Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel NovelR50401

Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel NovelR50401 Woh Howe Meharban (Episode 27)

444.1K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Woh Howe Meharban (Episode 27)

Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel

آج اس نے زینش سے نکاح کر کے اسے ہمیشہ کے لیے اپنا بنا لیا تھا،، جہاں اسے اپنے اندر اطمینان تھا وہی زینش کی بے رخی اسے کبھی کبھی غصہ دلا دیتی جیسے آج صبح وہ اس کے ساتھ کتنی بدتمیزی سے پیش آئی تھی اور کبھی اس نے کب اپنے سامنے کسی دوسرے کی بدتمیزی برداشت کی تھی۔۔۔ آج سارے رشتے داروں کے جانے کے بعد وہ بھی اپنی کار لے کر اپنے فلیٹ کی طرف نکل گیا تھا

یہ فلیٹ رفیق نے تب خریدا تھا جب وہ اور حسان کالج میں اسٹوڈنٹ تھے اکثر یہ فلیٹ اس کے یا حسان کے تبھی استعمال میں آتا تھا جب انہیں اپنے دوستوں کے ساتھ کمبائن اسٹڈی کرنا ہوتی تھی۔۔۔ اسٹڈیز ختم ہونے کے بعد حسان کا اس فلیٹ میں آنا نہ آنا برابر ہو گیا تھا البتہ وہ کبھی کبھی اس فلیٹ میں آکر اپنا وقت گزار تھا۔۔۔ اب جبکہ جویریہ اور حسان اس کو چھوڑ کر دنیا سے جا چکے تھے تب اس نے یہی فیصلہ کیا تھا کہ وہ زینش کو لے کر اس فلیٹ میں شفٹ ہو جائے گا

ایسا نہیں تھا کہ وہ جویریہ اور حسان کی یادوں سے پیچھا چھڑانے کے چکر میں یہاں آنا چاہتا تھا لیکن اس کے نزدیک یہی سوچ اہم تھی کے گھر انسانوں سے آباد ہوتا ہے جب گھر میں بسنے والے انسان ہی موجود نہ ہو تو اتنے بڑے گھر کا فائدہ۔۔۔ وقتی طور پر وہ زینش کے ساتھ اس فلیٹ میں شفٹ ہوکر اپنی زندگی کی نئی شروعات کرنا چاہتا تھا

اس لئے آج نکاح کے بعد سب مہمانوں سے فارغ ہوکر وہ اپنے اس فلیٹ میں چلا آیا تھا جہاں فرنیچر سے لے کر تمام تر ضروریات کی چیزیں پہلے سے ہی موجود تھی۔۔۔ تھوڑا بہت چھوٹا موٹا سامان گھر کا سودا سلف جس کی ضرورت پڑ سکتی تھی وہ بلال مارکیٹ سے لے آیا تھا تاکہ زینش کو کوئی مسلئہ نہ ہو

وہ کل ہی اس فلیٹ میں زینش کے ساتھ شفٹ ہونے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔ اس وقت رات کا ایک بج رہا تھا تب وہ فلیٹ سے گھر جانے کے لئے اٹھا کیونکہ تھوڑی دیر بعد شہنیلا کی فلائٹ تھی اسے واپس نیویارک جانا تھا مگر بدقسمتی سے بیچ راستے میں اس کی کار پنچر ہوگئی جس کی وجہ سے اسے کافی ٹائم لگ گیا۔۔۔ دوسرا یہ کہ اس کے موبائل کی بیٹری بھی ڈیڈ ہو چکی تھی جس کی وجہ سے وہ شہنیلا سے کونٹیکٹ کر کے اسے اپنے نہ آنے کی وجہ بتا سکا

