Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel NovelR50401 Woh Howe Meharban (Episode 36)
Rate this Novel
Woh Howe Meharban (Episode 36)
Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel
“سوال تو نہیں کرو گے سوال ہم کریں گے تم صرف سوال کا جواب دو گے۔۔۔ یہ ذیشان کے دوست کا بنگلہ ہے جہاں ذیشان رہتا تھا لیکن اس وقت تم یہاں موجود ہو تو کیا رشتہ ہے تمہارا ذیشان سے”
ان میں سے ایک آدمی جس کے ہاتھ میں پستول تھی احتشام سے پوچھنے لگا احتشام نے گھبرائی ہوئی فائقہ کو دیکھا پھر اس آدمی کو بولا
“وہ میرا بہنوئی ہے۔۔۔ کیا کیا ہے اس نے”
احتشام کا جواب سن کر دوسرے آدمی نے ایک زور دار مُکا احتشام کے منہ پر دے مارا جس سے احتشام پیچھے صوفے پر جا گرا
“بھائی”
احتشام کہ گرنے پر فائقہ چیختی ہوئی احتشام کے جانب لپکی جبکہ پری کو گود میں لیے ہوئی سندیلا پریشان ہوگئی اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہاں کیا ہورہا تھا
“کیا کیا ہے اس نے، وہ سالا الو کا پٹھا ہم دونوں کو بیوقوف بنا کر بیس بیس لاکھ روپے لے کر اس شہر سے فرار ہو چکا ہے، بزنس کرنے کا کہہ کر چونا لگا دیا ہے اس نے ہم دونوں کو۔۔۔ جلدی سے بتاؤ وہ کس شہر میں موجود ہے اس وقت ورنہ ہم تجھے یہی ٹھوک کر چلے جائیں گے”
وہ آدمی احتشام کو فائقہ کے شوہر کا کارنامہ بتانے کے بعد احتشام کی کنپٹی پر اسلحٰہ رکھتا ہوا احتشام سے ذیشان کا پتہ پوچھنے لگا
“وہ چند دنوں پہلے میری بہن کو میرے پاس چھوڑ کر ضروری کام کے سلسلے میں شہر سے باہر جانے کا بول کر گیا تھا مگر وہ کس شہر جارہا ہے یہ اس نے نہیں بتایا تھانہ مجھے نہ یری بہن کو۔۔۔ نہ ہی اس نے ابھی تک میری بہن سے کوئی کانٹیکٹ نہیں کیا ہے میں بالکل سچ بول رہا ہوں”
اپنی کنپٹی پر پستول دیکھ کر احتشام کی سٹی بالکل گم ہو چکی تھی وہی فائقہ نے رونے ہوئے آیتوں کا ورد شروع کردیا جبکہ اس صورتحال سے سندیلا بھی خوفزدہ ہوچکی تھی
“یعنی وہ یہاں سے ہمارے پیسے لے کر رفوچکر ہو چکا ہے، ہمارے پیسے تو اب گئے تو بھی کلمہ پڑھ لے”
دوسرا آدمی احتشام کے منہ پر زوردار تپھڑ رسید کرتا ہوا بولا۔۔۔ تو جلدی سے فائقہ نے اس آدمی کے آگے اپنے ہاتھ جوڑ دیے
“میرے بھائی بالکل صحیح بول رہے ہیں ہم دونوں کو واقعی علم نہیں ہے کہ ذیشان کہاں ہے، آپ دونوں کا جو بھی نقصان ہوا ہے وہ میں اپنے زیورات پیسوں سے ادا کر دیتی ہوں مگر خدا کا واسطہ ہے میرے بھائی کی جان بخش دیں”
وہ دونوں شکل سے ہی کوئی خطرناک آدمی لگ رہے تھے اور دونوں کے ہاتھ میں ہتھیار بھی موجود تھے جبھی احتشام کی جان بچانے کی خاطر فائقہ کو اپنے پاس موجود رقم اور زیور کی قربانی دینا پڑی جو اس نے ذیشان نے بھی چھپائے ہوئے تھے
