Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel NovelR50401 Woh Howe Meharban (Episode 21)
Rate this Novel
Woh Howe Meharban (Episode 21)
Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel
“امی بتا رہی تھیں کہ زینش پر تمہارا غصہ ٹھنڈا ہوگیا ہے اور تمہارے دل میں اس کے لئے موجود بد گمانی بھی وہ کافی حد تک صاف ہو چکی ہے”
شام کے وقت بلال حسان کے کمرے میں آ کر اس سے پوچھنے لگا
بلال نے دیکھا اس وقت حسان سیف سے کوئی یو ایس بی نکال کر دراز میں رکھ رہا تھا، تھوڑی دیر پہلے ہی جویریہ نے بلال کو یہ خوشی کی خبر سنائی تھی جو جویریہ کے لیے تو خوشی کی تھی مگر بلال یہ خبر سن کر کچھ خاص خوش نہیں ہوا تھا بلکہ اسے عجیب سی وحشت ہونا شروع ہوگئی تھی تبھی وہ حسان کے پاس اس سے پوچھنے چلا آیا
“تمہیں معلوم تو ہے میں امی کی کوئی بھی بات ٹال نہیں سکتا اب امی اتنی منت سماجت کرکے مجھے زینش کے کردار کی اتنی وضاحتیں دے رہی تھیں تو پھر مجھے امی کو تو مطمئن کرنا ہی تھا”
حسان اپنا پریس ہوا ڈریس وارڈروب سے نکالتا ہوا بلال سے بولا۔۔۔۔ تھوڑی دیر بعد اسے تیار ہو کر میرج ہال میں جانا تھا جہاں اس کا ریسپشن تھا
“یعنی تم صرف امی کی وجہ سے زینش کو اپنی زندگی میں اور اپنے دل میں جگہ دو گے”
بلال ضبط کرتا ہوا حسان سے پوچھنے لگا
“صرف اس بیڈروم میں جگہ دو گا، وہ بھی مہینے دو مہینے کے لیے۔۔۔ اس کے بعد اگر مجھے لگا کہ آگے اس کے ساتھ زندگی گزاری جاسکتی تو دیکھ لو گا آگے کیا کرنا ہے نہیں تو ڈائیورس دے کر حق مہر کے ساتھ ہی اس کے اکاؤنٹ میں ایک اچھی اماؤنٹ بھی ڈلوا دوں گا تاکہ اس کی باقی کی لائف ڈسٹرائے نہ ہو”
حسان بلال کو اپنے آگے کی پلاننگ بتاتا ہوا کوٹ پہن کر اسکی فٹنگ چیک کرنے لگا
“یعنی تم ایک یا دو مہینے کے لیے اسے بیوی بنا کر یوز کرو گے،، اگر تمہارا اس سے دل نہ بہلا تو اسے اچھی رقم دے کر اپنی زندگی سے چلتا کروگے۔۔۔ تف ہے تمہاری گھٹیا سوچ پر حسان اس سے تو بہتر یہی ہے تم آج ہی اسے ڈائیورس دے دو”
حسان کی گری ہوئی سوچ پر بلال غصہ کرتا ہوا بولا۔۔ بے بس یہ تھی کہ وہ غصے کے علاوہ اور کچھ کر بھی نہیں سکتا تھا
“دیکھو بلال تم مجھے شروع سے اچھی طرح جانتے ہو،، میں ایک فیئر پرسن رہا ہو میرا مطلب ہے، لڑکیوں کے معاملے میں نے ٹین ایج میں، نہ دوسری لڑکوں کی طرح لڑکیوں سے کوئی افیئر چلایا اور نہ ہی کبھی عشق و عاشقی کے چکر میں پڑا۔۔۔ تو کیا میں ایک ایسی بیوی ڈیزرو کرتا ہوں جس کا ماضی داغدار ہو۔۔۔ زینش کو اگر میں آج بیوی کا شرعی حق دو گا تو وہ صرف اور صرف امی کے اصرار پر،، ورنہ میں نے تو اس کو ڈائیورس دینے کا ہی سوچا تھا”
حسان صوفے پر بیٹھتا ہوا بلال سے بولا تو بلال چلتا ہوں حسان کے پاس آیا
“شی از انوسینٹ، وہ اٙن چھوئی ہے۔۔ اس کے ساتھ اس رات کچھ غلط نہیں ہوا تھا”
بلال یہ سب حسان سے صرف اس وجہ سے کہہ رہا تھا کیونکہ اسے حسان کی باتیں سن کر غصے کے ساتھ تکلیف بھی ہوئی تھی، وہ نہیں چاہتا تھا حسان زینش کے ساتھ کچھ غلط کرے یا اسے تکلیف پہچائے
