Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel NovelR50401 Woh Howe Meharban (Episode 4)
Rate this Novel
Woh Howe Meharban (Episode 4)
Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel
“ماما آج آپ مجھے یہ بات سچ سچ بتا دیں کہ میں آپ کی سگی اولاد ہو یا پھر آپ نے مجھے کسی سے لے کر پالا ہے”
شہنیلا کو جوزف سے ملنے کے لیے جانا تھا جس کے لئے وہ اچھا سا تیار ہو رہی تھی تب کمرے میں زینش آتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی۔۔۔ اس کا لہجہ ہی نہیں بلکہ آنکھیں بھی نم تھی
“آف کورس میری اولاد ہو تم ڈارلنگ تمہیں نو ماہ تک اپنے وجود کے اندر رکھا ہے اس بات کے لئے تمہیں کسی بھی قسم کے شک و شبہات میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے”
شہنیلا دیوار میں نسب آئینے میں دیکھ کر آنکھوں میں آئی شیڈ لگاتی ہوئی مصروف انداز میں بولی زینش چلتی ہوئی شہنیلا کے پاس آئی اور شیڈز اس کے ہاتھ سے لے کر چھوٹی سی ٹیبل پر پٹخ دیے
“فیض ماموں اور صنوبر مامی چند منٹ پہلے میرے فیصلے کو سراہتے ہوئے گھر سے باہر اپنے فرینڈ کی پارٹی میں جانے کے لیے نکلے ہیں۔۔۔۔ بقول فیض ماموں کی کہ میں نے نیکسٹ ویک یعنی سیٹرڈے کو ایڈی کے ساتھ اس کا اپارٹمنٹ شیئر کرنے کا ایک معقول فیصلہ کیا ہے جس میں ایسی کوئی خاص برائی نہیں۔۔۔۔ ایسا مجھ سے فیض ماموں نے کہا ہے کیا یہ بات فیض ماموں کو آپ نے بولی کہ میں ایڈی کے ساتھ اس کا اپارٹمنٹ شیئر کرنے کے لئے تیار ہوں”
زینش نم آنکھوں کے ساتھ اب شہنیلا کو دیکھ کر پوچھنے لگی
“پھر تم نے سے کیا کہا زینش۔ ۔۔ میں نے تمہیں منع کیا تھا کہ اپنا منہ بند رکھنا ان دونوں میاں بیوی کے سامنے، میرا بنا بنایا پلان خراب تو نہیں کر دیا تم نے بیوقوف لڑکی”
غصے کے باوجود شہنیلا بہت احتیاط سے بولی کہیں اس کا بیس خراب نہ ہو جائے
“کون سے پلان کی بات کر رہی ہیں آپ آخر کیا چل رہا ہے آپ کے دماغ میں ماما پلیز مجھے بتائیں”
زینش کو اب اپنے لیے فکر کے ساتھ ساتھ پریشانی بھی لاحق ہو چکی تھی شہنیلا اس کا ہاتھ تھام کر اسے صوفے پر بٹھانے لگی
“فیض اور صنوبر دونوں ہی غصے میں تھے اور ساتھ ہی اس بات پر بضد تھے کہ میں تمہیں ایڈی کے ساتھ اس کا اپارٹمنٹ شیئر کرنے کے لیے راضی کروں تو میں نے ان دونوں کو مطمئن کرنے کے لئے بول دیا کہ تم ایڈی کے ساتھ نیکسٹ سیٹرڈے کو اس کا اپارٹمنٹ شیئر کرنے کے لیے ایگری ہو۔۔۔ آنکھیں مت دکھاؤ مجھے پہلے میری بات مکمل ہونے دو”
شہنیلا اس کے آنکھیں دکھانے پر زینش کو ٹوکتی ہوئی بولی چند سیکنڈ کی خاموشی کے وقفے کے بعد وہ دوبارہ بولنے لگی
