Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel NovelR50401

Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel NovelR50401 Woh Howe Meharban (Episode 30)

444.1K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Woh Howe Meharban (Episode 30)

Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel

وہ ڈرائیونگ کرتا ہوا آفس سے گھر کے جانب آ رہا تھا تب اسے اپنی خفا خفا سی بیوی کا خیال آیا۔۔۔ جب کل وہ گھر سے باہر نکلا تو رات کا ڈنر اس نے باہر ہی کر لیا تھا۔۔۔ اسے زینش سے ہرگز بھی توقع نہیں تھی کہ وہ اس سے جھوٹے منہ کھانے کا بھی پوچھتی۔ ۔۔۔ ناراض ناراض سی فرائیز کھاتی ہوئی زینش کو یاد کر کے بلال کے لبوں پر مسکراہٹ آگئی

وہ کل زینش کے لئے بھی کھانا پیک کروا کر لایا تھا مگر مزید اس کے نخرے اٹھانے کے موڈ میں نہیں تھا کہ خود اسے کھانا کھانے کے لئے بولتا،، کھانے کا پیکٹ ٹیبل پر رکھتا ہوا ہے وہ بیڈروم میں آ کر بیڈ پر لیٹ گیا تھا

سر درد اور تھکن کی وجہ سے تھوڑی دیر میں ہی اس کی آنکھ لگ گئی۔۔۔ صبح آفس میں زیشن کی بات یاد آئی تو فوراً اس کا دماغ پرسوں رات والے واقع پر چلا گیا جب اس نے زینش کی ہم شکل لڑکی اور اس کی بیٹی کی جان بچائی تھی۔۔۔۔ مجبوری کے تحت وہ اسے اپنے فلیٹ لے کر آیا ہے

زینش کل غصے میں ایسی باتیں کر رہی تھی جسے کسی سے اس کا آفئیر ہوں جو زینش کو پتہ چل گیا ہو،، یقینا زینش کو پرسوں رات والے قصے کی کہیں سے سن گن مل گئی ہوگی جبھی اسکا بلال کے ساتھ ایسا ری ایکشن ہوا ہوگا، پھر جب اسے مجیب صاحب کی بیوی کی عجیب و غریب حرکت یاد آئی تب بلال کا ماتھا ٹھنکا

“بے وقوف لڑکی”

وہ زیر لب زینش کو بولتا ہوا سوچنے لگا کہ گھر جا کر وہ زینش کو ساری بات کلیئر کرے گا

*****

“ارے واہ تم تو کافی انٹرسٹنگ باتیں کرتے ہو”

بلال آفس سے واپس آیا تو اسے زینش کی چہکتی ہوئی آواز سنائی دی وہ سوچ میں پڑ گیا کہ اس کے گھر اس وقت کون آ سکتا ہے

“میرے پاس اپنے اسکول کے ایسے بہت سے انٹرسٹنگ اور فنی واقعات کا بنڈل ہے جن کو سن کر تم لازمی انجوائے کرو گی”

بلال اپنے بیڈ روم میں داخل ہوا تو اس نے مجیب صاحب کے بیٹے کو اپنے بیڈ روم میں بیٹھا ہوا دیکھا،، وہی بچہ جو کل اس کے سامنے اس کی بیوی کو ٹائیٹ کہہ رہا تھا،، آج وہی بچہ اسی کے بیڈ روم کے صوفے پر اسی کی بیوی کے ساتھ بیٹھا ہوا بے تکلفی سے باتیں کر رہا تھا

“تم یہاں کیا کر رہے ہو”

بلال کے کمرے میں آتے ہی وہ دونوں بلال کو دیکھنے لگے

جبھی بلال ماتھے پر بل لاتا ہوا اس بچے سے پوچھنے لگا جو اسے بچہ کم اور چھوٹے سائز کی بڑی مصیبت زیادہ لگا

“بلال یہ شیری ہے ہمارے سامنے والے فلیٹ میں ہی رہتا ہے”

اس کے بولنے سے پہلے زینش بلال کو دیکھتی ہوئی بتانے لگی

“اوہو زینش شیری تو میرا نک نیم ہے۔۔۔ یہ میں نے تمہیں اسلیے بتایا تھا کہ تم مجھے شیری کہو گی تو مجھے اچھا لگے گا”

