Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel NovelR50401 Woh Howe Meharban (Episode 1)
Rate this Novel
Woh Howe Meharban (Episode 1)
Woh Howe Meharban By Zeenia Sharjeel
نیویارک شہر کے چھوٹے سے قصبے مونٹاک (montauk) کی یہ ایک یخ بستہ شام تھی، کلائی پر بندھی ہوئی واچ پر نظر ڈال کر وہ جلدی جلدی اپنا کام وائینڈ اپ کر رہی تھی تاکہ گھر کے لیے روانہ ہو سکے، پچھلے چھ ماہ سے وہ ہارویسٹ کیفے (harvest cafe) میں بطور ویٹر جاب کے فرائض انجام دے رہی تھی لانگ کوٹ پہننے کے بعد سر پر اونی ٹوپا پہن کر وہ کیفے سے باہر نکلی تو ہوا کا سرد جھونکا اُس کے جسم سے ٹکرایا جس کے باعث اس نے جھرجھری لی۔۔۔ اُس کا یہ لانگ کوٹ اِس ٹھٹھرا دینے والی سردی سے بچاؤ کے لئے ناکافی تھا مگر وہ نیا گرم کوٹ خرید کر اپنی ذات پر موجودہ رقم خرچ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی کیونکہ ابھی اسے سیمسٹر کی فیس بھی پے کرنی تھی۔۔۔ دوسرا لینڈ لیڈی کو بھی دو دن بعد آن دھمکنا تھا کاٹیج کا کرایہ لینے۔۔۔ یہ ساری باتیں سوچتے ہوئے وہ چلی جا رہی تھی تھوڑی اور دور پیدل چلنے کے بعد اسے مخصوص شٹل (shuttle) ملتی جو اُسے اس کی منزل تک پہنچا دیتی مگر اس سے پہلے ہی دو لڑکے اُسے سامنے سے آتے ہوئے دکھائی دئیے جنہیں دیکھ کر وہ سر جھکا کر تیزی سے وہاں سے نکلنے لگی
“ہے سوئٹی کیا تم میری بات سنو گی”
ان میں سے ایک لڑکا انگریزی میں اُس سے مخاطب ہوا مگر وہ ان دونوں کو اگنور کرتی ہوئی آگے بڑھنے لگی۔۔۔ یہ دونوں لڑکے کافی دنوں سے اُسے اور ریوا کو راستے میں تنگ کررہے تھے مگر اُس کی بدقسمتی یہ تھی کہ ریوا آج کیفے نہیں آئی تھی
“سویٹی میں تم سے بات کر رہا ہوں کیا تم ہم دونوں کے ساتھ نائٹ اسپینڈ کرنے میں دلچسپی رکھتی ہوں”
وہ لڑکا اُس کے ساتھ چلتا ہوا دوبارہ اسے بولا اس لڑکے کی بات سن کر اُس کے چلنے میں مزید تیزی آگئی
“کیا تم کان سے بہری ہو یا پھر منہ میں زبان نہیں ہے تمہارے”
وہ لڑکا اچانک اُس کا ہاتھ پکڑتا ہوا اس سے پوچھنے لگا جس کی وجہ سے اس کو روکنا پڑا
“میرا ہاتھ چھوڑ دو میں تمہاری آفر میں دلچسپی نہیں رکھتی”
وہ اپنی گھبراہٹ چھپا کر اس لڑکے سے اپنا ہاتھ چھڑوانے لگی۔۔۔۔ جبکہ اس لڑکے کا دوسرا ساتھی بیزار ہوکر یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا
“مگر ہم دونوں تم میں دلچسپی رکھتے ہیں اس لئے فضول کے نخرے دکھانا بند کرو اور اپنے ریٹ بتاؤ”
