Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel NovelR50401

Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel NovelR50401 Woh Howe Meharban (Episode 22)

444.1K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Woh Howe Meharban (Episode 22)

Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel

اس کی زندگی میں خوشیوں کا ٹائم پیریڈ اتنا مختصر کیوں تھا یہ بات وہ اپنے سامنے حسان کی ڈیڈ باڈی کو دیکھ کر سوچ رہی تھی، خوشی وقفے وقفے سے زینش کے بہتے ہوئے آنسو پوچھ کر اس کو چپ کروا رہی تھی جبکہ شہنیلہ کبھی زینش کو دلاسہ دیتی تو کبھی سکتے میں آئی ہوئی جویریہ کو گلے لگاتی۔۔۔

بلال تھوڑی دیر پہلے ہی ہسپتل سے حسان کی ڈیڈ باڈی گھر لے کر آیا تھا وہ جویریہ کے گلے لگ کر رویا تھا مگر بلال کے آنسو جویریہ کا سکتہ نہیں توڑ سکے تھے

کل رات جو مہمان حسان کے ولیمے کی تقریب میں شامل تھے وہی آج صبح اس کی جوان موت پر افسوس کر رہے تھے۔۔۔ کل رات جب بلال گھر پہنچا تو خون میں لت پت حسان کو اس کے کمرے میں دیکھ کر وہ خود حواس باختہ ہو گیا تھا بہت مشکل سے اپنے آپ کو سنبھالتا ہوا وہ حسان کو ہسپتال لے کر گیا تھا جہاں ڈاکٹر نے اس کو گولیاں لگنے کی وجہ سے اس کی موت کی تصدیق کردی

اتنی بھیانک خبر وہ بھی حسان کے بارے میں، بلال جویریہ کو خود کیسے بتاتا اس لیے اس نے رات میں شہنہلا کو فون کیا شہنیلا جویریہ اور زینش کو گھر لے کر آئی تھی لیکن حسان کے کمرے میں جو ایک بات اس نے عجیب دیکھی تھی،، وہ تھا حسان کی لاش کے پاس پڑا ہوا اس کا ریولور۔ ۔۔۔۔ جس کی وجہ سے اس نے تہمینہ کو سختی سے حسان کے کمرے میں کسی کو بھی جانے سے منع کر دیا تھا۔۔۔ وہ حسان کی موت پر غمزدہ ہونے کے ساتھ ساتھ حیرت ذدہ بھی تھا کہ اس کے بھائی کو اسی کے ریوالور سے آخر کون مار سکتا ہے

“جاؤ خوشی زینش کو حسان کے کمرے میں چھوڑ آؤ۔۔۔ اب اس بیچاری کو عدت میں اپنا وقت گزارنا ہے”

حسان کی ڈیڈ باڈی کو قبرستان لے جایا گیا تو ایک رشتہ دار خاتون خوشی کو دیکھتی ہوئی بولی جس پر شہنیلا جھٹ سے بول پڑی

“زینش عدت میں نہیں بیٹھے گی اس کا حسان سے کوئی ایسا تعلق ہی نہیں بنا تھا جس کی وجہ سے وہ اس کے نام پر عدت میں اپنا وقت گزارے”

شہنیلا کی بات سن کر جہاں زینش نے شہنیلا کو ٹوکنا چاہا مگر اس سے پہلے دوسری خاتون بھی شہنیلا کی طرف متوجہ ہوئی جبکہ جویریہ کو تو اس وقت اپنے حال کی بھی خبر نہیں تھی

“کیوں بہن آپ کی بیٹی حسان کے لیے عدت کیو نہیں کر سکتی بیوی تھی وہ اس کی،، جب حسان کی میراث میں آپ کی بیٹی کا حصہ بنتا ہے تو آپ کی بیٹی اس کے نام پر عدت میں کیوں نہیں اپنا وقت گزار سکتی”

دوسری رشتےدار خاتون بھی شہنیلا سے بولی۔۔۔ شہنیلا جائیداد کا نام سن کر ٹھٹکی یہ بات ابھی تک اس کے ذہن میں نہیں آئی تھی

