Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel NovelR50401 Woh Howe Meharban (Episode 25)
Rate this Novel
Woh Howe Meharban (Episode 25)
Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel
تھوڑی دیر پہلے سارے جمع ہوئے لوگ اپنے گھر لوٹ گئے تھے۔۔۔ یوں اچانک حسان کی موت کے بعد جویریہ کا دنیا سے چلے جانا کسی افسوس ناک ثانیہ سے کم نہ تھا۔۔۔ ڈاکٹرز کے مطابق جویریہ کے انتقال کی وجہ حرکتِ قلب کا کسی بڑے صدمے کی وجہ سے بند ہونا بنا۔۔۔ بلال جو کہ پہلے ہی حسان کی موت کے صدمے سے نہیں سنبھالا تھا اب جویریہ کے چلے جانے کے بعد بالکل بکھر گیا تھا۔۔۔ ہفتہ بھر گزر چکا تھا مگر اسے اپنا ہوش نہیں تھا بس وہ اپنے کمرے میں موجود خالی خالی نظروں سے شہنیلا یا خوشی کو دیکھتا جو اس کے کمرے میں آکر اسے تھوڑا بہت کھانا کھلا دیتی یا باتیں کرلیتی
اس وقت بھی وہ اپنے کمرے میں اندھیرا کیے ہوئے راکنگ چیئر پر بیٹھا ہوا تھا تب اس کے کمرے کا دروازہ کھلا۔۔۔ بلال نے سر اٹھا اپنے کمرے میں شہنیلا کو آتے دیکھا شہنیلا نے کمرے کی لائٹ کھولی تو بلال کی گود میں جویریہ کی تصویر دیکھ کر وہ خود بھی افسردہ ہو گئی
تھوڑی دیر پہلے خوشی یہاں موجود تھی خالی رکھے ہوئے برتنوں سے شہنیلا کو اندازہ ہو چکا تھا کہ وہ جانے سے پہلے رات کو کھانا بلال کو کھلا چکی ہے۔۔۔ شہنیلا بلال کے پاس آکر دائیں جانب صوفے پر بیٹھی تو بلال اپنے ہاتھ میں موجود فریم میں جویریہ کی تصویر دیکھتا ہوا بولا
“انہوں نے ہمیشہ مجھ سے زیادہ حسان کو پیار کیا میں بچپن سے ہی ان کے پیار اور توجہ کو ترستا رہا۔۔۔ لیکن جاتے جاتے بھی یہ مجھ پر ظاہر کر گئی کہ میں ان کی سگی اولاد ہونے کے باوجود،، یہ حسان کو مجھ سے زیادہ چاہتی ہیں جبھی ان سے اس کی دوری برداشت نہیں ہوئی اور فوراً اس کے پاس چلی گئیں ہمیشہ کی طرح انہوں نے اب کی بار بھی میرے لئے نہیں سوچا کہ میں دنیا میں اکیلا رہ جاؤں گا”
بلال افسردہ لہجے میں آج اپنے دل کی حالت اس انسان کے سامنے بیان کرنے لگا جس سے نہ تو اس کا قریبی تعلق ہے نہ ہی کوئی خاص انسیت
“یہ دنیا والے بہت بے حس اور باتیں بنانے والے ہوتے ہیں بلال جب جویریہ کی رفیق بھائی سے شادی ہوئی تھی سب کی زبانوں پر حسان کے لیے اظہار افسوس تھا سب کو لگتا تھا کہ جویریہ کی اپنی اولاد ہونے کے بعد وہ حسان کو وہ پیار اور توجہ نہیں دے گی شاید ان باتوں کا جویریہ نے شروع دن سے ہی اثر لیا تھا اور پھر اس نے لوگوں کی باتوں کو غلط ثابت کرنے کے لیے حسان کو اتنا پیار دیا کہ وہ اپنی سگی اولاد کے ساتھ انصاف نہیں کر سکی مگر ماں کبھی بھی اپنی سگی اولاد کی ذات کو نظر انداز نہیں کرتی وہ بے شک حسان کو پیار کرتی تھی مگر اس کی باتوں میں تمہارے لئے بھی فکر اور محبت دکھائی دیتی تھی۔۔۔ اپنی ماں کے لیے دل میں کوئی شکوہ مت رکھنا بیٹا۔۔۔۔ اس کو اس دنیا سے، ہم لوگوں کو چھوڑ کر شاید ایسے ہی جانا تھا۔۔۔ کسی کے جانے سے دنیا کا نظام نہیں روکتا اور نہ ہی کسی کی زندگی رک جاتی ہے اب تمہیں اپنے خود کے لیے بہت ہمت سے کام لینا ہوگا تمہارے آگے ساری زندگی پڑی ہے۔۔۔۔ ہماری زندگی اللہ کی دی ہوئی امانت کے ساتھ ساتھ ایک نعمت بھی ہے اب تم اپنے کل کے لیے سوچو اس طرح کمرے میں اندھیرا کر بند رہو گے تو اپنی زندگی بھی تمیہں اندھیر محسوس ہوگی۔۔۔ ابھی تمہارا غم تازہ ہے تو سارے رشتے دار تمہارے غم میں شریک ہوکر یہاں تمہارے پاس آ رہے ہیں چند دنوں بہت سب اپنی اپنی زندگی میں مصروف ہو کر تمہیں بھول جائیں گے۔۔ بیٹا دنیا اسی کا نام ہے آپ تمہیں خود اپنے آگے کے لئے سوچنا ہوگا جس سے تمہیں زندگی میں خوشی ملے اور اطمینان حاصل ہو”
شہنیلا اسے دلاسہ دینے کے ساتھ ساتھ اصل موقف پر آنا چاہ رہی تھی۔۔۔۔ ایسا نہیں تھا کہ اپنی دوست کے جانے کا اسے غم نہیں تھا لیکن اب اسے کل یہاں سے چلے جانا تھا اور وہ یہاں سے جانے سے پہلے اپنی بیٹی زینش کے بارے میں کوئی حتمیٰ فیصلہ کرنا چاہتی تھی
“آپ دبے لفظوں میں مجھ سے بات مت کریں جو بھی کہنا چاہتی ہیں کھل کر بیان کریں”
ایسا نہیں تھا کہ بلال اس کی باتوں کا مطلب سمجھ نہیں رہا تھا۔۔ لیکن جو شہنیلا کہنا چاہ رہی تھی بلال اسے صاف اور واضح لفظوں میں سننا چاہتا تھا
“دیکھو بلال میں واقعی تم سے گھما پھرا کر بات نہیں کروں گی کل رات کے 2 بجے میری فلائٹ ہے مجھے واپس نہیں جانا ہے۔۔۔ زینش میرے ساتھ واپس نہیں جانا چاہتی لیکن اب وہ یہاں اکیلی تمہارے ساتھ بھی نہیں رہ سکتی تو ایک ماں ہونے کے ناطے میں اپنی بیٹی کے لیے بہت فکرمند ہوں۔۔۔ وہ یہاں ہوسٹل میں رہ کر کوئی جاب کرنے کی بات کر رہی تھی لیکن ایسا میں نہیں چاہتی ہو۔۔۔ حسان اور زینش کے ریسپشن پر میں تمہاری اور زینش کی باتیں سن چکی ہو۔۔۔ مجھے یہ پوچھتے ہوئے اچھا تو نہیں لگ رہا ہے لیکن جاننا بھی ضروری ہے۔۔۔ کیا تم ابھی زینش کو اپنانا چاہتے ہو”
شہنیلا کے ایک دم پوچھنے سے بلال خاموش ہوگیا اسے ہفتے بھر پہلے والا منظر یاد آیا جب زینش یہاں سے جانا چاہتی تھی وہ تب بھی نہیں چاہتا تھا کہ زینش اس گھر سے جائے اور اب جبکہ اس کی ماں اور اس کا بھائی دونوں ہی اس دنیا سے اسے تنہا چھوڑ کر چلے گئے،، زینش بھی پاس نہیں ہوگی تو یقیناً وہ تنہا رہ کر خود بھی مر جائے گا
