Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel NovelR50401

Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel NovelR50401 Woh Howe Meharban (Episode 18)

444.1K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Woh Howe Meharban (Episode 18)

Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel

“ایک منٹ قاری صاحب، معظم ذرا یہاں آ کر بات سننا”

اس وقت احتشام نکاح خواں اور گواہوں کے ساتھ معظم کے گھر پر موجود تھا۔۔۔ نکاح شروع ہونے سے قبل احتشام معظم کو بلا کر وہاں موجود افراد سے الگ ایک کونے میں لے گیا

“پہلے یہاں پر ان پیپرز پر سائن کر دو”

معظم کے آنے پر احتشام اس کے سامنے پیپرز رکھ کر معظم سے بولا

“کیا ہے ان کے پیپرز میں”

معظم نے پیپرز کی طرف ہاتھ بڑھائے بغیر سرسری نگاہ ڈال کر احتشام سے پوچھا

“ایگریمنٹ کے پیپرز ہیں مطلب جس مقصد کے تحت یہ نکاح عمل میں لایا گیا ہے،، اس کام کے عمل میں آنے کے بعد تم سندیلا کو خود طلاق دو گے”

معظم کی پوچھنے پر احتشام اسے بتانے لگا

“اور اگر میں ان پیپرز پر سائن نہیں کرو تو”

معظم آرام سے احتشام سے پوچھنے لگا تو ایک سیکنڈ کے لئے احتشام خاموشی سے اسے دیکھنے لگا اس کی سمجھ میں نہیں آیا وہ کیا بولے

“تمہارے اس انکار سے میں تمہاری بات کا کیا مطلب سمجھو”

احتشام معظم کو دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا لیکن احتشام کو پچھلی دو ملاقاتوں کی بانسبت آج معظم کے انداز بدلے ہوئے سے لگ رہے تھے

“سیدھی سی بات ہے ہم دونوں کے درمیان ان کانٹریکٹ پیپرز کا کوئی ذکر نہیں ہوا تھا تو اب تمہیں کون سے خدشات لاحق ہوگئے ہیں جس کے بنا پر تم مجھ سے ان پیپرز پر سائن کروا رہے ہو۔۔۔ اگر تمہیں میرا اعتبار نہیں ہے تو تم یہ نکاح کسی اور سے بھی پڑھوا سکتے ہو”

معظم کندھے اچکا کر احتشام کو بولا جس پر احتشام دانت پیستا رہ گیا

چند سیکنڈ پہلے دوسرے کمرے میں موجود سندیلا نکاح نامے پر سائن کر چکی تھی اب معظم سے وہ سے ان پیپرز پر زبردستی سائن کروا کر یا بحث میں پڑ کر بات نہیں خراب کر سکتا تھا اس لئے خاموشی سے واپس ڈرائنگ روم میں آکر کرسی پر بیٹھ گیا۔۔۔ جہاں پر نکاح خواں اور گواہ موجود تھے معظم کے وہاں آنے پر نکاح خواں پڑھانے کا آغاز کیا

*****

دو گھنٹے گزر چکے تھے اسے نکاح نامے پر سائن کیے ہوئے۔ ۔۔ ایک رات کے لیے کسی دوسرے کو اپنا شوہر بنا کر اسے اپنے قریب آنے کی اجازت دینا اسے دنیا کا سب سے مشکل کام لگ رہا تھا۔۔۔ حلالہ کروانا طلاق دینے والے مرد کے لیے سزا ہے۔ ۔۔ایسا اس نے سنا تھا لیکن اس عمل سے عورت کس کرب سے گزرتی ہے اس کا اندازہ نہ اس کا پہلا شوہر لگا سکتا ہے نہ ہی سابقہ شوہر۔۔۔ اس دن کا تصور تو کوئی لڑکی نہیں کر سکتی ہوگی جو دن آج اس کی زندگی میں آیا تھا

