Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

قسط نمبر نو۔۔۔
اگلے دن سب کا ارادہ مری جانے کا بن گیا فازیہ بھی خوش ہوئی کیونکہ وہ یہی چاہتی تھی کہ یہ لوگ کچھ دن بعد گھر واپس جائیں تاکہ رخسار بیگم اور علیشہ اور تڑپ سکیں مگر اس کے پلان پر پانی تب پھرا جب نائل ابراہیم کو رخسار بیگم کی کال آئی جو واشروم میں سلپ ہو گئیں تھیں ۔
“ڈرامہ،ایک چھوٹی سی پھسلن کو اتنا لمبا چوڑا بیان کرکے بتانے کا مطلب صاف سمجھ رہی ہوں میں ،صرف واپس بلانے کا بہانہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ خود سے کہتی نائل کو انکار کرنے کا سوچ کر بیٹھی تھی مگر جب وہ ٹکٹس کروا کر کمرے میں آیا تو اس کے چہرے پر اتنی سنجیدگی تھی کہ وہ چاہ کر بھی کچھ نہ کہہ سکی اور اس کے ساتھ لاہور واپس چلی آئی۔
“ڈاکٹر کیا کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”ماں سے ملتا وہ ان کے پاس ہی ٹک گیا جو بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھی تھیں اور ان کے پاؤں پر پٹی بندھی ہوئی تھی فازیہ تو بس ایک جھلک دیکھ کر ہی اوپر کمرے میں چلی گئی ۔
“دیکھا تم نے نائل اسے؟کتنی پتھر دل اور بے شرم لڑکی ہے،اتنا نہیں ہوا کہ حال ہے پوچھ لیتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم کو جیسے موقع مل گیا۔
“مما آپ اسے چھوڑیں،یہ بتائیے کہ تکلیف ہے تو میں احسن کو یہی بلا لوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے اپنے دوست کا حوالہ دیا۔
“نہیں ڈاکٹر دیکھ کر گیا ہے بس پاؤں مڑنے کی وجہ سے ہڈی فریکچر ہوگئی ہے،کچھ دن کے ریسٹ سے سہی ہو جائے گی،میں نے تو کہا تھا کہ اتنی بڑی بات نہیں مت پریشان کرو بچو کو مگر یہ بھی نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم رخسار بیگم کے اس واویلے پر زرا خوش نہ تھے وہ چاہتے تھے کہ نائل اور فازیہ ایک ساتھ کچھ دن اور بتائیں مگر ؟
“تو کیا کرتی میں چچا جان،میرا اکلوتا بیٹا ہے یہ ،اسے نہ بلاتی تو کیا کرتی۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم کا منہ بن گیا نائل نے اشارے سے آغا ہاشم کو چپ رہنے کا اشارہ کیا جو کندھے اچکا کر باہر نکل گئے۔
“میں نے بھی کہا تھا مگر خالہ جانی کا دل اداس ہو گیا تھا تم سے،بس نائل کو بلاؤ یہی رٹ لگا کر بیٹھی تھیں۔۔۔۔۔۔۔”علیشہ جس نے ہی رخسار بیگم کو نائل کو واپس بلانے پر زور دیا تھا اب یوں بولتی رخسار بیگم کو بھی پسند نہ آئی۔
“اب آ گیا ہوں نہ؟اب بس ٹھیک ہو جائیں مجھے زرا بھی اچھا فیل نہیں ہو رہا آپ کو یوں لیٹے دیکھ کر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سچ میں بہت پریشان ہو چلا تھا رخسار بیگم بے اختیار اٹھ کر اسکا ماتھا چوم گئیں ۔
“میری جان میں ٹھیک ہوں تمہارے سامنے ڈاکٹر نے کہا ہے کہ بس کچھ دنوں کی بات ہے،مالش کرنے سے ہی ٹھیک ہو جائے گا،اب تم تھکے آئے ہو سفر سے،جاؤ کمرے میں فریش ہو کر ریسٹ کر لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“جی مما ،تم مما کے پاس ہی رہنا میں فریش ہو کر آتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ علیشہ سے کہتا ہوا چلا گیا۔