“یہ تم اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتے ہو۔۔ کیا اس رات تم وہاں پر موجود تھے”
حسان ٹانگ پر ٹانگ رکھے صوفے پر بیٹھتا ہوا بلال سے پوچھنے لگا
“میں اتنے یقین سے اس لئے کہہ رہا ہوں، کیونکہ مجھے انسان کی اچھی طرح پہچان ہے حسان، زینش بالکل بھی جھوٹ نہیں بول رہی ہے اور اگر بالفرض اس کے ساتھ اس رات کچھ غلط بھی ہوا ہوتا تو اس میں زینش کا قصور تم کیسے ثابت کر سکتے ہو۔۔۔میرے خیال میں اس طرح تو وہ اور زیادہ ہمدردی اور محبت کی مستحق ٹہرے گی”
بلال نے حسان کو اپنی طرف سے سمجھانے کی کوشش کی کیونکہ حسان کے ارادوں کو جاننے کے بعد اسے اب زینش کی فکر ہونے لگی تھی
“یار سیدھی سی بات ہے اپنے اپنے منٹالیٹی کی بات ہوتی ہے شاید تمہارے لیے ایک ایسی لڑکی کو قبول کرنا نارمل بات ہوگی جس پر اغوا شدہ ہونے کا ٹیک لگا ہو مگر میں ایسی لڑکی کو ساری زندگی کے لیے بیوی بنا کر نہیں رکھ سکتا”
حسان اب بلال کے سامنے کھڑا ہو کر اپنے لہجے میں سنجیدگی لاتا ہوا بولا
“اگر ساری زندگی اسے بیوی بنا کر نہیں رکھ سکتے تو عارضی طور پر اسے بیوی بنا کر اپنے بیڈ روم میں لانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ اسطرح تمہیں زینش کی زندگی برباد کرنے کا کوئی حق نہیں ہے حسان،، اس سے بہتر یہی ہے کہ تم اسے ابھی کے ابھی طلاق دو”
بلال غصے میں آکر اب کی بار تیز لہجے میں حسان کے سامنے بولا
“ایک منٹ یہ تم اتنا ہائپر کیوں ہو رہے ہو اور یہ زینش سے اس قدر ہمدردی،، اس کے پیچھے کیا خاص وجہ ہے۔۔۔ مجھے تو یہ ماجرہ بھی سمجھ میں نہیں آرہا ہے”
حسان انجان بننے کی ایکٹنگ کرتا ہوا بلال سے پوچھنے لگا
“بات ساری یہ ہے حسان تم نے کبھی بھی باتوں کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی ہے یا پھر ہمیشہ سے سب کچھ جان کر بھی انجان بنے رہے ہو۔۔۔ لیکن آج میں تمہیں واضح لفظوں میں ساری بات سمجھا دیتا ہوں۔۔۔ اگر تمہاری وجہ سے زینش ہرٹ ہوئی یا پھر اسے کوئی بھی تکلیف پہنچی تو یاد رکھنا میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا”
بلال اسے دھمکی دیتا ہوا کمرے سے چلا گیا
****
“کیا ہوا بلال حسان تمہارے ساتھ نہیں آیا”
میرج ہال میں اس وقت سارے ہی گیسٹ پہنچ چکے تھے جویریہ نے دور سے بلال کو آتا ہوا دیکھا تو اس کے پاس پہنچ کر حسان کا اس سے پوچھنے لگی۔۔۔ بلال کا شدت سے دل چاہا وہ اپنی ماں سے پوچھے آخر اسے ہر جگہ حسان ہی کیو دکھتا ہے، کیا وہ اپنی زندگی میں کبھی اپنی سگی اولاد پر توجہ دی گی بھی یا نہیں
“اس نے میرے ساتھ آنا ہے ایسا مجھے نہیں معلوم تھا۔۔ نہ اس نے مجھ سے ایسا کوئی ذکر کیا۔۔۔ اس لیے میں اکیلا ہی چلا آیا”
ہمیشہ کی طرح ساری باتوں کو اپنے دل میں رکھتا ہوا بلال جویریہ کو جواب دینے لگا
“سارے گیسٹ تو آ چکے ہیں اب تک تو اسے آجانا چاہیے تھا چلو تم سب سے مل لو میں اسے کال کر لیتی ہوں”
