Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel NovelR50401

Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel NovelR50401 Woh Howe Meharban (Episode 20)

444.1K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Woh Howe Meharban (Episode 20)

Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel

فجر کی اذان کا وقت جب وہ کمرے میں آیا ایک نظر اس نے بےبی کارٹ میں سوتی ہوئی پری پر ڈالی اور پھر بیڈ کی جانب بڑھا جہاں سندیلا سو رہی تھی معظم اس کے برابر میں لیٹتا ہوا سندیلا کو دیکھنے لگا۔۔۔ اُس وقت سندیلا کی دلی کیفیت اس کے آنسو بیان کر رہے تھے انہیں دیکھ کر ہی وہ پیچھے ہٹا تھا۔۔۔ سندیلا کا چہرہ دیکھتے ہوئے ایک بار پھر وہ ماضی میں چلا گیا جہاں وہ “اس” کے ساتھ کچھ برا نہ کرتے ہوئے بھی برا کر چکا تھا۔۔۔ اِس وقت معظم کے برابر میں سوئی ہوئی لڑکی “وہ” نہیں تھی مگر اس کی بیوی کا چہرہ کافی حد تک “اس” سے مشابہت رکھتا تھا۔۔۔ قدرت کی ستم ظرفی تھی یا حالات کا تقاضہ کہ وہ “اسے” زندگی میں شامل نہیں کر سکا تھا مگر معظم نے کبھی بھی اس بات کو اپنی زندگی کا روگ نہیں بنایا لیکن وہ یہ سوچ چکا تھا جسے وہ اب اپنی زندگی میں شامل کر چکا ہے اس کے ساتھ کچھ غلط نہیں ہونے دے گا۔۔۔ معظم ابھی اپنی سوچوں میں گم تھا کہ سندیلا کے موبائل کی رینگ ٹون نے اس کی توجہ اپنی طرف کھینچی،، سائیڈ ٹیبل پر موجود سندیلا کا موبائل اٹھا کر وہ موبائل پر آیا ہوا میسج دیکھنے لگا جسے پڑھ کر معظم کے ماتھے پر شکنیں نمایاں ہوئی،، میسج میں احتشام نے سندیلا کو دوپہر تک تیار رہنے کا کہا تھا وہ سندیلا کو یہاں سے لے جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔ میسج میں ہی احتشام نے سندیلا کو آگاہ کیا تھا کہ اس نے ڈائیورس پیپرز بھی تیار کروا لیے ہیں معظم نے سندیلا کے موبائل سے میسج ڈیلیٹ کیا اور موبائل آف کرکے لیٹ گیا۔۔۔ احتشام کے بارے میں کچھ بھی سوچنا اس کے نزدیک فضول کام کے سوا کچھ نہیں تھا اس لئے سونے کی کوشش کرنے لگا

****

رات میں روتے ہوئے نہ جانے کب اس کی آنکھ لگی تھی،، زینش نے رات میں روتے ہوئے “اس” کو نہ جانے کتنی بد دعائیں دی تھی جس کی وجہ سے آج اسے یہ دن دیکھنا پڑ رہا تھا۔۔۔ بے بسی کی انتہا یہ بھی کم نہیں تھی کہ اس مشکل وقت میں شہنیلہ کی بھی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اور وہ اس وقت اس کے پاس موجود نہیں تھی۔۔۔ زینش سوچ چکی تھی وہ اب حسان کے ساتھ اپنا رشتہ برقرار نہیں رکھے گی،، اس گھر سے دور چلی جائے گی۔۔۔ وہ یہی ساری باتیں سوچ رہی تھی کہ کمرے کا دروازہ بجا

“یہ آپ کے لئے ناشتہ لے کر آئی ہو”

زینش نے کمرے کا دروازہ کھولا تو تہمینہ کمرے میں ٹرالی لاتی ہوئی اس سے بولی

“کس نے بھیجا ہے یہ ناشتہ”

زینش نے ٹرالی میں موجود ناشتے کے لوازمات دیکھ کر تہمینہ سے سوال کیا

“جویریہ میڈم کے کہنے پر لائی ہو”

تہمینہ نے زینش کو وہی جواب دیا جو تہمینہ کو بولنے کے لیے کہا گیا تھا

زینش ٹرالی میں موجود ناشتہ دیکھنے لگی تب اسے احساس ہوا کہ اس نے کل دوپہر کا کھانا کھایا ہوا تھا وہ ناشتہ کر کے ابھی فارغ ہوئی تھی تب کمرے کا دروازہ دوبارہ ناک ہوا

