Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel NovelR50401 Woh Howe Meharban (Episode 3)
Rate this Novel
Woh Howe Meharban (Episode 3)
Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel
“بدر کی آفر قبول کیوں نہیں کی تم نے یہ تمہارے پاس سنہری موقع تھا تمہارا فیچر بن سکتا تھا اگر تم اس کے انڈر کام کرتے تو بہت جلد اپنی صلاحیتوں سے اس کے رائٹ ہینڈ بن جاتے”
معظم اس وقت قاسم کے آفس میں موجودہ تھا قاسم معظم کو دیکھ کر بولا اس کے نزدیک معظم نے ایک اچھا موقع ہاتھ سے جانے دیا تھا
“اگر یہ واقعی سنہری موقع ہوتا تو میں اسے ہاتھ سے ہرگز نہیں جانے دیتا جسے آپ سنہری موقع سمجھ رہے ہیں ایسے کئی موقع معظم کی زندگی میں آئے ہیں اور چلے گئے ہیں آپ بھی جانے دیجئے بات کو۔۔۔ یہ بتائیے کہ آپ نے کس کام کے لیے مجھے یاد کیا ہے”
معظم نے قاسم سے اس کے بلانے کی وجہ پوچھی اور جیب میں سے سگریٹ کا پیکٹ نکالنے لگا۔ ۔۔۔ بے شک اس کے کپڑے پرانے اور گھسے ہوئے ہوتے مگر سگریٹ وہ ہمیشہ اچھے برانڈ کی پیتا تھا
“محمد غنی پرائیویٹ اسکول کا ایک پرنسپل ہے بلکہ یوں کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ اس اسکول کی زمین کا وہی مالک ہے ہمیں اپنا کاروبار کرنے کے لیے زمین کا وہ ٹکڑا چاہیے جہاں اس کا اسکول موجود ہے۔۔ شریفانہ طریقے سے ایک پرکشش رقم کی آفر میں اس کو کر چکا ہوں مگر شرافت کی زبان شاید اس کے سر پر سے گزر چکی ہے اس لئے سوچا تم اس کے پاس جا کر اسے اپنی زبان میں سمجھا دو”
قاسم اسے اپنے پاس بلانے کا سبب بتانے لگا جو کہ معظم اسموکنگ کرتا ہوا غور سے سن رہا تھا
“اسکول کا نام”
سگریٹ کا دھواں ہوا میں چھوڑتا ہوا وہ قاسم سے پوچھنے لگا قاسم اسے مزید ڈیٹیل بتانے لگا
“صحیح ہے آپ کا کام ہو جائے گا”
بنا کوئی فضول بات کیے وہ قاسم سے بولتا ہوا کرسی سے اٹھا اور اس کے آفس سے باہر نکل گیا
****
“جی مس شبنم مسٹر احتشام کو سمع برادرز کے پروجیکٹ والی فائل کے ساتھ ذرا میرے روم میں بھیجے”
حسان نے اپنی سیکرٹری کو بول کر ریسیور کو کریڈل پر رکھا تھوڑی دیر بعد احتشام ہاتھ میں فائل لیے حسان کے کمرے میں آیا
“آؤ احتشام بیٹھو۔۔۔ ذرا مجھے نئے پروجیکٹ کے ڈیٹیلز کے بارے میں بتاؤ اور یہ سائیڈ پر کام اسٹارٹ ہو گیا ہے کہ نہیں”
حسان اپنے سامنے بیٹھے احتشام کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“جی سر کام تو پرسوں ہی شروع ہو گیا تھا کھدائی کا کام جاری ہے،، آپ تین سے چار دن بعد وزٹ کرکے دیکھ سکتے ہیں اور کام میں جو لاگت آئی ہے اس کی اماؤنٹ یہ ہے”
احتشام نے فائل میں سے ایک پیپر پر نکال کر حسان کو تھمایا جسے وہ دیکھنے لگا
“سمینٹ کی کتنی بوریاں منگوائی گئی ہیں”
