Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel NovelR50401

Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel NovelR50401 Woh Howe Meharban (Episode 37)

444.1K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Woh Howe Meharban (Episode 37)

Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel

“یار زینش کہاں پر ہو تم آدھا گھنٹہ گزر چکا ہے مجھے آفس سے گھر آئے ہوئے، تمہیں کال کر رہا تھا ریسیو کیوں نہیں کر رہی میری کال”

بلال آفس سے واپس آنے کے بعد پریشان تھا کیونکہ زینش گھر پر موجود نہیں تھی اور اس کی کال بھی ریسیو نہیں کر رہی تھی اس لیے زینش کے کال ریسیو کرتے ہی بلال نے اس سے سوالات کرنا شروع کر دیے

“یہی قریبی مارکیٹ آئی ہوئی ہو بلال، کچھ چیزیں لینا تھی ہاتھ میں اتنا سارا سامان موجود تھا کیسے کال ویسیو کر لیتی۔۔۔ آپ دس منٹ رکیں میں پہنچ رہی ہو گھر”

زینش سارا سامان ٹیکسی میں رکھتی ہوئی موبائل کان سے لگائے بلال کو بولنے لگی تب زینش کی نظر اس کے پاس آتی ہوئی تہمینہ پر پڑی

“کیسے آؤ گی سب سامان لے کر، وہی رکو میں لینے آ رہا ہوں تمہیں۔۔۔ ہیلو زینش۔ ۔۔ ہیلو”

بلال کو محسوس ہوا زینش لائن ڈسکنیکٹ کیے بغیر کسی اور سے بات کر رہی تھی

“کیا وائف ملی ہے مجھے، یہاں شوہر لائن پر موجود ہے اور یہ محترمہ نہ جانے کس سے باتوں میں لگ گئی ہے”

بلال افسوسں سے نفی میں سر ہلاتا ہوا موبائل کان سے لگائے سے لگائے زینش سے بات کرنے کا انتظار کرنے لگا

****

“میں تمہاری بات بالکل بھی نہیں سمجھ پا رہی ہوں تہمینہ تم کہنا کیا چاہ رہی ہو پلیز بناء گھبرائے صاف لفظوں میں بولو”

زینش کے بولنے پر تہمینہ خاموش ہوگئی پھر تھوڑی دیر بعد بولی

“آپ یہ مت سمجھئے گا کہ میں آپ کو ورغلا رہی ہو یا پھر بلال سر سے بد گمان کرنے کے لیے ایسا بول رہی ہو۔۔۔ چھوٹا منہ اور بڑی بات کہتے ہو کچھ مناسب نہیں لگ رہا،، میں پہلے سے جانتی تھی کہ بلال سر آپ کو پسند کرتے تھے مگر آپ کی شادی حسان سر سے ہوگئی۔۔ جس دن حسان سر کی ڈیتھ ہوئی تھی دراصل اس دن چند گھنٹے پہلے بلال سر ہی ان کے کمرے میں گئے تھے۔۔۔ وہ دونوں ہی بہت زیادہ غصے میں تھے موضوعِ گفتگو آپ کی ذات تھی۔۔۔۔ ان دونوں کی باتیں کرنے کی آواز کمرے سے باہر آ رہی تھی بلال سر نے حسان سر کو جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی تھی اور پھر وہ حسان سر کے کمرے سے نکل کر چلے گئے۔۔۔۔ جب گھر کا ماحول تھوڑا ڈسٹرب ہو تو ہم سرونٹس کو اجازت نہیں ہوتی کہ فوراً ان کے کمرے میں جایا جائے،، اس دن گھر میں اکیلی ہی موجود تھی تقریباً ایک گھنٹہ گزر گیا حسان سر اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلے۔۔۔ مجھے اس دن اپنے گھر پہنچنا تھا جانے سے پہلے حسان سر کو انفارم کرنے کے لیے میں ان کے کمرے میں گئی پر وہاں پر۔۔۔۔ ان کی باڈی خون میں لت پت نیچے فرش پر پڑی ہوئی تھی خوف کے مارے میں بری طرح چیخنے لگی میں نے وہاں پر کمرے میں بلال سر کی ریوالور دیکھی”

تہمینہ بولتے وہ خاموش ہوئی تو زینش ایک دم بول پڑی

“تمہیں کیسے معلوم کہ وہ ریوالور بلال کا تھا”