جویریہ اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے موبائل پر حسان کا نمبر ملا کر مصروف انداز میں بولی تو بلال اس کی بات سن کر اسٹیج کی طرف بڑھ گیا جہاں پر زینش موجود تھی
****
“زینش بھابھی بلال بھائی آپ کو وہ سامنے ڈریسنگ روم میں بلا رہے ہیں، شاید انہیں کوئی ضروری بات کرنا ہے آپ سے”
شہنیلا اسٹیج پر بیٹھی ہوئی زینش سے کل رات کے بارے میں پوچھ رہی تھی تب حسان اور بلال کی ایک کزن آ کر زینش سے بولی جس پر چونک زینش نے اسے دیکھا مگر وہ شہنیلہ یا پھر اس پر کچھ ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے اسمائل دیتی ہوئی اٹھ کر ڈریسنگ روم کی طرف جانے لگی
“آپ نے بلایا تھا مجھے بلال خیریت ہے”
زینش ڈریسنگ روم میں موجود بلال سے پوچھنے لگی جس پر بلال غور سے اس کا دل کش روپ دیکھنے لگا
“کیسی ہو”
بلال زینش سے پوچھنے لگا۔۔۔ زینش اس کا کتنا ہی دل دکھا لے یا اسے نظر انداز کر دے شاید وہ کبھی بھی اسے بری نہیں لگ سکتی تھی،،، وہ اس پر غصہ تو کر سکتا تھا مگر نفرت نہیں۔۔۔ معلام نہیں وہ اس لڑکی کو کبھی اپنے دل سے نکال بھی پائے گا یا پھر ساری عمر ایک بے نام سی آگ میں اسے اپنی بھابھی کے روپ میں دیکھ کر جلتا رہے گا
“آج تو کافی حد تک مطمئن ہو ورنہ تو مجھے ڈر ہی لگ رہا تھا کہ آپ کی دعائیں رنگ ہی نہ لے آئے”
حسان تھوڑی دیر میں یہاں پر پہنچنے والا تھا اب زیشن کی زندگی میں سب کچھ ہی نارمل ہونے جا رہا تھا اس لئے وہ پرسکون تھی۔۔۔ اس نے شہنیلا کو بھی اطمینان دلایا تھا مگر اپنے سامنے کھڑے بلال کی بات پر طنز کرتی ہوئی بولی۔۔۔ کیوکہ کل رات حسان کا رویہ دیکھ کر وہ بہت مطمئن تھا
“میری دعاؤں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ کبھی بھی قبول نہیں ہوتیں۔۔۔ اس کا اندازہ تم آج اس بات سے ہی لگا لو اگر میری دعاؤں میں اثر ہوتا تو تم آج حسان کی جگہ میری ہوتیں”
بلال زینش کو دیکھتا ہوا بولا اور تلخی سے ہنسا۔۔۔ زینش خاموشی سے اسے دیکھنے لگی جو اب حسرت سے اس کے سجے سنورے روپ کو دیکھ رہا تھا
“آپ نے مجھے یہاں پر کسی ضروری کام سے بلایا تھا”
بلال کی نظروں سے گھبراتی ہوئی زینش اس سے پوچھنے لگی۔۔۔ بلال چلتا ہوا زینش کے نزدیک آیا اور اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھاما
“حسان تمہیں وقتی خوشیاں تو دے سکتا ہے زینش مگر عمر بھر کے لئے نہیں،، زیادہ ٹائم کے لیے وہ تمہیں اپنے ساتھ جوڑے نہیں رکھ سکتا۔۔۔ ایسا ابھی اس نے مجھ سے خود کہا ہے،، وہ تمہیں صرف اور صرف امی کی وجہ سے ایکسپٹ کرنے پر مجبور ہے”
بلال زینش کے دونوں ہاتھ تھام کر اسے حسان کی سچائی بتانے لگا تاکہ زینش کو حقیقت کا اندازہ ہوجائےاور بعد میں اسے تکلیف نہ پہنچے۔۔۔ مگر زینش بلال کی بات سن کر اس سے اپنے ہاتھ چھڑواتی ہوئی بولی
“تو پھر مجھے کیا کرنا چاہیے،، خلع لے کر آپ کے پاس چلی آؤں یہی چاہتے ہیں آپ۔۔۔۔ اور اسی وجہ سے اسپیشلی میرے پاس آ کر حسان کے خلاف یہ سب کچھ بول رہے ہیں آپ۔۔۔۔ ہضم نہیں ہو رہا آپ سے کہ سب کچھ اتنی جلدی سیٹ کیسے ہو گیا آخر۔۔۔ پیار کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں ناں آپ، تو پھر کیوں رحم نہیں کھا رہے ہیں مجھ پر”
