Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel NovelR50401 Woh Howe Meharban (Episode 38) 2nd Last Episode
Rate this Novel
Woh Howe Meharban (Episode 38) 2nd Last Episode
Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel
“سوچ لیں بھیا جی یہ سب بہت زیادہ رسکی ہو جائے گا آپ کے لیے، وہ دونوں قیدی بہت زیادہ خطرناک ہیں آپ نے ان دونوں کو باہر نکلوا کر ان کی مدد تو کر دی ہے مگر شاید یہ بھول چکے ہیں کہ وہ دونوں آپ کے بھی دشمن رہے ہیں”
ہاتھ میں چائے کی ٹرے لیے سندیلا کمرے میں آئی تو اس کے کانوں میں پپو کے یہ الفاظ پڑے وہ معظم سے مخاطب تھا مگر سندیلا کو دیکھ کر خاموش ہو گیا۔۔۔ سندیلا بنا کچھ بولے چائے کے کپ میز پر رکھتی ہوئی وہاں سے چلی گئی
“زندگی میں رسک لینا ہی پڑتا ہے پپو جیسا میں نے کہا ہے تمہیں ویسے ہی کرنا ہوگا پلان میں کسی بھی طرح کی ردوبدل نہیں ہونا چاہیے،، ویسے بھی جب تک داؤد اور زبیر جیل سے باہر نہیں آئے گیں۔۔۔ اصل پلان بھی سامنے نہیں آئے گا”
معظم کو یقین ہوگیا کے سندیلا وہاں سے چلی گئی تب معظم بات کا سلسلہ دوبارہ جوڑتا ہوا پپو سے بولا اور چائے کا کپ اٹھا کر کمرے سے باہر جانے لگا
“کہاں چل دیئے ابھی، پلان مکمل ہونے کے بعد کا سیٹ اپ۔۔۔ اس کا تو بتایا نہیں آپ نے”
معظم کو کمرے سے باہر نکلتا دیکھ کر پپو معظم سے پوچھنے لگا
“بعد کا سیٹ اپ بعد میں ہی وقت آنے پر طے کر لیں گے۔۔۔ استانی جی کو دیکھ کر آتا ہوں یقیناً کمرے میں جاکر کچھ الٹا سیدھا ہی سوچ رہی ہو گیں”
معظم پپو کو بولتا ہوا وہاں سے چلا گیا جبکہ پپو اپنی پاکٹ سے موبائل نکال کر پولیس کانسٹیبل سے ان دونوں خطرناک قیدیوں کے بارے میں پوچھنے لگا۔۔۔ جنہیں تھوڑی دیر پہلے معظم کے کہنے پر پری پلان جیل سے فرار کیا گیا تھا
*****
کمرے کا دروازہ بند کرنے کے بعد، چائے کا آخری گھونٹ منہ میں بھر کر، کپ کو کارنر ٹیبل پر رکھتا ہوا ہے وہ سندیلا کے پاس آکر بیڈ پر بیٹھا۔۔۔ سندیلا خاموشی سے معظم کو دیکھنے لگی
“کتنی بار منع کیا ہے آپ کو یار، مت دھیان دیا کریں ادھر ادھر کی باتوں پر۔۔۔ مجھے اچھا لگتا ہے کہ آپ کا سارا دھیان صرف پری پر اور میرے محبت پر ہو۔۔۔ اس سے زیادہ اور آگے کچھ مت سوچا کریں استانی جی”
وہ سندیلا کو اپنی جانب کھینچ کر باہوں میں لیتا ہوا بیڈ پر لیٹا اور اس کے ماتھے پر آئے بالوں کو چہرہ سے ہٹا کر پیچھے کرتا ہوا اسے دیکھ کر بولنے لگا
“تم الٹے سیدھے کاموں میں لگے رہو اور میں کچھ بھی نہ سوچو”