وہ بچہ زینش سے بولتا ہوا اب بلال کو دیکھنے لگا

“میرا نام شہیر ہے،، اور مجھے اچھا لگے گا کہ تم مجھے میرے نام سے ہی پکارو۔۔۔ میں نے آج اسکول سے واپس آتے ہوئے اندازہ لگایا کہ تم آفس میں ہوگے اور زینش اکیلی بور ہو رہی ہوگی،،، اس لئے میں اس کو کمپنی دینے آگیا امید ہے کہ تم نے یہاں میرا آنا مائنڈ نہیں کیا ہوگا”

شہیر بلال سے مخاطب تھا جبکہ زینش نے ایک نظر شہیر کو دوسری نظر بلال کے تنے ہوئے نقوش پر ڈالی جس سے وہ اندازہ لگا سکتی کہ بلال کو شہیر کا بے تکلف انداز کچھ زیادہ پسند نہیں آیا

“یہ زینش زینش کیا لگا رکھا ہے تم نے،، یہ تم سے کافی بڑی ہے، اسے آپی یا باجی کہہ کر پکارو۔۔۔ لگتا ہے تمہاری اسکول میں بڑوں سے بات کرنے کی تمیز نہیں سکھائی جاتی”

بلال کو شہیر کا فری ہونے والا انداز ایک آنکھ نہیں بھایا تھا تبھی اس نے شہیر کو بولنے کے ساتھ ساتھ زینش کو صوفے سے اٹھنے کا اشارہ کیا جو کہ شہیر کے برابر میں بیٹھی تھی۔۔۔ بلال زینش کی جگہ پر بیٹھ کر اپنے شوز اترنے لگا

“واٹ، آپی یا باجی۔۔۔ مگر یہ تو میری فرینڈ ہے اسے میں آپی یا باجی نہیں بول سکتا۔۔۔ ہاں اگر تمہیں میرا بڑوں کا نام لینا پسند نہیں ہے تو میں تمہیں بھائی انکل کہہ لوں گا۔۔۔ بھائی نہیں،، میرے خیال میں تم پر انکل زیادہ سوٹ کرے گا”

شہیر کی بات سن کر جہاں زینش نے اپنی ہنسی کنٹرول کی جو کہ بلال کی شکل دیکھتے ہوئے ایک مشکل کام تھا وہی بلال نے کھا جانے والی نظروں سے اپنے سامنے بیٹھے ہوئے اس چھوٹے سائز کی بڑی مصیبت کو دیکھا

“تمہیں مجھے بھائی انکل کہہ کر پکارنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ مجھے بلاوجہ کے رشتے بنانے میں نہ ہی کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی مجھے کسی کا بلاوجہ فری ہونا پسند ہے۔۔۔ ویسے تمہیں نہیں لگ رہا کے تمہارے پیرنٹس اب تمہیں یاد کر رہے ہوں گے اور تمہیں فوراً اپنے گھر جانا چاہیئے کیونکہ دوسروں کے گھر آکر اتنے ہی وقت کے لیے بیٹھا جاتا ہے”

بلال زینش کے گھورنے کی پرواہ کیے بنا شہیر کو بولتا ہوا صوفے سے اٹھ کر وارڈروب سے اپنے کپڑے نکالنے لگا

“اوہو مسٹر بلال تمہیں یہ کیوں فیل ہو رہا ہے کہ میں یہاں پر تم سے کوئی رشتہ بنانے آیا ہوں میں یہاں پر صرف زینش کے لئے آیا ہوں اور رہی بات میرے پیرنٹس کی،، تو وہ مجھے کبھی یاد نہیں کر سکتے انفیکٹ جب میں اپنے گھر پر موجود نہیں ہوتا تو وہ دونوں میری غیر موجوگی پر شکر ادا کرتے ہوں گے”

شہیر بلال سے بولتا ہوا مزید ریلیکس انداز میں صوفے پر بیٹھ گیا جیسے اس کا یہاں سے ٹلنے کا کوئی خاص پروگرام نہیں تھا،، اس کے اسٹائل پر زینش کو ہنسی آنے لگی جبکہ بلال ہاتھ میں پکڑے ہوئے کپڑے بیڈ پر رکھتا ہوا شہیر کے پاس آیا

