Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel NovelR50401 Woh Howe Meharban (Episode 26)
Rate this Novel
Woh Howe Meharban (Episode 26)
Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel
وہ معظم کی آئرن کی ہوئیں شرٹس الماری میں ہینک کر رہی تھی تب اس کی نظر الماری میں رکھے ہوئے اس فریم پر گئی سندیلا فریم کو ہاتھ میں پکڑ کر اس لڑکی کی تصویر دیکھنے لگی۔۔۔ ایسا نہیں تھا کہ سندیلا اس لڑکی کی تصویر آج پہلی بار دیکھ رہی تھی مگر آج بھی اس تصویر کو دیکھ کر اس کے اندر یہ جاننے کا تجسس ابھرا کہ یہ لڑکی کون ہے
“کیا دیکھ رہی ہیں اتنے غور سے استانی جی”
معظم کی طرف سندیلا کی پشت تھی وہ چلتا ہوا سندیلا کے پاس آیا اسے اپنے حصار میں لے لیتا ہوا خود بھی فریم کو دیکھتا ہوا سندیلا سے پوچھنے لگا
“یہ لڑکی کون ہے معظم”
سندیلا کے سوال پر معظم اس کے گرد اپنے بازو ہٹا کر فریم اس کو ہاتھ سے لیتا ہوا خود اس تصویر کو دیکھنے لگا
“سومی میری بہن”
بولتے ہوئے معظم کے لہجے میں ہی نہیں بلکہ آنکھوں میں بھی اداسی چھلکنے لگی سندیلا نے اپنا رخ معظم کی طرف کیا
“تو یہ کہاں پر ہے”
سندیلا معظم کو دیکھ کر دوسرا سوال کرنے لگی۔۔۔ جو ابھی تک اپنے ہاتھ میں موجود تصویر کو دیکھ رہا تھا
“اس دنیا میں نہیں ہے دو سال پہلے ڈیتھ ہوچکی ہے اس کی”
معظم کی بات سن کر سندیلا افوس کے معظم کو دیکھنے لگی
“کیسے”
اتنی معصوم اور ینگ لڑکی کی ڈیتھ پر وہ افسوس کرتی ہوئی معظم سے موت کی وجہ پوچھنے لگی۔۔۔ تو معظم تصویر سے اپنی نظریں ہٹا کر سندیلا کو دیکھنے لگا
“پھر کبھی بتاؤں گا”
معظم نے بولنے کے ساتھ ہی اس تصویر کو دوبارہ الماری میں رکھ دیا
وہ فلا الحال سندیلا کو سومی کی موت کی وجہ نہیں بتا سکتا تھا،، نہیں تو اسے نہ جانے پھر کیا کچھ بتانا پڑ جاتا جو ابھی بتانا مناسب نہیں تھا۔۔۔ تصویر کو الماری میں رکھ کر وہ سندیلا کا ہاتھ تھام کر اسے بیڈ پر لے کر آیا اور سندیلا کو بٹھاتا ہوا خود بھی اس کے برابر میں بیٹھ گیا۔۔۔۔ سندیلا نے بھی اس سے زیادہ اصرار نہیں کیا وہ اس ٹاپک پر بات کرکے معظم کو مزید اداس نہیں کر سکتی تھی تبھی سندیلا نے اپنے ذہن میں آیا ہوا دوسرا سوال معظم سے پوچھنے کا ارادہ کیا
“معظم تمہاری کوالیفیکیشن کیا ہے”
اس کے ساتھ رہتے ہوئے سندیلا اتنا تو جان گئی تھی وہ کوئی بالکل ہی جاہل اٙن پڑھ یا گوار نہیں ہے۔ ۔۔۔ اکثر وہ اپنے کاموں میں مشغول ہوتی تو معظم کے منہ سے انگریزی جملے سنتی جب وہ پری سے بات کر رہا ہوتا تھا۔۔۔۔ سندیلا کے سوال پر معظم نے چونک کر اسے دیکھا اور سندیلا کا تھاما ہوا ہاتھ اپنے ہونٹوں پر رکھنے کے بعد بولا
“اتنا تعلیم یافتہ ہو استانی جی کہ آپ سے انگریزی میں آسانی سے بات کر سکتا ہوں”
معظم کے گول مول جواب پر سندیلا اسے گھور کر دیکھنے لگی سندیلا کو لگا جیسے جواب دیتے وقت معظم اپنی مسکراہٹ چھپا گیا تھا
“تو کوئی عزت دار طریقے سے ڈھنگ کی جاب کیوں نہیں کرتے”
سندیلا معظم کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑوا کر اس سے پوچھنے لگی
“آج کل کے دور میں کوئی ڈھنگ کی اور عزت والی جاب کہاں ملتی ہے استانی جی۔۔۔ آپ کو میرے پیشے کی وجہ سے اتنا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، میرے ہوتے ہوئے آپ کو یا پری کو کبھی بھی کچھ نہیں ہوگا آپ دونوں کی حفاظت میں اپنی جان سے بڑھ کر کروں گا۔۔۔۔ اچھا میری ایک بات غور سے سنیں۔۔۔ تھوڑی دیر بعد مجھے ایک ضروری کام سے نکلنا ہے ممکن ہے صبح تک واپسی ہو۔۔۔ آپ بالکل پریشان مت ہویے گا احتیاط کے طور پر میں باہر سے دروازہ لاک کر کے جاؤ گا”
