Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel NovelR50401

Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel NovelR50401 Woh Howe Meharban (Episode 10)

414.1K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Woh Howe Meharban (Episode 10)

Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel

اس وقت وہ اپنے کمرے کے ٹیرس میں موجود تھا تب اس کے کمرے میں وہ خوشبو پھیلنے لگی جس سے بلال نہ صرف مانوس ہونے لگا تھا بلکہ وہ خوشبو چند دنوں سے اب ہر وقت اس کے حواسوں پر سوار رہنے لگی تھی،، جب زینش کی خوشبو کا احساس اسے ٹیرس پر اپنے قریب بکھرتا ہوا محسوس ہوا تو بلال کے لبوں پر مسکراہٹ در آئی۔۔۔ اس نے زینش کو پلٹ کر نہیں دیکھا تھا مگر وہ جانتا تھا کہ زینش وہی اس کی پشت پر کھڑی ہے۔۔۔ یہ سوچ اس کی بوجھل طبیعت پر اچھا اثر ڈالنے کے لئے کافی تھی

ڈنر کے وقت بلال کو آج ٹیبل پر موجود نہ پا کر زینش نے سرسری سے انداز میں جویریہ سے بلال کے متعلق پوچھا تو اسے معلوم ہوا، آفس سے آنے کے بعد سے بلال کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اور طبیعت خرابی میں وہ مزید چڑچڑا ہونے کے باعث نہ صرف اپنے کمرے تک محدود ہوجاتا ہے بلکہ کسی سے بات کرنا یا کسی کا اپنے کمرے میں آنا پسند نہیں کرتا۔۔۔ حسان اور جویریہ دونوں نے اسی بات کی وجہ سے زینش کو بلال کے کمرے میں کھانا لے جانے سے منع کیا تھا لیکن زینش جویریہ اور حسان کو اطمینان دلا کر کھانا ٹرالی میں رکھ کر ملازمہ کی بجائے خود بلال کے کمرے میں لے آئی تھی۔۔۔ کمرے میں بلال کو موجود نہ پا کر وہ آہستہ سے قدم اٹھاتی ہوئی ٹیرس میں آئی جہاں بلال کی پشت اس کے سامنے تھی۔۔۔ زینش کو حیرت ہوئی کہ وہ کس قدر گم کھڑا تھا تبھی زینش نے اپنے دونوں ہاتھوں کو بلال کی آنکھوں پر رکھا

“بتائیں بھلا کون ہوں میں”

زینش اپنے ہونٹ بلال کے کان کے قریب لا کر اس سے پوچھنے لگی مرمریں ہاتھوں کا لمس اپنی آنکھوں پر محسوس کر کے بلال کا دل چاہا وہ بے اختیار بول دے میری میری زندگی۔،۔۔۔ مگر وہ اپنی آنکھوں پر رکھے زینش کے ہاتھ تھام کر پلٹتا ہوا بولا

“ایک پاگل لڑکی”

بولنے کے بعد وہ گرل سے ٹیک لگائے خاموشی سے زینش کو دیکھنے لگا شاید اس کا دل کافی دیر سے اس چہرے کو دیکھنے کی طلب کر رہا تھا

“بجا فرمایا آپ نے پاگل ہی ہو جو آپ کا احساس کرتے ہوئے کھانا لے کر آئی ہو،، کھالیے گا، کمرے میں موجود ہے کھانا”

بلال کے منہ سے اپنے لیے پاگل کا لقب سن کر وہ منہ بنا کر جانے لگی

“تم یوں بار بار جانے کی بات مت کیا کرو، اب ایسا ممکن نہیں ہے تمہارے لیے”

بلال کی بات سن کر زینش مڑی بلال اب بھی خاموشی سے اس کو دیکھ رہا تھا

“مطلب”

نجانے وہ اس کی بات کا مفہوم سمجھ کر انجان بن رہی تھی یا پھر واقعی انجان تھی بلال سینے پر دونوں ہاتھ باندھے خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھنے لگا

“واضح لفظوں کے مطلب بیان نہیں کیے جاتے سامنے والے کو مطلب خود سمجھ جانا چاہیے۔۔ مطلب صاف ظاہر ہے تم ابھی میرے کمرے سے نہیں جا سکتی”

بلال زینش کو دیکھتا ہوا مزید واضح لفظوں میں اپنی بات بیان کرنے لگا

“اس کمرے میں میرے رکنے سے آپ کو کیا حاصل ہوجائے گا”

