Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel NovelR50401 Woh Howe Meharban (Episode 2)
Rate this Novel
Woh Howe Meharban (Episode 2)
Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel
“سندیلا جلدی سے بریانی لے کر آؤ”
اپنے شوہر احتشام کی آواز سن کر کچن میں کھڑی ہوئی سندیلا چاولوں کی ڈش میں جلدی جلدی بریانی بھرنے لگی
“بھابھی ذرا کیوبز تو نکال دیں پلیز یہ ڈرنگ آپ فریج میں رکھنا بھول گئی تھیں شاید”
سندیلا کے ڈائننگ ٹیبل کے پاس آتے ہی اسے اس کی چھوٹی نند فائقہ نے کہا جو فریج سے ذرا فاصلے پر بیٹھی ہوئی تھی اور بریانی سے بھرپور انصاف کرتی ہوئی سندیلا سے بول رہی تھی بغیر اس کی کنڈیشن کا احساس کیے۔ ۔۔ کسی کو یہ تک پرواہ نہیں تھی کہ وہ مسلسل کچن میں موجود ہے کوئی اس سے جھوٹے منہ ہی ایک بار کھانے کا پوچھ لے یا پھر اسے کھانا کھانے کے لئے بلالے
“بھئی ہم تو سسرال میں کسی کو شکایت کا موقع ہی نہیں دیتے تھے خوش ہو کر دل لگا کر سارا کام کرتے تھے اور آج کل کی لڑکیاں تو بس کھانا کیا بناتی ہیں احسان ہی کرتی ہیں سسرال والوں پر”
یہ نزہت بیگم تھی احتشام کی امی یعنی سندیلا کی ساس۔۔۔ جن کی بات سن کر سندیلا نے ایک نظر احتشام کو دیکھا جو کہ اس کی طرف دیکھے بغیر کھانا کھانے میں مصروف تھا
“آنٹی سسرال جگہ ہی ایسی ہوتی ہے جہاں لڑکی چاہے بھی کہ کسی کو تکلیف نہ ہو مگر پھر بھی اس کی ذات سے ہر ایک کو مسلئے ہی لاحق رہتے ہیں۔۔۔ کل آپ ہی تو بتا رہی تھی کہ آپ کی ساس آپ پر کتنے ظلم کے پہاڑ توڑتی تھیں اور صائقہ باجی،،، آج جب سے آئی ہیں مسلسل اپنے اوپر ہوئی سسرال کی ذیاتیوں کا رونا ہی ہو رہی ہیں۔۔۔ ویسے میں نے آج صرف کھانا ہی نہیں بنایا ہے اتوار ہونے کی وجہ سے کام والی نہیں آئی تھی تو سارے گھر کا کام میں نے خود اکیلے ہی کیا ہے اور فائقہ فریج تمہارے نزیک ہی ہے کیوبز تم خود ہی نکال لو”
سندیلا کی بات سن کر کھانے کی ٹیبل پر احتشام سمیت تمام افراد اس کی طرف دیکھنے لگے۔۔۔ دو سالہ شادی کی زندگی میں اس کے ساتھ ایسا ہی ہوتا تھا مگر جب سندیلا کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا تو پھر وہ چپ نہیں رہتی تھی
“توبہ توبہ میرے پاس ایسی زبان نہیں ہے نہ ہی اتنی ہمت جو میں سسرال والوں کے سامنے ان کو اس طرح بات سناؤ”
سب سے پہلے صائقہ کو ہوش آیا اور وہ چمچا چھوڑ کر، باقاعدہ دونوں ہاتھ گالوں کو لگا کر توبہ کرنے لگی
“وہ اس لیے صائقہ باجی کیوکہ آپ ہر ہفتے اپنے دل کا غبار اور غصہ یہاں آ کر نکال لیتی ہیں۔۔۔ کاش کہ ہفتے میں دو اتوار ہوتے اور مجھے بھی اپنے بھائی کے گھر جانے کا موقع مل جاتا”
سندیلا اپنی بڑی نند کو دیکھ کر مسکراتی ہوئی بولی
“فورا کمرے میں جاؤ سندیلا”
