Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel NovelR50401

Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel NovelR50401 Woh Howe Meharban (Episode 19)

444.1K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Woh Howe Meharban (Episode 19)

Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel

زینش کو آج بھی وہ دن اچھی طرح یاد تھا جب صبح کے اجالے میں “وہ” اسے کو اس کے گھر کے دروازے پر چھوڑ کر اپنی گاڑی آگے بڑھا لے گیا تھا۔۔۔ پوری رات “اس” نے زینش کو اپنے پاس رکھا تھا مگر اس کے ساتھ کسی طرح کی بدسلوکی نہیں کی تھی،، اس کے باوجود زینش کی وہ پوری رات خوف کے عالم میں گزری تھی

زینش اپنے دوپٹے کو اپنے گرد اچھی طرح لپیٹتی ہوئی گھر کے اندر داخل ہوئی جہاں قیامت خیز منظر دیکھ کر وہ روتی ہوئی شہنیلا کے بازوؤں میں جھول گئی

رضوان اپنی بیٹی کا صدمہ لیے دنیا سے ہمیشہ کے لئے رخصت ہو چکا تھا مگر اس کا دل بند ہونے کی وجہ بعد میں شہنیلہ نے زینش کو بتائی،، زینش کی بنائی گئی ویڈیو دیکھ کر صدمے سے رضوان کا دل بند ہوا تھا۔۔۔ رضوان کی موت کے دوسرے دن ہی احمد نے فون کرکے شہنیلا کے بھائی فیض کو نیو یارک سے بلوا لیا تھا بقول اس کے کہ وہ ایک داغدار لڑکی کو اب اس گھر میں نہیں رکھ سکتا

لاکھ رونے پیٹنے اور قسمیں کھانے کے باوجود شہنیلا کے علاوہ کسی نے زینش کا یقین نہیں کیا کہ وہ بے داغ اور پاک دامن ہے۔۔ شہنیلا نے بھی نیویارک جانے سے پہلے فلزا (احمد کی بیٹی) کے سسرال فون کرکے نہ جانے کون کون سے احمد اور ثمرہ کے ظلم کی داستانیں سنائی اور ساتھ ہی فلزا کے پرانے کالج کے افیئر کو بھی مرچ مصالحہ لگا کر بتایا جس کا بھکتان آج اسے زینش کی برات والے دن بھکدنا پڑا تھا

شہنیلا سارا کچھ جویریہ کو سچ بتا چکی تھی۔۔۔ جویریہ نے اسے تسلی دی تھی کہ وہ حسان کو سمجھائے گی۔۔۔ شہنیلا کا بی پی لو ہونے کی وجہ سے جویریہ نے اسے واپس ہوٹل جانے کا مشورہ دیا تھا جہاں اس کا قیام تھا۔۔۔ اس وقت وہ خود ٹیبل پر سر پکڑے بیٹھی ہوئی تھی جب بلال اس کے پاس آیا

“چلیں امی میں آپ کو گھر چھوڑ آؤ”

بلال کی آواز پر جویریہ سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی زیادہ تر مہمان اب جا چکے تھے

“ہاں چلو چلتے ہیں میں زینش کو لے کر آتی ہوں”

جویریہ تھکے ہوئے انداز میں بلال سے بولی۔۔۔۔ کتنی مشکلوں سے اس نے سارے رشتے داروں کو مطمئن کیا تھا جو یوں اچانک حسان کے جانے کی وجہ پوچھ رہے تھے

“آپ جا کر کار میں بیٹھیں زینش کو میں لے کر آتا ہوں”

بلال کی بات سن کر جویریہ بغیر کوئی دوسری بات کیے باہر کی طرف چل دی بلال اسٹیج کی طرف بنے ہوئے روم کی طرف دیکھنے لگا جہاں زینش موجود تھی

*****

“یہ کوئی چھوٹی بات نہیں تھی زینش جو آنٹی نے تمہیں بتانے سے منع کیا اور تم نے ان کی بات مانتے ہوئے یہ بات چھپالی کم ازکم تمہیں حسان کو تو سب حقیقت بتانا چاہیے تھی۔۔۔ اب تم پریشان مت ہو،، حسان سمجھدار ہے مجھے امید ہے وہ تمہاری ساری بات کو انڈرسٹینڈ کرلے گا”

