۔ اس کے پینے سے انکار مت کرئیے گا،، یہ درخواست ہے آپ کے شرافت بھائی کی”
پپو نے کمرے کی دہلیز میں کھڑے ہوکر سندیلا کو مخاطب کیا تھا وہ خود سے ہی معظم اور سندیلا کے بیڈروم میں کوئی بہت ہی ضروری کام ہوتا تو اندر آتا
“پری کہاں پر ہے”
وہ اس وقت عشاء کی نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تھی پپو کو دیکھ کر پری کا پوچھنے لگی آج اس نے سارا دن اپنی بیٹی پر دھیان نہیں دیا تھا
“سلا دیا ہے میں نے اس کو، آپ یہ گلاس پکڑیں میں پری کو بیڈ پر لٹا دیتا ہوں۔۔۔ اور بھابھی جی ایک بات اور۔۔۔ آپ خود کو بالکل اکیلا مت سمجھیے گا۔۔۔ شرافت کو آپ نے بھائی بولا ہے تو میں آپ کا بھائی ہی ہوں”
پپو سندیلا کی سرخ اور سوجھی ہوئی آنکھیں دیکھ کر بولا سندیلا کے ہاتھ میں گلاس پکڑا کر وہ کمرے سے باہر چلا گیا۔۔۔ نہ چاہنے کے باوجود وہ جوس پینے لگی کیونکہ پپو نے اس سے درخواست کی تھی
“پری سو رہی ہے آپ بھی تھوڑی دیر آرام کر لیں۔۔۔ میں باہر صحن میں موجود ہو،، کوئی پریشانی ہو تو آواز دے لیے گا”
پپو سندیلا کو کہتا ہوا کمرے کا دروازہ بند کرکے باہر چلا گیا سندیلا نے ایک نظر سوئی ہوئی پری پر ڈالی جو کہ کاٹ کی بجائے بیڈ پر سو رہی تھی۔۔۔ سندیلا خود بھی پری کے برابر میں بیڈ پر آ کر لیٹ گئی
ابھی ایک بھی رات نہیں گزری تھی اور اس سے معظم کے بناء نہیں رہا جا رہا تھا نجانے اب اس کی ساری زندگی کیسے گزرتی۔۔۔ سندیلا کی آنکھوں سے ایک بار پھر آنسو رواں ہونے لگے
لیکن سارا دن رونے سے اس کا سر اب بری طرح دکھ رہا تھا وہ خود کو ذہنی طور پر تھکا ہوا محسوس کر رہی تھی۔۔۔ آہستہ آہستہ اس پر نیند کا غلبہ سوار ہونے لگا سندیلا میں ہمت نہیں تھی کہ وہ کمرے کی لائٹ بند کرتی یا پھر اپنے سر پر نماز کا باندھا ہوا دوپٹہ اتارتی اس کی آنکھیں بند ہوتی چلی گئی
*****
اسے نہیں معلوم تھا یہ رات کا کون سا پہر ہے جب اسے پری کے ہنسنے کی آواز سنائی دینے لگی وہ اس وقت مکمل جاگی ہوئی تھی اور منہ سے آوازیں نکال رہی تھی جیسے وہ معظم سے باتیں کیا کرتی تھی۔۔۔ مکمل نیند میں ہونے کے باوجود اس کا دماغ پری کی آواز پر بیدار ہوچکا تھا۔۔ وہ آنکھیں بند کیے اپنے ہاتھ سے پری کو بیڈ پر ٹٹولنے لگی مگر بیڈ خالی تھا۔۔۔ اس وقت اس کی بچی کہاں تھی یہ سوچ آتے ہی وہ اپنی بند آنکھیں کھولنے پر مجبور ہوگئی تھی۔۔۔ مگر یہ کیا کمرے یں مکمل اندھیرا تھا، اندھیرا دیکھ کر ایک بار پھر اس کا دماغ سن ہونے لگا
بیڈروم کا دروازہ بہت آہستہ سے کھولا گیا تھا لیکن اس کا دماغ ایک بار پھر جاگ اٹھا،، دوبارہ اس کا دھیان پری کی جانب گیا وہ ایک بار پھر آنکھیں کھولنے پر مجبور ہوئی جوکہ اس سے بالکل بھی نہیں کھولی جارہی تھی۔۔۔ زیرو کے بلب کی روشنی میں وہ یہ کہ یہ منظر دیکھ رہی تھی اس کے سامنے سفید قمیض شلوار میں ملوث وہ کوئی دوسرا نہیں بلکہ معظم تھا اس کا شوہر۔۔۔ جس کی گود میں پری سو رہی تھی یا پھر وہ اسے سلانے کی کوشش رہا تھا مگر اس کے پاس سفید قمیض شلوار کہاں تھا۔۔۔ سندیلا کا دماغ بالکل کام نہیں کر رہا تھا وہ زیادہ دیر تک اپنی آنکھیں کھلی نہیں رکھ سکتی کیوکہ اس پر نیند کا غلبہ بری طرح سوار تھا۔۔۔ اس کا دماغ سے بار بار سونے کے لئے اکسا رہا تھا وہ دوبارہ اپنی آنکھیں بند کر چکی تھی