“پاکستان میں میری ایک دوست ہے جویریہ شاید تمہیں یاد ہو چند سال پہلے جب میں، تم اور رضوان کراچی گئے تھے تب ملاقات ہوئی تھی میری اس سے”
شہنیلا اس کو یاد کرواتی ہوئی بولی
“وہی جن کے دو بیٹے تھے”
زینش کو یاد آیا جب وہ سیون اسٹینڈرڈ میں تھی تب وہ رضوان اور شہنیلا کے ساتھ کراچی گئی تھی جہاں شہنیلا ایک دن اپنی دوست سے ملنے گئی تھی ان کا ایک بیٹا تو نارمل اور خوش اخلاق طریقے سے ملا تھا جبکہ دوسرا تھوڑا مغرور سا لگا تھا لیکن یہ شہنیلا کا خیال تھا کہ وہ مغرور تھا، زینش کو مغرور کم اور پاگل زیادہ لگا تھا جو اپنی آنکھیں ماتھے پر رکھے زبردستی سلام کرنے آیا تھا
“ہاں بالکل وہی حسان اور بلال کی بات کر رہی ہوں میں۔۔۔۔ اب میری بات غور سے سنو میں نے اندر ہی اندر تمہارے پاکستان جانے کا سب ارینج کردیا ہے اور جویریہ سے بھی بات کر لی ہے پاکستان پہنچ کر تم اسی کے گھر میں رہوں گی، چند ماہ تک جب تک تم وہاں پر سیٹل نہ ہو جاؤ، پھر ہم بعد میں ڈیسائڈ کر لیں گے کہ آگے کیا کرنا ہے۔۔۔۔ اب اس بات کی بھنک فیض یا پھر صنوبر میں سے کسی کو بھی نہیں پڑنی چاہیے ورنہ تم اپنے فیض ماموں کی نیچر سے اچھی طرح واقف ہوں۔۔۔ بے فیض لوگوں سے اسے کوئی سروکار نہیں ہوتا جس دن اسے یہ معلوم ہو گیا کہ تم یہاں سے واپس پاکستان جا رہی ہوں وہ لازمی کو سخت اقدامات اٹھائے گا”
شہنیلا زینش کو ساری بات سمجھاتی ہوئی بولی جس پر زینش ایک دم پریشان ہوگئی
“ماما مگر میں اکیلے پاکستان کیسے جا سکتی ہیں وہ بھی ایسے گھر میں جہاں پر دو لڑکے موجود ہوں آپ کیوں نہیں چل رہی ہیں میرے ساتھ اور آپ فیض ماموں کو اکیلے کیسے سنبھالیں گی جب انہیں یہ معلوم ہوگا کہ میں پاکستان روانہ ہو چکی ہوں وہ تو پھر بہت غصہ کریں گے آپ پر”
زینش واقعی پریشان ہو چکی تھی اس کے دماغ میں نہ جانے کون کون سے سوالات اٹھ رہے تھے
“او زینش یہ پاکستان جانے کی ضد تم نے ہی لگائی تھی اب جبکہ میں نے وہاں تمہاری رہائش کا مسئلہ بھی حل کردیا تو تمہیں وہاں پر ان دو لڑکوں کی ٹینشن ستانے لگ گئی، ان دو لڑکوں کے ساتھ ان کی ماں بھی تو وہاں پر موجود ہو گی ناں بلکہ یہ اچھا نہیں ہوگا کہ ان میں سے تم کسی ایک کو شیشے میں اتار لوں اور ہمیشہ کے لئے اسی گھر میں سیٹ ہو جاؤں۔۔۔ جویریہ کا تو مجھے معلوم ہے وہ کافی بیوقوف ہے میرا مطلب ہے رحم دل ٹائپ کی عورت ہے۔۔۔۔ بغیر جوتی گھسے بیٹھے بٹھائے اسے خوبصورت لڑکی بہو کی صورت فری میں مل جائے گی وہ تو ایسے ہی خوش ہو جائے گی”
شہنیلا کا مشورہ سن کر زینش افسوس سے اپنی ماں کو دیکھنے لگی
“آپ کو معلوم ہے کہ مجھے یہ سب کرنا نہیں آتا۔۔۔ میں ایسا نہیں کر سکتی”
زینش شہنیلا کو دیکھتی ہوئی بولی مگر ساتھ ہی اس کے ذہن میں کئی اور باتیں چل رہی تھی