پیپر پر درج ذیل رقم دیکھ کر حسان احتشام سے پوچھنے لگا
“سر ابھی فی الحال 500 بوریاں منگوائی ہیں”
احتشام حسان کے چہرے کے زاویے دیکھتا ہوا اسے بتانے لگا
“ٹھیک ہے ابھی فی الحال 300 بوریاں سائیٹ پر بھجوا دینا اور سریا خریدنے کی ضرورت نہیں ہے پرویز سے بات کر لو وہ گودام میں موجود سریا دو دن بعد سائیٹ پر بھجوا دے گا”
حسان اماؤنٹ والا پیپر اپنے میز کی ڈراز میں رکھتا ہوا احتشام سے بولا
“مگر سر وہاں پر چھ سو سیمنٹ کی بوریوں کی ضرورت درکار ہے اس کے باوجود یہاں پر 500 بوریاں لکھی گئی ہیں”
احتشام نے حسان سے بولا تو اس کے چہرے کے تاثرات ایک دم سخت ہوئے
“جتنا کہا گیا ہے احتشام اتنا کرو اب تم جا سکتے ہو”
حسان کے بولنے پر احتشام اس کے کمرے سے نکل آیا
“کیا ہوگیا موڈ کیو آف ہے میرے بھائی”
احتشام حسان کے کمرے سے نکلا تو طٰہ اس سے پوچھنے لگا
“یار دیکھنے میں حسان صاحب اچھے بھلے انسان لگتے ہیں لیکن اتنے بڑے بڑے ہاتھ مارتے ہیں کہ کیا بتاؤں ابھی جو کانٹریکٹ ملا ہے اس کے ساتھ انہیں اچھی خاصی ایک بڑی رقم ملی ہے مگر پھر بھی آدھی سیمنٹ کی بوریاں غائب کروا دی”
احتشام کے بتانے پر طٰہ ہنسنے لگا
“میرے بھائی یہ دور ہی ایسا ہے یہاں ہر کوئی اپنا فائدہ دیکھ کر بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا سوچتا ہے اب تم بھی اپنے آپ کو ہی دیکھ لو ایک فائل کو آگے پہنچانے کے لئے تم نے بھی پانچ ہزار روپے لیے تھے اس آدمی سے وہ جو پرسوں تمہارے پاس آیا تھا۔۔۔ تم نے اس دن اپنے لیول کی کرپشن کی، حسان صاحب اپنے لیول کی کرپشن کر رہے ہیں یہ سمجھ لو کہ ہر بندہ ہی اپنے اپنے لیول کی کرپشن کرتا ہے”
طٰہ کی بات سن کر احتشام بالکل خاموش ہو گیا اور ٹیبل پر رکھی اپنی فائل دیکھنے لگا
****
“کیا ضرورت تھی تمہیں ایڈی کے منہ پر تھپڑ جڑنے کی وہ چوڑیل صنوبر تمہاری مامی، اس نے فیض کو خوب نمک مرچ لگا کر تمہارا کل کا کارنامہ بتایا ہے۔۔۔ معلوم ہے کل تمہارے کیفے جانے کے بعد فیض کتنا ہنگامہ کر رہا تھا گھر میں،، ایک تو ویسے ہی آدھا رینٹ دینے کے باوجود یہاں پر اتنی باتیں سننی پڑتی ہیں اوپر سے تم اور مسئلہ پیدا کر دو،، اپنے خود کے لئے بھی اور میرے لئے بھی”
شہنیلا گھر میں رہ کر زینش کو اتنی باتیں نہیں سنا سکتی تھی اس لئے وہ آج صبح فلاور شاپ جانے سے پہلے اس کو واک کرنے کا کہہ کر گھر کے قریبی پارک لے کر آئی تھی اور اس وقت زینش بینچ پر بیٹھی ہوئی تھی جبکہ شہنیلا اس کے سامنے کھڑی اردو میں اس سے سخت لہجے میں مخاطب تھی