سچ بات تو یہ تھی زینش کو تہمینہ کی باتیں بے معنٰی سی لگ رہی تھی اس لیے ریوالور کے ذکر پر فوراً بولی

“ہم سرونٹس جس گھر میں کام کرتے ہیں تو ہمیں اچھی طرح اندازہ ہوتا ہے کہ کون سی چیز کی ہے اور کہاں پر موجود ہوتی ہے۔۔۔ آپ کو یہ سب باتیں بتانے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ میں آپ کو بلال سر سے بد گمان کر رہی ہو، میں خود اس وقت اتنی زیادہ گھبراہٹ ہوئی تھی کہ میں نے بلال سر کو ہی کال کر کے سب سے پہلے حسان سر کے بارے میں بتایا تھا لیکن پھر پولیس انویسٹیگیشن سے پہلے ہی بلال سر نے گھر میں موجود کیمرے دوسرے ملازم سے کہہ کر اتروا دیے۔۔ پولیس کو سارے معاملے میں انویسٹیگیشن کرنے سے پہلے ہی بتا دیا گیا تھا کہ حسان سر کے مرڈر کی وجہ چوری ہے۔۔۔ تین گولیاں حسان سر باڈی میں لگی تھی جو ان کی ڈیتھ کے سبب بنی، معذرت کے ساتھ بلال سر کی روالور سے تین گولیاں ہی یوز ہوئی تھی میں نے بعد میں بلال سر کی ریوالور چیک کی تھی”

تہمینہ کی بات سن کر زینش ایک دم چونکی

“ایک منٹ تہمینہ مجھے سچ سچ بتانا۔۔۔۔ کیا تم یہ ساری باتیں مجھ سے پہلے جویرہ آنٹی کو بھی بتا چکی ہو۔۔ بالکل سچ بولنا جھوٹ نہیں”

زینش کی بات سن کر تہمینہ نے اثبات میں سر ہلایا

“جس دن جویریہ میڈم کی ڈیتھ ہوئی تھی اس سے دو گھنٹے پہلے میں نے انہیں یہ باتیں بتائی تھی”

تہمینہ کے بولنے پر زینش اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی پھر تہمینہ کو دیکھتی ہوئی بولی

“تم کتنی بڑی بیوقوف ہو تہمینہ اس کا تمہیں اندازہ ہے۔۔۔ تم نے ایک ماں کو یہ سب بتایا ہے کہ اس کے ایک بیٹے نے قتل کر کے دوسرے بیٹے کی جان لے لی۔۔ اسی صدمے نے ان کی جان لے لی ہوگی”

زینش افسوس سے سر ہلاتے ہوئے بولنے لگی۔۔۔ آج اسے ایک بار پھر جویریہ کی موت پر افسوس ہوا مگر یوں اچانک موت کی وجہ سامنے آگئی۔۔۔ زینش کی بات سن کر تہمینہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے

“مجھے بھی ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جویریہ میڈم شاید میرے سب کچھ بتانے کی وجہ سے۔۔۔ مگر میں ان کو اور آپ کو صرف یہی بتانا چاہتی ہوں کہ حسان سر کی ڈیتھ کی جو بھی وجہ ہو کہیں نہ کہیں بلال سر کو اندازہ ضرور ہے”

تہمینہ کے بولنے پر زینش خاموش ہوگئی

*****

“یہ پورے گھر میں اتنا اندھیرا کیوں ہو رہا ہے بلال کہاں ہے آپ”

زینش واپس گھر لوٹ کر آئی سارا سامان ٹیبل پر رکھتی ہوئی لاؤنچ کی لائٹ کھول کر بلال کو پکارنے لگی۔۔۔ بیڈ روم کی لائٹ آن کر کے دیکھا تو بلال ہے وہاں پر بھی موجود نہیں تھا جبھی وہ دوسرے روم کی طرف بڑھی

“اس روم میں کیا کر رہے ہیں آپ اور پورے گھر کی لائٹز کیوں بند کی ہیں آپ نے،، اس طرح اندھیرے میں کیوں بیٹھے ہیں بلال”

زینش روم کی لائٹ کھول کر راکنگ چیئر پر خاموش بیٹھے بلال سے بولی تو بلال عجیب نظروں سے اس کی صرف دیکھنے لگا

“مل آئی تم تہمینہ سے، معلوم ہوگیا تمہیں کہ کس نے کیا ہے حسان کا مرڈر اور کیسے مری میری ماں”