آج ایک آدمی کا ٹرک اسے ہائی وے کے راستے سے بلوچستان کی حدود میں پہنچانا تھا اور یہ کام قاسم سیٹھ نے معظم کو سونپا تھا،،، کیو کہ جگہ جگہ چیک پوسٹ پر پولیس تلاشی لے رہی تھی
“کیا تمہارا دماغ درست ہے اس وقت رات کے دس بج رہے ہیں۔۔۔ تم مجھے اور پری کو چھوڑ کر جانے کی بات کر رہے ہو وہ بھی پوری رات کے لیے،، تم کہیں نہیں جا رہے ہو معظم اس وقت میں بتا رہی ہوں تمہیں”
معظم کی بات سن کر وہ بیڈ سے اٹھتی ہوئی صاف صاف معظم کو انکار کرتی ہوئی بولی تو معظم سوچ میں پڑ گیا پھر ریلکس ہو کر بیڈ پر لیٹتا ہوا بولا
“چلیں ٹھیک ہے اگر آپ اتنا ڈرتی ہیں تو میں کہیں نہیں جاتا اسی بہانے آج مجھے یہ بھی پتہ چل گیا کہ میری استانی جی اچھی خاصی ڈرپوک ہیں۔۔۔ میں ویسے ہی آپ کو بہادر سمجھ رہا تھا آپ تو چند گھنٹے بھی اکیلی نہیں رہ سکتی”
معظم سندیلا کو دیکھتا ہوا مزے سے بولا وہ آرام سے بیڈ پر لیٹا ہوا تھا جیسے سچ مچ وہ اپنے باہر جانے کا پروگرام کینسل کر چکا ہو
“کیا کہا میں اور ڈرپوک؟ مسٹر شادی سے پہلے میں اپنے خاندان کی ساری کزنز میں سے سب سے زیادہ بہادر لڑکی مانی جاتی تھی،، جس کو اندھیرے میں بند کمرے میں رات کو فل ہارر مووی دکھا دو مجال ہے کہ میں بے وقوفوں کی طرح چیخیں مار مار کر رونے لگ جاؤ یا بے ہوش ہو جاؤ”
سندیلا گردن اکڑا کر فخریہ انداز میں اپنے کالج کے وقت کی بات بتانے لگی جسے سن کر معظم ہنسا
“استانی جی آج کل کی ہارر موویز تو چھوٹے چھوٹے بچے کارٹون فلم کی طرح انجوائے کرتے ہیں۔۔۔ اس سے آپ اپنی بہادری ظاہر نہیں کر سکتیں یار آپ مان لیں ناں کہ تھوڑی بہت تو بزدلی ہے آپ میں”
معظم جیسے سندیلا کی بہادری کے قّصے سے کوئی خاص امپریس نہیں ہوا تھا جبھی اس کا مذاق اڑاتا ہوا۔۔۔ جس پر سندیلا کو غصہ آنے لگا وہ اپنے دونوں ہاتھ کمر پر رکھے بیڈ پر لیٹے ہوئے معظم کو گھورنے لگی
“خبردار جو اب تم نے مجھے بزدل اور ڈرپوک جیسے القابات سے نوازنا۔۔۔ میں اتنی بہادر ہو تم ایک رات تو کیا دس راتیں بھی باہر گزار دو تو میں آرام سے تنہا رہ لو گی۔ ۔۔۔ میں تو صرف تمہاری فکر کر کے بول رہی تھی کہ رات بھر باہر آوارہ گردی کرو گے تو کوئی پولیس ہی تمہیں اندر نہ کردے چلو پولیس کو تم تم بتا سکتے ہو کے تم بہت بڑے بدمعاش ہو لیکن سوچو اگر رات میں کوئی گلی کا آوارہ کتا تمہارے پیچھے لگ گیا تو کیا تم اس کتے کو سمجھا سکتے ہو کہ تم کتنے بڑے بدمعاش ہو اور اگر تمہیں اس کتے نے کاٹ لیا تو تصور کرو باقی کے تمہارے بدمعاش ساتھی تمہارا کتنا ریکارڈ لگائے گیں کتے کے کاٹنے پر”
سندیلا جب بولنے پر آئی تو نان اسٹاپ بولتی چلی گئی یہ دیکھے بغیر بیڈ پر لیٹا ہوا معظم مسلسل اس کی باتوں پر مسکرا رہا تھا بات کے اختتام پر معظم نے سندیلا کی کلائی پکڑ کر اسے اپنی جانب کھنچا تو وہ معظم کے اوپر گر پڑی
“معلوم ہے آپ کو کے آپ اس طرح پٹر پٹر زبان چلاتی ہوئی مجھ کو کتنی پیاری لگ رہی ہیں”
معظم اپنے اوپر جھکا ہوا سندیلا کا چہرا دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا تب سندیلا کو اندازہ ہوا وہ واقعی کافی دیر سے معظم کے سامنے پٹر پٹر زبان چلا رہی ہے جبھی وہ اپنی جھینپ مٹاتی ہوئی بولی