اس وقت روڈ مکمل سنسان تھا وہ ہاتھ پر باندھی ہوئی گھڑی میں ٹائم دیکھتا ہوا کار ڈرائیو کر رہا تھا تب اچانک سنسان سڑک کے بیچ و بیچ ایک لڑکی بھاگتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر بلال اپنی کار کی اسپیڈ کم کر چکا تھا مگر وہ اتنی زیادہ گھبرائی ہوئی تھی کے سامنے آتی ہوئی کار کو دیکھنے کے باوجود۔۔۔ سائیڈ میں ہونے کے بجائے اپنی آنکھیں بند کر چکی تھی

****

“زینش”

ایک لمحے کے لیے وہ اپنے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھ کر شاکڈ ہوا ہوا تھا جو کہ اس وقت ایک بچی کو گود میں لیے اسے بہت زیادہ گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی۔۔۔ پہلے تو بلال اس لڑکی کو دیکھ کر بری طرح چونکا تھا کیونکہ یہ لڑکی ہوبہو اس کی بیوی سے ملتی تھی،، وہ اتنا دیوانہ ہرگز نہیں ہوا تھا کہ ہر لڑکی میں اسے اپنی بیوی نظر آتی لیکن کوئی بھی اگر پہلی بار اس لڑکی کو دیکھتا تو آرام سے دھوکا کھا سکتا تھا

اس لڑکی کو اپنی کار کی طرف بڑھتا دیکھ کر بلال کار کا دروازہ کھول کر نیچے اتر آیا

“پلیز میری ہیلپ کریں وہ وہاں پر۔۔۔”

بھاگنے کی وجہ سے سندیلا کا سانس بری طرح پھولا ہوا تھا،، گھر سے بھاگتے ہوئے اس نے خدا سے دعا کی تھی کہ اپنا کوئی نیک بندہ اس کی مدد کے لیے بھیج دے،، اتنی رات گئے سنسان سڑک پر پری کو گود میں اٹھا کر بھاگتی ہوئی وہ کافی زیادہ خوفزدہ تھی اس لئے گاڑی میں بیٹھے ہوئے شخص کو دیکھ کر اس سے مدد مانگنے لگی

“کیا ہے وہاں پر، آپ اتنا پریشان کیوں ہیں”

سندیلا خالی سڑک کی طرف اشارہ کرتی ہوئی بولی گھبراہٹ کے مارے اس سے کچھ بولا نہیں جا رہا تھا تب بلال اس سے سوال کرنے لگا

“وہاں پر وہ میرا پیچھا کر رہا ہے۔ ۔۔ آپ پلیز مجھے اور میری بچی کو بچا لیں”

سندیلا کو سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ اجنبی شخص کو کیا بتائیں اس لئے بولنے کے ساتھ اس نے رونا شروع کردیا

“پر وہاں تو کوئی بھی موجود نہیں ہے۔۔۔ اچھا آپ اس طرح پریشان مت ہو، آئیے کار میں بیٹھیں میں آپ کو آپ کے گھر ڈراپ کر دیتا ہوں”

وہ اپنے حلیے اور لب و لہجے سے بلال کو کوئی پڑھی لکھی اور شریف گھرانے کی لڑکی لگ رہی تھی مگر اس وقت وہ ننگے پاؤں اور کافی گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی شاید اس وقت وہ کسی مشکل کا شکار تھی اس لیے بلال نے اس کو روتا ہوا دیکھ کر اپنی کار میں بیٹھ جانے کو کہا۔۔۔

سندیلا پری کو گود میں اٹھائے بلال کی کار میں بیٹھ گئی اور زیر لب آیت الکرسی پڑھنے لگی تب بلال نے بھی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہوئے ایک نظر اس کی گود میں نیند سے اونگتی ہوئی بچی کو دیکھا پھر سندیلا سے اس کے گھر کا ایڈریس پوچھنے لگا

“میں اس وقت اپنے گھر پر نہیں جاسکتی میرا گھر سیو نہیں ہے اور میرے ہسبنڈ بھی ضروری کام کے سلسلے میں گھر سے باہر نکلے ہوئے ہیں۔۔۔ میرے گھر میں کوئی زبردستی گھس آیا ہے میں بہت مشکل سے اپنی اور اپنی بچی کی جان بچا کر وہاں سے بھاگی ہو”