اب کی بار دوسرا لڑکا بولا اِس سے پہلے وہ اسے کچھ بولتی وہاں سے گزرتی ہوئی پولیس کی کیپ کو دیکھ کر وہ دونوں لڑکے رفوچکر ہوگئے وہ خدا کا شکر ادا کرتی ہوئی تیز قدم اٹھا کر وہاں سے دور جانے لگی
*****
“اوہو زینش آج کتنی دیر لگا دی تم نے واپس آنے میں،، میں تمہارا ہی انتظار کر رہی تھی۔۔۔ فیض تو اس چڑیل صنوبر کے ساتھ نہ جانے کب کا باہر نکلا ہوا ہے۔۔۔ اب وہ دونوں واپس ڈنر کر کے ہی گھر لوٹیں گے اور میرا خود بھی ڈنر کا پروگرام ہے جوزف کے ساتھ۔۔۔ اس لیے تم اپنے لیے خود ڈنر کا ارینج کر لینا”
شہنیلہ اپنے رنگین ناخنوں کو دیکھ کر اس پر پھونک مار دیتی ہوئی زینش بولی۔۔۔۔ 20 سالہ زینش شہنیلا کو غور سے دیکھنے لگی بالوں کو گولڈن کیے،، چہرے پر بے تحاشہ میک اپ میں وہ کہیں سے بھی اس کی ماں نہیں لگ رہی تھی۔۔۔ بلکہ اس سے چند سال بڑی اس کی بہن لگ رہی تھی۔۔۔
رضوان کے انتقال کے بعد وہ مزید خوبصورت، جوان پرکشش دِکھنے لگی تھی
“ماما مجھے یہاں پر نہیں رہنا ہے”
زینش اس کی بات کو مکمل نظر انداز کرکے ضبط کرتی ہوئی بولی
“او شکر ہے تمہاری عقل میری بات آگئی کہ تمہیں ایڈی کے ساتھ اس کا اپارٹمنٹ شیئر کر لینا چاہیے”
شہنیلا خوش ہو کر زینش سے بولی تو وہ تاسف سے اپنی ماں کو دیکھنے لگی جو نیویارک میں آنے کے ساتھ ہی یہاں کی رنگینیوں میں بالکل ہی گم ہو چکی تھی
“ماما میں ایڈی کے ساتھ اس کا اپارٹمنٹ شیئر کرنے کی بات نہیں کر رہی ہو۔۔۔ آپ یہاں کے ماحول میں ایڈجسٹ ہو چکی ہیں مگر میں نہیں، آپ مجھے واپس احمد چاچا کے پاس پاکستان بھجوا دیں پلیز”
زینش نے جتنے آرام سے شہنیلا کو یہ بات بولی تھی شہنیلا کے چہرے کے تاثرات اتنے ہی پتھریلے ہو گئے
“چھیڑ دیا ہوگا آج پھر تمہیں کسی نے یا پھر ذرا سا مذاق کر لیا ہوگا تمہارے ساتھ جس پر تم فورا ہی دل برداشتہ ہو گئی ہوگی،، زینش ہمت پیدا کرو اپنے اندر یوں بات بات پر پریشان ہو کر مت بیٹھ جایا کرو۔۔۔ اس چاچا کے پاس جانا چاہ رہی ہو تم جس نے اپنے بھائی کے مرنے کے دوسرے دن ہی فیض کو فون کرکے ہم دونوں کو بلوانے کا کہا تھا۔۔۔ کیا بھول گئی ہو اس کا اور اس کی بیوی کا سلوک وہ ساری باتیں جو انہوں نے دوسروں سے تمہارے لئے بولیں”
شہنیلا تلخی سے زینش کو اپنے سامنے کھڑا کرتی ہوئی پوچھنے لگی
“آج دو لڑکوں نے میرا راستہ روک کر مجھ سے میری ایک رات کی قیمت پوچھی ہے، آپ کے نزدیک شاید یہ ذرا سا چھیڑنے والی یا پھر مذاق کرنے والی بات ہوگی مگر میرے نزدیک نہیں ہے ماما۔۔۔ آپ اپنے اندر اتنی ہمت پیدا کر سکتی ہیں کہ مرے ہوئے شوہر کے بعد نیا بوائے فرینڈ بنا لیں اس کے ساتھ گھومے پھریں اور ڈنر پر چلی جائیں لیکن میں اتنی باہمت نہیں ہوسکتی کہ ایڈی جیسے غلیظ انسان کے ساتھ اس کا اپارٹمنٹ شیئر کرو۔۔۔