“ماما ایڈی نے ایسا کوئی کارنامہ نہیں کیا تھا جو میں اسے ایوارڈ دیتی اس نے تھپڑ کھانے والے کام ہی کیا تھا اور فیض ماموں انہیں تو شرم آنی چاہیے ایڈی ان کی بیوی سے کیسے فضول انداز میں بات کر رہا ہوتا ہے جسے سن کر فیض ماموں کو غصہ آنا چاہیے مگر وہ ایڈی کی فضول باتوں کو انجوائے کر رہے ہوتے ہیں۔۔۔۔ ماما پلیز آپ میری بات مان لیں یہاں رہتے ہوئے ہمیں واقعی آگے بھی بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ہم واپس پاکستان چلتے ہیں وہاں کوئی چھوٹا موٹا فلیٹ رینٹ پر لے لیں گے،، آپ اور میں مل کر کوئی جاب کر لیں گے،، ہم دونوں ہی پاکستان میں بغیر کسی مصیبت کے آسانی سے رہ سکتے ہیں”
زینش نے آخری بات بڑے لجاحت بھرے انداز میں بولی جسے سن کر شہنیلا ایک دم بھڑک گئی
“کونسی حسین یادیں جڑی ہیں پاکستان سے ہماری جو تم وہاں پر واپس جانے کی بات کر رہی ہو،، وہاں تو جیسے بہت شریف اور ادب کرنے والے مرد موجود ہیں بھول گئی ہو کیا وہاں پر دو سال پہلے تمہارے ساتھ کیا ہوا تھا۔۔۔۔ اکیلی عورتیں کہیں پر بھی رہیں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے دیکھو زینش تم بات سمجھنے کی کوشش کرو ایڈی کو تھوڑا بہت سمجھو اسے دوسری نظر سے دیکھو وہ اتنا برا نہیں ہے اگر تم اس کے ساتھ چند دن اس کا فلیٹ شیئر کر لوں گی تو وہ تم سے شادی بھی کرلے گا”
شہنیلہ اب زینش کو اپنا نظریہ سمجھانے کی کوشش کرنے لگی تو زینش بینچ سے اٹھ کر شہنیلہ کے سامنے آئی
“آپ اپنا مقام اور مرتبہ میری نظروں سے مت گرائے ماما۔۔۔۔ جانتی ہیں آپ اپنی سگی بیٹی کو کیا کہہ رہی ہیں ایک نان مسلم ایک نامحرم لڑکے کے ساتھ بناء کسی رشتے کے رہنے کی بات کر رہی ہیں آپ۔۔۔ آخر کیسے گوارا کر سکتی ہیں آپ، کہ میں بغیر کسی تعلق کے ایک لڑکے کے ساتھ اس کے فلیٹ میں رہو”
زینش نے چاہا کہ وہ شہنیلا کو اس کی بات پر تھوڑی سی شرم دلائے مگر وہ بھول چکی تھی کہ اس عمر میں اسکی ماں خود ایک عدد بوائے فرینڈ رکھی ہوئی ہے بھلا اسے شرم کہاں آنی تھی
“اب میں تم سے سمپل اور سیدھی بات کرتی ہو ہیری نے فیض سے صاف کہہ دیا ہے کہ تم جب تک ایڈی کے ساتھ اس کا اپارٹمنٹ شیئر نہیں کرو گی تو وہ اپنے بیٹے کے تپھڑ کو نہیں بھولے گا اور فیض نے ہم دونوں کو اپنے ساتھ رکھنے کی یہی شرط رکھ چکا ہے پلیز زینش سمجھنے کی کوشش کرو مان جاؤ میری بات”
شہنیلہ کی بات سن کر زینش ہتھے سے اکھڑ گئی
“تو وہ بے شرم انسان اپنے تھپڑ کا بدلہ مجھ سے یوں لے گا۔۔۔ شرم آ رہی ہے مجھے آپ پر اور فیض ماموں پر، آپ سب مل کر مجھے یوں پریشرایز نہیں کر سکتے ہیں، ٹھیک ہے اب میں خود ہی اپنا کہیں اور بندوبست کر لیتی ہو مگر اس منحوس انسان کے ساتھ اس کے اپارٹمنٹ میں تو کبھی بھی نہیں رہوں گی”
زینش غصے کے باوجود آنکھوں میں نمی لئے بھرائی ہوئی آواز میں بولی اس کے آنسو دیکھ کر ایک پل کے لئے شہنیلا کے دل کو کچھ ہوا آخر کو وہ بیٹی تھی اس کی