“میرے خیال میں اب تمہیں ہمہیں بھی موقع دینا چاہیے کہ ہم دونوں بھی خدا کا شکر ادا کریں”

بلال ساری شرافت ایک طرف رکھتا ہوا بےمروتی سے شہیر کو دیکھ کر بولا

“بلال”

زینش کے ٹوکنے والے انداز پر بلال نے اسے اشارے سے خاموش رہنے کو کہا پھر دوبارہ شہر کو دیکھنے لگا

“تو پھر کیا میں یہ سمجھوں کہ تم مجھے اپنے فلیٹ سے نکل جانے کے لئے کہہ رہے ہو”

شہیر صوفے سے اٹھ کر بلال کے سامنے کھڑا ہوتا ہوا اس سے پوچھنے لگا

“تم اپنی عمر کے حساب سے کافی سمجھدار ہو بچے”

بلال ذرا سا جھک کر اس چھوٹے سائز کی بڑی مصیبت کو دیکھ کر بولا۔۔۔ انداز بلال کا ابھی بھی سنجیدہ تھا جس پر شہیر نے مصنوعی آہ بھری

“ٹھیک ہے اگر تم ایسا ہی چاہتے ہو تو میں چلا جاتا ہوں لیکن میں کل پھر آؤں گا زینش سے ملنے،، اوکے زیبش اب مجھے اجازت دو”

شہیر بولتا ہوا اس کے فلیٹ سے چلا گیا جبکہ زینش ابھی بھی مسکراتی ہوئی اس چھوٹے سے بچے کو سوچ رہی تھی

“تم یہاں کھڑی ہو کر مسکراتی رہو گی یا مجھ سے پانی کا بھی پوچھوں گی”

بلال زینش کو ٹوکتا ہوا بولا

“اگر آپ کو پیاس لگی ہے تو مجھے الہام نہیں ہوگا”

زینش اپنے لب سکھیڑتی ہوئی سیریس ہو کر بولی اسے یاد آیا کل اسے بلال نے اس کمرے سے جانے کے لیے کہا تھا زینش کمرے سے نکلنے لگی

“میرے خیال میں جب شوہر باہر سے آئے تو اخلاقاً بیویاں اپنے شوہر سے ایسا پوچھتی ہیں”

بلال اپنی شرٹ اتارتا ہوا زینش کو جتانے والے انداز میں بولا۔۔۔ بلال کو پہلی دفعہ ایسے بغیر شرٹ کے دیکھ کر زینش ایک دم جھجھکی پھر اپنی جھجھک مٹاتی ہوئی بلال کے پاس آئی

“کیوں اس دس بچوں کی اماں نے آپ کو پانی پلا کر نہیں رخصت کیا اپنے گھر سے”

زینش گہرا طنز کرتی ہوئی واپس جانے لگی تبھی بلال نے اس کا ہاتھ پکڑا اور زینش کا رخ اپنی طرف کیا

“وہ دس بچوں کی اماں نہیں صرف ایک ہی بیٹی تھی اس کی”

بلال نے بہت سنجیدگی سے اس کی معلومات میں اضافہ کیا جس پر زینش بلال کا ہاتھ زور سے جھٹک کر اس کو گھورتی ہوئی کمرے سے نکل گئی بلال اپنی مسکراہٹ ضبط کرتا ہوا کپڑے لے کر واش روم میں چلا گیا

*****

“یہاں کیوں لیٹ گئی ہو،، آ کر بیڈ روم میں لیٹو”

بلال ڈنر سے فارغ ہوکر کافی دیر سے اسپورٹس چینل دیکھ رہا تھا،، سونے کے غرض سے بیڈ روم میں آیا تو زینش کو وہاں موجود نہ پا کر دوسرے بیڈروم میں چلا آیا جہاں وہ سنگل بیڈ پر مزے سے لیٹی ہوئی تھی

“یہ بھی بیڈ روم ہی ہے”

وہ تھوڑی دیر پہلے شہنیلا سے بات کرنے کے بعد سونے کی غرض سے لیٹی تھی، تبھی بلال سے کہتی ہوئی بیڈ سے اٹھ کر بیٹھ گئی

“مجھے معلوم ہے یہ بھی بیڈروم ہے مگر ہم دونوں کو بیڈروم یہ والا نہیں ہے۔۔شاباش جلدی سے اپنے بیڈ روم میں آ جاؤ”

