Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel NovelR50401

Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel NovelR50401 Woh Howe Meharban (Episode 17)

444.1K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Woh Howe Meharban (Episode 17)

Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel

“بھیا جی یہ دوسرا کرائے کا مکان لینے کی کیا وجہ ہے سمجھ میں نہیں آیا کچھ۔۔۔ کہیں بھابھی جی کی ڈیمانڈ پر تو یہ کرائے کا مکان نہیں لیا آپ نے”

کل رات احتشام کی کال پر،، پرسوں کا دن نکاح کے لیے ان دونوں نے تجویز کیا تھا۔۔۔ اس لئے آج ہی معظم نے پچھلے محلے کی بانسبت تھوڑے بہتر محلے میں ایک کرائے کا مکان لیا تھا جس میں ضرورت کا سارا سیکنڈ ہینڈ فرنیچر سیٹ کر کے پپو اور وہ ابھی ابھی فارغ ہوئے تھے

“اپنی استانی جی کو ان چوروں کے محلے میں رکھوں گا جہاں پر دن دہاڑے نشئی گھوم رہے ہوتے ہیں، ماحول کتنا خراب ہے اس جگہ کا،، صبح کا آغاز ہی محلے کی آنٹیوں اور باجیوں کی لڑائی جھگڑوں سے شروع ہوتا ہے۔۔۔ ایسے ماحول میں چھوٹی سی بچی کیا پرورش پائے گی۔۔ اور سب سے بڑا مسئلہ شادی کے بعد تجھے تھوڑی اپنے ساتھ چپکا کے رکھوں گا”

معظم پپو کو بولتا ہوا اسپلٹ ان کرنے لگا جوکہ سیکنڈ ہینڈ نہیں تھا۔۔۔ مگر پپو معظم کی آخری بات سن کر صدمے سے اسے دیکھنے لگا

“لوگ شادی کے بعد بدلتے ہیں بھیا جی آپ اپنی شادی سے پہلے ہی بدل گئے ہو۔۔۔ کیا ہو جائے گا اگر بیچارا سا پپو آپ کے گھر کے ایک کونے میں اپنی چارپائی رکھ کر سو جایا کرے گا۔۔۔ بھیا جی پلیز پپو کو اپنے اس گھر میں آنے کی اجازت دے دو،، قسم سے ہوٹلوں کا اور باہر کا کھانا کھا کر اب تو میرا پیٹ مجھے کوسنے اور بد دعائیں دینے لگا ہے”

ُپپو معظم سے منت سماجت کرتا ہوا بولا

“پپو سمجھا کر یار پرائیوسی بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔۔۔ ویسے بھی تو اتنا بیچارہ ہرگز نہیں ہے جو رات میں چار پائی پر آرام سے پڑ کر سو جائے۔۔۔ میں تیرے اندر کے اس خبیث انسان سے اچھی طرح واقف ہوں جو میری شادی کی ہی رات کو بہانے بہانے سے میرے کمرے کے 10 چکر لگائے گا۔۔۔ صاف بات ہے بھائی اپنا تو ہوٹل کی بجائے گھر کے کھانے کا اور صاف ستھرے کپڑوں کی دھلائی کا انتظام ہونے لگا ہے۔۔۔ اب تو بھی اپنے لئے کوئی سگھڑ لڑکی دیکھ لے۔ ۔۔۔ اور ہاں یاد آیا کل آٹھ بجے نکاح کے وقت پہنچ جانا۔۔۔ ساتھ ہی چھواروں کی تھیلی بھی پکڑ لینا۔۔۔ جاتے وقت ذرا گھر کا دروازہ بند کر کے جانا”

معظم بیڈ پر چوڑا ہو کر لیٹتا ہوا پپو سے بولا اور پپو معظم کی بے مروتی پر بری طرح جل کر رہ گیا

“ٹھیک ہے ٹھیک ہے آنکھیں آپ پھیر رہے ہو مگر یہ پپو اتنا بھی بے مروت نہیں ہے کل میں ٹائم پر چھواروں لے کر پہنچ جاؤں گا اور آپ بھی کل ذرا اچھی طرح خوشبو والے صابن سے نہا دھو کر صاف ستھرے ہو جانا۔۔۔ چھ دن سے آپ نے ان کپڑوں کو اپنے تن سے الگ نہیں کیا ہے اگر ان کپڑوں کی زبان ہوتی تو یہ بھی منہ بھر بھر کر آپ کو دوائیاں دے رہے ہوتے”