کافی دیر سے چپ بیٹھا ہوا احتشام ایک دم سندیلا کو غصے میں بولا جس پر سندیلا افسوس بھری نظر اس پر ڈال کر خاموشی سے اپنے کمرے میں جانے لگی
“بھائی کی حالت دیکھ کر میں نے تو سوچ لیا ہے شادی جیسی بیکار چیز تو کرنی ہی نہیں ہے”
یہ اس کا دیور تھا باسل جس کی آواز سندیلا نے اپنے کمرے میں جاتے ہوئے سنی
****
“تمہیں زبان چلانے کے علاوہ کوئی اور بھی کام آتا ہے یا نہیں، جانتی ہو صائقہ باجی آج کتنا روتی ہوئی اپنے سسرال گئی ہیں مجھ سے کہہ رہی تھی اب اگلے ہفتے یہاں نہیں آؤں گی تمہاری بیوی کو میرا یہاں آنا اچھا نہیں لگتا۔۔۔۔ امی اس بات کو یاد رکھ کر اب تم سے ہفتہ بھر ناراض رہیں گی، فائقہ اور باسل بھی تم سے سیدھے منہ بات نہیں کریں گے اس لیے اب تم مجھ سے میرے گھر والوں کی بدسلوکی کا شکوہ کرنے مت بیٹھ جانا”
رات میں صائقہ کے جانے کے بعد احتشام کمرے میں آیا تو بیڈ پر لیٹی ہوئی سندیلا کو دیکھ کر بولا
“شام آپ کو صرف میرا زبان چلانا دکھ رہا تھا۔۔۔۔۔ اپنی بہن کے تو آنسو تو نظر آ گئے مگر آپ کو یہ نظر نہیں آیا کہ آپ کی پریگنیٹ بیوی پورے دن کسی گدھے کی طرح گھر کے کاموں میں لگی ہوئی ہے، بھولے سے بھی فائقہ نے میری ہیلپ کروائی،، آپ کو یا پھر آنٹی کو احساس ہوا میرا۔۔۔۔ بے فکر رہیے صائقہ باجی آج صرف ناراض ہو کر ایسا بول کر گئی ہیں،، آپ خود دیکھ لیے گا اگلے ہفتے وہ یہی پر موجود ہوگیں۔۔۔۔ آپ کی امی کے ناراض ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے انہوں نے کبھی ان دو سالوں میں اچھے تعلقات اپنانے کی کوشش ہی نہیں کی میرے خلوص میری تیمارداری کا کیا صلہ دیا یہ مجھے آپ کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے اور رہی بات فائقہ اور باسل کی تو شام شاید آپ بھول رہے ہیں ان دونوں نے آج تک مجھ سے سیدھے منہ بات ہی کب کی ہے”
سندیلا بیڈ سے اٹھ کر بیٹھتی ہوئی احتشام سے بولنے لگی
“یار ایک تو تم اپنی اس کنڈیشن پر رونا مت رویا کرو میرے سامنے، بچہ بھی تو تمہیں ہی چاہیے تھا نا میں نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا پانچ سال سے پہلے میں کوئی بچہ افورڈ ہی نہیں کر سکتا، میرے اوپر پورے گھر کے ذمہ داری ہے”
احتشام اس کی کنڈیشن والی بات پر اچھا خاصا چڑتا ہوا بولا اور سلیپنگ ڈریس لے کر واش روم میں جانے لگا تبھی سندیلا بیڈ سے اٹھ کر اس کے سامنے آئی
“آپ بھول رہے ہیں بچے کا میں نے آنٹی کے کہنے پر آپ کو کہا کیونکہ انہوں نے دو مہینے بعد ہی مجھے آپ کے رشتے داروں میں بانچھ بولنا شروع کر دیا تھا اور اگر آپ پر اتنی ہی ذمہ داریاں تھی تو آپ کو شادی ہی نہیں کرنی چاہیے تھی شام”
اپنی حالت کے پیش نظر ایک تو وہ پہلے ہی چڑچڑی ہو رہی تھی اوپر سے احتشام کی ایسی باتیں اسے مزید غصہ دلانے لگی