ایک آدمی فائقہ کے ساتھ جیولری اور اماؤنٹ لینے کے لئے دوسرے کمرے میں گیا جبکہ دوسرا آدمی ویسے ہی احتشام کی کنپٹی پر پستول رکھ کر کھڑا تھا۔۔۔ سندیلا بھی وہی اس آدمی کے ہاتھ میں پستول دیکھ کر بالکل خاموش پری کو خود میں لیے گھڑی تھی تھوڑی دیر میں فائقہ اور وہ آدمی واپس کمرے میں آئے
“او بی بی یہ زیور اور پیسہ کُل ملا کر آدھی رقم بھی نہیں بن رہہی۔۔۔ کیا بیوقوف سمجھ رکھا ہے تم نے ہمیں”
ان میں سے ایک آدمی فائقہ کو غصے میں دیکھتا ہوا بولا جبکہ دوسرے آدمی نے احتشام کو بری طریقے سے مارنا شروع کر دیا
“پلیز میرے بھائی کو چھوڑ دیں۔۔۔ جتنی رقم اور جیولری میرے پاس موجود تھی وہ میں آپ لوگوں کو دے دیں چکی ہو پلیز ہمیں یہاں سے جانے دیں”
فائقہ روتی ہوئی باقاعدہ ان دونوں کے آگے ہاتھ جوڑ کر بولی تو وہ دونوں آدمی آنکھوں ہی آنکھوں میں سندیلا اور فائقہ کو دیکھ کر کچھ اشارہ کرنے لگے پھر نیچے گرے ہوئے احتشام کو گریبان سے پکڑ کر اٹھایا
“دیکھ بھائی ہم بھی جانتے ہیں اس سارے قصّے میں تیرا کوئی قصور نہیں مگر نقصان ہمارا بھی ہوا ہے جو ان زیور اور پیسوں سے پورا نہیں ہو سکتا۔۔۔ اب اگر تو اپنی جان بچا کر یہاں سے جانا چاہتا ہے تو ان دونوں میں سے کسی ایک لڑکی کو یہی چھوڑ کر تجھے جانا ہوگا، بس ہم تجھے اتنی ہی رعایت دے سکتے ہیں”
اس آدمی کی بات سن کر احتشام سمیٹ فائقہ اور سندیلا کو بھی ایک پل کے لئے سانپ سونگھ گیا
“بب۔۔۔ بھائی یہاں مجھے دیکھیں میں آپ کی چھوٹی بہن، آپ کی فائقہ”
احتشام حیرت سے کھڑی سندیلا کو دیکھ رہا تھا تب فائقہ روتی ہوئی احتشام کو اپنی طرف متوجہ کر کے بولی۔۔۔ احتشام خاموشی سے فائقہ کا ہاتھ پکڑ کر کمرے سے نکلنے لگا
“احتشام نہیں۔۔۔۔ احتشام”
سندیلا صدمے سے زور سے چیخ کر اسے پکارنے لگی مگر وہ فائقہ کو اپنے ساتھ لے کر وہاں سے جا چکا تھا
“ہاں تو بی بی اب تم بتاؤ، پہلے ہم دونوں میں سے کس کا دل خوش کرو گی”
وہ دونوں آدمی سندیلا کے قریب آرہے تھے ان میں سے ایک آدمی سندیلا سے پوچھنے لگا جو پری کو مضبوطی سے خود میں بھینچ کر پیچھے ہٹنے لگی۔۔۔
آچانک فائر چلنے کی آواز پر جہاں سندیلا کا دل دہل گیا اور پری رونے لگی وہی وہ دونوں آدمی آنے والے شخص کو دیکھنے لگے جو کہ ہاتھ میں پستول لئے ہوا میں فائر کرنے کے بعد پستول کا رخ اب ان دونوں کی طرف کئے ہوئے تھا
“معظم”
سندیلا وہاں معظم کو دیکھ کر اس کا نام پکارتی ہوئی اس کی جانب بھاگی
“معظم بھائی آپ یہاں”