سندیلا کو جو سمجھ میں آیا وہ تھوڑا بہت چھپا کر اس اجنبی سے اپنا مسئلہ بیان کرنے لگی جسے سن کر بلال کار اسٹارٹ کرنے لگا

“آئی تھنک پھر ہمیں پولیس سے ہیلپ لینا چاہیے”

بلال کی بات سن کر سندیلا مزید گھبرا گئی اور جھٹ سے بولی

“نہیں پلیز پولیس کو اس معاملے میں انوالو مت کریں”

وہ واقعی پولیس کی مداخلت اس معاملے میں بالکل نہیں چاہتی تھی،، اس کے شوہر کا پیشہ ایسا تھا کہ پولیس والے سے کہا معظم کی بنتی۔۔۔ نہ جانے پھر بات کہاں سے کہاں تک پہنچتی اس لئے اس نے بلال کو فوراً منع کردیا تو بلال خاموشی سے سندیلا کو دیکھنے لگا جس پر سندیلا اچھی خاصی شرمندہ ہوئی

“میں جانتی ہوں آپ مجھے کوئی مشکوک لڑکی سمجھ رہے ہوں گے کیونکہ سچویشن ہی کچھ ایسی ہے اتنی رات کو کوئی لڑکی اسطرح اکیلے باہر نہیں نکل سکتی مگر آپ میرا یقین کریں میں واقعی سچ بول رہی ہوں۔۔۔ کیا آپ مجھے اپنا موبائل دے سکتے ہیں تاکہ میں اپنے ہسبنڈ سے بات کر لو”

سندیلا کو یہی حل سمجھ آیا کہ وہ معظم کو اس وقت کال ملائے۔۔۔ شکر تھا کہ معظم کے کہنے پر اس نے معظم کا نمبر زبانی یاد کیا ہوا تھا مگر سندیلا کی بات سن کر بلال نے لمبا سانس کھینچا اور اپنا موبائل سندیلا کی طرف بڑھایا

“اگر میں آپ کو مشکوک سمجھتا تو کبھی بھی آپ کو اپنی کار میں بیٹھنے کے لیے نہیں کہتا۔ ۔۔۔ اتفاق سے بیٹری ڈاؤن ہونے کے سبب موبائل آف ہے میرا، اب آپ اس بات سے مجھے مشکوک مت سمجھئے گا محترمہ”

بلال کی بات سن کر سندیلا پریشان نظروں سے بلال کو دیکھنے لگی تو بلال نے اپنی گاڑی دوبارہ کار اسٹارٹ کر دی

“آدھی رات کو سنسان جگہ پر یوں کار میں بیٹھنا بھی مناسب نہیں ہے اور آپ کو یوں مصیبت میں تنہا چھوڑ کر جانا بھی مجھے اخلاقی طور پر مناسب نہیں لگ رہا جب کہ آپ کے پاس ایک بچی بھی موجود ہے”

بلال ڈرائیونگ کے دوران سندیلا سے مخاطب ہوا تو سندیلا خاموش ہی رہی،، وہ خود پریشان ہوچکی تھی ایک پل کے لیے اس کے دل میں آیا وہ انیس کے گھر چلی جائے لیکن اسے وردہ سے کوئی اچھی امید نہیں تھی،، اسلیے دل ہی دل میں دوبارہ آیت الکرسی کا ورد کرنے لگی

دوسری طرف بلال یہ سوچ کر سندیلا کو اپنے گھر کی بجائے فلیٹ میں لے آیا تھا کہ زینش اس سے پہلے ہی خفا تھی، وہ ایک انجان اور اپنی ہم شکل لڑکی کو اس کے ساتھ رات میں دیکھ کر نہ جانے بلال کی بات سنتی یا کیا ری ایکٹ کرتی۔۔۔ بلال نے اپنے اپارٹمینٹ کے بیسمنٹ میں کار روکی تو سندیلا سوالیہ نظروں سے بلال کو دیکھنے لگی