“دیکھیے بہن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ زینش حسان کی بیوی تھی عدت کے مسئلے پر ذرا میں اس لیے پریشان ہو فی الحال میں یہ طے نہیں کر پارہی ہو زینش کو یہی رہنا ہے یا پھر چند دن بعد اس نے میرے ساتھ جانا ہے۔ ۔۔ جو بھی بات ہے وہ تو بعد کی بات ہے خوشی بیٹا زینش کو اس کے اپنے کمرے میں لے جاؤ تم”

شہنیلا نے فوراً پینترا بدل کر بات کو ختم کر دیا

*****

“کیسے ہیں ضیاء صاحب آپ۔۔۔ حسان نے مہندی والے دن میرا اور آپ کا تعارف کروایا تھا میں زینش کی مدر ہو”

شہنیلا کو جیسے ہی موقع ملا وہ حسان کے دوست جوکہ وکیل بھی تھا اس سے مخاطب ہوئی

“جی بالکل میں آپ کو پہچان گیا ہوں کیسی ہیں آپ”

گھر کے ملازم کے کہنے پر ضیاء ایک کمرے میں آیا تھا جہاں وہ حسان کی ساس کو دیکھ کر چونکا

“میں ٹھیک کیسے ہو سکتی ہوں حسان کی اچانک ڈیتھ پر اب اپنی بیٹی کے مستقبل کے لیے اور بھی زیادہ فکرمند ہوں”

شہنیلا آنکھوں میں لائے ہوئے آنسوؤں کو صاف کرتی ہوئی حسان کے دوست ضیاء سے بولی

“جی بس قدرت کے کاموں میں ہم انسانوں کا کوئی عمل دخل نہیں ہے اللہ آپ کی بیٹی کے لئے کوئی بہتر راہ نکالے گا میری دعا ہے”

ضیاء شہنیلا کے آنسو دیکھتا ہوا بولا۔ ۔۔۔ کل صبح ہی حسان کی اور اس کی موبائل پر بات ہوئی تھی،۔۔۔ اور حسان نے اس سے اپنی نئی وصیت تیار کروائی تھی

“شکریہ بہت بہت آپ کا اگر میں آپ سے ایک بات پوچھوں تو آپ برا تو نہیں مانیں گے۔۔۔ حسان نے آپ کا تعارف کرواتے وقت بتایا تھا کہ آپ ایک لائیر ہیں کیا میں جان سکتی ہوں حسان اپنی زندگی میں کوئی وصیت،،، میرا مطلب ہے حسان کی پراپرٹی میں زینش کا کتنا شیئر بنے گا پلیز میری بات کا غلط مفہوم مت لیے گا بس میں اپنی بیٹی کے مستقبل کے لئے تھوڑا پریشان ہوں اس لئے جاننا چاہ رہی تھی”

شہنیلا جلدی سے اپنی بات کی وضاحت دیتی ہوئی بولی

“دیکھئے حسان نے اتفاق سے کل ہی اپنی وصیت نوٹ کروائی تھی اس کی وصیت ایک طرح سے میرے پاس امانت ہے جو میں ایک دو دن میں سب گھر والوں کے سامنے خود یہاں آ کر بتاؤں گا۔۔۔ ابھی تھوڑا بہت پیپرورک ہے جو مجھے کروانا ہوگا”

ضیاء شہنیلا کو تفصیل سے بتاتا ہوا بولا

“بے شک حسان کی وصیت آپ کے پاس امانت ہے لیکن میں بھی اس میں کسی بھی قسم کی خیانت کرنے کا یا پیپر ورک میں کوئی بھی چینجنگ کرنے کا نہیں کہہ رہی ہو صرف اپنی کلوتی بیٹی کیلئے پریشان ہوں اس لئے آپ سے پوچھ رہی ہو کہ حسان نے وصیت میں زینش کے نام کیا ہے اگر آپ مجھے بتا دیں تو یہ بات آپ کے اور میرے درمیان راز رہے گی آپ مجھ پر بھروسہ کر سکتے ہیں”