پپو معظم کو شرمندہ کرتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔۔۔ مگر وہ معظم ہی کیا جس نے پپو کی باتوں کو سنجیدہ لیا ہو۔۔۔ وہ سکون سے آنکھیں بند کئے بیڈ پر لیٹا رہا

****

تمام ہتھیاروں سے لیس وہ سجی سنوری اسٹیج پر بیٹھی تھی،، پر جس نے بھی اس کے ہاتھ کی مہندی دیکھی تھی تو افسوس کیا تھا ہاتھوں کو فوراً دھونے کی وجہ سے اس پر رنگ نہیں چڑھا تھا اور سارا ڈیزائن الگ خراب ہوا تھا۔۔۔ کل رات جو رویہ بلال اس کے ساتھ اختیار کر چکا تھا اس کے لیے زینش اسے کبھی معاف نہیں کرنے والی تھی۔۔۔ بہت احساس کر لیا تھا اس نے بلال کا،، لیکن اب وہ یہ سارا قصہ آج رات ہی حسان سے شیئر کرنے کا ارادہ رکھتی تھی

حسان کی بار بار اپنی طرف اٹھتی ہوئی والہانہ نگاہیں حسان کا حالِ دل اس سے بیان کر رہی تھی۔۔۔ البتہ آج سارا دن بلال اسے کہیں بھی نظر نہیں آیا وہ اپنے آپ کو کمرے میں بند کئے ہوئے بیٹھا تھا

*****

“میں آپ کا دوست ہی ہوں سومرو صاحب۔۔۔ جبھی یہ ویڈیو اب تک میرے پاس محفوظ ہے آپ چاہیں تو یہ ویڈیو میں آپ کے حوالے بھی کر سکتا ہوں اتنا تو مجھے آپ کی دوستی کا خیال ہے۔۔۔ بس اس ویڈیو کو حاصل کرنے کے لئے تھوڑا بہت آپ کو بھی اپنے اس دوست کا خیال کرنا پڑے گا”

حسان بینکوئٹ میں موجود ایک طرف کھڑا ہوا موبائل پر کسی سے گفتگو میں مصروف تھا جب اسے دور سے بلال اپنی طرف آتا ہوا دکھائی دیا اس کے ساتھ ہی ایک مرد اور خاتون بھی تھی

“اچھا اس وقت تو اجازت دیں باقی باتیں ہم بعد میں طے لیتے ہیں۔۔ رقم آپ کب اور کتنی کس جگہ پر دیں گے یہ سب باتیں ہوتی رہیں گیں”

بلال حسان کے پاس آیا تو اس سے پہلے وہ کال بند کر چکا تھا

“کہاں غائب تھے یار صبح سے لگ نہیں رہا ہے تمہارے بھائی کی شادی ہے۔۔۔ مہمانوں کی طرح کل بھی سب سے آخری ٹیبل پر بیٹھے رہے سارا وقت”

حسان نے بلال کے قریب آتے ہی اس سے شکوہ کرنا شروع کردیا

“کہاں غائب ہونا ہے مجھے صبح سے ہی میں گھر میں موجود تھا خیر پہلے ان سے ملو یہ زینش کے چچا اور چچی ہیں مجھ سے ہمارے ہی گھر کا ایڈریس پوچھ رہے تھے تو میں ان دونوں کو یہاں پر لے کر آ گیا”

بلال جوکہ صبح سے اپنے کمرے میں موجود تھا جویریہ کے لاکھ قسمیں دینے پر یہاں آیا تھا۔۔۔ وہ سوچ چکا تھا آج کے بعد وہ زینش کی طرف دیکھے گا تک نہیں

“بہت بہت مبارک ہو بیٹا آپ کو،، ہمیں کل ہی معلوم ہوا کہ زینش کی شادی ہو رہی ہے تو سوچا بھائی کی آخری نشانی ہے کیو نہ اسے یہاں آکر مبارکباد دے دیں،، اس لیے چلے آئے۔۔۔ آپ تو بہت اچھے اور نیک انسان ہو،، ورنہ آج کل کے دور میں اتنا بڑا دل کس کا ہوتا ہے جو ایک ایسی لڑکی سے شادی کرلے جسے کالج سے دن دھاڑے اغوا کر لیا جائے اور بدسلوکی کرنے کے بعد اگلے ہی دن اسے گھر کے دروازے پر پھینک دیا جائے۔۔ میری بھتیجی کو اپنا نام دے کر آپ نے بہت ثواب کا کام کیا ہے اللہ آپ کو اس کا اجر ضرور دے گا”