“اس آپارٹمینٹ میں میرا فلیٹ ہے اگر آپ مجھ پر بھروسہ کر کے میری کار میں بیٹھ سکتی ہیں تو اپنے ہسبنڈ کے واپس آنے کا انتیظار یہاں میرے فلیٹ میں کرلیں۔۔۔ میں آپ کو فورس ہرگز نہیں کرو گا میرے فلیٹ میں آنا نہ آنا آپکی چوائس ہے۔۔ ہاں تھوڑی دیر بعد میں آپ کو آپکے گھر ڈراپ کر دو گا جب تک اپکے ہسبنڈ گھر پر آجائے گے اس سے زیادہ میں آپکی کیا ہیلپ کر سکتا ہو”

بلال کندھے اچکاتا ہوا سندیلا سے بولا اور اپنی کار سے اتر گیا۔۔۔۔ اس نے فلیٹ میں آنے کا فیصلہ سندیلا کے اوپر چھوڑا تھا۔۔۔ سندیلا کنفیوس ہوتی ہوئی وہاں موجودہ واچ مین کو دیکھنے لگی جو مسلسل اس کو اور بلال کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ سندیلا اللہ کا نام لے کر پری کو سینے سے لگائے کار سے نیچے اتر گئی

بلال اپنے فلیٹ کے دروازہ کا لاک کھول رہا تھا تب سندیلا اس کی پشت پر کھڑی ہوئی تھی اس نے پیچھے پلٹ کر دیکھا۔۔۔ بلال کے سامنے والے فلیٹ میں ایک عورت کھڑکی میں کھڑی ہوئی غور سے سندیلا کو دیکھ رہی تھی،، سندیلا کو اس وقت اس عورت کے یوں دیکھنے پر عجیب سا محسوس ہونے لگا تبھی اس نے واپس اپنا چہرہ موڑ لیا۔۔۔ بلال نے اپنے فلیٹ کے اندر قدم رکھا تو سندیلا کی طرف دیکھا وہ تھوڑا جھجھکتی ہوئی اندر آ گئی

“وہ سامنے بیڈ روم ہے اگر آپ چاہیں تو تھوڑی دیر وہاں ریسٹ کر لیں میں یہاں اسی روم میں موجود ہو۔۔۔ تھوڑی دیر میں اجالا ہو جائے گا تو میں آپ کو آپ کے گھر چھوڑ آؤ گا”

بلال نے سندیلا کو اشارے سے بیڈروم کا بتایا اور خود دوسرے روم میں جا کر دروازہ بند کر لیا تاکہ سندیلا بھی ریلیکس ہو جائے

*****

پوری رات جاگ کر وقفے وقفے سے وہ پولیس کے وہاں سے جانے کا انتظار کرتا رہا مگر پولیس وین اسی کالونی میں موجود تھی جس سے معظم اندازہ لگا چکا تھا کہ پولیس وہی کہیں آس پاس کے علاقوں میں اس کو تلاش کر رہی ہے

زینش ساری رات اس کے سامنے صوفے پر بیٹھی رہی معظم کے غصہ کرنے کے بعد اس نے پھر دوبارہ معظم سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی معظم نے اس سے کوئی بھی بات کرنے کی ضرورت سمجھی یوں ہی کرسی پر بیٹھے تھوڑی دیر کے لئے اس کی آنکھ بھی لگ گئی تھی جب اس کی آنکھ کھلی تو پوری طرح اجالا پھیل چکا تھا اس کے سامنے صوفے پر زینش گہری نیند میں سو رہی تھی وہ بنا آہٹ کے ایک بار پھر گھر سے باہر نکلا تب اسے وہاں سے نکلنے کا راستہ کلیئر دکھائی دیا وہ دوبارہ گھر میں آئے بناء یا پھر زینش کو جگائے بغیر گیٹ بند کرکے وہاں سے چلا گیا

*****

“سندیلا۔۔۔۔۔ سندیلا”