سندیلا مکمل طور پر اس کے اوپر جھکی ہوئی معظم سے شکوہ کرنے لگی۔۔۔ نہ جانے اب وہ کونسا کام کرنے لگا تھا پپو کی بات سن کر وہ اندر ہی اندر پریشان ہو رہی تھی کیونکہ سندیلا کو یہ سمجھ میں آیا تھا جو وہ کرنے لگا ہے وہ رسکی ہے
“الزام مت لگائیں پورا ہفتہ ہو چکا ہے آپ کے ساتھ الٹا سیدھا کیے ہوئے۔۔۔ اِس وقت تھوڑی سی نظِر کرم اپنے اس بدمعاش پر بھی ڈال لیں، اب تو ایک دم سے موڈ بن گیا ہے”
معظم اپنے بازوؤں میں سندیلا کے نازک وجود کو لیے بیڈ پر لیٹا ہوا شرارت میں ایک آنکھ دباتا ہوا بولا اس کی انگلیاں سندیلا کی کمر کو آہستہ آہستہ چھو رہی تھی۔۔۔ اور معنیٰ خیز نظریں سندیلا کے چہرے پر ٹکی ہوئی تھی۔۔۔ سندیلا کے آنکھیں دکھانے کے باوجود وہ اس کے گلے سے دوپٹہ اتار کر بیڈ پر رکھ چکا تھا
“شرافت بھائی کی باتیں سن کر میری جان ہلکان ہو رہی ہے معظم اور تمہیں صرف اپنی پڑی ہوئی ہے ذرا ترس نہیں آتا تمھیں مجھ پر”
سندیلا پریشان ہو کر جھنجھنملاتی ہوئی معظم سے بولی۔۔۔ وہ سندیلا کی پریشانی کا نوٹس لیے بغیر اسے بیڈ پر لٹا کر اس پر جھک گیا
“اور آپ کی قربت کے لئے اس وقت میری جان ہلکان ہو رہی ہے۔۔۔ ابھی تو واقعی مجھے اپنی پڑی ہوئی ہے۔۔۔ اس وقت ساری سوچو کو دماغ سے نکال کر اپنے اور بارے میں سوچیں بس”
معظم اپنا چہرہ سندیلا کے چہرے کے قریب لا کر خمار آلود لہجے میں بولا اور اپنی سانسیں سندیلا کی سانسوں میں شامل کرنے لگا۔۔۔ وہ ہر بار کی طرح معظم کی دسترس میں آکر اس وقت بھی اپنی آنکھیں بند کئے اس کی سانسوں کو اپنے اندر تک اترتا ہوا محسوس کر رہی تھی۔۔۔ تب معظم آئستہ سے سندیلا کے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ ہٹانے کے بعد اسکی بند آنکھیں دیکھتا ہوا، تھوڑی کو چوم کر گردن پر جھک گیا
“یہ کون سا وقت ہے معظم، پری جاگ جائے گی پیچھے ہٹو”
معظم کی سانسوں کی گرمائش اور ہونٹوں کے لمس کو اب وہ اپنی گردن اور کندھے پر محسوس کرتی ہوئی سوئی ہوئی پری کے کاٹ کی طرف دیکھکر معظم سے بولی
“آپ مسلسل بولتی رہیں گیں تو وہ واقعی اُٹھ جائے گی۔۔۔ منہ پر ٹیپ لگا دو آپ کے یا پھر یہ دوپٹہ باندھ دو”
وہ سندیلا کو گھور کر دیکھنے کے بعد نرمی سے اس سے پوچھتا ہوا اپنی شرٹ اتارنے لگا۔۔۔ کیونکہ اس وقت وہ تھوڑی دیر کے لیے سندیلا سے صرف اپنا لیے وقت چاہتا تھا
“شرم نہیں آرہی تمہیں بالکل بھی، شرافت بھائی ابھی گھر پر ہی موجود ہیں اور تم اس وقت ان کی موجودگی میں، یہاں دروازہ بند کرکے اُف”
