Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel NovelR50401 Woh Howe Meharban (Episode 24)
Rate this Novel
Woh Howe Meharban (Episode 24)
Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel
“ایسے خاموش کروایا جاتا ہے چھوٹے بچے کو”
معظم شاید گھر ابھی آیا تھا
ہاتھ میں موجود شاپرز جن میں پری کے دودھ کے ڈبے اور ڈائپرز موجود تھے کارنر ٹیبل پر رکھتا ہوا خود پری کو کاٹ سے اٹھاتا ہوا سندیلا سے بولا، جو اپپنی کنپٹی دباتی ہوئی بےزار سی شکل بنا کر بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی
“تمہیں زیادہ اس کا ابا بننے کی ضرورت نہیں ہے اور یہ چیزیں لانے کی کیا ضرورت تھی تمہیں۔۔۔ میں نے تم سے کہا تھا کہ یہ سب لے کر آؤ تم، اگر مجھے اس کی کسی بھی چیز کی ضرورت ہو گی تو میں خود کہیں سے ارینج کر لوں گی”
معظم کے بولنے کی دیر تھی سندیلا بیڈ سے اٹھتی ہوئی معظم کو دیکھ کر غصے میں بولی جبکہ وہ خود بھی جانتی تھی کہ پری کا استعمال شدہ دودھ کا ٹن پیک اب ختم ہوچکا ہے اور ڈائپرز بھی پیکٹ میں دو یا تین بچے ہیں
“تیار بیٹھی ہوئی تھی کیا،، کہ میں آپ سے کچھ بولو اور آپ فوراً ہی لڑنا شروع ہو جائیں گیں۔۔۔ فائٹنگ کرنے کا موڈ ہو رہا ہے تو بے شک کر لیں، غصہ بھی اتار دیں مگر اب آئندہ غلط بات منہ سے مت نکالیے گا۔۔۔ مجھے اس کا ابا بننے کی ضرورت نہیں ہے کیوکہ میں اس کا ابا ہی ہوں اور ایک باپ کو اپنی اولاد کی ضرورتوں کا خیال خود ہی ہونا چاہیے،، پری کی کوئی بھی چیز ختم ہوگی تو میں آپ کے بولنے کا انتظار تھوڑی کروں گا”
وہ گود میں اٹھائے پری کا چہرا بےبی وائپ سے صاف کرتا ہوا سندیلا کو بولا۔۔۔ معظم کی گود میں آنے کی دیر تھی پری بالکل خاموش ہوچکی تھی
“اگر اتنا ہی باپ بننے کا شوق چڑھا ہے تو جلدی گھر لوٹا کرو نہ تاکہ سنبھالو اپنی بیٹی کو۔۔۔ ایک تو میں پورے گھر کا کام کرو، کھانا بناؤ اس کو سنبھالو مجھے تو لگتا ہی نہیں میں کوئی انسان ہوں”
سندیلا خود بھی چاہ رہی تھی کہ معظم جلدی سے گھر آئے اور پری کو روز کی طرح گود میں لےکر اس سے باتیں کرے اور جب وہ آ چکا تھا اور پری کو گود میں لے چکا تھا۔۔۔ تب بھی سندیلا سر درد کی وجہ سے غصے میں تیز آواز میں بولنے لگی۔۔۔ یا پھر نہ جانے اسے کس بات پر جھنجھلاہٹ ہورہی تھی
“تو آپ کو کون کہہ رہا ہے گھر کے کام کیا کریں آپ صرف میری پری کا خیال رکھا کریں،، پپو سے کہہ کر کل ہی کوئی کام والی لگوا دیتا ہوں اور یار میں کونسا سارا دن گھر سے باہر رہتا ہوں۔۔۔ لیکن سارا وقت تو گھر میں بیٹھا نہیں رہ سکتا دس طرح کے کام ہوتے ہیں جن کو کرنے کے لیے مجھے گھر سے باہر نکلنا پڑتا ہے”