بلال اس کو بیڈروم میں آنے کا کہہ کر خود بھی بیڈروم میں جانے لگا

“شاید آپ بھول چکے ہیں میں کل بھی یہاں اسی روم میں سوئی تھی”

زینش کی آواز پر بلال کے قدم رکے وہ مڑ کر زینش کو دیکھنے لگا جو کہ ابھی بھی بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی شاید اس کا آج بھی اسی بیڈ روم میں سونے کا موڈ تھا،، جبھی بلال اس کے پاس آیا

“کل تم اس روم میں اس لیے سو گئی تھی کیونکہ کل میری جلدی آنکھ لگ گئی تھی لیکن آج ایسا ہرگز نہیں ہوگا”

بلال نے پاس آکر جتانے والے انداز میں اسے بولا

“مگر میں یہاں زیادہ کمفرٹیبل ہو”

زینش کا کوئی ارادہ نہیں تھا اس چیٹر بندے کے ساتھ ایک بیڈ پر سونے کا اس لیے وہ بولتی ہوئی بیڈ پر لیٹنے لگی،،، بلال نے اس کو لیٹتا ہوا دیکھ کر اپنے بازوؤں میں اٹھا لیا

“یہ کیا کر رہے ہیں آپ،، ہوش میں تو ہیں۔۔۔ مجھے نیچے اتاریں پلیز”

وہ بلال کی شرٹ کو سختی سے پکڑ کر اپنے دونوں پیر چلاتی ہوئی بولی۔۔۔ مگر بلال اس کی بات سنے بغیر اسے بیڈ روم میں لے کر آ گیا اور اسے بیڈ پر لٹانے کے بعد بیڈروم کا دروازہ بند کرکے دوبارہ اس کے پاس آکر بولا

“لیکن اگر تم وہاں سو گئیں تو میں یہاں اکیلا ہرگز کمفرٹیبل نہیں سو پاؤں گا”

وہ جذبے لٹاتی ہوئی نظروں سے زینش کو دیکھتا ہوا بولا جسے اگنور کر کے زینش فوراً بولی

“صرف ایک شرط پر میں یہاں پر سوؤں گی بلال،، کہ آپ مجھے بالکل بھی ڈسٹرب نہیں کریں گے”

زینش نے ایک نظر کمرے کے بند دروازے پر ڈالی اور بلال کو تنبہیہ کرتی ہوئی بولی جس پر بلال اپنے ہونٹوں پر آئی مسکراہٹ چھپا گیا

“تم کیا ایکسپیکٹ کر رہی ہو مجھ سے، یعنیٰ میں تمہیں کس طریقے سے ڈسٹرب کرسکتا ہو۔۔۔ مطلب کیا چل رہا ہے تمہارے دماغ میں شیئر تو کرو مجھ سے تاکہ مجھے بھی اندازہ ہو”

بلال بولتا ہوں اپنی ٹی شرٹ اتار کر اس کے قریب بیڈ پر آ کر بیٹھا تو زینش ایک دم بدک کر بیڈ سے پیچھے ہوئی

“آپ جیسے دکھتے ہیں ویسے بالکل بھی نہیں ہیں بہت گھُنے، میسنے اور شاطر ٹائپ کے انسان ہیں۔۔۔ آآآ مجھے چھوڑیں بلال”

زینش جو اسے بول رہی تھی اسی دوران بلال نے زینش کو اپنی طرف کھینچا جس پر وہ بلال کی گرفت میں مچلتی ہوئی بولی

“شش چپ رہو،، ابھی کچھ نہیں کر رہا بالکل خاموشی سے میری بات سن لو”

بلال کی بات سن کر اس نے اپنے ہاتھ چلانا بند کیے اور ساتھی ہی شور مچانا بھی بند کر دیا۔۔۔ زینش کو خاموش دیکھ کر بلال اس کو اپنی گرفت سے آزاد کرتا ہوا پرسوں رات کی مکمل اسٹوری سنانے لگا

“ایسے کیسے ہو سکتا ہے بھلا کہ کوئی لڑکی مجھ سے اتنی زیادہ ملتی ہو،، کہ سب اسے زینش سمجھنے لگ جائیں۔۔۔ جبکہ میری تو کوئی جڑواں بہن بھی بچپن میں نہیں کھوئی تھی”