“کبھی کبھی تم بھی کوشش کر لیا کرو کہ مجھے پیارے لگ جاؤ، ہر وقت اوٹ پٹانگ حرکتیں کرتے رہتے ہو۔۔۔ اب چھوڑو ناں مجھے کیا جانا نہیں ہے تمہیں”
سندیلا نے معظم کے اوپر سے اٹھنے کی کوشش کی تو معظم اسے اپنی گرفت میں لے چکا تھا تبھی سندیلا آنکھیں دکھاتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی
“چھوڑ دیتا ہو مگر پہلے آپ مجھے یہ بات سچ سچ بتائیں کہ آپ کو اپنا یہ بدمعاش پیارا لگتا ہے کہ نہیں”
معظم اس پر اپنا گھیرا مزید سخت کرتا ہوا سیریس ہوکر پوچھنے لگا جس پر سندیلا اپنی مسکراہٹ چھپاتی ہوئی بولی
“بدمعاش تو اچھا ہے مگر اس کی بدمعاشی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے”
سندیلا اپنی انگلی معظم کی پیشانی پر رکھتے ہوئے ان دیکھی لکیر بناتی ہوئی اپنی انگلی اس کے ہونٹو تک لائی تو معظم نے اسکی انگلی کو اپنے ہونٹو سے آئستہ سے چھوا
“ایسے تو مت بولیں استانی جی ابھی تک تو یہ بدمعاش صرف چھوٹی موٹی بدمعاشیوں سے کام چلا رہا ہے۔۔۔ کافی ٹائم لے چکی ہیں آپ، اب بڑی والی بدمعاشی کے لئے تیار ہو جائیں”
معظم کی بات پر وہ نہ چاہتے ہوئے بھی بلش کر گئی۔۔۔ معظم سندیلا کو گرفت میں لیے کروٹ لیتا ہوا اس پر جُھکا
“جب صبح میں واپس گھر آؤ گا تو اب کی بار آپ کی بدمعاشی نہیں چلے گی،، بہت صبر سے کام لے لیا میں نے”
معظم کی بات سن کر سندیلا کے ہونٹ مسکرائے۔۔۔ مسکراتے ہونٹوں پھر معظم نے اپنے ہونٹ رکھ دیئے۔۔۔ وہ گھر سے باہر نکلنے سے پہلے سندیلا پر اپنی شدتیں ظاہر کر رہا تھا تبھی کاٹ میں لیٹی ہوئی پری جاگ گئی تو معظم کا دھیان پری پر چلا گیا وہ بیڈ سے اٹھ کر کاٹ کے پاس آیا
“میری جان جاگ گئی اور بابا مما اپنے ہی کاموں میں لگے ہوئے ہیں”
معظم پری کو پیار کرتا ہوا بولا تو سندیلا بیڈ سے اٹھ کر معظم کو گھورنے لگی
“جلدی سے اس کا ڈائپر چینج کروا دیں استانی جی،،، فل پیکیج دیا ہوا ہے ہماری بیٹی نے”
معظم پری کو سندیلا کی گود میں دیتا ہوا سیریس ہوکر بولا جس پر سندیلا نے ایک بار پھر اسے گھورا کیوکہ سندیلا نے نوٹ کیا تھا اس کے پاس فضول باتوں کا اسٹاک کم نہیں تھا۔۔ معظم ایک بار پھر سندیلا کی گود میں پری کو پیار کرنے لگا کیو کہ وہ جاگنے کے بعد ابھی بھی معظم کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ ممکن تھا کہ معظم کے باہر جانے پر وہ روتی
“میری اور اپنی جان کی حفاظت،، چند گھنٹوں کے لیے آپ کی ذمہ داری ہے یار۔۔۔ اسکا اور اپنا بہت خیال رکھیے گا”
معظم سندیلا کی پیشانی پر محبت بھری مہر ثبت کرتا ہوا گھر سے باہر نکل گیا
*****
شاید کسی نے باہر کا دروازہ کھولا تھا اور اسی وجہ سے اس کی نیند میں خلل پڑا تھا سندیلا نے پاس رکھے ہوئے موبائل میں ٹائم دیکھا تو اس وقت رات کے دو بج رہے تھے معظم نے تین دن پہلے نیا سم کارڈ اسے دیا تھا تاکہ وہ اپنا موبائل ان رکھ سکے
“معظم اتنی جلدی واپس آ گیا”
سندیلا دل میں سوچتی ہوئی بیڈ سے اٹھی مگر بیڈ روم کا دروازہ جیسے ہی کھلا اور کمرے کی لائٹ آن ہوئی تو اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر سندیلا کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا
“احتشام”
اپنے سامنے احتشام کو دیکھ کر اس نے جلدی سے بیڈ پر رکھا ہوا دوپٹہ اوڑھا
“کیوں خوشی نہیں ہو رہی مجھے دیکھ کر آخر کو تمہارا پہلا شوہر رہا ہوں میں جانِ من”
احتشام نے سندیلا سے بولتے ہوئے بیڈ روم کا دروازہ بند کر دیا