خوشی زینش کو تسلی دینے والے انداز میں بولی اور روم سے باہر نکل گئی زینش پریشان ہی کھڑی تھی کہ بلال روم کے اندر داخل ہوا

“چلو گھر،، امی کار میں تمہارا ویٹ کر رہی ہیں”

کل اس نے زینش کو جس طرح ڈرایا تھا اور غصے میں جو اس کا حشر کیا تھا اس کی بانسبت آج وہ زینش کے حسین روپ سے نظریں چراتا ہوا نرم لہجے میں بولا

“آپ کے ساتھ کیو گھر جاؤ،، مجھے آپ کے ساتھ نہیں حسان کے ساتھ رخصت ہونا ہے”

زینش اچھی طرح جانتی تھی حسان یہاں سے جا چکا ہے مگر بلال کو اپنے سامنے دیکھ کر نہ جانے کیوں اس کے منہ سے بے ساختہ نکل گیا جس پر بلال طنزیہ انداز میں مسکراتا ہوا،، زینش کو دیکھ کر چلتا ہوا اس کے قریب آیا

“تم دنیا کی پہلی دلہن ہو جس کا دلہا بھرے مجمعے کے بیچ اپنی بیوی کو اکیلا چھوڑ کر خود اکیلا ہی رخصت ہو چکا ہے،، اسلیے آسمانوں پر اڑنا بند کرو اور واپس زمین پر آ جاؤ، نخرے دکھانا بند کرو خاموشی سے چل کر کار میں بیٹھو”

صرف دو سیکنڈ لگے تھے بلال کو ساری نرمی بھلا کر اس کی عزت افزائی کرنے میں،، زینش بلال کی باتیں سن کر شرمندہ تو ہوئی مگر پھر غصے میں اسے دیکھتی ہوئی بولی

“ماما نے مجھے بتایا تھا آپ لے کر آئے تھے ناں احمد چچا اور ثمرہ چچی کو یہاں پر، جانتی ہوں میں جان بوجھ کر یہ سب کیا ہے آپ نے”

اسے ناجانے کیو بلال پر شک ہو رہا تھا جیسے بلال کو اس کے بارے میں بھنک لگی ہے اور اس نے جان بوجھ کر یہ سب کیا ہے۔۔۔ زینش کے الزام لگانے پر اسے شدید غصہ آیا،، اپنے جبڑے بھینچ کر بلال نے سختی سے زینش کا بازو پکڑا

“ابھی تم آگے آگے دیکھو میں تمہارے ساتھ کیا کرتا ہوں۔۔۔ تم ماں بیٹی ایک جیسی فطرت کی ہو،، تمہاری ماں دھوکے سے حسان کو بے وقوف بنا کر اس سے تمہاری شادی تو کر سکتی ہے۔۔۔ لیکن اب تم ساری زندگی حسان کو بے وقوف بنا کر خوشی خوشی اس کے ساتھ نہیں رہ سکتی سمجھ میں آیا تمہیں”

بلال نے غصے میں بولتے ہوئے زینش کا بازو زور سے جھٹکا، وہ چاہتا تو زینش کی بد گمانی بھی دور کر سکتا تھا۔۔ یہ محض اتفاق تھا کہ اس کے چچا اور چچی کا بلال سے ٹکڑاؤ ہوا تھا اور وہ خود انہیں حسان کے پاس لے آیا تھا۔۔ مگر وہ یہ غلط فہمی دور کرنے کی بجائے زینش کے غصے کو ہوا دیتا ہوا بولا

“آپ کو جو کرنا ہے کر لیں مجھے جتنا حسان کی نظروں میں گرانا ہے، گرالیں مگر میں حسان کو اپنا یقین دلا کر رہو گی اور وہ میرا یقین کریں گے کیو کہ وہ ایک اچھے انسان ہیں۔۔۔ آپ کی طرح نہیں ہیں وہ”

زینش بلال کو چیلنج کرتی ہوئی بولی جس پر بلال ایک بار پھر طنزیہ ہنسا

“میں تمہیں اس اچھے انسان کے پاس لے جانے کے لیے آیا ہوں۔۔۔ آج اس اچھے انسان کا تم پر یقین بلکہ تمہارا خود پر کتنا کانفیڈینس ہے یہ بھی دیکھ لیتے ہیں”