معظم سندیلا کو دیکھ کر سمجھ گیا تھا وہ سر درد کی وجہ سے چڑچڑی ہو رہی ہے اس لیے نرمی سے اس کو سمجھاتا ہوا بولا
“کون سے کام ہوتے ہیں تمہیں گھر سے باہر، لوگوں کو مارنا پیٹنا لڑنا جھگڑنا ڈرانا دھمکانہ کوئی عزت والا ڈھنگ کا کام کرنے کے لیے باہر نہیں نکلتے ہو تم اور تم نے مجھے سمجھ کیا رکھا ہے موت نہیں پڑ رہی ہے مجھے تمہارے گھر کا کام کرتے ہوئے،، کام چور ہرگز نہیں ہوں میں، جو تمہیں میرے لئے شرافت بھائی سے کہہ کر کام والی رکھوانا پڑے”
سندیلا اب باقاعدہ اپنے دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر مخصوص بیویوں والے اسٹائل میں معظم پر برس رہی تھی معظم کے ساتھ پری بھی سندیلا کو دیکھ رہی تھی
“آپ جو بھی بول رہے ہیں بالکل ٹھیک بول رہی ہیں استانی جی، مجھے لگ رہا ہے آپ کے سر کا درد مزید بڑھ رہا ہے میں اور پری دوسرے کمرے میں چلے جاتے ہیں آپ یہاں بیڈ پر لیٹ کر تھوڑی دیر آرام کریں”
معظم کو سندیلا کے غصے پر اور اس کے باتیں سنانے کے انداز پر ہنسی آ رہی تھی مگر وہ ہنس کر اس کے غصے کو ہوا نہیں دینا چاہتا تھا اس لیے پری کو لے کر کمرے سے جانے لگا مگر تب ہی سندیلا کی آواز پر اس کے قدم رکے
“مجھے غصہ اپنے سر درد کی وجہ سے نہیں آرہا ہے بلکے تمہارے ان کپڑوں کو دیکھ کر آرہا ہے جو تم نے پچھلے چار دنوں سے اپنے اوپر چڑھائے ہوئے ہیں۔۔۔ چار دن پہلے نہائے تھے ناں تم،، خبردار جو آج رات کو تم بغیر شاور لیے یا ان کپڑوں میں میرے برابر میں آکر لیٹے”
اب کی بار سندیلا کی بات سن کر معظم کو اپنی ہنسی ضبط کرنا اور بھی مشکل لگا۔۔ مگر وہ ضبط کر گیا
“تھوڑی دیر بعد شاور لے کر ان کپڑوں کو تبدیل کر لیتا ہوں،، اب آپ بے فکر ہو جائیں استانی جی”
معظم اب کی بار بھی آرام سے سندیلا کو بولا جبکہ پری معظم کے کندھے پر سر رکھ کر اپنا چہرہ دوسری طرف کر چکی تھی شاید وہ اب مزید سندیلا کا غصہ برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں تھی
“اب تم شاور لینے کے بعد پورا واش روم گیلا کر کے آؤ گے۔۔ اففف میں کہاں پھنس گئی ہو”
سندیلا دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام بیڈ پر بیٹھ گئی جس پر پری معظم کے کندھے سے سر اٹھا کر سندیلا کو دیکھنے کے بعد معظم کو دیکھنے لگی،، معظم پری کے گال پر پیار کرتا ہوا دوبارہ اس کا سر اپنے کندھے پر رکھ کر سندیلا سے بولا
“یار کیا ہوگیا استانی جی آپ کو، شاور لینے کے بعد اچھی طرح سے واشروم کو وائپر کردو گا اب پلیز یہاں لیٹ کر تھوڑی دیر کے لئے اپنے دماغ کو سکون دے دیں”