بلال زینش کو دیکھتا ہوا پراسرار سے انداز میں بولا اس کی آنکھیں حددرجہ سرخ ہو رہی تھی شاید بہت زیادہ ضبط کرنے کی وجہ سے یا پھر تھوڑی دیر پہلے وہ بہت زیادہ رویا تھا زینش کو سمجھ نہیں آیا۔۔۔ بس زینش کو اتنا معلوم ہو گیا کہ تہمینہ اور اس کے بیچ ہونے والی تمام گفتگو سن چکا تھا

“بلال آپ میری بات کو غور سے سنیں”

بلال چیئر سے اٹھ کر زینش کی طرف قدم بڑھانے لگا تو زینش کی نظر اس کے ہاتھ میں موجود ریوالور پڑی۔۔۔ بلال کے اپنی طرف قدم بڑھتے دیکھ کر زینس پیچھے دیوار سے جا لگی ہے

“کیا ہوگیا ہے آپ کو آپ اس طرح کا بی ہیو کیوں کر رہے ہیں”

زینش بلال کے تاثرات لب و لہجہ اور ہاتھ میں موجود ریوالور دیکھ کر بلال سے گھبراتی ہوئی پوچھنے لگی

“وہ تہمینہ اس کا مطلب تھا کہ میں نے اپنے بھائی کی جان لے لی جبکہ وہ خود اپنی بیوقوفی کی وجہ سے میری ماں کی جان لے چکی ہے۔۔۔ تمہارے دل میں ضرور یہی خیال آیا ہوگا کہ میں نے اپنی محبت حاصل کرنے کے لیے اپنے بھائی کو راستے سے ہٹا دیا، سچ بولو ایسے ہی سوچ رہی ہو ناں تم”

بلال اذیت سے بولتا ہوا زینش کے مزید قریب آیا تو زینش نے جلدی سے نفی میں سر ہلا کر اپنے دونوں ہاتھوں سے بلال کا چہرہ تھاما

“آپ نے ایسا کیسے سوچ لیا کہ میں آپ کے بارے میں ایسا سوچ سکتی ہوں، میں بیوی ہوں بلال آپ کی۔۔۔ آپ کے خلاف ہوکر میرا دل کبھی بھی نہیں سوچ سکتا اور آپ اتنی پستی میں جاکر ایسا گھٹیا قدم کبھی بھی نہیں اٹھا سکتے کہ اپنی محبت حاصل کرنے کے لیے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے ہی بھائی کی جان لے لیں ایسا خیال مجھےچھو کر بھی نہیں گزرا”

زینش کی بات سن کر بلال کے ہاتھ سے ریوالور چھوٹ کر فرش پر گرا

“تم سچ کہہ رہی ہوں”

زینش کو سمجھ میں نہیں آیا کہ بلال اس کو بتا رہا تھا یا پھر اس سے پوچھ رہا تھا مگر وہ زینش کو ذہنی طور پر کافی زیادہ ڈسٹرب لگا شاید جویرہ کی موت کی وجہ جاننے کی وجہ سے۔۔۔ زینش نے اپنے ہاتھ بلال کے چہرے سے ہٹا کر اپنے دونوں بازو بلال کے گرد حائل کردیے

****

“کافی”

ڈنر کے بعد بلال خاموش بیٹھا ہوا تھا زینش کافی کا مگ اس کے سامنے میز پر رکھتی ہوئی بلال کے برابر میں صوفے پر بیٹھ گئی بلال خاموشی سے زینش کو دیکھنے لگا تب اس نے مسکرا کر بلال کا ہاتھ تھاما

“اس دن واقعی مجھے حسان پر کافی زیادہ غصے تھا اور میں نے اسے جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی تھی مگر مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ اس دن حقیقت میں حسان کی موت واقع ہو جائے گی اور وہ بھی میری ہی ریوالور سے، اس شخص نے میرے بھائی کی جان لے زینش”

بلال کی بات سن کر زینش نے چونک کر اسے دیکھا

“کس نے”

زینش حیرت سے بلال کو دیکھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی

“وہی شخص جو اس رات کمرے میں میں وہ یو ایس بی لینے کے لئے آیا تھا جو حسان کے پاس موجود تھی”

بلال نے جو فوٹیج کیمرے میں دیکھی تھی وہ یاد کرتا ہوا زینش کو بتانے لگا

“کون سی یو ایس بی۔۔۔ آپ کیا بول رہے ہیں مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا”