بلال زینش سے بولتا ہوا اس کا ہاتھ پکڑ کر کمرے سے باہر لے جانے لگا زینش اس سے اپنا ہاتھ چھڑوا کر خود اس کے ساتھ چلنے لگی

****

کار ڈرائیونگ کے دوران خاموش رہی تھی گھر پہنچ کر بلال اپنا کوٹ اتار کر ریلکس انداز میں صوفے پر بیٹھا جبکہ جویریہ زینش کو دیکھنے لگی

“آؤ تمہیں میں حسان کے بیڈ روم میں چھوڑ آؤ”

جویریہ کا لفظ بلال کو جھلسا دینے کے لئے کافی تھے مگر وہ اپنے آپ کو لاپروا ظاہر کر کے صوفے سے سر ٹیک کر آنکھیں بند کئے ہوئے بیٹھا رہا

“آپ تھک گئی ہوگیں اپنے روم میں جا کر ریسٹ کرلیں میں خود چلی جاتی ہو”

زینش بہت آہستہ آواز میں جویریہ سے بولی

وہ جانتی تھی جویریہ اس کو رسم کے مطابق حسان کے کمرے میں چھوڑنے نہیں جا رہی ہے بلکہ وہ حسان کے دل میں آئی بدگمانی مٹانے کے لیے زینش کے ساتھ جانا چا رہی ہے

زینش کی بات سن کر جویریہ خاموشی سے اسے دیکھنے لگی جیسے پوچھنا چاہ رہی ہو کہ کیا وہ آگے سب سنبھال لے گی۔۔۔ زینش نے جویریہ کو مطمئن کرنے کے لئے اس کی طرف مسکرا کر دیکھا تو جویریہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی

زینش نے ایک نظر بلال کے پرسکون چہرے پر ڈالی جو اپنی آنکھیں بند کئے صوفے سے ٹیک لگائے بہت ریلکس انداز میں بیٹھا ہوا تھا

زینش نے حسان کے کمرے کی طرف اپنے قدم بڑھائے تو بلال نے بے چینی سے اپنی آنکھیں کھول کر زینش کی پشت کو دیکھا۔۔ اسے حسان کے کمرے میں جاتا دیکھ کر بلال کو عجیب گھبراہٹ ہونے لگی اس کے چہرے پر اذیت سی چھانے لگی

*****

ڈور ناپ گھماتے ہی حسان کے کمرے کا دروازہ کھلا۔۔۔ زینش نے کمرے کے اندر قدم رکھا ہی تھا کہ حسان نے جھکا ہوا سر اٹھایا

“تم یہاں میرے کمرے کے اندر کیسے آئی”

حسان صوفے سے اٹھ کر کھڑا ہوتا ہوا ہے زینش کو دیکھ کر سخت لہجے میں پوچھنے لگا۔۔۔ حسان کی آنکھوں سے چھلکتی ہوئی اجنبیت پر پل بھر کے لئے وہ پریشان ہوئی

“حسان پلیز آپ ایک بار میری پوری بات سنیں”

زینش بولتی ہوئی مزید حسان کے قریب آئی

“تمہارے پاس بتانے کے لئے اب کچھ باقی بچا ہے۔۔۔ تمہارے چچا چاچی سارے راز و نیاز سے پردہ اٹھا چکے ہیں، جو تم نے اور آنٹی نے ہم سے چھپایا نکل جاؤ زینش میرے کمرے سے اس سے پہلے کہ میں غصے میں آ کر تمہارے ساتھ کوئی بدسلوکی کر جاؤ”

حسان زینش کے سامنے کھڑا ہو کر اس کو غصے میں بولا وہ اسے سیدھی سادی لڑکی سمجھتا تھا نہ جانے وہ کیا کچھ چھپائے بیٹھی تھی

“آپ کے کمرے سے نکل کر کہاں جاؤں گی حسان،، آپ نے شادی کی ہے مجھ سے بیوی ہو میں آپ کی۔۔ ماما یا پھر میرے اس بات کو چھپانے کا مقصد یہ ہرگز نہیں تھا کہ آپ کو دھوکا دیا جائے۔۔۔ حسان میرے ساتھ اس رات کو کچھ بھی نہیں ہوا تھا میرا دامن آج بھی پاک بے داغ ہے۔۔۔ آپ پلیز میرا یقین کر لیں”