“اچھا اس طرح پریشان مت ہو میں کچھ نہ کچھ سوچتی ہوں بس اب تم فیض یا صنوبر کے منہ مت لگنا بلاوجہ میں۔ ۔۔۔ کیا مسئلہ ہے اب کچھ نہ کچھ تو سوچنا ہی پڑے گا”
شہنیلہ زینش سے پریشان ہوتی ہوئی بولی اور پھر کچھ سوچنے لگے
*****
رات کے ڈنر کے بعد سیٹنگ ایریا میں بلال اور حسان دونوں ہی موجود تھے بلال ایل ای ڈی پر بڑی اسکرین پر کوئی ٹاک شو کا پروگرام دیکھنے میں مگن تھا جبکہ حسان صوفے سے اپنا سر ٹیک کر کنپٹی دبا رہا تھا تبھی وہاں پر جویریہ آئی
“کیا ہوگیا ہے حسان تمہیں”
اسے کنپٹی دباتا ہوا دیکھ کر جویریہ فکر مندی سے پوچھنے لگی۔۔۔ اس کی آواز میں چھلکتی ہوئی فکر پر بلال نے بھی اسکرین سے نظر ہٹا کر حسان کو دیکھا
“کچھ نہیں امی ہلکا سر درد کر رہا ہے” حسان نے لاپرواہ انداز میں جواب دیا تو جویریہ اس کے پاس ہی بیٹھ گئی جبکہ بلال دوبارہ ایل ای ڈی کی اسکرین کی طرف متوجہ ہو گیا
“معلوم نہیں کن چکروں میں پڑے رہتے ہو تم دونوں بھائی صبح افس جانے کے ٹائم پر اس کا بھی سر درد کر رہا تھا اور اب تم سر درد کا بول رہے ہو”
جویریہ ابھی بھی فکرمند لہجے میں بولی یہ بات صحیح تھی کہ صبح آفس جانے سے پہلے ناشتے کی ٹیبل پر بلال کی سرخ آنکھیں دیکھ کر جویریہ نے بلال سے اس کی طبعیت پوچھی تھی تب اسے معلوم ہوا کہ اس کا سر درد کر رہا ہے جس پر جویریہ نے ملازم سے کہہ کر اس کے لیے پین کلر منگوائی تھی اور ابھی وہ حسان کا سر اپنی گود میں رکھ کر دبا رہی تھی
“کن چکروں میں پڑنا ہے ہم دونوں بھائیوں کو امی، آپ کے دونوں بیٹے ہی بہت زیادہ شریف ہیں صبح گھر سے سیدھا آفس، آفس سے سیدھا گھر، کیا یہ شریف لڑکوں کی نشانی نہیں”
حسان جویریہ کی گود میں سر رکھ کر آنکھیں بند کیا ہوا بولا جس پر جویریہ مسکرا دی۔۔۔ ان دونوں کو باتوں میں مگن دیکھ کر بلال کمرے سے جانے لگا
“بلال کہاں جارہے ہو بیٹھو بات کرنا ہے مجھے”
بلال کو کمرے سے جاتا ہوا دیکھ کر جویریہ ایک دم بولی جس پر بلال رک کر اسے دیکھنے لگا
“کیا کوئی ضروری بات ہے”
وہ واپس صوفے پر بیٹھتا ہوا جویریہ سے پوچھنے لگا یقینا کوئی کام کی بات ہوگی تبھی جویریہ نے اسے روکا تھا ورنہ وہ اس کے اسطرح جانے کا کم ہی نوٹس لیتی تھی
“بات کوئی اتنی ضروری بھی نہیں تھی مگر تم بھی گھر کے فرد ہو گھر میں کیا ہو رہا ہے کیا نہیں تمہیں بھی معلوم ہونا چاہیے” جویریہ اس کے ہر معاملے پر لاتعلقی برتنے پر بلال کو احساس دلاتی ہوئی بولی
“گھر میں کیا ہو رہا ہوتا ہے کیا نہیں سب دکھ رہا ہوتا ہے مجھے میں اندھا نہیں ہوں،، خیر کیا کہنا چاہ رہی ہیں آپ وہ بولیں”
