Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel NovelR50401 Woh Howe Meharban (Episode 13)
Rate this Novel
Woh Howe Meharban (Episode 13)
Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel
“کیا بات ہے بھیا جی آج تو بڑے چپ چپ ہیں آپ”
ُپپو اپنی چارپائی پر لیٹا ہوا برابر والی چارپائی پر نظر ڈال کر بولا جس پر معظم لیٹا ہوا تھا۔۔۔ وہ شام جب گھر لوٹا تو تب سے ایسے ہی خاموش تھا
“دل بہت بے چین ہے پپو سمجھ میں نہیں آ رہا کیا کروں۔۔ ایک بار پھر مجھ سے بہت کچھ غلط ہوگیا”
معظم پپو کو دیکھنے کی بجائے چھت پر لگے پنکھے کو دیکھ کر بولا سندیلا کے روتے ہوئے چہرے کے ساتھ اسے ایک اور چہرہ بھی یاد آیا جو سندیلا سے ملتا جلتا تھا وہ بھی اس کے سامنے یونہی رو رہی تھی
“جو غلط ہوا ہے اس کو سدھار لیں بھیا جی۔۔۔ ویسے بھی آپ تو بڑے بڑوں کو سدھار دیتے ہیں،، یوں دل بے چین کریں گے تو پریشانی بڑھے گی،، اس سے بہتر ہے مسئلے کو حل کرنے کا سوچیں”
پپو اپنی رو میں معظم کو مشورہ دے رہا تھا معظم غور سے پپو کی بات سن کر کچھ سوچنے لگا
****
یوں ہی بے مقصد اپنے کمرے میں ٹہلتے ٹہلتے اس کی ٹانگیں اب تھکنے لگی تھی اس وقت رات کے دو بج رہے تھے اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ بلال سے کیسے معافی مانگے، بلال کی حالت دیکھ کر اسے اپنے کیے کی ندامت ہو رہی تھی یقیناً وہ بلال کا دل بہت زیادہ دکھا چکی تھی بے شک بلال اس پر کتنا ہے غصہ کرے لیکن اسے بلال سے معافی مانگنی چاہیے تھی زینش ٹہلتی ہوئی سوچنے لگی پھر کچھ سوچ کر اس نے بلال کے کمرے کا رخ کیا۔۔۔ اگر کمرے کا دروازہ اندر سے لاک ہوگا تو وہ پلٹ جائیں گی۔۔۔ یہ سوچ کر اس نے دروازے کا ہینڈل گھمایا تو دروازہ کھل گیا
کمرے میں بلب آن تھا جس نے کمرے کو روشن کیا ہوا تھا بلال بیڈ پر آڑھا ترچھا آنکھیں بند کئے ہوئے لیٹا تھا یوں اسے دیکھ کر زینش کو ایک بار پھر ندامت نے آ گھیرا، بیڈ کے پاس ٹرالی میں کھانا ویسے کا ویسا ہی رکھا ہوا تھا صاف اندازہ ہو رہا تھا بلال نے کھانا نہیں کھایا پورا کمرہ ویسے ہی بکھرا ہوا تھا
زینش فرش پر سے بکھرے ہوئے کانچ کے ٹکڑے اٹھانے لگی وہ بہت آہستگی سے کانچ کے سارے ٹکڑے ایک جگہ رکھ رہی تھی ساتھ ہی وقفے وقفے سے وہ بلال پر بھی نظر ڈال لیتی
“سس”
احتیاط کے باوجود کانچ کا ٹکڑا ہاتھ میں لگنے کی وجہ سے اس کے منہ سے سسکی نکلی اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھنے کے باوجود بلال کی انکھ کھل چکی تھی۔۔۔ بے اختیار اس کی نظریں بلال پر گئی جو آنکھیں کھول کر اسکو دیکھنے لگا پہلے وہ نہ سمجھیں کی کیفیت میں زینش کو دیکھ رہا تھا مگر کچھ یاد آنے پر ایک دم اس کے چہرے کے تاثرات سخت ہوئے