سندیلا کے دوبارہ اعتراض کرنے پر معظم اپنی شرٹ بیڈ پر پھینکتا ہوا ایک بار پھر سندیلا کے اوپر جھکا۔۔۔ ماتھے پر سے سندیلا کے بال پیچھے کرتا ہوا وہ سندیلا کی پیشانی کو اپنے ہونٹوں سے چھوتا ہوا بولا
“شرافت بھائی اس وقت گھر پر اسی لیے موجود ہے کہ انہیں اور مجھے تھوڑی دیر بعد ایک ضروری کام سے نکلنا ہے۔۔۔ اور اب یہ دوپٹہ میں واقعی آپ کے منہ پر باندھنے لگا ہوں کیونکہ آپ اب میری بات شرافت سے نہیں سمجھے گیں”
معظم کی وارننگ پر سندیلا خاموش ہوئی معظم دوبارہ اس کی گردن پر ہونٹ رکھ کر اپنی انگلیاں سندیلا کی گردن پر پھیرتا ہوا اس کے وجود کی نرماہٹ محسوس کرنے لگا تب سندیلا نے اسے ایک دم پیچھے ہٹایا اور ناراض نظروں سے معظم کو دیکھنے لگی۔۔۔ معظم جانتا تھا کہ سندیلا اس کے باہر جانے کا سن کر اپنا موڈ خراب کر چکی ہے مگر معظم کو اس وقت اسے اپنے گھر سے باہر جانے کا بتانا بھی ضروری تھا اور آج رات جانا بھی ضروری تھا
“اب تم ساری رات باہر گزارو گے اور صبح کے اجالے میں گھر لوٹوں گے،، تم جانتے ہو ناں معظم یہ والی بات مجھے تمہاری ذرا اچھی نہیں لگتی”
سندیلا بیڈ سے اٹھ کر اپنی شرٹ کا گلا ٹھیک کرکے بالوں کا جوڑھا باندھتی ہوئی معظم سے ناراض ہوکر بولی
“اور آپ جو اس طرح اٹھ گئیں ہیں مجھے یہ بات ذرا اچھی نہیں لگی۔۔۔ واپس آ جائیں یہاں، اگر آپ مجھ سے پیار کرتی ہیں ورنہ میں آپ سے ناراض ہو جاؤں گا”
معظم سنجیدہ انداز میں اس کو دھمکی دیتا ہوا بولا۔۔۔ ایسا نہیں تھا کے اس نے سندیلا اور پری کی طرف سے غفلت برتی ہوئی تھی بلکہ ان کی حفاظت کا مکمل انتظام کرنے کے بعد ہی وہ گھر سے جانے والا تھا
“تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے کہ میں تم سے پیار کرتی ہوں، اگر تم آج کی رات باہر گئے تو تم مجھ سے کیا، الٹا میں تم سے ناراض ہو جاؤں گی اب جا کر دکھاؤ”
سندیلا معظم کو الٹا دھمکی دیتی ہوئی بولی اس نے سوچ رکھا تھا کہ آہستہ آہستہ وہ اپنے شوہر کی بری عادتوں کو ٹھیک کر کے اسے راہ راست پر لائے گی جس کے لیے اب اسے سخت اقدامات اٹھانے تھے
معظم سندیلا کی بات سن کر خاموشی سے تھوڑی دیر تک اس کو دیکھتا رہا اور پھر خود بھی بیڈ سے اٹھ کر الماری کے پاس گیا،، استری شدہ دوسری شرٹ پہننے لگا، یعنی وہ باہر جانے کی تیاری کر رہا تھا۔۔۔ سندیلا خاموش مگر ناراض نظروں سے اس کو گھور رہی تھی تبھی معظم چلتا ہوا اس کے پاس سے گزر کر کاٹ کے پاس آیا اور سوئی ہوئی پری کو گود میں اٹھا کر پیار کرنے لگا