آج شام کے وقت احتشام کی کال اس کے پاس آئی تھی احتشام نے اسے ہوٹل سے آٹھ بجے پک کرنا تھا اس نے اپنا ایک ڈریس اور بچی کی چند ضروری چیزیں ایک بیگ میں رکھ لیں۔ ۔۔ آٹھ بجے جب احتشام نے اسے پک کیا۔۔۔ ڈرائیونگ کے دوران آج سندیلا کی طرح احتشام بھی بالکل خاموش تھا،، گاڑی ایک لور کلاس محلے کے آکر رکی سندیلا اپنی بیٹی کو سینے سے لگائے اس جگہ کو دیکھنے لگی

“صرف ایک ہی دن کی بات ہے”

سندیلا کے یوں دیکھنے پر احتشام نے اسے ہمت دلائی وہ الگ بات تھی احتشام نے “رات” کی بجائے “دن” کا لفظ استعمال کیا تھا

سندیلا سر پر دوپٹہ اوڑھے اپنا چہرہ چھپائے احتشام کے پیچھے تنگ گلیوں میں چلنے لگی۔۔۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھنے کی زحمت نہیں کی تھی کہ احتشام کے دروازے بجانے پر اس گھر کا دروازہ کس نے کھولا۔۔۔ اسے بچی اور اس کے بیگ سمیت ایک کمرے میں پہنچا دیا گیا جو کہ ایک بیڈ روم تھا۔۔۔ تھوڑی دیر بعد جب کمرے کا دروازہ بجا تو سندیلا نے اپنے دوپٹے کا گھونگھٹ نکال لیا،، تب اس کا معظم نامی شخص سے نکاح پڑھوایا گیا

تھوڑی دیر پہلے اس نے اپنی بیٹی کو سُلا کر کمرے میں موجود دائیں طرف رکھے بےبی کاٹ میں لٹا دیا تھا۔۔ اس کمرے میں موجود سب چیزیں استعمال شدہ لگ رہی تھی سوائے اس بے بی کاٹ کے،، جو کہ اسے بالکل نیا لگ رہا تھا سندیلا بیڈ پر بیٹھی ہوئی سوچ رہی تھی تبھی کمرے کا دروازہ کھلا،، کمرے میں داخل ہونے والی شخصیت کو دیکھ کر سندیلا حیرت کے مارے بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی

“کیسے مزاج ہیں آپ کے آستانی جی”

معظم سب کو فارغ کرتا ہوا کمرے میں داخل ہوا حیرت ذدہ سی کھڑی سندیلا کو دیکھ کر بولتا ہوا،، وہ کمرے کا دروازہ بند کر کے چلتا ہوا اس کے قریب آیا

“تم”

سندیلا اپنے سامنے کھڑے اس موالی کو دیکھ کر اتنی زیادہ شاک تھی کہ اور کچھ اس سے بولا ہی نہیں گیا

“جی میں آپ کا شوہر معظم شفیق۔۔۔۔ جس نے دو گھنٹے پہلے ہی آپ کا شوہر بننے کا شرف حاصل کیا ہے”

معظم اس کے چہرے پر اڑتی ہوئی ہوائیوں کو دیکھ کر بولا اور ساتھ ہی سندیلا کو ہوش میں لانے کے لئے اس کا ہاتھ تھاما۔،۔۔ سندیلا اب حیرت سے معظم کے بعد اپنے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی جوکہ اس غنڈے کے ہاتھ میں تھا اور وہ اس کا شوہر بن چکا تھا

“کیا ہوا استانی جی لگتا ہے آپ اپنے شوہر کو دیکھ کر کچھ زیادہ ہی حیران ہو رہی ہیں،، اور اگر میں غلط نہیں ہوں تو تھوڑا بہت پریشان بھی ہو رہی ہیں”

معظم نے دیکھا جب سندیلا نے اس کے ہاتھ پکڑنے کا کوئی نوٹس نہیں لیا،، بس خاموشی سے اس کے ہاتھ کو دیکھ رہی ہے تو معظم غور سے سندیلا کا چہرہ دیکھتا ہوا بولا