معظم جب گھر پہنچا تو گھر کا دروازہ کھلا دیکھ کر وہ پریشان ہو گیا جب اسے گھر کے اندر سندیلا یا پری نہیں دکھائی دی تو وہ مزید پریشان ہونے لگا۔۔۔ وہ دروازہ باہر سے لاک کرکے گیا تھا پھر اس کے پیچھے کون آیا۔۔۔ سندیلا اور پری آخرکار کہاں موجود تھی

پری کا استعمال شدہ دودھ کا ڈبہ کھلا ہوا فرش پر پڑا تھا سندیلا کا موبائل گھر پر ہی موجود تھا مگر یہ وقت سوچنے یا پریشان ہونے کا نہیں تھا اسے اپنی بیوی اور بچی کا پتہ لگانا تھا۔۔۔ اس لئے پسٹل لے کر وہ گھر سے نکلنے لگا تھا تب اسے اپنے گھر کے پاس ایک کار کے روکنے کی آواز آئی

جب سندیلا پری کو گود میں لے کر گھر کے اندر داخل ہوئی تب معظم کی جان میں جان آئی۔۔۔ ورنہ تو اس سے محسوس ہو رہا تھا کہ اس اسے اگلا سانس تک نہیں آئے گا

“سندیلا”

اس سے پہلے وہ سندیلا کو اپنے گلے لگاتا سنریلا معظم کو دیکھ کر بھاگ کر اس کے پاس آئی اور گلے لگ گئی

“سندیلا آپ ٹھیک ہیں اور پری،،، یہاں دیں اس کو مجھے۔۔۔۔ کہاں تھی آپ، پلیز مجھے بتائیں”

وہ سندیلا کو خود سے الگ کرتا ہوا پری کو گود میں لینے کے بعد سندیلا کو پریشان نظروں سے دیکھتا ہوا پوچھنے لگا تب اسے اپنے گھر کے دروازے پر ایک شخص کھڑا ہوا نظر آیا جو معظم کو دیکھ رہا تھا

“کون ہو تم”

معظم مکمل طور پر بلال کی طرف متوجہ ہو کر اس سے پوچھنے لگا

“معظم انہوں نے کل رات میری اور پری جان بچائی ہے اگر ہم دونوں ابھی تمہارے سامنے سلامت کھڑے ہیں تو انہی کی وجہ سے”

بلال کے کچھ بولنے سے پہلے سندیلا معظم سے بولی جس پر معظم حیرت سے پہلے سندیلا کو پھر بلال کو دیکھنے لگا

“کل رات شاید تمہارے گھر میں کوئی زبردستی آ گیا تھا جس کی وجہ سے تمہاری وائف تمہاری بیٹی کو لے کر گھر سے نکل گئیں۔ ۔۔ اتفاق سے ان کا مجھ سے ٹکڑاؤ ہوا تو میں ان کو اپنے گھر لے گیا کیونکہ آدھی رات کو اور کوئی دوسرا آپشن نہیں تھا اب تمہاری وائف اور بیٹی باحفاظت تمہارے سامنے موجود ہیں”

جہاں سندیلا اور پری کو اپنے سامنے دیکھ وہ ریلکس ہوا تھا وہی بلال کی بات سن کر پریشان بھی ہوا تھا آخر کون تھا جو اس کے پیچھے اس کے گھر میں آنے کی ہمت کر سکتا ہے

“تمہارا بہت بہت شکریہ تم نے میری بیوی اور بیٹی کی مشکل وقت میں مدد کرکے مجھے اپنا قرض دار بنا لیا ہے زندگی میں اگر کبھی کسی مقام پر میری ضرورت پڑے تو بلا جھجھک مجھے یاد کرلینا”

معظم کی بات سن کر بلال نے اجازت طلب نظروں سے اسے دیکھا ایک نظر سندیلا اور سوئی ہوئی پری پر ڈال کر وہاں سے چلا گیا۔۔بلال کے جانے کے بعد معظم نے گھر کا دروازہ لاک کیا اور اگے بڑھ کر سندیلا کو گلے سے لگالیا