“میں نے تمہارے کہنے پر اپنے بچے کو پریشان کر دیا،ہلکی سی چوٹ تھی تم نے اس لڑکی کو سزا دینے کے بجائے میرے بیٹے کے لیے پریشانی بنا دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اس پر بگڑیں
“ارے خالہ جانی آپ بھی نہ،کبھی ڈرامے دیکھے ہوں تو آپ کو پتہ لگے کہ بیٹوں کو قابو کرنے کے لیے ماں کو کیا کیا نہیں کرنا پڑتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کسی سازشی کردار کی طرح سب بتانے لگیں جنہوں نے رتی بھر دلچسبی نہ لی۔
“میرا بیٹا پہلے ہی میرا ہے،مجھے اسے قابو میں لے کر آنے کے لیے ڈراموں کی ضرورت نہیں ہے علیشہ؛وہ صرف چچا جان کے کہنے پر اس لڑکی کو ساتھ لئے پھر رہا ہے ورنہ وہ اسے دیکھنا بھی گوارا نہ کرے،اس دن کا تھپڑ یاد ہے نہ؟میرے خلاف بولنے پر وہ ایسا ری ایکٹ کرتا ہے جب کوئی اسے میرے خلاف کرے گا تو پھر کیا کرے گا وہ اس کے ساتھ یہ پتہ نہیں تمہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“جی وہ تو مجھے بھی معلوم ہے کہ نائل کو آپ سے بڑھ کر کچھ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”علیشہ نے بھی انکی بات کی جیسے تائید کی۔
دوسری طرف وہ کمرے میں آیا تو پہلی نگاہ اس وجود پر مرکوز کی جس کی تھوڑی دیر پہلے کی لاتعلقی اس کا خون جلا گئی تھی۔
“تم سے اتنا نہیں ہو سکا کہ تم مما کا حال ہی پوچھ لیتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ شکوہ کیے بنا نہ رہ سکا جس نے موبائل سے نظریں ہٹا کر بڑے غور سے دیکھا جو بہت سنجیدہ تاثرات لیے ہی متوجہ تھا۔
“کیوں؟میری کیا لگتی ہیں وہ ؟ان کی ہونے والی بہو ان کے سرہانے بیٹھی تھی نہ؟یہی کافی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تم مجھے اتنی بری کبھی نہیں لگی جتنی اس وقت لگ رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ گھور رہا تھا
“پہلے کونسا کبھی اچھی لگتی تھی،میں بری ہی بھلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کندھے اچکاتی نائل کو زہر لگی وہ وارڈ رب سے کپڑے نکالتا واشروم میں گھس گیا ۔
“ہونہہ،چالاک ماں کی چالاکیوں کو آج تک سمجھ نہیں پایا اور آیا بڑا مجھ پر حکم چلانے والا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ غصے سے بڑبڑا کر رہ گئی اسے رہ رہ کر رخسار بیگم پر غصہ آ رہا تھا جن کو یہ جلانا چاہتی تھی الٹا وہ اس کو بے آرام کر گئیں۔۔۔۔
*
وہ کافی لے کر کچن سے نکل رہی تھی جب اس کے کانوں میں علیشہ کی آواز پڑی تھی۔
“اوکے میری جان مجھے یاد ہے تمہاری برتھ ڈے ہے پرسوں،اس لیے بی فکر رہو میں نائل کے ساتھ آجاؤنگی،آج تو وہ مجھے اسلام آباد ساتھ نہ لے کر جانے کی سزا کے طور پر شاپنگ پر لے کر جا رہا ہے ساتھ ڈنر بھی ،اس لیے آج ہی تمہارا گفٹ بھی اسی کے پیسوں سے لے لیتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ شاید اپنی کسی دوست کے ساتھ لگی تھی اور فازیہ کو اس کے انداز سے لگا شاید وہ خاص طور پر اسے سنانے کو ہی یوں بول رہی تھی کیونکہ اس نے فازیہ کو کچن میں جاتے دیکھ لیا تھا۔