وہ بہت دنوں سے ایسے ہی موقع کی تلاش میں تھا کہ جب اس کے اور سندیلا کے بیچ میں معظم نامی کانٹا موجود نہ ہو اور وہ سندیلا کے پاس آسکے
“آپ یہاں پر اس وقت اتنی رات کو کیوں آئے ہیں”
احتشام کے دروازہ بند کرنے پر سندیلا کا دل ڈرا تھا معظم بھی گھر پر نہیں تھا اور کافی رات ہو چکی تھی مگر وہ اپنا ڈر احتشام پر ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے سوتی ہوئی پری پر نظر ڈال کر وہ احتشام سے پوچھنے لگی
“تمہیں یاد دلانے آیا ہو کہ معظم سے پہلے تم میری بیوی ہوا کرتی تھی شاید تم اپنے اور میرے بیچ ان حسین دنوں کو بھول گئیں ہو جو تم نے میری قربت میں گزارے تھے”
احتشام سندیلا سے بولتا ہوا قدم اٹھاتا ہوا اس کے پاس آنے لگا تبھی سندیلا تیزی سے بیڈ سے اٹھ کر اس سے دور ہوئی اور اسپیس کم ہونے کی وجہ سے پیچھے دیوار سے جا لگی
“احتشام پلیز آپ شاید بھول چکے ہیں کہ میں کسی اور کی بیوی ہے چلے جائیں یہاں سے”
احتشام کی باتیں سن کر اور اس کے تیور دیکھ کر سندیلا کو گھبراہٹ ہونے لگی تھی مگر وہ اس پر اپنی گھبراہٹ ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی تبھی تھوڑا سختی سے بولی۔۔۔ احتشام اس کے قریب کھڑا ہو کر سندیلا کو غور سے دیکھنے لگا
“تم شاید بھول چکی ہو تمہیں کسی اور کی بیوی میں نے خود بنایا تھا تاکہ تمہیں دوبارہ حاصل کر سکو لیکن تمہارا تو بہت زیادہ دل لگ کیا ہے اس سڑک چھاپ دو ٹکے کے موالی سے۔ ۔۔۔ بہت مزے لے لیے تم نے دوسرے شوہر کے اب تمہیں واپس میرے پاس آنا ہوگا سنا تم نے”
احتشام نے بولنے کے ساتھ ہی سندیلا کے گال کو چھونے کی کوشش کی۔۔ سندیلا نے حقارت سے اس کا ہاتھ دور جھٹکا
“بند کریں اپنی یہ بےہودہ باتیں شرم آنی چاہیے آپکو ایسی گھٹیا زبان استعمال کر تے ہوئے”
سندیلا کو احتشام کے منہ سے ایسی باتیں سن کر شرمندگی ہونے لگی اور اسے اپنے اتنے قریب کھڑا دیکھ کر عجیب سی وحشت ہونے لگی جبھی وہ سائیڈ سے نکلنے لگی تھبی احتشام نے سندیلا کا بازو پکڑ کر اس کو بیڈ پر دھکا دیا
“یہاں سے جاؤں گا ضرور لیکن تمہیں اپنا اور تمہارا پرانا تعلق یاد کروا تا کہ جب تم مزید اس غنڈے کے ساتھ رہو تو تمہیں اپنے آپ سے شرم آئے”
احتشام بولتا ہوا بیڈ کی طرف بڑھا اور سندیلا کا دوپٹہ کھینچ کر بیڈ سے نیچے پھنکا
“احتشام نہیں یہ گناہ ہے”
سندیلا چیختی ہوئی بولی۔۔۔ اگر وہ اس پر جھک زیادہ تو مکمل حاوی ہو جاتا سندیلا نے پوری طاقت سے اسے پیچھے کی طرف دکھیلا۔۔۔
احتشام سندیلا سے یہ توقع نہیں کر رہا تھا اس لئے اس کی پیٹھ پری کے بےبی کاٹ پر جا لگی۔۔۔ اسی بات کا فائدہ اٹھاتی ہوئی سندیلا بیڈ سے نیچے گرا ہوا اپنا دوپٹہ اٹھا کر بیڈ روم کا دروازہ کھول کر دیوانہ وار باہر کی طرف بھاگی مگر اگلے ہی پل پری کی روتی ہوئی آواز نے اس کے قدم جکڑ لئے۔۔۔ سندیلا نے مڑ کر دیکھا تو پری احتشام کی گود میں بری طرح رو رہی تھی۔۔۔ اور احتشام پری کو گود میں اٹھائے فاتحانہ مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے سندیلا کو دیکھ رہا تھا
“احتشام نہیں پلیز اتنے ظالم مت بنیں۔۔۔ یہ آپ کی بیٹی ہے پلیز اسے مجھے دے دیں”
پری کے ساتھ ساتھ سندیلا نے احتشام سے بولتے ہوئے خود بھی رونا شروع کردیا
“تو اسے یہاں میرے پاس آ کر لے لو مجھ سے۔۔۔ اتنا ڈر کیوں رہی ہو”
احتشام کمینگی سے مسکراتا ہوا سندیلا کو دیکھ کر بولا تو سندیلا روتی ہوئی واپس کمرے کی طرف اپنے قدم بڑھانے لگی
