Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel NovelR50401

Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel NovelR50401 Woh Howe Meharban (Episode 33)

444.1K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Woh Howe Meharban (Episode 33)

Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel

“تم بالکل پاگل ہو زینش کل سے تم اس بات پر پریشان ہوں بلال کسی نتاشہ نام کی لڑکی کے چکر میں پڑ کر تمہیں اگنور کر رہا ہے۔۔۔ عقل مند لڑکی وہ تمہیں صرف جیلس فیل کروانے کے لیے ایسا کر رہا ہوگا”

اس کے پاس خوشی کی کال آئی تو زینش نے رونی صورت بنا کر خوشی کو بلال کی کل والی حرکت کے بارے میں بتایا جس پر خوشی کا اپنا ہی سر پیٹنے کا دل چاہا

“اگر صرف جیلس فیل کروا رہے ہوتے تو میرا بنایا ہوا اپنے پسندیدہ کھانا چھوڑ کر کبھی اس نتاشہ نامی لڑکی کے ساتھ ڈنر پر نہیں جاتے۔۔۔ تمہیں نہیں معلوم خوشی کل مجھے تمہارے بدتمیز کزن نے کتنا ہرٹ کیا ہے لیکن میں نے سوچ لیا تم دیکھنا کیا کرتی ہوں میں اس نتاشہ کے ساتھ”

ایک تو وہ بلال کے اجنبی انداز پر ویسے ہی پریشان تھی اوپر سے کل بلال کو وہ ڈنر پر جاتا دیکھ کر خاصی ہرٹ ہوئی تھی لیکن اس وقت اسے غصہ آ رہا تھا

“او بہن میرا بدتمیز کزن تمہارا شوہر بھی لگتا ہے اسلیے تھوڑی عزت کرلو اس کی اور جو بات تم بلال کے لیے کہہ رہی ہوں نہ وہ دس بندے اور بھی آ کر مجھ سے بولیں کے بلال کا کسی اور لڑکی سے چکر ہے میں تب بھی یقین نہیں کرو گی مجھے اچھی طرح اندازہ ہے وہ یہ سب کچھ اسی وجہ سے کر رہا ہے تاکہ تم اپنی غلطی محسوس کرو،، پاگل بہت چاہتا ہے وہ تمہیں۔۔۔ کبھی کسی دوسری لڑکی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تمہاری حرکتوں کی وجہ سے ہرٹ ہوا ہوگا، اس لیے عقلمندی سے کام لو اور اسے سوری کر کے پیار سے منالو”

خوشی سے بات کرکے وہ کچھ نارمل محسوس کر رہی تھی بلال کے آفس سے آنے کا ٹائم تھا اس لیے اپنا حلیہ درست کرنے لگ گئی

****

“ابھی تک تیار نہیں ہوئی تم”

بلال زینش کو بیڈ پر ریلکس بیٹھا دیکھ کر پوچھنے لگا

“کس خوشی میں تیار ہونا ہے”

زینش ہاتھ میں پکڑے ہوئے موبائل کو بیڈ پر رکھتی ہوئی بلال سے پوچھنے لگی

“تمہیں بتایا تو تھا شمس ماموں نے آج ہم دونوں کو اپنے گھر ڈنر پر انوائٹ کیا ہے جلدی سے چینج کرکے اور فٹافٹ تیار ہو جاؤ”

بلال ایک بار پھر اسے یاد دلاتا ہوا بولا اور ساتھ ہی وارڈروب سے اپنے کپڑے نکالنے لگا

“وہ تو آپ نے دوپہر میں میسج کرکے بتایا تھا اس لیے میرا دھیان ہی نہیں گیا کہ آج ہمیں کہیں جانا ہے”

زینش بلال سے بولتی ہوئی بیڈ سے اٹھ کر صوفے پر بیٹھ گئی بلال اس کی لاپرواہی کے ساتھ ساتھ اس کی سستی پر بھی زینش کو گھورنے لگا

“تو تمہارا دھیان رہتا کہاں ہے اس دس سالہ چھوٹے سائز کی بڑی مصیبت میں۔۔۔ تم بیڈ سے اٹھ کر چینج کرنے کی بجائے یہاں پر بیٹھ گئی ہو میں نے تمہیں تیار ہونے کا بولا ہے زینش،، اٹھو صوفے اور جلدی سے چینج کرو جاکر”