معظم سندیلا کو پریشان دیکھ کر بولا اور پری کو لے کر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔ وہ جب تک کمرے میں موجود رہتا سندیلا اس کو دیکھ کر یونہی کسی نہ کسی بات پر غصہ کرتی
****
“میری پری اپنے بابا کو یاد کر رہی تھی۔۔ اب بابا اپنی پری کے پاس رہے گے”
معظم پری کو گود میں لے کر صوفے پر بیٹھتا ہوا اس سے باتیں کرنے لگا تبھی اسے باہر سے پپو آتا ہوا دکھائی دیا
“صبح میں کہاں غائب تھے تم اور یہ ہاتھ میں کیا ہے تمہارے”
پپو کو کمرے میں آتا ہوا دیکھ کر معظم اس کی غیر حاضری کا سبب پوچھنے لگا،، آج معظم ایک ضروری کام کی وجہ سے سارا دن گھر سے باہر تھا،، پپو گھر کے ایک دو چکر لگا لیتا تو اسے سندیلا اور پری کی طرف سے اطمینان رہتا
“صبح قاسم سیٹھ نے بلوایا تھا وہی موجود تھا وہ آپ کو بھی یاد کر رہے ہیں۔۔۔ کوکین سے بھرے ہوئے چھ بیگز۔۔۔
پپو کی آدھی بات پر ہی معظم نے اس کو آنکھیں دکھائی
“بھابھی جی کہا ہیں نظر نہیں آرہی ہیں، یہ رس ملائی میں ان کے لے کر آیا ہوں ان کو پسند ہے”
پپو فوراً بات بدل کر معظم سے سندیلا کا پوچھنے لگا۔ ۔۔ اور ہاتھ میں موجود شاپر فریج میں رکھنے لگا۔۔۔ اپنی پسند کے کھانے وہ سندیلا کو بتانے کے بعد، سندیلا سے اس کی پسند کی ڈشز کا بھی پوچھ چکا تھا
“سر میں درد ہے استانی جی کے اس لیے آرام کر رہی ہیں”
معظم سندیلا کے بارے میں بتاتا ہوا یہی سوچ رہا تھا کہ اسے قاسم سیٹھ سے کل ہی رابطہ کر لینا چاہیے
“لو جی کر لو بات پھر رات کے کھانے کا کیا ہوگا آج تو بھابھی جی نے اپنے ہاتھ کی بنی ہوئی نہاری کھلانا تھی ناں”
پپو نے معظم کی گود سے پری کو لیتے ہوئے افسوس سے کہا۔۔۔ پپو کی گود میں آنے کے ساتھ ہی پری نے رونا شروع کردیا تو معظم نے جھٹ سے پری ہو واپس اپنی گود میں بٹھا لیا اور خار بھری نظروں سے پپو کو دیکھتا ہوا گھرکتا ہوا بولا
“شرم آنی چاہیے پپو تجھے روز روز استانی جی سے فرمائشیں کر کے کھانا ٹھونستے ہوئے۔۔۔ جس طرح صبح شام تیرا یہ فرمائشی پروگرام چل رہا ہوتا ہے نہ کھانے بنوانے کا۔۔۔ مجھے لگتا ہے بہت جلد تو میرا گھر برباد کروائے گا”
معظم نے پری کو بہلانے کے ساتھ ساتھ پپو کو کوسا جس پر پپو کا منہ بن گیا
“اچھا اب زیادہ ذلیل کرنے کی ضرورت نہیں ہے معصوم سے پپو کو،، آج نہاری نہ سہی پنیر والی روٹی ہی سہی، بھابھی جی نے مجھے بتایا تھا انہیں وہ بھی بہت پسند ہے۔۔۔ ویسے معلوم نہیں لوگ کیسے روٹی کے اوپر پنیر رکھ کر کھا لیتے ہیں”
ُپپو واپس باہر جانے کے لئے سے صوفے سے اٹھا
“او جاہل عوام اسے پزا کہتے ہیں۔۔۔ اس سے پہلے کے تیری باتوں سے میرا بھی سر درد کرنے لگے پپو پلیز یہاں سے دفع ہوجا”
معظم گھورتا ہوا پپو بولا مگر پپو اپنی بےعزتی کا کوئی اثر لیے بغیر دانت نکالتا ہوا گھر سے باہر نکل گیا