زینش بے بسی سے آہستہ آواز میں چلاتی ہوئی بولی بلال خاموش کھڑا ضبط سے سرخ چہرے کے ساتھ اسے دیکھنے لگا
“ماما”
زینش حیرت زدہ ہو کر بولی بلال نے پلٹ کر دیکھا وہاں شہنیلا کھڑی تھی
لازمی وہ زینش اور بلال کی ساری گفتگو سن چکی تھی بلال نے شہنیلا کی نظروں میں ناگواری دیکھی جس پر بلال نظریں چرا گیا
“زینش فوراً باہر آجاؤ میرے علاوہ یہاں کوئی اور یہاں آتا تو اب تک تماشا لگ چکا ہوتا”
شہنیلا عجیب سی نظروں سے بلال کو دیکھ کر زینش سے سے بولی اور باہر نکل گئی اس کے پیچھے ہی زینش بھی باہر چلی گئی
*****
“یہ تمہاری آنکھیں اتنی سرخ کیوں ہو رہی ہیں”
تقریب میں چہل پہل اور گہماگہمی دیکھ کر بلال نے واپس گھر جانے کا ارادہ کیا وہ اس وقت تنہائی چاہتا تھا تبھی جویریہ اس کے پاس آکر بلال سے پوچھنے لگی
“ایسے ہی سرخ ہو رہی ہیں، آپ بتائیں کوئی کام تو نہیں ہے آپ کو”
بلال جویریہ کو ٹالتا ہوا بولا اور اس سے کام کا پوچھنے لگا کیونکہ وہ بلال کو پریشان دکھ رہی تھی
“اس لڑکے نے مجھے اتنا پریشان زندگی میں کبھی نہیں کیا جتنا اپنی شادی پر کر رہا ہے۔۔۔ اسے ذرا بھی اندازہ نہیں ہے سب لوگ اس کے بارے میں پوچھ رہے ہیں اور یہ ہے کہ ابھی تک یہاں پر نہیں پہنچا”
جویریہ بلال سے پریشان ہوتی ہوئی بولی کیوکہ ٹائم کافی گزر چکا تھا بلال نے اپنی کلائی میں موجود ریسٹ واچ پر نظر ڈالی
“واقعی اب تک تو آ جانا چاہیے تھا اس سے میں گھر جا کر پوچھتا ہوں۔۔۔ آپ پریشان مت ہوں”
اپنے وجود میں ہوتی توڑ پھوڑ کو نظر انداز کرتا ہوا وہ جویریہ سے بولا تب بلال کے موبائل پر گھر کے لینڈ لائن سے کال آنے لگی
“ہاں تہمینہ بولو خیریت”
بلال کال ریسیو کرنے کے بعد تہمینہ کی گھبرائی ہوئی آواز سن کر اس سے بولا
“بلال سر آپ پلیز جلدی سے گھر آ جائیں یہاں پر بہت کچھ غلط ہو چکا ہے”
وہ ابھی ابھی حسان کے کمرے سے آئی تھی اس وقت خوف سے بری طرح لرز رہی تھی مگر اپنے حواس قائم رکھتے ہوئے اس نے گھر کے لینڈ لائن سے بلال کو کال ملائی تھی
“کیا ہوا ہے تہمینہ مجھے پوری بات بتاؤ میں گھر پہنچ رہا ہوں”
بلال کو اس کی آواز میں گھبراہٹ کے ساتھ لڑکھڑاہٹ بھی محسوس ہوئی تھی بلال باہر کی طرف تیز قدم اٹھاتا ہوا تہمینہ سے پوچھنے لگا۔۔۔ کچھ غیر معمولی پن محسوس کرکے جویریہ بھی بلال کے ساتھ ساتھ تیزی سے قدم بڑھانے لگی
“سر مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا حسان سر کو کیا ہوا ہے ان کا۔۔۔ خو۔۔۔ خون بہت تیزی سے بہہ رہا ہے”
تہمینہ نے بولنے کے ساتھ گھبراہٹ کے مارے رونا شروع کردیا جس سے بلال کے اوسان مزید خطا ہوئے وہ موبائل کو پاکٹ میں ڈال کر بھاگتا ہوا باہر نکلنے لگا
“بلال رکو مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے گھر میں،، تہمینہ کیا بول رہی تھی حسان حسان ٹھیک ہے نا”
جویریہ کی گھبرائی ہوئی آواز پر بلال رکتا ہوا جویریہ کو دیکھنے لگا
“میں گھر پہنچ کر آپ کو کال کرتا ہوں”
