Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel NovelR50401 Woh Howe Meharban (Episode 14)
Rate this Novel
Woh Howe Meharban (Episode 14)
Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel
سندیلا اپنی بیٹی کو فیڈ کروا کے سلانے کے بعد کچن کا رخ کرنے لگی تاکہ رات کے لئے اپنے کھانے کا انتظام کرلے۔،۔۔۔ چھٹی کے دن ہونے کی وجہ سے انیس صبح سے ہی اپنی بیوی اور بچوں کو لے کر باہر نکلا ہوا تھا
تھوڑی دیر پہلے نہ جانے کیا سوچ کر اس نے سندیلا کو کال کرکے بتایا تھا کہ وہ لوگ ڈنر باہر یہ کر کے آئیں گے اس نے سندیلا کو اپنے لئے کچھ بنا کر کھانے کی تاکید کی تھی
اسے انیس کے پاس رہتے ہوئے دو مہینے گزر چکے تھے لیکن اب اسے اپنی زندگی مشکل سے مشکل ترین لگتی تھی۔۔۔ وہ ہر نماز میں اللہ سے یہی دعا کرتی تھی کہ وردہ کو اس پر اور اس کی بچی پر ترس آجائے۔۔۔ وردہ نے اب اسے کوسنے اور طعنے دینے کا سلسلہ انیس کے سامنے بھی شروع کر دیا تھا لیکن سندیلا کو وردہ سے زیادہ حیرت اپنے بھائی انیس پر ہوتی تھی۔۔ جو کہ اب اس کے معاملے میں اندھا گونگا اور بہرہ بن چکا تھا
چند دنوں پہلے وردہ اور انیس آپس میں بات کر رہے تھے چونکہ موضوعِ گفتگو اس کی ذات تھی اس لیے سندیلا کے بھی کان کھڑے ہو گئے تھے۔ ۔۔ ان دونوں میاں بیوی کی گفتگو سے سندیلا اتنا ہی سمجھ پائی تھی کہ اس کے لیے شاید کسی نے رشتہ بتایا تھا لڑکے کی عمر 28 سے 29 کے لگ بھگ تھی جاب بھی مناسب تھی سب سے بڑی بات اس لڑکے کو سندیلا کی طلاق یافتہ ہونے سے یا پھر بچی سے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔۔۔ یہی وجہ تھی کہ وردہ بار بار انیس کو بسم اللہ کرنے کا مشورہ دے رہی تھی جبکہ انیس کچھ اور ہی سوچے بیٹھا تھا
اس کے بعد سندیلا نے اس رشتے کے متعلق گھر میں کوئی ذکر نہیں سنا نا جانے اس کا بھائی اس کے لیے کیا سوچے بیٹھا تھا۔۔ آگے اس کا کیا مستقبل تھا وہ خود نہیں جانتی تھی،، سندیلا نے اپنے آپ کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیا تھا۔۔۔
وہ کچن کا رخ کرنے ہی لگی تھی تب ڈور پر بیل بجی شاید باہر کوئی آیا تھا۔۔۔ سندیلا نے کچن کی بجائے مین ڈور کا رخ کیا
“آپ”
باہر کا دروازہ کھول کر اس کی نظر جس شخصیت پر پڑی سندیلا حیران رہ گئی
“کیوں آئے ہیں اب یہاں”
احتشام نے گھر کے اندر قدم رکھ کر گھر کا دروازہ بند کیا تو سندیلا حیران پریشان اسے دیکھ کر پوچھنے لگی
“تمہاری یاد آرہی تھی دیکھنے کا دل کر رہا تھا۔۔۔ اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر آیا ہوں تمہیں دیکھنے”