“حد ہے یعنیٰ یہ سالا پپو اپنے آپ کو معصوم کہتا ہے، ارے معصوم تو میں بیچارہ ہوں،،، جو شادی کر کے بھی ابھی تک کنوراہ ہوں”
معظم منہ ہی منہ میں بڑبڑایا،، اس کی نظر اپنی گود میں بیٹھی ہوئی پری پر پڑی جو اب منہ بسور کر معظم کو دیکھ رہی تھی
“کیا ہوگیا میرے شونے بےبی، آج اتنا رونا کیوں آرہا ہے میری گڑیا کو، مما آج پھر نظر اتارنا بھول گئی پری کی،، ابھی بابا نظر اتارتے اپنی بیٹی کی جب تک یہ دیکھو”
اس سے پہلے پری رونا شروع کرتی معظم اپنا موبائل نکال کر پری کا من پسند سونگ پلے کرتا ہوا،، پری کو پرام میں بٹھا کر کچن میں چلا آیا تاکہ اس کا فیڈر تیار کر سکے
****
“پری کو گود میں اٹھائے اس نے بہت آہستہ سے کمرے کا دروازہ کھولا۔۔۔ سوئی ہوئی پری کو بےبی کاٹ میں لٹانے کے بعد آئستگی سے معظم نے الماری کھول کر اپنے کپڑے نکالے اور واش روم میں چلا گیا۔۔۔ اتنی احتیاط کے باوجود سندیلا کی آنکھ کھل چکی تھی، اس نے سوئی ہوئی پری پر نظر ڈالی اور واش روم کا بند دروازہ دیکھنے لگی جہاں سے پانی گرنے کی آواز آ رہی تھی۔۔ یعنی اس کے غصہ کرنے پر معظم اب شاور لے رہا تھا۔۔۔ کبھی کبھی طبیعت خراب ہونے یا چڑچڑے پن میں وہ احتشام پر بھی غُصہ کر جاتی تھی مگر احتشام اس کی طبعیت کی پرواہ کیے بنا سندیلا کو اچھی خاصی سنا دیا کرتا تھا اور بعض دفعہ تو سندیلا اپنا غصہ ختم کرکے خود اسی کو منا رہی ہوتی تھی جس پر احتشام اور بھی زیادہ مغرور ہو جاتا تھا
لیکن آج دو گھنٹے پہلے وہ معظم کو کس قدر بلاوجہ میں باتیں سنا رہی تھی اور وہ بغیر قصور کے اس کی باتیں سن رہا تھا۔۔ سندیلا بیڈ پر لیٹی سوچ رہی تھی تبھی واش روم کا دروازہ کھلا اور معظم باہر آیا۔۔۔ سندیلا کو جاگتا ہوا دیکھ کر وہ مسکرایا تو سندیلا اس کی مسکراہٹ کے جواب میں خاموشی سے اسے دیکھنے لگی
“سر کا درد کچھ بہتر ہوا استانی جی”
وہ بیڈ پر بیٹھتا ہوا ہلکا سا سندیلا پر جھکا اس کے سر پر اپنا ہاتھ رکھتا ہوا پوچھنے لگا
“وہ تو تمہیں اچھی خاصی باتیں سنا کر ہی ختم ہو گیا تھا”
سندیلا اپنے سر پر سے معظم کا ہاتھ ہٹاتی ہوئی بولی جس پر وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔ اب وہ ہاف آستین کی ٹی شرٹ میں سے چھلکتے ہوئے اسکے مضبوط بازو دیکھنے لگی
“اف ساری بینڈیچ گیلی ہو چکی ہے تمہاری،، پانی اندر جانے کی وجہ سے زخم خراب ہی نہ ہو جائے۔۔۔ کس قدر لاپرواہ ہو تم معظم”
وہ معظم کے بازو پر بندھی ہوئی بینڈیج پر ہاتھ پھیرتی ہوئی پریشان ہو کر بولی شاید وہ بھول چکی تھی کہ معظم اسی کے کہنے پر شاور لے کر آیا تھا