شہنیلا میٹھے لہجے میں ضیاء کو یقین دلاتی ہوئی بولی تو ضیاء خاموش ہو کر سوچنے لگا پھر اس نے شہنیلا کو حسان کی آخری وقت میں کی گئی وصیت کے بارے میں بتانے کا فیصلہ کیا

“اصولاً تو یہ ٹھیک نہیں ہوگا لیکن آپ کے بے حد اصرار پر میں آپ کو بتا دیتا ہوں کہ اتفاق سے حسان نے کل ہی مجھے اپنی وصیت لکھوائی تھی جس کے مطابق اگر جویریہ رفیق یعنی حسان کی اسٹیپ مدر کی زندگی میں اگر حسان کی موت واقع ہو جاتی ہے تو حسان کی ساری کی ساری پراپرٹی کی مالک جویریہ رفیق یعنیٰ حسان کی اسٹیپ مدر ہوگیں۔۔۔ اور اگر بالفرض جویریہ رفیق کی ڈیتھ واقع ہو جائے تو پھر حسان نے اپنی ساری پراپرٹی کا وارث اپنے بھائی یعنیٰ بلال رفیق کو بنایا ہے۔۔۔۔ مجھے یہ کہتے ہوئے افسوس ہو رہا ہے کہ حسان نے اپنی زوجہ مطلب آپ کی بیٹی کا نام اپنی وصیت میں شامل نہیں کیا”

ضیاء شہنیلا کو بتاتا ہوا کمرے سے چلا گیا اور شہنیلا حسان کی وصیت جاننے کے بعد دانت پیس کر ضبط کرنے لگی۔۔۔۔۔ حسان کی وصیت کے بارے میں سوچتے شہنیلا کا خون کھول اٹھا

****

سندیلا کی آنکھ کھلی تو اس کی نظر اپنے برابر میں لیٹے ہوئے معظم پر پڑی جو کہ اس وقت گہری نیند میں سو رہا تھا۔۔۔ بیچ رات میں اس کی پری کے رونے پر بھی آنکھ کھلی تھی،، پری ہمیشہ رات میں بھوک کی وجہ سے دودھ کے لئے روتی تھی مگر کل رات سندیلا کے اٹھنے سے پہلے معظم بیڈ سے اٹھ کر پری کے لیے فیڈر میں دودھ بنانے لگا۔۔۔ وہ اتنی زیادہ نیند میں مدہوش تھی کہ معظم کو فیڈر بناتا ہوا دیکھ کر مطمئن ہو کر دوبارہ سو گئی

وہ معظم کو سوتا ہوا دیکھ کر بیڈ سے اٹھی اور الماری میں رکھے شاپرز میں موجود سامان دیکھنے لگی کیونکہ پری کے اٹھنے میں ابھی وقت تھا۔۔۔ اسے اپنا اور پری کا سارا سامان دیکھ کر افسوس ہوا،، معظم اس کے اور پری کے لیے تقریبا استعمال کی ساری چیزیں ہی لے کر آیا تھا،، ایک نظر دوبارہ اس نے سوئے ہوئے معظم پر ڈالی۔۔۔۔ ڈھونڈنے سے بھی سندیلا کو اس کے انداز میں کوئی بناوٹ یا کوئی غرض نظر نہیں آئی دو دن میں ہی وہ معظم میں کسی ذمہ دار باپ اور خیال رکھنے والے شوہر کی جھلک دیکھ چکی تھی۔۔۔ اپنی سوچوں سے خود گھبراتی ہوئی وہ جلدی سے کچن میں چلی گئی تاکہ پری کے اٹھنے سے پہلے ناشتہ بنا لے

“گرمی میں چہولے کے آگے کھڑے رہنا کہیں آپ کا پسندیدہ مشغلہ تو نہیں ہے”

وہ بڑے انہماک سے ناشتہ بنا رہی تھی کہ معظم کی آواز پر چونکی۔۔۔ مڑ کر دیکھا تو معظم کچن کے دروازے سے ٹیک لگا کر کھڑا غور سے سندیلا کو دیکھ رہا تھا