بلال جویریہ کو بس اتنا ہی کہہ سکا اور وہاں سے گھر کے لیے نکل گیا
*****
“تم اب آرہے ہو گھر اتنی رات میں”
پری کو سلانے کے بعد سندیلا کی بھی آنکھ لگ گئی تھی مگر دوسرے کمرے میں کھٹکے کی آواز پر سندیلا کی آنکھ کھلی وہ بیڈ سے اتر کر کمرے سے باہر نکلی تو ڈھیر سارے شاپرز کو ہاتھ میں لئے معظم کو کمرے میں موجود پایا
“سوری استانی جی آپ کو میری وجہ سے بھوکا رہنا پڑا ہوگا،، اچانک ایک بہت ضروری کام آ گیا تھا جس کی وجہ سے واپسی پر کافی دیر ہوگئی”
معظم نے بولتے ہوئے پوری کوشش کی تھی کہ سندیلا کی نظر اس کی آستین پر نہ پڑے،، اسی وجہ سے وہ سندیلا کی طرف پشت کیے صوفے پر رکھے شاپرز میں کچھ ڈھونڈتا ہوا اپنے آپ کو مصروف ظاہر کرنے لگا
“کھانا تو میں بنا کر کھا چکی تھی مگر یہ تمہارے ہاتھ پر کیا ہوا ہے یہاں دیکھو ذرا”
سندیلا بولتی ہوئی معظم کے پاس آئی جیسے ہی اس نے معظم کا رخ اپنی طرف کیا ویسے ہی دونوں ہاتھوں سے اپنا منہ دبایا
“کیا کر رہی ہیں استانی جی حد ہوگئی ہے یار، ابھی شاپرز سے ساری چیزیں نکل کر باہر گرتی”
اس کی پریشانی کا نوٹس لینے کے باوجود معظم انجان بنتا ہوا سندیلا سے بولا
“یہ تمہارے بازو پر اتنا سارا خون یا میرے اللہ،، تمہیں تو بہت گہری چوٹ آئی ہے معظم دکھاؤ مجھے اتنا بازو”
سندیلا اس کی خون سے رنگی ہوئی شرٹ دیکھ کر وہ سچ میں پریشان ہوگئی تھی، جبھی جلدی سے معظم کی شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے آستین سے اس کا بازو باہر نکالنے لگی تاکہ زخم کا جائزہ لے سکے
“یہ اتنی بھی گہری چوٹ نہیں ہے جتنا زیادہ آپ پریشان ہوگئی ہیں، یہ بتائیں پری سو ہوگئی ہے،، وہ کمرے میں آپکو موجود نہ پاکر پریشان تو نہیں ہوگی”
معظم نے سندیلا کا پریشان چہرا دیکھ کر اس کی توجہ اپنی طرف سے ہٹانے کے لیے پری کی طرف دلائی جو اب اس کے بازو پر بڑا اور گہرا سا کٹ دیکھ کر ڈر گئی تھی
“وہ سو رہی ہے ابھی نہیں اٹھے گی، مگر تم یہ بتاؤ تمہارے ہاتھ پر اتنا گہرا زخم کیسے آیا”
سندیلا کو ابھی بھی اس کے بازو پر موجود زخم کی پرواہ تھی بولنے کے ساتھ ہی وہ ڈیوائڈر میں سے فرسٹ ایڈ باکس نکال کر لے آئی۔۔۔ وقت گزرنے کے لیے گھر کی صفائی کرتے ہوئے اسے آدھی سے زیادہ چیزوں کا علم ہوگیا تھا کہ کونسی چیز کہاں پر موجود ہے
“یو سمجھ لیں آج ایک چھوٹا موٹا سا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا اور بس”
اب وہ سندیلا کو اصل وجہ کیا بتاتا اس کا تو پیشہ ہی ایسا تھا آئے دن، لڑائی جھگڑے مارکٹائی۔۔۔ کوئی نہ کوئی زخم اس کے جسم کی زینت ہی بنا رہتا تھا
“یعنی یہ بھی میں سمجھ لو مگر تمہیں اصل بات نہیں بتانی ہے مجھے۔۔۔۔ آف تمہیں تو ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے معظم اس پر تو اسٹیچس لگیں گے”
پہلا جملہ سندیلا نے استانی بن کر روعب جماتے ہوئے بولا تھا۔۔۔ مگر کاٹن سے زخم صاف کرنے کے بعد وہ دوبارہ معظم سے پریشان ہوتی ہوئی بولی۔۔۔ معظم کو اپنی استانی جی کا یہ نرم گرم سا مزاج بہت بھایا وہ گہری نگاہوں سے سندیلا کو دیکھنے لگا