وہ دونوں بھی معظم کو وہاں دیکھ کر حیرت زدہ ہو کر بولے۔۔۔ معظم نے اپنی طرف آتی ہوئی سندیلا کو غُصے سے گھور کر دیکھا تو سندیلا معظم سے چند قدم فاصلے پر ہی رہ گئی اور پری وہاں معظم کو دیکھ کر ایک دم خوش سی اس کی طرف اپنے ہاتھ بڑھانے لگی وہ کافی دیر سے نچلا ہونٹ منہ سے باہر نکالے رونے والی شکل بنا کر سندیلا سے چپکی ہوئی تھی
“ہمت کیسے ہوئی تم دونوں کی میری بیوی پر بری نظر ڈالنے کی”
معظم سندیلا اور پری کو نظر انداز کرکے ان دونوں آدمیوں کی طرف بڑھتا ہوا ان دونوں سے بولا
“بیوی۔۔۔ یہ آپ کی بیوی ہے بھائی قسم لے لیں، جو ہم دونوں میں سے کسی کو یہ بات معلوم ہو کہ یہ آپ کی بیوی ہے۔۔۔ ہم دونوں تو یہاں پر ذیشان کو ڈھونڈتے ہوئے آئے تھے لیکن اس کا بہنوئی سالا اپنی بہن کو لے کر انہیں یہاں چھوڑ کر چلا گیا۔۔۔ آپ بھابھی سے خود پوچھ سکتے ہیں ہم دونوں میں سے کسی نے ان کے ساتھ کوئی بد سلوکی نہیں کی”
وہ دونوں ہی معظم کو اپنی طرف بڑھتا ہوا دیکھ کر باری باری اپنی صفائیاں دے رہے تھے
“بدسلوکی نہیں کی مگر ایسا کرنے کا سوچا تھا”
معظم نے بولتے ہوئے غصے میں ان دونوں کو بری طرح پیٹنا شروع کر دیا۔۔۔ سندیلا معظم کو اس قدر غصے میں دیکھ کر ڈر گئی وہی پری نے بھی رونا شروع کردیا
وہ دو ہٹے کٹے آدمی ہونے کے باوجود، ہاتھ میں ہتھیار ہوتے ہوئے بھی معظم کے تپھڑ اور مُکّے برداشت کر رہے تھے ساتھ ہی معظم سے معافیاں بھی مانگ رہے تھے، مگر معظم ان کی سنے بغیر ایک ایک کر کے ان دونوں کو بری طرح پیٹے جا رہا تھا یہاں تک کہ وہ معظم کے پیر پکڑتے ہوئے اس سے معافی مانگنے لگے تب معظم نے ان دونوں کو گریبان سے پکڑ کر باہر دھکا دیتے اپنی نظروں سے دور کیا
“معظم”
ان دونوں آدمیوں کے وہاں سے جانے کے بعد سندیلا ایک بار پھر اس کا نام پکارتی ہوئی معظم کی طرف بڑھی۔۔۔۔ معظم اسے کچھ بولے بناء آنکھیں دکھاتا ہوا روتی ہوئی پری کو اس کی گود سے لینے لگا
“میری جان،، بابا۔۔۔ یہاں دیکھو، میں پری کا بابا”
پری شاید معظم کے غصے والے روپ کو دیکھ کر ڈر گئی تھی تو معظم اسے پیار کرتا ہوا بہلانے لگا وہ خاموش نییں ہوئی تو معظم نے اسے سینے سے لگا لیا لیکن سندیلا کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر معظم کو مزید غصہ آنے لگا
“گھر چلیں”
وہ سندیلا کو بولتا ہوا پری کو گود اٹھائے وہاں سے نکل گیا۔۔۔ تو سندیلا بھی خاموشی سے اس کے پیچھے چل دی
اسے معظم کا اپنے لیے غصہ سمجھ نہیں آرہا تھا مگر اس نے خدا کا شکر ادا کیا کہ معظم وہاں پر بروقت پہنچ گیا تھا ورنہ نہ جانے آج کیا ہوتا ساتھ ہی اسے احتشام سے نفرت محسوس ہوئی مگر وہ اس گھٹیا آدمی کے بارے میں سوچنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔ اسے ٹینشن تھی تو معظم کے غصے کی جو اس وقت تو خاموش تھا اب نہ جانے وہ گھر پہنچ کر اس پر کتنا غصہ کرتا