“واقعی شادی کرکے تو اب میں بھی پچھتا رہا ہوں پورے ہفتے ایک دن چھٹی کا ملتا ہے سالا اس میں بھی صبح شام گھر والوں کی اور بیوی کی باتیں سنو”
احتشام اسے بول کر سائیڈ پر کرتا ہوا واشروم کی طرف بڑھنے لگا
“اور مجھے تو وہ ایک دن بھی آرام کو میسر نہیں ہوتا”
سندیلا بولتی ہوئی واڈروب سے اپنا ڈریس نکالنے لگی کیونکہ کل صبح اسکول جانے کے لیے اسے اپنا ڈریس بھی آئرن کرنا تھا
“تو چھوڑ دو جاب تمہاری اس ٹکے بھر کی جاب سے آخر فائدہ کس کو ہو رہا ہے”
احتشام غصے میں بھرا ہوا واپس سندیلا کے پاس آ کر بولا
“یہ ٹکے بھر کی جاب میں اسی لیے کرتی ہوں تاکہ مجھے اپنی چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کے لیے کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے”
سندیلا بھرپور طنز کرتی ہوئی اس کے جواب میں بولی تو احتشام نے غصے میں اس کے ہاتھ سے کپڑے لے کر کمرے کے ڈسٹ بن کے پاس پھینک دیے اور خود واش روم چلا گیا
دو سال پہلے سندیلا نے گریجویشن مکمل کیا تو اس کے بھائی انیس نے اچھا رشتہ دیکھ کر فورا سندیلا کی شادی کردی ہر عام لڑکی کی طرح وہ بھی آنکھوں میں ڈھیر سارے خواب اور دل میں کئ ارمان لے کر احتشام کے گھر میں آئی تھی مگر ایک ماہ بعد ہی سسرال والوں کا رویہ دیکھ کر اسے حقیقت کی دنیا میں آنا پڑا۔۔۔ شروع سے ہی اس کی ساس نزہت بیگم کو اس کے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا پسند نہیں آتا تھا اور نہ ہی اس کے گھر کے کام کرنے کا انداز،،، جس کا وہ وقفے وقفے سے برملا سندیلا کے سامنے اظہار کرتی رہتی اور اس کے سامنے اپنے سگھڑاپے کی مثالیں پیش کرتی سندیلا خاموشی سے ان کی باتیں سن لیتی اس نے شادی کے شروع دن سے ہی اپنے دیور باسل اور نند فائقہ سے دوستانہ رویہ رکھنا چاہا تو اسے وہاں پر ان دونوں کی طرف سے نو لفٹ کا بورڈ ملا صرف اپنی ضرورت کے تحت فائقہ کبھی کبھار اسے منہ لگا لیتی مگر اپنا کام نکلتے ہی تو کون اور میں کون والا حساب ہوتا
اس کا دیور باسل عجیب لاپروا سی نیچر کا مالک تھا تعلیم مکمل ہونے کے باوجود وہ جاب کرنے سے دور بھاگتا، بس اس کا ایک ہی خواب تھا پاکستان سے باہر نکل کر کہیں بیرون ملک میں سیٹل ہونے کا اور وہ آۓ دن انہی کوششوں میں لگا رہتا۔۔۔ اس کی سب سے بڑی نند شادی شدہ تھی جو بلا ناغہ ہر ہفتے میکے آتی اور سندیلا کو عجیب انداز میں گھور گھور کر دیکھتی ان سب میں سندیلا کو بس احتشام کا ہی سہارا تھا جسے دیکھ کر وہ شکر ادا کرتی
مگر یہ شکر ادا کرنا چند عرصے تک ہی رہا،، جب سندیلا نے اس کے گھر کے دوسرے افراد کے رویوں کے بارے میں احتشام کو احساس دلایا تو احتشام نے الٹا اسے ہی سمجھایا کہ ایڈجسٹ اسی کو کرنا ہے تو برداشت بھی اسی کو کرنا ہو گا