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی تم دوبارہ میرے کمرے میں قدم رکھو”
بلال بیڈ سے اٹھتا ہوا اس کے پاس آیا،، زینش کے ہاتھ میں کانچ کا ٹکڑا موجود تھا بلال کو غصے میں اپنی طرف آتا دیکھ کر، کانچ کا ٹکڑا اس کے ہاتھ میں ہی رہ گیا
“بلال میں آپ سے معافی مانگنے آئی تھی میرا مقصد یا ارادہ یہ نہیں تھا کہ میں آپ کو تکلیف پہنچاؤں”
زینش بلال کو دیکھتی ہوئی بولی تو بلال نے اپنے ہاتھ سے اس کا بازو زور سے دبوچا
“تم جیسی لڑکیاں ڈیزرٹ نہیں کرتی کہ انہیں معاف کیا جائے”
بلال کی نظریں زینش کے ہاتھ پر تھی،، جس میں کانچ کر ٹکڑے کو دیکھ کر بلال نے کھینچ کر اس کے ہاتھ سے کانچ کا ٹکڑا چھینا۔۔۔ جو زینش کے ہاتھ کو بری طرح زخمی کر گیا یہی وجہ تھی کہ زینش کے منہ سے چیخ نکلنے والی تھی مگر اس سے پہلے ہی بلال نے اس کا منہ زور سے دبوچا
“کیا ہوا بہت تکلیف ہو رہی ہے،، شام میں تم نے مجھے جو تکلیف پہنائی تھی وہ اس سے کہیں زیادہ تھی۔۔۔ جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ جس لڑکی کے لئے میں نے اپنے دل میں خالص جذبہ اور سچی فیلنگز رکھیں اس لڑکی نے محض ایک شرط کے لیے مجھ سے ڈرامہ کیا۔۔۔ بہت تکلیف پہنچی مجھے اس وقت، کیوں مزاق بنایا تم نے میری فیلنگز کا۔۔۔ بولو کیوں تم نے میرے ساتھ اس طرح کیا”
ایک ہاتھ سے زینش کا منہ زور سے پکڑ کر، دوسرا ہاتھ میں کانچ کا ٹکڑا پکڑے وہ غضب ناک نظروں سے گھورتا ہوا زینش سے پوچھنے لگا
“سس۔۔۔ سوری
اپنے گالوں میں بلال کی دھستی ہوئی انگلیوں سے زینش کی آنکھوں میں پانی بھرنے لگا وہ بہت مشکلوں سے فقط اتنا ہی بھول پائی
“ڈونٹ سے سوری،، کہا تھا نا تم جیسی لڑکیاں معافی ڈیزرو نہیں کرتی۔،۔۔ کیا سزا دو تمہیں تمہارے اس ڈرامے کی،، بگاڑ دو تمہارا یہ حسین چہرہ بولو”
وہ غصے میں بولتا ہوا کانچ کا ٹکڑا زینش کے چہرے کے قریب لایا ڈر کے مارے زینش کا سانس بند ہونے لگا
“بلال پلیز نہیں” زینش نے خوف کے مارے زور سے اپنی آنکھیں بند کرلیں اس وقت اسے بلال سے بہت زیادہ خوف محسوس ہونے لگا جبکہ زینش کو اس طرح روتا ہوا دیکھ کر بلال کے اندر کا غصہ کم ہونے کی بجائے مزید بڑھنے لگا
“نہیں میرے خیال میں یہ ٹھیک نہیں ہے تمہارا چہرہ بگڑ جائے گا تو تم دوسروں کی ہمدردیاں سمیٹو گی۔۔۔ تمہارے ساتھ تو کچھ اور اسپیشل ہونا چاہیے”
بلال نے خود سے بولتے ہوئے کانچ کا ٹکڑا فرش پر پھینکا اس کے ساتھ ہی اس نے زینش کو اپنی طرف کھنچ کر اس کی کمر کے گرد سختی سے اپنے دونوں بازو لپیٹے