“پری کے بابا اپنی پری سے اور اس کی مما سے بہت پیار کرتے ہیں مگر پری کی مما اس کے بابا سے پیار نہیں کرتی ہیں، یہ بات اب پری کے بابا ہمیشہ یاد رکھیں گے”
معظم پری سے باتیں کرنے کے بعد اسے دوبارہ کاٹ میں لٹا کر خاموش نظر سندیلا پر ڈال کر کمرے سے باہر نکل گیا
“بہت ہی کوئی بد تمیز انسان ہو تم، مجال ہے جو تم نے میری ناراضگی کا اثر لیا ہو الٹا باہر چلے گئے۔ ۔۔۔ واپس آؤ گے تو پھر اچھی طرح بتاؤں گی تمہیں”
سندیلا غصے میں بڑبڑاتی ہوئی بولی اور واپس آکر بیڈ پر لیٹ گئی، وہی معظم کی شرٹ پڑی ہوئی تھی جو تھوڑی دیر پہلے وہ اتار کر گیا تھا
“میں پیار نہیں کرتی تم سے یہ جو تمہارے پاس سگریٹ کی سڑی ہوئی اسمیل ہر وقت آتی ہے۔۔۔ جسے تم روز میری سانسوں میں انڈلتے ہو، اسے برداشت کرنا ہی میرے پیار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔۔۔ بڑے آئے میں تم سے پیار نہیں کرتی”
سندیلا معظم کی شرٹ کو اٹھا کر بولی اس کی شرٹ اپنے سینے پر رکھ کر آنکھیں بند کر کے لیٹ گئی۔۔۔ اب سندیلا کو افسوس ہو رہا تھا کہ اسے معظم کے باہر جانے سے پہلے اسے منا لینا چاہیے تھا مگر وہ صبح تو اس کے پاس موجود ہوگا۔۔۔ یہ سوچ کر سندیلا مطمئن ہوگئی اور سونے کی کوشش کرنے لگی
****
“کیا ہو گیا زینش اب تم اتنی چھوٹی سی بات پر منہ پھلا کر بیھٹی ہو۔۔۔ یہاں ہم ڈنر کرنے آئے ہیں بحث نہیں،، موڈ ٹھیک کرو اپنا”
بلال جو کہ تھوڑی دیر پہلے رات کے ڈنر پر زینش کو ہوٹل لے کر آیا تھا اس کے پھولے ہوئے منہ کو دیکھ کر کہنے لگا
“ففٹی لیگ اماؤنٹ کم نہیں ہوتی بلال، جو آپ نے ماما کے ایک بار کہنے پر فٹ سے ان کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کروا دی وہ بھی میرے علم میں لائے بغیر۔۔ اگر میں آپ کی اور ماما کی موبائل پر ہونے والی گفتگو نہیں سنتی تو شاید آپ مجھے بتاتے بھی نہیں اور ماما ان سے تو مجھے اب کسی اچھے کی امید ہی نہیں ہے”
زینش شکوہ کرتی ہوئی بلال سے بولی اسے شہنیلا کا یوں بلال سے پیسے مانگنا ذرا اچھا نہیں لگا
“آنٹی کو پیسوں کی ضرورت تھی اگر انہوں نے اپنی پروبلم سے شیئر کر کے مجھے اپنا سنجھتے ہوئے کچھ مانگ لیا تو اس میں برا ماننے والی بات نہیں ہے۔۔۔ بے شک وہ تمہاری مدر ہیں لیکن ان سے میرا بھی رشتہ ہے ان چوٹی چھوٹی باتوں کو اپنے اور میرے درمیان لے کر آؤ زینش”
بلال زینش کو دیکھتا ہوا آرام سے بولا
“چھوٹی چھوٹی باتیں بڑی بڑی لڑائیوں کا سبب بنتی ہے بلال، آئندہ آپ مجھے بتائے بغیر اکچھ ایسا کام نہیں کریں گے”