“ہاں تو شرم کس بات کی؟نائل آج بھی میرا ہے کل بھی میرا ہی رہے گا،اوکے بائے پھر ،ابھی مجھے تیار بھی ہونا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”علیشہ کہتی ہوئی فازیہ پر ایک جتاتی ہوئی نگاہ ڈالتی اپنے کمرے کی جانب چل دی فازیہ نے تیز نظروں سے اسکی پشت کو گھورا۔
“میں یہاں کیوں رکی ہوں؟کیا مجھے فرق پڑتا ہے بلکل نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ خود سے مخاطب ہوئی اور جیسے اس خیال کو جھٹک کر کمرے میں آئی جہاں نائل بلیک پینٹ شرٹ میں ملبوس خود پر خوشبوئیں بکھیرتا نک سک سے تیار ملا۔
“کہیں جانے کا ارادہ ہے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ صوفے پر بیٹھتی نظریں اس پر ٹکا گئی۔
“اب تمہارے ساتھ اس کمرے میں کتنی دیر رہوں؟آخر کو میری برداشت کی بھی ایک حد ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسے باتوں سے اکسانے کی کوشش کرنے لگا اور خود اس کے تھوڑے ہی فاصلے پر ٹک کر شوز پہننے لگا۔
“جتنا میں تمہیں اور تمہارے گھر والوں کو برداشت کر رہی ہوں نہ اتنا کسی کے بس کی بات نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ چٹخ کر بولی ۔
“اس لیے تو جا رہا ہوں کہ تمہیں کم از کم مجھے تو زیادہ دیر اس کمرے میں برداشت کرنا نہ پڑے،بلکہ پلان بنا رہا ہوں علیشہ کے ساتھ کچھ دنوں کے لیے ناردن ایریاز کی طرف نکل جاؤں۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسے تپانے اور جلانے کا شاید مکمل انتظام کر کے بیٹھا تھا فازیہ کے تو دل میں جیسے بھانبھر جلنے لگے۔
“تو جاؤ یہاں روک کون رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔”وہ نخوت سے کہتی چہرے کا رخ موڑ گئی نائل نے ایک جانچتی نگاہ اس پر ڈالی ۔
“اچھی بات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اپنا والٹ اور موبائل پکڑتا کمرے سے نکل گیا ۔
“سنو،رکو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ابھی وہ لاؤنج میں ہی پہنچا تھا کہ فازیہ کو بنا جوتے اپنے پیچھے آتے دیکھ کر حیران ہو گیا۔
“اپنا والٹ دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اپنا ہاتھ آگے کیے وہ پورے حق سے بولی نائل نے سوالیہ مگر دلچسبی سے بھرپور نگاہ کی ۔
“کیا پیسے چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔۔؟وہ اپنے کمرے سے نکلتی علیشہ کو ایک نظر دیکھتا اس سے پوچھنے لگا جو علیشہ کو پاس آتا دیکھ کر خود ہی اسکی پاکٹ سے اسکا والٹ نکال گئی حیرانگی کی بات یہ تھی کہ نائل بس دیکھتا رہا تھا روکنے کی کوشش بھی نہیں کی تھی جو اب اس کے ہاتھ سے بائیک کی کیز بھی پکڑ چکی تھی نائل کے چہرے کے تاثرات تو اس کی اس کاروائی پر سنجیدہ تھے مگر آنکھوں میں ایک شوق کا جیسے جہاں آباد تھا فازیہ واپسی کو قدم موڑ گئی۔
“نائل چلو۔۔۔۔۔۔۔۔”علیشہ قریب آ گئی اس نے بھی فازیہ کی حرکت کو بہت مشکل سے برداشت کیا تھا اور نائل کے ری ایکشن کی منتظر تھی جو یقیناً خطرناک ہونا تھا علیشہ کے خیال میں!