بلال زینش کے کاہلی انداز پر اسے ٹوکتا ہوا بولا

“اب آپ میرے دوست کو بیچ میں مت لے کر آئیں بلال بلاوجہ میں،، وہ کیوٹ سا بچہ آپ کو پتہ نہیں کیوں ایک آنکھ نہیں بھاتا اور میرا بالکل بھی کہیں جانے کا موڈ نہیں ہے ایسا کریں آپ نتاشہ کو ہی اپنے ساتھ لے جائے”

زینش شہیر کا نام سن کر تپ کر بولی اور نتاشہ کا نام اس نے بلال کو تپانے کے لئے تھا، جیسے اسے بلال کا نتاشہ کے ساتھ جانے پر کوئی خاص افسوس نہیں ہوا ہو۔۔۔۔ بلال اپنے کپڑے بیڈ پر رکھ کر چلتا ہوا زینش کے پاس آیا اور اسے صوفے سے آرام سے اٹھا کر اپنے سامنے کھڑا کیا

“تمہارا وہ دوست بچہ بالکل نہیں ہے اندر سے پورا ہے اور نتاشہ میری بیوی نہیں ہے جسے میں اپنے ماموں کے گھر لے کر جاؤ گا، اب مجھے دوبارہ نخرے دکھا کر انکار مت کرنا ورنہ بہت برے طریقے سے پیش آؤں گا میں،، سیدھی شرافت سے تیار ہو جاؤ ٹوٹل بیس منٹ ہیں تمہارے پاس”

بلال زینش کو اپنے سامنے کھڑا کرکے بالکل سیریس انداز میں بولتا ہوا پلٹنے لگا تب زینش نے اس کا بازو پکڑا۔۔۔ بلال پہلے اپنے بازو کو پھر زینش کو دیکھنے لگا

“کیوں لگتا ہے آپ کو کہ آپ اسطرح ماتھے پر آنکھیں رکھ کر بات کرتے ہوئے اچھے لگتے ہیں،، ایک دم سڑے ہوئے لگتے ہیں اس طرح غصہ کرتے ہوئے۔۔۔ تیار ہونے کی بات آپ مجھے پیار سے بولیں تاکہ میرا خود اچھا سا تیار ہونے کا دل چاہے”

زینش بہت پیارے سے انداز میں بلال سے بولنے لگی تو بالکل خاموشی سے زینش کو دیکھنے لگا پھر اس کا ہاتھ اپنے بازو سے ہٹا کر،، اپنے دونوں ہاتھوں سے زینش کا چہرہ تھامتا ہوا بولا

“ویسے تو ابھی تک وہ وقت نہیں آیا جب تم مجھے بری لگی ہو تم ابھی بھی بہت پیاری لگ رہی ہو مگر میں چاہتا ہوں تم اور بھی حسین لگو پلیز میری جان۔۔۔۔ میری جان پر مزید احسان کرتے ہوئے،، میرے ماموں کے گھر جانے کے لیے تیار ہو جاؤ۔۔۔۔ یہ ٹھیک ہے یا پھر اس سے بھی زیادہ پیار سے بولنا تھا”

بلال زینش کا چہرہ تھام کر خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ جس طرح اس کی تعریف کرتا ہوا بول رہا تھا لیکن آخری جملہ بالکل طنزیہ انداز میں زینش سے پوچھنے لگا

“کیا اس سے زیادہ پیارے انداز سے آپ کو بولنا آتا ہے جو کہ تھوڑا بہت رومانٹک بھی لگے”

زینش بلال کے طنز کو نظر انداز کرتی ہوئی بالکل سیریس ہوکر بلال سے پوچھنے لگی تو بلال کے نارمل فیس ایکسپریشن ایک بار پھر رومانٹک ہوگئے وہ زینش کی کمر میں اپنے دونوں بازو حائل کرتا ہوا زینش کو خود سے قریب کر چکا تھا اتنا کے زینش اس کے سینے سے چپک گئی

“میں چاہتا ہوں آج تم وہی ڈریس پہنوں جو تم نے نکاح والے دن پہنا تھا وہ ڈریس میں نے تمہارے لیے خود پسند کیا تھا لیکن ہمارے نکاح والے دن میں تمہیں سے اس ڈریس میں دیکھ ہی نہیں پایا۔۔۔ آج میں تمہیں اسی ڈریس میں دوبارہ دیکھنا چاہتا ہوں کیا تم میری یہ خواہش پوری کرسکتی ہو”