زینش کنفیوز ہو کر بلال سے پوچھنے لگی

“شروع میں مکمل بات سے میں بھی لاعلم ہی تھا۔۔۔ اپنا ریوالور حسان کے پاس اس کے کمرے میں دیکھ کر میں نے اپنے بیان میں پولیس کو یہی ظاہر کیا کہ حسان کے مرڈر کی وجہ چوری ہے مگر بعد میں ضیاء (حسان کا وکیل دوست) کے تعاون سے جو اصل محرکات سامنے آئے اس سے یہی اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ جس وقت میں غصے میں حسان کے کمرے سے باہر نکلا اس وقت میرے اور حسان کے علاوہ کوئی تیسرا شخص بھی کمرے میں موجود تھا،، وہ وہی تھا جو حسان کے کمرے میں یو ایس بی لینے کی غرض سے آیا تھا۔۔۔ کیمرے میں حسان کی باڈی لینگویج دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا حسان کو اپنے کمرے میں چھپے ہوئے اس شخص کی موجودگی کا علم ہو چکا تھا تبھی حسان اس شخص پر کچھ بھی ظاہر کیے بناء اپنے کمرے سے نکل کر میرے کمرے میں گیا۔۔۔ لازمی حسان میرے کمرے میں میرا ریوالور لینے کی نیت سے گیا تھا لیکن واپس اپنے کمرے میں آنے پر اس شخص نے حسان پر اچانک حملہ کر دیا اور ہاتھا پائی کے دوران اس شخص نے میرے ریوالور سے حسان کے اوپر فائر کیے جس کی وجہ سے حسان کی ڈیتھ ہو گئی۔۔۔ اس کے بعد وہ حسان کے کمرے سے مطلوبہ چیز مطلب یو ایس بی لے کر چلا گیا۔۔۔ یہ بات میں اور ضیاء کیمرے میں موجود ویڈیو کو دیکھ کر سمجھ گئے تھے مگر اس یو ایس بی میں ایسا کیا تھا اس کا ہم دونوں کو اندازہ نہیں ہو سکا تب ضیاء نے اس شخص کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کر کے مجھے دی۔۔۔ جس سے مجھے علم ہوا وہ شخص ندیم سومرو کا آدمی تھا” بلال پوری بات تفصیل سے زینش کو بتانے لگا۔۔۔ فائر کی آواز تہمینہ کو کان میں لگے ہینڈ فری کی وجہ سے نہیں آسکی تھی ایسا بلال کو آج معلوم ہوا جب وہ زینش کو بتا رہی تھی ورنہ اس دن تو وہ اتنا گھبرائی ہوئی تھی کہ اس سے کچھ بولا نہیں جا رہا تھا

“ندیم سرور وہی جس کے بارے میں پچھلے دنوں نیوز چائنل پر لاپتہ ہونے کی خبر چلی تھی”

زینش حیرت سے بلال سے پوچھنے لگی جس پر بلال نے اقرار میں سر ہلایا

“ندیم سومرو سے حسان کے اچھے تعلقات تھے جس کے بارے میں مجھے علم تھا۔۔۔ لیکن اسی ندیم سومرو نے وہ یو ایس بی حاصل کرنے کے لئے میرے بھائی کا قتل کروایا۔۔۔ سب کچھ کلئیر ہونے کے بعد حسان کے قاتل کو تو اریسٹ کرلیا گیا۔۔۔ مگر میں ندیم سومرو پر بھی حسان کے مرڈر کا کیس کرنا چاہتا تھا پھر اچانک نیوز چینل پر اس کے اچانک لاپتہ ہونے کی نیوز آگئی”

بلال زینش کو بتانے کے بعد اب بالکل خاموش ہوگیا۔۔ زینش جانتی کہ اس وقت بلال جویریہ اور حسان دونوں کو یاد کرکے اداس تھا

“بلال اس طرح مت اداس ہو، میں ہوں ناں آپ کے پاس اور ہمیشہ آپ کے پاس رہو گی”

زینش نے بلال کو اداس دیکھ کر بولتے ہوئے اس کے کندھے پر اپنا سر رکھ دیا بلال نے جھک کر اپنے کندھے پر زینش کے سر کو دیکھا وہ صحیح کہہ رہی تھی ایک وہی واحد رشتہ اس کے پاس بچا تھا۔۔۔ جس میں وہ اپنی زندگی اور خوش رہنے کی وجہ تلاش سے کرتا تھا

*****