زینش کے چچا احمد کی بات سن کر حسان کے ساتھ ساتھ بلال کے بھی ہوش اڑ گئے

“یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں،، آپ یہ سب باتیں کرنے آئے ہیں یہاں پر “

بلال ناگوار لہجے میں احمد کو دیکھتا ہوا بولا اگر اسے ذرا بھی اندازہ ہوتا۔۔۔ زینش کے چچا اور چچی یہاں آنے کے بعد حسان سے فضول گوئی کریں گے تو وہ کبھی بھی ان کو یہاں نہیں لے کر آتا۔۔۔ زینش کو لے کر اس کا دل کتنا ہی دکھا ہو مگر وہ اس کے چچا کی بات سن کر بھڑک گیا تھا

“تم خاموش رہو بلال۔۔۔ آپ کی ان سب باتوں کو کیا مطلب ہے آپ ذرا کھل کر بیان کریں”

حسان بلال کو ٹوکتا ہوا دوبارہ احمد کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔ بلال کی نظریں دور کھڑی ہوئی شہنیلا پر پڑی جس کے چہرے پر اس وقت اپنے دیور اور دیورانی کو دیکھ کر ہوائیاں اڑی ہوئی تھی وہ تیزی سے قدم اٹھاتی ہوئی ان لوگوں کی طرف ہی آ رہی تھی۔۔۔ جبکہ بلال کو دیکھ کر جویریہ پہلے ہی ان تک پہنچ چکی تھی

“کیوں بھئی اتنے حیران پریشان کیوں ہو کیا ان دونوں ماں بیٹیوں نے تمہیں کچھ بھی نہیں بتایا”

اب کی بار ثمرہ حسان کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی

“احمد ثمرہ تم دونوں یہاں پر کیا کر رہے ہو”

اس سے پہلے حسان کچھ بولتا شہنیلا آکر اپنے دیور اور دیورانی سے سخت لہجے میں پوچھنے لگی

“وہ تو میں تمہیں بعد میں بتاؤں گی جٹھانی صاحبہ پہلے ذرا تم اپنے ہونے والے داماد کو اپنی بیٹی کے ماضی کے بارے میں تو بتاؤ اور یہ بھی کہ رضوان کی موت کے پیچھے اصل وجہ کیا تھی کون سا ایسا صدمہ تھا جسے کی وجہ سے اس کا دل بند ہوا اور وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا”

ثمرہ کی باتیں سن کر شہنیلا کا رنگ فق ختم ہو چکا تھا

“آنٹی یہ لوگ کیا بول رہے ہیں آپ نے اتنی بڑی بات ہم لوگوں سے چھپائی”

حسان شہنیلا کا سفید پڑتا چہرہ دیکھ کر غصے اور افسوس سے پوچھنے لگا

“بیٹا میں تمہیں ساری حقیقت گھر چل کر بتا دوں گی”

شہنیلا حسان کے تیور دیکھ کر کمزور لہجے میں بولی وہ اگر یہاں پر کسی بھی بات سے مکر جاتی تو اچھی طرح جانتی تھی اس کے دیور اور دیورانی یہاں پر کتنا بڑا تماشہ کرتے

“ارے اس سے کیا پوچھتے ہو یہ تمہیں معلوم نہیں کون کون سے مظلومیت کے قصے سنا کر اپنے شیشے میں اتار لے گی۔۔ اپنی بیوی زینش سے پوچھنا وہی تمہیں اصل حقیقت بتائے گی”

ثمرہ حسان کو دیکھ کر بولی تو ایک دم بلال بول اٹھا

“آپ لوگ یہاں پر اپنے مرے ہوئے بھائی کی بیٹی کو شادی کی مبارکباد دینے آئے ہیں یا پھر آگ لگانے آئے ہیں۔۔۔ میرے خیال میں کافی کچھ تماشا یہاں پر ہو چکا ہے اس سے پہلے کہ اب لوگ متوجہ ہوں آپ دونوں ہی عزت کے ساتھ یہاں سے چلے جائیں”