شروع شروع میں احتشام اسے پاکٹ منی خود دے دیتا مگر چند ماہ بعد اسے احتشام سے مانگ کر اپنی پاکٹ منی لینی پڑتی مگر وہ اس سے کتنی بار خود منہ سے کہہ کر پیسے مانگتی اکثر احتشام اس کے سامنے اپنی ذمہ داریوں کا رونا روتا لیکن یہ حقیقت بھی تھا سارے گھر کی ذمہ داری اسی کے اوپر تھی۔۔۔ بھائی کو باہر بھیجنا چھوٹی بہن کی شادی کروانا وغیرہ وغیرہ
تب سندیلا نے جاب کرنے کا فیصلہ کیا، چند ماہ گزرنے کے بعد اسے اپنے سسرالی رشتے داروں سے معلوم ہوا کہ نزہت بیگم نے اسے اپنے رشتے داروں میں بانچھ مشہور کیا ہوا ہے تب سندیلا کو دلی طور پر بہت افسوس ہوا اور یہ بات اس نے احتشام سے بولی۔۔۔ جبکہ احتشام اسے شادی کی پہلی رات ہی بتا چکا تھا کہ وہ اتنی جلدی بچہ نہیں چاہتا مگر سندیلا کی ضد اور اپنی ماں کی حرکت پر اسے اپنے فیصلے کے خلاف جانا پڑا
سندیلا کو جب اپنی پریگنینسی کا معلوم ہوا تب اسے ایک انوکھی سی خوشی کا احساس ہوا مگر یہ خوشی احتشام کی شکل دیکھ کر اداسی میں مائل ہوگئی کیونکہ احتشام کی شکل دیکھ کر صاف لگ رہا تھا کہ اسے باپ بننے کی کوئی خاص خوشی نہیں ہوئی ہے بلکہ وہ آگے آنے والے اخراجات کا سوچ کر ابھی سے ہی پریشان ہو رہا تھا شروع شروع میں سندیلا خاموشی سے برداشت کرتی مگر اب آہستہ آہستہ اس نے سسرال والوں کے سامنے اور پھر احتشام کے سامنے جواب دینے شروع کر دیے اسے اپنا قصور اتنا ہی سمجھ میں آتا کہ وہ اپنے آپ کو انسان سمجھتی تھی۔۔۔۔ افسوس سے واش روم کے بند دروازے کو دیکھ کر وہ نیچے گرے ہوئے اپنے کپڑے اٹھانے لگی
“ذرا جو احساس ہو اپنی بیوی کا کہ اس نے کھانا کھایا بھی ہے کہ نہیں بس بہن کی رونے کی فکر لاحق ہو گئی ہے”
بے دلی سے منہ ہی ممہ میں بڑبڑاتی ہوئی وہ اپنے کپڑے آئرن کرنے لگی
*****
صبح کا وقت تھا جب وہ قریبی پارک سے جاگنگ کرنے کے بعد واپس کاٹیج میں لوٹی پھولا ہوا سانس بحال کرنے کے بعد اس نے کچن کا رخ کیا۔۔ اس وقت فیض اور صنوبر اپنے بیڈ روم میں جبکہ شہنیلہ اپنے روم میں موجود تھی زینش نے کچن میں آکر اپنے لیے گلاس میں پانی نکالا اسے ذرا بھی احساس نہیں ہوا کہ اس کی پشت پر کوئی موجود ہے جیسے ہی اس نے گلاس اپنے ہونٹوں سے لگایا تو دو ہاتھوں نے اسے پیٹ سے پکڑ کر اٹھایا بوکھلاہٹ کی وجہ سے زینش کے ہاتھوں سے پانی کا گلاس چھوٹا
“ایڈی یہ کیا بدتمیزی ہے نیچے اتارو مجھے”
زینش غصے سے ایڈی کو دیکھتی ہوئی بولی جو شرارت میں آ کر اسے اونچا اٹھائے گول گول چکر دے رہا تھا
“اسٹاپ اٹ ایڈی یہ کیا بچپنا ہے چھوڑو مجھے”
اب کی بار زینش مزید چیخ کر بولی جس پر ایڈی نے ہنستے ہوئے اسے نیچے اتار دیا
“او سویٹ ہارٹ تم تو برا مان گۓ میں تو صرف مذاق کر رہا تھا”