بلال نے اپنا ایک ہاتھ زینش کی کمر سے ہٹا کر اس کی تھوڑی کو تھام کر چہرے کو مزید اونچا کیا۔ ۔۔۔ اس کے ہونٹوں پر جھک کر اپنے ہونٹ رکھ کر اپنے دل میں آئی دوسری خواہش پوری کرنے لگا۔۔۔ زینش نے اپنے دونوں بازوؤں کا ہار بنا کر اس کے گلے میں ڈال دیا۔۔۔ تو بلال کے انداز میں مزید شدت آگئی جو وہ زینش کو مزید خود میں بھیج کر پوری کرنے لگا، اس کے انداز پر زینش بوکھلا بلال کو پیچھے کرنے لگی

“بس بھی کردیں بلال کیا ہوگیا آپ کو”

زینش بلال کو پیچھے ہٹاتی ہوئی اپنی سانسیں درست کرتی ہوئی بولی

“ایسا تم چاہتی تھی میں نہیں”

بلال بولتا ہوا پیچھے ہٹا اور بیڈ سے اپنے کپڑے اٹھانے لگا

“کیا”

زینش بلال کو صدمے سے دیکھتی ہوئی دوبارہ اس کے سامنے آئی

“ایسا صرف میں چاہتی تھی بلال”

وہ بلال کے سامنے کھڑی ہو کر اس سے پوچھنے لگی بلال دوبارہ اس کے قریب آیا

“اچھے انداز میں پیار سے تم ہی اپنی تعریف سننا چاہتی تھی جو میں نے کر دی،، اب تو ہمارے بیچ میں جو بھی کچھ ہوگا وہ صرف تمہاری ڈیمانڈ پر ہی ہوگا سمجھ میں آیا کچھ۔۔۔ صرف 10 منٹ بچے ہیں تمہارے پاس،، دس منٹ تم اپنی فضول قسم کی تعریفوں میں گنوا چکی ہوں”

بلال زینش کو بولتا ہوا چینج کرنے چلا گیا

“ہاں تڑپ رہی نہ میں جو خود اپنے منہ سے ڈیمانڈ کرو اور دس منٹ کیسے بچے ہیں، کون سے دس منٹ تک کس کیا ہے آپ نے،، میں پورا گھنٹہ لوں گی تیار ہونے میں سنا آپ نے”

زینش جان بوجھ کے تیز آواز میں بولی تاکہ بلال کے کانوں تک ساری باتیں پہنچ جائیں اور خود اپنے پہننے کے لیے نکاح والے دن کا ڈریس نکلنے لگی

*****

“مشکل ہی لگ رہا ہے کے آج آپ کے شمس ماموں کے گھر ڈنر جا پائے”

گھر سے نکلتے ہی وہ دونوں کافی لیٹ ہو چکے تھے اوپر سے بیچ راستے میں بلال کی گاڑی خراب ہوگئی جس پر زینش اکتاتی ہوئی بلال سے بولی

“تمہارا تو پہلے ہی میرے ماموں کے گھر جانے کا موڈ نہیں تھا اوپر سے جان بوجھ کر تم نے تیاری میں دو گھنٹے لگائے،، وہاں جانا تو آپ واقعی ناممکن سا لگ رہا ہے بس دعا کرو کہ کار اسٹارٹ ہو جائے اور ہم لوگ عزت سے گھر پہنچ جائیں”

بلال پانی کی خالی بوتل دائیں طرف جھاڑیوں میں اچھال کر گاڑی کا بونٹ بند کرتا ہوا زینش سے بولا تو بلال کی بات سن کر زینش کار سے اترتی ہوئی بولی

“یہ جو آپ دو دن سے مسلسل طنز کے تیر چلا رہے ہیں نہ بلال اب بس کر دیں۔ ۔۔ آپ کے ماموں کے گھر اگر ہم لوگ نہیں جا سکتے تو اس کی وجہ آپ کی یہ گاڑی ہے، نہ کہ میرا دو گھنٹے تیار ہونا۔۔۔۔ اگر میں دس منٹ کے اندر بھی تیار ہو جاتی تو اس ناکارا کار کو چلتے چلتے یونہی مر جانا تھا”