مانتی ہوں پاکستان جاکر احمد چچا اور ثمرہ چاچی کی باتیں برداشت کرنا کوئی اسان کام نہیں ہے مگر وہ اس زلت سے کہیں زیادہ بہتر ہے جو مجھے یہاں رہ کر اٹھانی پڑتی ہے”
زینش اُس سے زیادہ تلخ ہوکر شہنیلا کو بولی تو شہنیلا خاموش ہو کر اسے دیکھنے لگی۔۔۔ ایسا آج پہلی بار نہیں ہوا تھا کہ اُن دونوں کے بیچ میں تلخ کلامی نہ ہوئی ہو
“ٹھیک ہے اس موضوع پر ہم بعد میں بات کر لیتے ہیں ابھی میں لیٹ ہو رہی ہوں”
شہنیلا ہمیشہ کی طرح بات کو نپٹا کر باہر نکلنے سے پہلے اپنا لانگ کوٹ اٹھانے لگی۔۔۔ جبکہ زینش خاموشی سے اپنی ماں کو باہر جاتا ہوا دیکھکر سوچنے لگی کہ ان دو سالوں میں اس کی ماں کی شخصیت میں کتنا بدلاؤ آچکا تھا
*****
دو سال پہلے زینش کی زندگی اس حد تک نارمل تھی کہ رضوان یعنی اس کا باپ حیات تھا وہ لوگ پنڈی کے ایک اچھے علاقے میں رہائش پذیر تھے۔۔۔ ڈبل اسٹوری گھر ہونے کی وجہ سے ایک پورشن اُس کے چچا احمد کے پاس تھا جبکہ دوسرے پورشن میں رضوان شہنیلا اور زینش رہتے تھے۔۔۔ زینش نے بچپن سے ہی اپنے ماں باپ کو ہمیشہ کسی نہ کسی بات پر لڑتے جھگڑتے دیکھا تھا۔۔۔ اُس کے ماں باپ کی اُس کے چچا اور چچی سے بھی کچھ خاص نہیں بنتی تھی۔۔۔
ایسے ہی ایک دن تھا جب وہ کالج سے گھر آ رہی تھی جب اُس کے ساتھ وہ حادثہ پیش آیا جس کی وجہ سے اُس کی زندگی بدل گئی اور یہی حادثہ رضوان کی موت کی وجہ بنا۔۔۔ رضوان کی موت کے دوسرے ہی دن زینش کے چچا احمد نے شہنیلا کے بھائی فیض کو فون کرکے پاکستان بلوایا اور شہنیلا اور زینش کو اپنے ساتھ لے جانے کے لیے کہا
فیض چند سالوں سے نیویارک میں رہائش پذیر تھا
وہ اپنی بیوی صنوبر کے ساتھ کرائے کے چھوٹے سے کاٹیج میں رہتا تھا۔۔۔ یہ دو بیڈروم کا کاٹیج صنوبر کی دور کی کزن کے شوہر ہیری کا تھا جن کا بیٹا ایک ہی بیٹا تھا ایڈی، جو کہ زینش سے دو سال بڑا تھا۔۔۔ کاٹیج کا رینٹ فیض اور صنوبر ہر ماہ ہیری کو پے کرتے۔۔۔ جب فیض شہنیلا اور زینش کو اپنے ساتھ (Montauk) لے کر آیا تو ان دونوں ماں بیٹی کو بھی وہاں رہنے کی صورت اور اپنے اخراجات پورے کرنے کی صورت جاب کرنا پڑی۔۔۔ فیض ہر ماہ ان کی تنخواہ سے کاٹیج کا آدھا کرایا وصول کر کے ہیری کو دیتا۔۔۔