احتشام سندیلا کو دیکھ کر برقرار لہجے میں بولا ساتھ ہی اس نے سندیلا کی صرف اپنے قدم بڑھائے وہ جلدی سے پیچھے کو ہوئی
“اب کس حق سے یہ باتیں کر رہے ہیں آپ مجھ سے،،، مجھے یاد کرنے کا دیکھنے کا حق آپ کھو چکے ہیں اپنے دل کو سمجھائیں”
سندیلا دو ماہ بعد اسے اپنے سامنے دیکھ کر پریشان ہوگئی تھی مگر احتشام کی بات سن کر وہ اسے جتاتی ہوئی بولی
“بہت پچھتا رہا ہو سندیلا قسم کھا کر کہی رہا ہو، بہت زیادہ پچھتا رہا ہو۔۔۔ تمہارے جانے کے بعد تباہ و برباد ہو چکا ہو، میری زندگی تمہارے جانے سے اب زندگی نہیں لگتی پلیز سندیلا مجھے معاف کردو میں اپنے کیے پر بےحد نادم ہو”
احتشام سندیلا کو دیکھ کر ندامت بھرے لہجے میں بولا
بہت کوششیں کرنے کے باوجود وہ باسل کے لیے کچھ نہیں کر پایا۔ ۔۔ اس کے پاس سے منشات برآمد ہونے کی وجہ سے اس کے اوپر کافی مضبوط کیس بنا تھا۔ ۔۔ نزہت بیگم اب زیادہ تر بیمار رہتی انہیں اپنے بچوں کے اجڑنے کے غم نے اندر ہی اندر کھوکلا کر دیا تھا۔۔۔ فائقہ خلع لینے کے بعد اب مزید چڑچڑی ہوچکی تھی۔۔۔ وہ گھر کا کام کر کے اور کھانا بنا کر روز احتشام کو اتنی باتیں سناتی کہ احتشام کو اپنے سے چھوٹی بہن کو دیکھ کر خود بھی حیرت ہوتی۔۔۔ ان سب باتوں میں آگر احتشام کے ساتھ کچھ اچھا ہوا تھا تو وہ یہ کہ اسے پہلے سے کافی بہتر جاب ملی تھی۔ ۔۔ اس وجہ سے پہلی فرصت میں اس نے سندیلا سے ملنے کا سوچا
وہ اپنے حالات سے کافی زیادہ پریشان تھا اب ہر موڑ پر اسے سندیلا کی یاد آتی،، ساتھ ہی اپنی بیوقوفی پر اسے غصہ آتا جو اس نے سندیلا کو طلاق دے کر کی تھی۔۔۔ باسل کی طرف سے مایوسی کے بعد وہ جب جب نزہت بیگم کی بگڑتی ہوئی حالت دیکھتا اور فائقہ کو چیختے چلاتے دیکھتا تب تب اسے جذباتی سہارے کی ضرورت ہوتی وہ سندیلا کو یاد کرتا
“سب کچھ میرے جانے سے برباد نہیں ہوا ہے احتشام آپ نے خود اپنے ہاتھوں برباد کیا ہے ہمارے رشتے کو ختم کر کے۔۔۔۔ اب اس طرح پچھتاوے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ اب ہمارا رشتہ دوبارہ نہیں جڑ سکتا۔۔۔ نہ ہی آپ کی معافی سب کچھ دوبارہ ویسا کر سکتی ہے پلیز چلے جائیں یہاں سے”
سندیلا اس کی بات سن کر اور اپنے حالات دیکھ کر خود بھی دلبرداشتہ ہو رہی تھی احتشام نے خود اپنے ہاتھوں سے سب کچھ گنوا کر، اسے بھی خود کہیں کا نہیں چھوڑا تھا۔۔۔ اس گھر میں وردہ کے ساتھ اب اس کے دونوں بھتیجے اسے باتیں سنا رہے ہوتے اور وہ خاموشی سے ان کی باتیں سننے پر مجبور تھی
“احتشام کیوں کہہ رہی ہو،، تم تو مجھے پیار سے شام بولتی تھی ناں۔۔۔۔ سندیلا میں جانتا ہوں،، جذبات میں آکر میں بہت کچھ غلط کر چکا ہوں مگر تم پریشان مت ہو میں نے فیصلہ کر لیا ہے میں سب کچھ دوبارہ خود سے ہی ٹھیک کرلو گا۔۔ تمہیں دوبارہ اپنی زندگی میں شامل کروں گا تمہارے ساتھ کی گئی اپنی ہر زیادتی کا ازالہ کروں گا بس مجھے صرف تمہارے تعاون کی ضرورت ہے”