“احتشام لائیے پلیز اسے مجھے دے دیں”
پری کو روتا ہوا دیکھ کر وہ احتشام سے دوبارہ بولی مگر ڈر کے مارے وہ کمرے کے اندر نہیں آرہی تھی بلکہ دہلیز پر ہی کھڑی ہوئی تھی
“کمرے کے اندر آؤ”
احتشام اسے آنکھیں دکھاتا ہوا حکیمانہ لہجے میں بولا جس پر روتی ہوئی سندیلا کمرے کے اندر آگئی اور احتشام کی طرف اپنے دونوں ہاتھ بڑھانے لگی تاکہ پری کو لے سکے پری خود بھی روتی ہوئی سندیلا کی طرف اپنے ہاتھ بڑھا رہی تھی
“کمرے کا دروازہ بند کرو اور یہاں قریب آؤ”
احتشام اب کی بار دانت پیستا ہوا سندیلا سے بولا
“احتشام اپنے آپ کو گناہگار مت کریں۔۔۔۔میں اب آپ کے لیے نا محرم ہو،، مجھ پر ترس کھائیں میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں”
وہ اپنی بیٹی کی وجہ سے روتی ہوئی بے بسی کی انتہا کو پہنچی ہوئی تھی سندیلا نے واقعی احتشام کے آگے اپنے ہاتھ جوڑ دیے تاکہ اسے سندیلا پر ترس آجائے
“مجھے گناہ کرنے پر تم نے مجبور کیا ہے سندیلا جو میں کہہ رہا ہوں ویسے ہی کرو ورنہ تم سوچ بھی نہیں سکتی میں اس کے ساتھ کیا کروں گا”
احتشام کی دھمکی پر سندیلا نے روتے ہوئے کمرے کا دروازہ بند کیا۔۔۔ کانپتے ہوئے قدم وہ احتشام کی طرف اٹھانے لگی تب اسے معظم سے کیا ہوا وعدہ یاد آیا۔۔۔ وفاداری نبھانے کا وعدہ۔۔۔
لیکن آج اسے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ یہ وعدہ اپنی بیٹی کی جان بچانے کی خاطر نہیں نبھا پائیں گی۔۔۔ سندیلا نے سلیا تھا آج اگر احتشام اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتا تو اسے اپنے ساتھ پھر کیا کرنا ہے
“اسے میں نے تمہاری گود میں اس لیے ہرگز نہیں دیا تھا کہ اس کے ساتھ تم بھی رونے بیٹھ جاؤ۔۔۔ چپ کرواؤ اسے سندیلا”
پری کو احتشام کی گود سے لینے کے بعد سندیلا نے اسے اپنے سینے سے لگا کر زور زور سے رونا شروع کردیا شاید اولاد ہوتی ہی ایسی چیز ہے جس کی خاطر عورت ہر قدم اٹھالے چاہے وہ قدم اسے جہنم میں ہی کیوں نہ دھکیل دے۔۔۔۔
احتشام کے بےزار ہوکر بولنے پر سندیلا سائیڈ ٹیبل پر پری کا دودھ کا ڈبہ اٹھا کر فیڈر تیار کرنے لگی۔۔۔ مگر پری اس سے پہلے ہی خاموش ہو چکی تھی کیونکہ وہ ایک انجان شخص سے اپنی ماں کی آغوش میں آ چکی تھی۔۔۔ سندیلا بیڈ پر بیٹھی ہوئی پری کو فیڈر سے دودھ پلانے لگی تبھی احتشام اس کے قریب آ کر بیٹھا۔۔ سندیلا ضبط کر گئی مگر اس کے قریب بیٹھنے پر وہ دور نہیں ہٹی ورنہ وہ سندیلا کے دور ہٹنے پر مزید کوئی گھٹیا حرکت کرسکتا تھا سندیلا اب اس سے کوئی بھی توقع کرسکتی تھی
“تمہیں معلوم ہے باسط کو ڈرگز کے جرم میں سزا ہو چکی ہے۔۔۔ ابھی دو دن پہلے ہی فائقہ نے ہمارے پڑوس میں جو ملک صاحب رہتے تھے ان کے بھانجے سے اپنی مرضی سے نکاح کرلیا ہے اور امی۔۔۔۔ اب ان کی طبیعت اتنی خراب رہتی ہے کہ انہیں ہاسپٹل میں ایڈمٹ کروا چکا ہوں میں۔۔۔۔ خود کو بالکل اکیلا محسوس کرنے لگا ہوں میں”
احتشام نے اپنے سارے حالات بتانے کے ساتھ اچانک سے سندیلا کا ہاتھ پکڑا تو سندیلا ایک دم سہم گئی مگر کوئی حرکت کیے بنا خاموش بیٹھی رہی