ایڈی زینش کا غصے سے لال چہرہ دیکھ کر بولا وہ جن نظروں سے زینش کو دیکھ رہا تھا زینش کا دل چاہا وہ ایڈی کا منہ توڑ دے
“مجھے ایسے مذاق پسند نہیں ہے یہ مذاق تم اس گھر میں اس کے ساتھ کیا کروں جس سے تمہاری رشتہ داری ہے”
زینش سخت لہجے میں ایڈی کو دیکھتی ہوئی بولی اور کچن سے جانے لگی
“سویٹ ہارٹ ناراض تو مت ہو مجھ سے مانا کے رشتے داری میری صنوبر آنٹی سے ہے مگر میں یہاں پر صرف تمہارے لیے آتا ہوں۔۔۔۔ او اچھا تمہارے کپڑے خراب ہوگئے ہیں اس لیے مجھ پر غصہ ہو رہی ہو ایک منٹ میں انہیں صاف کر دیتا ہوں”
ایڈی نے بولتے ہوئے زینش کی شرٹ جو کہ سینے کی طرف سے پانی چھلکنے کی وجہ سے گیلی ہو گئی تھی، صاف کرنے کے لیے جیسے ہی اپنا ہاتھ بڑھایا ویسے ہی زینش نے سارا لحاظ بالائے طاق رکھ کر ایڈی کے منہ پر زور دار طمانچہ مارا
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی ایڈی پر ہاتھ اٹھانے کی”
صنوبر کچن میں داخل ہوکر زینش پر بگڑتی ہوئی بولی جبکہ ایڈی سرخ گال پر ہاتھ رکھ کر زینش کو غصے سے دیکھ رہا تھا
“مامی یہ میرے ساتھ بدتمیزی”
زینش کے کچھ بولنے سے پہلے شہنیلہ بھی کچن میں آگئی
“زینش فورا معافی مانگو ایڈی سے”
شہنیلا ایڈی کا ٹماٹر کی طرح سرخ گال، صنوبر کا غصہ اور زینش کی خودسری دیکھ کر صورتحال کو خود سمجھ چکی تھی اس لیے وہ زینش کو دیکھ کر بولی
“معافی مانگنے کی بجائے اگر آپ مجھ سے یہ کہتی کہ اس کا دوسرا گال بھی سرخ کر دو تو میں آپ کی بات ضرور مان لیتی”
زینش اردو میں شہنیلا سے بولتی ہوئی کچن سے باہر چلی گئی ایڈی کو تو زینش کا بولا ہوا جملہ کچھ سمجھ میں نہیں آیا مگر صنوبر زینش کی بات سن کر آگ بگولا ہو گئی اور غصے میں شہنیلا کو دیکھنے لگی جو صنوبر سے نظریں چراتی ہوئی زینش اور اپنے مشترکہ روم میں چلی گئی
*****
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو ہیپی برتھ ڈے ٹو یو
رات کے بارہ بجتے ہی جویریہ کے بیڈ روم میں، ہاتھ میں کیک اور گفٹ پکڑے حسان اسے وش کرتا ہوا کمرے میں داخل ہوا اس کے پیچھے ہی بلال بھی تھا۔۔۔ جویریہ اپنے دونوں جوان جہاں بیٹوں کو دیکھ کر مسکرا اٹھی
“ہیپی برتھ ڈے امی”
حسان ٹیبل پر گفٹ اور کیک رکھ رہا تھا تب بلال نے بھی جویریہ کے پاس آکر اسے وش کیا
“بیٹا وش کرتے وقت ہی مسکرا دو، مجھے اچھا لگے گا آج کے دن اگر تم میرے لئے اپنے چہرے پر مسکراہٹ لاؤ گے”
جویریہ اپنے چھوٹے بیٹے کو دیکھ کر بولی جو کہ بڑا ہونے کے ساتھ ساتھ مزید سنجیدہ ہوتا جا رہا تھا اب تو شاید ہی کسی بات پر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آتی۔۔۔ مگر جویریہ کو تب خوشی ہوئی جب اس کے کہنے پر بلال مسکرایا،، جویریہ نے بلال کا چہرہ تھام کر اس کا سر نیچے کیا اور ماتھے پر بوسہ دیا۔۔۔ حسان سے دو سال چھوٹا ہونے کے باوجود اس نے قد کاٹھ حسان سے اچھا نکالا تھا