زینش بھی اسی کی طرح سینے پر ہاتھ باندھ کر بلال سے پوچھنے لگی

“شاید بیمار کی طبیعت تھوڑی بہل جائے”

بلال دو قدم آگے بڑھ کر اس کے قریب آتا ہوا بولا

“آپ کو اپنی طبیعت بہلانی ہے یا مکمل ٹھیک کرنی ہے چلے آئیں کھانا کھا لیں”

ایسا نہیں تھا کہ وہ بلال کی بولتی آنکھوں کا مفہوم نہیں سمجھ رہی تھی مگر انجان بنتی ہوئی بولی اور کمرے میں چلی آئی اس کے پیچھے بلال بھی اپنے کمرے میں آگیا

“اگر تم میرا حال پوچھ لیتی تو شاید طبیعت خود ہی ٹھیک ہو جاتی، کھانے کا تو میرا بالکل بھی موڈ نہیں ہو رہا”

بلال کھانے کی ٹرالی اپنے کمرے میں دیکھ کر زینش سے بولا

“بلال چھوٹے بچوں کی طرح ضد مت کیا کریں پلیز کھانا کھا لیں”

زینش تھوڑا فکرمند لہجے میں بولی جسے دیکھ کر بلال مسکرایا

“مجھے معلوم ہے یہاں میری ضدیں پوری کرنے والا کوئی نہیں ہے”

بلال بولتا ہوا صوفے پر جا کر بیٹھا تو زینش ٹرالی میں موجود کھانا میز پر رکھنے لگی

“ضدیں کرنا کون سی اچھی بات ہے بھلا،، ضد تو صرف شخصیت کی بگاڑ کی وجہ بنتی ہے”

زینش بلال کی طرف پلیٹ بڑھاتی ہوئی اس سے بولی

“میرا دل ضدی نہیں ہے مگر لگتا ہے اب ہو جائے گا۔۔۔ ویسے تمہیں کسی نے میرے کمرے میں آنے سے روکا نہیں”

بلال اس کے ہاتھ سے پلیٹ لیتا ہوا زینش سے پوچھنے لگا

“آنٹی اور حسان بھائی نے سمجھایا تھا طبیعت خراب ہے میں آپ کی بدتمیزی کا لیول آسمانوں کو چھو جاتا ہے مگر پھر بھی دل نہیں مانا، دوست بنایا ہے تو دوستی تو نبھانی ہی پڑے گی اس لیے چلی آئی”

زینش لفظ دوستی واضح جتا کر بولی اور بلال کو خوش گمان کمرے میں چھوڑ کر چلی گئی

****

“ہائے اللہ جی میں تو مر گئی آج۔۔۔ مان نہ مان احتشام یہ میرے دشمنوں کے تعویذ کا اثر ہے لوگ تو چاہتے ہیں بڑھیا کل کی مرتی آج ہی مر جائے”

رات کے کھانے کے بعد نزہت بیگم کی طبیعت خراب ہوچکی تھی وہ پیٹ پکڑ کر درد سے کرہاتی ہوئی سندیلا کو دیکھ کر مسلسل اپنے دشمنوں کو کوس رہی تھی۔۔۔ اس وقت سارے بچوں سمیت سندیلا بھی انہی کے کمرے میں موجود تھے

“امی میں نے منع کیا تھا کہ دو دن پرانا قورمہ مت کھائیں مگر آپ بھی بات کہاں مانتی ہیں”

احتشام نزہت بیگم کی آہ و پکار سن کر بولا

“بھائی امی ہے ہماری،، خدارا ان کے درد کو سمجھیں۔۔۔ امی ٹھیک ہی کہتی ہیں ہماری خوشیوں سے تو ویسے بھی سب جلتے ہیں بس جہاں ہمہیں خوش دیکھا وہی لگا دی ہماری خوشیوں پر اپنی منحوس نظر”

باسل نے احتشام سے کہتے ہوۓ زہریلی نگاہ سندیلا پر ڈالی۔۔۔ کیونکہ اس کے سارے ڈاکومنٹس مکمل تھے اور وہ باہر جانے کی تیاری کر رہا تھا۔۔۔ اس لیے بھی اس کی نزہت سے محبت جاگ رہی تھی

“اس کو مت سمجھا، یہ نہیں سمجھے گا جب پیٹ کا درد میرے دل تک پہنچے گا اور میں اس دنیا میں نہیں رہو گی تبھی اس کو قدر آئے گی”