“صرف میرے اکیلے کے چاہنے سے کیا ہوتا ہے آپ کی بیٹی ایسا نہیں چاہتی ہے”
بلال کو یہ بات بولتے ہوئے تھوڑا عجیب سا لگا تھا اس لیے اس نے بولتے ہو شہنیلا سے نظریں نہیں ملائی مگر شہنیلا جو کہ بلال کی تھوڑی دیر خاموش رہنے سے ٹینشن میں آ گئی تھی،، اب بلال کی بات سن کر وہ پرسکون ہوئی
“زینش کی تم فکر نہیں کرو اسے راضی کرنا میرا کام ہے میں چاہتی ہوں،، میرے جانے سے پہلے تم دونوں ایک رشتے میں باندہ جاؤ تاکہ میں وہاں پہنچ کر پرسکون ہو جاؤ”
شہنیلا صوفے سے اٹھتی ہوئی بلال سے بولی۔۔۔ جس مقصد کے لئے وہ بلال کے پاس آئی تھی اس میں کامیاب ہو چکی تھی اب اسے اپنی بیٹی کو راضی کرنا تھا
“یہ بہت جلدی ہے آنٹی میرا مطلب ہے میں ایسا چاہتا ہو مگر اتنی جلدی۔۔۔۔ ابھی تو”
اگر شہنیلہ کی کل رات کو فلائٹ تھی تو اسے کل صبح سے ہی سارے انتظامات کرنے پڑتے اور سب سے اہم بات یہ کہ وہ ابھی اتنے بڑے سانخے سے نہیں نکلا تھا کہ فوری طور پر کوئی بڑا اسٹیپ لیتا
“دیکھو بلال میری بات سمجھنے کی کوشش کرو،، یہ یورپ نہیں ہے بیٹا۔۔ اگر زینش اور تمہارے رشتے کا اعلان بھی کردیا جائے تو تمہارے خاندان والے ہی زینش کے یہاں رہنے پر اعتراضات اٹھائیں گے جو کہ ایک طرح سے بالکل ٹھیک بھی ہوگا اور اگر میں یہاں سے چلی گئی پھر میرا جلدی واپس آنا ممکن نہیں ہے۔۔۔ یوں سمجھ لو کہ پھر یہ معاملہ چند سالوں تک کے لیے ٹل جائے گا۔۔۔ میں تمہاری فیلنگز سمجھ سکتی ہوں،، یو بھائی کے اور ماں کے چلے جانے پر اس طرح جان شادی کر لینا بےشک تمہیں مناسب نہیں لگ رہا ہوں مگر تم میری بھی مجبوری سمجھو۔۔ میں اگر یہاں پر مزید بھی رکو تو کتنے دنوں کے لیے رک سکتی ہوں۔۔۔ ہاں اگر تم بھی سوچ رہے ہو کہ تمہارے خاندان والے یہ باتیں بنائیں گے کہ اتنی جلدی شادی کرلی وہ بھی اپنی بھابی سے یا شاید بھائی کے مرنے کا انتظار تھا۔۔۔
شہنیلا مزید بلال کو سمجھا دیتی ہوئی بولی تو بلال نے ایک دم اس کی بات کاٹ دی
“مجھے خاندان والوں کی باتیں بنانے کی پروا نہیں ہے آنٹی جس کو باتیں بنانی ہوگی وہ تب بھی بنائے گا جب میں چند سالوں بعد زینش کو اپناؤ گا۔۔۔ زینش کی اسٹڈی مکمل ہوجاتی تو بہتر تھا مگر آپ کی بات بھی صحیح ہے۔۔۔ میں صبح ہی اپنے اور زینش کہ نکاح کے لیے خاندان کے چند خاص لوگوں کو اور قریبی ایک دو دوستوں کو آگاہ کر دیتا ہوں”
بلال آستہ آواز میں شہنیلا سے بولا یہ حقیقت بھی تھی اسے آج نہیں تو کل زینش سے ہی شادی کرنا تھی۔۔ شہنیلا بلال کی بات سن کر خوشی خوشی اس کے کمرے سے باہر نکل گئی