“بہت انجوائے کرتی تھی تم خوشی سے میری باتیں کرکے میرا مذاق بنا کر۔۔۔ آج میں تمہیں بتاؤں گا کہ کسی کی ذات کا مذاق بنانا کسے کہتے ہیں،، جسے تم بعد میں یاد کرکے صرف اور صرف اب آنسو بہاؤ گی”
بلال نے بولتے ہوئے زینش کو بیڈ کر دھکیلا
ایک پل کے لیے زینش سکتے میں آگئی اور صدمے سے بلال کو دیکھنے لگی۔۔ بے شک وہ اس کی جان لے لیتا مگر یہ کیا کرنے چلا تھا وہ اس کے ساتھ
“بلال نہیں پلیز آپ ایسا کچھ نہیں کر سکتے میرے ساتھ”
زینش بولتی ہوئی اٹھ بھی نہیں پائی تھی کہ بلال نے ایک بار پھر اسے پیچھے دھکیل کر اس پر جھکا زینش بری طرح تڑپ کر رونے لگی
“اسی طرح روؤں منتیں کرو میری معافیاں مانگو مجھ سے”
بلال زینش سے غصے میں دانت پیس کر بولا مگر اس کے یہ لفظ زینش کو ماضی میں پیچھے کہیں لے گئے۔۔۔ کوئی اور بھی تھا جو اسے اپنے آگے اسی طرح گڑگڑاتا ہوا روتا ہوا دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔ زینش جیسے وہ منظر یاد کر کے رونا بھول کر کہیں اور کھو گئی
بلال نے زینش کو خاموش دیکھ کر اس کے گلے سے دوپٹہ کھینچا۔۔۔ وہ زینش کو جان بوجھ کر ہرٹ کر رہا تھا جیسے اس نے بلال کو کیا تھا۔۔۔۔ مگر زینش اس وقت بلال کے کمرے کی بجائے دو سال پہلے اس بند کوٹھری میں پہنچ چکی تھی جہاں پر اس کے تن سے دوپٹہ کھینچ کر اسے رونے کے لئے بولا جارہا تھا اور اُس وقت وہ چیخ چیخ کر رو بھی رہی تھی
لیکن اس وقت زینش کا یوں ایک دم ساکت ہونا بلال کو مزید غصہ دلانے لگا۔۔۔ اس نے زینش کو اپنے آپ سے خوفزدہ کرنے کے لئے اس کی آستین پھاڑی۔ ۔۔۔ تب بھی زینش کے وجود میں کوئی جنبش نہیں ہوئی وہ آنکھیں کی پتلیوں کو حرکت دیے بناء کمرے کی چھت کو دیکھ رہی تھی
جبکہ دو سال پہلے اپنے برہنہ بازو دیکھ کر وہ اس وقت کس قدر روتی ہوئی بے بسی سے چیخ رہی تھی
لیکن اس وقت زینش کو سانس لینے میں تکلیف ہونے لگی۔۔۔ اپنے جسم پر ایک اور وجود کے دباؤ کے زیر اثر وہ لمبے لمبے سانس لینے لگی۔۔۔ بلال اس کی کیفیت بالکل سمجھ نہیں پایا۔۔۔ لیکن زینش نے اپنی آنکھیں بند ہونے سے پہلے اپنے اوپر جھکے ہوئے بلال کا چہرہ دیکھا۔۔۔ جو زور زور سے اس کے گال تھپتھپا کر اس کا نام پکار رہا تھا
پھر زینش کو اپنے جسم پر سے وہ دباؤ ہٹتا ہوا محسوس ہوا تو بے ربط سے جملوں میں وہ دو سال پہلے ہوئے واقعے کے بارے میں سب کچھ بولنے لگی۔۔۔ نہیں وہ خود نہیں بول رہی تھی شاید کوئی اس سے پوچھ رہا تھا۔۔۔ وہ بےہوشی کی کیفیت میں آنکھیں بند کیے بولنے پر مجبور تھی