احتشام نے دوبارہ ایک بار اس کے قریب قدم بڑھائیں سندیلا دوبارہ پیچھے ہوئی
“شام کہنے کا حق آپ نے خود مجھ سے چھینا ہے، ہمارے کچھ غلط فیصلے اور جلد بازی میں کیے گئے اقدامات صرف اور صرف زندگی بھر کا پچھتاوا بن جاتے ہیں۔۔۔ چاہنے کے باوجود آپ مجھے اب اپنی زندگی میں شامل نہیں کر سکتے ہیں اب کچھ بھی نہیں ہو سکتا احتشام”
سندیلا احتشام کو دیکھ کر خود بھی نہ امیدی اور مایوسی سے بولی احتشام کے ساتھ گزرے ہوئے دو سالوں میں بے شک بہت ساری تلخ باتیں اور یادیں بھی شامل تھی مگر یہاں تو سندیلا کو اپنی زندگی بالکل ہی اندھیر لگنے لگی تھی۔۔ ایک بار پھر احتشام اس کے قریب آیا اور اب کء بار اس نے سندیلا کے دونوں بازو تھامے
“تم بہت زیادہ ناامید ہو رہی ہوں سندیلا ناممکن کچھ بھی نہیں ہوتا دنیا میں۔۔۔ کچھ کڑوے گھونٹ ہمیں نہ چاہتے ہوئے بھی پینے پڑتے ہیں تاکہ ہم اپنی آگے کی زندگی کو سہل کر سکے۔۔۔ میں نے بھی سوچ لیا ہے تمہیں دوبارہ حاصل کرنے کے لیے اور اپنی زندگی میں شامل کرنے کے لئے میں بھی وہ سب کچھ کر گزرو گا جس کا سوچتے ہوئے مجھے اذیت ہو رہی ہے۔۔ حلالہ ہی ایک ایسا راستہ ہے جو ہم دونوں کو دوبارہ ایک کر سکتا ہے”
احتشام کی بات سن کر سندیلا نے تکلیف کی شدت سے اس کا گریبان پکڑ لیا
“جانتے ہیں آپ کیا کہہ رہے ہیں مجھ سے احتشام۔۔۔ “حلالہ” کیا مطلب ہے جانتے ہیں آپ۔۔۔ ایک غیرت مند مرد حلالے جیسا قدم اٹھانے سے پہلے مر جانا پسند کرتا ہے۔۔ آپ اتنی بڑی بات بولنا تو دور کی بات سوچ بھی کیسے سکتے ہیں میرے لیے”
سندیلا روتی ہوئی ہے احتشام سے بولی
“بہت بڑا دل کیا ہے ایسا سوچتے ہوئے۔۔۔ یہ سب کرنا میرے لیے کسی اذیت سے ہرگز کم نہیں ہوگا مگر تمہیں حاصل کرنے کا بھی یہی واحد ذریعہ ہے”
احتشام کو اپنے طلاق دینے والے عمل پر نئے سرے سے پچھتاوا ہونے لگا
“مگر میں اپنا دل اتنا بڑا کیسے کرو احتشام۔۔۔ ایک رات کسی کو اپنا محرم بنا کر اس کے بستر پر جا لیٹو،، دوبارہ آپ کے پاس واپسی کے لیے۔۔۔ آپ کو کیا لگ رہا ہے یہ صرف آپ کے لئے تکلیف دہ سزا ہے۔۔۔ میں کس اذیت سے گزرو گی اس عمل سے،، اس کا احساس ہے آپ کو۔۔۔ چلے جائیں احتشام یہاں سے، آپ صرف اور صرف میری تکلیفوں میں اضافے کا باعث بنے ہیں۔۔۔ خدا کا واسطہ ہے آپ چلے جائیں یہاں سے”
رونے کی وجہ سے سندیلا کا چہرہ آنسوؤں سے تر ہو چکا تھا وہ احتشام کو جانے کے لیے کہنے لگی
“سندیلا میری بات سنو پلیز سمجھنے کی کوشش کرو صرف اسی طرح سے ہم دونوں۔۔۔