“اگر مجھے ذرا بھی انداز ہوتا میرے پیچھے اتنا کچھ ہو جائے گا تو میں آپ کو اور پری کو چھوڑ کر کبھی بھی نہیں جاتا بلکے مجھے آپ دونوں کو اسطرح چھوڑ کر جانا ہی نہیں چاہیے تھا۔۔ خدا نہ خاستہ آپ کو یا پری کو کچھ ہو جاتا میں تاعمر خود سے نظریں نہیں ملا پاتا”

پری کو گود میں لیے سندیلا کو سینے سے لگائے وہ اپنی بیوی اور بیٹی کو صحیح سلامت دیکھ کر خدا کا شکر ادا کرنے لگا

“میں بہت زیادہ ڈر گئی تھی معظم کل رات کو، تمہیں اندازہ نہیں ہے کل رات میں نے کیسے خوفزدہ ہو کر گزاری”

سندیلا معظم کے سینے سے سر ٹکائے اس کے حصار میں خود کو محفوظ تصور کرتی ہوئی اسے بتانے لگی

“میرے پاس ہوتے ہوئے آپ پر یا پری پر کبھی آنچ نہیں آنے دوں گا یہ میرا آپ سے وعدہ ہے۔۔۔ سندیلا یہاں دیکھ کر مجھے بتائیں کہ کون آیا تھا کل رات میرے پیچھے یہاں پر”

وہ سندیلا کو خود سے الگ کرتا ہوا اس سے پوچھنے لگا تو سندیلا نے معظم کی گود سے پری کو لے لیا

“میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا اس شخص کو، میں نہیں جانتی اسے”

سندیلا معظم سے بولتی ہوئی پری کو اس کی گود سے لے کر کمرے میں چلی گئی اور سوئی ہوئی پری کو کاٹ میں لٹایا۔۔ کیونکہ بلال کے فلیٹ میں وہ مسلسل جاگ رہی تھی۔۔۔ سندیلا واپس پلٹی تو معظم اس کے سامنے کھڑا سندیلا کو دیکھ رہا تھا

“مجھے اچھی طرح اندازہ ہو رہا ہے کہ آپ مجھ سے کیا چھپا رہی ہیں۔۔۔۔ آپ مجھ کو نہ بھی بتائے میں سمجھ گیا ہو کہ کل رات یہاں احتشام آیا تھا”

معظم کی بات سن کر سندیلا حیرت سے اسے دیکھنے لگی

“اتنا حیران ہو کر مجھے دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ اس کے علاوہ یہ حرکت میرا کوئی دوسرا دشمن کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ سب کو معلوم ہے کہ میرے گھر میں گھسنے کی جرت کرنے کے بعد ان کا کیا انجام ہو سکتا ہے۔۔۔ احتشام کا ابھی صحیح طریقے سے مجھ سے پالا نہیں پڑا لیکن آج کے بعد احتشام بھی مجھے اچھی طرح جان جائے گا”

معظم سندیلا کو بولتا ہوا کمرے سے نکلنے لگا تبھی سندیلا نے جلدی سے اس کا بازو پکڑا

“معظم پلیز تم مجھے اکیلا چھوڑ کر کہیں مت جاؤ۔۔۔ کل رات احتشام کو بھی اچھی طرح علم ہوگیا ہوگا کہ میں واپس اس کے پاس نہیں جانا چاہتی اب وہ دوبارہ کبھی کوئی ایسی حرکت نہیں کرے گا”

سندیلا معظم کے سینے سے لگتی ہوئی اسے بولی وہ معظم کو روکنا چاہتی تھی وہ نہیں چاہتی تھی کہ ابھی معظم پری یا اسے چھوڑ کر کہیں بھی جائے تبھی معظم سندیلا کا چہرے اپنے دونوں ہاتھوں کے پیالوں میں بھر کر اسے دیکھنے لگا پھر اسکو اپنے بازوؤں میں اٹھا لیا