“میں اگر چاہوں تو اپنا اکیلا پن دور کرنے کے لیے کسی دوسری لڑکی سے شادی کر سکتا ہوں۔۔۔ بلکے دو سے تین بار میں اپنے دوست کے ساتھ ان بد نام گلیوں میں بھی گیا ہوں۔۔۔ جہاں عزت دار مرد دن کے اجالے میں نہیں جایا کرتے۔۔۔ مجھے صرف تمہاری قربت ریلکس کرتی ہے سندیلا۔۔۔ یہ وقتی سہارے بالکل بے معنیٰ سے ہیں۔۔۔ اس کا اندازہ مجھے تین مختلف عورتوں کے ساتھ رات گزار کر ہوگیا ہے۔۔۔۔ دیکھو سندیلا میرے اور تمہارے درمیان جھگڑا صرف اور صرف میری فیملی کی وجہ سے رہتا تھا۔۔۔ وہ وجہ اب تقریباً ختم ہو چکی ہے، دوسرا میری جاب پہلے سے اچھی جگہ پر لگ چکی ہے۔۔۔ اب ہم دونوں اپنی بیٹی کے ساتھ خوشحال زندگی گزار سکتے ہیں۔۔۔ مجھے نہیں سمجھ میں آرہا کہ تمہارا لیول اتنا کیسے گر گیا کہ تم خود ایک ایجوکیٹڈ لڑکی ہونے کے باوجود مجھ پر ایک جاھل گوار غنڈے کو فوقیت دے رہی ہو جس کا کوئی خاص مستقبل بھی نہیں۔۔۔ تمہیں میرے پاس واپسی کرنی ہوگی سندیلا”
احتشام نے دو ٹوک لہجے میں سندیلا سے بولا سندیلا کو لگا جیسے احتشام کو جلن بھی اسی بات کی ہے کہ سندیلس نے اس کی بجائے معظم کو اس پر فوقیت دی
“احتشام اب آپ میری بات سمجھنے کی کوشش کریں پلیز۔۔۔ دیکھیں آپ اور میں”
سندیلا نے آرام سے اسے سمجھانا چاہا مگر احتشام نے اس کے ہونٹوں پر اپنی انگلی رکھ دی
“احتشام نہیں شام کہہ کر پکارو مجھے جیسے پہلے میرا نام پیار سے لے کر پکارتی تھی”
احتشام پری کو اس کی گود سے لے کر بیڈ پر لٹاتا ہوا۔۔۔ سندیلا کو دونوں بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کرتا ہوا بولا
“ٹٹ۔ ۔۔ ٹھیک ہے مم۔۔۔ مجھے تھوڑا وقت دیں۔۔ سس سوچنے کے لیے۔۔۔ میں وہی کروں گی جیسا آآ آپ بول رہی ہیں”
سندیلا احتشام کی اپنے سراپے پر پڑتی ہوئی نظریں دیکھ کر اس کو بولی
“ٹائم کیسے دے سکتا ہوں میری جان تمہیں۔۔۔ تم تو جانتی ہو کتنا وقت گزر چکا ہے ہم دونوں کو ایک دوسرے کے قریب آئے۔۔۔ تمہارے پریگنینٹ ہونے سے پہلے، یاد ہے ناں وہ رات جب میں نے۔ ۔۔”
احتشام سندیلا کو کمر سے پکڑتا ہوا بولا رہا تھا تب سندیلا نے اپنے ہاتھ کو پیچھے کرکے کارنر ٹیبل سے دودھ کا ڈبہ اٹھایا اور پوری قوت سے احتشام کے سر پر مارا
احتشام اپنا سر پکڑ کر چیختا ہوا دور ہٹا۔۔۔۔ اب کی بار سندیلا نے جلدی سے پری کو گود میں اٹھایا اور بیڈروم کا دروازہ کھولتے ہوئے تیزی سے وہ باہر کی طرف بھاگی
“کمینی عورت،، زندہ نہیں چھوڑوں گا آج میں تجھے بھی اور اس کو بھی رک جا ذرا”
گھر سے باہر نکلتے ہوئے اسے اپنے پیچھے احتشام کی غصے میں بھری ہوئی آواز سنائی دی
اس کے بعد سندیلا نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔۔۔ بس وہ پری کو گود میں اٹھائے ننگے پاؤں آندھا دھند بھاگے جا رہی تھی۔۔۔ پری کو گود میں اٹھا کر تیز تیز بھاگنے سے اس کا سانس پھولنے لگا۔۔۔ سنسان سڑک پر آدھی رات کو یوں اندھیرے میں بھاگتے ہوئے سندیلا کو شدید خوف آ رہا تھا
آآآآآ
اچانک سے کوئی نوکیلی چیز اس کے پاؤں میں چبھی۔۔۔ سڑک کے بیچوں بیچ کھڑی ہوئی وہ اپنے روتی ہوئی اپنے زخمی پاؤں کو دیکھنے لگی کوئی کانچ کا ٹکڑا اسکے پاؤں کے اندر گھس گیا تھا۔۔۔ سندیلا کو سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کانچ کے ٹکڑے کو اپنے پاؤں سے نکالے یا پھر ایسے ہی بھاگے
اس سے پہلے کہ اس کا دماغ کوئی فیصلہ کرتا ہے اچانک سے اسے اپنے سامنے سے ایک گاڑی آتی ہوئی دکھائی دیں جسے دیکھ کر وہ مزید حواس باختہ ہوئی اور زور سے اپنی آنکھیں بند کرلی