“مجھے معلوم ہے تم ایسا کر سکتی ہو کیو کہ تم میری بیٹی ہو، ایسے کیوں دیکھ رہی ہو مجھے میں تمھیں کچھ غلط کرنے کے لئے تھوڑی کہہ رہی ہو تمہیں یہ مشورہ نہیں دے رہی ہوں کہ تم ان سے چیٹنگ کرو یا فراڈ کرو دیکھو زینش اکیلے رہنا سب کچھ مینج کرنا ایک لڑکی کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے، تو یہ اچھا نہیں ہوگا کہ تم اپنی گڈ نیچر کے ساتھ تھوڑی بہت خدمات پیش کرو اور وہاں رہ کر سب کے دلوں میں اپنی جگہ بناؤ اور پلیز وہاں پر کسی کو بھی رضوان کی موت کی اصل وجہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے یہ بات میری ہمیشہ یاد رکھنا۔۔۔۔ ماضی کی تلخ یادوں پر مٹی ڈال دو اور ایک نئی زندگی کی شروعات کرو”
شہنیلا گھڑی میں ٹائم دیکھنے کے ساتھ ساتھ مزید زینش کا برین واش کرنے لگ گئی اگر زینش جویریہ کے گھر میں ہمیشہ کے لیے ایڈجسٹ ہو جاتی تو اس کی ٹینشن ہی ختم ہوجاتی
“پہلے آپ مجھے یہ بتائیں کہ آپ کیوں نہیں چل رہی ہیں میرے ساتھ پاکستان”
زینش ساری باتوں کو نظر انداز کرتی ہوئی وہ سوال شہنیلا سے پوچھنے لگی جو سب سے زیادہ اسے پریشان کر رہا تھا جس پر شہنیلا نظریں چراتی ہوئی اسے بتانے لگی
“جس دن تمہاری پاکستان کی فلائٹ ہو گی اس دن میں نے اور جوزف نے کوٹ میرج کرنے کا پروگرام بنایا ہے اب اتنا افسوس سے مجھے دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے شادی کرنے سے پہلے ہی وہ اسلام قبول کر لے گا”
شہنیلا کی بات سن کر زینش خاموشی سے اسے دیکھنے لگی شہنیلا ایک بار پھر اس کے پاس سے اٹھ کر آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر میک اپ کرنے میں مصروف ہو گئی
*****
“اف سندیلا تمہاری باتیں سن کر تو میرا دماغ گھوم گیا ہے تم برداشت کیسے کر لیتی ہو آخر ایسے گھٹیا لوگوں کو اور احتشام بھائی مجھے تو رہ رہ کر ان پر بھی غصہ آ رہا ہے یعنی پڑھ لکھ کر بھی وہی جاہلوں والی سوچ”
اس وقت آف ٹائم ہو گیا تھا اور اسکول تقریبا خالی ہوچکا تھا وہ دونوں بھی اپنی اپنی کلاس روم سے باہر نکل رہی تھی تب سندیلا کی بات سن کر سحرش دبے دبے غصے میں بولی
“اپنے سسرال والوں سے تو میں کچھ ایسا ہی ایکسپکٹ کر رہی تھی مگر شام کے رویے سے بہت افسوس ہوا ہے مجھے سحرش”
سندیلا اس وقت کافی دل برداشتہ ہو رہی تھی پرسوں رات میں جب احتشام اسے ڈنر پر باہر لے کر گیا تھا تب اس نے احتشام کو بتایا تھا ان لوگوں کے گھر بےبی گرل آنے والی ہے اور اسی وقت سے لے کر اب تک ایک شام کا موڈ آف تھا اور سندیلا کی ساس جو کہ خود دو بیٹیاں پیدا کر چکی تھی سندیلا کو وقفے وقفے سے ایسے گھور رہی تھی جیسے بیٹی پیدا کرنا صرف اسی کا کارنامہ ہے
“تمہاری جگہ اگر میں ہوتی ناں شوہر سمیت گھر کے ایک فرد کا دماغ درست کر دیتی سمجھ کیا رکھا ہے آخر ان لوگوں نے تمہیں”