ایک بار پھر اس کا دماغ جاگا یا پھر اسے جگانے کی کوشش کی گئی تھی وہ نہیں جانتی تھی۔۔۔ وہ بس محسوس کر سکتی تھی معظم کے ہونٹوں کے لمس کو،، وہ باری باری اس کی دونوں آنکھوں کو چوم رہا تھا جو کے رونے کی وجہ سے اچھی خاصی سوجھ چکی تھی، ایک بار پھر وہ بہت مشکل سے اپنی آنکھوں کو کھولنے پر مجبور ہوئی تھی
“معظم”
معظم کا چہرہ اپنے اتنے قریب دیکھ کر وہ بند ہوتی آنکھوں کو بہت مشکل سے کھول پائی تھی ساتھ ہی اس نے معظم کا نام پکارا۔۔۔ سندیلا بالکل نہیں سمجھ پا رہی تھی یہ اس کا وہم ہے خواب ہے یا پھر حقیقت۔۔۔۔
معظم اس کے نماز کے اسٹائل میں سر پر باندھے دوپٹے کو کھول کر، اس کے پسینے سے نم بالوں میں انگلیاں پھیر رہا تھا تو سندیلا کی آنکھیں پھر سے بند ہونے لگی۔۔۔ ٹھنڈک کے احساس سے وہ اندازہ لگا سکتی تھی کہ کمرے میں موجود اسپلیٹ آن کر دیا گیا تھا
“مجھ سے ناراض مت ہونا معظم، پلیز مجھ سے بالکل ناراض مت ہونا”
سندیلا اپنی آنکھیں بند کی ہوئی بول رہی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی معظم اس وقت اس کے بے حد قریب ہے،، وہ اپنے وجود پر اس کا جھکاؤ غنودگی میں بھی محسوس کر سکتی تھی
“جان ہیں آپ میری آپ سے بھلا کیسے ناراض ہو سکتا ہے آپ کا یہ موالی۔۔۔ اسطرح مت روئے استانی جی مجھے تکلیف ہورہی ہے”
سندیلا کو اپنے کان کے قریب معظم کی سرگوشی نما آواز سنائی دی جس نے ایک بار پھر اسے آنکھیں کھولنے پر مجبور کیا
معظم کا چہرہ اس کے چہرے کے بالکل قریب تھا سندیلا کے آنکھیں کھولنے پر وہ سندیلا کو مسکرا کر دیکھ رہا تھا۔۔۔ بہت مشکل ہے اسے وہ اپنے لاغر ہوتے ہاتھوں میں طاقت لائی تھی تاکہ معظم کا چہرہ تھام سکے۔۔۔ وہ معظم کے چہرے کے ایک ایک نقش کو چھونے لگی،، معظم ویسے ہی اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتا ہوا سندیلا کو خاموشی سے دیکھ رہا تھا
“اب مجھ سے دور مت جانا معظم میں تمہارے بغیر تنہا نہیں رہ سکتی، یہ دوری میں بالکل برداشت نہیں کر سکتی۔۔۔۔ نہ ہی میں اکیلی پری کو سنبھال سکتی ہوں”
وہ معظم کا چہرہ تھام کر بولی
اس کا دماغ ایک بار پھر سکون میں جانے لگا اس کے ہاتھ معظم کے چہرے سے سرک کر آہستہ سے بیڈ پر گر گئے مگر اس کے باوجود معظم کی گرم سانسوں کو وہ اپنی سانسوں میں کُھلتا ہوا محسوس کر رہی تھی۔۔۔ اس کے منہ سے آتی ہوئی سگریٹ کی اسمیل سندیلا کے حواسوں پر چھا رہی تھی۔۔۔ وہ چاہ کر بھی اپنی آنکھیں نہیں کھول پا رہی تھی بے بسی کے مارے اس کی آنکھوں سے اشک رواں ہونے لگے۔۔۔۔ وہ صاف محسوس کر سکتی کے معظم اس کی آنکھوں سے نکلتے ہوئے آنسو صاف کر رہا تھا اس کے بعد سندیلا کا ذہن مکمل طور پر تاریکی میں جا چکا تھا
****