*****
گھنٹہ بھر گزر گیا تھا اسے سندیلا اور پری کو گھر لائے ہوئے مگر تب سے ہی وہ سندیلا سے بات نہیں کر رہا تھا پری مسلسل معظم کے پاس موجود تھی اور سندیلا اکیلی بیڈ روم میں بیٹھی ہوئی تھی
سندیلا نے بیڈ روم سے نکل کر دوسرے کمرے میں ذرا سا جھانکا تو معظم، پری کو پیالی میں موجود سریلیک کھلاتا ہوا دکھا جو پری معظم سے کھانے کے ساتھ ساتھ اپنے ہاتھ میں موجود سوفٹ ٹوائے سے کھیل رہی تھی۔۔۔ سندیلا دونوں باپ بیٹی کو مگن انداز میں دیکھنے لگی
“وہاں کھڑے ہو کر چھپ چھپ کر مت دیکھیں یہاں آ کر پری کا ڈریس چینج کروائیں”
معظم کی آواز سن کر سندیلا کے قدم ایک دم چونکی، وہ اس کو چوری چھپے دیکھنا محسوس کر چکا تھا تبھی سندیلا کمرے میں آئی اور اس کی گود سے پری کو لیتی ہوئی بولی
“مجھے وہاں پر احتشام نے دھوکے سے بلوایا تھا معظم”
سندیلا کے بولنے کی دیر تھی معظم ایک دم صوفے سے اٹھ کر کھڑا ہوا سندیلا جلدی سے پیچھے ہٹی،، آج وہ صرف اور صرف اس کو ڈرائے جا رہا تھا
“میں نے کچھ پوچھا آپ سے جو آپ بول رہی ہیں، واپس جائیے کمرے میں اور جو کہا ہے وہ کریں”
وہ ابھی بھی سندیلا کو غُصّے میں دیکھ کر بولا تو سندیلا پری کو لے کر کمرے سے چلی گئی لیکن اب اسے معظم کے اوپر غصہ آ رہا تھا کیونکہ وہ اس کی بات نہیں سن رہا تھا صرف اس پر غصہ کیے جا رہا تھا
سندیلا نے پری کا منہ واش کروانے کے بعد اس کا ڈریس چینج کروایا ساتھ ساتھ اس کا ڈائپر بھی چینج کرنے لگی تب اسے باہر سے پپو کی آواز سنائی دی۔۔۔ وہ معظم کو ٹیکسی کا نمبر اور لڑکے کا حلیہ بتا رہا تھا جو دوپہر میں اس کے گھر آکر سندیلا کو غلط بیانی کرتا ہوا اسے اپنے ساتھ لے گیا تھا۔۔۔ سندیلا پری کو گود میں اٹھا کر کمرے سے باہر نکلی
“آج تم میری بات سنو گے یا پھر مجھ پر غصہ ہی کرتے رہو گے”
پپو کو اشارے سے سلام کرنے کے بعد سندیلا اب نڈر لہجے میں معظم کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی۔۔۔۔ اس نے نہ اب پپو کی موجودگی کی پرواہ کی تھی اور نہ ہی معظم کا غُصّے میں گھورنے کا نوٹس لیا تھا۔۔۔ بلکہ وہ بھی معظم کو اسی طرح گھور کر دیکھ رہی تھی
“آ جاؤ میرا بیٹا، ہم دونوں معصوم سے چچا بھتیجی باہر چلتے ہیں۔۔۔۔ یہاں تو کچھ گرج اور چمک کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔۔۔ یہ نہ ہو طوفان کی زد میں ہم دو معصوم آجائے”
پپو پری کو سندیلا کی گود سے لیتا ہوا بولا اور گھر سے باہر نکل گیا
“کون سی بات سنانا چاہتی ہیں آپ”
ُپپو کے جانے کے بعد معظم یونہی صوفے پر بیٹھا ہوا سندیلا سے پوچھنے لگا جو کہ اس کے سامنے کھڑی ہوئی اسے گھور رہی تھی