وہ گاڑی سے نیچے اتر کر بلال کے طنز کے جواب میں بولی ایک تو بلال کی فرمائش پر اسے نکاح والا ڈریس پہنا وہی لال رنگ کی چوڑیاں پہنی اور بلال اس پر سرسری نگاہ ڈال کر “اب جلدی چلو” کہہ کر فلیٹ سے باہر نکل گیا زینش کو تو کب سے غصہ چڑھا ہوا تھا اسی بات کو لے کر

“زینش میرا موڈ اور دماغ دونوں ہی پہلے سے خراب ہیں اب تم مزید خراب مت کرو،، جاؤ جا کر گاڑی میں بیٹھو”

بلال اسے جھڑکتا ہوا بولا اور خود کار اسٹارٹ کرنے لگا

“موڈ اور دماغ درست رہتا ہی کب ہے”

زینش بڑبڑاتی ہوئی اپنے موبائل پر آتی ہوئی شہنیلہ کی کال ریسیو کرنے لگی۔۔۔ وہ سڑک پر ایک سائڈ ہو کر آہستہ آہستہ چلتی ہوئی موبائل پر بات کر رہی تھی کیونکہ اس وقت روڈ سنسان تھا اور بلال اپنی گاڑی کے ساتھ سر کھپا رہا تھا تب دور سے بلال کو سامنے سے ایک گاڑی آتی دکھائی دی جسے بلال نے ہاتھ سے رکنے کا اشارہ کیا

“ارے معظم یہ تو وہی ہیں جنھوں نے اس دن میری ہیلپ کی تھی”

معظم اور سندیلا گھوم پھر کر ڈنر سے فارغ ہوکر واپس آ رہے تھے تب سندیلا کو راستے میں بلال دکھائی دیا،، سندیلا اسے پہچان کر معظم سے بولی

“ہاں وہی ہے میں پہچان چکا ہوں، شاید گاڑی خراب ہوگئی ہے اس کی”

معظم نے اس کی رکی ہوئی گاڑی اور بلال کے اشارہ کرنے سے اندازہ لگایا،، دور ہی اس کی نظر ایک لڑکی پر پڑی جس کی پشت ان لوگوں کے سامنے تھی معظم نے بلال کی گاڑی کے سامنے اپنی گاڑی روک دی

“ارے آپ دونوں”

بلال ان دونوں کو دیکھ کر پہچان چکا تھا

“کیا ہوا کوئی مسئلہ ہو گیا گاڑی میں”

خیریت پوچھنے کے بعد معظم خود بلال سے پوچھنے لگا اور بلال کے بتانے پر وہ خود سے اس کی کار کا بونٹ کھول کر دیکھنے لگا جبکہ بلال گاڑی میں بیٹھی ہوئی سندیلا کی گود میں اس کی بیٹی کو دیکھ کر اس کا نام جاننے کے بعد سندیلا سے خیریت پوچھنے لگا تبھی سندیلا اس سے بولی

“اس دن میں اتنی گھبرائی ہوئی اور پریشان تھی کہ بعد میں آپ کو شکریہ بھی نہیں بھول پائی، اس رات آپ نے میری ہیلپ کر کے مجھے بہت بڑی پریشانی سے نکالا تھا ورنہ معلوم نہیں پوری رات گھر سے باہر میں کیا کرتی”

سندیلا مشکوک نگاہوں سے بلال کو دیکھتی ہوئی بول رہی تھی تب زینش نے شہنیلا کی کال ختم ہونے کے بعد مڑ کر دیکھا

ایک اور گاڑی ان لوگوں کی گاڑی کے ساتھ کھڑی ہوئی تھی۔۔۔ گاڑی کا بونٹ اوپر ہونے کی وجہ سے وہ معظم کو دیکھ نہیں پائی مگر بلال کو اس گاڑی میں بیٹھی لڑکی سے باتیں کرتا دیکھ کر زینش ان دونوں کے پاس آنے لگی

“آپ کو شکریہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے اخلاقی طور پر کسی کو مشکل میں دیکھ کر اس کی مدد کرنا ہے ہر انسان کا فرض ہوتا ہے۔۔ اس وقت میں اپنی وائف کے ساتھ ہوں آپ اس سے مل کر نہ صرف خوشی ہوگی مجھے پوری امید ہے آپ حیران بھی ہوگیں”

بلال نے سندیلا سے کہا تو اسے بلال کی بات سمجھ میں نہیں آئی مگر بلال اپنی طرف آتی زینش کو دیکھ چکا تھا تبھی سندیلا سے بولا