****
“کیا کہا آپ نے۔۔۔ آپ بلال سے بات کرچکی ہیں اور مجھ سے آپ نے پوچھنا بھی ضروری نہیں سمجھا کہ میں ان سے شادی کرنا چاہتی ہو کہ نہیں۔۔۔ آپ ابھی اور اسی وقت جائیں اور بلال کو انکار کرکے آئے بلکہ آپ کیوں میں خود جا کر ان کو انکار کر دیتی ہو”
صبح بیدار ہوتے ہی جو بم شہینلا نے (چند گھنٹوں بعد اس کا نکاح ہے) کی صورت اس کے سر پر پھوڑا زینش صحیح معنوں میں شہنیلا کو دیکھ کر حیرت زدہ ہو چکی تھی وہ اپنے کمرے سے نکلنے لگی تبھی شہنیلا نے اس کا ہاتھ پکڑا
“میں تمہارے یہاں سیٹل ہونے کے لیے نہ جانے کیا کیا کر رہی ہو اور تم میرے سارے کیے کرائے پر پانی پھیر رہی ہو،، احمق لڑکی یہاں بیٹھو اور بتاؤ تمہارے ساتھ مسئلہ کیا ہے میں پوچھتی ہو کیا برائی ہے بلال میں۔۔۔ وہ تو پرسنیلٹی وائس دیکھا جائے حسان سے زیادہ اچھا ہے۔۔۔ اور اب تو ساری پراپرٹی کا اکیلا مالک ہے،، یہ اتنے بڑے گھر اس کا ہے۔۔۔ اور سب سے بڑی بات جو اہمیت رکھتی ہے وہ یہ کہ وہ خود تم سے شادی کا خواہشمند ہے، تمہیں تو خوش ہونا چاہیے شکر ادا کرنا چاہیے”
شہنیلا کو اپنی اس بے وقوف بیٹی کو سمجھاتے ہوئے کافی غصہ آیا تھا مگر وہ زینش سے کچھ ایسے ہی ری ایکشن کی توقع بھی کر رہی تھی تبھی اس کو مزید سمجھاتی ہوئی بولی
“آپ شاید بھول رہی ہیں ماما کے چند دنوں پہلے اس اچھی پرسنلٹی کے مالک اور پیسے والے لڑکے کے بھائی سے میری شادی ہوئی تھی اور اب میں اس کے چھوٹے بھائی سے شادی کر لو۔۔ کیوں تماشا بنا رہی ہیں آپ سب لوگوں کے سامنے میرا۔۔۔۔ لوگ پیٹھ پیچھے ہنسے گیں مذاق اڑائے گیں باتیں بنائیں گے”
زینش کو اپنی ماں کے اقدام پر کافی شرمندگی ہوئی تھی بقول شہنیلا کے کہ وہ خود بلال کے پاس جا کر اس سے اسٹریٹ فارورڈ شادی کی بات کرکے آئی تھی
“لوگوں کے ہنسنے باتیں کرنے اور مذاق اڑانے کی پرواہ کرنا چھوڑ دو زینش۔۔۔ جس کا بھائی مرا ہر ماں دنیا سے چلی گئی ہے جب وہ لوگوں کی نہیں سوچ رہا ہے تو تم کیوں پریشان ہو رہی ہے۔۔۔ بلال سے شادی کے انکار کرنے کے بعد جب تم چند ہزاروں کی نوکری کرو گی ناں تو لوگ تب بھی باتیں بنائیں گے۔۔ میں یہاں سے جانے سے پہلے تمہارا مستقبل سکیور کرنا چاہتی ہوں اور وہ بلال سے شادی کی صورت ہی ممکن ہے۔۔ اور رہی بات تمہاری حسان سے شادی تو حسان کی موت کے بعد تمہارا اس سے تعلق ٹوٹ گیا ہے۔۔۔ اس لئے اوور دی ایکٹ کرنا بند کرو۔۔۔ آج شام 4 بجے خاص خاص لوگ آئیں گے جن کے سامنے سادگی سے تمہارا اور بلال کا نکاح ہوگا”