اب وہ ایسا ہی ہوتا جا رہا تھا جانے کب اسے کونسی بات بری لگ جاتی سامنے والے کو معلوم ہی نہیں ہوتا تھا حسان اس کی بات سن کر اٹھ کر بیٹھ گیا جبکہ جویریہ اس کا طنزیہ لہجہ اگنور کرتی ہوئی بولی
“میری دوست شہنیلا جو پنڈی میں رہتی تھی، معلوم نہیں وہ تم دونوں کو یاد بھی ہے کہ نہیں”
آج دو سال بعد جویریہ کے پاس اس کی کال آئی تھی شہنیلا کے شوہر کے انتقال کے بعد جویریہ کی آج شہنیلہ سے بات ہوئی تھی
“وہی نہ جن کے ہسبینڈ کی دو سال پہلے ڈیتھ ہو گئی تھی”
حسان یاد کرتا ہوا جویریہ سے پوچھنے لگا یہ تو بلال کو بھی یاد آ گیا مگر وہ خاموش ہی بیٹھا رہا
“ہاں وہی، آج اس کی کال آئی تھی میرے پاس ویسے تو رضوان بھائی کی ڈیتھ کے بعد وہ اپنے بھائی فیض کے پاس زینش کو لے کر نیویارک چلی گئی تھی مگر اب اسے وہاں پر کچھ مسئلہ درپیش آ رہے ہیں جن کی وجہ سے وہ اپنی بیٹی زینش کو یہاں پاکستان بھیجنا چاہتی ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ وہ یہاں پر کسی دوسرے پر بھروسا نہیں کر سکتی ہے جوان بیٹی ہے اس کی، کافی فکر مند اور پریشان لگ رہی تھی وہ بات کرتے ہوئے۔۔۔ مجھ سے کہہ رہی تھی اگر چند ماہ زینش میرے پاس رہ لے تو میں اس کی بات کو ایگری کر چکی ہو تو سوچا تم دونوں سے بھی شیئر کر لو”
جویریہ آج صبح شہنیلا سے ہوئی بات حسان اور بلال کو بتانے لگی
“ہاں تو اس میں مسئلہ کیا ہے اچھا بڑا گھر ہے ہمارا ان کی بیٹی کیا وہ خود بھی یہاں آکر رہ لیں اس میں کیا پرابلم ہے”
حسان کندھے اچکاتا ہوا بولا تو جویریہ بلال کو دیکھنے لگی
“بڑا گھر ہونے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ کوئی بھی ایرا غیرہ یہاں آکر رہنے لگ جائے”
بلال حسان کی بات سن کر اسے دیکھتا ہوا بولا
“مجھے اندازہ تھا تمہیں مسئلہ ہوگا” جویریہ بہت نرمی سے بلال کو دیکھتی ہوئی بولی جس پر بلال جویریہ سے بولا
“امی شہنیلا آنٹی اگر واقعی کسی پر بھروسہ نہیں کر سکتی تو پھر وہ کیسے اپنی جوان بیٹی کو ایک ایسے گھر بھیج رہی ہیں جہاں پہلے سے ہی دو جوان لڑکے رہتے ہیں ایسا تو نہیں ہے ان کے اپنے ریلیٹو یا پھر ان کے ہسبنڈ کے ریلیٹو یہاں پر موجود نہ ہو۔۔۔۔ اور اگر ایسا ہے بھی تو ہوسٹل کا آپشن بھی موجود ہے۔۔۔ لیکن اگر آپ ان کی بات کو ایگری کر چکی ہیں تو پھر یہ ایسی کوئی خاص بات نہیں تھی جس کے لئے اسپیشلی آپ ہمیں بتاتی”
بلال بولتا ہوا صوفے سے اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گیا
زیادہ تر ایسا ہی ہوتا ہے حسان اور جویریہ کی باتوں سے اکثر اسے اختلاف ہوتا بلال کے جانے کے بعد جویریہ حسان کو دیکھنے لگی جو اس کا ہاتھ تھام کر مسکراتا ہوا اسے دیکھنے لگا
****
“چلو یار اب اپنا موڈ تو ٹھیک کرلو میں تمہیں تمہارے من پسند ریسٹورنٹ میں لے کر آیا ہوں”