****
نہ جانے آج کا دن خراب تھا یا پھر اس کے ساتھ کیا بیٹ لک ہوئی تھی جو پولیس کے ہاتھوں اس سے ٹرک پکڑا گیا۔۔۔ بہت مشکلوں سے وہ اپنی جان بچا کر وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوا تھا مگر پولیس وین مسلسل اس کا پیچھا کر رہی تھی اس لیے اپنی جان بچانے کی خاطر،، ایک بنگلے کی دیوار کو پھلانگ کر معظم نے اس بنگلے میں چند گھنٹے کے لئے پناہ لینے کا سوچا
*****
آج اپنے نکاح کے بعد وہ بلال کے ساتھ ایک مضبوط بندھن میں بندھ چکی تھی۔۔۔ کافی دیر پہلے سارے مہمان گھر سے جا چکے تھے بلال بھی نہ جانے اپنی کار لیے کہاں نکلا ہوا تھا اور بلال کا سیل مسلسل آف جارہا تھا۔ ۔۔۔ آج رات شہنیلا کی فلائٹ تھی وہ بلال کا انتیظار کر کے تھوڑی دیر پہلے ائیرپورٹ کے لیے روانہ ہو چکی تھی۔۔۔ مگر جانے سے پہلے اس نے زینش کو کافی کچھ سمجھایا تھا کہ بلال اس کا شوہر ہے اور اسے بلال کے ساتھ اپنا رویہ درست کرنا چاہیے۔ ۔۔۔ خوشی نے بھی جانے سے پہلے اس سے تقریباً یہی ساری باتیں کی تھی
شہنیلا کے ایئرپورٹ نکلنے کے بعد وہ گھر کے تمام کھڑکیاں اور دروازے چیک کرنے کے بعد اپنے کمرے میں جانے کا ارادہ کر رہی تھی تب اچانک اسے مین ہال کے پاس قدموں کی آہٹ محسوس ہوئی
“کون ہے پردے کے پیچھے”
زینش نے بولنے کے ساتھ ہی ٹیبل پر رکھا ہوا کرسٹل کا ڈیکوریشن پیس اپنی حفاظت کے لیے ہاتھ اٹھا لیا
وہ صاف محسوس کر سکتی تھی کہ مین ہال میں پردے کے پیچھے کوئی چھپا ہوا ہے جبکہ اس وقت پورے گھر میں اس کے علاوہ کوئی دوسرا فرد موجود نہیں تھا۔۔۔ ماتھے پر آیا ہوا پسینہ صاف کر کے ہاتھ میں موجود ڈیکوریشن پیس کو مضبوطی سے پکڑتی ہوئی وہ پردے کی طرف اپنے قدم بڑھانے لگی
“میں کہتی ہوں سامنے آؤ میرے”
زینش نے سوچ رکھا تھا جیسے ہی پردہ ہٹے گا وہ ہاتھ میں موجود ڈیکوریشن پیس سے اس پر حملہ کرے گی مگر جیسے ہی پردہ ہٹا اور پردے کے پیچھے موجود شخص اس کے سامنے آیا۔۔۔۔
اس شخص کو دیکھ کر زینش کے ہاتھ میں موجودہ ڈیکوریشن پیس چھوٹ کر نیچے گرا اور کئی ٹکڑوں میں بکھر گیا۔۔۔ ڈیکوریشن پیس اس کے ہاتھ سے گرنے کی وجہ اس شخص کے ہاتھ میں موجود پستول نہیں بلکہ وجہ وہ شخص بذات خود تھا۔۔۔ جو آج دو سال کے بعد اس کو دکھا تھا
جبکہ دوسری طرف معظم اپنے ہاتھ میں پستول پکڑے، اس کو دیکھ رہا تھا جسے روز دیکھنے کی خواہش میں وہ یونہی بے مقصد اس کے کالج،، چھٹی کے ٹائم پر چلا آتا تھا۔۔۔
لیکن آج دو سال بعد اسے اپنے سامنے دیکھ کر نہ معظم کا دل پہلے کی طرح دھڑکا،، نہ ہی اس کی آنکھیں میں کوئی شناسائی کی رمک دکھی،، وہ پستول کا رخ زینش کے سامنے کیے حیران کھڑا تھا جہاں تک اسے معلوم تھا وہ نیویارک میں اپنی ماں کے ساتھ ہوتی تھی۔۔۔ وہ یہاں کب سے موجود تھی معظم کو اس بات کا علم نہیں تھا۔۔۔
ان دونوں کے درمیان طویل خاموشی کو ہال میں موجود انٹرکام کی آواز نے ختم کیا
“چلو انٹرکام کے پاس ریسیور اٹھاؤ باہر پولیس ہے،، انہیں یہاں پر میری موجودگی کا علم نہیں ہونا چاہیے۔۔۔ اگر وہ کوئی سوال کرے تو بغیر گھبرائے جواب دینا بلکہ صاف بول دینا کہ یہاں پر کوئی موجود نہیں ہے اس لیے دوبارہ ڈسٹرب کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ اس علاوہ کوئی غیر ضروری بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی ہوشیاری دکھانے کی ضرورت ہے”
وہ بے تاثر لہجے میں زینش کو دیکھتا ہوا بولا ایسا تو ہرگز نہیں تھا کہ معظم اس کو پہچانا نہ ہو زینش کو مکمل یقین تھا کہ وہ جان بوجھ کے انجان بن رہا ہے
“کون”
معظم کی بات پر عمل کرتی ہوئی وہ انٹر کام اٹھاتی ہوئی بولی،، معظم زینش کے سامنے ہی کھڑا تھا، پستول کا رخ اب بھی زینش کی طرف تھا