شہنیلا نے سختی سے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے ساری باتیں بولنے کے بعد آج کا طے شدی پروگرام بھی زینش کو بتانے لگی جو کہ صبح بلال نے شہنیلا کو بتایا تھا
“اوور ری ایکٹ میں نہیں کر رہی ہو اوور ری ایکٹ آپ نے کیا ہے اس شخص سے ایسی بات کرکے۔۔۔۔ اوور ری ایکٹ وہ شخص کر رہا ہے آج مجھ سے نکاح کر کے جس کی ماں اور بھائی کو مرے ہوئے مشکل سے چند دن گزرے ہیں شرم آنی چاہیے آپ کو اور بلال کو اس طرح کی حرکتیں کرتے ہوئے”
زینش غصے میں چیختی ہوئی بولی اور ساتھ ہی پیچھے مڑ کے دیکھا تو کمرے کے دروازے پر بلال کھڑا ہوا تھا
جو ہاتھ میں بڑا سا پیکٹ پکڑے، ماتھے پر لاتعداد شکنیں سجائے زینش کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ اب زینش جو سمجھ میں آیا تھا کہ اس کی ماں اس کی باتوں پر اس قدر شرمندہ کیوں کھڑی ہے یقینا جب وہ بلال اور شہنیلا کے بارے میں بات کر رہی تھی تب بلال ساری باتیں سن چکا تھا۔۔۔ تبھی شہنیلا کے چہرے پر شرمندگی کے تاثرات چھائے ہوئے تھے
“ایمرجنسی میں آن لائن تمہارے لیے یہ ڈریس منگوایا تھا۔۔ آج اسے پہن لینا”
بلال نے بنا کسی تاثر کے زینش کی طرف پیکٹ بڑھاتے ہوئے کہا۔ ۔۔۔ زینش نے ایک نظر بلال پر ڈال کر اپنی طرف بڑھایا ہوا پیکٹ دور اچھالا
“زینش”
شہنیلا ایک دم زینش کی حرکت پر غصے سے چیخی مگر زینش شہنیلا کے غصے کی پروا کیے بغیر بلال سے بولی
“زیادہ ہی ارمان جاگ رہے ہیں اپنی شادی کے، تو کہیں اور جاکر اپنے ارمان نکالے مجھ سے کوئی بھی ڈیمانڈ کرنے کی ضرورت نہیں ہے”
زینش بدتمیزی سے بلال سے بولی جس پر شہنیلا غصے میں زینش کے پاس آئی، اس سے پہلے وہ زینش کے گال پر اپنا ہاتھ جڑتی اس سے پہلے ہی بلال نے شہنیلا کا ہاتھ پکڑ لیا
“آنٹی پلیز کول ڈاؤن۔۔۔ وہ اس وقت غصے میں ہے آپ تھوڑا پیشنس رکھیں،، بس کوشش کیجیئے گا اگر زینش میرا منگوایا ہوا ڈریس پہن لے تو مجھے خوشی ہوگی لیکن اگر اس کی مرضی نہیں تو پھر کوئی بات نہیں”
بلال شہنیلا کا ہاتھ چھوڑتا ہوا رسانیت سے بولا
“تم بے فکر رہو زینش یہی ڈریس پہنے گی۔۔ تہمینہ سے کہہ کر میں نے رات کی ڈنر پر تھوڑا بہت اہتمام کروا لیا ہے۔۔۔ تمہارے ریلیٹیو بغیر کچھ کھائے ایسے ہی چلے جائیں گے تو اچھا نہیں لگے گا”
شہنیلا مسکرا کر بلال سے بولی ورنہ تو اس وقت اس کا اپنی بےوقوف بیٹی کی حماقت پر خون کھول رہا تھا
“آپ نے اچھا کیا”
بلال ہلکی سی اسمائل دے کر شہنیلا سے بولا اور زینش پر جتاتی ہوئی نظر ڈال کر کمرے سے باہر نکل گیا