احتشام کھانا آرڈر کرنے کے بعد سندیلا کو دیکھتا ہوا بولا جو دو دن سے اس سے بالکل بھی بات نہیں کر رہی تھی۔۔۔ اس لئے وہ گھر والوں کے سامنے یہ ظاہر کرکے کہ وہ اور سندیلا اس کے دوست کے گھر جا رہے ہیں احتشام سندیلا کو ریسٹورنٹ لے کر آ گیا تھا
“وہ بھی اپنے گھر والوں سے جھوٹ بول کر، شام کیا آپ ساری زندگی ایسے ہی چھپ چھپ کر غلط بیانی کرکے مجھے کہیں لے کر جائیں گے۔۔۔ آخر ہم دونوں کو اکیلے کہیں آنے جانے کی آزادی کیوں نہیں ہے”
سندیلا احتشام کو دیکھتی ہوئی شکوہ کرنے لگی گھر میں کسی دوسرے کو شک نہ ہو کہ وہ رات کا کھانا باہر کھا کر آئیں گے، وہ نہ صرف گھر میں خود کھانا بنا کر آئی تھی بلکے تھوڑا بہت کھا کر یہاں احتشام کے ساتھ آئی تھی اور جانتی تھی گھر جانے کے بعد کچن میں جھوٹے برتن اسی کے منتظر ہوگے”
“اب تم یہاں آ کر اس بات کو ایشو بنا کر بیٹھ گئی ہو، یار اچھا نہیں لگتا ہے بہن بھائی ماں گھر پر کھانا کھائیں اور میں بیوی کو لے کر سیر سپاٹوں پر نکلا ہوں”
احتشام سندیلا کو دیکھ کر سنجیدگی سے سمجھاتا ہوا بولا تو سندیلا حیرت سے اسے دیکھنے لگی
“آپ تو ایسے کہہ رہے ہیں شام جیسے ہم ہر دوسرے دن سیر سپاٹو کے لیے نکل پڑتے ہیں شادی کے ان دو سالوں میں، میں انگلیوں پر گن کر بتا سکتی ہو کہ آپ مجھے کتنی بار گھر سے باہر اکیلے لے کر آئے ہیں وہ بھی اپنے گھر والوں سے چھپ کر اور ایسی بات تو نہیں ہے شام کے آپ صرف مجھے ہی ڈنر پر لے کر آئے ہیں پچھلی دو بار آپ مجھے گھر چھوڑ کر اپنے تمام گھر والوں کو ڈنر پر لے کر گئے تھے تب میں نے برا نہیں مانا تھا”
سندیلا احتشام کو جتانے کے بعد اسے پرانی بات یاد دلاتی میں بولی
“تم تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے گھر پر بھوکی بیٹھی رہی تھی پھر وہاں سے کھانا بھی تو پیک کروا کے لایا تھا تمہارے لیے اور تمہیں گھر پر چھوڑ جانے کا فیصلہ میرا نہیں امی کا تھا وہ تمہاری اس حالت میں باہر جانے کو منع کر رہی تھی خیر یہ پرانی باتیں ہیں ان کو چھوڑو۔۔۔ میرا موڈ بہت اچھا ہے اس لیے اپنا موڈ بھی اچھا کرلو”
احتشام سندیلا کو دیکھتا ہوا بولا اور پھر مسکرایا آج وہ واقعی فریش دکھ رہا تھا
“اگر آپ کا اچھا موڈ ہے تو پھر میرا موڈ خود ہی اچھا ہو جائے گا”
سندیلا بھی ساری باتوں کو فراموش کرکے مسکراتی ہوئی احتشام سے بولی
“اگر اچھا نہیں ہوگا تو میں خود اچھا کر دوں گا”
احتشام نے ٹیبل پر رکھا ہوا سندیلا کا ہاتھ پکڑا تو سندیلا بلش کرتی ہوئی مسکرائی، کیو کہ پبلک پلیس میں ایسی بے باکی کے مظاہرے وہ بہت ہی کم کرتا تھا لیکن آج احتشام کو خوش دیکھتے ہوئے سندیلا نے سوچا کہ وہ احتشام سے وہ بات بھی شیئر کر دے جو بات اس نے احتشام سے چند ماہ سے چھپائی ہوئی تھی
****