“تمہیں اپنے شوہر کے روپ میں دیکھ کر سوچ رہی ہوں اب مجھے حیران ہونا یا پریشان ہونا چھوڑ دینا چاہیے”

سندیلا نے آرام سے معظم کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالا اور بیڈ پر بیٹھتی ہوئی بولی۔۔۔ اب وہ دوبارہ خاموشی سے معظم کو دیکھ کر سوچنے لگی کہ احتشام اسے اپنا دوست کہہ رہا تھا تو کیا یہ بات احتشام کے علم میں تھی کہ وہ یو ایس بی اس رات اس کا یہی دوست لے کر گیا تھا

“غلط سوچ رہی ہیں آپ استانی جی مجھے شوہر کے روپ میں دیکھ کر سمجھ جائیں اب آپ کی زندگی میں حیرانگیوں کا آغاز شروع ہوا جاتا ہے ہاں یہ میں آپ سے وعدہ ضرور کرتا ہوں کہ آپ کو پریشان بالکل نہیں ہونے دوں گا”

معظم آنکھیں سکھیڑ کر بیڈ پر بیٹھی ہوئی سندیلا کو دیکھ کر بولا ساتھ ہی اس کے لب مسکرائے

“کیا مطلب ہے تمہاری بات کا، میں کچھ سمجھی نہیں”

سندیلا واقعی اس کی بات کا مطلب اخذ نہیں کر پائی تھی اس لئے معظم سے پوچھنے لگی

“اتنی جلدی کیا ہے، مطلب سمجھانے کے لیے تو ابھی پوری رات پڑی ہے”

معظم سیریس ہوکر سندیلا سے بولا اس کی نظر بےبی کوٹ میں موجود سوئی ہوئی سندیلا کی بیٹی پر پڑی تو اس نے اپنے قدم بےبی کوٹ کی طرف بڑھائے

“اففف یہ ننھی سی گڑیا تو کوئی پری لگ رہی ہے۔۔۔ کیا نام رکھا ہے آپ نے اس پرنسز کا”

معظم نے آگے بڑھ کر بےبی کاٹ سے سوتی ہوئی بچی کو گود میں اٹھایا۔۔۔ وہ بھرپور دلچسپی اپنی نظروں میں میں سمائے اس کی سوتی ہوئی بیٹی کو دیکھ کر سندیلا سے اس کا نام پوچھنے لگا۔۔۔ سندیلا کی نظریں اپنی بیٹی سے اس شخص کے چہرے پر گئی، یہ پہلا انسان تھا جو اس کی بیٹی کا نام جاننے میں دلچسپی رکھتا تھا۔۔۔ اس ننھے سے وجود کا نام جاننے کی زحمت تو اس کے سگے باپ نے بھی نہیں کی تھی

“ابھی تک بے نام ہے میری بیٹی، اس کی ذات میں دلچسپی لینے والا کوئی شخص نہیں جسے اس کا نام جاننے کا شوق ہو اس لیے میں نے اس کا کوئی نام نہیں رکھا”

سندیلا کے لہجے میں اداسی گُھلی ہوئی تھی معظم اس کی بیٹی کو گود میں اٹھائے اب سندیلا کو دیکھنے لگا

“پھر آپ کیا کہہ کر پکارتی ہیں اس گڑیا کو”

معظم سندیلا کے لہجے میں اداسی محسوس کرتا ہوا بات بنا کر اس سے پوچھنے لگا

“چپ کر جا بدنصیب نہیں تو برابر والے کمرے میں تیری مامی جاگ جائے گی”

بے خیالی میں سندیلا کے منہ سے جملے ادا ہوئی جسے سن کر معظم کے ماتھے پر شکنیں پڑی

“پڑھی لکھی ہونے کے باوجود ایسی زبان استعمال کرتی ہیں آپ،، وہ بھی اس معصوم کے لیے شرم آنی چاہیے آپ کو اپنی بیٹی کو بدنصیب بولتے ہوئے”