“چھوٹی چھوٹی باتوں پر اتنا پریشان مت ہوا کریں استانی جی، اب یہ زخم بالکل ٹھیک ہو چکا ہے”
وہ سندیلا کا ہاتھ اپنے بازو سے ہٹا کر ہونٹوں پر لگاتا ہوا بولا پھر مزید سندیلا کے اوپر جھک کر اس کا چہرہ دیکھنے لگا وہ اس کی پرواہ کر رہی تھی تبھی ایسا بول رہی تھی۔۔۔ یہ بات معظم کو خوشی دینے لگی
“کیا تم واقعی غنڈے ہو اور سارے لوگ تم سے ڈرتے ہیں”
سندیلا بے حد قریب سے اپنے اوپر معظم کا جھگا ہوا چہرہ دیکھ کر اس سے پوچھنے لگی
“آپ کو کیو شک ہو رہا ہے کہ جیسا میں نظر آتا ہوں ویسا ہو نہیں”
وہ آئستہ سے سندیلا کے بالوں میں انگلیاں پھیرتا ہوا الٹا اسی سے سوال کرنے لگا
“اس لیے شک ہو رہا ہے مجھ پر تو تمہارا کوئی خاص روعب چل نہیں رہا، معلوم نہیں کہاں کے غنڈے ہو تم”
سندیلا غور سے معظم کا چہرہ دیکھتی ہوئی بولی جو اب ایک ابرو اچکا کر اسے دیکھنے لگا
“پہلے بتا دیتی ناں کہ آپ کو روعب جمانے والا شوہر پسند ہے،، آج آپ اپنے شوہر کے روعب کی ایک جھلک دیکھ ہی لیں استانی جی”
معظم اپنے ہاتھوں کی انگلیاں جو کہ وہ نرمی سے اب تک سندیلا کے بالوں میں پھیر رہا تھا،، سختی سے اس کے بالوں کو اپنی مٹھی میں بھر کر اس کا چہرہ اونچا کرتا ہوا سندیلا کی گردن پر جھکا
“معظم یہ اچانک کیا ہو گیا ہے تمہیں، کیا کر رہے ہو۔۔۔ چھوڑو مجھے”
اس کی بڑھی ہوئی شیو کے ساتھ ساتھ اسکے دانتوں کی چبھن اپنی گردن اور پھر کندھے پر محسوس کرتی ہوئی سندیلا گھبرا کر بولی۔۔۔ مگر سندیلا کے بولنے سے کوئی خاص فرق نہیں آیا تھا جب وہ اس کی گردن سے مزید تھوڑا نیچے جھکا تو وہ معظم کے کندھوں پر اپنے دونوں ہاتھ رکھتی ہوئی اسے پیچھے ہٹانے لگی
“ابھی سے ڈر گئی ہیں استانی جی، پورا جلوہ تو دیکھ لیں اپنے اس موالی شوہر کا”
سندیلا کے احتجاج کو خاطر میں لائے بغیر اس کی ٹانگوں پر اپنی ٹانگ رکھتا ہوا، وہ اب سندیلا کے ہونٹوں پر جھک چکا تھا
جنونی انداز میں اس کے ہونٹوں پر جھکا ہوا وہ اپنی پوری شدتیں سندیلا پر ظاہر کرنے لگا۔۔۔ سندیلا تو جیسے روعب والی بات بول کر پچھتائی تھی وہ اس وقت بالکل بھی اسکی نہیں مان رہا تھا نہ ہی اسے ہاتھ پاؤں چلانے دے رہا تھا۔۔۔ جب اسے خود ہی سندیلا کے ہونٹوں پر رحم آیا تو معظم نے خود ہی اپنے ہونٹوں سے اسکے ہونٹوں سے جدا کیا
“تم نہایت ہی بدتمیز اور بےشرم انسان ہو۔۔۔ ایک تو میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے اوپر سے تم”
سندیلا اب معظم کے بھاری وجود کو اپنے اوپر سے ہٹانے کے لیے اسے دھگا دینے لگی جس پر معظم ٹس سے مس نہیں ہوا
“کون سی والی طبعیت خراب ہے آپ کی، شٹ یار وہ والی”
معظم سندیلا کو ڈائٹ فل نظروں سے دیکھتا ہوا افسوس کر کے بولا، جس پر سندیلا پورا زور لگا کر اسے اپنے اوپر سے ہٹانے لگی