بلال زینش کے چچا کو دیکھتا ہوا ناگوار لہجے میں بولا جبکہ جویریہ خاموش کھڑی سارا ماجرا دیکھ رہی تھی۔۔۔ حسان کے چہرے پر ایک رنگ آرہا تھا اور ایک جا رہا تھا جبکہ شہنیلا بالکل شرمندہ کھڑی ہوئی تھی

“چلو بھئی نیکی کا تو زمانہ ہی نہیں رہا ایک تو ماں بیٹی کی اصلیت سامنے لے کر آئے ہیں اور یہ ہمیں ہی نکال رہے ہیں”

ثمرہ اپنے شوہر کو دیکھ کر مزید اونچی آواز میں بولی اور وہ دونوں ہی وہاں سے چلے گئے

“بہت افسوس کی بات ہے آنٹی آپ نے اتنی بڑی بات سے ہمیں لاعلم رکھا۔۔۔ امی میں گھر جا رہا ہوں آپ ڈرائیور یا پھر بلال کے ساتھ گھر آ جائیے گا”

حسان غصے میں شہنیلا کو بولنے کے بعد جویریہ کو گھر جانے کا بولتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔۔۔ شہنیلا کے لاکھ سمجھانے اور آواز دینے پر بھی وہ نہیں رکا جبکہ جویریہ شہنیلا کو شکوہ کناہ نظروں سے دیکھنے لگی

“میری بیٹی بے قصور ہے جویریہ وہ لوگ ساری سچی باتیں نہیں کر کے گئے پلیز ایک بار میری پوری بات سن لو”

شہنیلا آنکھوں میں نمی لاتی ہوئی بےبسی سے جویریہ سے بولی۔۔۔ جویریہ وہاں سے جانے لگی تو شہنیلا نے اس کے سامنے آکر رونا شروع کر دیا ڈوپٹے کی آڑھ میں اس کے اپنے سامنے جڑے ہوئے ہاتھ دیکھ کر جویریہ رک کر اس کی بات سننے لگی

****

کالج سے باہر نکلتے وقت اس کا مائینڈ فریش تھا کیو کہ آج اس کا آخری پیپر تھا جیسے ہی پیپر ختم ہوا اسے اپنے ناتواں کندھے سے کوئی بوجھ اترتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔ پوائنٹ انتظار میں وہ دوسری لڑکیوں کے ساتھ ہی کھڑی تھی تب اس کی نظر سامنے روڈ پر گئی

“وہ” آج بھی وہاں پر موجود نہیں تھا غیر ارادی طور پر زینش “اس” کو سوچنے لگی جو چند مہینوں سے کالج آف ہونے کے ٹائم پر سامنے روڈ پر اپنی بائیک پر موجود ہوتا۔۔۔ ایسا نہیں تھا کہ زینش “اس” کو جانتی نہیں تھی۔۔۔ “وہ” اسی کے محلے میں دو گلی چھوڑ کر رہتا تھا مگر اپنی جاب کی وجہ سے اکثر شہر سے باہر ہوتا۔۔۔ “اس” کے گھر میں اس کی ماں اور ایک بہن تھی جوکہ بچپن سے ہی چلنے پھرنے سے محروم تھی

“اس” نے زینش کو کبھی بھی مخاطب نہیں کیا تھا نہ ہی کبھی کوئی بات کی تھی۔۔۔ “وہ” بس کالج ختم ہونے کے ٹائم پر جب تک زینش پوائنٹ کے انتظار میں کھڑی رہتی،، وہاں پر موجود رہتا۔۔۔ البتہ زینش “اس” کی آنکھوں میں اپنے لیے پسنددیدگی واضح طور پر دیکھ چکی تھی مگر چند دنوں سے “وہ” زینش کو دکھائی نہیں دے رہا تھا

“اُف لعنت ہے”

اپنی سوچوں میں گم ہو کر اسے اندازہ ہی نہیں ہوا کہ کب وین آئی تمام لڑکیاں اور مسافر اس میں سوار ہوئے اور وین چلی گئی

اب اسے اگلے پوائنٹ کا انتظار کرنا تھا،، کوفت زدہ ہوکر وہ سوچتی ہوئی،، وہاں موجود اکا دکا مسافروں کو دیکھنے لگی۔۔۔ تبھی اچانک روڈ پر ایک گاڑی کے ٹائر چرچرائے،، کوئی تیزی سے گاڑی سے باہر نکلا اور ایک دم اس کے قریب آیا