احتشام کے کچھ بولنے سے پہلے سندیلا اس کو دھکا دے کر خود اپنے کمرے کی طرف بھاگی اور اندر سے دروازہ بند کر لیا۔۔۔ احتشام تھکے ہوئے قدموں سے مایوس انیس کے گھر سے نکل گیا
*****
“جویریہ میرا یقین کرو تم نے زینش کو اپنے پاس رکھ کر صحیح معنوں میں دوستی کا حق ادا کیا ہے شاید میرے اپنے ایسا نہیں کر سکتے تھے جیسے تم نے میری بیٹی کو اپنے گھر میں اپنی بیٹی بنا کر رکھا۔۔۔ میں چاہ کر بھی تمہارے اس احسان کا بدلہ نہیں اتار سکتی”
شہنیلا کل ہی پاکستان آئی تھی یہاں اس کا قیام چند دنوں کے لیے تھا اور جویریہ کے بے حد اصرار کے باوجود وہ ہوٹل میں رکھی تھی لیکن اس وقت وہ جویریہ کے گھر پر موجود تھی جہاں پر زینش سمیت حسان اور بلال بھی موجود تھے۔۔۔ بلال شہنیلا کو صرف سلام کرنے کی غرض سے آیا تھا مگر حسان نے اسے اپنے پاس بٹھا لیا تھا
“تم اس احسان کا بدلہ بہت اچھے طریقے سے چکا سکتی ہوں شہنیلا۔۔۔ میں نے اپنی دوستی کا حق ادا کردیا ہے اب باری ہے تمہاری ہے۔،۔۔ تم زینش کو ہمیشہ کے لئے میرے حوالے کر دو میں اس کو اپنی بہو بنانا چاہتی ہوں”
جویریہ کی بات پر جہاں زینش اور بلال چونکے تھے وہی شہنیلا اور حسان باقاعدہ مسکرائے تھے
“اس سے بڑھ کر میرے لئے اور خوشی کی بات ہو سکتی ہے بھلا بلکہ یہ تو زینش کے لیے بھی خوش نصیبی کی بات ہوگی اگر اسے حسان جیسا ہمسفر ملے گا”
شہنیلا کی بات پر اب کی بار جہاں جویریہ اور حسان مسکرائے وہی زینش حیرت زدہ ہو کر شہنیلا کو دیکھ رہی تھی اور جبکہ بلال حسان کے چہرے پر چھلکتی خوشی کے بعد زخمی نظروں سے جویریہ کو مسکراتا ہوا دیکھ رہا تھا۔۔۔ آج ایک بار پھر اس کی اپنی سگی ماں کو اپنی سگی اولاد کی بجائے سوتیلی اولاد کا خیال آیا تھا آج پھر بلال کا دل بری طرح چھلنی ہوا تھا
“آہم آہم لیڈیز آپ دونوں اپنی اپنی باتوں میں لگ کر کسی سے اس کی رضامندی لینا بھول چکی ہیں”
حسان نے جویریہ اور شہنیلا کو مخاطب کرتے ہوئے زینش کی طرف اشارہ کیا تھا بلال سمیت اب سب اس کو دیکھنے لگے جو خاموشی سے سر جھگائے بیٹھی تھی
“بولو بیٹا زینش تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں ہے اس رشتے پر”
جویریہ کی آواز سن کر زینش نے سر اٹھا کر جویریہ کو دیکھا پھر اس کی نگاہ بے ساختہ اس وجود پر گئی جو شاید اپنی سانسیں تھام کر بیٹھا تھا اس کی آنکھوں سے چھلکتی ہوئی وحشت سے گھبرا کر زینش نے اپنے چہرے کا رخ دوسرے جانب کیا جہاں حسان مسکراتا ہوا منتظر نگاہوں سے اسی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ کافی دیر سے شہنیلا نے زینش کا ہاتھ تھاما ہوا تھا زینش کو اب اس پر دباؤ محسوس ہونے لگا تبھی وہ نظر جھکا کر بے ساختہ بولی