“تم غنڈے اور موالی ہونے کے ساتھ اچھے خاصے بے ہودہ اور چھچھورے انسان ہو خبردار جو تم نے مجھ سے کوئی بھی فضول قسم کی بات کی”
سندیلا کے پیچھے ہٹانے پر اب وہ آرام سے پیچھے ہٹ گیا۔۔۔ معظم کے ہٹتے ہی سندیلا اٹھنے لگی مگر معظم نے اسے دوبارہ اپنے برابر میں بیڈ پر لٹا دیا
“ارے یار لیٹ جائیں کون سا میں چیک کر رہا ہوں۔۔۔ سوری سوری اب کوئی فضول بات نہیں۔۔۔ چلیں یہ بتائیں شام میں اتنا غصہ کس بات پر آ رہا تھا آپ کو”
اب وہ واقعی سنجیدگی سے سندیلا کو دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“بہت بری طرح کنفیوز ہو چکی ہوں اپنے خود کے مستقبل کو لے کر”
سندیلا اٹھ کر بیٹھ گئی اب وہ معظم سے زیادہ سیریس تھی تبھی سچائی بیان کرتی ہوئی بولی
“دل کیا کہہ رہا ہے آپ کا”
معظم سمجھ چکا تھا وہ ابھی تک خود کو احتشام کے اور اس کے بیچ پھنسا ہوا محسوس کر رہی ہے۔۔۔ وہ سندیلا کی بات کا برا مانے بغیر یا غصے کیے بغیر سندیلا سے اس کے دل کی بات جاننے لگا
“دل ہی تو کنفیوز ہو چکا ہے بہت بری طرح سمجھ میں نہیں آ رہا کیا کروں۔۔۔ احتشام کے حق میں فیصلہ نہ دینا اس سے بھی تو بےایمانی ہو گی ناں”
سندیلا کو اس وقت اپنے شوہر کی نہیں ایک دوست کی ضرورت تھی وہ معظم میں ہی اپنا دوست تلاش کرتی ہوئی اس سے اپنے دل کی بات شیئر کرنے لگی۔۔۔ سندیلا کی بات سن کر معظم بھی اٹھ کر بیٹھ گیا
“اس نے کونسا آپ کے اور اپنے رشتے میں ایمانداری نبھائی ہے، اگر وہ آپ کے اور اپنے رشتے سے اتنا ہی مخلص ہوتا تو برے سے برے وقت میں بھی آپ سے کبھی اپنا تعلق ختم نہیں کرتا۔۔۔ اس نے آپ سے اپنا تعلق اس وقت ختم کیا، جس وقت آپ اسی کی اولاد پیدا کرنے جا رہی تھیں،، جس وقت آپ کو اس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی”
معظم کی باتیں سن کر سندیلا خاموشی سے اسے دیکھنے لگی
“تو تم یہ چا رہے ہو کہ اب بات کو،، پورے طریقے سے صرف تمہارے فیور میں ہی جانا چاہیے”
سندیلا جانچتی ہوئی نظروں سے معظم کو دیکھ کر پوچھنے لگی
“ہاں میں یہی چاہ رہا ہوں کہ اب آپ کی طرف سے بات پوری پوری میری فیور میں ہی جائے۔۔۔ اس معاملے میں آپ مجھے خود غرض سمجھ لیں۔۔۔ احتشام کے لیے بےایمانی ہوگی یہ سوچ کر کنفیوز ہیں آپ اور میرے پاس سے اس کے پاس جاکر دل نہیں دکھے گا آپ کا، سچ سچ بتائے مجھے سندیلا آپکو ذرا بھی افسوس نہیں ہوگا مجھ سے رشتہ ختم کر کے اس کے پاس جاتے ہوئے”