“کیسے چلوں لڑکی؟تم دیکھ تو چکی ہو کہ سب کچھ تو وہ اپنے قبضے میں کر چکی ہے نہ والٹ ہے میرے پاس نہ اے ٹی ایم اور نہ ہی بائیک کی کیز،اس لیے اب مجھے عامر کو کال کرنی پڑے گی کہ وہ مجھے لے جائے،بہت خاص دوست سے ملنے کا پروگرام ہے،بائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ علیشہ سے جلدی جلدی کہتا اس کے کسی بھی سوال اور اصرار سے بچتا وہاں سے نکل گیا علیشہ نے غصے سے پلٹ کر کھا جانے والی نظروں سے فازیہ کو دیکھا جو فاتحانہ چال چلتی اپنے کمرے کی طرف جا رہی تھی علیشہ یہ دیکھنے سے قاصر تھی کہ باہر نکلتے نائل کے چہرے پر بھی محفوظ کن مسکراہٹ تھی تو فازیہ کے لبوں پر بھی مسکان تھی۔
“اس نے کچھ کہا کیوں نہیں؟کیا اسکا ارادہ بھی علیشہ کے ساتھ جانے کا نہیں تھا۔۔۔۔۔۔”فازیہ خود سے ہی اندازہ لگاتی کھل کر مسکرائی اس نے والٹ کھولا جہاں کچھ کارڈز اور کرنسی تھی۔
“بیچاری خالہ کی بھانجی۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ زیر لب بولتی کھلکھلا کر ہنس دی اسے اچھا لگا تھا شاید زیادہ ہی اچھا لگا تھا۔

“اوہ ہو ،مما کیا ہوگیا ہے ؟مجھے اور عامر کو ایک دوست سے ملنے جانا تھا وہ آؤٹ آف کنٹری جا رہا تھا اس لیے وہاں پہنچنے کی جلدی تھی سو میں بنا بحث کیے چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جب سے گھر آیا تھا رخسار بیگم کے کمرے میں بیٹھا وہی کچھ سن رہا تھا جو علیشہ کے میسیجز اور کالز پر وہ سن چکا تھا۔
“اس لڑکی کی ہمت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے نائل،آج اسکی اتنی ہمت کہ تم سے والٹ لے گئی کل کو سیدھا گریبان پر ہاتھ ڈالے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رخسار بیگم کو رہ رہ کر اس پر غصہ آرہا تھا اور دل کر رہا تھا کہ وہ بنا اپنے پاؤں کی پرواہ کیے اسے دو چار لگا آئیں۔
“اب آپ اتنا بھی کمزور نہ سمجھے اپنے بیٹے کو،میرا اس وقت بحث کا موڈ نہیں تھا دوسرا آغا جان بھی کمرے میں تھے سو میں چلا گیا،علیشہ کو بولیں ناراض نہ ہو کل اسکی دوست کی برتھ ڈے پارٹی میں لے چلونگا اسے،راستے میں شاپنگ بھی کروا دونگا ،ابھی ٹائم بہت ہو گیا اب مجھے آرام کرنا ہے،شب بخیر مما۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ انکی پیشانی چومتا ہوا اٹھ گیا رخسار بیگم کچھ کہتیں کہ ابراہیم آفندی کو کمرے میں آتا دیکھ کر خاموش ہو گئیں ۔
نائل رخسار بیگم کے حکم پر علیشہ کے کمرے کی طرف چلا آیا تاکہ اسے کل ساتھ جانے کا کہہ کر منا سکے جو بقول رخسار بیگم کے بہت سخت ناراض ہو چکی تھی۔
“کہاں جا رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ کی آواز پر وہ بے ساختہ پلٹا جو سینے پر بازو باندھے اسے دیکھ رہی تھی۔
“اب یہ بھی تمہیں بتانا پڑے گا ،نظریں ہیں نہ دیکھ لو کہ کہاں جا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سپاٹ لہجے میں کہتا علیشہ کے دروازے پر نوک کر گیا۔
“اوہ تو اپنی ہونے والی بیوی کو منانے کے لیے آئے ہو۔۔۔۔۔۔۔”وہ اندازہ لگا چکی تھی
“ظاہر ہے اب شادی جس سے ہونی ہے اسے راضی رکھنا بھی تو ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“پہلے مجھے تو راضی کر لو،پھر اس ہونے والی کے پاس بھی آ جانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ نے دوبارہ دستک دینے سے روکنے کے لیے جلدی سے دروازے اور اس کے درمیان آ کھڑی ہوئی۔
“یہ کس طرح کی حرکتیں شروع کر دیں تم نے ؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟نائل صبح کی طرح اب بھی حیران ہوا۔
“جب شوہر کنٹرول سے باہر ہو جائیں تو پھر یہی حرکتیں کی جاتی ہیں،چلو تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ نے کہتے ہوئے اسکا بازو پکڑ کر کھینچا