“جس میں آپ سب کی خوشی ہو”
بہت آہستگی سے زینش کے منہ سے جملے ادا ہوئی جس سے بلال کو لگا اس کی سانسیں رکنے لگی ہیں وحشت زدہ نظروں سے زینش کے جھکے ہوئے سر کو دیکھنے لگا اس کا دل چاہا سب کے سامنے وہ زینش کو صوفے سے کھڑا کر اس کے منہ پر تھپڑ لگائے اور اسے تماشہ بند کرنے کے لئے کہہ دے وہ اٹھ کر سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا
تھوڑی دیر بعد جویریہ شہنیلا کو لے کر اپنے کمرے میں چلی گٙئی اس وقت روم میں حسان اور زینش موجود تھے،، زینش ابھی بھی سر جھکائے صوفے پر بیٹھی تھی اور حسان خاموشی سے اس کے جھکے ہوئے سر کو دیکھ رہا تھا چند سیکنڈ گزرنے کے بعد حسان صوفے سے اٹھ کر زینش کے برابر میں آ بیٹھا
“کیا سوچ رہی ہو”
حسان کے سوال پر زینش سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی جو مسکراتی آنکھوں سے اسی کو دیکھ رہا تھا
“ماما اور آنٹی نے یوں اتنا اچانک،، ایسے۔۔۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا مجھے”
زینش اپنے لہجے میں پریشانی سماتے ہوئے حسان کو بولی
“تو اس میں پرابلم کیا ہے”
حسان نرمی سے زینش کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“آپ کو کوئی پرابلم نہیں”
زینش حسان کو غور سے دیکھ کر پوچھنے لگی۔۔۔ جس پر حسان مسکرایا
“مجھے کس بات کی پرابلم ہوگی ان فیکٹ میں اس رشتے میں پوری پوری دلچسپی رکھتا ہوں اور میری دلچسپی کو دیکھتے ہوئے امی نے شہنیلا آنٹی سے بات کی ہے”
حسان بہت گہری نظروں سے زینش کو دیکھتا ہوا بولا۔۔۔ کیا میرا ماضی جاننے کے بعد بھی یہ اس رشتے میں اتنی ہی دلچسپی رکھے گیں۔۔۔ زینش حسان کو دیکھتی ہوئی سوچنے لگی
“ُپر حسان بھائی اس طرح سے ابھی”
زینش نے حسان سے بولنا چاہا مگر جلدی سے حسان نے زینش کے آگے اپنے دونوں ہاتھ جوڑ دیے
“پلیز یار کچھ بھی کہہ لو مگر اب بھائی مت بولنا”
حسان جس انداز میں ہاتھ جوڑ کر زینش سے بولا نہ چاہتے ہوئے بھی اسے ہنسی آ گئی۔۔۔ اس کو ہنستا ہوا دیکھ کر حسان بھی مسکرایا اور اپنی پاکٹ سے چھوٹی سی ڈبیا نکالنے لگا جسے دیکھ کر زینش کی ہنسی تھم گئی
“یہ کیا ہے”
حسان کو ڈبیا میں سے رینگ نکلتا دیکھ کر وہ سیریس ہو کر پوچھنے لگی
“ایک پیاری سی لڑکی کے لئے چھوٹا سا تحفہ”
حسان بولنے کے ساتھ ہی زینش کا ہاتھ تھام کر اسے رینگ پہنانے لگا
“تمہیں یوں قریب سے دیکھنے کا حق صرف میرا ہے۔۔۔ تمہیں چھوڑنے کا حق بھی میرا ہونا چاہیے جو اب میرے پاس محفوظ ہے”