معظم کی بات سن کر سندیلا کا دل بری طرح تڑپ اٹھا،، وہ کنفیوز ہی معظم سے اپنے اور پری کے ساتھ رویہ کو دیکھ کر ہوئی تھی۔۔۔ پہلی بار معظم نے اسے استانی جی کی بجائے سندیلا کہہ کر پکارا تھا پہلی بار وہ سندیلا کو کتنا پیارا لگا تھا سندیلا اسے بتا نہیں سکی،، الٹا بے بسی سے اس نے معظم کا گریبان پکڑ لیا
“کیوں عادی بنا رہے ہو تم مجھے اور میری بیٹی کو اپنا،، کیوں اتنا پیار دے کر ہم دونوں ماں بیٹی کی عادتیں بگاڑ رہے ہو تم۔۔۔ کیوں کر رہے ہو تم ہم دونوں کے ساتھ ایسا سلوک بتاؤ معظم”
سندیلا معظم کا گریبان پکڑ کر آنسو بہاتی ہوئی بے بسی سے اس سے پوچھنے لگی تو معظم نے اسے اپنے مضبوط بازو کے گھیرے میں لے لیا
“جن سے محبت کی جاتی ہے ان کی عادتیں بگڑنے پر،، محبت کرنے والے کو کوئی خاص فرق نہیں پڑتا استانی جی۔۔۔ آپ کو معلوم نہیں شاید آپ میرے لئے شروع دن سے کبھی بھی اجنبی نہیں رہی ہیں آپ کا یہ چہرہ پہلی ملاقات سے ہی مجھے کسی کی یاد دلاتا رہا ہے،، میرے دل نے کبھی اس چہرے کو بہت زیادہ چاہا تھا۔۔۔ لیکن آپکے اور میرے نکاح کے بعد میرے دل نے بناء کسی شرط کے یا غرض کے صرف اور صرف آپ سے محبت کی ہے پرخلوص اور سچی محبت”
معظم سندیلا کا سسکتا ہوا نازک وجود اپنے بازوؤں میں بھر کر اسے بولنے لگا۔۔۔ سندیلا کو اس کی مکمل بات سمجھ میں نہیں آئی تھی بس اتنا سمجھ میں آیا تھا کہ اس نے اپنی محبت کا اعتراف کیا ہے
“مجھے آپ سے ایسا رشتہ نہیں بنانا کہ ایک دو رات آپ کو استعمال کرکے زندگی بھر کے لئے خود سے آپ کو جدا کر دو۔۔۔ دوبارہ احتشام کا خیال اپنے دل میں لانے سے پہلے میری موت کی دعا کریئے گا اپنی زندگی میں، میں آپ کو اپنے آپ سے ہرگز جدا نہیں کرنے والا،، نہ آپ کو اور نہ ہی پری کو”
معظم سندیلا کو بولتا ہوا بیڈ پر لٹا کر اس پر جھکا تو سندیلا نے اس کا گریبان چھوڑا اس کی آنکھیں آنسوؤں سے اب بھی بھری ہوئی تھی
“تم پری کو اتنا پیار کیسے دے سکتے ہو وہ تمہاری نہیں احتشام کی بیٹی ہے”
سندیلا معظم کا چہرہ دیکھتی ہوئی بولی اس کی آنکھوں میں مزید آنسوؤں کی روانی آگئی
“پری سے محبت کرنے کا سب سے بڑا جواز یہی ہے کہ وہ آپ کے وجود کا حصہ ہے۔۔۔ آج آپ دوسری بار ایسی بات کہہ میرا دل دکھا چکی ہیں۔۔ آئندہ کبھی ایسا مت کہئے گا کے پری میری اولاد نہیں”
معظم سندیلا کے آنسوؤں کو صاف کرتا ہوا بولا
“پری کو میں اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھوں گا،، پری سے اور آپ سے ساری زندگی محبت کروں گا بدلے میں مجھے صرف آپ سے وفاداری چاہیے اپنے لئے”
معظم نے بولتے ہوئے سندیلا کی پیشانی پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔۔۔۔ اس محبت بھرے لمس سے سندیلا کی پیشانی جگمگا اٹھی سندیلا نے بھی دل میں عہد کیا تھا کہ وہ مرتے دم تک اس سے وفاداری نبھائے گی
****