“تمہاری عقل گھاس چرنے تو نہیں گئی ہے بے وقوف لڑکی۔۔۔ اگر میرا بنا بنایا پروگرام تم نے مٹی کرنے کی کوشش، یہاں دیکھو میری طرف اور کان کھول کر سن لو۔۔ بلال کے سامنے کوئی بدتمیزی کی یا نکاح سے انکار کیا تو آج اس گھر سے تیسرا جنازہ بھی اٹھے گا میں خود کو شوٹ کر لو گی سمجھ میں آیا تمہیں”
شہنیلا غصے میں زینش کو دیکھتی ہوئی تیز آواز میں بولی اور نیچے گرا بلال کا لایا ہوا پیکٹ اٹھا کر بیڈ پر رکھتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی
****
انگوری کلر کی قمیض جس پر ہلکا پھلکا سا ریڈ کلر سے امرائڈری ورک ہوا تھا،، یہ زیادہ بھاری بھرکم ڈریس نہیں تھا۔۔۔ بلکہ زیب تن کرنے کے بعد بہت ڈیسنٹ لگ رہا تھا۔۔۔ اس کے ساتھ ریڈ کلر کا دوپٹہ خوشی نے زینش کے سر پر رکھا تو وہ سرخ آنکھوں کے ساتھ خوشی کو دیکھنے لگی
“کیوں اتنا زیادہ رو رو کر خون جلا رہی ہو اپنا،، آج نہیں تو کل یہ ہونا ہی تھا بس بلال نے زیادہ ہی جلدی کر دی”
خوشی نے تو خوشدلی سے تبصرے کیا تھا مگر وہ زینش نے مشکل سے برداشت کیا۔۔ ابھی تو نہ جانے اسے کتنے لوگوں تبصرے اور طنزیہ گفتگو برداشت کرنا ہوگی۔۔۔ خوشی اسے سرخ رنگ کی کانچ کی چوڑیاں پہنانے لگی تب زینش نے اپنے ہاتھ پیچھے کیے
“زینش اس طرح تو تو مت کرو یار، تمہارے انکار کرنے پر میں نے تمہارا میک اپ بھی نہیں کیا کم ازکم یہ چوڑیاں ہی پہن لو”
خوشی اس کا بے داغ، صاف شفاف چہرہ دیکھ کر بولی
“تم کیا چاہ رہی ہو خوشی،، یہ جو کپڑے اس وقت میرے جسم پر موجود ہیں نوچ کر پھینک دوں انہیں”
شہنیلا کے دھمکانے پر ہی اس نے اس وقت بلال کا لایا ہوا ڈریس پہنا تھا لیکن تھوڑی پہلے ہی خوشی اس کے پاس آئی تھی اور اسے تنگ کر رہی تھی اسی وجہ سے وہ غصے میں آکر خوشی سے بولی۔۔۔ تبھی کمرے میں بلال آیا
زینش کو اپنا منتخب کیا ہوا ڈریس پہنے دیکھ کر صرف ایک پل کے لئے فاتحانہ مسکراہٹ اس کے لبوں پر آئی
“تمہیں آنٹی کچن میں بلا رہی ہیں شاید تمہاری ہیلپ کی ضرورت ہے انہیں”
اب وہ سنجیدگی کا لبادہ اوڑھے خوشی سے مخاطب تھا
بلال کی بات سن کر خوشی ہاتھ میں پکڑی ہوئی سرخ چوڑیاں ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ کر کمرے سے باہر چلی گئی۔۔۔ بلال ڈریسنگ ٹیبل پر موجود چوڑیوں کو اٹھا کر چلتا ہوا زینش کے پاس آیا۔۔ زینش سرخ آنکھوں سے بلال کو دیکھ رہی تھی
“پہنو اسے”
بلال زینش کی طرف چوڑیاں بڑھاتا ہوا اس کے چہرے کو دیکھ کر سنجیدگی سے بولا
زینش نے اس کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو ایک بار پھر جھٹکنا چاہا تاکہ اس کے لائے ہوئے کپڑوں کی طرح یہ چوڑیاں بھی دور جا گرے۔ ۔۔ مگر اس سے پہلے ہی بلال مضبوطی سے اس کی کلائی پکڑ چکا تھا