“اٹھ گئے ہو تو ہاتھ منہ دھولو ناشتہ تیار ہے”

سندیلا کے پلٹ کر دیکھنے پر وہ جن نگاہوں سے سندیلا کو نظر بھر کر دیکھ رہا تھا سندیلا ریک میں اٹکایا ہوا اپنا دوپٹہ اٹھا کر اوڑھتی ہوئی معظم کو کہنے لگی ساتھ ہی اس نے واپس مڑ کر چولہے کی آنچ ہلکی کی کیونکہ چائے میں ابال آ چکا تھا

“منہ ہاتھ بھی دھولو گا استانی جی لیکن پہلے میں ذرا اپنی صبح کے آغاز کو تو خوبصورت بنالو”

معظم بولتا ہوا سندیلا کے پاس آیا اسکی پشت پر کھڑے ہوکر معظم نے سندیلا کو اپنے حصار میں لیا۔۔۔ معظم کی حرکت پر سندیلا گھبرا کر مزید پیچھے ہوئی تو سندیلا کی پشت معظم کی چوڑے سینے سے جا ٹکرائی

“اتنا زیادہ بھی مت گھبرایا کریں استانی جی مجھ سے، حلال رشتہ قائم ہے اب ہم دونوں کے درمیان”

وہ مزید سندیلا کو اپنے حصار میں جکڑ کر اس کے کان میں سرگوشی کرتا ہوا بولا، وہ خود اپنے دل کو بھلا کیسے سمجھاتا جو صبح صبح اپنی استانی جی کو دیکھ کر بےایمان ہو رہا تھا

“میں گھبرا نہیں رہی ہوں پری کو دیکھنے جا رہی ہو وہ جاگ گئی ہوگی”

سندیلا نے اپنی گھبراہٹ چھپانے کے ساتھ معظم کے دونوں ہاتھ اپنے پیٹ سے ہٹانے چاہے۔۔۔ بے شک اس سے جائز رشتہ جڑا تھا مگر سندیلا کی جھجھک بھی فطری تھی۔۔۔ وہ تو خود پریشان تھی کے کیسے وہ اپنی جھجھک کو ختم کرکے معظم کو دوبارہ خود کے قریب آنے دے

“میں ابھی کمرے سے ہی آ رہا ہوں پری کافی گہری نیند میں سو رہی ہے۔۔۔ اگر آپ واقعی نہیں گھبراتی تو ذرا یہاں پلٹ جائیں میری طرف”

معظم سندیلا کا رخ اپنی طرف کرتا ہوا بولا اور اسکے نازک سراپے کو دوبارہ اپنے بازوؤں میں بھرلیا

“کیا کر رہے ہو معظم مجھے پسینے آرہے ہیں پلیز پیچھے ہٹو”

معظم کی دسترس میں وہ بوکھلاتی ہوئی بولی۔۔۔ احتشام کو تو سخت چڑ تھی کہ اس کے پاس سے لہسن، پیاز،، یا پسینے کی اسمیل آئے وہ سختی سے سندیلا کو ٹوک دیا کرتا تھا اور یہ تو اس سے بری طریقے سے چپکا جارہا تھا

“مجھے تو آپ اس حلیے میں اور بھی زیادہ حسین لگ رہی ہیں۔۔۔۔ اس وقت اپنے دل کو سمجھانا مشکل ہو رہا ہے تھوڑا سا آپ ہی میرے دل کو سمجھ جائیں ناں”

معظم کا دل تھا کہ اسے کوئی گستاخی کرنے پر اُکسائے جا رہا تھا۔۔۔ وہ سندیلا کے ہونٹوں کو دیکھتا ہوں اس سے منت بھرے لہجے میں بولا۔۔۔ معظم اس کے ہونٹوں پر جھکنے لگا تو سندیلا نے اس کے سینے پر اپنے دونوں ہاتھوں کو رکھ کر اسے پیچھے کیا اور ساتھ ہی معظم سے نظریں چرانے لگی۔۔۔