نزہت بیگم نے اب آہ و بکاہ کے ساتھ ساتھ رونا بھی شروع کر دیا

“بھائی لے کر کیوں نہیں جا رہے ہیں آپ امی کو ہاسپٹل، جب پانی سر سے گزر جائے گا تب بیٹھ کر پچھتائیں گے”

فائقہ جو کافی دیر سے کھڑی ہوئی رو رہی تھی وہ احتشام کو دیکھ کر تڑخ کر بولی جس پر احتشام لمبا سانس کھینچ کر سندیلا کی طرف مڑا

“تم منہ اٹھا کر تماشا ہی دیکھے جا رہی ہو،، جاؤ گاڑی کی چابی لے کر اور والٹ بھی لے کر آؤ،، ساتھ ہی میری دراز سے اے ٹی ایم کارڈ لے آنا”

احتشام کے بولنے پر سندیلا خاموشی سے کمرے میں چلی آئی جبکہ باسل اور احتشام نزہت بیگم کو ہسپتال لے جانے کی تیاری کرنے لگے

ہفتے بات ہی گائنی کی ڈاکٹر نے اس کی ڈیلیوری کی ڈیٹ دی تھی۔۔۔ باسل کو بھی اگلے ہفتے جرمنی جانا تھا۔۔۔ اتفاق سے چند دنوں پہلے آنے والا رشتہ،، یعنی ایک فیملی فائقہ کو پسند کر گئی تھی اور اسی ہفتے میں باسل کے جرمنی جانے سے پہلے سادگی سے فائقہ کا نکاح ہونا تھا اور ساتھ ہی رخصتی بھی طے پائی گئی تھی کیونکہ ان لوگوں کو سیدھی سادی سگھڑ اور شرمیلی فائقہ کافی پسند آ گئی تھی

“اے اللہ پاک جو میری ماں کو پیٹھ پیچھے بددعائیں دیتا ہے اس کو خوشیاں کبھی راس نہ آئے”

سندیلا باہر کا دروازہ بند کرکے اپنے کمرے میں جا رہی تھی تب اس کے کانوں میں فائقہ کی آواز گونجی جو باآواز بولتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔ سندیلا کو ان میں سے کسی کے بھی رویہ کا دکھ نہیں تھا۔۔۔ نہ ہی وہ زیادہ سوچ رہی تھی کیونکہ ڈاکٹر نے اسے خوش رہنے کے لیے کہا تھا مگر اب اسے فائقہ کی فکر ہونے لگی تھی کیونکہ شادی کے بعد اسے جوائنٹ فیملی میں رہنا تھا

****

کوئی بارہ بجے کا وقت تھا جب سندیلا نے احتشام سے کال کرکے واپس آنے کا پوچھا کیونکہ وہ اور فائقہ اس وقت گھر میں اکیلی تھی بقول احتشام کے کہ وہ اور باسل نزہت بیگم کو ہسپتال سے واپس لے کر آدھے گھنٹے میں گھر پہنچ رہے ہیں۔۔۔ احتشام کی بات سن کر سندیلا مطمئن ہو گئی تھی مگر دوسرے ہی پل وہ ایک دم سے پریشان ہو کر بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی کیوکہ گھر کی دیوار سے اسے اندر کی طرف کھودنے کی آواز آئی تھی جیسے کوئی گھر کے اندر کی طرف کودا ہو۔۔۔ گھبراہٹ اسے تب ہوئی جب مزید دو بار اور کسی نے دیوار پھلانگی۔۔۔ کوئی گھر کے اندر آ چکا تھا وہ پریشان سی اپنے کمرے سے نکلی تو فائقہ لاؤنچ میں ہی موجود تھی

“آواز سنی آپ نے بھابھی،، یہ کیسی آواز تھی”

فائقہ پریشان ہوتی ہوئی سندیلا سے پوچھنے لگی تو سندیلا سمجھ گئی وہ بھی ان آوازوں کو سن کر اپنے کمرے سے باہر نکلی ہے

اس سے پہلے سندیلا فائقہ کو کچھ بولتی تین آدمی باری باری لاؤنچ کے اندر داخل ہوئے ان میں سے دو کے ہاتھوں میں پسٹل موجود تھی

“اے اپنی جگہ سے ہلنے کی ضرورت نہیں ہے دونوں یہاں آ کر کرسیوں پر بیٹھو”

ایک آدمی نے پسٹل کا رخ ان دونوں کی طرف کیا مگر سندیلا اسے نہیں بلکہ اس کے ساتھ دوسرے پسٹل والے آدمی کو دیکھ رہی تھی۔۔۔