چند منٹ بعد اس کی ایک اور دفعہ پھر آنکھ کھلی، تب اسے بلال اپنے بازوؤں میں اٹھائے بیڈ پر لٹا رہا تھا۔۔ یہ اس کا اپنا کمرہ تھا۔۔۔ اسے اپنے ہاتھ کے زخم پر نمی سی محسوس ہوئی مگر اب اس کا دماغ مکمل تاریکی میں جا چکا تھا
****
گاڑی کے ٹیک لگا کر سگریٹ پیتا ہوا معظم اپنے سامنے اونچی عمارت کو دیکھ رہا تھا جہاں ایک گھنٹے پہلے جاب کے لیے انٹرویو دینے کے غرض سے احتشام گیا تھا۔۔۔ جب وہ پنڈی میں مقیم تھا تب احتشام اور اس نے ایک ساتھ ہی ایک ہی اسکول سے میڑک کیا تھا اور یہ کافی سال پہلے کی بات تھی
جب معظم یو ایس بی لینے کے غرض سے اس کے گھر گیا تھا تب وہ تصویر میں احتشام کو پہچان چکا تھا اسے آج بھی یاد تھا اسکول کے دور میں احتشام کی نیچر کافی مفاد پرست اور مطلبی قسم کی تھی۔ ۔۔ معظم اس وقت وہاں کھڑا ہوا احتشام کا ہی انتظار کر رہا تھا یہ معلوم کرنے کے لئے کہ احتشام اسے پہچانتا ہے یا نہیں،، اسی وجہ سے اس نے اپنا حلیہ عام دنوں کی بانسبت تھوڑا بہت سدھارا ہوا تھا۔۔۔
احتشام کو سامنے عمارت سے نکلتا ہوا دیکھ کر معظم نے ہاتھ میں موجود سیگریٹ کا ٹکڑا زمین پر پھینک کر جوتے سے مسلا اور احتشام کی طرف بڑھنے لگا۔ ۔۔۔ اس وقت احتشام کے چہرے پر اطمینان اور امید کی جھلک صاف دکھائی دے رہی تھی شاید وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو چکا تھا یا پھر اسے پوری امید تھی کہ وہ کامیاب ہو جائے گا
“او بھائی دیکھ کر نہیں چلا جاتا کیا”
سامنے سے آتا ہوا شخص احتشام سے ٹکرایا جس کی وجہ سے احتشام کے ہاتھ میں موجود فائل نیچے گر گئی جبھی احتشام اس آدمی کو بولا
“آنکھیں تمہارے پاس بھی موجود ہیں برادر یا پھر ان کا استعمال صرف لڑکیاں تاڑنے کے لیے کرتے ہو”
معظم کا جواب سن کر اپنی نیچے گری ہوئی فائل اٹھا کر احتشام نے باقاعدہ غصے میں اسے دیکھا۔۔۔ مگر احتشام اسے کوئی کرارا جواب دینے کی بجائے پہچاننے کی کوشش کرنے لگا
“معظم شفیق۔۔۔ معظم ہو ناں تم وہی پنڈی والے،، جو میرے ساتھ پڑھتے تھے”
وہ معظم کو پہچان چکا تھا تبھی حیرت سے اسے دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“او۔ ۔۔۔ تم احتشام ہو، میں یہی سوچ رہا تھا کہ کہاں دیکھا ہے تمہیں پہلے”
معظم بھی بھرپور اداکاری کرتا ہوا بولا
“تو تم یہاں اس کمپنی میں جاب کرتے ہو”
حال احوال جاننے پہچانے کے مراحل طے ہوئے تو معظم احتشام سے پوچھنے لگا
“جاب کرتا نہیں ہو بلکے جاب کے لیے انٹرویو دینے آیا تھا۔ ۔۔ پوری امید ہی نہیں یقین ہے مجھے ہی سلیکٹ کریں گے یہ لوگ،، تم بتاؤ کیا کرتے ہو آجکل”
احتشام اور اس کی کوئی خاص دوستی نہیں تھی لیکن اتنے سالوں بات ان دونوں کی ملاقات ہو رہی تھی تو احتشام بھی اس کے عام سے حلیے پر نظر ڈالتا ہوا معظم سے پوچھنے لگا