کل رات وہ صرف شرارتی جملے بولنے پر گزارا کر رہا تھا مگر اس وقت وہ کچھ کر دیکھانے کا سوچے بیٹھا تھا

“یہاں دیکھیں استانی جی میری طرف۔۔۔ تھوڑی دیر کے لیے اپنے ذہن سے ساری باتوں کو نکال کر صرف میرے اور اپنے خوبصورت رشتے کا سوچیں۔۔ جو کہ خوبصورت رشتہ ہونے کے ساتھ ساتھ بہت قریبی رشتہ بھی ہے”

معظم سندیلا کے گریز کو سمجھتا ہوا اس سے بولا

ساتھ ہی اس نے سندیلا کے دونوں بازو اپنے گلے میں ڈال دیے،، جس سے سندیلا کا چہرہ معظم کے نزدیک ہوا۔۔۔ وہ سانسیں روکے معظم کا چہرہ غور سے دیکھنے لگی،، معظم اسکی کمر میں بازو ڈال کر سندیلا کو دوبارہ اپنے قریب کر چکا تھا

“کیا آپ میرے اور اپنے اس خوبصورت رشتے کو محسوس کرنا چاہے گیں”

معظم اپنے ہونٹوں سندیلا کے ہونٹوں کے نزدیک لا کر اس سے پوچھنے لگا۔۔۔ سندیلا نے اپنی آنکھیں بند کردی،،، جیسے اس نے معظم کو اپنی آمادگی دی تھی لیکن معظم نے اپنے سر سے زور سے سندیلا کا سر ٹکرایا جس پر سندیلا دوبارہ حیرت سے آنکھیں کھول کر معظم کو دیکھنے لگی۔۔۔ جبکہ اس کے دونوں ہاتھ ابھی بھی معظم کے گلے کا ہار بنے ہوئے تھے اور معظم نے اس کی کمر کو اپنے دونوں بازوؤں سے جکڑا ہوا تھا

“ایسی منظوری نہیں چاہیے۔۔۔ صحیح سے بتائیں کہ آپ اپنے اور میرے خوبصورت رشتے کو محسوس کرنا چاہتی ہیں”

معظم کی بات سن کر سندیلا نے اب کی بار بے ترتیب دھڑکنوں کے ساتھ اپنا سر اقرار میں ہلایا

تب معظم نے بے حد نرمی سے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹوں کو رکھ دیا

“اب بتائیں کیسا محسوس کر رہی ہیں”

جب اس نے اپنے ہونٹوں کو سندیلا کے ہونٹوں سے جدا کیا تو سندیلا کی آنکھیں بند تھی معظم اس کا چہرہ غور سے دیکھتا ہوا پوچھنے لگا

“تم اسموکینگ کر کے آئے ہو پہلے تمہیں برش کرنا چاہیے تھا۔۔۔ تمہاری اس حرکت نے میری ہارٹ بیٹ کو فاسٹ کردیا ہے شاید اب مجھے کمرے میں جانا چاہیے”

سندیلا نے آہستہ سے آنکھیں کھولتے ہوئے جو جو محسوس کیا وہ معظم کو بتایا ساتھ ہی معظم کے گلے سے اپنے بازو ہٹائے

“آئندہ خیال رکھوں گا ان ہونٹوں کو چھونے سے پہلے مجھے اچھی طرح سے برش کرنا ہے۔۔۔ مگر استانی جی ابھی مجھے چیک کرنے دیں میری اس حرکت نے آپ کی ہارٹ بیٹ کو کتنا فاسٹ کیا ہے ذرا دوبارہ سے قریب آئیے پلیز”

معظم اب کی بار اس کے دونوں بازؤوں کو اپنی کمر کے گرد لپیٹ کر سندیلا کو خود سے نزدیک کرتا ہوا بولا۔۔۔ سندیلا گھور کر اس کی بات پر معظم کو دیکھنے لگی جس کی نظریں سندیلا کے ہونٹوں سے ہٹنے کے بعد اب بند لاکر پر مرکوز تھی

“تم نے کل رات میں کہا تھا کہ تم نے ابھی تک میرے ساتھ کچھ چھچھورپن نہیں کیا”