“دوپہر میں جب اس لڑکے نے مجھے بولا کہ تمہیں گولی لگی ہے اور محلے کے دوسرے لڑکے تمہیں ہوسپٹل لے کر گئے ہیں تو میں بہت زیادہ ڈر گئی تھی معظم، جبھی اس لڑکے کے کہنے پر بناء کچھ سوچے ہوسپٹل چلی گئی”
سندیلا کو اندازہ ہو چکا تھا معظم اس پر کسی غیر انجان لڑکے کے ساتھ اس طرح جانے پر ہی غصہ میں تھا
“مجھے اپنے منہ سے اپنی بے وقوفی کا قصّہ سنا کر مزید غصہ مت دلائے سندیلا۔۔ کوئی آپ سے آ کر کچھ بھی کہے گا،، آپ اسکی بات مان کر اس کے ساتھ یونہی چل پڑے گیں۔۔ موبائل پر کال نہیں کرسکتی تھی آپ مجھے یا پھر پپو کو۔۔۔ جس دن پپو آ کر آپ سے یہ کہیں کہ معظم کو گولی لگی ہے تب یقین کرلیے گا مگر خدارا آئندہ آج والی بےوقوفی اب دوبارہ مت کریے گا”
معظم کی بات سن کر سندیلا نے تڑپ کر اس کے ہونٹوں پر اپنا ہاتھ رکھا
“میں صرف وہاں پر تمہارے لیے گئی تھی معظم، اللہ نہ کرے تمہیں کبھی بھی کچھ ہو۔۔۔ تم اُس وقت میری دلی کیفیت نہیں سمجھ سکتے تھے، جب اس لڑکا نے آکر مجھے یہ بولا کے تمہیں گولی لگ گئی ہے مجھے آگے سے اور کچھ سنجھ نہیں آیا”
سندیلا جو کہ معظم کے ہونٹوں پر اپنا ہاتھ رکھے آدھی اس پر جھکی ہوئی تھی۔۔۔ معظم نے پورا اسے اپنی طرف کھینچا جس پر وہ اپنا توازن برقرار نہیں رکھ پائی اور معظم پر گر گئی
“آپ کو وہاں پر موجود دیکھ کر میرے دل کی کیفیت کیا ہوئی تھی یہ آپ کو اندازہ ہے۔۔۔ اللہ نہ کرے اگر آپ کو یا پری کو کچھ ہو جاتا تو میں کیا کرتا”
معظم صوفے پر ریلکس بیٹھا ہوا اپنے اوپر جھکی ہوئی سندیلا کا چہرہ غور سے دیکھ کر پوچھنے لگا
“اتنا پیار کرتے ہو اگر تو پھر اتنی دیر سے ناراض کیوں ہو اپنی استانی جی سے”
آج احتشام کی حرکت پر سندیلا کے دل میں معظم کی قدر و قیمت اور زیادہ بڑھ گئی تھی وہ اپنے دونوں ہاتھ اس کے گال پر رکھے اس کا چہرہ تھامتی ہوئی معظم سے پوچھنے لگی
“ناراض ہونے کی پوزیشن میں اب کہا چھوڑا ہے آپ نے مجھے استانی جی، تھوڑا سا اور نزدیک آ کر اپنے موالی کی بچی کُچی ناراضگی کو بالکل ختم کردیں”
معظم سندیلا کے ہونٹوں پر اپنی نظریں مرکوز کرتا ہوا بولا
“بہت زیادہ مزے لگے ہوئے ہیں تمہیں چھوڑو مجھے فوراً،، ابھی شرافت بھائی پری کو لے کر آتے ہوں گے”
سندیلا نے معظم سے بولتے ہوئے اس کے اوپر سے اٹھنا چاہا تو سندیلا کے وجود کو معظم نے اپنی گرفت میں لیا اسے صوفے پر لٹاتا ہوا اس پر جھکا
“آپ کے شرافت بھائی کو اندازہ ہے کہ بادلوں کے گرجتے بجلی کے چمکنے کے بعد طوفان آئے نہ آئے آگے کیا ہونا ہے۔۔۔ وہ پاگل نے ہے جو جلدی واپس آکر مجھ سے جوتے کھائے”
معظم نے بولتے ہوئے سندیلا کی تھوڑی پر اپنے ہونٹ رکھے تبھی سندیلا کو کچھ یاد آیا
“معظم تمہیں میرے اس گھر میں موجودگی کا کیسے معلوم ہوا”