“تم جاگ گئی ہو بیٹا تو کیا میں اندر آ جاؤ”

زینش کے دروازہ کھولنے پر جویریہ اس کو دیکھ کر مسکراتی ہوئی پوچھنے لگی

“یہ آپ ہی کا گھر ہے آنٹی، یہاں کمرے میں آنے کی اجازت مانگ کر آپ مجھے شرمندہ مت کریں”

زینش جویریہ کو راستہ دیتی ہوئی بولی۔۔۔ حقیقت کھلنے کے باوجود ایک وہی تو تھی جس کا رویہ یا لب ولہجہ نہیں بدلا تھا

“یہ جتنا میرا گھر ہے اب تمہارا بھی اتنا ہی گھر ہے بہو بنا کر لائی ہو میں تمہیں یہاں اس گھر کی۔۔ کل جو بھی کچھ ہوا ہے اسے صحیح ہونے میں تھوڑا ٹائم لگے گا مگر تم اپنے آپ کو ہم سے اور اس کے گھر سے جدا مت سمجھو اب تم بھی اسی گھر کا حصہ ہوں”

جویریہ کمرے میں آکر صوفے پر بیٹھتی ہوئی زینش سے بولی

“مجھے نہیں لگتا آنٹی کے جو بھی کچھ ہو چکا ہے اب وہ ٹھیک ہو سکتا ہے، میرا کچھ بھی سمجھنے یا نہ سمجھنے سے کچھ نہیں ہوتا حسان نہ تو کوئی بھی بات سننا چاہتے ہیں اور نہ ہی سمجھنا چاہتے ہیں۔۔۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ مجھے بیوی کے طور پر اب قبول کریں گے اور میں خود بھی حسان کی آنکھوں میں اپنے لیے حقارت برداشت کرکے ان کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔۔۔ میں نے سوچ لیا ہے ہم دونوں کا الگ ہو جانا بہتر ہے”

زینش آئستہ آواز میں جویریہ کو اپنے فیصلے سے آگاہ کرتی ہوئی بولی

“کیسی باتیں کر رہی ہو زینش اتنی جلدی ہمت ہار گئی تم، میں ابھی حسان کو سمجھا کر آئی ہو اس نے تھوڑا بہت سمجھنے کی کوشش کی ہے اور تم یہاں بیٹھ کر رشتہ ختم کرنے کی باتیں کر رہی ہو افسوس ہو رہا ہے مجھے تمہاری سوچ پر”

جویریہ واقعی کل سے اس صورت حال پر پریشان ہو چکی تھی اور تھوڑی دیر پہلے وہ حسان سے بات کرکے آئی تھی مگر یہاں آ کر معلوم ہوا کہ زینش بھی وہی الگ ہونے کی باتیں کر رہی ہے تبھی وہ افسوس کرتی ہوئی بولی

“تو کیا حسان کا غصہ اتر چکا ہے اب وہ میری بات پر یقین کریں گے۔۔۔ آنٹی پلیز آپ ان کو سمجھائیں میں ایک ایک بات سچ کہہ رہی ہوں اور یہ ساری باتیں میں نے صرف ماما کے کہنے پر ان سے چھپائی”

زینشن کو جویریہ کی باتوں سے تھوڑا حوصلہ ملا تو اسے تھوڑے اچھے کی امید نظر آئی

“میں نے حسان کو کافی حد تک سمجھایا ہے تھوڑا بہت اس کا غصہ اتر گیا ہے اب وہ پرسکون ہو کر ساری باتوں کو سوچے گا تو اسے تمہاری باتوں پر بھی یقین آ جائے گا اور ویسے بھی اتنی بڑی حقیقت کو فوری طور پر قبول کرلینا مرد کے لئے تھوڑا مشکل ہوتا ہے تم اچھے کی امید رکھو حسان سے۔۔۔ آج کے فنکشن کے لئے گھر سے جلدی نکلنا ہے تمہارا ڈریس اور جیولری تہمینہ سے کہہ کر یہی تمہارے روم میں بھجوا دیتی ہوں۔۔۔ اچھا ہوا کہ تم نے خود ہی ناشتہ کر لیا میں تہمینہ سے کہنے والی تھی،، ابھی دوسرے سارے ارینجمنٹ دیکھنے ہیں میں چلتی ہوں تھوڑی دیر تم بھی ریسٹ کرلو”