“میں اس علاقے کا ایس ایچ او بات کر رہا ہوں میڈم ہمیں شک ہے کہ آپ کے گھر میں ایک مجرم موجود ہے،، آپ برائے مہربانی ہمیں اندر آنے دیں تاکہ ہم آپ کو اور آپ کی فیملی کو تحفظ فراہم کر سکے ساتھ ہی مجرم کو پکڑ سکیں”
ماؤتھ پیس سے ایک مردانہ آواز ابھری
“مجرم”
زینش نے زیر لب کہا تو اس نے پستول زینش کی پیشانی پر رکھ دی یہ وارننگ تھی کہ وہ کوئی بھی چالاکی نہ کر سکے۔۔۔ زینش اسے دیکھنے لگی جو ان 2 سالوں میں کیا بن چکا تھا
“آپ کا آگاہ کرنے کے لیے بہت بہت شکریہ ایس ایچ او صاحب مگر اس وقت میرے گھر پر میرے شوہر کے علاوہ اور کوئی دوسرا موجود نہیں ہے،، جس سے ہم دونوں میاں بیوی کو خطرہ ہو برائے مہربانی دوبارہ ڈور بیل بجا کر ڈسٹرب مت کرئیے گا”
پستول کی ٹھنڈی نال کو اپنی پیشانی پر محسوس کر کے زینش جلدی سے بولی اور رابطہ منتعقہ کر دیا۔۔۔ بڑے سے گھر کو دیکھ کر ایس ایچ او دوبارہ ڈسٹرب نہیں کرتا اس لئے وہ دونوں ریلکس ہو چکے تھے
“گھر میں اس وقت کون کون موجود ہے”
معظم زینش کو دیکھنے کی بجائے ہال میں چاروں طرف نظریں دوڑاتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“اس وقت گھر میں میں اکیلی ہو میرے ہسبینڈ گھر میں موجود نہیں”
زینش معظم کو دیکھتی ہوئی بولی جس پر معظم پل بھر کے لیے صرف اس لئے چونکا کہ اس نے ایس ایچ او سے ہسبنڈ والی بات سچ کہی تھی یعنی وہ واقعی شادی شدہ تھی
“پولیس ابھی اسی ایریے میں موجود ہے اس لیے مجھے چند گھنٹے یہاں پر رکنا پڑے گا،، خطرہ ٹلتے ہی میں خود یہاں سے چلا جاؤں گا۔۔۔ امید ہے تم کسی بھی قسم کی ہوشیاری سے گریز کروں گی”
معظم اب زینش کو دیکھتا ہوا بولا
“وہ سب کر کے مطمئن ہوں تم اپنی زندگی میں”
زینش کے اچانک سوال کرنے پر معظم کے چہرے کے تاثرات خطرناک حد تک سخت ہوئے
“مطمئن تو میں اسی دن ہو گیا تھا جب تمہارے باپ کی موت کی خبر میں نے سنی تھی۔۔۔۔ اپنی زندگی سے مطمئن ہی نہیں بہت خوش بھی ہوں۔۔۔ اب کوئی بھی فضول بات کرنے کی بجائے تمہارے لیے بہتر یہی ہوگا کہ خاموشی سے سامنے صوفے پر بیٹھ جاؤ”
معظم سخت لہجے میں زینش کو دیکھتا ہوا بولا
“نہیں تو آج کیا کرو گے میرے ساتھ۔۔۔ کپڑے پھاڑوں گے میرے”
زینش غصے میں معظم کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی معظم نے اس کی بات سن کر دوبارہ اپنے ہاتھ میں وجود پستول زینش کی پیشانی پر رکھی
“اب اگر تم نے میرے سامنے کوئی بھی فضول بکواس کی تو اس میں موجود میں ساری گولیاں میں تمہارے بھیجے کے اندر اتار دو گا۔۔۔ یقین جانو ایسا کرتے ہوئے مجھے کوئی بھی افسوس نہیں ہوگا اس لیے جیسا کہہ رہا ہوں ویسا ہی کرو، جاؤ جا کر صوفے پر بیٹھو”
معظم غصے میں زینش کو آنکھیں دکھاتا ہوا دبی ہوئی آواز میں چیخ کر بولا تو ایک لمحے کیلئے زینش اس سے ڈر گئی اور خاموشی سے جا کر صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔ معظم سامنے چیئر پر اس کے سامنے بیٹھ کر،، پولیس کے وہاں سے جانے کا انتظار کرنے لگا
زینش صوفے پر بیٹھی ہوئی مسلسل اس کو غصے سے دیکھ رہی تھی۔۔۔ مگر معظم کا دھیان زینش کی بجائے اپنی بیوی اور بیٹی کی طرف تھا جو اس وقت گھر میں اکیلی موجود تھی۔۔۔ وہ موبائل پر سندیلا کو کال کر کے اس کی نیند خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔ اسلیے اس کے پاس جانے کا انتظار کرنے لگا
*****