“گاڑی میں بیٹھو”

سرخ آنکھیں اور پتھریلے لہجے کے ساتھ آج پہلی بار “اس” نے زینش کو مخاطب کیا تھا

زینش کی کسی بھی بات کا انتظار کیے بنا “وہ” زینش کا ہاتھ پکڑ کر اسے گاڑی میں بٹھا چکا تھا

*****

“کک۔۔۔ کیوں ل۔ ۔۔ا لائے ہو مجھے یہاں پر”

یہ کوئی چھوٹی سی کوٹھری تھی جہاں کاٹ کباڑ پڑا ہوا تھا۔۔۔ کافی دیر بعد “اس” نے زینش کے منہ پر بند پٹی کھولی تو زینش “اس” سے پوچھنے لگی

“تمہاری زندگی برباد کرنے کے لیے”

“وہ” عجیب سے انداز میں زینش کو دیکھ کر بولا “اس” کے منہ سے یہ جملہ سن کر زینش کے پورے جسم میں سنسنی پھیل گئی

“کک۔ ۔۔ کیا ملے گا تمہیں مجھے برباد کرکے پلیز مجھے جانے دو میری ماما اور پاپا میرا انتظار کر رہے ہونگے”

زینش “اس” کے سامنے روتی ہوئی بولی،، شام کے سائے گہرے ہو کر رات میں تبدیل ہو چکے تھے وہ جانتی شہنیلا اور رضوان اس کے لئے بے حد پریشان ہوں گے

“ساری زندگی تمہیں اپنے پاس نہیں رکھوں گا آج کی رات،، صرف آج کی رات تم یہی رہوں گی میرے پاس۔۔۔ صبح میں خود تمہارے گھر چھوڑ آؤ گا اور تم مجھ سے پوچھ رہی تھی نہ کہ تمہاری زندگی برباد کر کے مجھے کیا ملے گا،، سکون ملے گا مجھے،، جب تمہارا باپ تمہیں لٹی ہوئی اور اجڑی حالت میں دیکھے گا تب میرے کلیجے میں ٹھندک پڑے گی۔ ۔۔۔ چیخو چلاؤ اور ذور ذور سے رؤ”

“وہ” جنونی انداز میں بولتا ہوا زینش کو اس وقت نارمل نہیں لگا تھا۔۔۔ زینش خوفزدہ ہوکر “اسے” دیکھنے لگی “وہ” اس وقت اپنے پاکٹ سے موبائل نکال رہا تھا

“سمجھ میں نہیں آ رہا تمہیں،، کیا کہہ رہا ہوں رو زور زور سے چیخو”

“اس” نے زینش کو چیخ کر بولنے کے ساتھ ہی غصے میں اس کا دوپٹہ کھینچ کر دور پھینکا۔۔ زینش “اس” کے اس قدم پر واقعی خوفزدہ ہو کر چیخنے لگی

“پلیز ترس کھاؤ مجھ پر،، رحم کرو مجھ پر”

وہ روتی ہوئی بولی

“اسی طرح منتیں کرو میری بلکہ معافی مانگو گڑگڑاؤ میرے سامنے”

“اس” نے بولتے ہوئے زینش کی آستین پھاڑی جبکہ دوسرے ہاتھ میں “اس” کے موبائل تھا جس سے “وہ” زینش کی ویڈیو بنا رہا تھا

“میں تم سے معافی مانگتی ہوں خدا کا واسطہ ہے پلیز مجھے چھوڑ دو”

زینش “اس” کے سامنے روتی ہوئی اپنے برہنہ بازو دیکھ کر “اس” سے معافی مانگنے لگی مگر اب “اس” کا ہاتھ زینش کے گریبان پر تھا دوسرے ہاتھ میں ویسے ہی موبائل پکڑے وہ ویڈیو بنا رہا تھا

زینش کو نہیں معلوم تھا “وہ” اسے بےلباس کرکے،، اس کا تماشا بنا کر آگے اس کے ساتھ کیا کرنے والا تھا۔۔۔ آج سے پہلے زینش نے ہمیشہ “اس” کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت کے ساتھ احترام دیکھا تھا لیکن آج “وہ” حیوان بنا ہوا تھا۔۔۔ جب “اس” نے زینش کا گریبان چاک کرنے کی کوشش کی مگر اس سے پہلے ہی زینش بےہوش ہو چکی تھی

*****