معظم سے بھی ایک لمحہ وہاں سندیلا کو دیکھ کر کچھ بولا نہیں گیا،، وہ بھی یہاں پر سندیلا کو دیکھ کر اسی کی طرح حیرت زدہ تھا مگر دوسرے ہی پل وہ کرسیوں پر بیٹھی فائقہ اور سندیلا کے پاس آیا

“گھر میں اور کون کون موجود ہے”

معظم نے سوال سندیلا کو دیکھ کر کیا تھا مگر وہ بنا کچھ بولے ابھی بھی معظم کو دیکھ رہی تھی اس لیے جلدی سے فائقہ بولی

“اس وقت ہم دونوں ہی گھر پر موجود ہیں باقی سب تو گھر سے باہر نکلے ہوئے ہیں ہم لوگ بہت معصوم، سیدھے سادے، غریب اور سفید پوش لوگ ہیں”

فائقہ گھبراہٹ میں جلدی جلدی بولی

“جتنا پوچھا جائے اتنا ہی جواب دو۔۔۔ احتشام کون ہے اور کہاں ہے اس کا کمرہ”

اب کی بار زاہد فائقہ کے پاس آ کر اس سے پوچھنے لگا جبکہ معظم حیرت سے فریج پر رکھی فیملی فوٹو میں سب کے ساتھ کھڑے احتشام کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ اس احتشام کو وہ تو کیا،، احتشام بھی اسے اچھی طرح جانتا تھا

“جی میرے بڑے بھائی کا نام احتشام ہے یہ سامنے والا کمرہ ان ہی کا ہے”

فائقہ ڈرنے کے ساتھ ساتھ احتشام اور سندیلا کے بیڈروم کی طرف اشارہ کرتی ہوئی بولی

“خبردار میرے کمرے میں کوئی بھی نہیں جائے گا”

سندیلا جو اتنی دیر سے خاموش کرسی پر بیٹھی ہوئی ساری کاروائی دیکھ رہی تھی ان میں سے ایک آدمی کو اپنے کمرے میں جاتا دیکھ کر کرسی سے اٹھ کر بولی

“اے کیا بول رہی ہے پھر سے بول ذرا”

ساجد سندیلا کے پاس آتا ہوا بدتمیزی سے بولا اس سے پہلے وہ مزید سندیلا کے قریب آتا معظم ساجد کے سامنے دیوار بن کر کھڑا ہو گیا

“تم گھر سے باہر جاؤ اور نظر رکھو ہر آنے جانے والے پر زاہد یہی میرے ساتھ موجود ہے”

معظم ساجد کو حکم دیتا ہوا بولا ساجد معظم کو دیکھ کر گھر سے باہر نکل گیا

“تم ان دونوں پر نظر رکھو، کوئی بھی ہوشیاری دکھانے کی ضرورت نہیں ہے سمجھ میں آیا”

معظم زاہد کو تنبہیہ کرتا ہوا بولا اور کمرے میں چلا گیا اب کی بار سندیلا خاموشی سے معظم کو اپنے کمرے میں جاتا دیکھنے لگی۔۔۔

معظم نے کمرے میں جاتے ہی یو ایس بی دیکھنے کے چکر میں دس منٹ میں پورا کمرا کھنگال لیا بالآخر اسے ایک دراز میں موجود یو ایس بی مل گئی۔۔۔ وہ پہلے خود اس یو ایس بی کو چیک کرنا چاہتا تھا مگر لانچ سے آتی ہوئی شور شرابے کی آواز پر اسے کمرے سے باہر جانا پڑا

“میں کہتی ہو چھوڑ دو اسے”

سندیلا غصے میں کہتی ہوئی روتی ہوئی فائقہ کو ساجد اور زاہد سے چھڑوا رہی تھی جو کہ فائقہ کو کھینچ کر دوسرے کمرے میں لے جا رہے تھے

“اے کیا کر رہے ہو تم دونوں،، فوراً اس لڑکی کو چھوڑ دو۔۔۔۔ خبردار جو تم دونوں میں سے کسی نے بھی اپنی اوقات دکھائی تو ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔۔۔ ہم یہاں پر جس مقصد کے لیے آئے تھے وہ کام مکمل ہوگیا ہے تو اب شرافت سے واپس چلو”