“اوہو اب میری شکل کیا دیکھ رہے ہو،، چلو ہم کسی ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں رکو میں پری کو لے کر آتی ہوں”
سندیلا یوں اچانک آئی پریشانی سے گھبرا گئی تھی اس لیے صوفے سے اٹھ کر پری کو لانے لگی،، تبھی معظم نے سندیلا کو اس کی کلائی پکڑ کر واپس اپنے پاس صوفے پر بٹھایا
“کیوں پری کی نیند خراب کر رہی ہیں آپ اور اتنی رات کو کونسا ڈاکٹر ملے گا استانی جی، میں خود ہی کچھ کر لیتا۔۔۔ آپ نے جاگ کر سارا کام خراب کر دیا اور اب اس طرح پریشان ہو رہی ہیں”
معظم بولتا ہوا خود صوفے سے اٹھا اور ڈیوائیڈر کی دراز سے سوئی اور دھاگہ نکلنے لگا سندیلا حیرت سے منہ اور آنکھیں کھول کر اسے دیکھنے لگی
“مطلب تم خود اپنے اسٹیچس لگاؤ گے”
سندیلا پوری آنکھیں کھول کر معظم کی شکل دیکھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی
“سیدھے ہاتھ سے الٹے ہاتھ پر اسٹیچس لگانے میں مسلئہ نہیں ہوتا استانی جی،، مگر آپ سے میری یہ گزارش ہے آپ پلیز چند منٹ کے لئے اپنی آنکھیں بند کرلیے گا”
معظم صوفے پر دوبارہ بیٹھ کر سندیلا سے گزارش کرتا ہوا بولا
“میں اپنی آنکھیں بند نہیں کر سکتی میں کمرے سے جا رہی ہوں”
سندیلا بولتی ہوئی واقعی کمرے سے باہر نکل گئی
کیونکہ وہ خود اب جو اپنے ساتھ کرتا سندیلا وہ ہرگز نہیں دیکھ سکتی تھی،، تھوڑی دیر بعد جب وہ واپس کمرے میں آئی تو معظم اپنا سر صوفے سے ٹیک کر نڈھال سے انداز میں نیم دراز تھا۔۔ سندیلا اس کے چہرے پر موجود تاثرات سے اس کی تکلیف کا اندازہ لگا سکتی تھی۔۔ جبھی چہرے پر فکرمندی لائے معظم کا احساس کرتی ہوئی دوبارہ اس کے پاس صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔ سندیلا کا پریشان چہرا دیکھ کر تکلیف کے باوجود معظم مسکرا کر اسے دیکھنے لگا تاکہ سندیلا زیادہ پریشان نہ ہو
“زیادہ مسکرانے کی ضروت نہیں ہے میں جانتی ہوں کہ تمہیں اس وقت بہت درد ہو رہا ہے”
معظم کے مسکرانے پر سندیلا اس کو دیکھتی ہوئی بولنے لگی
“درد اب بالکل بھی محسوس نہیں ہو رہا ہے استانی جی میں بالکل سچ کہہ رہا ہوں”
معظم اپنا ہاتھ سندیلا کے ہاتھ پر رکھتا ہوا بولا اسے اپنی بات کا یقین دلانے لگا
سندیلا نے دیکھا خود اسٹیچس لگانے کی وجہ سے اس کے ہاتھ کی انگلیوں پر خون لگا ہوا تھا۔۔۔ معظم سندیلا کا چہرہ دیکھتا ہوا اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا سندیلا کا ہاتھ اپنے ہونٹوں کی طرف لے جانے لگا۔۔۔ تو سندیلا کی نظریں خود بخود معظم کے چہرے پر گئیں۔ ۔۔ معظم سندیلا کا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگاتا ہوا اُسی کو دیکھ رہا تھا
سندیلا کا ہاتھ اپنے ہونٹوں ہٹانے کے بعد اب وہ غور سے سندیلا کا چہرہ دیکھتا ہوا اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے اس کا گال چھونے لگا۔۔۔ معظم کے اس عمل پر سندیلا کے پاس بولنے کے لیے کچھ بچا ہی نہیں تھا وہ خاموشی سے معظم کو دیکھنے لگی۔۔۔