شہنیلہ ایک فلاور شاپ نے کام کرتی تھی وہی اس کی جوزف سے دوستی ہوئی اور یہ دوستی بہت جلد پیار میں بدل گئی تھی۔۔۔۔ بقول شہنیلا کے کہ جوزف اُس کے حسن اور پرسنیلٹی دونوں سے متاثر ہو کر بہت جلد اسلام قبول کرنے کا ارادہ رکھتا ہے
****
“آؤ بھئی معظم تم نے تو ہمارا دل خوش کردیا،، اتنے سخت پہرے کے باوجود جس ہوشیاری سے تم پولیس کی ناک کے نیچے سے یہ اسلحہ سے بھرا ہوا ٹرک یہاں تک لائے ہو ماننا پڑے گا۔۔۔ قاسم نے ٹھیک ہی کہا تھا تم بہت ہی کام کے بندے ہو تمہارے کام کی تو داد دینی پڑے گی”
بدر اپنے سامنے کھڑے 27 28 سالہ نوجوان کو دیکھتا ہوا خوش ہو کر بولا ساتھ ہی اس نے سامنے ٹیبل پر نوٹوں کی ایک موٹی گڈی رکھی (جو کہ معظم کی مانگ سے زیادہ تھی)۔۔۔ معظم قاسم کا خاص بندہ تھا جسے قاسم نے بدر کے پاس اسلحے سے بھرے ٹرک لے کر بھیجا تھا۔۔۔ بدر اس بہادر نوجوان کو دیکھ کر کافی خوش ہوا تھا
“جب معظم کسی بھی کام کرنے کی ایک بار ٹھان لیتا ہے تو پھر مشکل کیا اور خطرناک کیا۔۔۔ کام مکمل کر کے ہی دم لیتا ہے۔۔۔ ٹرک کی چابی آپ کے آدمی کو دے دی ہے۔۔۔ مال اس میں پورا ہے آپ چاہیں تو خود بھی چیک کر سکتے ہیں”
معظم اپنے سامنے سوٹ بوٹ پہنے ہوئے آدمی کو دیکھ کر بولا اور نوٹوں کی گڈی اٹھا کر انہیں دیکھنے لگا جو اُسے اس کی ڈیمانڈ سے کچھ زیادہ لگ رہے تھے
“مجھے تمہارا یہ جوش اور جذبہ پسند آیا ہے،، تم جیسے نڈر،، دلیر اور محنت کش بندوں کی مجھے کافی ضرورت ہے۔۔۔ تم چاہو تو میرے گینگ میں شمولیت اختیار کر سکتے ہو”
ظاہری طور پر دیکھنے میں اُس کا حلیہ بے شک متاثر کن نہیں تھا مگر بدر معظم کے کام کرنے کے انداز سے متاثر ہوا تھا وہ عام سے کپڑوں اور بڑھی ہوئی شیو میں اُسے خاص بندہ لگا،، جو آگے بھی اس کے کافی کام آ سکتا تھا اس لئے بدر نے معظم کو اپنا گروپ جوائن کرنےکی پیشکش کی
“آفر آپ کی بری نہیں ہے سر یقینا اس میں میرا ہی فائدہ ہوگا مگر ایک تو یہ کہ میرے کام کرنے کے کچھ اپنے اصول ہیں جن کے دائرے میں رہ کر میں کام کرنا پسند کرتا ہوں۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ میری زیادہ دن تک کسی سے بنتی نہیں اور دوسرا یہ کہ میں کسی کے ماتحت ہو کر کام کرنے کا عادی نہیں ہوں،، آپ کو جب بھی میری ضرورت پڑے تو آپ قاسم سیٹھ کو بتا دیئے گا،، کام کی نوعیت دیکھ کر میں دوبارہ آپ کے پاس حاضر ہو جاؤں گا،، ابھی کے لئے کی اجازت دیں چلتا ہوں”
کام مکمل ہونے کے بعد معظم نے قاسم سے جتنی رقم کا مطالبہ کیا تھا، اس نے ٹیبل سے اٹھائی ہوئی نوٹوں کی گڈی میں سے اپنی رقم نکالی باقی کی رقم ٹیبل پر واپس رکھ کر وہ وہاں سے چلا گیا
****