معظم ان دونوں کو دیکھ کر غصے میں زاہد اور ساجد کے قریب آتا ہوا بولا

فائقہ نے ان دونوں آدمیوں کی توجہ معظم کی طرف دیکھ کر راستے میں کھڑی سندیلا کو دھکا دے کر ہٹاتی ہوئی تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بھاگی اور اندر سے دروازہ بند کر لیا۔۔۔۔ سندیلا اس سے پہلے پاس کھڑے ساجد سے ٹکراتی معظم نے اس کا بازو پکڑ لیا

“لے نکل گیا شکار ہاتھ سے اِس کی وجہ سے، او بھائی اگر تیرا موڈ نہیں ہے تو جاکر گاڑی میں بیٹھ،، ہم دونوں دس منٹ میں آتے ہیں”

ساجد بگڑے ہوئے موڈ کے ساتھ معظم کو دیکھ کر بولا اس کی بات سن کر معظم کے ماتھے پر لاتعداد شکنیں آئی جبکہ معظم نے ابھی سندیلا کا بازو پکڑا ہوا تھا

“بکواس بند کرو اپنی، یہاں آنے سے پہلے تہہ ہوگیا تھا کہ کسی کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور تم دونوں جاکر شرافت سے گاڑی میں بیٹھو۔۔۔ نہیں تو میں تم دونوں کا یہی حشر کر دوں گا”

معظم ان دونوں کو دیکھ کر تنبیہ کرتا ہوا بولا۔۔ ان دونوں کی ہوس بھری نظریں اب معظم کے پاس کھڑی سندیلا پر تھی،، سندیلا کو ان دونوں کی نظروں سے گھن آنے لگی وہ تو فائقہ کی طرح یہاں سے بھاگنے کی پوزیشن میں بھی نہیں تھی اس لیے مزید معظم کے قریب ہو کر کھڑی ہو گئی

“گاڑی میں جاکر تم بیٹھو،، زاہد ذرا غور سے دیکھ یہ تو اس سے بھی زیادہ اچھا مال ہے،،، ماں بننے والی ہے تو کیا ہوا۔۔ آج باری باری اسی پر ہاتھ صاف کر لیتے ہیں”

ساجد بولتا ہوا سندیلا اور معظم کے قریب آیا،،

اس سے پہلے وہ سندیلا کی طرف ہاتھ بڑھاتا معظم نے زور دار مُکا اس کے منہ پر جڑا جس سے وہ دور جا گرا۔ ۔۔ معظم نے زاہد کو کوئی بھی حرکت کرنے کا موقع نہیں دیا بلکہ اپنے پاؤں سے زوردار لات اس کے ہاتھ پر ماری اس کی پسٹل فریج کے نیچے جا گری۔ ۔۔ ساتھ ہی وہ زاہد کی گھونسوں سے توازا کرنے لگا۔۔۔ ساجد نے اگے بڑھ کر سندیلا کے قریب آنے کی کوشش کی مگر اس سے پہلے ہی معظم نے ساجد کا گریبان پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا اور ساجد کو بری طرح پیٹنا شروع کردیا

ساجد کو پٹتا دیکھ کر، زاہد فریج کی طرف بڑھا اس سے پہلے وہ جھک کر پسٹل نکالتا معظم نے لاغر ہوئے ساجد کے وجود کو زاہد کے اوپر دھکا دیا۔۔۔ اپنے پاس موجود چھپی ہوئی پسٹل سے معظم نے ان دونوں کے پاؤں کے پاس فرش پر فائر کیا۔۔۔ جس سے وہ دونوں گھر سے باہر بھاگ گئے۔۔۔ فائر کی آواز پر سندیلا جیسے ہوش کی دنیا میں آئی اور ایک دم سے اس نے رونا شروع کردیا جبکہ فائقہ اپنے کمرے میں موجودہ کھڑکی سے ذرا سا پردہ ہٹا کر سارا منظر دیکھ رہی تھی

“استانی جی کیا ہوا آپ کو یہاں دیکھیں میری طرف،، وہ دونوں بھاگ گئے ہیں اب یہاں واپس نہیں آئیں گے میں آپ کو کچھ نہیں ہونے دوں گا آپ بے فکر ہو جائے”

معظم اپنی پسٹل واپس چھپاتا ہوا روتی ہوئی سندیلا کے پاس آ کر بولا۔۔۔

وہ اتنی ڈری ہوئی تھی کہ بنا سوچے سمجھے اس نے معظم کی شرٹ پکڑ کر اس کے کندھے پر سر رکھ کر رونا شروع کر دیا