ایسا نہیں تھا کہ وہ سندیلا کی بات کو سچ سمجھ بیٹھا تھا کہ واقعی احتشام ایسی کوئی حرکت دوبارہ نہیں کرے گا۔۔۔۔ بلکہ معظم نے سوچ رکھا تھا کہ وہ احتشام کو دوبارہ کوئی بھی ایسی حرکت کرنے کے قابل ہی نہیں چھوڑے گا لیکن یہ کام اس نے بعد کے لئے اٹھا کر رکھا تھا ابھی وہ خود بھی سندیلا کے پاس رہنا چاہتا تھا

جبھی وہ اسے اٹھا کر بیڈ پر لے آیا

“سوچ لیں استانی جی مجھے خود اپنے پاس روک رہی ہیں تو پھر پچھتانے کے لئے تیار ہو جائیں”

معظم سندیلا کو بیڈ پر لٹاتا ہوا معنیٰ خیری سے بولا

اس کی بات کا مفہوم سمجھ کر سندیلا خاموش رہی ہے تب معظم کی نظر سندیلا کے پاؤں پر پڑی جہاں خون جما ہوا تھا وہ فرسٹ ایڈ باکس لے کر آیا زخم کا معائنہ کرتا ہوا پایوڈین سے سندیلا کے پاؤں پر موجود جما ہوا خون صاف کرنے لگا

وہ صاف اندازہ لگا سکتا تھا کہ کل رات اس کی بیوی کس حالت میں پری کو لے کر گھر سے نکلی ہو گی صرف اور صرف احتشام کی کمینگی کی وجہ سے،، وہ سندیلا سے اس کے زخم لگنے کی وجہ یا پھر کل رات کیا ہوا کچھ بھی پوچھ کر اس کو پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا تبھی فرسٹ ایڈ باکس سائیڈ پر کرتا ہوا وہ اپنے ہونٹ سندیلا کے اجلے پاؤں پر رکھتا ہوا اسکی پنڈی تک لایا۔۔۔ معظم کی اس حرکت پر سندیلا اپنے آپ میں سمٹنے لگی۔۔۔ معظم نے نظر اٹھا کر سندیلا کی طرف دیکھا جیسے وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں اس سے اجازت طلب کر رہا ہوں

“میں پچھتانے کے لیے تیار ہو”

سندیلا نے بولنے کے ساتھ اپنی نظروں کا زاویہ دوسری سمت کرلیا تو معظم کے لبوں پر مسکراہٹ آئی

معظم کا جھکاؤ اپنے مکمل وجود پر محسوس کر کے سندیلا خود میں سمٹنے لگی۔۔۔ وہ سندیلا کے چہرے کے ایک ایک نقش کو چوم کر، مدہوشی کے عالم میں اسکی گردن پر جھگ گیا۔۔۔۔ سندیلا بند ہوتی آنکھیں کھول کر اسکی قربت کو محسوس کرنے لگی،، معظم کی پل پل بڑھتی دیوانگی اسے پتہ دے رہی تھی وہ اسے کافی انتظار کروا چکی ہے۔۔۔ جب ایک ایک کرکے شرم کے تمام تر پردے ہٹتے گئے تب سندیلا نے بیڈ پر رکھے اپنے دوپٹے کے سرے سے اپنا چہرہ چھپالیا

کل رات نہ صرف اس نے اپنے شوہر کے عہد کا پاس رکھا تھا بلکے دل سے اسے اپنا آپ بھی سونپا تھا

معظم ایک کے بعد ایک اپنے اور سندیلا درمیان حائل تمام تر فاصلے مٹاتا چلا گیا۔۔۔ تو پلکوں کی بھاڑ توڑ کر آنسو سندیلا کی آنکھوں سے نکل کر اس کے بالوں میں جذب ہونے لگے۔۔۔۔ چہرے سے دوپٹہ ہٹا کر جنہیں معظم اپنے ہونٹوں سے چننے لگا

****