معظم نے پلٹ کر اپنے پاس سے گزرتی ہوئی لڑکی کو دیکھا وہ ابھی بھی اس کا چہرہ نہیں دیکھ پایا تھا، زینش کی پشت دیکھ کر وہ اندازہ لگا چکا تھا کہ وہ لڑکی سندیلا اور بلال کے پاس کی جارہی ہے

سندیلا پری کو گود میں لیے حیرت سے اپنی ہم شکل لڑکی کو دیکھ کر گاڑی سے نیچے اتری،، وہی زینش بھی پوری آنکھیں کھول کر حیرت سے سندیلا کو دیکھ رہی تھی

“زینش یہ ہیں وہ جن کا ذکر میں تم سے کر رہا تھا”

بلال ان دونوں کو شاکڈ دیکھ کر مسکرا کر زینش کے پاس آ کر بولا

“مسز معظم یہ میری وائف ہیں زینش”

بلال اپنی بیوی کا تعارف کرواتا ہوا شاگڈ کھڑی سندیلا سے بولا۔۔۔ وہ دونوں ابھی بھی حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھ رہی تھیں بلال ان دونوں سے ایسے ہی ری ایکشن کی توقع کر رہا تھا

“شاید تمہاری گاڑی ٹھیک ہوگئی ہے بلال اسٹارٹ کر کے دیکھنا ذرا”

معظم کی آواز پر بلال کے ساتھ ساتھ زینش نے بھی پلٹ کر دیکھا اب وہ اپنے سامنے کھڑے معظم کو حیرت سے دیکھ رہی تھی اور اتنی حیرت سے معظم زینش کو دیکھنے لگا۔۔۔ اسے حیرت زینش کو دیکھ کر نہیں بلکہ بلال کے ساتھ زینش کو دیکھ کر ہوئی تھی

“کیا ہوا کیا تم دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہو”

بلال معظم اور زینش کو حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھتا ہوا دیکھ کر پوچھنے لگا

“نہیں،، چلیں سندیلا دیر ہو رہی ہے ہمیں”

معظم نے فوراً اس کو پہچاننے سے انکار کر کے سندیلا کو چلنے کا کہا اور اپنی گاڑی کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔ پہلے سندیلا اپنی ہم شکل کو دیکھ کر حیرت ذدہ تھی اور اب معظم کو اتنا سیریس ہوکر زینش کو دیکھ کر وہ کنفیوز ہونے لگی

“میری ہم شکل لڑکی سے تم نے شادی کی ہوئی ہے اور اس کو میرے بارے میں بتایا بھی نہیں یہ بات غلط ہے معظم”

زینش کی آواز پر معظم نے پلٹ کر زینش کو دیکھا

“منہ بند رکھو اپنا”

وہ انگلی اٹھا کر زینش کو وارننگ دیتا ہوا بولا جس پر بلال کی پیشانی پر بل پڑے

“تمیز سے بات کرو میری بیوی سے معظم۔۔۔ زینش کون ہے یہ”

بلال کو معظم کا ناگوار لہجہ ایک آنکھ نہیں بھایا جبھی وہ ساری انسانیت ایک طرف رکھ کر معظم کو ٹوکنے کے بعد زینش سے پوچھنے لگا اور اس ساری سچویشن میں سندیلا ابھی تک کنفیوز پری کو گود میں اٹھائے کھڑی تھی

“سندیلا کار میں بیٹھیں آپ”

زینش کے کچھ بولنے سے پہلے معظم سندیلا سے مخاطب ہوا وہ بےشک بلال کو کچھ بھی بتاتی اسے پرواہ نہیں تھی لیکن معظم سندیلا کو لے کر یہاں سے جانا چاہتا تھا

“یہی تھا وہ جس نے مجھے کالج سے کڈنیپ کیا تھا”

زینش کی آواز پر سندیلا کے گاڑی کی طرف بڑھتے ہوئے قدم رکے، وہ آنکھوں میں بےیقینی لیے غصے میں کھڑے معظم کو دیکھ رہی تھی جو کہ اس وقت غصے میں بھرا ہوا ہونٹ بھینچ کر زینش کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ زینش کی بات سن کر بلال حیرت سے معظم کو دیکھنے لگا،، تب زینش بلال کی طرف سے اپنا رخ سندیلا کی طرف کرتی ہوئی بولی

“جانتی ہوں اس نے مجھے نہ صرف کالج سے کڈنیپ کیا تھا بلکہ مجھے ساری رات کے لئے ایک سنسان جگہ پر بھی رکھا، یہ خود بھی ساری رات وہی موجود تھا”