وہ فائقہ کی عزت بچا رہی تھی ان دونوں غنڈو سے اور فائقہ اسے ہی دھکا دے کر اسے غنڈوں کے بیچ چھوڑ کر بھاگ گئی۔۔۔ وہ کیا تھی،، اس کی حیثیت کیا تھی اس گھر میں۔۔ ان دونوں غنڈوں کی باتیں سوچ سوچ کر اسے جھرجھری چھڑ رہی تھی۔۔ اس وقت اس کا دماغ بالکل کام نہیں کر رہا تھا بس وہ روئے جا رہی تھی

“دیکھیں آپ کا یوں رونا مجھے پریشان کر رہا ہے۔۔۔ مجھے دیکھ کر بتائیں آپ کی طبیعت ٹھیک ہے ناں”

جس طرح وہ معظم کے کندھے سے سر ٹکا کر رو رہی تھی معظم اس کے لئے فکر مند ہو کر سندیلا سے پوچھنے لگا ساتھ ہی اس نے سندیلا کو دونوں بازوؤں کو پکڑ کر اس کا سر اپنے کندھے سے ہٹا یا

“اپنے کمرے میں جانا ہے مجھے”

بے تحاشا رونے کی وجہ سے اس کی آنکھیں اور ناک سرخ ہو چکی تھی گالوں پر آنسوؤں کی نمی دیکھ کر معظم بنا کچھ بولے سندیلا کا بازو پکڑ کر سہارا دیتے ہوئے، سندیلا کو اس کے کمرے میں لے گیا یہ سارا منظر اپنے بیڈ روم کی کھڑکی چھپ کر حیرت سے منہ کھولے فائقہ دیکھ رہی تھی

“یہاں پر بیٹھیں آپ”

معظم بیڈ پر تکیہ سیٹ کر کے سندیلا کو بیڈ پر بٹھانے لگا تاکہ وہ تکیہ کے سہارے سے آرام سے بیٹھ جائے اب وہ ٹیبل پر موجود جگ سے سندیلا کے لئے گلاس میں پانی نکال رہا تھا۔،۔۔ جبکہ اسے خود بھی اب گھر سے نکلنا چاہیے تھا مگر معظم کا دل نہیں مانا کہ وہ اس پریشان سی روتی ہوئی لڑکی کو یوں چھوڑ کر بھاگ جائے۔۔۔ معظم کے ہاتھ سے پانی کا گلاس لیتے ہوئے سندیلا اسے دیکھنے لگی،، اتنی مہربانیوں کی عادت اسے کہاں تھی اور وہ خود کیا تھا ایک غنڈا،، وہ اسی کے ساتھی تھے جو اس کے ساتھ کچھ بہت زیادہ غلط کرنے کی نیت رکھتے تھے مگر پھر بھی سندیلا کو اپنے سامنے کھڑے شخص سے ڈر نہیں لگ رہا تھا۔۔۔ لیکن ساتھ ہی وہ اپنے عمل پر شرمندہ بھی تھی وہ کیسے ایک نامحرم کے یوں کندھے پر سر رکھ کر رو سکتی ہے۔ ۔۔۔ شاید اس لیے کہ وہ نامحرم اسے اپنا ہمدرد لگا تھا،، سندیلا پانی پیتے ہوئے خود کو جواز پیش کر کے مطمئن کرنے لگی

وہاں کھڑے معظم کی نظریں احتشام اور سندیلا کی تصویر پر ٹکی ہوئی تھی جوکہ بیڈ کے سائیڈ پر رکھی ہوئی تھی اسے احتشام کی قسمت پر رشک آنے لگا

“اب مجھے نکلنا ہوگا آپ آرام کریں”

معظم اسے بولتا ہوا گھر سے نکل گیا جبکہ سندیلا اپنے بے ترتیب کمرے کو دیکھنے لگی

****

نیند سے بوجھل آنکھوں سے اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھی الارم پیس پر نظر ڈالی گھڑی رات کے تین بجا رہی تھی زینش اٹھ کر کچن میں چلی آئی پانی پی کر اپنی پیاس بجھانے کے بعد، وہ گلاس میں مزید پانی بھر کر اپنے کمرے میں جا رہی تھی تب اسے بلال کے کمرے کے دروازے کے نیچے سے آتی روشنی،، جو بلال کے جاگنے کا پتہ دے رہی تھی ایک پل زینش کے دل میں آیا کہ وہ بلال کے کمرے میں چلی جائے مگر رات کے اس پہر اسے بلال کے کمرے میں جانا مناسب نہیں لگا ۔۔۔ زینش اپنے کمرے کی طرف جانے لگی تو اسے بلال کی طبیعت کا خیال آیا تب اس کے قدم خود بخود بلال کے کمرے کی طرف اٹھ گئے