سندیلا اس کو کل رات والی بات یاد دلانے کے ساتھ ہی اپنے بازو اس کی کمر سے ہٹانے لگی۔۔۔ مگر معظم نے اس کو ایسا نہیں کرنے دیا

“یہ تو نہیں کہا تھا کہ آگے بھی چھچھور پن نہیں کروں گا۔۔۔ یقین جانیے استانی جی میں صرف دیکھنے میں موالی لگتا ہوں مگر اندر سے ایک ڈیسنٹ بندہ ہوں۔۔۔ صرف ہارٹ بیٹ کی رفتار چیک کرو گا اور بس”

معظم اپنی کمر پر باندھے سندیلا کے دونوں ہاتھوں کو پکڑتا ہوا بولا اور اس کی گردن کو چوم کر مزید نیچے جھکا۔۔۔ سندیلا شاید چکرا گر پڑتی اگر اسے معظم نے تھاما نہ ہوتا مگر فوراً ہی ایک آواز نے معظم کے کام میں خلل پیدا کیا

“بھئیا جی بھابھی جی کہاں ہیں آپ دونوں، آج پھر معصوم سا پپو آپ دونوں کے گھر آگیا”

پپو کی کچن میں آتی ہوئی آواز پر جہاں معظم بدمزہ ہو کر پیچھے ہٹا وہی سندیلا ہڑبڑا کر ایک دم ٹرے میں جلدی جلدی ناشتہ سیٹ کرنے لگی

“ناشتے کی خوشبو سے اندازہ ہو گیا تھا کہ بھابھی جی تو کچن میں ہوگیں لیکن آپ کچن میں کیا کر رہی ہیں صبح صبح بھیا جی”

سندیلا سے حال چال پوچھنے کے بعد،، پپو معظم کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا لیکن معظم اس کو ایسی خونخوار نظروں سے گھور رہا تھا جیسے اسے ابھی کچا چبا جائے گا۔۔۔ یہ معصوم سا پپو معظم کو آج کتنا بڑا منحوس لگ رہا تھا معظم دل میں ہی سوچتا رہ گیا

“کیا ہوا بھیئا جی آپ مجھے اتنے پیار سے کیو دیکھ رہے ہیں”

پپو معصومیت سے معظم کو دیکھتا ہوا سوال کرنے لگا

“آج سے پہلے تو مجھے اتنا زہر کبھی بھی نہیں لگا پپو، معلوم نہیں یار تو پیدا کیوں ہوگیا”

معظم اس کی پیدائش پر افسوس کرتا ہوا پپو سے پوچھنے لگا۔۔۔ سندیلا جو کہ اب قدرے سنبھل گئی تھی معظم کو گھورنے لگی

“بھیا جی آپ کی کچن میں موجودگی اور میری آمد پر، آپ کا یوں بری طرح تپنا صاف ظاہر کر رہا ہے کہ آپ یقیناً کچن میں بھابھی جی کی ناشتہ بنانے میں مدد کروا رہے تھے”

پپو اپنے دانتوں کی نمائش کرنے کے بعد آنکھیں مٹکاتا ہوا معظم سے بولا

معظم اس کی بات کا جواب دیے بغیر اپنے ہاتھوں کی پانچوں انگلیاں کھول کر اپنا ہاتھ پپو کے منہ پر جماتا ہوا پپو کو منہ سے پکڑ کر صحن میں لے آیا ہوا

“تجھے میں نے اپنے گھر کی چابی اس لئے نہیں دی ہے کہ تو وقت بے وقت یہاں آکر میرے موڈ کا ستیاناس مار۔ ۔۔ اگر اب تو نے استانی جی کے سامنے کوئی الٹی سیدھی بات کی تو میں تیرے آگے کے یہ سارے دانت توڑ دوں گا۔۔۔ پھر تو کرتے رہنا یہاں بیٹھ کر ناشتہ”