جویریہ زینش سے بولتی ہوئی اس کے کمرے سے چلی گئی

جویریہ کی باتوں سے زینش کو تھوڑا بہت سکون ہوا تھا ورنہ کل رات کے حسان کے رویہ سے تو وہ کافی دلبرداشتہ ہوئی تھی

اگر یہ ناشتہ آنٹی نہیں بھجوایا تو پھر کس نے بھیجویا ہے

زینش ناشتے کے ٹرالی کو دیکھ کر سوچنے لگی۔۔ اتنے میں اس کے موبائل پر شہنیلا کی کال آنے لگی

*****

پوری رات جاگنے کی وجہ سے اس کی دن میں بارہ بجے کے قریب آنکھ کھلی۔۔۔ بیڈ پر برابر میں سندیلا موجود نہیں تھی،، معظم کی نظریں کاٹ پر گئی جہاں پری سو رہی تھی۔۔۔ وہ اٹھ کر کمرے کے دروازے تک گیا جہاں سے پپو کی آواز سنائی دے رہی تھی وہ ناشتہ کرنے کے ساتھ بلند آواز میں سندیلا کے ہاتھ کے بنے ہوئے ناشتے کی تعریف کر رہا تھا اور رات میں سندیلا سے کسی ڈش کی فرمائش بھی کر رہا تھا۔۔ معظم سر جھٹک کر واپس پلٹا تو اس کی نظریں دوبارہ پری پر پڑی،، جو پیروں کی مدد سے لاتیں چلا کر اپنے اوپر سے چادر اتار رہی تھی معظم کے لبوں پر بے ساختہ مسکراہٹ آئی

“لگتا ہے میری پری اور اس کے بابا کی صبح ابھی ہوئی ہے”

معظم بےبی کاٹ کے پاس آکر پری کو دیکھتا ہوا بولا تو پری اس کو دیکھ کر منہ سے آوازیں نکالتی ہوئی زور زور سے ہاتھ پاؤں چلانے لگی

وہ کل رات میں معظم کو حیرت سے دیکھ رہی تھی مگر آج معظم کو پہچان گئی تھی اس لیے اس کو دیکھ کر ایکسائیٹڈ ہونے لگی

“کیا آپ کو اپنے بابا کے پاس آنا ہے۔۔۔۔ اوکے مائی لٹل انجل ہولڈ مائی فنگرز”

معظم اپنی دونوں انگلیاں پری کی جانب بڑھاتا ہوا بولا۔۔۔ جسے پری پکڑ کر اٹھنے کی کوشش کرنے لگی

معظم نے جھک کر پری کو گود میں اٹھالیا۔۔۔ اور اسے بیڈ پر لٹا کر خود اس کے سامنے بیٹھ کر باتیں کرنے لگا۔۔ تھوڑی دیر گزری تو پری کے چہرے کے تاثرات رونے والے ہوگئے

“بھوک لگ رہی ہے پری کو۔۔۔ ویٹ ڈارلنگ بابا ابھی فیڈر تیار کرتے ہیں پری کا”

اس سے پہلے معظم اٹھ کر اس کا فیڈر تیار کرتا پری نے زور زور سے رونا شروع کر دیا۔۔ پری کی رونے کی آواز سن کر سندیلا دوڑتی ہوئی کمرے میں آئی

“ٹاپ فیڈ یہ صرف رات میں لیتی ہے،، دن میں، میں اسے اپنا۔۔۔”

معظم کو فیڈر میں پانی بھرتا دیکھ کر سندیلا جلدی سے بولی مگر آگے کے جملے پر اس نے اپنی زبان پر بریک لگائی۔۔۔ بے ساختہ معظم کی نظریں بند لاکر پر گئی وہ فوراً اپنی نظریں ہٹا کر جلدی سے بولا

“یہ آپ اچھا کرتی ہیں”

جتنی جلدی اس نے بے تکا جملہ بولا سندیلا کے تاثرات دیکھ کر اسے وضاحت دینے لگا

“میرا مطلب ہے ایسا ہی کرنا چاہیے میں نے ایسا سنا تھا”

سندیلا معظم کی بات سن کر ابھی بھی خاموشی سے اس کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ معظم بیڈ سے روتی ہوئی پری کو اٹھا کر اس کے پاس لایا

“اب کیا ایسے ہی مجھے دیکھتی رہے گیں کروائے پری کو فیڈ”