سحرش غصے میں سندیلا کی حالت دیکھ کر بولی
“خدا نہ کریں یار تم یا پھر کوئی اور لڑکی میری جگہ پر ہوں بس تم سے یہ سب باتیں شیئر کر لیتی ہوں تو دل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے”
سندیلا سست قدموں سے چلتی ہوئی افسردگی سے بولی اس کا بڑھتا ہوا وزن اسے تیز چلنے کی اجازت نہیں دے رہا تھا اور طبیعت پر چھائی اداسی اس کے وجود کو مزید بوجھل کر رہی تھی
“ایسے رویوں کے ساتھ ساری زندگی کیسے گزار سکتی ہو تم سندیلا، احتشام بھائی سے دو ٹوک بات کرو یار ایسا کب تک چلے گا آخر ابھی بیٹی آئی نہیں ہے تب اُن کا اور ان کے گھر والوں کا منہ بن چکا ہے جب بیٹی دنیا میں آجائے گی تو پھر کیا کریں گے یہ لوگ، میرے خیال میں تمہیں یہ ساری باتیں اپنے بھائی سے شیئر کر لینا چاہیے”
سحرش بھی اس کی حالت کے پیش نظر سندیلا کے ساتھ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی ہوئی اسے مشورہ دینے لگی
“سوچ رہی ہوں آج شام سے پوچھوں گی اگر ہمارے گھر میں بیٹی پیدا ہونے والی ہے بیٹا نہیں تو اس میں میرا کیا قصور ہے۔۔۔ اور انیس بھائی سے میں ایسی کوئی بات نہیں کر سکتی وردہ بھابھی نے صاف منع کر دیا ہے اپنے گھر کے مسئلے مسائل کو اپنے گھر تک ہی محدود رکھا کرو ہمیں بتا کر ٹینشن مت دیا کرو”
سندیلا کی بات سن کر سحرش افسردہ سی ہو کر اسے دیکھنے لگی
“سندیلا میرے خیال میں اب تمہیں اپنی طبیعت کو دیکھتے ہوئے چھٹیاں لے لینی چاہیے یار”
سحرش اس کو دیکھ کر مشورہ دیتی ہوئی بولی بہت ہی جلد ان دونوں کی کافی اچھی دوستی ہو گئی تھی
“ہاں میں بھی یہی سوچ رہی تھی کہ غنی صاحب سے چھٹیوں کے متعلق بات کرو بلکہ ابھی کر لیتی ہوں کیونکہ وہ اپنے روم میں موجود ہوں گے”
سندیلا ہاتھ سے بنی ہوئی واچ میں ٹائم دیتی ہوئی سحرش سے بولی
“ہاں تم ابھی بات کر لو یہی ٹھیک ہے بھائی مجھے لینے آ گیا ہے میں چلتی ہوں کل پھر ملاقات ہوگی”
سحرش اپنے موبائل پر آنے والی کال دیکھ کر سندیلا سے بولی اور اسکول کے گیٹ سے باہر نکل گئی جبکہ سندیلا اسکول کے پرنسپل غنی صاحب کے روم کی طرف جانے لگی
****
زوردار پڑنے والے مکے سے غنی کی ناک سے خون فوارے کی صورت باہر کی طرف ابل پڑا تھا جسے دیکھ کر پپو کے دانتوں کی بتی باہر آگئی وہ بمشکل اپنی ہنسی روک کر معظم سے بولا
“کیا کر رہے ہیں بھیا جی ذرا ادب سے پیش آۓ یہ اسکول کے پرنسپل ہیں”
غنی کو زوردار ُمکا پڑتا ہوا دیکھ کر پپو معظم سے بولا۔۔۔ اسکول کے آف ٹائم میں غنی اپنے کمرے سے نکل رہا تھا جبھی اچانک دو اجنبی اس کے کمرے میں آئے اور ان میں سے ایک نے اس کے منہ پر زور دار مُکا جڑا تھا