“میٹرک پاس بندہ کیا کرے گا میرے بھائی یہاں تو کوئی چپڑاسی کی نوکری دینے کو تیار نہیں ہے۔۔؟ فی الحال بیروزگار ہو،، تم تو لگتا ہے ماشاءاللہ خوب پڑھ لکھ گئے ہو شادی وادی بھی کی ہے یا پھر ابھی تک کنوارے ہو”
معظم کی بات سن کر احتشام ایک پل کے لئے سوچ میں پڑ گیا کاش کہ معظم کچھ پڑھا لکھا ہوتا تو وہ فائقہ کی اس سے شادی کروا دیتا مگر معظم کا حلیہ دیکھ کر وہ کافی مایوس ہوا تھا کیونکہ فائقہ خلع لینے کے بعد بھی ابھی تک کسی شہزادے کے خواب دیکھ رہی تھی
“شادی کو تو میرے دو سال ہو چکے ہیں اب تو ایک بیٹی کا باپ ہو۔۔۔ معلوم نہیں اچھا خاصہ تعلیمی ریکارڈ ہونے کے باوجود تم نے تعلیم کیوں آدھوری چھوڑ دی خیر میری نظر میں کوئی تمہارے لائق جاب ہوگی تو میں ضرور تمہیں بتاؤں گا”
احتشام نے اسے فی الحال اپنی شادی کے متعلق کچھ بھی بتانا ضروری نہیں سمجھا۔۔۔ اس کے لیے جاب کا بھی احتشام نے ایسے ہی بول دیا تھا
“اس وقت جاب سے بڑا مسئلہ میرے لیے ایک اور بنا ہوا ہے اسی مسلئے کے لئے یہاں ایک آدمی نے بلوایا تھا”
معظم بتاتے ہوئے تھوڑا پریشان دکھ رہا تھا تبھی احتشام اس سے اس کے مسئلہ کے بارے میں پوچھنے لگا
“ایک چھوٹا موٹا مکان یہاں پر کرائے پر لیا تھا مالک مکان کو پہلے ہی بتایا ہے کہ فیملی دوسرے شہر میں شفٹ ہے مگر دو دن پہلے آس پڑوس کے رہنے والے لوگوں نے سنگل بندے کو دیکھ کر شاید کمپلین کردی ہے اب مالک مکان بضد ہے کہ میں اپنی فیملی شو کرو ورنہ وہ مکان خالی کروا دے گا اسی لئے تھوڑا پریشان ہو”
معظم کا مسلئہ احتشام نے بہت غور سے سنا واپس جاتے وقت احتشام نے کچھ سوچ کر معظم سے اس کا موبائل نمبر لیا اگر وہ نہ بھی مانگتا تو معظم خود کسی نہ کسی بہانے سے اس کا موبائل نمبر مانگ لیتا ایسا معظم نے سوچا تھا
****
“بیٹا یوں اچانک تمہیں کیا ہوگیا ہے کل تو تم بالکل ٹھیک تھی”
جویریہ زینش کو بیڈ پر لیٹا ہوا دیکھ کر پوچھنے لگی زینش کے کمرے میں ہی کھڑا ہوا حسان بھی فکرمندی سے زینش کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ وہ آج صبح ناشتے کی ٹیبل پر موجود نہیں تھی اس لیے ناشتے سے فارغ ہوکر جویریہ اور حسان زینش کے کمرے میں چلے آئے تھے جبکہ بلال اپنے روٹین کے مطابق بالکل نارمل انداز میں ناشتہ کرنے کے بعد آفس جا چکا تھا
“رات ہی سے اپنی طبیعت کو اچھا محسوس نہیں کر رہی ہو مگر اب بہتر ہو آپ پریشان مت ہو آنٹی”