معظم کو سندیلا کی بات اتنی بری لگی کہ وہ سندیلا کو جھڑکتا ہوا بولا

“اسے واپس لٹا دو ورنہ یہ جاگ جائے گی”

سندیلا اس کی بات کو نظرانداز کرتی ہوئی بولی مگر حقیقت یہ تھی کہ وہ بہت زیادہ سخت دل اور تلخ ہو چکی تھی

“جاگتی ہے تو جاگنے دیں، کون سا ہم دونوں کو ساری رات لوڈو کھلینا ہے جو ٹینشن ہو رہی ہے آپ کو”

معظم کے لاپروائی سے بولنے پر سندیلا پوری آنکھیں کھول کر اسے دیکھنے لگی۔۔۔ معظم اس کی بیٹی کو گود میں لیے سندیلا کے پاس آ کر اس کے برابر میں بیڈ پر بیٹھ گیا

“اس طرح مت گھوریں مجھے آستانی جی اور یہ بات اچھی طرح اپنے دماغ میں بٹھا لیں آج کے بعد آئندہ اگر آپ نے پری کو الٹے سیدھے ناموں سے پکارا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا”

وہ سندیلا کے قریب بیٹھ کر سنجیدگی سے نہ صرف اس کو وارن کر چکا تھا بلکہ اس کی بیٹی کا نام بھی خود ہی تجویز کر چکا تھا

“اچھا کیا کرو گے پھر تم”

سندیلا جان بوجھ کر اس سے بحث میں لگ گئی۔۔۔ وہ ایک رات کی مہمان تھی اس کے گھر میں پھر نہ جانے وہ کیسے اسے یہ بات اتنے حق سے بول رہا تھا

“یہ تو آپ اسی وقت دیکھ لئے گا جب آپ نے غلطی سے بھی کوئی غلطی کرنے کی کوشش کی،، پھر آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ آپ کا یہ موالی شوہر کیا کر سکتا ہے”

معظم ابھی بھی اس کو سنجیدگی سے دیکھتا ہوا سمجھانے لگا مگر اس کے لہجے میں نرمی کے ساتھ احترام بھی شامل تھا

“شاید تم بھول رہے ہو ایک رات کا تعلق ہے میرا اور تمہارا”

معظم کے اتنے استحقاق سے شوہر لفظ استعمال کرنے پر سندیلا اس کو جتاتی ہوئی بولی

“اچھا،، یہ بھی دیکھ لیتے ہیں”

معظم کے اتنے آرام سے بولنے پر سندیلا بھنویں سکھیڑ کر اسے دیکھنے لگی

اس سے پہلے وہ کچھ بولتی کمرے کا دروازہ بجا معظم سمجھ چکا تھا کہ یہ کوئی دوسرا نہیں پپو ہے جو کہ فردِ واحد اس کے گھر میں بچا تھا۔۔ معظم نے اس کو کچن میں برتن دھونے کے کام پر لگایا تھا،، معظم اٹھ کر کمرے کا دروازہ کھولنے لگا

“میں نے سوچا بھابھی جی کو سلام کر لوں پھر گھر چلا جاؤ گا۔۔۔ ارے ارے پہلے اس چھوٹی سی گریا سے تو مل لو، لائیے بھیا جی اس کو مجھے دے دیں”

پپو کی آمد پر سندیلا پھر ایک بار پریشان ہوکر بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہو چکی تھی۔ ۔۔۔ اب اس کی بیٹی پپو کی گود میں تھی۔۔ معظم سندیلا کو پریشان دیکھ کر اس کے پاس آیا اور ذرا سا جھک کر آئستہ سے بولا

“یہ ہمیں پکائے بغیر بالکل اکیلا نہیں چھوڑے گا استانی جی،، دس منٹ اس کو برداشت کرلیں پھر میں خود اسے یہاں سے دفع کر دوں گا”

معظم کے سرگوشی کرنے پر سندیلا کنفیوز ہو کر معظم کو دیکھنے لگی

“السلام علیکم بھابھی جی کیسی ہیں آپ”