معظم پری کو سندیلا کی طرف بڑھاتا ہوا بولا۔۔۔ پری خود بھی سندیلا کو دیکھ کر اس کے پاس آنے کے لیے بے چین تھی۔۔ سندیلا پری کو گود میں لیتی ہوئی جھجھک کر معظم کو دیکھنے لگی

“میں دوسرے کمرے میں ہوں آپ یہاں بیڈ پر آرام سے بیٹھ جائے”

معظم اس کی جھجھک سمجھتا ہوا بولا اور کمرے سے جانے لگا

“سنو میں نے تمہارے لئے ناشتہ بنا دیا ہے کچن میں رکھا ہے”

معظم نے سندیلا کو پلٹ کر دیکھا تو سندیلا پری کو لے کر بیڈ پر بیٹھتی ہوئی بولی

“آپ نے خود کر لیا ناشتہ”

معظم کے سوال کرنے پر سندیلا نے نفی میں سر ہلا کر اسے جواب دیا

“ٹھیک ہے آپ پری کو فیڈ کروا کر آ جائے پھر ہم دونوں ساتھ ہی کر لیتے ہیں ناشتہ۔۔۔ میں آپ کا باہر انتظار کر رہا ہوں”

معظم سندیلا سے بولتا ہوا کمرے کا دروازہ بند کرکے باہر چلا گیا۔۔۔ سندیلا کو نہیں یاد پڑتا تھا آج تک کبھی احتشام نے اس کا ناشتے یا کھانے پر انتظار کیا ہو۔۔۔۔ وہ زیادہ تر نزہت بیگم یا اپنے بہن بھائی کے ساتھ کھا لیا کرتا تھا

*****

“شادی کرکے نیند سے جاگنے کے بعد بھی مجھے تیری شکل دیکھنی پڑ رہی ہے پپو۔۔۔ یار کوئی ایسا بھی کرتا ہے کہ صبح صبح ہی کسی کے گھر آ جائے”

معظم صحن میں آتا ہوا پپو سے بولا جو تخت پر بیٹھا ہوا چائے کی چسکیاں بھر رہا تھا

“خدا کو مانیں بھیا جی صبح کب کی ختم ہو چکی ہے پورا دن نکلا پڑا ہے۔۔۔ وہ الگ بات ہے آپ اس وقت بھی بستر پر پڑے اپنے ہی گھر میں نحوست پھیلا رہے تھے۔۔۔ ویسے کیا قسمت پائی ہے بھئیا جی آپ نے، سمجھیں آپ کی تو لاٹری لگ گئی بھابھی جی کے ہاتھ کا ذائقہ۔۔۔ کیا بتاؤں میں آپ کو”

پپو تھوڑی دیر پہلے کیے ہوئے ناشتے کو یاد کرکے لطف اندوز ہوتا ہوا بولا تو معظم اس کو گھور کر دیکھنے لگا

“کیا فرمائشیں چل رہی تھی تھوڑی دیر پہلے استانی جی سے، نرگسی کوفتے کھانے ہیں تجھے رات میں۔۔۔ شرم کر پپو تو کوفتوں میں بھی نرگس کو ڈھونڈ رہا ہے خبردار تو نے میری بیوی سے الٹی سیدھی فرمائشیں کی،، جو کھانے کو مل رہا ہے شرافت سے اسے پیٹ میں اتار”

معظم پپو کو گھرکنے کے انداز میں بولا تو پپو مسکین سی شکل بناتا ہوا بچی ہوئی چائے پینے لگا

اتنے میں سندیلا پری کو گود میرے اٹھائے صحن میں آگئی۔۔۔ اس سے پہلے معظم سندیلا کی گود سے پری کو لیتا،، جلدی سے پپو نے پری کو گود میں لے لیا۔۔۔ پری اب غور سے پپو نامی مخلوق کو دیکھ رہی تھی

“میں نے ابھی اپنے لئے ناشتہ نہیں بنایا تم ناشتہ کرلوں میں اپنا ناشتہ بنا رہی ہوں”

سندیلا ٹرے میں معظم کے لئے ناشتہ لے کر آئی اور تخت پر رکھتی ہوئی معظم سے بولی

کل سے ہی وہ سندیلا اور اس کی بیٹی کے لیے اپنائیت دکھا رہا تھا یہاں تک کہ پپو بھی اس سے ایسے بات کر رہا تھا جیسے کہ وہ یہاں پر ہمیشہ کے لئے بسنے آئی ہو۔۔ سندیلا کو یہ سب ٹھیک نہیں لگ رہا تھا۔۔۔ سندیلا وہاں سے جانے لگی تب معظم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔ سندیلا نے فوراً پپو کی طرف دیکھا جو تخت پر بیٹھا پری سے باتیں کر رہا تھا پھر سندیلا کی نظریں معظم پر گئی وہ خاموشی سے اسی کو دیکھ رہا تھا