معلوم نہیں شہنیلا نے کونسے دکھڑے بلال کے سامنے رو کر اس سے پیسے مانگے تھے جس پر زینش نے کال کر کے شہنیلا کو بھی اچھی خاصی سنائی تھی اور اب وہ بلال کو بھی بولنے لگی
“اوکے بابا آئندہ تمہارے علم میں لائے بغیر ایسا کچھ نہیں کروں گا لیکن تمہیں مجھ سے بھی کچھ نہیں چھپانا چاہیے، چاہے وہ کوئی چھوٹی بات ہی کیوں نہ ہو”
بلال اپنی بات بولنے کے بعد اب خاموشی سے زینش کو دیکھ رہا تھا تب زینش ناسمجھنے والے انداز میں بلال کو دیکھنے لگی
“میں نے کیا چھپایا ہے آپ سے۔۔۔۔ اوہو شہری کے ساتھ جو میں اسکے اسکول گئی تھی۔۔۔۔ وہ تو میں آپ کو بتانے والی تھی مگر ماما والا مسئلہ پہلے نکل آیا ناں”
زینش کے بولنے پر بلال سر جھٹک کر مسکرایا اتنے میں ویٹر کھانا سرو کرنے لگا تبھی اچانک سے گولیاں چلنے کی آواز آئی ساتھ میں ہی بھگدڑ مچ گئی
“یہ کیا ہو رہا ہے بلال”
زینش گھبرا کر بلال سے پوچھنے لگی بلال کو خود بھی فوری طور پر سمجھ میں نہیں آیا جبھی ہوٹل کے اندر اسلٰہ سمیت دو آدمی داخل ہوئے
“کوئی بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلے گا سب کے سب ایسے ہی بیٹھے رہو۔۔۔ کسی نے بھی کوئی چالاکی دکھانے کی کوشش کی تو وہ سیدھا اوپر جائے گا”
ان میں سے ایک آدمی زور دار آواز میں بولا ساتھ ہی اس نے ہوائی فائرنگ کی، جس سے وہاں پر موجود لوگوں میں اچانک خوف پھیل گیا،، ڈر کے مارے سب اپنی اپنی کرسیوں پر جمے رہے
“بلال مجھے ڈر لگ رہا ہے مجھے آپ کے پاس آنا ہے”
ان میں سے ایک آدمی زینش سے چند قدم کے فاصلے پر کھڑا تھا جسے دیکھ کر زینش ڈرتی ہوئی بلال سے بولی
“خاموشی سے وہی بیٹھی رہو زینش ریلیکس رہو، میں تمہارے سامنے ہی بیٹھا ہوں”
بلال زینش کے سامنے بیٹھا ہوا اسے آہستہ سے بولا کیوکہ وہ دونوں ہی اپنے حلیے سے کوئی خطرناک انسان لگ رہے تھے اور ان دونوں کے ہاتھ میں ہتھیار بھی موجود تھے ایسے لوگوں سے کوئی بعید بھی نہیں وہ کیا کر گزرے جبھی بلال نے زینش کو سمجھایا
ابھی مشکل سے چند منٹ ہی گزرے تھے کہ داخلی دروازے سے،، یونیفارم میں موجود مبلوس دو پولیس کے اہلکار داخل ہوئے۔۔۔ زینش سے چند قدم فاصلے پر کھڑے آدمی نے پولیس کو دیکھ کر فوراً زینش کو بازو سے پکڑ کر کرسی سے کھڑا کیا اور اس کی کنپٹی پر پستول رکھی
“بلال”
زینش کے منہ سے چیخ نکلی وہی بلال ایک دم کرسی سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا
“اے چھوڑو اسے فوراً”