پپو مہذب انداز میں سندیلا سے بولتا ہوا اس کی طرف متوجہ ہوا تو معظم پپو کی گود سے دوبارہ پری کو اپنی گود میں لے چکا تھا جوکہ اب جاگ چکی تھی۔۔

مگر اس سے پہلے وہ اپنی ماں کی جگہ ایک اجنبی چہرہ دیکھ کر روتی۔۔۔ معظم منہ سے سٹی بجاتا ہوا اسے گود میں لیے ٹہلنے لگا۔۔۔ جتنی دیر پپو نے اپنے لمبے چوڑے تعارف کے بعد سندیلا سے یہ پوچھا کہ اس کو کون کون سے اچھے کھانے بنانے آتے ہیں،، اتنی دیر معظم پری کو گود میں اٹھائے ٹہلتا رہا اور وقفے وقفے سے حیران سی پری کو اسمائل دے کر بہلا رہا تھا

سندیلا پپو کی باتوں کا جواب دے رہی تھی مگر اس کا دھیان مکمل طور پر اپنی بیٹی پر تھا کیونکہ تھوڑی دیر میں اس کی بھوک کا ٹائم ہونے والا تھا،، سندیلا کارنر ٹیبل پر رکھے دودھ کے ڈبے اور فیڈر کو دیکھنے لگی ۔۔۔ معظم سندیلا کی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے کارنر ٹیبل کے پاس آیا اس پر موجود دودھ کے ڈبے پر لکھی ہوئی ہدایت کو غور سے پڑھنے لگا۔۔۔ ایک بار پھر پری کے چہرے کے تاثرات بگڑ کر رونے والے ہوئے تب سندیلا کے کچھ بولنے سے پہلے معظم فیڈر میں پری کے لئے دودھ تیار کرنے لگا

سندیلا نے چاہا تھا کہ وہ اٹھ کر پری کو معظم کی گود سے لے لے مگر پپو شاید لمبی باتیں کرنے کے موڈ میں تھا،، سندیلا نے دیکھا معظم ریلکس انداز میں پری کے منہ سے فیڈر لگائے کرسی پر بیٹھا تھا اور پری سکون سے اس کی گود میں لیٹی اپنا پیٹ بھر رہی تھی

“پپو بیٹا اپنے گھر نہیں جانا تمہیں”

ُپری دودھ پی کر دوبارہ سو چکی تھی معظم احتیاط سے اسے بےبی کاٹ میں لٹاتا ہوا پپو کو دیکھ کر پوچھنے لگا

“ابھی تو گیارہ بجے ہیں بھیا جی اتنی جلدی کیا ہے”

ُپپو کی بات سن کر معظم نے اس دنیا کے فارغ انسان کو گھور کر دیکھا۔۔۔ سندیلا اس صورتحال سے پریشان ہو کر ان دونوں کو دیکھنے لگی

“میرے خیال میں پپو اب تمہیں مر جانا چاہیے”

معظم سنجیدگی سے پپو کو دیکھتا ہوا بولا،، معظم کی آنکھوں ہی آنکھوں میں ملنے والی دھمکی پر پپو کھسیا کر ہنستا ہوا کرسی سے اٹھا

“چلیں بھابھی جی اب میں مرتا ہوں، میرا مطلب ہے چلتا ہوں۔۔۔ صبح ناشتے پر ملاقات ہوگی آپ سے،، ویسے ناشتے میں آپ پراٹھے وراٹھے تو بنا لیتی ہیں نا”

پپو مسکراتا ہوا سندیلا سے پوچھنے لگا مگر سندیلا کے جواب دینے سے پہلے معظم پپو کا بازو پکڑ کر اسے اپنے کمرے سے باہر نکال کر دروازہ بند کر چکا تھا۔۔۔ سندیلا حیرت سے پپو نامی چیز کو سوچ رہی تھی جو کہ تھوڑی ہی دیر میں اس سے اس قدر بے تکلف ہو چکا تھا جیسے پیدا ہونے کے ساتھ ہی وہ اس کا دیور بن گیا ہوں۔۔ وہ اپنا سر جھٹکتی ہوئی بےبی کاٹ کی طرف بڑھتی ہوئی اپنی بیٹی کو اٹھانے لگی تبھی معظم نے سندیلا کا بازو پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا

“کیا کر رہی ہیں پری ابھی سوئی ہے جاگ جائے گی، اب تھوڑی دیر کے لئے بیٹی سے ہٹ کر اپنے شوہر پر بھی توجہ ڈال لیں”

معظم نے بولتے ہوئے سندیلا کو اپنے حصار میں لینا چاہا۔۔۔ لیکن وہ معظم کی اچانک اس حرکت پر کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹی اور دیوار سے اس کی پیٹھ پر جا لگی

سندیلا کے یوں ایک دم پیچھے ہٹنے پر معظم نے اپنی شرٹ کے کالر کی طرف منہ کر کے گہرا سانس لیا،، جہاں سے پرفیوم کی مہک اٹھ رہی تھی پھر بھی اسے اپنی استانی جی کے یوں پیچھے یٹنے کی وجہ سمجھ نہیں آئی

سندیلا تیز رفتار سے چلتی ہوئی سانسوں کے ساتھ معظم کو دیکھنے لگی اور ساتھ آنے والے وقت کے لیے اپنے آپ کو تیار کرنے لگی۔۔۔ معظم چلتا ہوا اس کے قریب آیا

“ایسے تو آج بالکل کام نہیں چلے گا استانی جی”

معظم اس کے مزید قریب آتا ہوا بولا،، اپنا ایک ہاتھ دیوار پر رکھ کر، دوسرا ہاتھ کی انگلیاں سے سندیلا کے گال کو چھوتا ہوا، وہ سندیلا کی تھوڑی پکڑ کر اس کا چہرہ چہرہ اونچا کرکے غور سے دیکھنے لگا

“ہمیشہ اسکول میں بچوں کی کلاس لیتی آئی ہیں آپ لیکن آج آپ کی خود کی کلاس لگنے والی ہے تیار ہوجائیں”

ابھی وہ معظم کی بات کا مطلب اخذ کرتی معظم اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ کر چکا تھا۔۔۔ سندیلا اپنی پوری جان سے لرز گئی اور ضبط کے مارے اپنی دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں سختی سے بند کرلی

جبکہ دوسری طرف مدہوشی ایسی تھی کہ سر چڑھ کر بولنے لگی، دیوار پر رکھا ہوا اپنا ہاتھ سوئچ بورڈ کی طرف لے جا کر وہ لائٹ بند کر چکا تھا۔۔۔ معظم نائٹ بلب کی مدھم روشنی میں ایک بار پھر اس کا چہرہ دیکھنے لگا،، وہ آنکھیں بند کیے اپنا سر دیوار سے ٹیک کر کھڑی اس کے ضبط کا امتحان لے رہی تھی۔۔۔ معظم نے سندیلا کا بازو پکڑ کر اسے بیڈ کی طرف لے جانا چاہا۔۔۔ تو سندیلا کے قدم جیسے وہی جم گئے تب معظم نے اسے اپنے بازوؤں میں اٹھایا

بیڈ پر لٹتے ہوئے اس کے احساسات عجیب سے ہونے لگے۔۔ اسے یہ بستر کسی جلتے ہوئے انگاروں کی مانند لگا۔۔۔ مگر شاید مقابل اس بات کو سمجھنے سے قاصر تھا جبھی وہ اپنی شرٹ اتار کر اس پر ایک بار پھر جھکتا ہوا اپنی اور اس کی سانسیں ایک کر چکا تھا

چند سیکنڈ گزرنے کے بعد سندیلا اپنے چہرے کا زاویہ تکیہ کی جانب کر کے اپنی سانسیں بحال کرنے لگی،، تب اسے معظم کے ہونٹوں کا لمس اپنے گال پر محسوس ہوا۔۔۔ ایک ہاتھ کی انگلیاں سندیلا کے بالوں میں پھنسائے، وہ اپنے ہونٹ سندیلا کے گالوں سے مس کرتا ہوا اپنے دوسرے ہاتھ سے وہ سندیلا کا دوپٹہ اتار کر بیڈ پر کر چکا تھا