“میں اس پپو کی طرح تھوڑی ہو جو دو پراٹھے اکیلا ہی کھا جاؤں۔۔۔ یہی میرے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کریں آپ”

معظم اس کا ہاتھ پکڑے بولنے کے ساتھ ہی سائیڈ پر ہوتا ہوا سندیلا کو تخت پر بٹھا چکا تھا

سندیلا خاموشی سے بیٹھ گئی، معظم نے ٹرے اپنے اور سندیلا کے درمیان رکھ کر سندیلا کی طرف اپنا رخ کیا۔۔۔ پپو کی طرف معظم کی پیٹھ تھی

“یہ لیجئے استانی جی، پہلی صبح کے ناشتے کا پہلا نیوالہ اپنے شوہر کے ہاتھوں سے”

معظم نے پہلا نیوالہ بنا کر سندیلا کی طرف بڑھایا۔۔۔ سندیلا معظم یا معظم کے بڑھے ہوئے ہاتھ میں موجود نیوالے کی بجائے پپو کو دیکھنے لگی جو اس وقت اس کو دیکھ کر شرارت سے مسکرا رہا تھا

معظم نے پلٹ کر سندیلا کی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے پپو کو دیکھا اور اس کی گدی پر تپھڑ رسید کیا

“یہاں کوئی فلم چل رہی ہے جو تو بنا ٹکٹ کی انجوائے کرے گا۔۔۔ چل پری کو لے کر اندر کمرے میں جا اور اس کی رونے کی آواز بالکل نہیں آنا چاہیے مجھے”

معظم کی پھٹکار سن کر پپو دل ہی دل میں اپنے بھئیا جی کو چند القابات سے نوازتا ہوا پری کو لے کر شرافت سے کمرے میں چلا گیا

جبکہ سندیلا معظم کی حرکت پر اسے گھور کر دیکھنے لگی۔۔۔ وہ شاید اسی سے آپ جناب یا ادب و لحاظ سے بات کرتا تھا مگر بچارے پپو کی کوئی عزت نہیں تھی

پپو کے وہاں سے جانے کے بعد معظم نے سندیلا کو دیکھتے ہوئے اپنے چہرے کے تاثرات دوبارہ نرم کرلیے اور اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا نیوالہ ایک بار پھر سندیلا کی طرف بڑھایا۔۔۔ جسے سندیلا نے بغیر کچھ بولے اس کے ہاتھ سے لے کر اپنے منہ میں ڈال لیا

دوسرا نیوالہ نے خود کھانے کے بعد معظم نے دوبارہ نیوالہ بنا کر سندیلا کی طرف بڑھایا۔۔۔۔ سندیلا اس کے فری ہونے پر معظم کو گھور کر دیکھنے لگی

“بات بات پر مجھے اس طرح گھور کر مت دیکھا کریں استانی جی،، آج کل بہت مشکلوں سے دستیاب ہوتے ہیں ایسے شوہر، جو اپنی بیوی کو اپنے ہاتھ سے بنا بنا کر نوالے کھلائے”

معظم سندیلا کے گھورنے پر اس کو دیکھتا ہوا بولا اور اس کے ہونٹوں کے قریب نیوالا لے جانے لگا تبھی سندیلا نے معظم کا ارادہ بھانپ کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اس کے ہاتھ سے پراٹھے کا نیوالا لے کر دوبارہ اپنے منہ میں رکھا۔۔۔۔ بھلا وہ کہاں نخرے دکھانے کی عادی تھی احتشام نے تو کبھی مشکل سے ہی اس کے ناز نخرے برداشت کیے ہو

“میرا ہاتھ موجود ہے،، میں ناشتہ کر لیتی ہوں تم اپنا ناشتہ کرو”

سندیلا اسکی بات

ماننے کے بعد معظم کو ٹوکتی ہوئی بولی اور خود اپنے ہاتھ سے ناشتہ کرنے لگی جیسے ہی اس نے اپنے منہ میں پراٹھے کا نیوالہ ڈالنا چاہا معظم نے جھٹ سے اس کی کلائی پکڑ کر اس کے ہاتھ سے نیوالہ اپنے منہ میں ڈال لیا۔۔۔ معظم کی اس حرکت پر سندیلا ایک بار پھر اسے گھور کر دیکھنے لگی