“بلال کیا ہوا آپ کو”

وہ بیڈ پر لیٹا ہوا کراہ رہا تھا پسینے سے اس کا پورا چہرہ بھیگا ہوا تھا۔۔ زینش پریشان ہوکر پانی کا گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھتی ہوی بے ساختہ اس کے پاس بیڈ پر بیٹھ گئی

“تم میرے لیے پریشان ہو رہی ہو”

زینش کے چہرے پر پریشانی کے تاثرات واضح تھے جسے دیکھ کر بلال اس سے پوچھنے لگا

“پریشان ہونے کی تو بات ہے بلال،، آپ کی طبیعت بالکل ٹھیک نہیں لگ رہی ہے۔۔۔ رکیں میں حسان بھائی کو بلا کر لاتی ہوں”

زینش مزید پریشان ہو کر بیڈ سے اٹھنے لگی تک بلال نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکا

“کسی کو بھی ڈسٹرب کرنے کی ضرورت نہیں ہے طبیعت تھوڑی دیر بعد خود ہی ٹھیک ہو جائے گی”

وہ زینش کا ہاتھ پکڑ کر اپنی آنکھیں بند کرتا ہوا بولا

“ایسے کیسے ٹھیک ہو جائے گی بلال پلیز ضد مت کریں”

بلال بیڈ پر زینش کا ہاتھ پکڑ کر لیٹا ہوا تھا۔۔۔ زینش کے ہاتھ چھڑوانے پر اس کی گرفت میں سختی در آئی۔۔۔ وہ زینش کا ہاتھ چھوڑنے کے لئے تیار نہیں تھا۔۔۔ بلال کو اس طرح دیکھ کر زینش واقعی پریشان ہوگئی

“تم اپنی بات کرو تم تو ڈسٹرب نہیں ہو رہی ہو”

بخار کی شدت سے سرخ ہوتی آنکھیں کھول کر بلال زینش کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا جبکہ اس نے زینش کا ہاتھ ابھی بھی پکڑا ہوا تھا

“آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں میں بالکل بھی ڈسٹرب نہیں ہو رہی ہوں مگر مجھے فکر ہو رہی ہے آپ کی”

یہ حقیقت بھی تھی وہ واقعی اس حالت میں بلال کو دیکھ کر اس کے لیے فکرمند ہو رہی تھی زینش کی بات سن کر ایک لمحے کے لئے بلال کے ہونٹوں پر مسکان در آئی

“اور مجھے تمہارا یوں اپنے لیے فکر مند ہونا بہت اچھا لگ رہا ہے۔۔۔ سال دو سال بعد مجھے ایسے ہی بخار چڑھتا ہے،، یہ صبح تک ٹھیک ہو جائے گا میں میڈیسن لے چکا ہوں،، تم پریشان مت ہو بس اسی طرح میرے پاس بیٹھی رہو۔۔۔ جب میری آنکھ لگ جائے تب چلی جانا۔۔۔ کیا تم تھوڑی دیر کے لئے اس وقت میرے پاس بیٹھ سکتی ہو”

بلال زینش کا ہاتھ تھامے بہت امید سے اس سے پوچھ رہا تھا۔۔۔ گھڑی میں ٹائم دیکھنے کے باوجود نہ چاہتے ہوئے بھی زینش کا سر اقرار میں ہلا جس پر بلال نے سکون سے اپنی آنکھیں بند کر لی۔۔۔ مگر اس نے ابھی بھی زینش کا ہاتھ نہیں چھوڑا تھا

“کچھ چاہیے بلال آپ کو”

چند منٹ یونہی گزرنے کے بعد جب وہ بےچین ہوا تو زینش اس سے پوچھنے لگی

“پانی”

خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتا ہوا وہ زینش سے بولا زینش کی نظر سائیڈ ٹیبل پر رکھے پانی کے گلاس پر پڑی

مگر اس سے پہلے اسے بلال کو سہارا دے کر اٹھانا تھا جو کہ کافی مشکل کام تھا کیونکہ بلال نے اس کا ایک ہاتھ پکڑا ہوا تھا جو آج شاید وہ کسی صورت پر چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تھا۔۔۔ اسے اٹھانے کے لیے زینش کو مزید اس کے قریب آنا پڑا