زینش بیڈ سے ٹیک لگاتی ہوئی بیٹھی اور جویریہ سے کہنے لگی اسے کمرے میں کون لایا تھا یا اس کے ہاتھ پر موجود بینڈج کس نے کی تھی یہ وہ نہیں جانتی مگر جب صبح کی آنکھ کھلی تو وہ اپنے کمرے میں موجود تھی،، پھٹی ہوئی آستین کو دیکھ کر اسے بلال کا جارحانہ انداز یاد آیا جس پر اس کا دل کافی دکھا تھا۔۔۔ کپڑے چینج کرنے کے بعد وہ اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلی تھی تب سے وہ یونہی بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی
“ہاتھ پھر کیا ہوا تمہارے بلال کے ہاتھ پر بھی میں نے پٹی بندھی ہوئی دیکھی پوچھنے پر اس نے بتایا نہیں بلکہ ٹال گیا”
جویریہ کی بات پر زیشن ہی نہیں بلکہ حسان بھی چونکا مگر اس کے موبائل پر آنے والے میسج نے حسان کی توجہ موبائل کی طرف مبذل کر دی
“یہ تو رات میں ہی کھانا کھانے کے بعد گلاس کے ٹوٹنے سے ہاتھ زخمی ہو گیا تھا،، معمولی سا زخمی تھا اس لئے کمرے میں آکر خود ہی ڈریسنگ کر لی”
زینش نے مسکراتے ہوئے بات بنائی تھی کیونکہ وہ جویریہ کو بلال کی طرح ٹالتی تو ان دونوں کی نظروں میں مشکوک ہو جاتی
ز”ینش خیال رکھا کرو اپنا،، ابھی تو میں آفس کے لیے لیٹ ہو رہا ہوں واپسی پر آکر تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے جاؤں گا”
حسان فورا ہی زینش کی بات پر مطمئن ہو گیا تھا اسی وجہ سے دیکھتا ہوا بولا
دو دن پہلے ہی قاسم نے اس سے دگنی قیمت کا مطالبہ کیا تھا کافی دن گزر جانے کے باوجود یو ایس بی اس کے ہاتھ نہیں لگی تھی مگر قاسم نے اس کو اطمینان دلایا تھا کہ وہ یو ایس بی اس کے پاس محفوظ ہے۔۔۔ قاسم دو نمبر ہونے کے باوجود اپنی زبان کا پکا آدمی تھا اس لیے حسان اس پر بھروسہ کر سکتا تھا۔۔۔ حسان اسے دوگنی قیمت دینے کے لیے بھی تیار ہو چکا تھا کیونکہ حسان اس یو ایس بی کو ندیم سومرو کو دکھانے کے بعد ندیم سومرو سے چار گناہ زیادہ قیمت وصولنے کا ارادہ رکھتا تھا
“ڈاکٹر کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے حسان بھائی میں بالکل ٹھیک ہوں”
زینش نے اپنی طرف سے حسان کو مسکراتے ہوئے جواب دیا لیکن ابھی بھی اداسی اس کو گھیرے ہوئے تھی
“تمہاری اس بات کا یقین میں تب کروں گا جب میرے آفس سے آنے کے بعد تم مجھے ہشاش بشاش اپنے کمرے سے باہر نظر آؤں گی”
حسان کی بات پر جویریہ اور زینش دونوں ہی مسکرائی دی
“آپ کی ماما سے کوئی بات ہوئی پاکستان آنے کا کب تک پروگرام ہے ان کا”
حسان کے جانے کے بعد زینش جویریہ سے پوچھنے لگی
اپنے پیپرز میں بزی ہونے کی وجہ سے وہ شہنیلا سے بات ہی نہیں کر پا رہی تھی مگر آج صبح سے ہی اسے شہنیلا کی یاد آ رہی تھی جویریہ زینش کو شہنیلا کے پاکستان آنے کے پروگرام کے بارے میں بتانے لگی جسے سن کر زینش مطمئن ہوگئی
****