بلال کے کہے ہوئے الفاظ زینش کو یاد آئے تو حسان کے ہاتھ میں موجود اس کا ہاتھ کانپا۔ ۔۔۔ دل کے احساسات عجیب ہونے لگے۔۔۔ حسان اسے رینگ پہنا کر مسکراتا ہوا دیکھ رہا تھا مگر زینش سے کوشش کے باوجود مسکرایا نہیں گیا
****
رات کا ڈنر کے بعد شہنیلا واپس جا چکی تھی اس وقت سب اپنے اپنے کمرے میں موجود تھے زینش بیڈ پر بیٹھی ہوئی خاموشی سے اپنی انگلی میں موجود رینگ کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ خوشی کو آج کی خبر بتانے کے لیے اس نے موبائل اٹھایا مگر پھر واپس رکھ دیا۔۔۔ شہنیلہ نے ہوٹل جانے سے پہلے اسے اچھی طرح یاد دہانی کرائی تھی کہ وہ دو سال پہلے گزری ہوئی بات کا ذکر وہ حسان سے ہرگز نہیں کرے گی۔۔۔ اس کی طبیعت میں عجیب سی بے چینی شامل ہونے لگی تو وہ کمرے میں موجود ٹیرس میں کھڑی ہوگئی
چند پل گزرے تو
اس کی پشت پر کھڑے شخص نے زینش کی آنکھوں پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے۔۔۔ بلال کے ہاتھوں کا لمس اپنی آنکھوں پر محسوس کر کے زینش کو دل بے اختیار زور سے دھڑکا۔۔۔ وہ بلال کے ہاتھ اپنی آنکھوں سے ہٹا کر مڑی تو بلال اس کے قریب خاموشی کھڑا زینش کو دیکھ رہا تھا
زینش اپنے کمرے میں موجود بلال کو حیرت سے دیکھنے لگی اس واقعہ کے بعد زینش نے کوشش کی تھی کہ بلال سے اب اس کا کم ہی سامنا ہو، کھانے کی میز پر بھی وہ بلال کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھتی تھی
“ایسا مت کرو زینش”
بلال کی آواز نے ان دونوں کے درمیان حائل خاموشی کو توڑا
“کیسے نہیں کرو”
زینش کے پوچھنے پر بلال نے سختی سے لب بھینچ کر اس کے دونوں بازو پکڑے
“آخر کیوں میرے صبر کا امتحان لے رہی ہو تم،، جان بوجھ کر انجان بن رہی ہو۔۔۔ شام میں وہاں سب کے سامنے کیا بکواس کی تھی تم نے۔۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں تم سے۔۔۔”
بلال غصے میں بولتا ہوں اچانک رکا زینش ابھی بھی اسے منتظر نظروں سے دیکھ رہی تھی
“آپ مجھ سے کیا بلال”
زینش بلال کے غصے کو نظرانداز کر کے آرام سے اس سے پوچھنے لگی
“تم میرے جذبوں سے اچھی طرح واقف ہوں چاہتا ہوں میں تمہیں۔۔۔ کسی دوسرے شخص کے ساتھ تمہیں برداشت کرنا میرے بس سے بالکل باہر ہے”
بلال اب اس کو اپنی بات واضح لفظوں میں سمجھانے لگا
“چاہنے والوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک نہیں کیا جاتا جس طرح کا سلوک آپ اس رات میرے ساتھ کر چکے ہیں”
زینش اس کے ہاتھ اپنے بازوؤں سے ہٹاتی ہوئی بولی تو بلال کے ماتھے پر لاتعداد شکنیں پڑی
“وہ میرے غصے کا ردعمل تھا اس رات اگر میں نے تمہارے ساتھ کچھ غلط کیا ہوتا تو تم یوں میرے سامنے تو کیا کسی دوسرے سے بھی آنکھ نہیں ملا پا رہی ہوتی”