اپنا یقین دلاتے ہوئے زینش کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑیں

“ایک لڑکی جسے اغوا کار نے اغوا کرنے کے بعد پوری رات اپنے پاس رکھا،، وہ بنا اسے چھوئے واپس گھر چھوڑ جائے گا یا تو ایسا مرد بے وقوف ہوگا یا تم نے مجھے حد سے زیادہ بیوقوف سمجھ لیا ہے۔۔۔ میں اس بات کو جتنا سوچو گا یا پھر تمہارا چہرہ دیکھو گا میرا اتنا ہی دماغ خراب ہوگا نکل جاؤ میرے کمرے سے ابھی اور اسی وقت”

حسان نے بولنے کے ساتھ خود ہی اپنی بات پر عمل کرتے ہوئے زینش کی کلائی پکڑ کر اسے اپنے کمرے سے باہر لے جانے لگا

“حسان پلیز میرا یقین کریں میں سچ کہہ رہی ہوں میرے ساتھ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا جیسا آپ سمجھ رہے ہیں”

زینش نے اسے اپنے کردار کی وضاحت دینی چاہیے جس پر حسان کو کوئی اثر نہیں ہوا اس نے ہال میں لا کر زینش کا ہاتھ چھوڑا

بلال ایک دم صوفے سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا جویریہ بھی واپس اپنے کمرے سے باہر نکل آئی۔۔۔ جویریہ اور بلال کے سامنے زینش کو اپنا وجود زمین میں گڑھتا ہوا محسوس ہوا

“یہ کیا حماقت ہے حسان کوئی پہلے دن کی بیوی کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرتا ہے”

جویریہ حسان کو دیکھتی ہوئی بولی شاید پوری زندگی میں پہلی بار اس نے حسان کو کسی بات پر ٹوکا تھا

“شہنیلا آنٹی اور اس نے جو بھی کچھ کیا ہے وہ آپ کو نہیں دکھ رہا،، جو بات ان دونوں ماں بیٹیوں نے چھپائی ہے وہ اتنی چھوٹی بات نہیں ہے جسے میں یونہی نظر انداز کردو میں اتنا اعلی ظرف نہیں ہوں جو ایک ایسی لڑکی کو اپنی بیوی کے روپ میں قبول کروں جس کے ماضی پر اس کے اپنے ہی انگلیاں اٹھا رہے ہو”

حسان جویریہ کو دیکھ کر غصے میں بولا جویریہ نے افسوس بھری نظروں سے حسان کو دیکھا،، بلال وہی خاموش کھڑا حسان کی باتیں سن رہا تھا مگر جتانے والی نظروں سے دیکھو وہ زینش کو رہا تھا۔۔۔ جو اب اپنے آنسو روکے کھڑی تھی

“حسان شہنیلا مجھے سب کچھ بتا چکی ہے میں تمہیں بتاتی ہو،، رکو حسان میری بات سنو”

حسان جویریہ کی بات سنے بغیر اپنے کمرے میں چلا گیا جویریہ بھی اس کے پیچھے اس کے کمرے میں چلی گئی

جویریہ کے وہاں سے جانے کے بعد بلال نے زینش کے جھکے ہوئے سر کو دیکھا وہ وہی نیچے سر کیے فرش کو دیکھ رہی تھی

“تو پھر کہاں گیا مسز حسان رفیق آپ کا یقین جو آپ اپنے شوہر کے کمرے میں جا کر اس کو دلوانے والی تھیں”

بلال چلتا ہوا زینش کے پاس آیا اور اس کے جھکے ہوئے سر کو دیکھ کر پوچھنے لگا۔۔۔ زینش اپنا سر اٹھا کر بلال کو دیکھنے لگی جو خاموش سوالیہ نظروں سے زینش کو دیکھ رہا تھا

“وہ تمہارا شوہر کل بنا ہے میرا بھائی وہ بچپن سے ہے میں اس کو اچھی طرح جانتا ہوں وہ جتنا بھی اچھا انسان سہی مگر اس بات کو لے کر سمجھوتہ ہرگز نہیں کرے گا کہ اس کی بیوی کا ماضی داغدار رہا ہے”