“اس مسکراہٹ کو اپنے چہرے سے جدا مت کیا کرو بلال،، یقین جانو یہ تمہارے چہرے پر سب سے خوبصورت اور قیمتی شے ہے”
جویریہ بلال کو دیکھ کر بولی جس پر وہ ایک بار پھر ہلکا سا مسکرایا اور جویریہ کو اپنا لایا ہوا گفٹ دینے لگا
“اور میری مسکراہٹ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے امی”
حسان مسکرا کر جویریہ کے پاس آتا ہوا اس سے پوچھنے لگا تو وہ بلال کا لایا ہوا گفٹ بیڈ پر رکھتی ہوئی مسکرا کر حسان کی طرف بڑھی
“تم تو میری جان ہو اس مسکراہٹ کو دیکھ کر ہی تو میں جیتی ہو”
اب وہ مکمل طور پر حسان کی طرف متوجہ ہو چکی تھی اس نے بلال کی طرح ہی حسان کے ماتھے پر بھی بوسہ دیا بلال ان دونوں کو مسکراتا ہوا دیکھنے لگا
“اور میں روز روز مسکراتا ہی اسی لیے ہوں تاکہ میری امی ہر پل ہر دم جی اٹھیں آپ کو معلوم ہے ناں آپ اس دنیا کی سب سے زیادہ اہم ہستی ہیں میرے لیے، یہ بات میں یہاں سے بول رہا ہوں”
حسان نے جویریہ کا ہاتھ تھام کر اپنے دل پر رکھا جس پر جویریہ مسکرا اٹھی اب حسان جویریہ کا ہاتھ تھام کر اسے ٹیبل کے پاس لے کر جارہا تھا جہاں کیک ان کا منتظر تھا
“کیا ہوا بلال کیا تمہیں یہاں پر بلانا پڑے گا”
حسان کے بولنے پر بلال بھی ان دونوں کے پاس آیا
جویریہ نے کیک کاٹا اور کیک کا بڑا سا پیس حسان کی طرف بڑھایا جسے کھانے کے بعد حسان اب جویریہ کو کیک کھلا رہا تھا ایسے ہی بلال نے بھی جویریہ کو کیک کھلایا۔۔۔ جویریہ جانتی تھی کہ چوکلیٹ کیک بلال کو بچپن سے ہی پسند نہیں ہے اسی وجہ سے اس نے کیک صرف حسان کو کھلایا تھا
“اچھا یہ بتاؤ کہ اس پیکٹ میں کیا ہے”
جویریہ کی توجہ اب حسان کے لائے ہوئے گفٹ کی طرف تھی جو کہ ٹیبل پر موجود تھا وہ حسان کو دیکھ کر پوچھنے لگی جو کہ صوفے پر بیٹھا ہوا نائف کی مدد سے کیک کا چھوٹا حصہ کاٹ رہا تھا
“آپ خود ہی کھول کر دیکھ لیں”
حسان مصروف انداز میں بولا تو جویریہ حسان کا دیا ہوا گفٹ کھولنے لگی جس میں ایک بڑا فوٹو فریم تھا اس میں جویریہ کی تصویر موجود تھی جو کہ کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی حسان اور بلال اس کے دائیں اور بائیں جانب کھڑے تھے
“اس سے زیادہ شاندار گفٹ تو اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا میری نظر میں”
جویریہ ستائشی نظروں سے تصویر کو دیکھ کر بولی
بلال کی نظریں بیڈ پر موجود اپنے لاۓ گفٹ پر گئی جس میں ایک بلیک ڈائمنڈ کا نیکلس موجود تھا اس نے خاص طور پر آرڈر دے کر یہ جویریہ کے لیے بنوایا تھا
“میں سونے جا رہا ہوں ورنہ صبح کے لیے لیٹ ہو جاؤں گا”
بلال ان دونوں کو دیکھے بغیر بولا اور کمرے سے باہر نکل گیا
****