“تھوڑا سا اٹھنے کی کوشش کریں”

زینش اپنا دوسرا بازو بلال کے گرد شولڈر پر رکھ کر اسے اٹھنے میں مدد دینے لگی جس کے نتیجے میں وہ بلال پر جھگ گئی اور اس کا دوپٹہ اتر کر بلال کے سینے پر جا گرا،، جس کا احساس اسے بلال کی نظروں نے دلایا

زینش شرمندہ ہو کر پیچھے ہٹی اور ایک ہاتھ سے اپنا دوپٹہ ٹھیک کرنے لگی تب بلال نے زینش کا ہاتھ چھوڑا اور خود اٹھ کر بیڈ کے کراؤن میں ٹیک لگا کر بیٹھ گیا

آنکھیں اس کی ابھی بھی بند تھی،، پیاسے ہونٹوں سے پانی کا گلاس ٹکرایا تو بلال نے آنکھیں کھول کر دیکھا زینش اپنے ہاتھ میں گلاس تھامے اسے پانی پلانے کی کوشش میں پریشان تھی۔۔ وہ زینش کے ہاتھوں سے پانی پینے لگا پھر دوبارہ لیٹ کر بلال نے اپنی آنکھیں بند کر لی۔۔۔ زینش ٹشو پیپر کی مدد سے اس کے ماتھے پر آیا ہوا پسینہ صاف کرنے لگی جس پر بلال ایک بار پھر آنکھیں کھول کر اسے دیکھنے لگا۔۔۔ نہ ایسی کرم نوازیاں اس پر کوئی کرتا تھا نہ ہی اسے ایسی کرم نوازیوں کی عادت تھی۔۔۔ اپنے ماتھے پر رکھا ہوا زینش کا ہاتھ وہ ایک بار پھر تھام چکا تھا

بیٹھے بیٹھے جب زینش کو اونگھ آنے لگی جس کے باعث وہ گرتے گرتے ایک دم سنبھلی تب اس نے بلال کو دیکھا وہ سو رہا تھا۔۔۔ زینش کا ہاتھ بھی اس کے ہاتھ میں نہیں تھا۔۔۔ زینش آئستہ سے بیڈ سے اٹھنے لگی

“زینش نہیں پلیز ایسے مت کرنا میرے ساتھ”

زینش نے حیرت سے بلال کو دیکھا اس کی آنکھیں بند تھی مگر نیند میں بھی وہ زینش کا دور جانا محسوس کر سکتا تھا۔۔۔۔ بلال آنکھیں کھولے بنا بولا اور بے چینی سے تکیے پر موجود سر نفی میں ہلانے لگا تھا تب زینش بیڈ پر واپس بیٹھ کر بلال کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔۔۔ جسے بلال نے جلدی سے پکڑ لیا۔۔ بلال کی آنکھیں ابھی بند تھی زینش حیرت سے بلال کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ اس کو شک گزرا کہ جیسے وہ جاگ رہا ہوں مگر زینش نے دو سے تین بار بلال کا نام پکارا جس کا بلال نے کوئی جواب نہیں دیا

وہ دن بدن زینش سے اٹیچ ہو رہا تھا اور یہ بہت غلط تھا۔۔۔ محض ایک شرط جیتنے کی خاطر وہ بلال سے اس قدر فرینک ہوئی تھی۔۔۔ یونیورسٹی کینٹین میں بیٹھ کر خوشی کے ساتھ بلال کو ڈسکس کرنا جیسے اس کا اور خوشی کا مشغلہ بن گیا تھا۔۔۔ وہ فخر سے خوشی کو بتاتی کہ وہ بلال کے ساتھ ڈیلی واک پر جاتی ہے جس پر خوشی حیرت کا اظہار کرتی پھر خوشی کے کہنے پر اس نے اپنے ہاتھ کا بنایا ہوا چوکلیٹ کیک بلال کو کھلایا تھا جو کھانے اسے بچپن سے سخت ناپسند تھے وہ بلال زینش کا دل رکھنے کے لئے کھا لیتا۔۔۔ ان باتوں کو یونیورسٹی میں ڈسکس کر کے وہ دونوں انجوائے کرتیں یہ جانے بغیر کہ یہ مذاق میں لگائی ہوئی شرط آگے جاکے کیا رنگ لائے گی

****