سندیلا نے اس کی آنکھوں میں اکثر اپنے لیے شرارت دیکھی تھی مگر غلاظت کبھی نہیں۔۔۔۔ اور اس وقت تو اس کی آنکھوں میں صرف اور صرف محبت تھی احترام تھا۔۔۔ مگر ایسا کیو تھا یہ سندیلا کو سمجھ نہیں آیا
“میں یہ کچھ سامان آپ کے اور پری کے لئے لایا ہوں اسے چیک کر لئے گا”
معظم سندیلا کی خاموشی کو نوٹ کر کے اس کی توجہ صوفے پر موجود شاپرز پر دلاتا ہوا بولا
“تمہیں اتنا کچھ لانے کی کیا ضرورت تھی میں نے یا پری نے کون سا یہاں ہمیشہ کے لئے رہنا ہے”
سندیلا نے ڈھیر سارے شاپرز پر نظر ڈال کر معظم سے زیادہ اپنے آپ کو یہ بات یاد دلائی تھی۔۔
ویسے بھی شام کے وقت احتشام کی کال اس کے پاس آئی تھی جس پر اس نے سندیلا کو موبائل بند کرنے پر اور اپنا قیمتی سامان ہوٹل میں چھوڑ کر آنے پر،، کافی باتیں سنائی تھی۔۔۔ جب احتشام کو یہ معلوم ہوا کہ سندیلا کو ایک رات اور مزید رکنا پڑے گا تب وہ سندیلا پر مزید غصہ ہوا تھا
“جب تک آپ میرے پاس موجود ہیں تب تک آپ اور پری میری ذمہ داری ہیں،، آپ اور پری یہ سارا سامان استعمال کرے گیں تو مجھے بہت خوشی ہوگی”
معظم کی بات سن کر سندیلا ایک بار پھر اسے دیکھنے لگی معظم مسکراتا ہوا صوفے سے اٹھا اپنی شرٹ پہننے لگا
سندیلا اسکی مدد کے لیے اٹھی اور معظم کو خود سے شرٹ پہنانے لگی۔۔۔ سندیلا اسکی شرٹ کے بٹن بند کر رہی تھی تبھی معظم کی نظر بھٹک کر اس کے ہونٹوں پر آ ٹھہری گلابی سے نرم گداز ہونٹ جنہیں آج پھر چھونے کی خواہش سر چڑھ کر بولنے لگی اور پھر صراحی دار گردن کے بعد آتا آیریا۔۔۔ یہ بند لاکر
“آفففف نہیں یار”
بےساختہ معظم کے منہ سے نکلا تو سندیلا حیرت سے اسے دیکھنے لگی
“کیا ہوا”
سندیلا کے دیکھنے سے پہلے وہ جلدی سے اپنی حسرت بھری نگاہوں کا زاویہ دوسری سمت کر چکا تھا
“کنٹرول نہیں ہو رہا یار، میرا مطلب ہے کچھ نہیں۔۔۔۔ پری اکیلی سو رہی ہے آجائے ہم بھی بیڈ روم میں چلتے ہیں”
وہ سندیلا کو بولتا ہوا خود بیڈ روم میں چلا گیا تو سندیلا سارے شاپرز اٹھا کر معظم کے پیچھے کمرے میں چلی آئی
“او ہو تم نے پری کو کیوں گود میں اٹھا لیا واپس لٹاؤ اسے کاٹ میں”
سندیلا سارے شاپرز اٹھا کر کمرے میں آئی تو معظم کو دیکھتی ہوئی بولی جو سوتی ہوئی پری کو گود میں اٹھا کر اسے پیار کر رہا تھا
“وہ جاگے گی نہیں یا نیند نہیں خراب ہو گی آپ بے فکر ہو جائیں”
معظم احتیاط سے پری کو کاٹ کی بجائے بیڈ پر لٹانے کے بعد خود بھی اس کے برابر میں لیٹتا ہوا بولا
“میں اس کی نیند کی وجہ سے نہیں، تمہارے بازو پر موجود زخم کی وجہ سے بول رہی ہو”
سندیلا نے بولتے ہوئے آہستہ سے الماری کھول کر سارے شاپرز ایک جگہ پر رکھ دیے جہاں اس کا بیگ موجود تھا۔۔ اب ان شاپرز میں معظم اس کے اور اس کی بیٹی کے لئے کیا لے کر آیا تھا یہ وہ کل صبح ہی دیکھنے کا سوچ رہی تھی کیونکہ رات کافی ہوچکی تھی
“زخم کو تو آپ نے ہّوا ہی بنا لیا ہے آستانی جی۔۔۔ پورا دن گزر گیا تھا اپنی اس ننھی سی پری کا چہرہ دیکھے ہوئے۔۔۔ کیا اسے پیار کیے بنا سو سکتا ہوں میں”