بلال کی بات سن کر زینش کو تکلیف ہوئی جس کے آثار اس کے چہرے پر عیاں ہونے لگے

“ارے نہیں تمہارا ماضی داغدار ہے ایسا حسان سمجھتا ہے میں بالکل بھی نہیں سمجھتا مجھے تم پر مکمل یقین ہے کہ اس رات تمہارے ساتھ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہوگا تم جو بھی بول رہی ہوں بالکل سچ بول رہی ہو لیکن اگر حسان کی جگہ آج تم میری بیوی ہوتی تو میں تمہاری بات پر آنکھیں بند کرکے یقین کر لیتا”

بلال زینش کو دیکھتا ہوا باظاہر افسوس سے بولا مگر اس کے انداز سے مصنوعی پن صاف چھلک لگ رہا تھا کہ وہ واقعی اس بات پر افسوس کر رہا ہوں

“اپنی اعلیٰ ظرفی میرے سامنے شو مت کریں آپ جتنے اعلیٰ ظرف ہیں میں آپ کو بھی اچھی طرح جانتی ہوں اور اب آپ کے بھائی کو بھی اچھی طرح جان گئی ہوں۔۔۔ نہ میں اب اپنے کردار کا کسی کو یقین دلانے والی ہوں اور نہ ہی سمجھوتہ کرکے ایسے شخص کے ساتھ زندگی گزارنے والی ہو جسے میری بات کا ذرہ برابر بھی یقین نہ ہو۔۔۔ میری اپنی نظر میں ایسے رشتے کی کوئی اہمیت نہیں ہے جس میں شوہر کو اپنی ذات کا یقین دلاتے ہوئے میری ساری زندگی گزر جائے”

زینش بلال کو جتاتی ہوئی بولی جس پر بلال عجیب سے انداز میں ہنسا

“ویری گڈ پھر کب لے رہی ہوں خلع”

وہ اب زینش کو دیکھ کر سنجیدگی سے پوچھنے لگا

“بہت جلد”

زینش کہتی ہوئی وہاں سے جانے کے لیے مڑی

“حسان کے تمہاری زندگی سے نکلنے کے بعد پھر میں اپنا راستہ صاف سمجھو ناں ڈیئر زینش”

بلال کی بات پر زینش نے پلٹ کر بلال کو دیکھا جو اس کے جواب کا منتظر زینش کو دیکھ رہا تھا۔۔ مگر زینش اس کو اپنا جواب طماچے کی صورت دینا چاہتی تھی،،، اپنے گال کی طرف بڑھتے ہوئے زینش کے ہاتھ کو بلال نے فوراً پکڑلیا

“تم جانتی ہو تمہیں یہ جرت کتنی مہنگی پڑ سکتی تھی،، تمہارے اس تھپڑ کے بدلے میں تمہارا حشر بگاڑنے میں وقت نہیں لگاتا۔۔۔ آئندہ ایسی حماقت کرنے سے پہلے اچھی طرح اپنے انجام کو سوچ لینا”

بلال نے شدید غصے کے عالم میں بولتے ہوئے زینش کا پکڑا ہوا ہاتھ زور سے جھٹکا

“آئندہ ایسی نوبت ہی نہیں آئے گی،، نہیں رہوں گی میں اب اس گھر میں چلی جاؤنگی ہمیشہ کے لئے آپ لوگوں کی زندگیوں سے دور”

زینش کا ضبط جواب دے گیا تھا بولتے ہوئے آنسوؤں کا گولا اس کے حلق میں اٹک گیا آنسو تھے کہ اب آنکھوں سے نکلنے کے لیے بے تاب تھے

“زندگیوں سے دور بعد میں جانا پہلے اپنے پرانے والے کمرے میں جاؤ”

بلال نے درشی سے بولتے ہوئے سختی سے زینش کا بازو پکڑ کر اس کو اس کے کمرے کی طرف دھکا دیا

وہ واقعی بلال کے سامنے مزید کھڑا نہیں رہنا چاہتی تھی،، اس وقت اسے کسی جائے پناہ کی تلاش تھی اس لئے دروازہ کھول کر اپنے کمرے میں چلی آئی،، کمرے کا دروازہ بند کر کے وہ بری طرح رو پڑی

*****