“اب نہیں، تھوڑی دیر پہلے میں تمہاری بدتمیزی پر صرف اور صرف شہنیلا آنٹی کی وجہ سے خاموش رہا تھا دوبارہ وہی بےوقوفی کرنے کی غلطی مت کرنا میرے سامنے”
ایک ہاتھ میں چوڑیاں پکڑے ہوئے دوسرے ہاتھ سے زینش کی کلائی کو مضبوطی سے پکڑتا ہوا وہ لہجے میں سختی لاتا ہوا بولا
“میں آپ سے پہلے بھی کہہ چکی ہوں اپنے ارمان کہیں اور جا کر نکالیں،، مجھ سے کچھ بھی ڈیمانڈ کرنے کی ضرورت نہیں ہے”
زینش نے بلال سے اپنی کلائی چھڑوانے کی کوشش کی جس میں وہ کامیاب نہیں ہوئی تو غصے میں بلال کو دیکھنے لگی جو چہرے پر سنجیدہ تاثرات کے ساتھ خاموشی سے اس کو دیکھ رہا تھا
“اوکے یہ چوڑیاں پہن لو اس کے بعد میں تم سے کچھ بھی ڈیمانڈ نہیں کروں گا”
بلال اس کی سرخ آنکھیں دیکھ کر بولا نہ جانے کیوں وہ آج ضد پر اتری ہوئی تھی۔۔ مگر بلال نے بھی سوچ لیا تھا وہ بھی اسے چوڑیاں پہنا کر ہی اب اس کے کمرے سے جائے گا
“میں نکاح نامے پر سائن کر رہی ہو یہی کافی ہے چلے جائیں یہاں سے”
زینش کی بات سن کر بلال اس کی پکڑی ہوئی کلائی میں خود ہی چوڑیاں پہنانے لگا جس پر زینش کا بس نہیں چلا تو اس نے رونا شروع کر دیا
“یہ جو تمہاری بلاوجہ کی ضد ہے نا آگے جا کر تمہیں بہت نقصان پہنچانے والی ہے اپنے مزاج میں نرمی لاؤ ورنہ آگے بھی میرا بولا ہوا ہر کام تمہیں ہی کرنا ہوگا مگر رونے دھونے کے بعد”
بلال اس کے رونے کی پرواہ کئے بغیر اس کو چوڑیاں پہناتا ہوا بولا۔۔۔
آخری چوڑی ٹوٹ کر زینش کے ہاتھ میں چبھی تو اس کے منہ سے سسکی نکلی بلال نے اس کی کلائی پر ننھا سا خون کا قطرہ دیکھا تو اپنے ہونٹ اس پر رکھنے چاہے
“چلی جائے بلال یہاں سے نہیں تو میں خود کو زخمی کر لوں گی”
اس سے پہلے بلال کے ہونٹ زینش کی کلائی کو چھوتے زینش اسے پیچھے کی طرف دھکیلتی ہوئے بولی تو بلال خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گیا
آج کے دن وہ نہیں چاہتا تھا کہ زینش کوئی اپنا پرانا ڈریس پہنے یا پھر اپنی شادی کپڑوں میں سے کسی ڈریس کا انتخاب کرے
****
نکاح نامہ پر سائن کرنے کے بعد مبارک باد کا سلسلہ جاری ہوا اس لمحے جویریہ اور حسان کو یاد کر کے بلال کا دل افسردہ ہوا میرے ساتھ ہی اندر اسے یہ اطمینان ضرور تھا کیا وہ اکیلا ہرگز نہیں ہے زینش ہمیشہ اس کے پاس رہے گی۔۔۔ اس موقع پر سب سے زیادہ خوش اور مطمئن شہنیلا نظر آ رہی تھی۔۔۔ بلال کے رشتہ داروں نے نکاح میں شرکت ضرور کی تھی مگر زینش کے کان میں ایک دو باتیں ضرور ایسی تھی جس سے وہ دل برداشتہ ہوئی البتہ جب اسے نکاح کے بعد بلال کے پہلو میں لا کر بٹھایا گیا تب سب لوگوں نے مل کر ان دونوں کو مبارکباد دی
*****