معظم کی بات سن کر سندیلا پلٹ کر معظم کو دیکھنے لگی جو کہ چوٹ والی کروٹ کے بل لیٹا ہوا،، پری کے ہاتھ کی بند مٹھی پر پیار کر رہا تھا۔۔۔ اس وقت اس کے انداز میں بالکل باپ جیسی شفقت موجود تھی جس طرح وہ پری کو دیکھ رہا تھا سندیلا کو اپنے پاپا کی یاد آنے لگی
“ایسے دور سے کھڑی ہو کر کیا دیکھ رہی ہیں،، آپ بھی یہاں آ جائیں”
معظم اب سندیلا کی طرف متوجہ ہو کر آنکھوں میں شرارت لیے اسے آفر کرنے لگا۔۔۔۔ سندیلا خاموشی سے چلتی ہوئی اس کے پاس آنے لگی تو معظم کی شرارتی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی
“سیدھے ہو کر لیٹو”
وہ معظم کے پاس آ کر اس کے ہاتھ کی پوزیشن کو ٹھیک کرتی ہوئی بولی۔۔۔ اور پری کو واپس کاٹ میں لٹانے کے بعد دوبارہ معظم کے پاس آئی
“رات کا کھانا کھایا تم نے”
معظم بیڈ پر سیدھا ہو کر لیٹا ہوا اسے دیکھ رہا تھا تب سندیلا اس سے پوچھنے لگی
“حاجت نہیں ہے کھانے کی”
وہ کل رات اور آج صبح کی بانسبت اِس وقت اُس کا احساس کر رہی تھی شاید اُس کے بازو پر موجود زخم کی وجہ سے۔۔۔۔ مگر وجہ کوئی بھی ہو معظم کو اُس کا احساس کرنا اچھا لگ رہا تھا
“ٹھیک ہے پھر میں دودھ لے کر آ رہی ہوں وہ پی لینا”
کھانا کا منع کرنے پر سندیلا اس کو بولتی ہوئی کچن میں چلی گئی واپس آئی تو اُس کے ہاتھ میں دودھ کے گلاس کے ساتھ پین کلر بھی موجود تھی جو کہ معظم نے خاموشی سے کھا کر دودھ سے بھرا گلاس خالی کر دیا
سندیلا بیڈ پر اُس کے برابر میں لیٹی تو اُسے احتشام کے خراب موڈ کا خیال آیا مگر فی الحال اُس نے احتشام کے خیال کو جھٹک دیا۔۔۔ تبھی معظم کے ہاتھ کا لمس اُس کے ہاتھ پر آ ٹھہرا
“کھانے کے علاوہ آپ کسی دوسری چیز کا بھی پوچھ سکتی ہیں شاید کسی دوسری چیز کی ضرورت محسوس ہو رہی ہو اس موالی کو”
معظم کی آواز سن کر سندیلا نے اپنے چہرے کا رُخ اس کی طرف کیا، ایک بار پھر اس کو معظم کی آنکھوں میں شرارت ناچتی ہوئی دکھائی دی
“کافی خون بہہ چکا ہے ناں تمہارے بازو سے آج، مگر تمہارا چھچھورا پن وہی کا وہی برقرار ہے خاموشی سے لیٹے رہو”
سندیلا اپنی طرف سے اُس کی اچھی خاصی عزت افزائی کرتی ہوئی بولی
“اف چھچھور پن کا الزام تو واپس لے لیں استانی جی، میں نے آج تک کب آپ کے ساتھ چھچھورا پن کیا۔۔۔ ہاں خون بہنے سے میری انرجی میں کوئی فرق نہیں پڑا وہ ابھی تک برقرار ہے پھر کیا بولتی ہیں آپ اور ویسے بھی لاکر جو اب تک سیو ہے۔۔۔۔”
معظم معنی خیزی سے سندیلا کو دیکھتا ہوا چھچھوری گفتگو اسٹارٹ کرچکا تھا لاکر کی بات پر سندیلا نے اپنے سر کے نیچے سے تکیہ نکال کر کھینچ کر معظم کے بازو پر مارا
“استانی جی”
بازو پر شدید تکلیف محسوس ہونے کے باوجود پری کی نیند خراب نہ ہو،، معظم نے اپنے آپ کو چیخنے سے روکا تھا
“استانی جی کو اپنے بدتمیز اسٹوڈنٹس کو سیدھا کرنا بہت اچھے طریقے سے آتا ہے،، تمہیں نیند نہیں آرہی تو خاموشی سے لیٹے رہو اور مجھے سونے دو اب”
سندیلا اسے تنبہیہ کرکے دوسری طرف کروٹ لے کر لیٹ گئی۔۔۔ جبکہ معظم مسکراتا ہوا خاموش ہوگیا
*****