معظم پپو کو دھمکی دیتا ہوا پیچھے ہٹا کیونکہ سندیلا ناشتے کی ٹرے لے کر صحن میں آ چکی تھی، پپو مسکینوں جیسی شکل بنا کر سندیلا سے ٹرے لے کر تخت پر ایک طرف ہوکر بیٹھ گیا

“ہم دونوں کا ناشتہ کہاں ہے”

معظم سندیلا کی گلابی رنگت کو دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا،، سندیلا کا چہرہ دیکھ کر ایک بار پھر اس کا موڈ بحال ہونے لگا

“پہلے اپنے بازو کی ڈرینگ کروا لو پھر ناشتہ لے کر آتی ہوں”

سندیلا معظم سے بولی اور فرسٹ ایڈ باکس لینے کے لیے کمرے میں چلی گئی کیونکہ بیڈروم میں ہی وہ معظم کے بازو پر بندھی ہوئی پٹی دیکھ چکی تھی جو کہ اب لوز ہو چکی تھی

“میں تو کہتا ہوں بھیا جی شادی کے بعد آپ کے نصیب ہی کھل گئے قسم سے”

پپو ناشتہ کرتا ہوا معظم سے بولا تو معظم گھور کر اسے دیکھنے لگا

“یہ ناشتہ اب تو آنکھیں بند کر کے کرے گا پپو، اگر کل کی طرح تیری نظریں ہماری طرف اٹھی تو میں تجھے آج ہی جنت کے حوروں کے پاس پہنچا دو گا”

معظم کی دھمکی پر پپو نے شرافت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا سر پلیٹ میں گھسا لیا

تب ہی سندیلا کمرے سے نکل کر آئی اور تخت پر معظم کے قریب بیٹھتی ہوئی اس کے بازو پر بندھی ہوئی پٹی اتار کر اس کا زخم دیکھ ریکھنے لگی اور معظم غور سے سندیلا کا چہرہ دیکھنے لگا

“کیا ہوا”

سندیلا اپنی چہرے پر پڑتی ہوئی نظریں محسوس کر کے معظم کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی

“اگر آپ اتنے پیار سے میرے زخموں پر مرہم رکھیں گیں تو میں روز روز اپنے آپ کو زخم دینے کے لئے تیار ہوں”

معظم سندیلا کو دیکھ کر سنجیدگی سے بولا تو سندیلا معظم کو آنکھیں دکھانے لگی

“مجھے لگ رہا ہے تم فلمیں کافی شوق سے دیکھتے ہو”

سندیلا اس کے ڈائیلاگ سن کر اپنی مسکراہٹ چھپاتی ہوئی معظم سے بولی۔ ۔۔ ساتھ ہی وہ اس کے بازو پر بینڈچ کرنے لگی

“شوق سے بھی اور غور سے بھی۔۔۔ صرف رومینٹک فلمیں، اندازہ ہوگیا ہوگا آپکو”

معظم نے آخری الفاظ سندیلا کے کان کے نزدیک منہ کر کے بولے تو وہ کچن والا سین یاد کر کے بلش کر گئی معظم اسکے چہرے پر آئی لٹوں کو پیچھے کرکے اس کا چہرا دیکھنے لگا

“آنکھیں بند کرکے ناشتہ کرنا ویسے ہی مشکل ہے اب بندہ اپنی آنکھوں کے ساتھ ساتھ کان کیسے بند کرے۔۔۔ نہیں ہو سکتا یار ایسا نہیں ہو سکتا”

پپو منہ ہی منہ میں بڑبڑاتا ہوا ناشتے کی ٹرے لے کر اندر کمرے میں چلا گیا

پپو کی بڑبڑاہٹ سن کر جہاں معظم مسکرایا وہی سندیلا بھی نہ چاہنے کے باوجود مسکرائی۔ ۔۔ وہ اپنا چہرہ نیچے جھکا کر بینڈیج کرتی ہوئی اپنی مسکراہٹ چھپانے میں کامیاب ہوئی تھی ویسے ہی گھر کا دروازہ کھلا اور اندر آنے والے شخص کو دیکھ کر ان دونوں کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو گئی