سندیلا کی بات سن کر معظم کی نظریں بےساختہ اس پینڈینٹ پر گئی جو کہ اس وقت سندیلا کے گلے میں موجود تھا
“میں نے آپ سے کہا تھا کہ آپ اور پری میری ذمہ داری ہیں میں آپ دونوں پر کبھی کوئی آنچ نہیں آنے دوں گا اور ویسے بھی جن سے محبت کی جاتی ہے ان کی پل پل کی خبر رکھی جاتی ہے”
معظم اپنی انگلیوں سے سندیلا کے گردن میں موجودہ چین کو چھوتا ہوا اس سے بولا ساتھ ہی اس نے اپنے ہونٹ بھی سندیلا کی گردن پر رکھ دیے
******
آج اسے رہ رہ کر اپنی بزدلی اور کم عقلی پر افسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔ اس نے اپنی بہن کی عزت اور اپنی جان بچانے کے لیے کیسے ان دو خطرناک آدمیوں میں سندیلا اور اپنی اولاد کو چھوڑ کر خود بزدلوں کی طرح وہاں سے نکل گیا تھا
نہ جانے ان دونوں آدمیوں نے سندیلا کے ساتھ کیا سلوک کیا ہوگا اور اس کی اپنی معصوم چار ماہ کی بیٹی اس کا کیا کیا ہوگا۔۔۔ کل سے اب تک یہ ساری باتیں سوچ کر احتشام کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ خودکشی کرلے مگر وہ خود کو مار بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ وہ واقعی ایک بزدل مرد تھا
جب وہ سندیلا کو وہاں چھوڑ کر جارہا تھا تب سندیلا اس کو پکار رہی تھی، وہ منظر یاد کرکے ایک بار پھر احتشام کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوئے آج اسے احساس ہو رہا تھا کہ وہ واقعی سندیلا کے قابل نہیں تھا بلکہ وہ سندیلا تو کیا، کسی بھی عورت کے قابل نہیں تھا، وہ ایک ڈرپوک آدمی تھا۔۔۔ جو اپنی جان بچا کر ایک عورت کی عزت کو خطرے میں ڈال کر وہاں سے دم دبا کر بھاگ گیا تھا
“بھائی کچھ کھالیں آپ نے کل سے کچھ بھی نہیں کھایا” فائقہ احتشام کے لیے کھانا لے کر اس کے کمرے میں آئی تھی، کل والے واقعے پر وہ بھی بہت زیادہ شرمندہ تھی مگر احتشام کی حالت دیکھ کر اسے ہمت سے کام لینا پڑ رہا تھا
“معلوم نہیں فائقہ سندیلا اس وقت کس حال میں ہوگی اور میری بیٹی،، کل سے اس کے حلق میں کچھ اترا بھی ہو گا کہ نہیں۔۔۔ دعا کرو فائقہ کہ ان دونوں آدمیوں کو سندیلا اور میری بچی پر رحم آ گیا ہوں اور وہ دونوں صحیح سلامت ہوں”
فائقہ سے بولتا ہوا احتشام ایک بار پھر رو پڑا کل سے وہ اسی طرح روئے جا رہا تھا۔۔۔ اتنا پچھتاوا تو اسے سندیلا کو اس وقت چھوڑنے پر نہیں ہوا تھا جب وہ اس کی اولاد پیدا کرنے والی تھی لیکن کل اس کو دو مردوں کے بیچ بے سہارا چھوڑ کر وہ کافی غم زدہ تھا
“آپ اس طرح پریشان مت ہوں اللہ بہتر کرے گا۔۔۔ بھابھی اور آپ کی بیٹی اللہ نے چاہا تو وہ دونوں خیریت سے ہو گیں، آپ اوپر والے سے اچھی امید رکھیں”