“شوہر مان تو لو پہلے،پھر بیویوں والے رعب بھی جما لینا،اب جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے اپنا بازو اسکی گرفت سے کھینچتے ہوئے اسے جانے کا اشارہ کیا اور دروازے کو پھر دستک دینے کے لیے ہاتھ بڑھانے لگا مگر فازیہ نے وہ ہاتھ ہی پکڑ لیا۔
“اگر تم ایک منٹ کے اندر واپس نہ آئے تو پھر اسی کے کمرے میں رہنا رات بھر،میں اپنے کمرے کا دروازہ نہئں کھولونگی،اور یاد رہے کہ اب ساری کیز ہمارے کمرے میں ہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ وارننگ دیتی یہ جا وہ جا،نائل ہکا بکا اس کا ایٹی ٹیوڈ دیکھتا رہ گیا۔
“کیا بات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ شاید نہیں یقیناً محفوظ ہوا ۔پھر ایک نظر اس کے بند دروازے کو دیکھا جو شاید کہیں واشروم میں تھی جو ایک دستک پر باہر نہیں نکلی ۔نائل نے گہرا سانس بھرتے ہوئے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور اپنے کمرے میں چلا آیا جو کمرے کے دروازے کے پاس ہی کھڑی تھی۔
“کیا چاہتی ہو؟اس سب کا مقصد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا ۔
“یہی کہ تم کل اس کے ساتھ کہیں نہیں جاؤ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ دوٹوک بولتی اسے حیرت میں مبتلا کر گئ۔
“یہ ضد ہے یا جیلسی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل نے گہری نگاہ مرکوز کی جو کچھ خجل سی ہوگئی۔
“جیلسی کیوں ہوگی بھلا ؟بس وہ سب کچھ مجھے جلانے کو کر ۔۔۔۔۔۔۔”
“اور تم جل رہی ہو ؟ہے نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل کے سوال پر وہ اس کے پاس سے ہٹ کر آگے بڑھنے لگی میں نائل نے اسکا راستہ روکا۔
“بتاؤ نہ؟تم اسے میرے آس پاس گوارا نہیں کر رہی یا اسکی خوشی ہضم نہیں ہو رہی اور تیسری بات میری مما کر تکلیف پہنچانے کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل بھی اس کے انداز نہ صرف نوٹ کر رہا تھا بلکہ سب سمجھ بھی رہا تھا اس لیے مدعے پر آتا صاف صاف پوچھنے لگا۔فازیہ نے خشک لبوں پر زبان پھیری جیسے سچ بیان کرنا کچھ مشکل ہو رہا تھا۔
“تمہیں جو بھی لگے بس میں نے کہہ دیا کہ تم نہیں جاؤ گئے تو نہیں جاؤ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اپنے ڈھیٹ پن سے بولتی اسے طیش دلا گئی نائل نے ایک جھٹکے سے کلائی پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچ لیا وہ سیدھی آ کر اس کے سینے سے ٹکڑا گئی۔
“میرے پہ اس طرح کا روب کبھی میرے ماں باپ نے بھی نہیں چلایا اور تم اتنی آسانی سے سب کہہ رہی ہو،بیوی ہو میری ماں بننے کی کوشش مت کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مجھے شوق بھی نہیں ہے،چھوڑو مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسکی گرفت میں مچلی نائل نے گرفت ڈھیلی کی جس سے وہ جلدی سے پیچھے ہٹی۔
“میں سچ میں وارن کر رہی ہوں اگر تم گئے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تو؟کیا کر لو گی تم ؟اب تو میں جاؤنگا۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بھی جیسے ضد کرنے لگا فازیہ نے گھور کو دیکھا جو کندھے اچکاتے ہوئے وارڈ رب سے کپڑے نکالنے لگا۔
“میں جب کہہ رہی ہوں تو۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کس حیثیت سے کہہ رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟وہ دوبدو بولا
“بیوی ہوں تمہاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“پہلے ثابت کرو کہ میری بیوی ہو،کچھ ایسا حق دو کہ مجھے پتہ ہو کہ تم میری بیوی ہو اور مجھے تمہاری بات ماننی ہے ورنہ اب ایک رات کے بجائے دو دن کے لیے جاؤنگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نائل بھی جیسے اس موقعے سے فائدہ اٹھانا چاہتا تھا کہ وہ مانے کہ یہ اسکی جیلسی تھی علیشہ سے نہ کہ کچھ اور!