“جبھی تو ہاتھ ہولا رکھا ہے ورنہ پرنسپل صاحب کو تو آج دن میں تارے بے شک نہ دکھائی دیتے مگر اس سالے کی دانتوں کی بتی پر لازمی باہر آجاتی
معظم غنی کی بندھی ہوئی ٹائی سے اس کی ناک سے بیٹھا ہوا خون صاف کرتا ہوا بولا تو پپو بے ڈھنگے پن سے قہقہہ مار کر ہنسا
“دیکھیں آپ دونوں کون ہیں میں آپ دونوں کو بالکل بھی نہیں جانتا پلیز جو بھی مسئلہ ہے ہم لوگ آرام سے بیٹھ کر بات کر لیتے ہیں”
غنی کو وہ دونوں حلیے سے موالی لگ رہے تھے وہ مصلحت انگیز انداز اختیار کرتا ہوں ان دونوں سے بولا
“تیری بہتری بھی اسی میں ہے کہ تو ہم دونوں کو نہیں جانتا بات سیدھی سی ہے پرنسپل، قاسم سیٹھ نے تجھے شریفانہ انداز میں اس زمین کے اچھے دام دینے کی کوشش کی مگر تو اتنا بھی شریف نہیں ہے کہ شرافت سے اس آفر کو قبول کر لیتا تبھی قاسم سیٹھ کو مجھے یہاں پر بھیجنا پڑا تاکہ میں تجھے اپنے اسٹائل میں سمجھا دو لیکن میں اب بھی تجھ سے بہت شرافت سے بات کر رہا ہوں پپو پیپرز اور قلم لے کر آ”
معظم ہاتھ میں پکڑے ہوئے لوڈڈ ریوالور کو ٹیبل پر رکھتا ہوا بولا غنی کو اپنے یہاں آنے کا مقصد اچھی طرح سمجھ چکا تھا۔۔۔معظم کے بولنے پر پپو جھٹ سے اپنے پاس موجود پیپر غنی کے سامنے ٹیبل پر رکھ چکا تھا
یہ عدالت کی طرف سے ایک لیگل ایگریمنٹ تھا جس پر درج ذیل رقم وصول کرنے کے بعد یہ اسکول کی زمین قاسم کی ملکیت مانی جاتی
“دیکھو بھئی پرنسپل آرام سے ان پیپر پر دستخط کر دو آج بھیا جی کا موڈ ویسے ہی بگڑا ہوا ہے اللہ بھلا کرے انکا جو یہ اب تک آپ سے بہت پیار سے بات کر رہے ہیں رقم ہم اپنے ساتھہی لے کر آئے ہیں بے شک گن کر اطمینان کر لینا”
پپو غنی کو سمجھانے کے ساتھ ساتھ ہاتھ میں پکڑا ہوا نوٹوں سے بھرا بریفکیس ٹیبل پر رکھ کر اسے کھول چکا تھا
غنی بےبسی سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا ایک دم اس کی نظر کمرے کی کھڑکی پر پڑی جہاں اس کے اسکول کی ایک ٹیچر کمرے کے اندر چل رہے سارے منظر کی اپنے موبائل سے ویڈیو بنا رہی تھی۔۔۔۔ اس سے پہلے غنی اپنی نظریں کھڑکی پر سے ہٹاتا معظم نے اس کے چہرے کے تاثرات کو دیکھ کر اس کی نظروں کے تعاقب کرتے ہوئے کھڑکی میں کھڑی ایک لڑکی کو دیکھا وہ لڑکی کا چہرہ تو نہیں دیکھ پایا تھا مگر اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ کمرے میں موجود ساری کاروائی کی ویڈیو بنا رہی تھی اور معظم کے مڑتے ہی وہ باہر کی سائیڈ دیوار کے پیچھے چھپ گئی تھی
“پپو بھاگ کر جا وہ لڑکی یہاں سے جانا نہیں چاہیے”
معظم چیختا ہوا پپو کو دیکھ کر بولا اور پپو بجلی کی تیزی سے کمرے سے باہر نکلا۔۔۔ سندیلا جو کہ ان لوگوں کو اپنی طرف متوجہ دیکھ کر گھبرا چکی تھی وہاں سے بھاگنے کی کوشش کرنے لگی
*****