فائقہ احتشام کو دلاسہ دیتے ہوئے خود بھی شرمندہ ہوگئی۔۔۔ وہ دونوں آدمی اس کے شوہر کی وجہ سے اس کے گھر میں گُھسے تھے اور جو کچھ سندیلا کے ساتھ ہوا تھا ایک طرح سے وہ خود اپنے آپ کو ذمہ دار سمجھ رہی تھی
“کاش میں اس کو وہاں دھوکے سے نہیں بلواتا، وہ معظم کے ہی گھر میں رہتی تو اس کی عزت اور جان کو خطرہ نہیں ہوتا۔۔۔ میری بزدلی اور کم عقلی کی وجہ سے نہ جانے وہ اور میری بیٹی کس حال میں ہو گی۔۔۔ میں بہت بزدل اور ڈرپوک آدمی ہو”
احتشام روتا ہوا فائقہ سے بولنے لگا
“تم بزدل اور ڈرپوک ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بے غیرت اور کم ظرف آدمی بھی ہو احتشام، دل تو کر رہا ہے آج میں تمہارے اس ناپاک وجود کو اس دنیا سے ہمیشہ کے لئے غائب کردو”
معظم احتشام کے کمرے میں آتا ہوا بولا۔۔۔ وہ دونوں بہن بھائی معظم کو دیکھ کر کُھل کر حیرت کا اظہار بھی نہیں کر پائے کے معظم نے احتشام کو گریبان سے کھینچ کر اٹھایا اور اسے بری طرح پیٹنا شروع کر دیا
“یہ۔۔۔ یہ کیا کر رہے ہو کیو مار رہو ہو میرے بھائی کو چھوڑ دو۔۔۔ میں کہتی ہو چھوڑ دو انہیں”
معظم فائقہ کے چیخنے پکارنے کی پروا کیے بغیر احتشام کو بری طرح پیٹے جا رہا تھا جبکہ احتشام آج اپنے بچاؤ کی بجائے،، خاموشی سے معظم سے مار کھا رہا تھا
“شرم نہیں آئی تمہیں ایک کمزور عورت کو یوں بےآسرا غیر مردوں کے بیچ چھوڑ کر وہاں سے بھاگتے ہوئے،، اپنی اولاد تک کا خیال نہیں آیا تمہیں ذلیل انسان، کل اگر ان دونوں کو کچھ ہوجاتا تو میں تم سمیت تمہارے گھر والوں کے ٹکڑے کر دیتا۔۔۔ ہمت کیسے کی تم نے دوبارہ میرے گھر کی طرف آنکھ اٹھانے کی بولو”
معظم کے مارنے والے گھونسوں اور لاتوں سے احتشام کو محسوس ہوا معظم اس کی دو پسایاں توڑ چکا ہے وہ اپنے پیٹ کو دبائے فرش پر پڑا ہوا بری طرح درد سے کراہ رہا تھا فائقہ ایک کونے میں کھڑی ہو کر بری طرح روئے جا رہی تھی
“وہ دو۔۔ دونوں ٹھیک ہے مم مجھے سندیلا سے معاف۔۔۔ معافی مانگنی ہے”
معظم کی بات سن کر اتنا پٹنے کے باوجود احتشام درد سے کراہتا ہوا بولا تو معظم نے اس کا گریبان پکڑ کر فرش سے اٹھا کر اپنے سامنے کھڑا کیا
“خبردار جو اب تم نے اپنی گندی زبان سے میری بیوی یا بیٹی کا نام بھی لیا تو، یاد رکھنا احتشام میں آج تمہیں یہاں زندہ چھوڑ کر صرف اس لئے جا رہا ہوں کیوکہ تمہیں مارنے کے بعد تمہاری بوڑھی بیمار ماں اور جوان بہن دونوں رل جائیں گی۔۔۔ لیکن اگر دوبارہ تم نے سندیلا یا پری کی طرف آنکھ بھی اٹھا کر دیکھا تو میں تمہیں اگلی سانس لینے کی مہلت نہیں دوں گا”
معظم احتشام کو غصے میں تنبیہہ کرنے کے ساتھ اس کو پیچھے دھکا دیتا ہوا اس کے گھر سے نکل گیا
“بھائی”
معظم کے وہاں سے جانے کے بعد فائقہ بھاگتی ہوئی احتشام کی طرف آئی جو آدھموا سا فرش پر گرا ہوا تھا
****