“کیا مطلب ہے تمہاری بات کا۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ بات سمجھ کر بھی نہ سمجھی کا تاثر دینے لگی نائل دلکشی سے مسکرایا اس کے پاس آ کر اسکا چہرہ نرمی سے اوپر کیا۔
“اگر روکنا چاہتی ہو تو پھر ایسے روکو کہ میرے قدم اس طرف جا نہ سکیں،بیوی ہو تو بیوی بن کر شوہر کو روک لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ زومعنی انداز میں کہتا اسے چیلنج دیتا واشروم میں گھس گیا فازیہ اسکی بات کا مطلب سمجھتی جیسے سرخ پڑی اور گہرا سانس لیتی خود کو پرسکون کرنے لگی۔
“میری بلا سے جائے مجھے کیا ضرورت اسے روکنے کی۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جتنی آسانی سے یہ بات کر گئی تھی اب اتنی آسانی سے اسے جاتا دیکھ نہیں سکتی تھی۔
^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^
حرا بیگم کال پر اس سے سخت ناراض ہو رہی تھیں فازیہ خاموشی سے بس انکو سنتی رہی۔
“مجھے یہ نہیں سمجھ آ رہی کہ تم کر کیا رہی ہو وہاں؟بس کھا لیا اور سو لیا؟پھر وہاں رکنے کا مقصد کیا ہے تمہارا ؟سب کچھ جب لے لیا ہے تو اس لڑکے سے طلاق لو اور واپس آؤ،میں نے بہت اچھا رشتہ ڈھونڈا ہوا ہے تمہارے لیے،ان کو تم تصویر پر ہی اتنی پسند آئی ہو کہ ضد لگا کر بیٹھے ہیں دولت بھی بے تحاشہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مما میں آپکو بعد میں کال کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فازیہ نے عدم دلچسبی سے کہا اور انکی کچھ سنے بنا کال بند کر گئی۔
“طلاق۔۔۔۔۔۔۔۔۔”یہ لفظ اسے بہت گراں گزرا تھا وہ سر تھامے وہی کچھ دیر بیٹھی رہی پھر گہرا سانس بھرتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
“کچھ تو فیصلہ لینا پڑے گا فازیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اپنے دل میں چھائے سکوت سے گھبرا کر بولی اور باہر ہال میں آئی جہاں سب براجمان تھے آج اتوار ہونے کی ناطے سب گھر پر ہی تھے۔
“آ جاؤ فازیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آغا ہاشم نے اسے اپنی طرف بلایا وہ ایک نظر لاتعلق سے بیٹھے نائل پر ڈالتی آغا ہاشم کی طرف چل دی وہ علیشہ کے پاس سے گزر کر آگے بڑھنے والی تھی کہ علیشہ نے شرارت سے اپنی ٹانگ آگے کی فازیہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اور گلاس کے ٹیبل کے ساتھ جا ٹکرائی۔
“فازیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سب ہی اٹھے تھے مگر نائل بھاگتا ہوا اس کے قریب آتا اسے تھام گیا جسکا سر ٹیبل کے کونے سے لگنے پر خون کا پھوارا بہنا شروع ہوگیا۔
“اوہ نو اسکا تو خون نکل رہا ہے،عامر گاڑی نکالو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ابراہیم آفندی نے عامر کو پورچ کی جانب بھگایا نائل نے لب بھینچتے ہوئے ایک نظر فازیہ پر ڈالی جو آنکھوں میں آنسو لیے اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھے ہوئے تھی اگلے ہی پل وہ ہوش و حواس کھوتی ایک طرف ڈھلک گئی نائل نے اسے اپنے مظبوط بازوؤں میں اٹھایا اور باہر نکل گیا اس کے پیچھے ابراہیم آفندی اور ردا بھابھی لپکے تھے ۔رخسار بیگم جن کی آنکھوں سے علیشہ کی یہ حرکت مخفی نہ رہی تھی تشویش کے عالم میں فازیہ کو دیکھتی وہ اب علیشہ کو گھورنے لگیں جو خود بھی اس سیچویشن پر کچھ پریشان ہوئی تھی۔