زینش حیران پریشان کھڑی سندیلا کو دیکھ کر بولی بلال غصے کی کیفیت میں اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں کو ضبط کے مارے بند کیے کھڑا تھا

“گڈ اب ذرا آگے کی کہانی بتاؤ”

معظم طنزیہ لہجے میں زینش کو دیکھ کر بولا کیونکہ اس رات اس نے زینش کے ساتھ وہ نیچ کام ہرگز نہیں کیا تھا جو زینش کا گھٹیا باپ اس کی بہن کے ساتھ کر چکا تھا

“کونسی والی کہانی،، وہ والی کہانی جب تم نے میرے کپڑے پھاڑے تھے یا پھر وہ کہانی جب تم اپنے موبائل سے میری ویڈیو بنا رہے تھے”

زینش چلتی ہوئی معظم کے پاس آئی اور اسی کی طرح طنزیہ انداز میں معظم سے پوچھنے لگی۔۔۔ جس پر معظم کا دل چاہا وہ زینش کا منہ توڑ دے شاید وہ ایسا کرتا بھی اگر بلال ایک دم جھپٹ کر اس کا گریبان نہ پکڑتا

“تم جیسے مردوں کو زندہ زمین میں گاڑ دینا چاہیے”

بلال معظم کا گریبان پکڑ کر غصے میں بولا تو بلال کے لیے ری ایکشن پر جہاں زینش تھوڑا پریشان ہوئی وہی سندیلا بھی ایک دم ہوش میں آئی۔۔۔ معظم نے اپنے گریبان پر موجود بلال کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر اسے اسکی گاڑی کی طرف دھکا دیا

“عزت پامال نہیں کی تھی میں نے اس رات تمہاری بیوی کی، اگر میں ایسا کرتا تو یہ یہاں کھڑی میرا کارنامہ بتانے کی بجائے اب تک شرم سے خود مر چکی ہوتی جیسے میری بہن مر چکی ہے اس کے نیچ باپ کی گھٹیا حرکت کی وجہ سے”

معظم بلال کو دھکا دیتا ہوا چیخ کر بلال سے بولا تو بلال اور سندیلا دونوں ہی اس انکشاف پر شاکڈ رہ گئے وہی زینش کا دل چاہا کے وہ اپنا منہ چھپا کر کہیں بھاگ جائے۔۔۔ اتنے میں دور سے پولیس کی گاڑی وہاں آکر کی

“اوئے کیا کر رہے ہو تم لوگ یہاں اتنی سنسان جگہ پر”

پولیس والا وین سے اتر کر معظم اور بلال کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا

“کچھ نہیں انسپکٹر صاحب ہم آپس میں بات کر رہے تھے”

معظم انسپکٹر کو دیکھ کر بات سنبھالتا ہوا بولا جو اب ہونقوں کی طرح سندیلا اور زینش کو باری باری دیکھ رہا تھا

“او جانتا ہوں میں اچھی طرح تم لوگ کیا باتیں کر رہے تھے میں نے خود تمہیں دور سے اسے دھکا دیتے ہوئے دیکھا ہے، بناؤ مت مجھے زیادہ۔۔۔۔ خاندان کے پھڈے سڑکوں پر کرنے نکل آتے ہو تم لوگ،، چلو اپنی اپنی گاڑیوں میں بیٹھو اور سڑک خالی کرو۔۔۔ اپنے پیو کا روڈ سمجھا ہوا ہے ابھی کوئی واردات ہوجائے گی تو عاتیں ہوئے تھانے آجانا ہے چلو راستہ ناپو اپنے گھروں کا”

پولیس انسپکٹر سندیلا اور زینش کی شکلیں دیکھ کر ان لوگوں کو بہنیں یا رشتے دار سمجھ بیٹھا تھا تبھی اونچی آواز میں بولا

“چلیں سندیلا”

معظم سندیلا کے پاس آ کر غور سے اس کو دیکھتا ہوا بولا جو معظم کو دیکھتی ہوئی خاموشی سے گاڑی میں بیٹھنے لگی تو فوراً معظم نے اسکے لیے دروازہ کھولا۔۔۔۔ جبکہ بلال کچھ بولے بنا زینش کا ہاتھ پکڑ کر خود اسے گاڑی میں بٹھانے لگا

*****