ساری بات کلیئر ہو چکی تھی۔۔۔ زینش آمنہ اور خوشی کی باتوں کو سوچتی ہوئی بولی تو بلال اس کے چہرے پر خفگی کے اثرات زائل ہوتا دیکھ کر شکر ادا کرنے لگا

“ہم شکل ہونے کے لئے بہن یا بھائی ہونا لازمی نہیں ہوتا”

بلال اپنائیت سے اس کا ہاتھ تھامتا ہوا بولا

“یہ بات مانی جا سکتی ہے آپ کی۔۔۔ کیا آپ میرے کل کے رویے کی وجہ نہیں پوچھیں گے مطلب کس کے کہنے پر مجھے آپ پر شک ہوا”

زینش بلال کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی

“نہیں،، میں تم سے صرف یہ پوچھوں گا تمھیں اب تو مجھ پر شک نہیں ہے”

بلال اس کا ہاتھ پکڑے جبکہ اپنا دوسرا ہاتھ اس کے گال پر رکھتا ہوا پوچھنے لگا

“شک تو نہیں ہے البتہ شکایت ابھی بھی آپ سے اپنی جگہ برقرار ہے۔۔۔ اچھا نہیں کیا آپ نے یوں ماما کے ساتھ مل کر،، زبردستی کی ہے آپ دونوں نے مجھ سے”

یقینا وہ بلال سے نکاح والی بات پر شکوہ کر رہی تھی تبھی اس نے بلال سے اپنا ہاتھ چھڑوا کر بلال کا ہاتھ اپنے گال سے بھی ہٹا دیا

“تمہیں اپنا بنانا تھا ہر قیمت پر، اسی لیے زبردستی کی۔۔۔ ویسے تم کبھی نہیں مانتی۔۔۔ لیکن آج رات میں تمہاری ساری شکایتں دور کر دوں گا”

بلال نے بولتے ہوئے زینش کو دونوں شانوں سے تھام کر بیڈ پر لٹایا اور اس پر جھک گیا

“یہ اچانک سے آپ کو کیا ہو گیا ہے بلال۔۔۔ کیا کر رہے ہیں آپ پیچھے ہٹیں”

اپنی گردن پر بلال کی گرم سانسوں کا لمس محسوس کرتی ہوئی زینش اس سے بولی مگر وہ اس کی بات سننے کی بجائے زینش کی شرٹ کی زپ کھولنے لگا۔ ۔۔۔۔ زینش اس کی حرکت پر مزید بوکھلا گئی،،، مگر بلال کو شاید اس کی آواز نہیں آرہی تھی یا پھر وہ زینش کی سننے کے موڈ میں نہیں تھا تبھی زینش کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ کر اس کا منہ بند کر چکا تھا۔۔۔ وہ زینش کی گردن اور شانوں کو اپنے محبت بھرے لمس سے مہکا رہا تھا تب زینش نے اسے پیچھے دھکیلا

“کیا مسئلہ ہوگیا اب زینش تمہارے ساتھ”

بلال کو اس طرح زینش کے پیچھے ہٹانا پسند نہیں آیا تھا تبھی وہ اٹھ کر بیٹھ گیا اور بگڑے ہوئے موڈ کے ساتھ اس سے پوچھنے لگا

“آپ کے ساتھ کیا مسئلہ ہوگیا جو آپ اس طرح کر رہے ہیں”

وہ خود ہی اٹھ کر بیٹھ چکی تھی اور اپنی شرٹ شولڈر کے اوپر کرنے لگی

“میرا اس وقت کوئی فضول گوئی کرنے کا موڈ نہیں ہے زینش”

بلال اسے تنبہیہ کرتا ہوا بولا تو زینش بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی

“فضول گوئی کرنے کا موڈ نہیں ہے تو پھر فضول حرکتیں بھی مت کریں۔۔۔ میں اسی شرط پر اس روم میں سوؤں گی جب آپ مجھے سکون سے سونے دیں گے،، آپ مجھے ڈسٹرب کر رہے ہیں بلال”

زینش کی بات سن کر بلال کا خراب موڈ اب غصے میں تبدیل ہو چکا تھا وہ خود بھی بیڈ سے اٹھ کھڑا ہو گیا