“آپ کے ہاتھ سے کھانے میں اس پراٹھے کا ذائقہ اور بھی زیادہ زبردست لگ رہا ہے مگر اب آپ آرام سے کھالیں استانی جی،، میں خود بھی شرافت سے کھا لیتا ہوں”

معظم سندیلا کے تیور دیکھ کر جلدی سے بولا کہیں وہ اٹھ کر چلی ہی نہ جائے

*****

“کیا تم کہیں جا رہے ہو”

پپو گھر سے باہر نکل چکا تھا معظم بھی پری کو پیار کرتا ہوا،، باہر کی راہ لینے والا تھا تب سندیلا ایک دم اس سے پوچھنے لگی

“ہاں ایک ضروری کام تھا شام تک واپس آ جاؤں گا آپ بتائیں آپ کو کوئی کام ہے کیا مجھ سے”

معظم غور سے سندیلا کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر اس سے پوچھنے لگا اب بھلا وہ اسے کیا بتاتی وہ یہاں ایک دن کے لیے آئی تھی۔۔ اب احتشام کی کال آ جاتی تو وہ اسے کیا جواب دیتی،، نہ جانے اس کا موبائل کب سے بند پڑا ہوا تھا جسے تھوڑی دیر پہلے ہی اس نے کھولا تھا

“میں یہاں پر اپنا محدود سامان لے کر آئی تھی لیکن اب محسوس ہو رہا ہے جیسے پری کی کچھ چیزوں کی ضرورت پڑے گی،، اپنا سامان لینے کے لئے مجھے ہوٹل جانا پڑے گا جہاں میرا قیام ہے”

سندیلا پریشان ہوکر معظم کو اپنا مسئلہ بتانے لگی انجانے میں اس نے اپنی بیٹی کو پری کہہ کر پکارا۔۔۔ وہ نام جو کل رات معظم نے اس کے لیے تجویز کیا تھا۔۔۔ اس بات پر معظم کے چہرے پر مسکراہٹ آئی لیکن وہ فوراً اسے چھپا گیا

“اس میں پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں ہے استانی جی،، شام کو واپسی پر میں آپ کا اور پری کا سب سامان لے کر آ جاؤں گا بس آپ اپنا اور پری کا خیال رکھیے گا ویسے تو گھر میں کوئی نہیں آئے گا لیکن اگر کوئی آئے تو دروازہ مت کھولیے گا میرے پاس گھر کی چابی ہے اور رات کے کھانے کی فکر بھی مت کریئے گا میں لیتا آؤ گا”

معظم سیکنڈ میں اس کے مسئلہ حل کرتا ہوا بولا

“مگر سارا سامان تم کیسے اور کیوں لے کر آؤ گے اور رات کے کھانے کے لئے تو شرافت بھائی نے نرگسی کوفتے کھانے کا کہا ہے ناں”

نہ جانے وہ سندیلا اور اس کی بیٹی کا سامان کہاں سے لے کر آتا۔۔ خرید کر لے کر آتا ہے یا پھر کہاں سے سندیلا کو سمجھ میں نہیں آیا۔۔۔۔ صبح ناشتے کے وقت اس کو پپو نے اپنا اصلی نام شرافت بتایا تھا تبھی سندیلا کنفیوز ہو کر معظم سے رات کے کھانے کا پوچھنے لگی

“آپ کو اپنے اور پری کے سامان سے مطلب ہونا چاہیے وہ کہاں سے لے کر آؤں گا اس بات سے نہیں،، جب سامان لے کر آؤں گا تو دیکھ لیے گا اور کیوں لے کر آؤں گا اس کا جواب آپ مجھ سے آج رات کو طلب کرلیے۔۔۔ رہی نرگسی کوفتوں کی بات تو اپنے شرافت بھائی کی باتوں کو اتنا سیریس مت لیا کریں گولی مار دیں انہیں”

معظم سندیلا کو بولنے کے ساتھ اس کا گال پیار سے تھپتھپا کر سندیلا کو کنفیوز چھوڑ کر وہاں سے چلا گیا

کیسا عجیب شخص ہے یہ انسان، جو ایک معصوم انسان کو بلاوجہ میں گولی مارنے کی بات کر رہا تھا۔۔۔ وہ بھی اتنے پیار سے

سندیلا سوچتی ہوئی کمرے میں چلی گئی

****