وہ زینش کو دیکھتا ہوا بولا مگر زینش کی نظریں بلال کے ہاتھ کی ہتھیلی پر تھی جہاں پر گہرا زخم موجودہ۔۔۔ بلال زینش کی نظروں کا تعاقب کرتا ہوا بولا
“کیا دیکھ رہی ہوں میرے ہاتھ کا زخم،، اس ہاتھ نے تمہارے ہاتھ کو سزا دی تھی۔۔ اسی لئے میں نے اس کو تکلیف پہنچائی ہے”
بلال نے بولنے کے ساتھ ہی زینش کی ہتھیلی کو تھام کر اس کے زخم پر اپنے ہونٹ رکھنے چاہے جھٹ سے زینش نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا
“بلال پلیز اس وقت چلے جائے یہاں سے”
زینش اس کی جرت پر گھبراتی ہوئی بولی۔۔۔۔ ورنہ ایڈی کے تو وہ منہ پر بھی تھپڑ لگا چکی تھی
“چلا جاتا ہوں لیکن کل تم اپنی ماما سے بات کرکے اس رشتے سے انکار کرو گی اور میں امی کو سمجھاؤں گا کہ زینش اور میں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔۔ باقی رہا حسان تو وہ خود سمجھ دار ہے سمجھ جائے گا”
بلال زینش کو دیکھتا ہوا سنجیدگی سے بولا
“میں اپنی ماما سے کوئی بات نہیں کروں گی بلال،، آپ بے شک آنٹی کو اپنی پسند اور رجحان کے مطابق آگاہ کر دیں مگر میری ذات کو بیچ میں مت گھسیٹیں کیوکہ میں نے آپ سے کوئی ایسی کمٹمینٹ نہیں کی ہے”
زینش کی بات سن کر بلال غصے میں اس کا منہ دبوچ کر خاموشی سے اس سنگدل لڑکی کو دیکھنے لگا جو اس وقت اسے بہت ظالم لگی۔ ۔۔۔ اس نے خوشی کے ساتھ مل کر جو کچھ کیا تھا بلال محبت میں سب فراموش کر چکا تھا اور وہ ابھی بھی سنگ دلی کا مظاہرہ کر رہی تھی
“یعنی تم یہ کہنا چاہ رہی ہو کہ تمہیں مجھ سے محبت نہیں ہے تو ٹھیک ہے اب تک تم نے میری محبت دیکھی ہے اب تو محبت میں ہارے ہوئے شخص کا انتقام دیکھنا”
بلال نے زینش کا چہرا جھٹکے سے چھوڑ کر اسکے دونوں ہاتھوں کو سختی سے پکڑا
“اگر ان ہاتھوں میں میرے نام کی مہندی نہیں رچ سکتی تو پھر میں ان ہاتھوں میں کسی اور کے نام کی مہندی بھی نہیں رچنے دوگا جان لے لوں گا میں اس کی”
غصے کی شدت سے آنکھیں دکھاتے ہوئے بلال نے اس کے دونوں ہاتھ جھٹکے سے چھوڑے اور کمرے سے باہر نکل گیا زینش کو بلال کی باتیں سن کر خوف آنے لگا۔۔۔
لیکن وی اچھی طرح جانتی تھی شہنیلا اس معاملے میں کبھی بھی اس کی بات نہیں مانے گی کیونکہ کوئی اندھا بھی آسانی سے دیکھ سکتا تھا کہ جویریہ کی توجہ کا مرکز بلال زیادہ حسان کی ذات ہے۔۔۔ جویریہ بلال کو اہمیت تو دے سکتی تھی مگر حسان کی خوشیوں کو نظر انداز کرکے بالکل نہیں۔ ۔۔۔ اور شہنیلا جویریہ کے سامنے بلال کا نام لے کر اسے بالکل بھی ناراض نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ اور اس نے سچ ہی تو کہا تھا وہ بلال سے محبت کہا کرتی تھی وہ تو محض ہمدردی میں اس کے لیے پریشان تھی
*****