“کیا وجہ ہے تمہارے اس طرح کے ری ایکٹ کرنے کی۔۔۔ آخر کس وجہ سے یوں ایوائڈ کر رہی ہوں اب جب سب کچھ کلیئر ہو چکا ہے جواب دو مجھے”

بلال زینش کی دونوں کلائیوں کو سختی سے پکڑ کر اسے پوچھنے لگا۔۔۔ زینش نے بلال سے اپنی کلائیاں چھڑوانے کی کوشش کی،، مگر بلال نے مضبوطی سے اسکی دونوں کلائیوں پکڑا ہوا تھا وہ غصے میں زینش کو دیکھ رہا تھا

“نکاح والے دن مجھے زبردستی چوڑیاں پہناتے ہوئے آپ نے خود مجھ سے کہا تھا اس کے بعد آپ مجھ سے کوئی ڈیمانڈ نہیں کریں گے”

زینش اسے نکاح والے دن کی بات یاد کرواتی ہوئی بولی جس پر بلال کا مزید پارہ ہائی ہوا

“کچھ لوگ ہوتے ہیں جو محبت کرنے کے قابل نہیں ہوتے تم بھی اس قابل نہیں ہو کہ تم سے محبت کی جائے”

وہ غصے میں بولتا ہوا زینش کو بیڈ پر دھکا دے کر اپنی شرٹ بیڈ سے اٹھاتا ہوا بیڈ روم سے باہر نکل گیا

*****

“خدا غارت کرے ایسے کمینے انسان کو جس نے میرے معصوم بھائی کا ہاتھ توڑ دیا۔۔۔۔ اللہ اس کے دونوں ہاتھ توڑ دے،، زندگی بھر کے لئے وہ معذور ہو جائے منحوس آدمی”

ہاتھ کی ہڈی پر بال پڑنے کی وجہ سے احتشام کے ہاتھ پر کچا پلسٹر چڑھا ہوا تھا،، ٹانگیں پر پڑے ہوئے نیل اور سوجھا ہوا منہ دیکھ کر فائقہ مسلسل اپنے بھائی کا حشر بگاڑنے والے کو دوائیاں دے رہی تھی اور گالیوں سے نواز رہی تھی۔۔۔ فائقہ کا شوہر ذیشان اسے چند دنوں کے لیے ضروری کام کا کہہ کر،، احتشام کے پاس چھوڑ کر چلا گیا تھا

“ایسے لوگوں کو بد دعائیں اثر نہیں کرتی ہیں فائقہ،، اب مجھے کوئی بہت بڑا قدم اٹھانا پڑے گا۔۔۔ وہ سالا میری بیوی اور بچی کو،، اپنی بیوی اور بچی سمجھ بیٹھا ہے۔۔۔ تباہ و برباد کر دوں گا اسے۔۔۔ چھین لونگا میں اس سے واپس اپنی بیوی اور بچی کو”

احتشام شدید تکلیف کے عالم میں انتقام کی آگ میں جلتا ہوا بولا

“بڑی بڑی ناقدری عورتیں دیکھی ہیں میں نے لیکن سندیلا بھابھی جیسی ناشکری بندی آج تک نہیں دیکھی۔ ۔۔ یہاں پہلا شوہر انہیں حاصل کرنے کے لیے تڑپ رہا ہے،، مرے جارہا ہے اور ان مہارانی کے مزاج ہی نہیں مل رہے ہیں۔۔۔ بھائی میں تو کہتی ہوں آپ اپنی بچی کو اٹھا کر لے آئے،، یہ عورت خود اس غنڈے کو چھوڑ کر آپ کے پاس واپس آنے پر مجبور ہو جائے گی دیکھ لینا آپ”

فائقہ سے احتشام کی ٹوٹی پھوٹی حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی وہ احتشام کو اپنی طرف سے بہترین مشورہ دیتی ہوئی بولی

“کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی پڑے گا یونہی ہاتھ پر ہاتھ رکھے تھوڑی بیٹھو گا۔۔۔ اس کمینے انسان نے دھوکے دے کر چھینا ہے مجھ سے سندیلا کو۔۔۔ اب ایسی چال چلو گا کہ ہاتھ ملتا رہ جائے گا۔۔۔ اتنے آرام سے تو میں ہار بالکل نہیں مانو گا”

احتشام نفرت اور غصے سے بولا

*****