بلال نے غصے میں بولتے ہوئے اس آدمی کی طرف آنے کی کوشش کی مگر اس آدمی کے دوسرے ساتھی نے بلال کے پاؤں کے پاس فرش پر فائر کیا۔۔۔ جس سے بلال کے قدم وہی رکے وہاں موجود افراد کی دبی دبی چیخیں نکل گئی۔۔۔ پولیس جو حرکت میں آنا چاہ رہی تھی وہی تھم گئی جبکہ ڈر کے مارے زینش نے سے رونا شروع کر دیا
“زیادہ ہیرو مت بن واپس جا کر بیٹھ اپنی جگہ پر ورنہ اڑا ڈالوں گا تیری کھوپڑی”
فائر کرنے والا آدمی بلال کو دھمکاتا ہوا بولا۔۔۔ بلال واپس بیٹھا نہیں، وہی کھڑا رہا۔۔۔ وہ خاموشی سے اس آدمی کے شکنجے میں زینش کو روتا ہوا دیکھ رہا تھا۔۔۔ وہاں ٹیبلز پر موجود ہر شخص کے چہرے پر خوف دکھائی دے رہا تھا
“دیکھو تم دونوں یہاں سے باہر نہیں نکل سکتے عقل مندی اسی میں ہے کہ اس لڑکی کو چھوڑ دو”
پولیس انسپکٹر نے اس آدمی کو مخاطب کیا جس نے زینش کی کنپٹی پر پستول رکھی ہوئی تھی۔۔۔ وہ دونوں جیل سے بھاگے ہوئے قیدی تھے اور پولیس کافی دیر سے ان کو پکڑنے کے لیے ان کا پیچھا کر رہی تھی
“بکواس بند کر اپنی بڑا آیا لڑکی کو چھوڑ دو، اگر ذرا بھی ہوشیاری دکھائی ناں یا اب تم لوگوں نے ہم دونوں کا پیچھا کرنے کی کوشش کی تو اس لڑکی کے ساتھ تجھے بھی اڑا دوں گا۔۔ چل اُوئے نیچے زمین پر رکھو تم دونوں اپنے ہتھیار”
داؤد نامی جیل سے فرار قیدی پولیس انسپکٹر سے بولا۔۔۔ پولیس کے دونوں اہلکار نے اس کے حکم کے تابع اپنے ہاتھ میں موجود روالور نیچے فرش پر رکھ دی تو وہ دونوں قیدی زینش کو ڈھال بنا کر وہاں ہوٹل سے باہر نکلنے لگے
“بلال”
زینش نے روتے ہوئے ایک بار پھر بلال کو دیکھ کر اس کو پکارا۔۔۔ بلال کی نظریں نیچے فرش پر رکھی ہوئی ریوالور پر تھی
“چپ کر جا، ورنہ یہی گردن مڑوڑ ڈالو گا تیری۔۔۔ خاموشی سے باہر چل”
داؤد نامی قیدی روتی ہوئی زینش سے بولا جبکہ زبیر اپنی پسٹل کا رخ سامنے پولیس والوں اور ہوٹل میں موجود دوسرے افراد پر کیے الٹے قدموں باہر نکل رہا تھا۔۔۔ داؤد زینش کی کنپٹی پر پسٹل رکھے اس کا بازو پکڑ کر داخلی گیٹ عبور کرنے ہی والا تھا کہ بلال نے اچانک زینش کو باہر جاتا دیکھ کر پھرتی سے آگے بڑھ کر فرش پر موجود پولیس انسپیکٹر کا ریوالور اٹھانا چاہا مگر بلال کی یہ حرکت زبیر کی آنکھ سے پوشیدہ نہیں رہ سکی جبھی اس نے بلال پر فائر کیا
“بلال”
زینش روتی ہوئی زور سے چیخی۔۔۔۔ گولی لگنے کی وجہ سے بلال فرش پر گر گیا وہاں موجود لیڈیز اور بچے ٹینشن سے رونے لگے۔۔۔ مگر خوف کی وجہ سے اور اپنی جان بچانے کی خاطر پولیس سمیت سب اپنی جگہ پر جمے رہے۔۔۔ جبکہ وہ دونوں خطرناک قیدی روتی ہوئی زینش کو اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھا کر وہاں سے فرار ہو گئے
****