“اپنے دل کو مضبوطی سے تھام لیجئے استانی جی،، یہ بند لاکر آج اس موالی کو بری طرح اپنی طرف کھینچ رہا ہے”

سندیلا کو اپنے کان میں معظم کی سرگوشی نما آواز سنائی تھی،، جس سے وہ اندر تک سہم گئی

معظم اس کے کان کی لو کو چومتا ہوا اب سندیلا کی گردن پر جھک گیا۔۔۔ ضبط کرنے کے باوجود سندیلا کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے،، معظم کی مدہوشی کا عالم تب ٹوٹا جب رونے کی وجہ سے سندیلا کا وجود سسکنے لگا۔۔۔ معظم اس کی گردن سے سر اٹھا کر مدھم روشنی میں سندیلا کا آنسوؤں سے تر چہرہ دیکھ کر فوراً اٹھ گیا

“کیا ہوا آپ کو، ایسے کیوں رو رہی ہیں”

معظم اٹھنے کے بعد سندیلا کو خود ہی بیڈ پر بٹھاتا ہوا پوچھنے لگا

معظم کے ایسا پوچھنے پر سندیلا کے رونے میں مزید روانی آگئی۔۔۔ وہ خاموشی سے اس کو روتا ہوا سسکتا ہوا دیکھنے لگا

“یہ جو ہم مردوں کی زات ہوتی ہے ناں، اس معاملے میں بہت ہی خود غرض اور مطلب پرست ہوتی ہے۔۔۔ بس عورت سے جائز رشتہ بنایا اور آگئے فوراً اپنے مطلب پر یہ سوچے بغیر کے اگلے کے دل کا کیا حال ہے، وہ بھی انسان ہے نہ جانے کیسا محسوس کر رہی ہوگی،، ایم سوری، مجھے پہلے آپ سے اجازت لینا چاہیے تھی”

معظم نرم لہجے میں بولتا ہوا۔۔۔ سندیلا کے آنسو صاف کرکے بیڈ پر رکھا اس کا دوپٹہ اٹھا کر اس کے کندھوں پر ڈالنے لگا

“نہیں، میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔ اب سب ٹھیک ہے۔۔۔ ویسے ہی آنسو نکل آئے تھے”

سندیلا نے واپس دوپٹہ اتار کر بیڈ پر رکھا اور اپنے لہجے کو مضبوط بناتی ہوئی بولی۔۔۔ معظم خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھنے لگا

“یہاں آرام سے لیٹیں”

وہ سندیلا کو کندھوں سے تھام کر بیڈ پر لٹانے کے بعد اپنی شرٹ اٹھا کر کمرے سے باہر نکل گیا

آدھے گھنٹہ گزرنے کے بعد سندیلا جب نارمل ہوئی تو بے خیالی میں معظم کا انتظار کرنے لگی،، جب معظم دوبارہ کمرے میں نہیں آیا تو سندیلا کمرے سے باہر نکل آئی وہاں ایک اور کمرہ موجود پر جس کو عبور کرنے کے بعد۔۔ وہ صحن میں تخت پر بیٹھا ہوا اسے نظر آیاا

سندیلا کی طرف اس کی پشت تھی، مگر سندیلا کو محسوس ہوا جیسے وہ اسموکنگ کر رہا تھا،، سندیلا واپس آ کر بیڈ پر لیٹ گئی۔۔۔ وہ جو بھی کر رہا تھا وہ سب تو طے شدہ تھا پھر اسے رونے کی کیا ضرورت تھی،، سندیلا خود سے بولتی ہوئی معظم کہ واپس آنے کا انتظار کرنے لگی، مگر انتظار کرتے کرتے اس کی آنکھ لگ گئی

****