*****

وہ راکنگ چیئر پر بیٹھا ہوا ایک ہاتھ چیئر کے ہینڈل پر رکھے دوسرے ہاتھ سے مسلسل اپنی کنپٹی دبا رہا تھا۔۔۔ تھوڑی دیر پہلے ہی پولیس انوسٹی گیشن کرکے گئی تھی کیوکہ حسان کی موت کوئی حادثات یا قدرتی موت نہیں تھی بلکہ سیدھا سیدھا مرڈر کیس تھا

وہ خود اتنا پریشان تھا کہ اس وقت اس کا دماغ بھی کام نہیں کر رہا تھا نہ ہی اسے فوراً حسان کے ماڈر کی وجہ سمجھ میں آئی تھی لیکن پولیس پر وجہ ظاہر حل کرنے کے لیے اس نے اپنے بیان میں حسان کے کمرے سے کچھ نقدی رقم غائب ہونے کا دعوی کیا تھا تاکہ پولیس مزید آگے تفشیش بند کر دے اور پولیس کو قتل کی وجہ مقتول کا رقم چرانا لگے

اس نے گھر میں لگے کیمرے بھی ملازم سے کہہ کر فوری طور پر اتروا لیے تھے۔۔۔ جب تک اسے اصل وجہ خود معلوم نہیں ہو جاتی وہ اس سارے معاملے کو پولیس کی انولومینٹ نہیں چاہتا تھا۔۔۔ سب سے زیادہ جو بات بلال کو کھٹک رہی تھی وہ تھا حسان کی ڈیڈ باڈی کے پاس سے اس کے ریولور کا ملنا تھا۔۔۔ صرف اس نے یہ بات ضیاء شیئر کی تھی وہ حسان کے ساتھ بلال کا بھی اچھا دوست تھا

بلال گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا تب اس کے کمرے کا دروازہ کھلا

“کھانے کے لیے بلانے آئی تھی، آؤ چل کر تھوڑا بہت کھانا کھالو”

شہنیلا نے بلال کے کمرے میں آتے ہوئے کہا اس کے لہجے میں بلال کے لیے شفقت صاف جھلک رہی تھی

“مجھے بالکل بھی بھوک کا احساس نہیں ہے آنٹی”

کل سے اب تک حسان کی موت کو چوبیس گھنٹے گزر چکے تھے جویریہ کل سے کسی بت کی مانند اپنے کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی۔۔ نہ وہ کچھ بات کر رہی تھی نہ ہی وہ کچھ کھا رہی تھی۔۔ بلال بھی اپنے کمرے میں تنہا وقت گزارنا چاہتا تھا اس لیے شہنیلا کو دیکھ کر کھانے سے انکار کرتا بولا

“کل سے سب کی ہی بھوک مر چکی ہے، اب بھوک کا احساس کسی ہے بیٹا لیکن اگر تم کھانے کی میز پر آؤ گے تو اسی بہانے زینش اور جویریہ بھی تھوڑا بہت کچھ کھا لیں گیں”

شہنیلا بلال کو دیکھ کر ابھی بھی اپنائیت بھرے لہجے میں بولی

“زینش”

بلال نے زیر لب اس کا نام لیا۔۔۔ جس کو وہ کل سے بالکل بھولا ہوا تھا

“ہاں زینش، بی پی لو ہونے کی وجہ سے تھوڑی دیر پہلے بےہوش ہوگئی تھی میری بچی۔۔ سمجھ میں نہیں آرہا کیسے اب اسے زندگی کی طرف لاؤ گی،، بند کمرے میں رہ رہ کر تو وہ مر ہی جائے گی۔۔۔ جویریہ کو دیکھتی ہوں تو دل مزید روتا ہے بلال بیٹا پلیز اب آگے تمہیں ہی ان دونوں کو سنبھالنا ہے اور خیال رکھنا ہے مگر اس کے لیے تمہیں بہت زیادہ ہمت سے کام لینا ہوگا”

شہنیلا اپنی آنکھوں کی نمی صاف کرتی ہوئی بلال کے کمرے سے چلی گئی

*****